السلام علیکم
آپ سب سے درخواست ہے کہ عید کے موضوع پر اپنے یا منتخب کردہ اشعار ارسال کیجیے
والسلام
زرقا
مفلس کی عید
احساس آرزو ۓ بہاراں نہ پوچھیے
دل میں نہاں ہے آتش سوزاں نہ پوچھیے
عید آئی اور عید کا سامان نہ پوچھیے
مفلس کی داستاں کسی عنواں نہ پوچھیے
ہے آج وہ بہ حالِ پریشاں نہ پوچھیے
روزے تو ختم ہو گۓ باصد غم و ملال
اب عید آئی اور وہ ہونےلگا نڈھال
بچوں کا بھی خیال ہے اپنا بھی ہے خیال
دامن ہے چاک بال پریشان غیر حال
کچھ داستانِ چاک گریباں نہ پوچھیے
منہ میں نہیں زباں جو کچھ حالِ دل کہے
غیرت کا اقتضا ہے کہ خاموش ہی رہے
آنکھوں سے موج اشک جو بہتی ہے تو بہے
ہے سر پہ ایک ہاتھ تو اک ہاتھ دل پہ ہے
افلاس کا یہ منظر عریاں نہ پوچھیے
دل میں لیے ہوۓ ہوسِ عیش بے شمار
اور زیب تن کیے ہوۓ ملبوس زر نگار
منعم ادھر رواں ہے بصد شان و افتخار
ہیں اس طرف نشاط کے اسباب آشکار
اور یہ ادھر ہے گر یہ بہ داماں نہ پوچھیے
منعم کو دیکھ کر دمِ بازو نکل گیا
اس کے ملال کا کوئی پہلو نکل گیا
مفلس کے دل سے نعرۂ یاہو نکل گیا
عید آئی اور آنکھ سے آنسو نکل گیا
کس درجہ ہے وہ بے سر و ساماں نہ پوچھیے
ہر چند دل میں حسرت وارماں ہیں بے قرار
لیکن وہ اپنا حال کرے کس پہ آشکار
دشمن وجود اس کا عدو اس کی جان زار
جاۓ کہاں نہیں ہے کوئی اس کا غم گسار
لاۓ کہاں سے عیش کے ساماں نہ پوچھیے
اک جانِ زار اس پہ ہزاروں جفا و جور
کس کا خیال رکھے وہ کس پر کرے وہ غور
کمزور سی اک آہ میں اس کی ہے اتنا زور
صادق بپا ہے محفِل مکاں میں ایک شور
برہم ہے نظمِ عالمِ امکاں نہ پوچھیے
صادق اندوری

تیرے بغیر ہم نے گزاری ہے ایسے عید
جیسے سفر میں شامِ غریباں گزر گئی
مفلس کے دل سے نعرۂ یاہو نکل گیا
عید آئی اور آنکھ سے آنسو نکل گیا
واہ
بہن زرقا مفتی صاحبہ بہت اچھا انتخاب ہے نظم کیا ہے یہ تو دل و دماغ پہ ایک دستک ہے
یہ پوری کی پوری نظم ایک ایسی حقیقت کی عکاسی ہے جسے پسِ پشت ڈال کر ہم شترمرغ کی طرح مطمئن ہیں۔
ماشاء اللہ
ماشاء اللہ۔ زرقا ء مفتی صاحبہ ۔ بہت خوب انتخاب ہے۔انداز سے بالکل مولانا الطاف حسین حالی کا تکلم نظر آتا ہے۔ ماشاء اللہ۔
کسی کا ایک شعر یاد آرہا ہے وہ بھی شاید آدھا لیکن حسب حکم حاضر ہے۔
عید کا چاند جو دیکھا تو مجھے یاد آیا
بن ترے ہم نے بھی اک سال بسر کر ہی لیا
سب کو پیشگی عید مبارک
السلام علیکم
معزرت خواہ ہوں کہ شاعر کا نام لکھنا بھول گئی تھی
صادق اندوری صاحب کا تعلق بھارت سے ہے۔ اعجاز عبید صاحب کے والد ہیں ۔ اعجاز عبید صاحب انٹرنیٹ پ ایک سہ ماہی رسالہ سمت کے ایڈیٹر ہیں ایک برقی لائبریری بھی بنا رکھی ہے۔ انٹرنیٹ پر اردو رسم الخط کے فروغ میں پیش پیش ہیں
آو مل کر مانگیں دعائیں ہم عید کے دن
باقی رہے نہ کوئی بھی غم عید کے دن
ہر آنگن میں خوشیوں بھرا سورج اُترے
اور چمکتا رہے ہر آنگن عید کے دن
شاعر نامعلوم
عید کا چاند ہے خوشیوں کا سوالی اے دوست
اور خوشی بھیک میں مانگے سے کہاں ملتی ہے
دست سائل میں اگر کاسئہ غم چیخ اٹھے
تب کہیں جا کے ستاروں سے گراں ملتی ہے
عید کے چاند ! مجھے محرم عشرت نہ بنا
میری صورت کو تماشائے الم رہنے دے
مجھ پہ حیراں یہ اہل کرم رہنے دے
دہر میں مجھ کو شناسائے الم رہنے دے
یہ مسرت کی فضائیں تو چلی جاتی ہیں !
کل وہی رنج کے، آلام کے دھارے ہوں گے
چند لمحوں کے لیے آج گلے سے لگ جا
اتنے دن تو نے بھی ظلمت میں گزارے ہوں گے
ساغر صدیقی
عید تکمیلِ عنایت عید تقریبِ سعید
عید روزوں کا تتمہ عید بخشش کی نوید
جس گھڑی دوخ پکارے ہل من مزید
عید ِ مو من رو ز ِ محشر رب کی دید
جن کو مطلوب خدا ہے وہی ان کا دلبر
دن کو روزے سے رہے رات کو جاگے اکثر
کیوں منائیں نہ خوشی ،عید یہاں اور وہاں
اجر مولٰی دے جنہیں پاس سے جھولی بھر کر
دن میں محنت جوکریں ذکر میں کا ٹیں راتیں
جن کو مرغوب عمل ہیں نہیں حیلے باتیں
ان کی مبرور عبادت، ہی صلہ ہے ان کا
ہیں مقرب ِ الٰہی یہ مقدس ذاتیں
نعمتیں مخصوص ہیں سب متقی کے واسطے
زندگی اک اور بھی ہے آدمی کے واسطے
ہو گیا گر حق شنا سا کو ئی جو رمضا ن میں
عید لکھی ہے خدا نے بس اسی کے واسطے
علامہ اقبال نے بھی ” عید پر شعر لکھنے کی فرمائش کے جواب میں ” یہ لکھا تھا :
یہ شالامار میں اک برگِ زرد کہتا تھا
گیا وہ موسم۔ گل جس کا راز دار ہوں میں
نہ پائمال کریں مجھ کو زائرانِ چمن
انھیں کی شاخِ نشیمن کی یاد گار ہوں میں
ذرا سے پتّے نے بیتاب کرد یا دل کو
چمن میں آ کے سراپا غمِ بہار ہوں میں
خزاں میں مجھکو رلاتی ہے یادِ فصلِ بہار
خوشی ہو عید کی کیونکر کہ سوگوار ہوں میں
اجاڑ ہوگئے عہدِ کہن کے میخانے
گذ شتہ بادہ پرستوں کی یاد گار ہوں میں
پیامِ عیش و مسرّت ہمیں سنا تا ہے
ہلالِ عید ہماری ہنسی اڑاتا ہے
اک چاند کے نکلنے سے نہ ہو گی اپنی عید
بھر پور ظلمتوں کو مٹا لیں تو عید ہو
اب کے برس بھی نکلا چاند
لیکن تھا وہ سُونا چاند
برسوں اِدھر اُدھر بھٹک کر
بھول گیا اپنا رستہ چاند
ایک مانگو تو دو ملتے ہیں
ہوگیا کتنا سستا چاند
نارتھ امریکہ شور بہت تھا
لیکن کس نے دیکھا چاند
جب امت ہو ٹکڑے ٹکڑے
کیسے ایک ہو اس کا چاند
سب کی اپنی اپنی مسجد
سب کا اپنا اپنا چاند
یونٹی کیا ہے میری مانو
کیسی عید اور کہاں کا چاند
ایک شہر میں دو دو عیدیں
دیکھ کے ہنستا ہو گا چاند
معاذ سے پوچھو تو وہ بولے
گھر میں میرے میرا چاند
معاذ المساعد صدیقی
ادھر سے چاند ھم دیکھیں، اُدھر سے چاند تم دیکھو
نگاہوں کا تصادم ھو اور اپنی عید ھو جایے
🙂
کاش اس رخ کی دید ہوجائے
اس سے گفت و شنید ہو جائے
میرے اللہ تیرے بندے کی
عید کے دن تو عید ہوجائے
اپنی حاضری لگواتے ہوئے تمام احباب کو عید کی دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس غیر حاضری کے تلافی کے لئے جلد کوئی تفصیلی
تحریر شاملٍ اشاعت کرونگا ۔۔ محفل میں اس خیال سے پھر آگیا ہوں میں ۔ شاید مجھے نکال کے کچھ کھا رہے وہں آپ
آپ سب کی محبتوں کا امین
21 ستمبر کے جنگ اخبار سے انور شعور کی نظم “عید” کے چار اشعار :
ملتے ہیں روز رنج و غمِ زندگی بہت
پروردگار آج ہمیں دے خوشی بہت
مخلوق ہے اگرچہ گرانی سے خستہ حال
رنگینیاں ہیں شہر میں چھوٹی بڑی بہت
یہ عید کا مزہ ہے ، کہ پیاروں کی دید کا
ہر چیز دے رہی ہے دکھائی بھلی بہت
لگتا ہے عید کو بھی تمھاری طرح شعور
رہنے لگے آداس اگر آدمی بہت
دے انہیں جنبش کبھی عہد وفا کے واسطے
تیرے ہونٹوں میں نہاں میرا ہلالِ عید ہے (جوش)
گل نہ ہوگا تو جشن خوشبو کیا — تم نہ ہوگے تو عید کیا ہوگی (پروین شاکر)
گئے برس کی عید کا دن کیا اچھا تھا– چاند کو دیکھ کے اس کا چہرہ دیکھا تھا (پروین شاکر)
سب لوگ دیکھتے ہیں کھڑے چاند عید کا– مشتاق ہوں میںرشک قمر تیری دید کا (بہادر شاہ ظفر)
آج کے دن صاف ہوجاتا ہے دل اغیار کا– آؤ مل لو عید یہ موقع نہیں تکرار کا (منیر نیازی)
نصیب جن کو تیرے رخ کی دید ہوتی ہے – وہ خوش نصیب ہیں خوب انکی عید ہوتی ہے ( امیر مینائی)
مہہ نو آج صبح عید کی لے کر نوید آیا– صلے میں تیس روزوں کے مبارک روز عید آیا (سلطان دہلوی)
(نا معلوم شعراء کے چند اشعار)
کئی عیدیں اسی امید پہ گزریں اپنی- شاید اس بار گلے سے وہ لگالے ہم کو۔—
تمام شہر گلے لگ گیا تو کیا حاصل– وہ ہم کو منہ جو لگائے تو عید ہوجائے–
عید ملنے جو آپ آجائیں– تو ہماری بھی عید ہوجائے–
عید وہ مل رہے ہیں غیروں سے- ہم سے کہتے ہیں مدعا کیا ہے–
سب سے ملے وہ سینہ بہ سینہ ہم سے صرف ملائے ہاتھ- عید کے دن جو سچ پوچھو تو عید منائی لوگوں نے
میرا قطعہ : پردیس میں عید کے بعد :
عید آئی بھی اور چلی بھی گئی
اور ہم سب کو یاد کرتے رہے
اجنبی بستیوں میں افسردہ
دل کو یادوں سے شاد کرتے رہے
عید کا دن ہے اور ہم ہیں غمزدہ سے
ہماری قسمت نے آج بھی پلٹا نہیں کھایا
بڑی پرفیوم کی بوتل جسے تحفے میں دے دی تھی
سبھی گلے ملنے آئے وہی ظالم نہیں آیا۔۔۔
تیری یاد دے قرضے لہندے نہیں 》》ماہی
اساں عید دا جوڑا کی لینا
دِل ، رُوح تک اُداس ہے اور چاند رات ہے
اِک بدترین یاس ہے اور چاند رات ہے
وُہ آخری ٹرین میں بیٹھا ہُوا ہو گا
پر یہ تو بس قیاس ہے اور چاند رات ہے
دِل کا سکوں ، جگر کا سکوں ، ذہن کا سکون
سب کچھ تو اُس کے پاس ہے اور چاند رات ہے
بادَل نے تشنگی کو کئی چند کر دِیا
اُوپر سے من کی پیاس ہے اور چاند رات ہے
ٹھنڈی ہَوا کا پَہرا ہے یادوں کے شہر میں
ہر زَخم بے لباس ہے اور چاند رات ہے
کچھ لوگ چاند رات میں لوٹیں گے پیار سے
جو کچھ بھی اَپنے پاس ہے اور چاند رات ہے
اَشکوں نے صف بنائی ہے وُہ بھی بہت طویل
اِک سال کی بھڑاس ہے اور چاند رات ہے
شب دیدہ جنگلات سے لاتے ہو جو حنا
اُس میں لہو کی باس ہے اور چاند رات ہے
اِک وعدہ اُس کی دید کا ، اِک پڑیا زہر کی
دونوں کی یکساں آس ہے اور چاند رات ہے
کچھ لیلیٰ کو جنون ہے تقسیمِ زَخم کا
کچھ قیس غم شناس ہے اور چاند رات ہے
شہزاد قیس
٭٭٭
قطعات
بر موقع عید سعید
عنبر شمیم
1
میل دل سے نفرتوں کی دھویئے تو عید ہے
ہر کسی کے دکھ میں شامل ہویئے تو عید ہے
زیست میں رشتے کا ہونا تو ضروری ہے مگر
زندگی رشتوں کے اندر بویئے تو عید ہے
2
رنجش و بغض و عداوت چھوڑ دینے کا ہے نام
رشتۂ عشق و مروت جوڑ دینے کا ہے نام
فاصلے باقی نہ رہ پائیںدلوں کے درمیاں
عید ہر دیوارِ نفرت توڑ دینے کا ہے نام
3
گلشنِ انسانیت میں تازگی کا نام ہے
رشتۂ عشق و وفا میں زندگی کا نام ہے
وہ کہ جس کے دل میں کوئی میل ہوتی ہی نہیں
عید ایک بچے کے چہرے پر ہنسی کا نام ہے
Masha Allah
Wonderful collection
دعا ھے آپ دیکھیں زندگی میں بے شمار عیدیں
خوشی سے رقص کرتی مسکراتی پر بہار عیدیں