رمضان المبارک کے آخری عشرے میں دعائے مغفرت اور توبہ کی کثرت

دعا
معزز احباب سے التماس دعا ہے کہ رمضان المبارک کے اس مغفرت اور توبہ کے آخری عشرے میں سب ایک دوسرے کو دعاوں میں ضرور یاد رکھیں ۔۔

میں آپ سے التجا کرتی ہوں کہ اگر میری کوئی بات لکھی ہوئی یا کہی ۔ میرا کوئی بھی رویہ آپ کو گراں گزرا ہو مجھے اپنی کشادہ قلبی سے معاف فرما دیجئے ۔۔۔ جزاک اللہ ۔۔۔۔

بے شک اللہ رحمان رحیم معاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔

صحیفہ سجادیہ کی ایک دعا “ توبہ“ سے ماخوز آزاد نظم قلمبند کرنے کی سعادت حاصل کر رہی ہوں ۔۔۔۔ آپ سب سے دعاؤں کی قبولیت کے لئے آمین کی التجا ہے ۔۔

جزاک اللہ

” میرے معبود اپنی مغفرت میرے شامل حال کر دے “ دعا آزاد نظم کی صورت ”

اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اے میرے معبود !

اے میرے مالک !

اے وہ جس کی توصیف سے وصف کرنے والوں کے توصیفی الفاظ قاصر ہیں

اے وہ جو امیدواروں کی امیدوں کا مرکز ہے

اے وہ جس کے ہاں نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں ہوتا

اے وہ جو عبادت گزاروں کے خوف کی منزل منتہا ہے

اے وہ جو پرہیزگاروں کے بیم و ہراس کی حدٍ آخر ہے

اے میرے معبود

یہ اس شخص کا موقف ہے جو گناہوں کے ہاتھوں میں کھیلتا ہے

جسے خطاؤں کی باگوں نے کھینچ لیا ہے اور جس پر شیطان غالب آ گیا ہے

جو تیرے حکم سے لاپرواہ ہو رہا ہے

ادائے فرض میں کوتاہی کر رہا ہے

فریب خوردگی کی وجہ سے تیرے منہیات کا مرتکب ہو رہا ہے

ایسے جیسے

خود کو تیرے قبضہ قدرت میں وہ سمجھتا ہی نہیں

مسلسل ہوئے جوفضل و احسان وہ مانتا ہی نہیں

مگر

اب اس پر تیرا ایک اور فضل ہوا

اس گنہگار کی چشم بصیرت وا ہوئی

کوری و بے بصری کے بادل چھٹ گئے

تو اس نے

اس نے اپنے نفس پر کۓ ہوئے اپنے ہی ظلموں کا جائزہ لیا

اپنے پروردگار کی موارد پر اپنی مخالفتوں کا ادراک کیا

اپنے بڑے گناہوں کو واقعی بڑا اور اپنی مخالفتوں کو حقیقتا عظیم پایا

اے میرے معبود!

وہ شرمسار اس حالت میں بھی تجھ سےامیدوار ہے

تیری جانب متوجہ ہے کہ تجھ پر اسے اعتبار ہے

یقین و اطمینان کے ساتھ تیری طرف راغب ہے

اپنی خواہش و آرزو لئے تیری اقدس میں قصد ہے

دل میں تیرا بیشک خوف پر خلوص بے انتہاہے

وہ شرمسار تیری بارگاہ میں اس حالت میں ہے

جیسے

تیرے سوا اسے کسی سے غرض نہ تھی اور نہ ہے

تیرے سوا اسے کسی کا خوف نہ تھا اور نہ ہے

وہ عاجزانہ تیرے اقدس مبارک میں حاضر ہے

فروتنی سے اپنی آنکھیں زمین میں گاڑ لیں ہیں

تذلّل و انکسار سے تیری عظمت کے آگے سر جھکا لیا ہے

اے میرے معبود !

جنہیں تو سب سے بہتر جانتا ہے وہ سارے اپنے راز

ہاۓ درون پردہ عجزونیاز مندی سے تیرے آگے کھول دیۓ ہیں

اے میرے معبود!

جن کا تو اس سے زیادہ حساب رکھتا ہے وہ سارے اپنے گناہ

عاجزی سے ایک ایک کرکے بڑی تفصیل سےشمار کۓ ہیں

پر

ان بڑے گناہوں سے جو تیرے علم میں ہیں

وہ بڑے مہلک اور ان بد اعمالیوں سے ہیں

جو تیرے فیصلہ کے مطابق رسوا کن ہیں

ایک گنہگار تیری بارگاہ اقدس میں دادو فریاد کرتا ہے

ہائے ۔۔صد حیف ۔۔ وہ گناہ کہ جن کی لذت جاتی رہی ہے

اور ان کا وبال ہمیشہ کے لۓ باقی رہ گیا ہے

اے میرے معبود !

اگر تو اس پرعذاب کرے تو وہ تیرے عدل کا منکر نہیں ہوگا

اور اگر تو اس سے درگزر کرے ۔۔۔۔اور ۔۔۔۔ ترس کھائے

تو وہ تیرے عفو کو کوئي عیب اور بڑی بات نہیں سمجھے گا

اس لۓ کہ

تو وہ پروردگار کریم ہے

جس کے نزدیک بڑے سے بڑے گناہ کو بھی بخش دینا کوئی بڑی بات نہیں

اے میرے معبود !

میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں

تیرے حکم دعا کی اطاعت کرتے ہوئے اور تیرے وعدہ کا ایفا چاہتے ہوئے

کہ ” مجھ سے دعا مانگو تو میں تمہاری دعا قبول کروں گا ” حاضر ہوں

اے میرے خدا!

محمد اور ان کی آل پر بےشمار رحمت نازل فرما

ان کے صدقے اپنی مغفرت میرے شامل حال کر دے

جس طرح میں اقرار گناہ میں تیری طرف متوجہ ہوئی ہوں

گناہوں سے مغلوب اس بندی کو سہارا دے کر اوپر اٹھادے

جس طرح میں نے اپنے نفس کو تیرے آگے خاک مذلّت پر ڈال دیا ہے

اے میرے معبود !

اپنے دامن رحمت سے میری پردہ پوشی فرما دے

جس طرح مجھ سے انتقام لینے میں توں نے صبر و حلم سے کام لیا ہے

اے اللہ !

اپنی اسی بردباری کے صدقے

اپنی اطاعت میں میری نیت کو استوار کر دے

اور عبادت میں میری بصیرت کو قوی کر دے

جو اعمال میرے گناہوں کے میل کو دھو ڈالیں

مجھے ان اعمال کے بجا لانے کی توفیق عطا کر دے

اے میرے معبود !

مجھے دنیا سے جب اٹھائے اپنے نبی محمد (ص) کے آئین پر اٹھانا

میں اپنے چھوٹے بڑے گناہوں پوشیدہ و آشکارا معصیتوں

گزشتہ و موجودہ لغزشوں سے توبہ کرتی ہوں

اس شخص کی طرح توبہ کرتی ہوں

جو دل میں معصیت کا نہ خیال کرے اور نہ گناہ کی طرف پلٹنے کا تصوّر کرے

اے میرے خدا!

توں نے اپنی محکم کتاب میں فرمایا ہے کہ تو بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے

گناہوں کو معاف کرتا ہے اور توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

سو آج میری میری توبہ قبول فرما جیسا کہ تو نے وعدہ کیا ہے

اور میرے گناہوں کو معاف کر دے جیسا کہ تو نے ذمہ لیا ہے

حسب قرارداد اپنی محبت کو میرے لۓ ضروری قرار دے

اے میرے پروردگار !

میں تجھ سے یہ اقرار کرتی ہوں تیری ناپسندیدہ باتوں کی طرف رخ نہیں کروں گی

میں تجھ سے قول و قرار کرتی ہوں قابل مذمت چیزوں کی طرف رجوع نہ کروں گی

میں تجھ سے یہ عہد کرتی ہوں کہ تیری تمام نافرمانیوں کو یکسر چھوڑ دوں گی

میرے خدا!

تو میرے عمل و کردار سے خوب آگاہ ہے

جو بھی تو میری بابت جانتا ہے بس مجھے بخش دے

اپنی قدرت کاملہ سے پسندیدہ چیزوں کی طرف مجھے موڑ دے

اے اللہ !

میرے ذمہ کتنے ایسے حقوق ہیں جو مجھے یاد ہیں

اور کتنے ایسے ہیں جن پر نسیان کا پردہ پڑا ہوا ہے

لیکن

وہ سب کے سب تیری آنکھوں کے سامنے ہیں

ایسی آنکھیں جو خواب آلودہ نہیں ہوتیں

تیرے علم میں ہیں ایسا علم جس میں فروگذاشت نہیں ہوتی

اے میرے معبود !

جن لوگوں کا مجھ پر کوئی حق ہے

اس کا اس کا بوجھ مجھ سے برطرف اور اس کا بار ہلکا کر دے

اور مجھے پھر ویسے گناہوں کے ارتکاب سے محفوظ رکھنا

اے اللہ !

میں توبہ پر قائم نہیں رہ سکتی سو تمام عمر تیری ہی نگرانی مانگتی ہوں

میں گناہوں سے باز نہیں آ سکتی سو تیری ہی قوت و توانائی مانگتی ہوں

میرے معبود !

مجھے بے نیاز کرنے والی قوت سے تقویت دے

گناہوں سے روکنے والی نگرانی کا میرا ذمہ لے

اے اللہ !

میں تجھ سے پناہ مانگتی ہوں کہ میں اس جیسی نہ ہوں

جو توبہ شکنی کرنےوالے اور گناہ ومعصیت کی طرف دوبارہ پلٹنے والے ہوں

اے اللہ

میری توبہ کو ایسی توبہ قرار دے کہ اس کے بعد پھر توبہ کی احتیاج نہ رہے

جس سے گزشتہ گناہ محو ہو جائیں اور زندگی کے باقی دنوں میں سلامتی کا سامان ہو جائے

اے اللہ !

میں اپنی جہالتوں سے عذر خواہ اور اپنی بد اعمالیوں سے بخشش کی طلب گار ہوں

اپنے لطف و احسان سے مجھے پناہ گاہ رحمت میں جگہ دے

اوراپنے تفضل سے اپنی عافیت کے پردہ میں چھپا لے

اے اللہ !

میں توبہ کرتی ہوں ہر اس خلاف ورزی کی

جودل میں گزرنے والے خیالات میں تھی

آنکھ کے اشاروں اور زبان کی گفتگو میں تھی

جو تیرے ارادہ و رضا کے سرا سر خلاف تھی

تیری محبت و رحمت کی حدود سے باہر تھی

اے میرے معبود !

میں تیری بارگاہ میں ایسی توبہ کی امیدوار ہوں

جس سے میرا ہر ہر عضو اپنی جگہ پر تیری عقوبتوں سے بچا رہے

ان تکلیف دہ عذابوں سے جن سے سرکش خائف رہتے ہیں محفوظ رہے

اے معبود !

میں عالم تنہائی میں تیرے سامنے ہوں

خوف سے میرے دل کی دھڑکن تیز تر ہے

ہیبت سے میرے اعضاء میں تھرتھری ہے

اے پروردگار!

میری حالت پر رحم فرما

مجھے گناہوں نے تیری بارگاہ میں رسوائی کی منزل پر لا کھڑا کیا ہے

اب اگر چپ رہوں تو میری طرف سے کوئی بولنے والا نہیں ہے

اور اگر کوئی وسیلہ لاؤں تو شفاعت کے لائق بھی نہیں ہوں

اے میرے اللہ !

محمد اور ان کی آل پر بے شمار رحمت نازل فرما

بس ان کے صدقے اپنے کرم و بخشش کو میری خطاؤں کا شفیع قرار دے

اپنے فضل سے میرے گناہوں کو بخش دے

جس سزا کی میں سزاوار ہوں وہ سزا نہ دے

اپنا دامن کرم مجھ پر پھیلا دے

اپنے پردہ عفوورحمت میں مجھے ڈھانپ لے

اور مجھ سے اس ذی اقتدار کا سا برتاؤ کر

جس کے آگے کوئی ذلیل گڑگڑائے تو وہ اس پر ترس کھائے

اس دولت مند کا سا

جس سےکوئی محتاج لپٹے تو وہ سہارادے کر کھڑا کر دے

اے میرے معبود !

مجھے تیرے عذاب سے کوئی پناہ دینے والا نہیں ہے

اب تیری قوت و توانائی ہی پناہ دے تو دے

تیرے یہاں کوئی میری سفارش کرنے والانہیں

اب تیرا فضل ہی سفارش کرے تو کرے

میں کیا کروں میرے گناہوں نے مجھے ہراساں کر دیا ہے

اب تیرا عفو و درگذر ہی مجھے مطمئن کرے تو کرے

میرے معبود !

جو کچھ میں تجھ سے کہہ رہی ہوں

اس لۓ نہیں کہ میں اپنی بداعمالیوں سے ناواقف ہوں

اس لۓ نہیں کہ میں اپنی بدکاریوں کو فراموش کر چکی ہوں

بلکہ اس لۓ پکار رہی ہوں ۔۔کہ ۔۔۔۔

تیرا آسمان اور جو اس میں رہتے سہتے ہیں

تیری زمین اور جو اس پر رہتے بستے ہیں

وہ سب میری توبہ کو سن لیں

وہ سب میری ندامت کو دیکھ لیں

شاید کہ کسی کو میری حالت زار پر رحم آجائے

شاید کہ کسی کا دل میری پریشان حالی پر پسیج جائے

شاید کہ کوئی میرے حق میں دعا کردے

تیری بارگاہ اقدس میں شنوائی ہو جائے

یا ایسی سفارش مجھے میسر ہوجائے

جو درخواست سے زیادہ موثر ہو جائے

اور

تیری رحمت مجھ گنہگارپر مہربان ہو جائے

تیرے غضب سے نجات کی سبیل ہو جائے

تیری خوشنودی کا پروانہ کفیل ہو جائے

اے اللہ !

