کیابلاگ بھی سورہاہے؟

میرے ذہن میں میں یہ خیال اس لیے آیا کہ پچھلے دنوں ایک اخبار نے یہ سرخی لگائی تھی ً سورج سو رہا ہے ً۔ جب میں نے اسے پڑھا تو پتہ چلاکہ جو سورج پر سرگرمیاں عام طور پر جاری رہتی ہیں وہ کچھ ماند پڑگئیں ہیں یعنی وہاں شعلہ باری وغیرہ نہیں ہو رہی ہے؟ اس کی وجہ تو خدا جانے جس نے سورج تخلیق کیا ہے یا پھر سائنسداں جانیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ان کو اس مضمون میں کچھ شد بد دی ہوئی ہے؟
لیکن بلاگ کو سوتا ہوا دیکھ کر مجھے تشویش ہو ئی کہ یہ اخبار کا معاملہ ہے، میں نے اس پر خامو شی کی وجہ جاننا چاہی اور جب غور کیا تو مجھے وہی خامیاں یہاں بھی نظر آئیں جو مسلمانوں کی عام زندگی کو گھن کی طرح کھا ئے جارہی ہیں۔ وہ ہے تقویٰ نہ ہونا۔
تقوے کی تعریف جو عالموں نے کی ہے وہ تو بہت طویل ہے۔ مگر جو میرے آقا نے (ص) فرمائی ہے وہ میں یہاں پیش کرد یتاہوں جو کہ مختصر ہوتے ہوئے انتہائی جامع ہے۔ وہ یہ ہے کہ “جس عمل میں( بظاہر) کوئی حرج نہ ہو (صرف مشکوک ہو) وہ بھی مومن اللہ کے خوف سے چھوڑدے تو وہ متقی ہے “
چونکہ مسلمان کا ہر فعل تقوے کے حصول کے لیے ہو تا ہے۔ لہذا ہم تھوڑی سی احتیاط بر تیں تو بلاگ میں بھی سر گرمی جاری رہ سکتی ہے؟ صر ف اتنا کریں کہ جب کر سر یا قلم ہاتھ میں پکڑیں تو غیر جانبدار ہو جائیں۔ اگر کوئی اچھا لکھتا ہے تو تعریف کریں غلط لکھتا ہے تواس پرکھل کر تنقید کریں چاہیں وہ میری تحریر کیوں نہ ہو؟ مگر تنقید برائے تنقید نہ ہو اور اسی طرح ستائش برائے دوستی نہ ہو؟ تاکہ کوئی دل بر داشتہ نہ ہو ؟ یعنی سیاسی وابستگی وغیرہ ایک طرف رکھدیں۔ اور بلاگ میں غیر ضروری طوالت سے اجتناب کریں کہ آجکل دنیا بہت مصروف ہے۔ لوگ طوالت سے بھاگتے ہیں۔

18 thoughts on “کیابلاگ بھی سورہاہے؟”

  1. شمس بھائی جزاک اللہ .. کہ کہیں سے تو صدا آئی ..
    ملکوں سے شہروں تک .. شہروں سے گھروں تک .. اور گھرکے رہنے والوں سے دوستوں تک کے رویوں میں ویرانی کی کئی وجوہات ہیں جو میں آپ کی خدمت میں بڑے بھائی ہونے کے ناطےپیش کرنا چاہتیہوں

    … اصل میں بات یہ ہے کہ شدت پسندی نے ایک عمومی رویہ اختیار کر لیا ہے . مجھے انتہائی دکھ ہوتا ہے جب نارمل بات چیت میں بھی یہی شدت پسندی در آتی ہے اور ایک دوسرے کی بات کوتحمل سے سسنے سے بھی گریزاں ہو جاتے ہیں . یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارا دشمن کوئی اچھی بات نہیں کہہ سکتا .. اگر کہہ سکتا ہےتو سنی کیوں نہیں چا سکتی .. اگر سنی جا سکتی ہے توسراہی کیوں نہیں جا سکتی .

    — ایک دوسرے کے بدلتے حالات کو قبول کرتے ہوئے انہیں پورا موقع دیا جائے کہ جب انہیں سہولت ہو ضرور آئیں اور جب آئیں ان کا استقبال اس طرح سے کیا جائے کہ وہ بار بار آنا چاہیں.

    .. اگر لکھتے وقت کسی سی تلخی یازیادہ ہو جائے ہمیں درگزر کر دینا چاہیئے اور تحمل سے ساتھ دیناچاہیئے .اور ان پر اپنا خیال واضح کرنا چاہیئے

    — فیس بک کی موجودگی .. نے بھی بہت فرق ڈالا ہے .. لیکن ہر ایک کو حق ہے کہ وہ اپنی خواہش کے مطابق اپنا وقت گزارے . ہمیں یہاں بھی منفی ہو کر نہیںسوچنا چاہیئے بلکہ دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کرنی چاہیئے .

    — موضوعات کے چناو پر دھیان دینا چاہیئے .. صرف ایک ہی بات وبار بار لکھنے سے دلچسپی کم ہو جاتی ہے . ہلکے پھلکے موضوعات پر بھی بات ہونی چاہیئے .

    — ہم سب کو کم از کم کم 5 افراد کو ضرور بلاگ پر لانا چاہیئے اور ان سے مثبت طرز سے بات کرنی چاہیئے اوران پر تنقید کرتے وقت بھی مثبت انداز کو اپنانا چاہیئے .

    — ہمیں اپنی بات غیر جانبدار ہو کر کرنی چاہیئے

    .. تعریف اور تنقید میں اعتدال کی راہ اپنائی جائے جیسا کہ آپ نے بھی مشورہ دیا .

    انشاللہ سب پھرسے ایکٹو ہوجائیں گے . اس وقت لگتا ہے سبھی مصروف ہیں . .. جس جس کی مصروفیات کم ہوتی جائیں پلیز آتے جایئے اور اپنا حصہ ڈالتے جایئے .

  2. عزيز اور بہت محترم جناب شمس بھائ صاحب اسلام علیکم
    اس وقت بلاگ میں تھوڑی سی خاموشی ھے اور اسکا سبب جو بھی ھو
    بہرحال آپ دونوں نے جو صدا بلند کی ھے تو مجھے اس آواز نے بے آختیار جگا دیا ھے
    اور مجھے بھی اپنی غلطی کا احساس ھورھا ھے کہ یہی وہ جگہ ھے جہاں سے میں لکھنا او راپنی بات کو کہنے کا سلیقہ سیکھا ھے
    اور جب مجھے تھوڑا سا بولنا آگیا تو میں نے اپنے عالمی آخبار کے دوستوں سےجو میرے ادبی قلمی اور قلبی تعلق کے رشتے سے بہت عزيز تر ھیں واقعی بہت دنوں سے کسی نے کسی کو آواز ھی نیہں دی

    پرجوشی کی شدت کو کھبی کھبی کوئ اھم مصروفیات مدھم کردیتی ھے
    مگر دوستوں کی اس خوبصورت محفل میں اکتا دینے والی خاموشی کی فضا کو تادیر قائم نیہں رھنا چاھیے

    جزاک اللہ کہ آپ دونوں ھمارے دلوں کی ترجمانی کرتے ھیں

    میں نے اپنے حصے کا چھوٹا سا چراغ جلایا ھے اور اب میں کسی اور سورج و شمس کی تلاش میں روس جارھی ھوں
    جہاں ایک ساتھہ 3 سورج طلوع ھوۓ تھے
    ایک ساتہھ ان 3 سورج کا طلوع ھونا کیا نیک شگون ھے ؟
    کیونکہ میں نے پاکستان میں 3 عیدوں کا تو سنا ھے مگر 3 سورج ؟
    اب میں نیئے بلاگ کے ساتھہ ایک اور دیا روشن کررھی ھوں

  3. السلام علیکم
    میں نگہت آپی سے متفق ہوں ، ہمارے روئیوں کی شدت پسندی ہمیں بہت ہی عزیز دوستوں تک سے محروم کرتی جا رہی ہے ، عموما ہم لوگ جاہل ملاں کو ہی شدت پسند سمجھتے ہیں مگر اصل میں ہم میں سے ہر ایک اپنی ہی طرح کا شدت پسند ہے ، میں بذات خود کئی بار محسوس کرتا ہوں کہ میرا نکتہ نظر سے اختلاف میرے اندر کے شدت پسند کو مشتعل کر دے گا اس لیے بہتر یہی ہے کہ میں اپنا نکتہ نظر اپنے تک ہی محدود رکھوں ، اور یوں میں کم و بیش روز ہی یہاں کا چکر لگانے کے باوجود اکثر کچھ لکھے بغیر ہی لوٹ جاتا ہوں ۔

  4. بہن نگہت تماری باتیں سو فیصد درست ہیں۔ بہن شاہین کا دل کچھ گڑ بڑ کرہا ہے اور تم ڈاکٹر ہو لہذا ان کو تسلی دو میں بھی دیتا ہوں

  5. شاہین الگ سے چراغ جلانے کو نہیں کہا تھا بلکہ مل کر یہی چراغ جلانے کو کہاتھا. محترم بھائی شمس کو تمہارے دل کی بابت تشویش ہے .. کیوں جی کیا ہوا ؟ تم یوں کرو دل کو الماری میں بند کر دو اور خود اس کے بغیر ہی گھومو …. ارے جب لوگ بغیر دماغ کے گھوم سکتے ہیں تم دل کے بغیر کیوں نہیں …

  6. دل سے یا آیا محترم المقام جنب صفدر ہمدانی صاحب کے بھی دل کے ٹیسٹ 3 سے 6 فروری کے دوران ہونگے .. اب ان کے دل میں سے کیا کیا نکلتا ہے وہ ایک الگ نوشت ہوگی جو جی میں ہے کہ ان سے درخواست کی جائے کہ خود لکھ کر بتائیں کہ آخر کیا کیا اور کیوں ہوا ؟

    آپ سب سے بابا صاحب کے لئے دعائے صحت کی درخواست ہے .. الہی آمین

  7. آصف واقعی تم نے بہت بہت عمدہ بات کہی کہ ” اصل میں ہم میں سے ہر ایک اپنی ہی طرح کا شدت پسند ہے ” .. میں نے تو آج ہی سے خود کو راضی کر لیا ہے کہ کبھی ” شدت پسند ” کی نظر سے نہیں دیکھونگی اور نہ ہی سوچونگی اور نہ ہی لکھونگی … ہم سب نے آج سے برداشت اور تحمل کو اپنانا ہے .تاکہ آصف اور ان جیسے کئی ہمارے بہن بھائی ہمیں چھوڑکر کبھی کہیں نہ جائیں .. انشاللہ

  8. زرقا کی مصروفیت میری سمجھ سے بار ہیں .. بھئی کبھی تو لائٹ آتی ہی ہوگی ..

  9. میری بہت عزيز بہن اور عزيز ترین دوست ڈاکٹر نگہت نسیم خوش رھو
    سلامت رھو
    میرا دل اف اسکو تو مرحوم ھوۓ مدتیں گذر گیئں ھیں
    میں نے تو تقریبا 60سال قبل ھی اپنے دل اور دماغ دونوں کو ایک بہت مضبوط اھنی الماری میں رکھا اور چابی گم کردی
    ھاھاھاھاھا
    سو میں بہت سارے امراض سے محفوظ ھوں
    ھاں کبھی کبھی حیرت ھوتی ھے
    دل کبھی پتھر بن جاتا ھے
    دل کبھی موم بن جاتا ھے
    دل کبھی سخت ھوجاتا ھے
    دل کھبی ضد کرتا ھے
    دل کھبی بچہ بن جاتا ھے
    دل کھبی تیز دھڑکتا ھے
    دل کھبی ساکت ھوجاتا ھے
    دل کھبی کسی کی ایک نیہں سنتا
    دل من مانی کرتا ھے
    مجھے جو بات اچھی لگتی ھے
    کہ دل میں خدا کا گھر ھے
    اللہ پاک ھمارے دلوں کو اپنے ذکر سے منور اور محترم فرماء آمین ثم آمین

    لٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

    دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

  10. السلام علیکم
    آپی ۔ جناب محترم صفدر ہمدانی صاحب ! کی صحت اور اُن کے دل کے بارے میں مطلع رکھئیے گا ۔
    ہم بھی تو دیکھیں کہ ہمدانی صاحب دل مین کیا کیا چھپائے بیٹھے ہیں ۔ ۔ ۔

  11. اتنی ساری باتیں تھیں جو دوستوں سے کرنی تھیں اس لیے علیحدہ سے بلاگ لگانا پڑا
    آصف بھٹي سے بھی اب جلد ملاقات ھوگی کہ انکی فیملی بھی ماشا اللہ کویت آگی ھے
    آصف بھٹی میرا بھائ انکا شمار ایسے لوگوں میں ھوتا ھے جو انتہائ جفاکش ھوتے ھیں اور اپنی لگن کے پکے ھوتے ھیں
    جو سوچتے ھیں جو انکا ٹارگٹ ھوتا ھے اس تک اپنے قوی ارادے کی بدولت پہنچ جاتے ھیں
    ھم سبکی دعايئں آصف بھائ ھمشیہ آپکے ساتہھ رھنگی
    اور اللہ پاک آپکو خوب برکت عطا فرماۓ آمین ثم آمین
    میری عزيز بہن ڈاکٹر نگہت نسیم تم سبکو اتنی محبت اور عزت سے ملتی ھو کہ ایک بار تم سے ملنے والا تمھارے پرخلوص رويئے اور بے پناہ اپنا يئت کی بدولت کیہں نیہں جاسکتا ھے
    ڈھونڈوگے آگر ملکوں ملکوں ملنے کے نیہں نایاب ھیں ھم
    اللہ پاک تمھاری حفاظت فرماۓ آمین ثم آمین
    ابھی سارے دوست یکجآء ھوجايئنگے
    اف مجھے تو تم نے کچن کا انچارچ بنایا ھے تو میں ذرا کھانے پینے کا انتظآم کرو
    بجو آرھی ھیں
    بہن عالم آراء آرھی ھیں
    انڈیا سے خواجہ اکرم آرھے ھیں
    ھوسکتا ھے کہ فرخندہ رضوی بھی آجايئں
    اور میرے کانوں میں دوستوں کے قدموں کی آوازیں آرھی ھیں
    میں تو چلی چاۓ کا انتظام کرنے اور نگہت تم انکا استقبال کرو
    اتنے دنوں کے بعد مل رھے ھیں تو کھانے میں بے شمار چیزیں بھی بنائ ھیں او ربنانی بھی ھیں
    اچھے دوست بہت بڑي نعمت ھوتے ھیں
    آللہ پاک آپ سبکو سلامت رکھے آمین
    انشا اللہ محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کے سارے ٹیسٹ ٹھیک نکلیں اللہ پاک انکو ھر دکھہ سے ھر مرض سے محفوظ رکھے آآمین ثم آمین
    ھمارے بہت ھی قابل صد احترام بھائ شمس صاحب آپکی تشویش اچھی لگی کہ بھائ بہنوں کی پریشانی پر خود کتنے ملول ھوجاتے ھیں
    میرے دل کو کچھہ نیہں ھوا ھے انشا اللہ میرا رب ھم سب کے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت اور احترام کے جذبات ھمشیہ باقی رکھے
    مجھے خوشبو بتا رھی کہ اچھی بہن عالم آراء ایک بہت اچھی نظم اور غزل کے ساتھہ آرھی ھیں
    اور ساتھہ میں گھر کا بنایا ھوا شوگر فری کیک بھی ھے اور گرما گرم سموسے بھی ھیں اور یقینا بجو بھی کوئ خاص ڈش بنا کر لارھی ھیں

  12. زندگی یوں بھی ایک امتحان ہی ہے اور ہر امتحان مشکل سے تعبیر ہوتا ہے لیکن مجھ جیسے لوگ جو کوشش بسیار سے کم سے کم جھوٹبولنے کی کوشش کرتے ہیں انکی زندگی سچ کہنے کی وجہ سے گھر سے دل دوستاں تک ایک عذاب سے کم نہیں ہوتی۔ ہر طرف سے تیر ہر طرف سے طعنہ۔کبھی سچائی کے علم کا طعنہ کبھی ڈپریشن کا مریض قرار دینا۔
    یہ تمہید اس لیئے لکھی کہ ایک سچ اور کہتا جاوں سانس کا کیا اعتبار۔ میں ڈاکٹر نگہت اور شمس جیلانی صاحب سے اس بلاگ کو بند کرنے کا ذکر کرتا چلا آ رہا ہوں کہ اس مردہ گھوڑے کو رکھ کر کیا کرنا
    وجہ یہ ہے کہ ہم نے اس بلاگ کو فکر و شعور کی بیداری کے لیے رکھا ہوا ہے اور مروجہ نوے فیصد سے زاءد بلاگوں کی طرح یہ شاہراہ عام نہیں ہے کہ جس نے منہ اٹھایا اس شاہراہ فکر پر آن نکلا۔ ہم نے اسے سوچ سمجح کر محدود رکھا چند گنے چنے افراد تک۔ مقصد یہی تھا کہ اسکو مثبت بحث کا فورم بنایا جائے
    لیکن گزشتہ طویل عرصے سے اسمیں شرکت کرنے والے اب خال خال ہی رہ گئے اور جو بلاگ لگے وہ بھی معیار سے حد درجہ کم۔
    اب ایسے میں ہم سب کے بزرگ بلحاظ عمر و علم و تجربہ حضرت شمس جیلانی نے ٹھہرے پانی میں ارتعاش پیدا کرنے کی کوشش کی ہے تو دعا کرتے ہیں کہ انکی آواز صدا با صحرا ثابت نہ ہو

  13. سب نے اپنی اپنی مفید را‌ۓ دی ۔۔۔۔
    آغا جی نے دل برداشتہ ھو کر کہا ۔۔۔ ” اس مردہ گھوڑے کو رکھ کر کیا کرنا ”
    آغا جی علم کی وادی مین عقل کے گھوڑے ڈورانے والے بھی کیا کبھی مایوس ھوۓ ؟
    اس بلاگ سے مجھ جیسے کئ کم علموں کی علمی تشنگی دور ھوتی ھے
    البتہ خامہ فرسائ میں کوتاھی بھی میری علمی کمزوری کے باعث ھے ۔
    جیسا کہ بھائ آصف بھٹی نے کہا
    ” میں بذات خود کئی بار محسوس کرتا ہوں کہ میرا نکتہ نظر سے اختلاف میرے اندر کے شدت پسند کو مشتعل کر دے گا اس لیے بہتر یہی ہے کہ میں اپنا نکتہ نظر اپنے تک ہی محدود رکھوں ، اور یوں میں کم و بیش روز ہی یہاں کا چکر لگانے کے باوجود اکثر کچھ لکھے بغیر ہی لوٹ جاتا ہوں ۔”
    شاید ھم میں سے اکثر کی یہی دلی کیفیت ھے جس کے باعث بلاگ خاموش رھتا ھے ۔۔۔۔

  14. اسلام علیکم
    بہت خوب کیا نیند سے چونکایا ہے محترم بھائی شمس جیلانی نے ، اور باقی سب اس بلاگ پر آنے والے خواتین و حضرات سلامت رہیں خوش رہیں .. لیکن یہ ضروری ہے کہ بلاگ کے سناٹے کو دور کیا جائے . اصل میں ہماری مصلحت کہ کوئی ناراض نہ ہو برا نہ لگ جائے ہمیں اکثر باندھ دیتی ہے . حالانکہ تبصرے ہمیں خود کو سمجھنے اور اپنی سوچ کو بدلنے یا قائم رہنے پر راغب بھی کرتے ہیں جو خود ہمارے لئے اچھا ہے .
    میں ہر بلاگ پر اآنے کی کوشش کرتی ہوں بس اکثر کچھ مصروفیت جو نا قابلَ فراغت ہوتی ہے تو ناغہ ہو جاتا ہے .اب کوشش کرونگی کہ جاگتی رہوں .
    اللہ سب بیماروں کو صحت اور لمبی عمر عطا فرمائے آمین
    عالم آرا

  15. چلیئے خدا کاشکر ہے کہ بلاگ میں چہل پہل نظرآئی اور بہن بھائیوں نے میرا مان رکھ لیا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *