Published by
سیدہ رافیعہ گیلانی
my name is sayeda rafia gillani ,my nick name ,and pen name is gul , my date of birth is 24 january i have done my graduation and other skill diplomas in beautcian ,and women,s dress designing , i have done also many short cources , like islamic teaching , herbal medicine ,.... View all posts by سیدہ رافیعہ گیلانی


بہن رافیعہ گیلانی خوش رہو
نظام بچا ؤ !!!عوام کا کیا ہے ۔انہیں چاہے بھوکا رکھو چاہے ماری رکھو کہ ہم عوام شاید ہیں اسی قابل ؟/
جو حق بات کرے گا ہمارا ساتھ دے گا ہم کبھی اسکے ہمنوا نہیں ہوتے ۔کیونکہ سارے چوروں کے بھائی گرہ کٹ ہوتے ہیں اور اآج پارلیمنٹ میں آپ نے اس کا ثبوت دیکھ لیا ہوگا ؟؟؟
اللہ میرے ملک کے جوانوں کو ہمت دے آمین
عالم آرا
تمام محترم ہم نشینوں کو سلام و دعائین،
واہ ،واہ ،رافیعہ بی بی
کچھ میری طرف سے بھی قافیہ بندی کی کوشش
عاقبت دی کھیتی دے واسطے
عوام دے حلال ، ٹیکساں داپیسہ
سوئس بنکاں نوں سنبھال کر رکھّو
کنّے کنّے دیکھی ہیں قبریں اپنی اپنی
تسی اپنے چمکیلے محلے ،دومحلے
اس دنیا دی زینت دے واسطے
ہور،ہورچمکا کے سنبھال کررکھّو
یاد رکھّو مگر!
انّے کام آنا ہے دنّاں نوں قیامت میں
اللہ سائیں دے حضوراں دینے نوں
تم رائے ونڈ دی دولت
اپنی فانڈری دی دولت
سوئس بنکاں دی دولت
عاقبت دے کھاتے میں
گن گن ،سنبھال کر رکھّو
زائرہ بجّو
کینیڈا
میرے لیے اور مجھ جیسے نوآموز ان طالب علموں کے لیے جو پنجابی زبان سیکھنا چاہتے ہیں ایسے ہلکی پھلکی زبان میں کچھ تحریر کیا جائے تو بہت سوں کا بھلا ہوگا
واہ سیدہ رافعیہ بہن
بہت عمدہ
اور زائرہ بجو کی فی البدیہہ شاعری کا بھی جواب نیہں ھے
بجو بہت زمانے سے یہ بات میرے دل میں ھے کہ کاش انگلش کی طرح ھمکو ابتدائ اسکول میں بھی دیگر قومی زبانیں پڑھائ جايغں تاکہ ھم کو اک دوسرے کی بات سمجہ سکیں
پنجابی کی مٹھاس کا اب انداڑہ ھوا ھے
جب میری ساس اپنے میٹھے مہربان لہجے میں
میری دھی میرا پتر کہہ کر مخاطب کرتی ھیں
اللہ پاک ھماری ماوں کو سلامت رکھے آمین ثم آمین
سلام دعاءٰینں نیک خواہشات ز بجو صاحبہ اور بہن رانی شاھینہ جی شکریہ واقعہ میں بجو نے خوب قافیئے ملائے ھیں لگ رہا ھے پنجابی کی لکھاری ھیں جیسے واہ واہ جی
سچی کہانی ، کسی گاؤں میں اک آدمی رہتا تھا کام چور تھا تو کام کی عادت نا تھی – اس کے گھر والے روز اس کو کام کرنے کا کہتے کہ جاؤ کچھ کما کر لاؤ تنگ آکر اس کو سب سے آسان کام جو لگا وہ چوری کرنا تھی اس نے گاؤں میں بکریاں چوری کرنا شروع کر دیں ہر دو تین بعد بکری چوری کرتا بیچ کر اپنا خرچ بناتا – لیکن لوگوں نے اس شکایت پولیس کو کر دی – پولیس نے پکڑا گھر والوں نے پیسے دے کر چھڑا لیا ، اور ساتھ ھی وعدہ لیا اب یہ کام نھیں کرو گےاس نے گھر والوں سے پوچھا آپ کو میرے کام سی اعتراض ھے یا پولیس میں پکڑے جانے والی بات پر اعتراض ھے گھر والوں نے کہا کام تو ٹھیک ھی تھا کچھ نا کچھ پیسے آجاتے تھے گزارہ ھو رہا تھا لیکن پولیس میں پکڑے جانے والی بات ٹھیک نھیں ھے بس اس نے اپنی ماں کے سر پر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر قسم لی اب مجھے پولیس نھیں پکڑے گی گھر والوں نے پوچھا کیا کوئی اور کام کرو گے ؟اس نے کہا کام تو یہی کرونگا یعنی چوری کا – لیکن آئین ،قانوں کے مطابق ھوگا یہ اس کا کہینا تھا چناچہ اس نے پرانی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کی الیکشن لڑا اپنے کام کو بڑھایا اس کا کام بھی بڑھ گیا اور پولیس کو کبھی جرات نھین ھوئی اس کی طرٖ ف میلی آنکھ بھی دیکھنے کی ، بلکہ کسی عام آدمی کی جرات نھیں اس کو چور کہنے کی – نتجہ خود اخذ کیجئے
سدا سلامت رھیں محترمہ بجیا ذائرہ عابدی صاحبہ اللہ کی سلامتی ھو ، میری شہزادی بہن شاھین آپ دونوں پر
اچھی بہن آپ پر بھی سلامتی ھو
دعاوں میں بڑی طاقت ھوتی ھے
میں تو بس دعاوں کے آسرے پر ھی زندہ ھں
محھے قوی امید ھے کہ اللہ پاک ھمارے پاک وطن کی حفاظت فرماۓ گا آمین
اور پاکستان کو چوروں لیڑوں سے نجات دیگا انشا اللہ
سچی کہانی۔ کسی شہر میںایک باپ کے دوبیٹے تھے نہایت زہین ۔ جب وہ جوان ہوئے تو ایک دن باپ نےپوچھا کہ تم اپنی زندگی میں کیا بننا چاہتے ہو۔؟
باپ نے ۔ قرآن پاک ۔ نوٹوں کی گٹھی اور ایک شراب کی بوتل۔ ان دونوں بیٹوں کے سامنے رکھی کہ اپنی اپنی پسند کی کوئی چیز اُٹھا لو۔ ایک بیٹے نے قرآن پاک کو چوُما اور چوُم کر وہی رکھ دیا۔ باپ بہت خوش ہوا کہ میرے بیٹے نے دنیا سے زیادہ آخرت کو ترجیع دی ماشاللہ بڑا مذہبی ہے ۔یہ ضرور مولوی بنے گا ۔باپ نے دوسرے بیٹے سے پوچھا کہ بیٹا آپ کیا بننا چاہتے ہیں ؟۔ شریف بیٹا جو گھر میں سب سے شریف تھا آگے بڑھا۔ قرآن پاک، نوٹوں کی گٹھی اورشراب کی بوتل اُٹھا کر وہ گیا وہ گیا۔ باپ پہلے سے بھی زیادہ خوش ہوا ۔ شریف بیٹا بڑا ہو کر ضرور سیاست دان بنے گا۔
وسلام
آویز۔ برمنگھم
سلام ، جیتے رحیئے بھائی آویز بہت اچھا نقشہ کھینچا ھے سیاست کا ۔ شکریہ
آویز بیٹے ہمارے سیاستدانوں کو قران کریم و عظیم جیسی نعمت عظمیٰ سے کوئ واسطہ و مطلب نہیں ہے جیسا کہ پیپلز پارٹی کے وزیر داخلہ محترم رحمان ملک صاحب نے سورہ قل ھو واللہ احد تین مرتبہ پڑھی لیکن تینوں مرتبہ غلط ہی پڑھی ایک اور سیاستدان جن کا نام زہن سے نکل گیا ہے انہوں نے بھی جو آئت پڑھی وہ بھی غلط پڑھی ،
اس لئے میرے خیال میں صرف شراب کی بوتل اور نوٹوں کی گڈّی ہی سیاسدان بننے کے لئے کافی ہے
یہ تو میرا اپنا خیال ہے ،ہر شخص کی اپنی کسوٹی ہے جو جیسا چاہے معیار مقرّر کرے