کیا پاکستان ایک ملک ہے

ملالہ یوسف زئ نے ہمارے سر فخر سے بلند کردئے ہیں۔ لیکن بلاول بھٹو جو پاکستان کے مستقبل کے وزیرِاعظم بننے کی راہ پر گامزن ہیں اپنے آپکو صرف اور صرف سندھی گردانتے ہیں۔ انہوں نے نوبل پرائز ملتے ہی ملالہ کو سندھ میں تعلیم کو پروان چڑھانے کیلئے دعوت دی ہے۔ اگر وہ بجائے سندھ کے پاکستان کی بات کرتے تو اس بات میں وزن ہوتا۔ کہاں ایک کرپٹ اور حرام کی روزی پر پلے ہوئے بلاول اور کہاں ملالہ جیسی مقدس ہستی۔ ملالہ ایک پسمامندہ صوبے سے تعلق رکھتی ہے۔ لیکن اس نے کے پی کے کی بات کرنے کے بجائے ساری دنیا کو ایک آنکھ سے دیکھا ہے ۔ دنیا کے سارے مجبور بچوں کو تعلیم دینے کی بات کی ہے۔
بلاول اگر وزیرِ اعظم بنے تو وہ خود کو اندرونِ سندھ کا وزیرِ اعظم بنکر دکھائیں گے ۔ اس ہی طرح نواز شریف نے بھی خود کو صرف پنجاب بلکہ لاہور کا وزیرِ اعظم ثابت کیا ہے۔ باقی پاکستان کو وہ اپنی کالونی سمجھتے ہیں۔ موصوف قرضے لیں گے اورانکو ادا اُنکی کالونی کرے گی۔ یہی حال بھٹوزرداری کا ہے کہ قرضے انہوں نے لئے اور ادا کالونی کررہی ہے۔

عجیب بختِ چمن ہے ظفر کہ جس کو بھی
بنایا باغباں اُس نے چمن کو لوٹ لیا

One thought on “کیا پاکستان ایک ملک ہے”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *