میں لوٹ آیاہوں

میں لوٹ آیاہوں
یہ تحریرروزنامہ عالمی اخبارکے ان لاتعدادقارئین کرام کے نام ہے ۔ جنھوں نے عالمی اخبار کے بلاگ سے میری غیرحاضری کومحسوس کیااورمجھ سے کئی بارتقاضاکیا کہ بلاگ سے اپنارشتہ اسطواررکھوں۔ باباصاحب کی ہدایت بھی یہی تھی کہ بلاگ پرمسلسل عالمی اخبارکنبہ کے دیگرقابل قدرقلمکاروں کیساتھ رابطہ بنائے رکھوںاوراچھی باتوں کواپنے اندرجذب کروں۔باباصاحب کے حکمنامہ کی تعمیل میں خانگی مسائل اوردیگرذاتی مصروفیات رکاوٹ رہیںجس کے باعث عالمی اخبارکے بلاگ پرپابندی سے حاضرنہ رہ سکا۔
بقول ِ فیض احمدفیض
دُنیانے تیری یادسے بیگانہ کردیا
تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگارکے
اس دوران میں اپنے قارئین سے دورہونے کے ساتھ ساتھ ان کے خلوص اوران کی محبتو ں سے بھی محروم رہا۔ بحرحال زندگی کاسفرجاری رہتاہے ۔آپ کسی محفل کاحصہ ہیں ۔تووہ آپ کی خوش نصیبی ہوتی ہے۔ آپ وہاں سے چلے جائیں۔ محفلیں پھربھی سجتی رہتی ہیں۔ یہی دُنیاکادستورہے۔ وقت کسی کاانتظارنہیں کرتا۔ بلکہ نئے لوگوں کے ساتھ کارواں آگے بڑھ جاتاہے ۔
ابتداءمیںجب میرارابطہ اخبارکے عملہ اورمدیران کے ساتھ نہ تھاتب عالمی اخبار کوپڑھنے کے بعدکالموں کوبذریعہ ای میل اشاعت کےلئے محترم باباصاحب اورنگہت آپاکی خدمت میں پیش کیا۔نگہت آپانے مجھے بلاگ سے متعلق جانکاری دی تاکہ میں اخبارکے قابل قدرقلمکاروں کے درمیان آکر کچھ سیکھ سکوںکچھ عرصہ تک بلاگ پربھی آتارہالیکن پھرگھریلومعاملات اورروزگارکے معاملات میں اُلجھارہااوربلاگ سے غائب رہا۔
باباصاحب اورنگہت آپاکامجھ پراحسان ہے کہ انہوں نے میری تحریروں کی ستائش کی اورمیرے کالموں کی اشاعت کرکے حوصلہ افزائی کی۔پھرمجھے محسوس ہواکہ اخبارکے مدیراعلیٰ صاحب اورنائب مدیراعلیٰ صاحبہ کے دِل میں نئے قلمکاروں کے تئیں خلوص ومحبت کادریاٹھاٹھیں مارتاہے جس کے باعث راقم نے کچھ مہینوں تک مسلسل کالم لکھے ۔عالمی اخبارکے پنپنے میں جناب صفدرہمدانی صاحب ،نگہت آپاصاحبہ ،زرقامفتی صاحبہ اوردیگرٹیم کاکرداراوربالخصوص قلمکاروں اورقارئین کےلئے خلوص قابل فخرہے جس کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ یہ عالمی اخبارٹیم کے خلوص کاہی نتیجہ ہے کہ آج مجھ جیسے کوسوں دوربیٹھے غیرمعروف (جوابھی ابتدائی مرحلہ سے گذررہاہے )قلمکارکوحوصلہ افزائی مل رہی ہے۔عالمی اخبارکاوزٹ کرکے ( بلاگ پرغیرحاضری کے دِنوں میں) پڑھتاضرورتھامگربلاگ پرآنے کی جسارت نہ کی کیونکہ وقت کی قلت ہواکرتی تھی ۔اب میں واپس آچکاہوں اوراُمیدہے کہ بلندپایہ کے قلمکاروں سے تہذیب وتمدن کی باتیں سیکھوں گا۔
مجھے اس بات کابہت ملال ہے۔ کہ میں گذشتہ تین چارمہینوں کے دوران اپنے قارئین کرام سے دوررہا۔ ایک دِن میں نے باباصاحب سے چیٹنگ کرتے ہوئے پوچھاکہ آپ مجھے بھول تونہیں گئے ہو۔توانہوں نے کہاکہ بغیراُجرت کے کام کرنے کاتقاضانہیں کرسکتااورمیں عالمی اخبارکےلئے ایک حرف لکھنے والوں کوبھی نہیں بھولتاہوں۔آپ کوکیسے بھول سکتاہوں۔جس سے مجھے عالمی اخبارکنبہ کے پیاروخلوص کی یادپھرسے شدت سے آئی۔بلاگ پرآپانگہت آپاکاتعارف یادآیا۔باباصاحب سے بات کرنے کے بعدمیں نے ارادہ کیاکہ اب میںد وبارہ سے جلدبلاگ پردستک دوں گااورعالمی اخبارکے قلمکاروں،ادیب اورسخن گوحضرات کے درمیان خیالات کااظہارکروں گااوراپنی نگارشات عالمی اخبارمیں اشاعت کےلئے ارسال کروں گا۔انشاءاللہ آئندہ بلاگ پرآتارہوں گااورآپ سے روبروہونے کی بھرپورکوشش کروں گا۔اسی لیے آپ سب کی خدمت میں یہ تحریرپیش کردی۔۔کہ میں لوٹ آیاہوں!
Tariq Abrarمیں لوٹ آیاہوں

9 thoughts on “میں لوٹ آیاہوں”

  1. خوش آمدید ،

    طارق بیٹے میں بھی آ پ کی کمی کو محسوس کر رہی تھی ،بہت اچھّا ہوا کہ جلد لوٹ آئے ،در اصل ہمارے محترم بھیّا صفدر نے عالمی اخبار کو اخبارہی نہیں ایک مکتب بنادیا ہے اور جب ہم کسی بھی وجہ سے مکتب سے غیر حاضر ہوں تو ہم کو خود بھی غیر حاضری کی خلش ہوتی ہے اور دیگر طالب علموں کو بھی ایک بے چینی سی ہوتی ہے
    میری دعا ہئے کہ اللہ پاک آپ کو علم دنیا و دین سے بہرہ مند کرے اور آپ ہمارے کارواں کے ہمرکاب رہئے آمین

  2. بھائی خوش آمدید ، سلامت رھئے انشاللہ آپ کی تحریریں باقائدگی سے پڑھا کریں گے ،

  3. اب آئے ہو تو آتے رہنا طارق ۔۔ ۔۔ جگ جگ جیو ۔۔ خوش رہو

  4. طارق اب تمھار ے قلم سے بہت ساری نئی اور تازہ دم تحریریں بھی پڑھنے کو ملنی چاھیں
    سچ پوچھو تو جو ایک بار عالمی آخبار کے خانوادے کا حصہ بن گیا وہ کیہں بھی جاۓ گا لوٹے گا تو یہی آ ۓ گا
    طارق تندھی باد مخالف سے کھبی نہ گھبرانا
    اپنے قلم کو اپنی ھمت و طاقت بنالو
    انشا اللہ کامیابی ھمشیہ قدم چومے گی
    اور ھم سبکی دعايئں ھمشیہ تمھارے ساتھہ ھیں
    خوش رھو سلامت رھو
    خوب ترقی کرو
    آمین ثم آمین

  5. اسلام علیکم
    خوش آمدید بھائی طارق
    بہت خوشی ہوئی کہ آپ بقول آپ کے لوٹ آئے ۔
    اللہ آپ کو خوش رکھے آمین
    عالم آرا

  6. اللہ تعالیٰ کالاکھ احسان ہے کہ مجھے عالمی اخبارجیسے ایک ایسے گلشن کی سیرکروائی جہاں سے ہرسوصرف محبت اورخلوص کی ہی خوشبوآتی ہے۔عالمی اخبارایک ایسا مکتب ہے جس میں داخلہ لینے کے بعدانسان کااس سے رشتہ ٹوٹناممکن نہیں۔میراتعلق کچھ مہینوں تک منقطع رہاجس کے لئے معذرت خواہ ہوں۔میں لوٹ آیاہوں کے عنوان سے بلاگ لکھاجس کے بعدسیدہ زائرہ عابدی صاحبہ نے والدہ جیسی شفت وعنایت بخشتے ہوئے خوش آمدیدکہتے ہوئے ،میرے جلدی لوٹنے پرمسرت کااظہارکیااوربتایاکہ میری کمی کومحسوس کیاگیا۔زائرہ صاحبہ آپ نے ٹھیک کہاکہ بابانے عالمی اخبارکوایک اخبارہی نہیں ایک مکتب بنادیاہے اورجب ہم کسی بھی وجہ سے مکتب سے غیرحاضرہوں توہم کوخودبھی غیرحاضری کی خلعش ہوتی ہے اوردیگرطالب علموں کوبھی ایک بے چینی سی ہوتی ہے۔ یقینایہ بات حق ہے کہ عالمی اخبارصرف ایک اخبارنہیں بلکہ ایک عظیم مکتب ہے اورجب ہم کسی وجہ سے اس مکتب سے غیرحاضرہوں تواس کی خلعش ہوتی ہے ۔مجھے بھی خلعش محسوس ہوئی اسی لیے میں مکتب کے دیگرطالب علموں اوراساتذہ کی بے چینی کودورکرنے کی غرض سے چلاآیا۔آپ کاخوش آمدیدکہنامیرے لیے باعث مسرت ہے۔میں مشکورہوں عابدہ صاحبہ جی آ پ کا۔نیک دُعاﺅں کےلئے ممنون رہوں گا۔
    سعیدرافیہ گیلانی صاحبہ نے اُمیدکااظہارکیاکہ تحریریں باقاعدگی سے لکھوں۔انشاءاللہ ۔ضرور۔نیک دُعاﺅں کےلئے پیاری بہن کابہت بہت شکریہ۔ظفرجعفری صاحب کابھی بہت بہت شکریہ۔
    باباجی آپ کاخوش آمدیدکہنامیرے لیے باعث فخرہے۔ نگہت آپا۔۔شکریہ ۔انشاءاللہ بلاگ پرآتارہاکروں گا۔
    شاہین صاحبہ ۔شکریہ۔آپ کی باتیں حق ہیں۔انشاءاللہ اپنی قلم کواپنی ہمت وطاقت بناﺅں گا۔نیک تمناﺅں کےلئے بہت بہت شکریہ ۔عالم آراآپاجی آپ کابھی دِل کی عمیق گہرائیوں سے شکریہ۔

  7. بھائی طارق خوش آ مدید اس خاکسار طرف سے بھی قبول فرمائیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *