بھائ چارے سے بے چارگی تک

جہاں زمین اھل الخیر پر جگہ جگہ بے گناھوں کے خون کے چھنٹے پڑے ھیں
جہاں بھائ بھائ کا دشمن ھے
جہاں نہ کسی جان سلامت ھے
جہاں نہ کسی عزت و آبرو محفوظ ھے
جہاں مظلوم اور مجبور کی قسمت میں صرف اور صرف رونا ھی ھے
کبھی میں سوچتی ھوں
کہ وہ ملک جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا
جہاں اھل مدینہ کی تفلید میں مہاجر اور انصاروں کو ؎بھائ بھائ بنایا گیا تھا
جہاں ایک وقت تھا کہ لوگ فٹ پاتھہ پر لوگ چین و اطمینان سے سوتے تھے
جہاں عبادت گذآر چین سے عبادت کرتے تھے
جہاں اللہ کے نام لینے پر پابندی نہ تھی
جہاں مساجد و دیگر عبادت گاھوں میں لوگ بے خوف وخطر جاتے تھے
جہاں لوگ کسی جانور کو بھی مارتے ھوۓ ڈرتے تھے
جہاں لوگ ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے تھے
جہاں کبھی شیطان انسان کا دشمن تھا

چرخ کہن نے کہاں ایسا منظر دیکھا ھوگا
کہ اب وھاں انسان انسان کا دشمن ھے
پہلے میں سمجھتی تھی کہ ھمارا دشمن یہودی ھے
میں سمجھتی تھی کہ ھمارا دشمن کفار ھیں ھنود ھیں
مگر اب جو حالت وطن عزیز میں ھمارے شہروں کی ھے مجھے سجھہ آگیا
کہ ھم اپنے دشمن آپ ھیں
کیا آپ مجھہ سے متفق ھیں ؟

21 thoughts on “بھائ چارے سے بے چارگی تک”

  1. انسان فطرتَ متعصب ہوتا ہے۔ تقسیمِ ہند سے پہلے وہاں کے مسلمان ایک قوم تھے۔ مقابلہ کیونکہ ہندؤں سے تھا اسلئے سارے مسلمان بحیثیت ایک قوم کے متحد تھے۔ لیکن پاکستان بننے کے بعد ہندو تقریباَ ختم ہوگئے۔ تو پھر کسی نہ کسی کو تو تعصب کا نشانہ بننا اور بنا ہی تھا۔ اسلئے لوگوں نے خود کو پنجابی، بنگالی، پٹھان،سندھی، بریلوی، دیوبندی، اہلِ حدیث، شیعہ ، سنی وغیرہ میں بانٹ کر پہلے کیچڑ اُچھالنا شروع کی پھر نوبت کشت و خون تک آگئ۔ اس کے بعد کی منزل خاکم بدہن پہلے خانہ اور پھرہملوگ پارہ ہوسکتے ہیں۔ جو جو خواب محمد علی جناح نے دیکھے تھے وہ پارہ پارہ ہورہے ہیں۔ جن جن خدشات کا اظہار ابولکلام آزاد نے کیا تھا وہ صحیح ثابت ہورہے ہیں۔ بھارت میں غیر مسلموں کے ہاتھوں اتنے مسلمان نہیں مارے گئے جتنے مسلمان پاکستان میں مسلمانوں کے ہاتھوں مارے جاچکے ہیں۔ جو بھی قوم احترامِ انسانیت کو چھوڑ کر انسان کو مذہب، فرقہ، زبان، رنگ ونسل، علاقوں میں بانٹتی ہے اُس کا یہی حشر ہوتا ہے جو ہمارا ہورہا ہے۔ امریکہ میں جو رنگ ونسل کا تعصب تھا اسکی مثال مشکل سے ملے گی۔ لیکن آفریں کہ اس ہی قوم نے ایک سیاہ فام کو اپنا دو مرتبہ صدر منتخب کرکے اپنی غلطی کا اعترف کیا ہے۔ ہماری قوم اقوال سے مالامال ہے اور اعمال میں سفر ہیں۔

    ہندوستان میں بریلوی، دیوبندی، اہلِ حدیث، شیعہ ، سنی، ہندو، سکھ، عیسائ، کمیونسٹ سب ہی رہتے ہیں۔ لیکن وہاں مسلمان عید، بقرعید، محرم، میلادالنبی کھل کر مناتے ہیں۔ وہاں ان ایام کی چھٹی ہوتی ہے اور جلسے جلوس سب ہی کچھ ہوتے ہیں۔ سعودی عرب میں میلادالنبی تک کی تعطیل نہیں ہوتی۔

  2. آستیں میں ہم نے پالے سانپ ہیں
    ہےحقیقت اپنے دشمن آپ ہیں

  3. ہاں میں تم سے متفق ہوں اور یہ سب اس لیئے ہو رہا ہےکہ ہم میں برداشت نہیں رہی ۔۔۔ ہم نے ادوسروں کو تحمل سے سننا چھوڑ دیا ہے ۔۔ ہم نے ایک دوسرے کو رستہ دینا چھوڑ دیا ہے ۔

    پاکستان کو جہاں اندورن خانہ بے شمار مسائل ہیں وہیں اس کی بقا پر بے شمار خطرات بھی منڈدلا رہے ہیں ۔ اور اس پر فکری انتشار۔۔۔ خدمت الناس کے جذبے سے عاری۔۔۔ اور عدم برداشت کی عادی بیوروکریسی اور کرپٹ ٹیکنوکریسی۔۔۔ مجرمانہ تغافل۔۔۔ ثقافتی بدحالی ۔۔۔ ثقافتی روایات میں تبدیلیاں ۔۔۔ محبت، یگانگت، انسیت اور اپنائیت کا فقدان۔۔۔ مختلف قومیتوں کا ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا۔۔۔ لسانی گروہ بندی۔۔۔ علاقائی عصبیتیں۔۔۔ صوبائی تعصب بازی ، ذات، برادری، علاقی تفاوت۔۔۔ رنگ اور نسل کی بنیاد پر عدم برداشت اور تعصب۔۔۔ مذہبی رہنماؤں اور تنظیموں میں عدم برداشت کا رجحان۔۔۔ مذہبی فرقہ واریت اور دہشت گردی کا رجحان۔۔۔ اتحاد بین المسلمین کا فقدان۔۔۔ اسلام دشمن اور ملک دشمن عناصر اور تنظیموں کا منفی کردار۔۔۔۔ دلوں پر نفرتوں کا بوجھ۔ ۔۔ دماغوں پر آلودگیوں کا انبوہ۔۔۔ منافقت کے لبادے۔۔۔ اغوا، قتل، اغوا برائے تاوان، ڈاکے، بھیانک جرائم۔۔۔ سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کا قتل۔۔۔ عصمت دری، خانہ سوزی، جسم سوزی۔۔۔ گولیوں کی گھن گرج۔۔۔ ۔۔ سوچیئے تو عدم برداشت کی وجہ سے مسلمانوں نے کیا کیا نہ کھویا ہے ۔۔

  4. انسان انسان کا دشمن تو روز آفرینش سے ہے لیکن اب مسلہ یہ ہے کہ انسان خود اپنا دشمن ہو گیا ہے اور ہر رخ سے سرکشی اختیار کر لی ہے۔ سب سے زیادہ سرکش وہ مسجد و منبر کا محافظ ہے جو اپنے مفاد کے لیئے مبنی پر دروغ احادیث گھڑتا۔منافرت پھیلاتا اور مسلکی جنگ کو فروغ دیتا ہے۔ عذاب کی صورت یہ ہے کہ ایسے ملاں مولویکے پیروکار شیطان کے چیلوں سے بھی زیادہ ہیں اور یہ عالم دین کا نام استعمال کر کے دین سے نفرت پیدا کروا رہا ہے۔ یہ عدم برداشت بھی تو اسی کی پیدا کردہ ہے اور عام مسلمان کی غالب اکثریت خود کم علم اور علم دین سے عاری ہونے کی وجہ سے اس طبقے کی یرغمال بنی ہوئی ہے۔ دور امیہ سے آج تک جھوٹے فتوے دینے والے مفتیوں کی کب کمی رہی ہے۔ انہی مفتیوں نے ہی تو نعوذ باللہ امام حسین کو باغی قرار دیا تحا

