نہ جا نے وہ منا ئیں گے وطن میں عید کیسے
نہ کپڑا ہے نہ چینی ہے نہ جن کے پاس پیسے
جہاں غربت ہی غربت اور ما یوسی بڑھی ہے
جہاں پر حکمراں ہیں بن گئے کچھ ایسے ویسے
نہ جا نے وہ منا ئیں گے وطن میں عید کیسے
نہ کپڑا ہے نہ چینی ہے نہ جن کے پاس پیسے
جہاں غربت ہی غربت اور ما یوسی بڑھی ہے
جہاں پر حکمراں ہیں بن گئے کچھ ایسے ویسے
السلام علیکم
محترم شمس جیلانی صاحب آپ کے اس بلاگ میں سب سے پہلے لکھنا میری خوش نصیبی ہے (اگر کسی کا تبصرہ پنڈنگ میں نہیں تو)
آپ نے اپنی چار سطور میں وہ سب کچھ کہہ دیا جو اگر ہم سب کو سمجھ آ جائے تو اس عید کو ایک رخ سے کبھی نا دیکھیں بلکہ اس کے دونوں رخ اپنے ذہن میں رکھیں
یہ عید کاموقع ایسا ہے جس پر خوشی بھی ہے اور افسوس بھی ۔ خوشی یہ ہے کے پروردگار نے ہم کو اتنی نعمتیں عطا کیں کے ہم اس کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے ۔اور افسوس اس بات پر کے جو لوگ پروردگار کے بعد حکومت وقت کے رحم و کرم پر بیٹھے یہی سوچ رہے ہیں کے ہمکویہ عید منانا کیوں نصیب نہیں ۔ان کا کوئی پرسان حال کیوں نہیں ہے ؟
کاش پروردگار عالم ان غریبوں کے دل کی دعا قبول کر لے اور پاکستان میں ایک ایسا انقلاب آ جائے کے یہ بھیڑیے جو کے سیاست دانوں اور حکمرانوں کی شکلوں میں غریب عوام کا خون چوس رہے ہیں ان سے چھٹکارا مل جائے اور کوئی محب وطن قیادت پاکستان میں سامنے آئے اور ملکی مسائل پر جلد از جلد قابو پا لے آمین
جنابِ شمس جیلانی کا فرمایا حقیقت ہے
وطن کے سب غریبوں کے لیئے یہ عید وحشت ہے
بنا چینی اور آٹے کے جہاں رمضان گزرا ہو
وہاں پر سانس لینا بھی اگر سچ کہہ دوں ذلت ہے
جہاں آٹے کی خاطر عورتیں جاں سے گزر جائیں
وہاں پر کیا تراویح،کیسی تسبیح کیا عبادت ہے
قسم قصرِ صدارت میں ہر اک احساس مردہ ہے
یہی وہ بےحسی ہے جو زمانے بھر کی لعنت ہے
وہ جن کے ووٹ سے قائم حکومت ہے انہی کے گھر
بروزِ عید بھی فاقہ ہے تنگ دستی کی صورت ہے
میں اپنے آپ سے یہ پوچھتا رہتا ہوں ہر لمحے
نہ جس کی آنکھ میں ہو شرم وہ کیسی حکومت ہے
قیامت آئے گی ہر روز یہ سنتے ہیں مُلاں سے
ہمارے واسطے تو لمحئہ حاضر قیامت ہے
یہ ایونِ صدارت کے مکیں اس عید کے دن پر
اگر جھانکیں گریباں میں ندامت ہی ندامت ہے
ہمارے ملک کو ان حاکموں نے کیا بنا ڈالا
زراعت جس کی شے رگ ہے وہاں آٹے کی قلت ہے
کہیں فرقہ پرستی ہے کہیں مسلک کہیں ذاتیں
خدایا تو ہی بتلا دے یہ کس طرح کی ملت ہے
یہاں حج ایک فیشن ہے نمازیں بس دکھاوا ہیں
یہاں مسجد بھی بزنس ہے یہاں دیں بھی سیاست ہے
جو اہلِ علم ہیں وہ خوفِ عزت سے گھروں میں بند
یہاں منبر پہ جاہل ہے مضحکہ خیز صورت ہے
ہماری قسمتوں کے وہ جو مالک بن کے بیٹھے ہیں
ہیں انکے تن نجس اور من خباثت ہی خباثت ہے
عوام اس ملک کے کس عدل کی خواہش میں زندہ ہیں
یہاں انصاف کی خاطر ترستی خود عدالت ہے
ہم عرفِ عام میں حاکم جنہیں کہتے ہیں اب صفدر
یہ وہ ناسور ہیں جن کا خدا مغرب کی طاقت ہے
السلام علیکم
ہمدانی صاحب کمال کی نظم کہی ہے آپ نے ۔پوری نظم کا ہر ہر شعر ذندہ ضمیروں کی آواز ہے اور مردہ ضمیروں کے منہ پر تماچہ ہے
آپکی پوری نظم میں ایک شعر تو بہت ہی کمال کا ہے ۔کاش ہمارے پاکستان کے سیاست دان نماء بھیڑیے اس شعر کو پڑھ لیں اور انکی غیرت جاگ جائے تو انکے لئیے ڈوب مرنے کے لئیے یہ ایک شعر ہی کافی ہے۔ جس عوام کے ووٹ سے یہ خبیث بھیڑیے عیاشیاں کر رہے ہیں انہی کے گھروں میں فاقوں کی صورت ہے ۔لعنت ہے ایسے بے حس بھیڑیوں پر۔
” وہ جن کے ووٹ سے قائم حکومت ہے انہی کے گھر
” بروزِ عید بھی فاقہ ہے تنگ دستی کی صورت ہے
ماریہ جیتی رہو
اپنے ہاں علی کو انکے والد اور والدہ کو میرا سلام اور عید کی روایتی مبارکباد دینا
سلامت باشد
عوام اس ملک کے کس عدل کی خواہش میں زندہ ہیں
یہاں انصاف کی خاطر ترستی خود عدالت ہے
واہ واہ ، کیا بات ہے، قبلہ ہمدانی صاحب ۔ ۔ ۔
لگایا اِک طمانچہ آپ نے بہ روئے ایں حکومت ہے
جناب مناف صاحب ۔۔۔ تشکر ۔ تشکر۔۔۔تشکر
محترم جیلانی بھائی
حکمران بے حس ہیں
اور عوام کے صبر کا پیمانہ نہ جانے کب لبریز ہوگا
اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے
والسلام
زرقا
محترم ہمدانی صاحب
آپ کی نظم تلخ سچائیوں کا آئینہ ہے
میری جانب سے داد قبول کیجیے
والسلام
زرقا
شکریہ زرقا صاحبہ
خوش رہیں
عہد حاضر کی سچی تصویر کشی ھے آپ کی نظم ۔۔بہت ہی عمدہ ۔۔
صفدر بھائی ، آپ کی نظم کا جواب نہیں۔ مجھے اس طرف آنے میں دیر یوں لگی کہ سب بچے آئے ہو ئے تھے اور گھر میں ایک ہنگامہ تھا۔ اب چونکہ دفتر اور اسکول کھل گئے ہیں ۔لہذا سب مصروف ہو گئے۔ ماشا اللہ بہت اچھی نظم ہے مبارکباد قبول فر ما ئیے۔ مگر وہاں ایوانِ صدر ہی بے حس نہیں ہے بلکہ” لنکا میں سبھی با ون گز کے ہیں ” اور خود عوام بھی بے حس ہیں۔ زندہ قومیں ایسی نہیں ہو تیں ۔ جبکہ حدیث یہ ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا لہذا یہ کیسے مومن ہیں جو بار بار ڈسے جا رہے ہیں ؟ اور ہاں ایک آیت بھی سورہ انعام کی یا د آئی کے کہ ” ہم ظا لموں پر ظالم اور منا فقوں پر منا فق مسلط کر دیتے ہیں ” پھر یہ حدیث بھی کہ جو ظالم کا ساتھ دیتے ہیں وہ ظالم ہیں ۔ بس اس کی روشنی میں اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ؟
بہن زرقا خوش رہو بہت بہت شکریہ۔ میں نے آپ کا تبصرہ پڑھا اور آپ کے ہر سوال کا جواب صفدر بھائی کے جواب میں اوپر دیدیا ہے۔ دہرانے میں مزہ نہیں آئے گا۔
ماریہ بہن ۔ آپ کا سب سے پہلے میرے بلاگ میں لکھنا میرے لیئے با عث ِ اعزاز ہے بہت بہت شکریہ۔ آپ نے بھی جو سوال اٹھا ئے ہیں وہ صفدر بھائی کی نظم پر جو میرا تبصرہ ہے وہا ں دیکھ لیں ۔
السلام علیکم
جیلانی صاحب سب سے پہلے تو دیر سے لکھنے کی معزرت ۔ اورپلیز جیلانی صاحب آپ مجھے بہن مت بولیں میں آپکی بیٹی جیسی ہوں )
آپ سب سے یہاں بہت کچھ سیکھتی ہوں اور سیکھتی رہونگی ۔آپ سب کی سرپرستی میرے ساتھ رہے میرے لئیےیہی کافی ہے)
آپکی دعاوں کی محتاج
ماریہ علی