السلام علیکم
پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان سے متواتر گھریلوں ملازمین اور خصوصا ملازم بچوں اور بچیوں پر تشدد بلکہ بدترین تشدد کی خریں آ رہی ہیں ، اور کچھ واقعات میں ملازم بچیوں کی عصمت دری بھی کی گئی ہے ، اور یہ تمام واقعات پڑھے لکھے بلکہ ہائی فائی سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ہاتھوں پیش آئے ہیں اور ملازم بچوں پر تشدد کے ان واقعات میں صرف مرد حضرات ہی نہیں بلکہ خواتین بھی ملوث پائی گئی ہیں بلکہ اکثر واقعات میں خواتین ہی ملوث پائی گئی ہیں ۔
کیا ہم لوگ بحیثت قوم اپنی اقدار مکمل طور پر کھو چکے ہیں ؟
کیا یہ بھی ایک قسم کی شدت پسندی نہیں ؟
یا یہ کوئی نفسیاتی مسئلہ ہے ؟
آصف احمد بھٹی

بہت ہی اہم مسئلہ ،جس میں معصوم پھول بے رحمانہ طریقے سے مسل دئے جاتے ،،ابھی چند روز پہلے روزنا مہ جنگ نے ایک دس برس کی معصوم کلی ناصرہ کے قتل کی خبر دی تھی جس کو دودن تک اس کی مالکہ نےاسے باندھ کر بھوکا پیاسا رکھّا اور اتنا مارا کہ وہ بچّی جان سے گزرگئ
پھر ایک اور خبر اسی اخبارمیں دس برس کا پھول جو ڈیفنس میں اپنے ڈاکٹر مالک کے ہاتھوں بالائ منزل سے پھینک کر ہلاک کر دیا گیا ،،
یہ دردناک سفّاکی ایک سخت قانون کی متقاضی ہے
اپنے آپ کو برتر اور دوسرے کو کمتر بلکہ کمی کمین سمجھنا سب سے بڑا نفسیاتی اور نفسانی مرض ہے۔ یہ مرض صرف گھروں میں ہی نہیں، دفتروں اور سڑکوں پر بھی اپنا رنگ دکھاتا ہے جہاں ایک خود پسند افسر کسی کو آگے بڑھتا نہیں دیکھ پاتا اور ٹیلنٹ کا گلا گھونٹتا ہے۔ سڑک پر بڑی گاڑی والا چھوٹی گاڑی والے کو انسان نہیں سمجھتا۔ کچھ دن پہلے ٹیکسلا میں ایک شخص نے صرف اوورٹیک کرنے پر ایک چھوٹی گاڑی والے کو قتل کردیا تھا۔
قصہ مختصر یہ کہ آج کے مسلمان بالخصوص پاکستانی مسلمان نے اپنے لئے ڈیڑھ ہزار برس پہلے والا طرزِ زندگی پسند کیا ہے جہاں
کبھی پانی پلانے پہ جھگڑا
کبھی گھوڑا اگے بھگانے پہ جھگڑا
بھٹی صاحب
کیا ہم لوگ بحیثت قوم اپنی اقدار مکمل طور پر کھو چکے ہیں ؟
جی ہاں مسملمان یہ اقدار 41 ہجری سے کھو چکے ہیں۔
لاہور: ملازم یا ملازمہ کے نام پر بچوں اور بڑوں کو غلام یا کنیز بنا کر رکھنے کی دین اجازت دیتا ہے یا نہیں؟ مساجد کے اماموں کو چاہیے کہ اس مسئلے کو اپنے خطباتِ جمعہ کا موضوع بنائیں کیوں کہ حکومت کو فی الحال حکومت کرنے سے فرصت نہیں۔ رواں ماہ پنجاب کے دارالحکومت میں تین ملازمائیں تشدد کا نشانہ بناکر مار دی گئیں۔
شمالی چھاؤنی کے علاقے عسکری 10 کے رہائشی الطاف نے اوکاڑہ کی ایک غریب خاتون زبیدہ کی دس سالہ بیٹی اِرم کو تین ہزار روپے ماہانہ پر گھر میں ملازم رکھا تھا۔ ایک موقع پر گھر سے مبینہ طور پر تیس ہزار روپے غائب ہوگئے۔ خاتون خانہ ناصرہ کو ارم پر شک گزرا اور اس نے معصوم بچی کو برفا دینے والی سردی میں صحن میں کھڑا کیے رکھا، باپ تو دنیا ہی میں نہ تھا کہ سر پر دستِ شفقت رکھتا، ماں بھی پاس نہ تھی کہ اس کی نرم گرم گود میں جا چھپتی، در دور تک کوئی ایسا بھی نہیں تھا کہ ظالم کا ہاتھ روکتا، ننھی سی بے بس بچی لامحالہ اس وقت تک فریاد کرتی رہی ہوگی جب تک اس میں سکت تھی لیکن کب تک، ایک وقت آیا ہوگا جب وہ تیورا کر گری ہوگی، سنگ دل مالکہ کے ہاتھ تب بھی نہ رکے ہوں گے حتیٰ کہ بے بس بچی کی حالت غیر ہوگئی ہوگی تو اسے قریبی سرکاری اسپتال پہنچا دیا لیکن ننھی ارم کی روح بے حسوں کی اس دنیا سے تب تک ناراض ہوکر اپنے خالق کے حضور شکایت لے کرپہنچ گئی۔
پولیس نے بچی کی نعش قبضے میں لی، الطاف، اس کی فرعون عورت ناصرہ اور بیٹے عامر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرکے گرفتار کرلیا۔ مقتولہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ وہ بیوہ ہے، رزق کی تنگی کے باعث اس نے اپنی بچی کو الطاف کے گھر ملازمہ رکھوایا تھا۔ ملزم الطاف نے پولیس کو بیان دیا کہ اس کی بیوی ذہنی مریضہ ہے۔ ملزمہ ناصرہ کا بیان ہے ’’گھر میں پہلے بھی دو تین بارچوری ہوچکی تھی، حالیہ وقوعہ پر میں نے ارم سے پوچھا تو وہ حیلے بہانے کرنے لگی، میں نے طیش میں آکر اسے مارا تاہم مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ مرجائے گی‘‘۔ یہ خاتون، جو اپنے شوہر کے دعوے کے مطابق ذہنی مریضہ ہے، اپنے بیٹے عامر کو شاید ’’تتی وا‘‘ کا لگنا بھی برداشت نہ کر پاتی ہو۔
اس المیے کی بازگشت ابھی فضا میں تھی کہ فیصل ٹاؤن کے علاقے میں کپڑے کے تاجر شیخ شوکت کے گھر سے سولہ سالہ ملازمہ عذرا کی پھندہ لگی نعش برآمد ہوگئی، ابتدائی بیان میں اہل خانہ نے کہا کہ بچی نے خودکشی کی ہے تاہم تفتیش میں کھلا کہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس پر پولیس نے شیخ شوکت اور اس کے تینوں بیٹوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے تو شیخ شوکت کے بیٹے عاصم کی کارستانی نکلی، جس نے اعتراف جرم بھی کرلیا۔ مقدمہ عذرا کے اہل خانہ کے بیان پر درج کیا گیا۔
ابھی یہ زخم بھی تازہ تھا کہ تیسرا سانحہ رونما ہوگیا۔ مقامی کالج کے پروفیسر سلمان رفیق نے گھریلو ملازمہ فضا بتول کو تشدد کا نشانہ بناکر شدید مجروح کردیا، طبی امداد کے لیے اسے بھی عین آخری دم پر اسپتال پہنچایا گیا، جہاں وہ اگلے دن پڑھے لکھے ابوجہلوں کے سماج سے منہ موڑ گئی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچی کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ پولیس نے ’’پروفیسر صاحب‘‘ کو گرفتار کرلیا اور بچی کی بے کس و بے خانماں ماں کے بیان پر مقدمہ درج کیا۔
تینوں مقدمے زیر سماعت ہیں۔ سی سی پی او لاہور چوہدری شفیق احمد کا کہنا ہے کہ پولیس متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی تک کوشاں رہے گی۔
( بشکریہ – ایکسپریس نیوز )