  5. نہیں دشمن کوئی بھی صرف اپنی ذات دشمن ہے
    کہ دل سے خوفِ رب دنیا ہمیشہ ہی مٹاتی ہے
    مگر سمجھے جو ایماں کو وہ سارے راز کو سمجھے
    ہے تعلیمِ نبی جو دشمنوں کو دوست بناتی ہے

    عالم آرا

  6. اسّلام علیکم محترم ساتھیو ں ،

    ڈئر شاہین مظلوم کو روز محشر ظالم سے زیادہ سزا کی نوید ہے کہ اس نے ظا لم سے پنجہ آزاما ئ کر کے اپنی نجات کا راستہ کیوں نہیں تلاش کیا

    صفدر بھیّا نے بجا فرمایا ،،،انسان انسان کا دشمن تو روز آفرینش سے ہے لیکن اب مسلہ یہ ہے کہ انسان خود اپنا دشمن ہو گیا ہے اور ہر رخ سے سرکشی اختیار کر لی ہے۔
    اتحاد بین المسلمین کا فقدان۔۔۔ بیٹی نگہت نسیم نے کوزے میں دریا سمیٹ دیا ہے

    محترم بھیّا شمس جیلانی نے بلکل حسب حال شعر کہا ہے

    آستیں میں ہم نے پالے سانپ ہیں
    ہےحقیقت اپنے دشمن آپ ہیں

    بھیّا ظفر جعفری کا تمام استدلال اپنی جگہ درست ہے
    لیکن ان تمام برائیوں کی بنیاد ہمارے اپنے اوپر ہے کہ ہم نے جب خدا کی رسّی کو چھوڑ دیا تب سے ہمارے اوپر ہمارے وطن کی زمین تنگ ہو گئ ،عیش پرستی نے ہم کو خدا سے دور کیا تو ہم عذاب در عذاب میں مبتلا ہو گئے اور اس طرح سے گھیرے گئے ہیں کہ نجات کی صورت ممکن نہیں نظر آرہی ہے
    اب تو خد ا ہی ہمیں توفیق دیگا تو اس بحران سے نجات کا سامان ہو سکے گا اور ہم حقیقی معنوں میں اپنے اور پرائے کے دوست بن سکیں گے

  7. باغی ہی نہیں انہیں نعوز باللہ سلطنت پر حکمرانی کا لالچی بھی کہا ۔۔ اور یہی تک نہیں بلکہ شہدائے کربلا کی وجہ بھی انہی کو ٹھہرایا جاتا ہے اور اس طرح ان کے کرردار کشی اور پیغام کربلا کو مٹانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔ پھر یہی سوچ کتابوں کی اشاعت کی صورت نسل در نسل پھیل رہی ہے ۔۔۔

    اس طوفان ک وروکنے کے لیئے ہر محاز پر امتحان ہے !

  8. ظفر بھائی کی یہ بات سو باتوں کی ایک بات کے مصداق ہے “ جو بھی قوم احترامِ انسانیت کو چھوڑ کر انسان کو مذہب، فرقہ، زبان، رنگ ونسل، علاقوں میں بانٹتی ہے اُس کا یہی حشر ہوتا ہے جو ہمارا ہورہا ہے۔ “

  9. ۔
    “ جو بھی قوم احترامِ انسانیت کو چھوڑ کر انسان کو مذہب، فرقہ، زبان، رنگ ونسل، علاقوں میں بانٹتی ہے
    اُس کا یہی حشر ہوتا ہے جو ہمارا ہورہا ہے۔ “
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بالکل سو فیصد درست ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور اس کے ذمہ دار صرف مولوی ، ذاکر اور سیاستدان ھی نہیں ھیں بلکہ اس کا سب سے بڑا محرک خود ھماری
    کم علمی اور غلامانہ سوچ ھے ۔ اکثریت عوام کیوں قرآن کو ترجمہ کے ساتھ پڑھنے کی زحمت نہیں کرتی ؟
    کیا اس وجہ سے کہ قرآن نے انسان کو اگر اشرف المخلوقات کہا ھے تو اس کی پست حرکتوں اور ھوس پسندی کے
    باعث اس کو اسفل السافلین بھی کہا ھے ۔۔۔۔۔۔ اور افسوس کہ مسلمان اسفل السافلین والی حرکتیں کر کے بھی چاھتا ھے
    کہ کوئ ملا ، کوئ ذاکر ، کوئ سیاستدان اس کو یہ تسلی دلا دے کہ وہ ان حرکتوں کے باوجود حق پر ھے۔اور ایسی
    حرکتیں کرتا ھوا مارا بھی گیا تو شہید ھے۔ ۔ ۔ ۔
    بس یہ قوم نےسا نفسی اور شیطانی حرکتوں کے باوجود صرف شہادت کا وہ والاخطاب چاھتی ھے جو اس کو اللہ
    سے نہیں بلکہ اپنے مذھبی اور سیاسی لیڈر سے عطا ھوتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ھم نے اسی منفی سوچ اور رویۓ کو ختم کرنا ھے ۔

  10. بھائ چارگی سے بے چارگی تک
    اس بلاگ میں شرکت کے لیے اپنے تمام ادبی فکری اور قلمی احباب کی شکرگذار ھوں کہ اپنی اتنی بیش قیمت تحاریر سے اس بلاگ کو مزین کیا
    اچھے بھائ ظفر جعفری سلامت رھیں
    آپکی تحریر کردہ ان سظور کو بار بار پڑھا
    ھماری قوم اقوال سے مالا مال ھے
    اور اعمال میں صفر ھے

    اور حاکمان وقت کے بارے میں کیا کہتے ھیں ؟
    ھماری قوم بری نیہں ھے اور باعمل بھی مگر ھمارے حکمران مخلص نیہں ھیں
    اپنے پر تعیش جگمگاتے محلات میں بھٹیکر کیسے انکو غریب عوام کے مسائل کے بارے میں پتہ ھوسکتا ھے
    ھمارے سیاست دانوں کی نادانی کی وجہ سے
    درھم و ڈالر سے پیار کی وجہ سے ھم پر مصائب و مصبیتں آرھی ھیں اور ان
    ھم تو 14 اگست 1947 ھی سے دشمنوں کی نظروں میں کھٹکتے تھے
    اور ابتداء میں جو قومی جذبے سے معمور قوم تھی وہ تو امت مرحومہ ھوگی
    ھم سب جانتے ھین کہ ھمارے دشنموں کی کمی نیہں ھے
    یہ صرف ھمارے ھی نیہں ھماری قوم کے دشمن ھیں
    ھمارے دین کے دشمن ھین
    ھمارے وطن کے دشمن ھین
    ھماری سلامتی کے دشمن ھین
    اور ھم نے فرقہ بندی میں منقسم ھوکر اپنے اور اسلام کے دشنموں کا کام آسان کردیا ھے

    ھماری ترقی کے دشمن ھیں
    ھمارے خوش حالی کے دشمن ھیں
    ھماری قومی یکجہتی کے دشمن ھیں
    ھمارے نوجوانوں کے دشمن ھیں

  11. ھمارے قابل صد احترام مفکر مدبر اور بہت محترم جناب شمس جیلانی صاحب اسلام علیکم
    اس بلاگ کی قدر وقیمت بڑھ گی

    آستیں میں ہم نے پالے سانپ ہیں
    ہےحقیقت اپنے دشمن آپ ہیں

    سانپ تو انسانی دشمنی کے لیے مشہور ھے
    اور خاص کر آستین والے سانّپ بڑے خطرناک ھوتے ھیں
    انسان سانپ سے بچ سکتا ھے مگر آستین والے سانّپ کا ڈسا پانی بھی نیہں مانگتا ھے

  12. اچھی اور بہت ھی پیاری بہن اور عزيز ڈاکٹر نگہت نسیم سلامت رھو
    اچ تم سے بہت دنوں کے بعد بات ھوئ
    تم ڈاکٹر ھو اور بہت اچھی ڈاکٹر ھو
    جسکا سب اعترا ف کرتے ھیں تم اس لیے بھی منفرد ھوکہ بیک وقت ڈاکٹری کی ایک سے زائد
    شاخوں پر دسترس ھے

    اور ایسی ڈاکٹر جو اپنے منفرد اسلوب سے اپنے مریضوں کو درد سے نجات دلانے کا ھنر جانتی ھے

    اللہ ھماری قوم کو بھی کوئ مسیحاء عطا فرماۓ جس کے دل میں قوم کا درد ھو آمین ثم آمین

    پاکستان کو جہاں اندورن خانہ بے شمار مسائل ہیں وہیں اس کی بقا پر بے شمار خطرات بھی منڈدلا رہے ہیں ۔ اور اس پر فکری انتشار۔۔۔ خدمت الناس کے جذبے سے عاری۔۔۔ اور عدم برداشت کی عادی بیوروکریسی اور کرپٹ ٹیکنوکریسی۔۔۔ مجرمانہ تغافل۔۔۔ ثقافتی بدحالی ۔۔۔ ثقافتی روایات میں تبدیلیاں ۔۔۔ محبت، یگانگت، انسیت اور اپنائیت کا فقدان۔۔۔ مختلف قومیتوں کا ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا۔۔۔ لسانی گروہ بندی۔۔۔ علاقائی عصبیتیں۔۔۔ صوبائی تعصب بازی ، ذات، برادری، علاقی تفاوت۔۔۔ رنگ اور نسل کی بنیاد پر عدم برداشت اور تعصب۔۔۔ مذہبی رہنماؤں اور تنظیموں میں عدم برداشت کا رجحان۔۔۔ مذہبی فرقہ واریت اور دہشت گردی کا رجحان۔۔۔ اتحاد بین المسلمین کا فقدان۔۔۔ اسلام دشمن اور ملک دشمن عناصر اور تنظیموں کا منفی کردار۔۔۔۔ دلوں پر نفرتوں کا بوجھ۔ ۔۔ دماغوں پر آلودگیوں کا انبوہ۔۔۔ منافقت کے لبادے۔۔۔ اغوا، قتل، اغوا برائے تاوان، ڈاکے، بھیانک جرائم۔۔۔ سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کا قتل۔۔۔ عصمت دری، خانہ سوزی، جسم سوزی۔۔۔ گولیوں کی گھن گرج۔۔۔ ۔۔ سوچیئے تو عدم برداشت کی وجہ سے مسلمانوں نے کیا کیا نہ کھویا ہے ۔۔

    بڑے غور وفکر کی بات ھے

  13. محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب
    سلامت باشد آغائ

    انسان انسان کا دشمن تو روز آفرینش سے ہے لیکن اب مسلہ یہ ہے کہ انسان خود اپنا دشمن ہو گیا ہے اور ہر رخ سے سرکشی اختیار کر لی ہے۔ سب سے زیادہ سرکش وہ مسجد و منبر کا محافظ ہے جو اپنے مفاد کے لیئے مبنی پر دروغ احادیث گھڑتا۔منافرت پھیلاتا اور مسلکی جنگ کو فروغ دیتا ہے۔ عذاب کی صورت یہ ہے کہ ایسے ملاں مولویکے پیروکار شیطان کے چیلوں سے بھی زیادہ ہیں اور یہ عالم دین کا نام استعمال کر کے دین سے نفرت پیدا کروا رہا ہے۔ یہ عدم برداشت بھی تو اسی کی پیدا کردہ ہے اور عام مسلمان کی غالب اکثریت خود کم علم اور علم دین سے عاری ہونے کی وجہ سے اس طبقے کی یرغمال بنی ہوئی ہے

    کتنی پتے کی بات لکھی ھے
    یہ ایک دانشور کے قلم سے نکلی ھوئ پر اثر سطور ھیں
    اور ھر دل پر اثر کرتی ھیں

    کاش مسلم علم سے محبت کرے
    علم کی جستجو کرے ‘
    عالم کی صحبت میں بھیٹے اور اپنی ان کم زوریوں کو دور کرے
    اندھیرے سے روشنی کی طرف قدم بڑھاۓ

  14. انسان بینادی طور پہ حیوانی جبلت رکھتا ہے جب ہم انڈیا مین تھے تو ہم یہ کہہ کہ جدا ہوئے کہ ہندو مسلم کبھی ایک دوسرے کے ساتھ نہین رہ سکتے مسلمانوں کو ایک الگ وطن چاہیے اور جب اسلام کے نام پہ الگ وطن مل گیا تو اب وہی ھیوانی جبلت اسے مجبور کر رہی ہے کہ فقہ کے نام پہ بے گناہ افراد کا خون بہایا جائے یہ سوشل اینیمل تو اینیمل سے بھی زیادہ وحشی ہوتا جارہا ہے

  15. اچھی بہن عالم آراء خوش رھیں سلامت رھیں ھمشیہ سلامتی کی دعاوں کے مضبوط حصار میں رھیں انشا اللہ
    آپکی سادگی سے لکھی کہی بات اچھی لگتی ھے اور آپ جس طرح دردمندی سے اصلاح مملکت خداداد کے بارے میں سوچتی اور لکھتی ھیں
    وہ اچھا لگتا ھے
    نہیں دشمن کوئی بھی صرف اپنی ذات دشمن ہے
    کہ دل سے خوفِ رب دنیا ہمیشہ ہی مٹاتی ہے
    مگر سمجھے جو ایماں کو وہ سارے راز کو سمجھے
    ہے تعلیمِ نبی جو دشمنوں کو دوست بناتی ہے

    عالم آرا
    ھم بے عمل ھو کر رہ گیے ھیں اس لیے ذلیل و خوار ھو رھے ھیں
    اللہ کے بجاۓ کسی اور کو ان داتا مانتے ھیں
    اسی لیے ھمارا دشمن ھمارے گھر کے اندر آکر ھماری پٹائ کرتا ھے اور ھمارے لوگوں کو مارتا ھے
    2010 میں دینا بھر میں مسلمانوں کی تعداد6۔1بلین تھی اب اور بھی بڑھ گی ھوگی
    دینا کی آبادی کا41۔23 سے زائد حصہ ھیں
    اللہ پاک مسلم امہ کو ھدایت عطا فرماۓ آمین
    امت محمدی کو ھماری زندگی میں عروج ودوام حاصل ھو

    آمین ثم آمین

  16. بہت پیاری بہن شاھین خوش رہو
    جب سے ہم نے گناہ ثواب اپنے ہاتھوں میں لے لئے ہم ان نفرتوں کا شکار ہو گئے ۔ میں دیکھتی ہوں آج کل ایک دوسرے کی کاٹ ،مخالفت اور تزلیل کے سوا کوئی بات نظر نہیں آتی ۔ خود کو پارسا سمجھنا اور دوسروں کوہر بربادی کا زمہ دار ٹہرانا ہمارے درمیان دوریاں پیدا کر رہا ہے ۔
    مسلمان کا تو کام ہی یہ ہونا چاہئے کہ وہ محبتوں کو فروغ دے اور نفرتوں کو مٹانے کی کوشش کرے مگر ہمارے یہاں الٹا معاملہ ہے ۔ہم تقریر کریں جب ہم تبلیغ کریں جب، ہم وعظ دیں جب ہمارا موضوع ہی دوسرے کی مخالفت ہوتا ہے ۔کیونکہ اسکے بغیر شاید کوئی سنتا نہیں یا ہم سنانا نہیں چاہتے کہ اگر سب آپس میں ایک ہوگئے تو یہ مخالفت پھیلانے والے جائینگے کہاں ۔
    اللہ ہم مسلمانوں پر رحم کرے اور ہمیں ایک دوسرے کا دوست بنا دے آمین ۔
    عالم آرا

  17. اقوال تو ہر قوم کے چھوتے ہیں فلک کو
    اعمال کی دولت تو مگر کم ہی ملی ہے
    ظفر جعفری

  18. اچھی زائرہ بجو اسلام علیکم
    کل رات بہت دیر تک اس کوشش میں لگی رھی کہ لیپ ٹاپ تھوڑا سا ٹھیک ھوجاۓ تو آپ سب کا فردا فردا شکریہ ادا کروں
    خاص کر آپکا کہ اپنی محرم کی مصروفیات میں سے آپ نے وقت نکالا ھے آپکی فکری اور قلمی شرکت کے لیے ممنون ھوں بجو

    جب بھی لکھنے کی نیت سے بھیٹی تو حروف کی جگہ ڈبے ھی نظر آۓ تو مجھے بہت ھی کوفت ھوئ اور پھر میں نے ھم سب کی بہت پیاری دوست اور عزيز بہن ڈاکٹر نگہت نسیم کے کالم پر مشتمل کتاب کا مطالعہ شروع کردیا
    ھر درد مند پاکستانی کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاھیے

    اچھے بھائ ظفر جعفری خوش رھیں
    اقوال تو ہر قوم کے چھوتے ہیں فلک کو
    اعمال کی دولت تو مگر کم ہی ملی ہے
    ظفر جعفری
    بہت خوب اچھے بھائ
    آپکے اشعار اچھے لگے ھیں شرکت کے لیے ممنون ھوں
    نادیہ بخاری
    خوش رھو
    انسان کو سماجی جانور کہا گیا ھے
    اب یہ پالتو جانور وحشی ھوچکا ھے
    اور اسکی وحشت اور بربریت کے نمونے دیکھہ کر دل دکھتا ھے
    اپنے پیارے وطن کا احوال دیکھہ کر اور دل خون کے انسو روتا ھے
    اللہ رحم فرماۓ کرم فرماۓ آمین ثم آمین

  19. آغائ سلام باشد
    ارے نیہں ایسی کوئ بات نیہں ھے
    میں کویت میں رھتی ھوں اور جاب بھی کرتی ھوں
    اللہ کا لاکھہ لاکھہ شکر ھے کہ ھر خواھش پوری ھوجاتی ھے مجھے اپنے لیپ ٹاپ سے اس لیے بہت انسیت ھے کہ کافی سال پہلے جب میرابھائ میرا دلارا بھائ صفدر رضا رضوی کویت آیا تھا تو اس نے مجھے جاتے ھوۓ ٹو شیبا کا لیپ ٹاپ گفٹ کیا تھا
    جو اس وقت 500 دینار کا ایا تھا
    تو مجھے یہ بھی علم ھے کہ اتنی بڑی رقم سے پاکستان میں اس کے بہت سارے کام ھوجاتے مگر اس نے میرا پڑھنے لکھنے کا شوق دیکھا اور مجھے اتنی بیش قیمت چیز گفٹ کی
    یہ اور بات کہ عادل کی زندگی میں اس لیٹ ٹاپ کو بطور کافی ٹیبل استعمال کیا جاتا رھا تھا
    اور اس کی وجہ سے ٹرکش کافی مزے کی لگتی تھی
    ھاھاھاھا
    اور اللہ پاک آپکو صحت و تندرستی عطا فرماۓ عمر طویل عطا فرماۓ آمین ثم آمین
    آپکی شفقت کا سايہ ھمارے سروں پر قائم رکھے آمین
    دعا کی برکت سے میرا لیپ ٹاپ بھی کھبی کبھی اچھی کارکردگی کا مظا ھرہ کرتا ھے
    اور اللہ نے آپکو بے حد اور بے تحاشہ ھمت عطا کی ھے
    میرے گھر کی دیوار وں پرلگی آپکی دعايئں مجھے آج بھی مضائب کی سخت دھوپ سے محفوظ رکھتی ھیں
    اور
    دعاوں کی اتنی مضبوط چھت صرف اور صرف قسمت والوں کو میسر آتی ھے
    اللہ پاک دعا گو لوگوں کو سلامت رکھے آمین ثم آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *