کیامیں قلمکارہوں مجھے نہیں معلوم

œ¤Ÿ¤¡ ›žŸœŽ¦¢¡ Ÿ‡§¥  ¦¤¡ Ÿ˜ž¢Ÿ
Œœ…Ž ¦„ ³ƒ‡¤ ó󁳃 œ¤ „‰Ž¤Ž¤¡ Ÿ‡§¥ Š”¢”¤ –¢ŽƒŽœˆ§  ¦ œˆ§ žœ§ ¥ œ¤ „Ž™¤‚ ‹¤„¤ ¦¤¡óŸ¤Ž¥  ‹Ž ¦ ‡ ¥ œ¤’¤œ ŒŽ’„§‡¢Ÿ¤¡ ƒ ¢¡ ’¥ Ÿ„˜ž› ƒ ¥ ‡‚„ œ¢”š‰¦ ¿ ›Ž–’ ƒ¦ ž ¥ ’¥ ŒŽ„„§ó ›” ’œžŸ žœ§¦¥ ‡¢Ÿ¤Ž¥  ‹¥ œ¥ Ÿ–‚›  ŸœŸž ¦¥óžœ§ ¥ œ“¢› ‚¦„ ¤‹¦ ¦¥ 󄉎¤Žœ¤ ‚  ƒŽ‚§¤ ‚§¤ ˜‚¢Ž ¦¤¡ ¦¥ ó ž¤œ  Ÿ¤Ž¥ ¤œ ’„‹¦¤¡ ¢¦ œ¦„¥ ¦¤¡ œ¦ ƒ ¤ ›žŸ œ¢‡„ §’¤…¢¡ ¥ „ ‡ž‹¤ ³ƒ œ¤ ›žŸ ‚¦„Žžœ§ “Ž¢˜ œŽ¥ ¤óŸ¤Ž¥ ƒ¦ž¥ ¢ž¥ œžŸ¢¡ Ÿ¤¡  £¥ œžŸ¢¡ Ÿ¤¡ šŽ› ³¤¦¥ ó‚ Ÿ¤¡ ’Ÿ‡§„¦¢¡ œ¦ œžŸ œ¤  ¢˜¤„ œ¤¦¢„¤ ¦¥ó’ Ÿ¤¡ œ’ ›‹Ž„‰›¤›¤ ‚„¤¡ ¦¢ ¤ ˆ¦¤£¥ ¢Žœ„ ¤ ‹¤Žóƒ ¥ “„¦ œžŸ¢¡ œ¤ œŸ¤¢¡ ¢ŽŠŸ¤¢¡ œ¤  “ ‹¦¤ ‚§¤ Ÿ¤¡ œŽ ¥ œ¥ ›‚ž ¦¢¤¦¢¡ó‰¢”ž¦ š£¤ ó ¢³Ÿ¢œžŸ  ¢¤’ œ¥ž£¥ •ޢޤ ¦¥ó˜žŸ¤ Š‚Ž ¥ ‡’ ›‹ŽŸ¤Ž¤ ‰¢”ž¦ š£¤ œ¤ ¦¥ ’ œŸ¤¡ Ÿ›Ž¢• ¦¢¡óЁ” œŽ‚‚”š‹Ž”‰‚ ¢ŽŒœ…Ž ¦„ ³ƒ‡¤ œ‚¦„ ›Ž• ‹Ž¦¢¡ ‡¢Ÿ‡§¥ Ÿ’ž’ž ‹¬˜£¤¡ ‚§¤ ‹¤„¥ ¦¤¡ ¢ŽŸ¤Ž¤ ‰¢”ž¦ š£¤ œ¥ž£¥ Ÿ¤Ž¥  ›” œžŸ œ¢‚§¤ ‡¦ ‹¤„¥ ¦¤¡óŸ¢›ŽŽ¢ Ÿ¥ Ÿ¤¡ œžŸ œ¤ “˜„ œ¤ ¢‡¦ ’¥ ¦¤ Ÿ¤Ž¥ ‰¢”ž¥ ‚ž ‹¦¢œŽ„‰Ž¤Žœ¤ „Ž™¤‚ ‹¤„¥ ¦¤¡óŸ¤¡ ˜žŸ Š‚Žœ¥ „ŸŸ Žœ¤  ¢Ž›Ž£¤  œ“œŽŽ¦¢¡ ‡¢Ÿ¤Ž¤  ›” „‰Ž¤Ž¢¡ œ¢ƒ ¤  —Ž¢¡ ’¥ Ž„¥ ¦¤¡ó³ƒ œ¤ ‹¬˜£¢¡ œ–ž‚Žó–Ž› ‚ށŽóóóó
Ÿ¤¡ ‚¦„ ¤‹¦ žœ§ ˆ¦„¦¢¡ ŸŽŸ”ޢ𤁄 œ¤ ¢‡¦ ’¥ žœ§  ¦¤¡ ƒ„¦¢¡óŸ”ޢ𤁄 œ¥ ’‚‚ Ž‹Ž‹œ¤ Ž¢ŸŽ¦  ‹¤ œ¤  ‹¤ Ÿ¤¡ ‚¦„ ’¥ ¢›˜„ Ž¢ Ÿ¦¢„¥ ¦¤¡ ‡¢Ÿ¤¡ ˆ¦„¥ ¦¢£¥ ‚§¤ Ÿ”ޢ𤄠œ¥ ’‚‚ „‰Ž¤Ž ¦¤¡ œŽƒ„¦¢¡ó¢Ž‡‚ ¢›„ Ÿž„¦¥ „¢¢¦ ¢›˜„ Ÿ¤Ž¥ ¦  Ÿ¤¡ ‹§ ‹ž¥ ’¥ ¦¢£¥ ¦¢„¥ ¦¤¡ ‡  œ¢‹¢‚Ž¦ „”¢ŽŸ¤¡ ž ¥ œ¥ž£¥ ¦  ƒ¦ ‹‚£¢Œž ƒ„¦¥ ‡¢œ¦ ¦ ¤ ƒŽ¤“ ¤ œ’‚‚ ¦¢„¦¥ó’ ž¤¥ ’¢ˆ„¦¢¡ œ¦ žœ§ ¥ œ¥ Ÿ˜Ÿž¥ Ÿ¤¡ „¤¤ ž ¤ ˆ¦¤£¥ó Ÿ”ޢ𤁄 ’¥ ¢›„  œž œŽ¦Ÿ¤¡ ¢›˜„ œ¢Ž¢ ¦ Œ£Ž¤ ƒ¦  ¢… œŽ ˆ¦¤£¥ó¤¦ Ÿ¤Ž¤ ˆ§¢…¤ ’¤ „‰Ž¤Ž¦¥ ‡¢„ ¦£¤ Ÿ¤¡ ‚ˆƒ  ¢Ž¢ž‹¤  œ¤ ¤‹ˆ œ ¦  Ÿ¤¡ Ž‹ “ œŽ ¥ œ¥ ‚˜‹„‰Ž¤ŽœŽ‹¤ 󟤎¥ ’Ÿ ¥ Ÿ¤ŽŸ•¤ ‚§¤ „§¢Ž‰ž ‚§¤ó’ ž¤¥ ‡‚„ Ÿ¤¡ ³œŽˆ ‹’–¢Ž”š‰¦ ¿ ›Ž–’ ƒ¦ ¬„Ž‹¤¡ó ’¢ˆ‡‚„ œ—¦ŽœŽ¦¤ ž¢¡ œ¤¢ œ¦  ’  œ¢¤¦ Ÿ˜ž¢Ÿ  ¦¤¡ œ¦ ¢¦ œ„ ‡¤¥ ó’ ž¤¥ ‡ž‹¤ ‡ž‹¤ žœ§ ˆ¦„¦¢¡ó
http://www.dailyudaan.com/index.aspx?page=14
http://www.dailyudaan.com/index.aspx?page=14

ڈاکٹرنگہت آپاجی ۔۔آپ کی تحریریں مجھے خصوصی طورپرکچھ نہ کچھ لکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔میرے اندرنہ جانے کیساایک ڈرساتھاجومیں اپنوں سے متعلق اپنے جذبات کوصفحہ ¿ قرطاس پہ لانے سے ڈرتاتھا۔ناقص Continue reading کیامیں قلمکارہوں مجھے نہیں معلوم

جموں یونیورسٹی میں ”اُردوصحافت کی اہمیت “تین روزہ ورکشاپ کاافتتاح

جموںقومی کونسل برائے فروغ اُردوزبان ،نئی دہلی اورسنٹرفارپروفیشنل سٹڈیزاِن اُردوجموں یونیورسٹی کے اشتراک سے پروفیسرگیان چندسیمی نارہال شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی میں صوبہ جموں کے صحافیوں کےلئے تین روزہ ورکشاپ بعنوان ”اُردوصحافت کی اہمیت اورصحافیوں کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کافروغ “ کاافتتاح سابق ڈائریکٹرقومی کونسل برائے فروغ اُردوزبان نئی دہلی پروفیسرعلی جاویدنے کیا Continue reading جموں یونیورسٹی میں ”اُردوصحافت کی اہمیت “تین روزہ ورکشاپ کاافتتاح

شخصیت کی تشکیل اورکامیابی میں کار فرما عوامل؟

سوچ، رویہ ،ارادہ،اخلاق ،کردار،برتاﺅ، خوداعتمادی،عزم واستقلال ، محنت ،صبروتحمل کاشخصیت کی تشکیل اورکامیابی میں کتناکتناعمل دخل ہے
ہرشخص دُنیامیں ایسی شخصیت کی چاہ رکھتاہے جوسماج میں اُسے دوسروں میں قابل عزت مقام دلائے ۔وہ چاہتاہے کہ نہ صرف اُس کی شخصیت لامثال ہو بلکہ اُس کے کارنامے بھی طویل عرصے تک یادکیے جائیں مگردُنیامیں بہت کم لوگ اس مقصدکوحاصل کرنے میں کامیاب ہوپاتے ہیں۔انسان کی شخصیت کی تشکیل میں بہت سی چیزوں کاعمل دخل ہوتاہے جن کی جانب توجہ مبذول کرنے سے ہی ایک اچھی اورمثالی شخصیت تشکیل پاسکتی ہے اوراگران چیزوں کی طرف توجہ نہ دی جائے تواچھی اورمثالی شخصیت کے بجائے قابل نفرت شخصیت کی تشکیل عمل میں آتی ہے۔ Continue reading شخصیت کی تشکیل اورکامیابی میں کار فرما عوامل؟

میں لوٹ آیاہوں

میں لوٹ آیاہوں
یہ تحریرروزنامہ عالمی اخبارکے ان لاتعدادقارئین کرام کے نام ہے ۔ جنھوں نے عالمی اخبار کے بلاگ سے میری غیرحاضری کومحسوس کیااورمجھ سے کئی بارتقاضاکیا کہ بلاگ سے اپنارشتہ اسطواررکھوں۔ باباصاحب کی ہدایت بھی یہی تھی کہ بلاگ پرمسلسل عالمی اخبارکنبہ کے دیگرقابل قدرقلمکاروں کیساتھ رابطہ بنائے رکھوںاوراچھی باتوں کواپنے اندرجذب کروں۔باباصاحب کے حکمنامہ کی تعمیل میں خانگی مسائل اوردیگرذاتی مصروفیات رکاوٹ رہیںجس کے باعث عالمی اخبارکے بلاگ پرپابندی سے حاضرنہ رہ سکا۔
بقول ِ فیض احمدفیض
دُنیانے تیری یادسے بیگانہ کردیا
تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگارکے Continue reading میں لوٹ آیاہوں

برمی مسلمانوں کاقتل عام اورعالمی برادری اورانسانی حقوق کاراگ الاپنے والی تنظیموں کی مجرمانہ خاموشی

طارق ابرارجموں
آج ٹیکنالوجی کی بدولت انٹرنیٹ کے ذریعے دُنیابھرکے حالات سے باخبررہتاہے ۔دُنیابھرمیں کہیں پرخوشیاں منائی جارہی ہیں مثلاً ایک لندن میں اولمپکس مقابلوں کاآغازچکاچوندروشنی میں ہورہاہے۔ کروڑوں کی تعدادمیںلوگ پہنچ کرخوشیاں منارہے ہیں اوردوسری طرف برمامیں بدھ مذہب کے پیروکارمسلمانوں کوزندہ جلاکردرندگی اورحیوانیت کاثبوت دے رہے ہیں۔ فیس بُک پربرماکے مسلمانوں کوزندہ جلانے کی ویڈیوزنے مسلمانوں کے دلوں کودہلادیاہے ۔بودھوں کی بے رحمی اورمسلمان دُشمنی کی حدودویڈیومیںنمایاںنظرآتی ہیں ۔۔۔۔۔اس وقت ہمیں ایک ساتھ ہوکربرماکے مسلمانوں کی عالمی سطح پرآوازبلندکرنی چاہیئے اوربرمی حکومت پرمسلمانوں کے قتل عام کی روک تھام کےلئے اپنافرض اداکرناپڑے گاورنہ ۔۔۔۔۔۔یہ آگ پوری دُنیامیں پھیل جائے گی ۔۔۔۔تمام قارئین سے گذارش ہے کہ برمی مسلمانوں کے تحفظ کےلئے اپناکرداراداکیجئے اورعالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی اورانسانی حقوق کی تنظیموں کی بے حسی کے خلاف احتجاج کیجئے۔۔۔۔۔۔۔مسلمانوں کےلئے یہ لمحہ فکریہ ہے ۔۔۔۔۔۔کہیں ایساتونہیں کہ عالم اسلام کے خلاف دُنیامیں جنگ کاآغازہو؟اورمسلمان اس سے بے خبرہوں؟