اگر تیری بارگاہ میں ندامت و پشیمانی ہی توبہ ہے

تو میں پشیمان ہونے والوں میں سب سے زیادہ ہوں

اگر ترک معصیت ہی توبہ و انابت ہے

تو میں توبہ کرنے والوں میں اوّل درجہ پر ہوں

اگر طلب مغفرت گناہوں کو زائل کرنے کا سبب ہے

تو مغفرت کے طلبگاروں میں سے ایک میں بھی ہوں

اے میرے خدا !

تو نے ہی توبہ کا حکم دیا ہے اور قبول کرنے کا ذمہ لیا ہے

مجھے دعا پر آمادہ کیا ہے اور قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے

اے رحمان و رحیم

رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر

اور ان کے صدقے میری توبہ کو قبول فرما

مجھے

اپنی رحمت سے ناامیدی کے ساتھ نہ پلٹا

تو ہم گنہگاروں کی توبہ قبول کرنے والا ہے

رجوع ہونے والے خطاکاروں پر رحم کرنے والا ہے

اے اللہ !

محمد اور ان کی آل پر بےشمار رحمت نازل فرما

جن کے وسیلہ سے تو نے ہماری ہدایت فرمائی ہے

جن کے ذریعہ ہمیں گمراہی کے بھنور سے نکالا ہے

اے میرے معبود!

محمد اور ان کی آل پر بےشمار رحمت فرما

ایسی رحمت

جو قیامت کے روز اور تجھ سے احتیاج کے دن ہماری سفارش کرے

اس لئے کہ

تو ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے اور یہ امر تیرے لۓ سہل و آسان ہے

( ڈاکٹر نگہت نسیم۔سڈنی

16 thoughts on “رمضان المبارک کے آخری عشرے میں دعائے مغفرت اور توبہ کی کثرت”

  1. جزاک اللہ ،ماشاللہ ،
    پروردگارعالم تمھیں ان حسین تحریروں کے طفیل اپنی بارگاہ میں امر ہو جانے والوں میں تمھارا نام پہلے صفحے پر تحریر کر ے آمین الٰہی آ مین ،
    اللہ پاک اس ماہ مبارک میں ہم سب کے گنا ہان کبیرہ اورصغیرہ کو بخش دے اور ہمارے ماں باپ کو بھی بخش دے اورہمیں یہ توفیق بھی دے کہ ہم سب اور ہماری نسلیں اس کی تابعداری میں زندگی بسر کریں

    اور ہم کو اپنی خلق سے بے نیازی عطا کردے ،ہم کو دوسروں کی خطاؤں سے اس طرح در گزرکرنا سکھا دے کہ ہم عفو در گزر کی اعلٰی مثال بن جائیں آمین الٰہی آمین

    دعاگو زائرہ بجّو

  2. دعاء
    23 رمضان کی دعا
    : “اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي فِيْهِ مِنَ الذُّنُوبِ، وَطَهِّرْنِي فِيْهِ مِنَ العُيُوبِ، وَامْتَحِنْ قَلْبِي فِيْهِ بِتَقْوى القُلُوبِ، يا مُقِيلَ عَثَراتِ المُذْنِبِينَ”.
    حزاک اللہ میری بہن اور بہت عزيز دوست ڈاکٹر نگہت نسیم
    اللہ پاک ھماری توبہ کو قبول فرماۓ آمین

  3. رمضان المبارک کے آخری عشرے کی اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں اور انتیسویں راتیں، طاق راتیں کہلاتی ہیں۔
    حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لیلۃ القدر کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
    فِی رَمَضَانَ، فَالْتَمِسُوْهَا فِی الْعَشِرا لْأَوَاخِرِ فَإِنَّهَا فِی وَتْرٍ، فِی إِحْدَی وَ عِشْرِيْنَ، أَوْ ثَلَاثٍ وَعِشْرِيْنَ، اَوْ خَمْسٍ وَعِشْرِيْنَ، اوَ سَبْعٍ وَّ عِشْرِيْنَ، اَوْ تِسْعِ وَ عِشْرِيْنَ، اَوْ فِی اٰخِرِ لَيْلَةِ، فَمَنْ قَامَهَا ابْتِغَاءَ هَا اِيْمَانًا وَاِحْتِسَابًا، ثُمَّ وُفِّقَتْ لَهُ، غُفِرَلَهُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ
    أحمد بن حنبل، المسند، 5 : 319، رقم : 22713
    ’’وہ رمضان میں ہے سو تم اسے آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ لیلۃ القدر اکیسویں یا تئیسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں یا انتیسویں طاق راتوں میں ہے یا رمضان کی آخری رات ہے۔ جس شخص نے لیلۃ القدر میں حالتِ ایمان اور طلبِ ثواب کے ساتھ قیام کیا، پھر اسے ساری رات کی توفیق دی گئی تو اس کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔‘‘

  4. طبرانی کی روایت ہے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں شب قدر تلاش کرو۔
    فمن قامها ايمانا واحتسابا غفرله ما تقدم من ذنبه.
    جس نے ایمان و یقین کے ساتھ ثواب کی نیت سے اس میں قیام کیا اس کے گذشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۔

  5. عتکاف عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ٹھہر جانے اور خود کو روک لینے کے ہیں۔اعتکاف کے معنی ہیں ’’جھک کر یک سوئی سے بیٹھ رہنا‘‘ اس عبادت میں انسان صحیح معنوں میں سب سے کٹ کر اللہ تعالیٰ کے گھر میں یکسو ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ اس کی ساری توجہ اس امر پر مرکوز رہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہو جائے۔ چنانچہ وہ اس گوشہٴ خلوت میں بیٹھ کر توبہ و استغفار کرتا ہے۔ نوافل پڑھتا ہے، ذکر و تلاوت کرتا ہے۔ دعا و التجا کرتا ہے اور یہ سارے ہی کام عبادات ہیں۔ اس اعتبار سے اعتکاف گویا مجموعہ عبادات ہے
    شریعت اسلامی کی اصطلاح میں اعتکاف رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں عبادت کی غرض سے مسجد میں ٹھہرے رہنے کو کہتے ہیں۔
    قرآن سے استدلال : وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ (سورہ بقرہ: 187) ترجمہ : جب تم مسجدوں میں اعتکاف سے ہو

  6. حضرت علی (زین العابدین) بن حسین اپنے والد امام حسین علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
    مَنِ اعْتَکَفَ عَشْرًا فِی رَمَضَانَ کَانَ کَحَجَّتَيْنِ وَ عُمْرَتَيْنِ.
    بيهقی، شعب الإيمان، باب الاعتکاف، 3 : 425، رقم : 3966
    ’’جس شخص نے رمضان المبارک میں دس دن کا اعتکاف کیا، اس کا ثواب دو حج اور دو عمرہ کے برابر ہے۔‘‘

  7. صحیفہ سجادیہ سے “ ادائے قرض کی دعا “ سے ماخوز نظم پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہی ہوں جو آج عشاء کی نماز کے بعد منظوم ہوئی ہے ۔۔۔۔ آپ سب سے دعاؤں کی قبولیت کے لئے آمین کی التجا ہے ۔۔
    جزاک اللہ۔۔

    ادائے قرض کی دعا ۔۔۔ منظوم “ مجھے ایسے قرض سے نجات دے “

    اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    اے میرے پاک پروردگار !
    محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی آل پر رحمت فرما
    انہیں کےوسیلےسے اور انہیں کے صدقے میں
    مجھے ایسے قرض سے نجات دے
    جس سے
    میری آبرو پر حرف آنے
    میرا ذہن پریشان اور فکرپراگنده رہے
    اور
    اسی فکر و تدبیر میں ہمہ وقت مشغول رہوں
    اے میرے پاک پروردگار !
    میں تجھ سے پناہ مانگتی ہوں
    قرض کے فکرواندیشے سے
    اس کے انگنت جھمیلوں سے
    اس کے باعث بے خوابی سے
    اے میرے پاک پروردگار!
    محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی آل پر رحمت فرما
    انہیں کےوسیلےسے اور انہیں کے صدقے میں
    میں تیری پناہ چاہتی ہوں
    زندگی میں قرض کی ذلت سے
    مرنے کے بعد قرض کے وبال سے
    اے میرے پاک پروردگار!
    محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی آل پر رحمت فرما
    انہیں کےوسیلےسے اور انہں کے صدقے میں
    مجھے
    مال و دولت کی فراوانی عطا کر دے
    پیہم رزق رسانی کے ذریعے قرض سےچھٹکارا دلا دے
    فضول خرچی اور مصارف کی زیادتی سے روک دے
    عطا و میانہ روی کے ساتھ نقطہ اعتدال پر قائم کر دے
    میرے لۓ حلال طریقوں سےروزی کا سامان کردے
    میرے مال کو مصرف امور خیر میں قرار دے
    اس مال کو مجھ سے دور کر دے
    جو میرے اندر غرور و تمکنت پیدا کردے
    جو مجھے ظلم کی راہ پر ڈال دے
    جو مجھے طغیان وسرکشی سکھادے
    اے میرے پاک پروردگار!
    محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما
    انہیں کےوسیلےسے اور انہیں کے صدقے میں
    درویشوں کی ہم نشینی میری نظروں میں پسندیدہ بنا دے
    اطمینان افزا صبر کے ساتھ ان کی رفاقت عطا کر دے
    دنیاۓ فانی کے مال میں سے
    جو تو نے
    مجھے عطا نہیں کیا ہے
    اسے میرے لۓ
    اپنے باقی رہنے والے خزانوں میں ذخیرہ کر دے
    دنیاۓ فانی کے مال میں سے
    جو تو نے
    مجھے عطا کیا ہے
    اسے میرے لیئے
    اپنی رحمت کا زاد راہ
    حصول تقرّب کا وسیلہ
    اور
    جنت تک رسائی کا ذریعہ بنا دے
    اس لۓ
    کہ
    تو
    بے پناہ فضل عظیم کا مالک
    اور بےحد سخی و کریم ہے

    الہی آمین

    منظوم ؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
    یکم اگست دو ہزار تیرہ
    سڈنی

  8. اسلام علیکم
    آخری عشرہ رمضان بخشش اور دوزخ کی آگ سے نجات کا عشرہ ہے ۔اللہ رحیم وکریم سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کی توبہ کو اپنے فضل وکرم سے قبول فرمائے ۔آمین
    ہماری کوتاہیوں اور غلطیوں کو معاف فرمائے آمین
    اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہماری دعائوں کو شرف قبولیت بخشے ، آمین
    اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہمارے ماں باپ کے لئے اور ہماری اولاد کو ہمارے لئے صدقئہ جاریہ کردے ۔ہماری اولاد کو نیکیوں اور بھلائیوں کی طرف راغب رکھے ۔اور انہیں دین کی سچی سمجھ عطا فرمائے
    اللہ انہیں نمازوں کا شوق عطا کرے اور ان کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے ۔آمین
    اللہ ہم سب کی دعائیں ایک دوسرے کے حق میں قبول فرمائے آمین
    ہم سب کو ہی ایک دوسرے کو معاف کرنا چاہئے کیونکہ ہمیں پتہ نہیں ہوتا کہ کب ہماری کونسی بات کسی کی دل آزاری کا با عث بن جاتی ہےجبکہ ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ کسی کا دل نہ دکھے لیکن ہم سب ہی انسان ہیں اور انسان خطا کا پتلا ہے اس لئے دلوں میں وسعت ضروری ہے ۔
    اللہ ہمارے دلوں کو ایک دوسرے کے لئے نرم رکھے آمین
    اے میرے مالک میری خطاؤں سے در گزر فرمانا اے رحیم و کریم رب مجھ پر رحم فرمانا ۔اے میرے مالک جتنی زندگی ہماری باقی ہے اس میں ہمیں اپنی محبت سے سرشار رکھنا اپنے اھکامات پر عمل کی توفیق عطا فرمانا ۔اپنے پیارے نبی کی سنت پر حتی الامکان عمل کی توفیق بخشنا آمین
    پیارے رسول اور انکی آل کی محبت ہم سب کے دلوں میں جا گزیں رکھنا ۔آمین
    ہمیں اس روشنی اور محبت سے سرشار رکھنا جو ہماری عاقبت کو سنوار دے آمین
    اے اللہ ہمیں دوزخ کی آگ سے بچانا ۔اے رحمٰن و رحیم رب ہمارے نامئہ اعمال ہمارے داہنے ہاتھوں میں دینا ، آمین ثمہ آمین
    اے میرے مالک تیرا شکر ہے کہ تونے مجھے اس رمضان صحت اور تندرستی کے ساتھ روزے رکھنے کی سعادت عطا فرمائی میری عبادتوں کو قبول فرمانا آمین ثمہ آمین
    اے معاف کرنے والے ۔اے معافی کو پسند کرنے والے ۔بس مجھے معاف فرمادے ۔میں معافی مانگتی ہوں ۔ میں معافی مانگتی ہوں ،میں معافی مانگتی ہوں
    الحمدُ للہ کہ ہمارے رب نے ہمیں معافی مانگنے اور توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائی ۔
    جزاکم اللہ خیر اللہ آپ سبکی دعاؤن کو قبول فرمائے آمین ثمہ آمین اللہ میری دعاؤن کو بھی قبول فرمائے آمین ثمہ آمین
    اپنی خطاؤں پر شرمندہ
    عالم آرا

  9. دعائے کمیل مولائے کائینات علی ابن ابی طالب کی مشہور و معروف دعاؤں میں سے ایک ہے جس کے لئے علامہ مجلسی فرماتے ہیں یہ حضرت خضر کی دعا ہے۔ امیرالمومنین مولا علی نے یہ دعا، کمیل بن زیاد کو تعلیم فرمائی تھی جو حضرت کے اصحاب خاص میں سے ہیں ۔ یہ دعا شب نیمہ شعبان اور ہر شب جمعہ میں پڑھی جاتی ہے ۔جو شر دشمنان سے تحفظ، وسعت و فراوانی رزق اور گناہوں کی مغفرت کا موجب ہے۔

    مجھ میں کسی نادیدہ قوت نے یہ خواہش پیدا کی کہ میں بھی اس دعا کو منظوم کر سکوں آزاد نظم میں۔ جو شاید اس طرح سے یعنی آزاد نظم کی صورت میں پہلی مرتبہ ہے کہ مولا نے جناب سیدہ سلام اللہ کے صدقے میں یہ خوش بختی مجھے عطا فرمائی ۔ پچھلے رمضان کی 25 روزے کو ظہر اور مغرب کے درمیان ایک ہی نشست میں لکھی .بس مولا نے میری یہ خواہش پوری کر دی اور میں نے اسے منظوم کر دیا .

    اسے کوئی فن پارہ سمجھ کر نہیں ایک عشق علی کی تخلیقی خواہش سمجھ کر پڑھیں اور مجھ سمیت سب کے لیئے دعا کریں۔

    منظوم دعائے کمیل

    اے رب ! اے معبود
    میں تیری پناہ میں آتی ہوں شیطان مردود سے
    اور شروع کرتی ہوں تیرے ہی نام سے
    تو
    جو سب جہانوں کا مالک ہے
    سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے
    اور بڑا ہی بخشش کرنے والا ہے
    اے معبود
    تجھے واسطہ ہے
    تیری ہی رحمت کا جو بیکراں اورہر شہ پر محیط ہے
    تیری ہی قوت کا جس سے تو نے ہر شہ کو زیر نگین کیا ہے
    تیرے سامنے ہر شہ جھکی ہوئی اور ہر شہ زیر ہے
    تجھے واسطہ ہے
    تیری جبروت کا جس سے توہر شہ پر غالب ہے
    تیری عزت کا جس کے آگے کوئی چیز ٹھہرتی نہیں
    تیری عظمت کا جس نے ہر چیز کو مکمل کر دیا
    تیری سلطنت کا جو ہر چیز سے بلند ہے
    تیری ذات کا جوہر چیز کی فنا کے بعد بھی باقی رہے گی
    اے میرے رب
    میری فریاد سن
    میری پکار سن
    میں تجھے واسطہ دیتی ہوں
    تیری تمام صفات کاجنہوں نے ہر چیز کے اجزاء کو مکمل کر رکھا ہے
    تیرے پاک ناموں کا جس میں صرف انعام و کرم بھرے ہوئے ہیں
    تیرے علم کا جس نے ہر چیز کو اپنے گھیر ے میں لے رکھا ہے
    تیری ذات کے نور کا جس سے ہر چیز روشن و منور ہوئی ہے
    یانور ۔۔۔ یاقدوس
    اے اولین میں سب سے اول اور اے آخرین میں سب سے آخر
    خدایا ۔۔
    میرے وہ سب گناہ بخش دے جو تیری ناموس کو داغدار کردیتے ہیں
    میرے وہ سب گناہ بخش دے جو باعث نزول بلا ہو جاتے ہیں
    میرے وہ سب گناہ بخش دے جو نعمتوں کو بدل دیتے ہیں
    میرے وہ سب گناہ بخش دے جو دعاؤں کو قبولیت سے روک دیتے ہیں
    میرے وہ سب گناہ بخش دے جو امیدوں کو پورا نہیں ہونے دیتے
    بس اے میرے پاک و پاکیزہ رب
    میرے وہ سب گناہ بخش دے جو میں نے کئے ہوں یا مجھ سے ہو گئے ہوں
    اے اللہ ۔۔میرے پروردگار
    میں تیری ہی یاد سے تیرے قریب آنا چاہتی ہوں
    میں تیری ہی ذات کو اپنا سفارشی ہونے کی التجا کرتی ہوں
    میں تیری ہی صفتوں اور مہربانیوں کو دہراتی ہوں
    تجھے انہی کا واسطہ دے کر فریاد کرتی ہوں
    مجھے اپنے بہت قریب کر لے یا رب
    مجھے نعمتوں پر ترغیب شکر عطا کر یا رب
    مجھے اپنی محبت میں فنا کر دے یا رب
    میں تجھے واسطہ دیتی ہوں
    ہر اس انسان کا جو تیرے سا منے عاجزی سے رویا اور گڑگڑایا
    ہر اس انسان کا جو تیرے سامنے خضوع و خشوع سے کھڑا رہا
    اے میرے پاک و پاکیزہ رب
    میں ڈری ہوئی ، جھکی ہوئی اور گری ہوئی تجھ سے فریاد کرتی ہوں
    میری خطاؤں سے چشم پوشی فرما
    مجھ پر رحم فرما
    مجھے توفیق دے کہ میں راضی رہوں اس پر جو تونے میرے نام کیا
    مجھے قناعت عطا کر
    مجھے ہر حالت میں نرم خو رہنے والا بنا دے
    یااللہ
    میں تیرے حضور عرض کرتی ہوں اس بندے کی طرح جو سخت تنگی میں ہو
    سختیوں میں پڑا ہو اور اپنی حاجت لے کر تیرے پاس آیاہوں
    پر میں جو کچھ تیرے پاس ہے اس میں زیادہ کی رغبت رکھتی ہوں
    اے میرے پاک پروردگار
    تیری عظیم سلطلنت اور تیرا مقام بلند ہے
    تیری تدبیر پوشیدہ اور تیرا امر ظاہر ہے
    تیرا قہر غالب تیری قدرت کارگر ہے
    اور
    تیری حکومت سے کسی کا فرار ممکن نہیں
    اے میرے سردار ۔۔ میرے معبود
    تیرے سوا میں کسی کو نہیں پاتی جو میرے گناہ بخش دے
    میری برائیوں کو چھپا لے اور میرے برے عمل کو نیکی میں بدل دے
    تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، تو پاک ہے اور حمد تیرے ہی لیے ہے
    میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا اپنی جہالت سے جری ہو گئی
    پر
    میں نے تیری قدیم یاد آوری اور اپنے لیے تیری بخشش پر بھروسہ کیا ہے
    اے میرے مولا
    کتنے ہی گناہوں کی تو نے پردہ پوشی کی اور کتنی ہی سخت بلاؤں کو ٹالا
    کتنی ہی لغزشیں معاف فرمائیں اور کتنی ہی برائیاں مجھ سے دور کیں
    تو نے میری کتنی ہی تعریفیں عام کیں جن کی میں ہر گز اہل نہ تھی
    اے میرے معبود!
    میری مصیبت عظیم ہے ، بدحالی حد سے گزر گئی ہے
    میرے اعمال بہت کم ہیں ، گناہوں کی زنجیر نے مجھے جکڑ لیا ہے
    لمبی آرزوئوں نے مجھے اپنا قیدی بنا رکھا ہے ، دنیا نے دھوکہ دے رکھا ہے
    اور نفس نے جرائم اور حیلہ سازی سے مجھے کو مبتلائے فریب کر دیا ہے
    اے میرے آقا
    میں تجھے تیری عزت کا واسطہ دے کر فریاد کرتی ہوں
    کہیں
    میری بدعملی و بدکرداری میری دعا کو تری نظر کرم سے دور نہ کر دے
    اور تو مجھے میرے پوشیدہ کاموں سے رسوا نہ کردے
    میرے مالک میرے پروردگار
    تو میرے ہر راز کوجانتاہے
    مجھے اس پر سزا دینے میں جلدی نہ کر
    جو میں نے خلوت میں غلط کام کیا
    برائی کی
    ہمیشہ کوتاہی کی
    اس میں میری نادانی، خواہشوں کی کثرت اور غفلت بھی ہے
    اے میرے اللہ !
    تجھے اپنی عزت کا واسطہ
    میرے لیے ہر حال میں مہربان رہ اور تمام امور میں مجھ پر عنایت فرما
    میرے معبود میرے رب تیرے سوا میرا کون ہے
    جس سے میں سوال کروں اوراپنی مصبیت کو دور کرنے کا کہوں
    میرے معبود
    میرے معاملے پر نظر رکھ
    میرے مولا تو نے میرے لیے حکم صادر فرمایا
    لیکن
    میں نے اس میں خواہش کا کہا مانا اور میں دشمن کی مکاری سے بچ نہ سکی
    اس نے میری خواہشوں میں دھوکہ رکھ دیااور وقت نے اسکا ساتھ دیا
    پس تو نے جو حکم صادر کیا تھا
    میں نے
    اس میں تیری بعض حدود کو توڑا اور تیرے بعض احکام کی مخالفت کی
    پس اس معاملہ میں مجھ پر لازم ٹھہرا کہ تیری حمد بجالاؤں
    اور میرے پاس کوئی حجت نہیں سوائے اس کے مان جاؤں
    ہر فیصلہ جو تو نے میرے لیے کیا ہے
    اور میرے لیے تیرا حکم اور تیری آزمائش لازم ہوئی
    اے میرے اللہ میں تیرے حضور آئی ہوں
    جب کہ میں نے کو تاہی کی اور اپنے نفس پرزیادتی کی ہے
    میں عذر خواہ و پشیماں ،ہاری ہوئی ، معافی کا طالبب ،بخشش کی سوالی
    تائب گناہوں کا اقرار ہے مجھے ، سرنگوں ہوں
    اقبال جرم کرتی ہوں
    جو کچھ مجھ سے ہوا نہ اس سے فرار کی راہ ہے نہ کوئی جا ئے پناہ
    سوائے اس کے کہ اپنے معاملے میں تیری طرف توجہ کروں
    اور فریاد کروں
    تو میرا عذر قبول کر اور مجھے اپنی وسیع تر رحمت میں داخل کرلے
    اے میرے معبود!
    میرا عذر قبول کر
    میری سخت تکلیف پر رحم کر
    اور بھاری مشکل سے رہائی دے
    اے پروردگار
    میرے کمزور بدن، نازک جلد اور باریک ہڈیوں پر رحم فرما
    اے پاک و پاکیزہ رب
    تو نے ہی میری خلقت ذکر، پرورش، نیکی اور غذا کا سامان کیا
    جو کبھی نیکی کی تھی اس نیکی کے تحت مجھے معاف فرما
    اے میرے معبودمیرے آقا اور میرے رب
    کیا میں یہ سمجھوں کہ تو مجھے اپنی آگ کا عذاب دے گا ؟
    جبکہ میں تیری توحید کی معترف ہوں
    اسکے ساتھ میرا دل تیری معرفت سے سرشار ہے
    اور میری زبان تیری یاد میں ذکر میں لگی ہوئی ہے
    اور میرا دل تیری محبت میں گرہ باندھے ہوئے ہے
    کیا
    اپنے گناہوں کے سچے اعتراف
    اور
    تیری ربوبیت کے آگے عاجزانہ پکار کے بعد بھی
    تو مجھے عذاب دے گا ۔۔؟
    ہرگز نہیں !
    تو بلند ہے اس سے کہ جس کی پرورش کی ہو اسے ضائع کردے
    جسے قریب کیا ہو اسے خود سے دور کردے
    جسے پناہ دی ہو اسے چھوڑ دے
    جس کی سرپرستی کی ہو
    اس پر مہربانی کی ہو اسے مصیبت کے حوالے کر دے
    اے میرے آقا میرے معبود!اور میرے مولا
    یہ بات تو میری سمجھ میں آئی نہیں
    کیا تو ان چہروں کو آگ میں ڈالے گا ؟
    جو تیری عظمت کے سامنے سجدے میں پڑے ہیں
    ان زبانوں کو جو تیری توحید کے بیان میں سچی ہیں
    اور شکر کے ساتھ تیری تعریف کرتی ہیں
    ان دلوں کو جو تحقیق کے ساتھ تجھے معبود مانتے ہیں
    ان کے ضمیروں کو جو تیری معرفت سے پرنور ہو کر تجھ سے خائف ہیں
    کیا تو انہیں آگ میں ڈالے گا؟
    ان اعضاء کو جو فرمانبرداری سے تیری عبا دت گاہوں کی طرف دوڑتے ہیں
    اور یقین کے ساتھ تیری مغفرت کے طالب ہیں
    کیا تو انہیں آگ میں ڈالے گا ؟
    اے صاحب کرم
    تیری ذات سے مجھے ایسا گمان نہیں
    اور نہ یہ تیرے فضل کے مناسب ہے
    اے کریم اے پروردگار!
    دنیا کی مختصر تکلیفوں اور مصیبتوں کے مقابل تو میری ناتوانی کو جانتا ہے
    اور اہل دنیا پر جو تنگیاں آتی ہیں میں انہیں برداشت نہیں کرسکتی
    جانتی ہوں کہ
    اس تنگی و سختی کا ٹھہراؤ اور بقاء کا وقت تھوڑا اور مدت قلیل ہے
    تو پھر
    کیونکر میں آخرت کی مشکلوں کو جھیل سکوں گی جو بڑی سخت ہیں
    اور وہ ایسی تکلیفیں ہیں جن کی مدت طولانی ،اقامت دائمی ہے
    اور ان میں سے کسی میں کمی نہیں ہو گی
    اس لیے کہ وہ تیرے غضب تیرے انتقام اور تیری ناراضگی سے آتی ہیں
    یہ وہ سختیاں ہیں جنکے سامنے زمین وآسمان بھی کھڑے نہیں رہ سکتے
    تو اے آقا مجھ پر کیا گزرے گی ۔۔؟
    تو، تو جانتا ہے کہ میں تیری کمزور پست، بے حیثیت، بے مایہ اور بے بس بندی ہوں
    اے میرے آقا اور میرے مولا!
    میں کن کن باتوں کی تجھ سے شکایت کروں
    اور کس کس کے لیے نالہ و شیون کروں ؟
    دردناک عذاب اور اس کی سختی کے لیے یا طولانی مصیبت کی مدت کی زیادتی کیلئے
    پس اگر تو نے مجھے عذاب و عقاب میں اپنے دشمنوں کے ساتھ رکھا
    اور مجھے اوراپنے عذابیوں کو اکٹھا کر دیا
    میرے اور اپنے دوستوں اور محبوں میں دوری ڈال دی
    تو
    اے میرے معبود ! میرے سردار! میرے مولا ! میرے رب
    تو ہی بتا
    کہ
    میں تیرے عذاب پر صبر کر بھی لوں تو تجھ سے دوری پر کیسے صبر کروں گی ؟
    اور
    اور مجھے بتاکہ میں نے تیری آگ کی تپش پر صبر کر ہی لیا
    تو
    تیرے کرم سے کس طرح چشم پوشی کرسکوں گی
    بھلا کیسے آگ میں پڑی رہوں گی
    میں تو تیرے عفو و بخشش کی امیدوار ہوں
    پس
    قسم ہے تیری عزت کی اے میرے آقا اور مولا
    سچی قسم کھاتی ہوں
    اگر تو نے میری گویائی باقی رہنے دی
    تو میں
    اہل نار کے درمیان تیرے حضور فریاد کروں گی
    آرزو مندوں کی طرح تیرے سامنے نالہ کروں گی
    کسی ناامید کی طرح ہر سو پکار کروں گی
    تیرے فراق میں دن رات گریہ کروں گی
    اور کہوں گی
    کہاں ہے تو
    اے مومنوں کے مددگار ۔۔ اے عارفوں کی امیدوں کے مرکز
    اے بیچاروں کی داد رسی کرنے والے ۔۔اے سچے لوگوں کے دوست
    اے عالمین کے معبود
    میں تیری حمد کرتی ہوں
    اے میرے اللہ
    میں تجھے اس سے پاک دیکھتی ہوں
    کہ
    تو وہاں سے بندہ مسلم کی آواز سن رہا ہے جو بوجہ نافرمانی دوزخ میں ہے
    اپنی برائی کے باعث عذاب کا ذائقہ چکھ رہا ہے
    اور اپنے جرم گناہ پر جہنم سے پکار رہا ہے
    تیرے حضور تیری ربوبیت کو وسیلہ بنا رہا ہے
    اے میرے مولا!
    بھلا پھر کس طرح وہ عذاب میں رہے گا
    جب کہ وہ تیرے گزشتہ حلم کا امیدوار ہے
    بھلا آگ کیونکر اسے تکلیف دے گی جبکہ وہ تیرے فضل اور رحمت کا امیدوار ہے
    یہ آگ کے شعلے کیسے اس کو جلائیں گے جبکہ تو اسکی آواز سن رہا ہے
    اور اس کے مقام کو دیکھ رہا ہے
    بھلا کیسے آگ کے شرارے اسے گھیریں گے جبکہ تو اس کی ناتوانی کو جانتا ہے
    بھلا کیسے وہ جہنم کے طبقوں میں پریشان رہے گا جبکہ تو اس کی سچائی سے واقف ہے
    بھلا کیسے جہنم کے فرشتے اسے جھڑکیں گے جبکہ وہ تجھے پکار رہا ہے
    اے میرے رب
    یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ خلاصی میں تیرے فضل کا امیدوار ہو اور تو اسے جہنم میں رہنے دے
    ہرگز نہیں !
    تیرے بارے میں یہ گمان مجھ سے نہیں ہو سکتا
    نہ تیرے فضل کا ایسا تعارف مجھ سے ہے
    نہ یہ توحید پرستوں پر تیرے احسان و کرم سے مشابہ ہے
    میر ایقین کہتا ہے کہ
    اگر تو نے اپنے دشمنوں کو آگ کا عذاب دینے کا حکم نہ دیا ہوتا
    اور اپنے مخالفوں کوہمیشہ اس میں رکھنے کا فیصلہ نہ کیا ہوتا
    تو ضرور تو آگ کو ٹھنڈی اور آرام بخش بنا دیتا
    کسی کو بھی آگ میں جگہ اور ٹھکانہ نہ دیا جاتا
    لیکن اے میرے رب تو نے اپنے پاکیزہ ناموں کی قسم کھائی ہے
    کہ جہنم کو تمام کافروں سے بھر دے گا
    جنّوں اور انسانوں میں سے اور تیرے مخالفین ہمیشہ اس میں رہیں گے
    اور
    میرے رب تو بڑی تعریف والا ہے
    تو نے فضل و کرم کرتے ہوئے بلا سابقہ یہ فرمایا
    کہ
    کیا وہ شخص جو مومن ہے وہ فاسق جیسا ہو سکتا ہے؟
    یہ دونوں برابر نہیں میرے معبود میرے آقا!
    میں
    تیری قدرت جسے تو نے توانا کیا
    تیرا فرمان جسے تو نے یقینی و محکم بنایا
    تو غالب ہے اس پر جس پر اسے جاری کرے
    تجھے تیری اسی قدرت کا واسطہ
    مجھے بخش دے
    بخش دے اس شب میں اور اس ساعت میں میرے تمام وہ جرم جو میں نے کیے
    میرے تمام وہ گناہ جو مجھ سے سرزد ہوئے
    وہ سب برائیاں جو میں نے چھپائی ہیں
    وہ نادانیاں جو میں نے جہل کی وجہ سے کیں ہیں
    میرے مالک !
    علی الاعلان یا پوشیدہ ، رکھی ہوں یا ظاہر کیں ہیں
    اور
    میری بدیاں جن کے لکھنے کا تو نے معزز کاتبین کو حکم دیا ہے
    جنہیں تو نے مقرر کیا ہے
    کہ جو کچھ بھی میں کروں اسے محفوظ کریں
    اور ان کو میرے اعضاء کے ساتھ مجھ پر گواہ بنایا
    اور انکے علاوہ
    خود تو بھی مجھ پر ناظر اور اس بات کا گواہ ہے جو ان سے پوشیدہ ہے
    حالانکہ
    تو نے اپنی رحمت سے اسے چھپایا اور اپنے فضل سے اس پر پردہ ڈالا
    بس وہ سب معاف فرما دے
    اور
    میرے لیے ہر اس خیر میں وافر حصہ دے جسے تو نے نازل کیا
    ہر اس احسان میں جوتو نے کیا
    ہر نیکی میں جسے تو نے پھیلایا
    رزق میں جسے تو نے وسیع کیا
    گناہ میں جسے تو نے معاف کیا
    غلطی میں جسے تو نے چھپایا
    یارب ۔۔ یا رب ۔۔یا رب۔۔ اے میرے معبود میرے آقا
    میرے مولا میری جان کے مالک
    اے وہ جس کے ہاتھ میں میری لگام ہے
    اے میری تنگی و بے چارگی سے واقف
    اے میری ناداری و تنگدستی سے باخبر
    یارب ۔۔۔ یارب ۔۔۔یارب ۔۔۔۔
    میں تجھ سے
    تیرے حق ہونے، تیری پاکیزگی، تیری عظیم صفات
    اور اسماء کا واسطہ دے کر سوال کرتی ہوں
    کہ
    میرے رات دن کے اوقات اپنے ذکر سے آباد کر دے
    مسلسل اپنی حضوری میں مجھے رکھ لے
    میرے اعمال کو اپنی جناب میں قبولیت عطا فرما
    حتی کہ میرے تمام اعمال اور اذکار تیرے حضور ورد قرار پائیں
    میرا یہ حال تیری بارگاہ میں ہمیشہ قائم رہے
    اے میرے آقا
    اے وہ جس پر میرا تکیہ ہے ۔۔۔
    اے جس سے میں اپنے حالات کی تنگی بیان کرتی ہوں
    یارب ۔۔۔ یارب ۔۔ یارب ۔۔۔ میرے مالک
    میرے ظاہری اعضاء کو اپنی حضوری میں قوی کر دے
    میرے باطنی ارادوں کو محکم و مضبوط بنا دے
    مجھے توفیق دے کہ تجھ سے ڈرنے کی کوشش میں رہوں
    تیری حضوری میں ہمیشہ رہنے کی آرزو کروں
    تیری بارگاہ میں سابقین کی راہوں پر چل پڑ وں
    تیری طر ف جا نے والوں سے آگے نکل جاؤں
    تیرے قرب کا شوق رکھنے والوں میں سبقت کروں
    تیرے خالص بندوں کی طرح تیرے قریب ہو جاؤں
    اہل یقین کی مانند تجھ سے ڈروں
    اور تیرے آستانہ پر مومنوں کے ساتھ حاضر رہوں
    اے معبود !
    جو میرے لئے برائی کا ارادہ کرے تو اسکے لئے ایسا ہی کر
    جو میرے ساتھ دھوکہ کر ے تو اسکے ساتھ بھی ایسا ہی کر
    مجھے اپنے ان بندوں میں شامل کر جو بڑے نصیب والے ہیں
    مجھے شامل کر لے ان میں جو نصیب میں بہتر ہیں
    جومنزلت میں تیرے قریب ہیں
    جو تیرے حضور تقرب میں مخصوص ہیں
    کیونکہ
    تیرے فضل کے بغیر یہ درجات نہیں مل سکتے
    تجھے تیرے ہی کرم کا واسطہ مجھ پر کرم کر
    تجھے تیری اپنی ہی بزرگی کا واسطہ مجھ پر توجہ کر
    تجھے تیری ہی رحمت کا واسطہ میری حفاظت کر
    میری زبان کو اپنے ذکر میں گویا فرما
    میرے دل کو اپنا اسیر محبت بنا
    میری دعا قبول کر لے ، مجھ پر احسان فرما
    میرے گناہ معاف کر دے اور بخش میری خطا
    کیونکہ
    تو نے بندوں پر عبادت فرض کی ہے اور انہیں دعا مانگنے کا حکم دیا
    اور تو نے ہی قبولیت کی ضمانت دی ہے
    اے میرے پروردگار !
    میں اپنا رخ تیری طرف کر رہی ہوں اور تیرے آگے ہاتھ پھیلا رہی ہوں
    میرے پاک رب اپنی عزت کے طفیل میری د عا قبول فرما
    میری تمنائیں برلا اور اپنے فضل سے بندھی میری امید نہ توڑ
    میرے دشمن جو جنّوں اور انسانوں سے ہیں ان کے شر سے میری کفایت کر
    اے جلد را ضی ہونے والے میرے رب مجھے بخش دے
    کہ دعا کرنے کے سوا میرااور کچھ بس نہیں چلتا
    بے شک تو جو چا ہے کرنے والا ہے
    اے وہ جس کا نام دوا ، جس کا ذکر شفا ، اور اطاعت تونگری ہے
    میرے رب
    رحم فرما اس پرجس کا سرمایہ محض امید ہے
    اور جس کا ہتھیار گریہ ہے
    اے نعمتیں پوری کرنے والے ، اے سختیاں دور کرنے والے
    اے تاریکیوں میں ڈرنے والوں کیلئے نور
    اے وہ عالم جسے پڑھایا نہیں گیا
    محمد (ص) آل محمد (ص) پر رحمت فرما
    مجھ سے وہ سلوک کر جس کا تو اہل ہے
    اے خدا
    اپنے رسول (ص) اور ان کی آئمہ میں جو صاحب برکت امام ہیں
    ان پر رحمت اور ایسا سلام بھیج جیسا کہ بھیجنے کا حق ہے
    ان پر سلام ۔۔سلام ۔۔سلام ۔۔ بہت بہت سلام ۔۔ ۔۔

    ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی

  10. حضرت کمیل بن زیاد کے بارے میں کچھ مختصر

    کمیل بن زیاد یمن کے قبیلہ نخع سے تھے اور آپ کے والد گرامی زیاد بن نھیک تھے اور کمیل بن زیاد کے بھائی کا نام حارث بن زیاد تھا جو عبید اللہ کے دوستوں میں سے تھا اور کمیل بن زیاد امام علی علیہ السلام کے دوستوں میں سے تھے اور کوفہ کے آٹھ عابدوں میں انکا شمار ہوتا تھا لیکن ۹۰ سال کی عمر میں حجاج بن یوسف ثقفی کے ھاتوں شہید ہو گئے
    اور کمیل بن زیاد کو ان کی شہادت کے بعد سرزمین ثویّه جو کوفہ کے اطراف میں تھا دفن کردیا اور آج ایک مزار کے شکل میں اور ایک زیارت گاہ کے نام سے معروف ہے

  11. صفدر بھائی جزاک اللہ میں دعا کمیل سے تو واقف تھا اس ایک کاپی میرے پاس ہے بھی ل،یکن حضر ت کمیل سے اپنی کم علمی کیوجہ سے ان واقف نہیں تھا ؟ بلاگ میں ان کا ذکرآیا تو میرا خیال اس دعا کی طرف گیا اور میں سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ باب علم سے موسوم دعا جن کے نام پر ہے وہ یقینا“ بہت عظیم ہستی ہو گی۔ آپ سے پوچھنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ آپ نے میری دلی خواہش پوری کر دی ؟ میں شکر گزار ہونگا اگر ان کے بارے مزید معلومات سے نوازیں کہ وہ کیوں شہید کیئے گئے ۔

  12. امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنے عزیز ترین صحابی کمیل ابن زیاد کو جو دعا تعلیم فرمائی تھی اس میں دعا کا ذکر نہایت ارفع و اعلیٰ ہے اور اسی نام کے ساتھ پھر شفاء کو بھی منطبق کر دیا ہے۔ فرمایا‘ یوں پڑھو:
    اِسمُہ دَواءٌ وذِکرُہ شِفَاءٌ۔
    “اللہ کی یاد بطور عبادت دوا بھی ہے اور شفا بھی تو جس کا نام لینا شفا ہے”۔ اس کے حضور گڑگڑا کر دعا کرنا کس قدر افراط شفاء کا موجب ہوگا۔
    علابن کامل نے امام ششم کے الفاظ علی بن ابراہیم کے ذریعے سے ہم تک یوں پہنچائے ہیں:
    قَالَ لِی ابوعبداللّٰہ عَلَیکَ بِالدِّعَاءِ فَاِنّہ شِفَآءُ مِن کُلِّ دَاءٍ
    “دعا کرتے رہا کرو کیونکہ وہ ہر درد کی دوا ہے”۔

  13. مختصر اور جامع دعا کون سی ھے ۔ جو آسانی سے یاد ھو جائے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *