آيئے آج دل کی بات کریں

heart
بہت دنوں سے سوچ رھی تھی کہ آخر دل میں گاھے بگاھے جو ٹیس سی اٹھتی ھے
اس کا سبب کیا ھے
دل جو ھمارا سب سے قیمتی عضو جسم ھے
دل سلامت ھے تو انسان سلامت ھے
دل میں کچھہ گڑبڑ ھوتی ھے تو پھر راتوں کی نیند اڑ جاتی ھے
زندگی کے روز و شب بدل جاتے ھیں
خدارہ اپنے دل کی دھڑکنوں کا حساب کتاب رکھیں
دل کے درد کو کسی تکیلف کو کھبی نظر انداز نہ کریں
اپنے دل کو عزيز رکھیے کہ دل زندگی ھے
دل ھی ھے نہ کہ سنگ خشت
درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ھم ہزار بار
کوئی ھمیں رلائے کیوں.
اور خوش رھیں کہ خوشی ھی دل اور زندگی کی ضمانت ھے
اور سچی خوشی صرف اللہ سے محبت کرنے سے ملتی ھے
اپنے آپ سے محبت کریں ‘
اپنے دل سے محبت کریں
اللہ سے محبت کریں
اللہ کے بندوں سے محبت کریں
میرا پیغام محبت ھے جہاں تک پہنچے

23 thoughts on “آيئے آج دل کی بات کریں”

  1. بہن میں نے جہاں تک پڑھا ہے درد جسم کے کسی حصہ میں بھی وہ قدرت کی طرف سے جگانے مترادف ہے کہ اس حصہ جہاں درد ہو رہا ہے کچھ خرابی ہے جبکہ دلکا درد بائیں ہاتھ میں ہوتا. یہ تو ہوئی دل کی طبی توضیح .
    جبکہ شاعرانہ توضیح غالب نے کی ہے کہ یہ دل ہی تو ہے نہ سنگ خشت درد سے بھر نہ آ ئے کیوں

  2. اہلِ دل قتل ہر اک دور میں ہوجاتے ہیں
    اور قاتل کو سژا ہو یہ گوارہ ہی نہیں
    —–
    اس کوئے محبت میں جو کھو جائے کہیں دل
    واپس نہیں ملتا یہ اگر اور مگر سے
    ظفرجعفری

  3. یادیں

    ایک مٹھی میں اپنے دن رات رکھنا
    ایک مٹھی میں تمہیں چھپا رکھنا
    ہائے
    کتنا دشوار ہوا
    خود کو سنبھال رکھنا

    ڈاکٹر نگہت نسیم

  4. شمس بھائی سنیئے غالب کو چھوڑیئے بے حد فارغ انسان تھا کوئی کام نہیں شاعری کے سوا یا آم کھانے کے علاوہ ..

  5. السلام علیکم
    نگہت آپی ! چاچا غالب اب اتنے بھی فارغ نہیں تھے ، اُنہوں نے شاید ایک عدد شادی بھی کر رکھی تھی ۔

  6. میں حقیر فقیر۔۔۔۔گداگر نہیں فقیر۔۔۔۔۔کیا عرض کروں اہل علم وفضل و دانش کے درمیان۔ مجھے تو پہلے ہی اپنی کم علمی اور بے عملی کا خوف مارے جاتا ہے۔ای سو میل کے سفر کا آخری ایک میل ہی تو تھکا دینے والا ہوتا ہے اور اسی ایک میل پر سو میل کا دارومدار۔
    آج قدرے خوش ہوں کیونکہ بقول ڈاکٹر نگہت نسیم کے جس دن میں خوش ہو گیا تو سمجھو کہ قیامت آ گئی۔ اسی لیئے قدرے خوش ہوں کہا ہے۔ اس لیئے قیامت تو نہیں آنے والی۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم پہ اب جو بھی قیا مت گزرے ۔۔۔۔ تری دنیا تو سنور جائے گی
    خوشی اس بات کی کہ اس عہد میں معجزہ ہوتے دیکھا ہے اور کم باذن اللہ کا اثر آج بھی ہے تا ہم اس بار یہ کم باذن اللہ حضرت شمس جیلانی نے کہا ہے اور عالمی اخبار کے مردہ بلاگ کی پہلی سانس ہم سب کی دلاری شاہین رضوی کے اس بلاگ کی صورت میں سامنے آئی ہے۔
    اب موضوع اس بلاگ کا دل اور محبت ہے دونوں ایسے رسوا شدہ الفاظ کہ اللہ کی پناہ۔ اچھا کچھ وقت دیجئے سوچتے ہیں کہ کیا لکھا جائے۔
    فی الحال شاہین رضوی کو اس زندہ سانس لیتے بلاگ پر مبارکباد۔

  7. جان غزل یہ تیری محبت کا فیض ہے
    اس دل کی دھڑکنوں میں تسلسل نہیں رہا
    ۔۔۔
    لاؤں کہاں سے تیرے یقیں کے لیئے دلیل
    نکتہ کوئی بھی میرا مدلل نہیں رہا
    صفدر

  8. شہر دل کا تجھے سلطان کیا ہے میں نے
    کیا کوئی اپنا ہی نقصان کیا ہے میں نے؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں ہو مطعون تو پھر سنگ اٹھاؤ مجھ پر
    آخری بار یہ اعلان کیا ہے میں نے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    روح پیمان تو یہ ہے کہ نہ پیماں ٹوٹے
    زندگی تجھ سے یہ پیمان کیا ہے میں نے
    ۔۔۔۔۔۔
    میں سزاوار ہوں مجھکو ہے یہ الزام قبول
    شہر آباد تھا ویران کیا ہے میں نے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ محبت ہے صحیفہ کوئی احسان نہیں
    کب کہا تم سے کہ احسان کیا ہے میں نے؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چیر کے سینہ شب صبح کا سورج لایا
    پھر یہی سولی پہ اعلان کیا ہے میں نے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حق طلب اسلیئے کرتا ہوں کہ حق ہے میرا
    تم کو کیا اس پہ بھی حیران کیا ہے میں نے؟

    نام لکھ کر ترا اس لوح دل وجان پہ کیا
    اپنی تضحیک کا سامان کیا ہے میں نے؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اک نئی طرز کا دیوان لکھا ہے صفدر
    دل کے ہر درد کو دیوان کیا ہے میں نے

  9. اسکی قربت میں بھی اب کیوں دل ہے گھبرانے لگا
    کس لیئے اُس سے تعلق بوجھ بن جانے لگا
    میرے اندر وحشتوں کا شہر اک آباد ہے
    اپنے ہی سائے سے صفدر خوف اب آنے لگا

  10. ایک ہی وقت میں ایک ہی خیال کی لکھی تین مختصر نظمیں

    بے بسی

    ترے لطف و کرم نے
    میرے اندر
    عجب اک زہر سی بھر دی ہےجیسے
    مگر مرنا
    مرے بس میں نہیں ہے

    ہوا کے دوش پر رکھا دیا ہوں
    میں جل کر
    روشنی دینا بھی چاہوں
    مگر جلنا
    مرے بس میں نہیں ہے

    میں یوسف تو نہیں
    جو بک بھی جاؤں
    میں بکنا چاہوں بھی تو جان صفدر
    یہ بک جانا
    مرے بس میں نہیں ہے

  11. واہ واہ بلاگ میں چار چاند اور 3 روسی سورج ایک دم طلوع ھوگے ھیں تو یہ بھی محبت بھرے دل کا اعجاز ھے
    اور ھم اس مسخ شدہ محبت کی بات نیہں کررھے ھیں
    دل تو ایک انسان کے دل میں دھڑکتا ھے
    دل تو صحیفہ ھے
    دل تو آیات ربانی کا مرکز ھے
    دل پر ھی ایمان اور ایقان کی مہر لگائ جاتی ھے
    دل کی پاکیزگی ھی طہارت باطنی کا مصدر ھوتی ھے
    جناب والا
    مجھے خوشی ھے کہ اس بلاگ میں میری عزيز تر دوست نے غالب اور میرے اور غالب کے پسندیدہ ترین پھل کا ذکر کرکے میرے دل کو گارڈن گارڈن کردیا ھے
    اب نرم میھٹے مزیدار آموں کی روح پرور خوشبو میرے دل کو بیقرار کررھی ھے
    لیجیے
    درد کا نام ونشان ھی مٹ گیا ھے
    تھکن کس چڑیا کا نام ھے
    رنچ الم کیا ھوتا ھے
    دکھہ اور مایوسی بھی میرے پاس سے بھاگ گیے ھیں
    اچھا ھے دل کے پاس رھے پاسبان عقل
    لیکن کھبی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دو
    آصف بھائ
    غالب کو شادی نے دکھہ کے سوا اور کیا دیا
    آم کھا کر ھی وہ اپنے غم کو ھلکا کرتے تھے
    کیسے واضعدار لوگ تھے
    پھر اقبال کی طرح کبوتر کے بجاۓ شاعری کرتے تھے
    اور دینا بھر کے ستم سہہ کر بنت عنب سے دوستی کرتے تھے
    میں سوچتی ھوں کہ کیسے غم و محن ھوتے ھونگے جو ان پر ٹوٹے
    اور کتنے حوصلہ والا ھونگے
    غالب کو ھمارا سلام
    اور غالب کے ایک مشہور شعر کو محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کی نذر کرتی ھوں
    تم جیو ھزآر برس
    اور ھر برس کے دن ھو سو ھزار سال آمین ثم آمین

  12. شاہین آپی ! چچا غالب کو کیا دُکھ رہے ہونگے ، اُس زمانے میں نہ تو یوں کسی وبا کی طرح پھیلتی بے روزگاری عام تھی اورنہ ہی امریکہ کا ویزہ لگوانے کی مصیبت تھی ، نہ اسٹار پلس کے ڈراموں کی ماری بیگمات تھی اور نہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اشتہا انگیز اشتہارات کی بھر مار تھی اور نہ ہی انٹرنیٹ کا جھنجال ، البتہ دیگر درباری شاعروں کی ریشہ دوانیاں یقینا آج کے سیاست دانوں کی سیاست جیسی ہی رہی ہونگی ۔ اور پھر ممکن ہے کہ بنت عنب سے شناسائی کے لیے شاید یہی بات بہت رہی ہو ۔

  13. تو کیا محبت ھمارے عہد میں گم ھوجاۓ گی
    کیا محبت مرجاۓ گی ؟
    کیا دعا دینے والوں کو شہر چھوڑ دینا چاھیے
    دراصل آپ انھی کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاھتے ھیں جن سے آپ محبت کرتے ھیں جن سے آپکی روح کا کوئ تعلق ھوتا ھے
    انسان تو آيا گیا مگر ھزار برس تک اسکا نام زندہ رھے یہ تو اللہ کا انعام ھوتا ھے
    براۓ مہربانی اپنا موڈ ٹھیک کریں
    تاکہ ھم بھرپور طریفے سے آ آپ سبکی شفقت اور محبت تلے اس بلاگ کو تھوڑی دیر اور چلا سکیں
    اپنے بارے میں بتايئۓ
    آپکو کیا چیز پریشان کررھی ھے اور آپکے دل میں کیا ھے یہ آصف بھائ کا سوال ھے

  14. ک مٹھی میں اپنے دن رات رکھنا
    ایک مٹھی میں تمہیں چھپا رکھنا
    ہائے
    کتنا دشوار ہوا
    خود کو سنبھال رکھنا
    بہت خوب
    کیا عمدہ خیال ھے
    موگمبو خوش ھوا
    یہی تو شاعری ھے محض دو تین سطروں میں اتنی گہری اور خوبصورت بات کہنے کا سلقیہ تو کوئ تم سے سیکھے

  15. ایک تبصرہ پر یہی کہونگا-

    عالم اپنے علم پر پردہ ڈال سکتا ہے۔ جاہل اپنے جہل پر نہیں؟

  16. اسلام علیکم
    بہن شاھین آپ نے بھی کیا دل کی بات کی

    نرم دل سخت دل اور پتھر دل
    دل تو سارے دھڑکتے ایک طرح
    کوئی ہے جسم میں اندھیروں کے
    کوئی چمکے ہے روشنی کی طرح
    یہ بھی دل ہی ہے جو سمیٹے ہے
    دُکھ کو درد کو رِ دَا کی طرح
    دل ہی انسانیت کی ہے معراج
    دل ہی دیتا صدا ازاں کی طرح

    عالم آرا

  17. جب ساتھ چاہئے تھا دل نے دغا یوں دے دی
    کمزور ہوگیا اور دھڑکَن بے ربظ کر دی
    جس جس نے ساتھ چھوڑا برداشت کیا ہم نے
    اس ساتھ چھوٹنے نے نیند ہی حرام کر دی
    ہم تو لگے ہیں ہر دَم اب اس کی مِنتوں میں
    کچھ سال اور دھڑک لے تو نے تو حد ہی کر دی

    عالم آرا

  18. واہ ،واہ شاہین ڈئر!کیا چھانٹ کے موضوع لائ ہوکہ عالمی اخبار کے پلیٹ فارم پر سوئے ہوئے بھی ہڑبڑا کر جاگ اٹھے ہیں
    چلو میری جانب سے تمھارے بلاگ کی نذرمیری وہ شاعری ہے جس کو میں” جو ہے جیسا ہے “کی بنیاد پر پیش کرتی ہون ،جو پسند کرے اس کا بھی بھلا اور جو نا بھی کرے اس کا بھی بھلا ،

    میرے جذبات کے آنگن سے تمھارا بھی گزر ہو
    کبھی ایسا بھی تو ہو
    تم جو آؤ تو میں راہوں میں تمھاری
    دیدہءدل ہی بچھا دوں جانا ں
    یا کہوتو!
    گلستاں کے حسیں رنگ سجا دوں جاناں
    ایک بار!
    زرا آ کے تو دیکھو
    تم نے مانگی ہے محبّت کی نشانی مجھ سے
    کیا کہوں ،اور کیسے کہوں
    ایک تم ہی تو ہو
    میرے احساس تخّیل کے مکیں
    رہتے ہو سدا دل کے قریں
    پھر بھی مانگی ہے محبّت کی نشانی
    تم نے سوچا ہی نہیں
    جذبہء الفت بھی زمانے میں کہیں
    محتاج علامت بھی ہوا کرتا ہے
    نہیں ایسا تو نہیں
    ہاں!
    کہو تو دل صد چاک دکھا دوں تم کو
    کوئ موقع بھی تو دو
    بقلم خود

  19. ارے واہ واہ
    بچو پیاری کتنی سادگي سے اّّ پ نے محبت کی خوشبو کو لفظوں کے ژندان میں مقید کیا ھے
    آپ سبکی بلاگ میں شرکت کا کریڈٹ تو ھم سب کے عزيز برادر الکبیر محترم شمس جیلانی اور عزیز تر نیہں ڈاکٹر نگہت نسیم کو جاتا ھے
    مگر کیسے ایک آواز پر محبت کرنے والے قبیلے کے لوگ یکجآہ ھوۓ ھیں مجھے اس بات پر بہت فخر ھے
    اللہ پاک آپ سبکو سلامت رکھے ھمارا مان بڑھانے والے
    ھم کیہں بھی ھو
    ھمارے دلوں میں اللہ پاک ایک دوسرے کی محبت اور احترام کو ھمشیہ قا‏‏‏يم رکھے آمین ثم آمین

  20. میری پیاری بہن عالم آراء اللہ گواہ مجھے آپ بہت یاد آرھی تھیں
    کاش میرے پاس لفظوں کا خزانہ ھوتا تو میں بھی آپکی طرح شاعری کے سنہری کرنوں جیسے دلکش لفظوں سے اپنی محبت و احترام نظم و غزل کی صورت میں پیش کرتی
    مگر کوشش ضرور کرونگی کہ محبت واقعی بہت فیض یاب کرتی ھے اگر وہ صرف اور صرف عقیدت و اپنائيت کے بحر بیکراں سے جنم لیکر آتی ھے
    مجھے تو آپ سب نے نئی زندگی دی ھے دل ودماغ نظر فکر سب آفتاب و ماھتاب کی طرح روشن روشن
    اللہ پاک اس پاکیزہ روشنی سے ھمارے دلوں میں اجالا فرماۓ آمین

  21. اسلام علیکم
    بہت عزیز بہت پیاری بہن شاھین تم یاد کرو اور میں نہ اآؤں یہ تو ممکن نہیں .بس اکثر مجبوری مانع آجاتی ہے .
    میں بہت امیر ہوں کہ میرے پاس آپ جیسی بہنوں کی محبت کے خزانے ہیں ،
    اللہ میری تمام بہنوں کو اور بھائیوں کو صحت اور ذندگی دے خوشیاں دے اور پریشانیوں سے بچائے رکھے آمین .
    دل پر ہی ایک نظم لکھی تھی کچھ اشعار حاضر ہیں

    چُن رہی ہوں کرچیاں دل کی بہت سکون سے
    آبگینہ ہی تو تھا ٹوٹا تو کیا ستم ہوا
    چُبھ رہی ہے ایک ایک کرچی کہ جیسے تیر ہو
    بہہ گیا ہے تھو ڑا خونِ دل تو کیا ستم ہوا
    ہم نے ہر دُکھ کو سمیٹا ہے بڑے ہی پیار سے
    اب کے کچھ زیادہ قہر ٹوٹا تو کیا ستم ہوا
    عالم آرا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *