لٹ گئی سادات لو شام غریباں آ گئی

محرم اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ ہے۔ اسے محرم الحرام بھی کہتے ہیں۔ اسلام سے پہلے بھی اس مہینے کو انتہائی قابل احترام سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے یہ احترام جاری رکھا۔ اس مہینے میں جنگ و جدل ممنوع ہے۔ اسی حرمت کی وجہ سے اسے محرم کہتے ہیں۔ اس مہینے نئے اسلامی سال کا آغاز ہوتا ہے۔

یقینا محرم الحرام کا مہینہ عظمت والا مہینہ ہے ، اسی ماہ سے ھجری سال کی ابتداء ہوتی ہے اوریہ ان حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے : یقینا اللہ تعالی کے ہاں مہینوں کی تعداد بارہ ہے اور( یہ تعداد ) اسی دن سے ہے جب سے آسمان وزمین کواس نے پیدا فرمایا تھا ، ان میں سے چارحرمت وادب والے مہینے ہیں ، یہی درست اورصحیح دین ہے ، تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پرظلم وستم نہ کرو ، اورتم تمام مشرکوں سے جہاد کرو جیسے کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں ، اورجان رکھو کہ اللہ تعالی متقیوں کے ساتھ ہے –

التوبۃ ( 36 ) اورابوبکر رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( سال کے بارہ میں مہینے ہیں جن میں سے چارحرمت والے ہیں ، تین تومسلسل ہیں ، ذوالقعدہ ، ذوالحجۃ ، اورمحرم ، اورجمادی اورشعبان کے مابین رجب کامہینہ جسے رجب مضرکہا جاتا ہے )
صحیح بخاری حدیث نمبر ( 2958 ) ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا یہ فرمان :
لہذا تم ان میں اپنی جانوں پرظلم وستم نہ کرو } اس کا معنی یہ ہےکہ :
یعنی ان حرمت والے مہینوں میں ظلم نہ کرو کیونکہ ان میں گناہ کرنا دوسرے مہینوں کی بنسبت زيادہ شدید ہے ۔

ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما سےاس آيت { لھذا تم ان مہینوں میں اپنے آپ پرظلم وستم نہ کرو } کے بارہ میں مروی ہے :
تم ان سب مہینوں میں ظلم نہ کرو اورپھر ان مہینوں میں سے چارکو مخصوص کرکےانہيں حرمت والے قراردیا اوران کی حرمت کوبھی بہت ‏عظيم قراردیتے ہوئے ان مہینوں میں گناہ کاارتکاب کرنا بھی عظیم گناہ کا باعث قرار دیا اوران میں اعمال صالحہ کرنا بھی عظيم اجروثواب کاباعث بنایا ۔

قتادہ رحمہ اللہ تعالی اس آیت : { لھذا تم ان مہینوں میں اپنے آپ پر ظلم وستم نہ کرو } کے بارہ میں کہتے ہيں

حرمت والے مہینوں میں ظلم وستم کرنادوسرے مہینوں کی بنسبت یقینا زيادہ گناہ اوربرائي کا باعث ہے ، اگرچہ ہرحالت میں ظلم بہت بڑي اور عظيم چيز ہے لیکن اللہ سبحانہ وتعالی اپنے امرمیں سے جسے چاہے عظيم بنا دیتا ہے :

11 thoughts on “لٹ گئی سادات لو شام غریباں آ گئی”

  1. سلام یا حسین ۔۔ لبیک یا حسین

    سچ پوچھیں تو میں بھی کھبی یہ سوچتی ھوں کہ نام حسین تو ھر دور میں حق و نجات کا ،نور اور اسلام کے پیامبر کا نام ھے ۔ حسین اور حسین علیہ اسلام کی حقانیت کی اس سے بڑي دلیل کیا ھوگی کہ صاحب تاج ومعراج ، وبراق ،شافع روز محشر نے فرمایا کہ اگر حسین نہ ھوتا تو میرا نسب نہ ھوتا اور اگر میں نہ ھوتا تو حسین کا نسب نہ ھوتا ، حسین مجھہ سے اور میں حسین سے ھوں۔امام حسین علیہ السلام نے زندگی و حیات، موت و شہادت، دنیا و آخرت، عزت و شرافت، ذلت و عظمت، آزادی و اسیری، شکست و فتح، طاقت و قدرت، سعادت و سیادت اور حق و باطل کے مفاہیم کو حقیقی معانی عطا کئے اور اپنے عمل و کردار سے ان کو تاریخ میں ہمیشہ کیلئے ثبت کر دیا۔ تاریخ میں انسانیت کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ مذکورہ مفاہیم کو سطحی اور بعض اوقات بالعکس سمجھنا ہے۔

    زندگی و حیات کیا ہے؟، امام حسین علیہ السلام نے سخت ترین حالات میں بھی یہ کہ کر سوئے ہوئے ضمیروں کو جگانے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ ظلم اور ظالموں کے ساتھ زندگی ننگ و عار ہے۔ یعنی زندگی کا حقیقی مفہوم عزت و شرافت کے ساتھ آزاد رہنا ہے۔ امام حسین علیہ السلام اس ظاہری زندگی کو موت سے تعبیر کرتے ہیں جو ظلم کی حمایت اور ظالموں کے خلاف قیام سے عاری ہو۔ امام حسین علیہ السلام عزت و منزلت کو ظاہری اقتدار اور دنیوی طاقت میں محدود نہیں سمجھتے بلکہ وہ تلوار پر خون کی کامیابی اور آزادی و حریت کو عزت و منزلت سمجھتے ہیں۔

    آپ کے ہاں شکست و فتح کا تصور بھی یکسر مختلف ہے۔ آپ انسانوں کے لشکروں اور فوجی ساز و سامان کے ذریعے دشمن کے بدن کو ختم کر ” امام حسین علیہ السلام نے سخت ترین حالات میں بھی یہ کہہ کر سوئے ہوئے ضمیروں کو جگانے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ ظلم اور ظالموں کے ساتھ زندگی ننگ و عار ہے۔ “ فتح حاصل کرنے کو کامیابی نہیں سمجھتے بلکہ آپ قلب و ذہن کو شکست دے کر اور ان میں موجود باطل نظریات کو ختم کر کے ضمیر اور وجدان کی بیداری کو فتح اور کامیابی سمجھتے ہیں۔

    آپ کے ہاں آزادی اور اسیری کا مطلب انسانی بدن کی آزادی یا اسکا قید و بند میں ہونا نہیں ہے بلکہ آپ قلب و نظر کی آزادی اور حریت فکر کو حقیقی آزادی قرار دیتے ہیں جبکہ ظاہری طور پر آزاد ہونے کے باوجود فکری اور نظریاتی طور پر خودمختار نہ ہونے کو آزادی نہیں بلکہ اسیری سے تعبیر کرتے ہیں۔ آپ نے کربلا کے میدان میں فتح و شکست اور عزت و شرافت کے جو معیار مقرر کئے ہیں اور اسکے جو حقیقی مظاہر سامنے لائے ہیں اس سے باآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں یزید اور یزیدیت کو ایسی شکست فاش دی کہ سینکڑوں سال گزرنے کے باوجود آج بھی کوئی اس ظاہری فاتح لشکر کے ساتھ شامل ہونے کو تیار نہیں جبکہ دوسری جانب آج بھی ہر باضمیر انسان “یا لیتنا کنا معکم فنفوز فوزاً عظیماً” کا نعرہ بلند کر رہا ہے اور اس ظاہری شکست خوردہ لشکر میں شامل ہو کر عظیم کامیابی پر فائز ہونے کیلئے بے چین ہے۔

    کربلا کے لق و دق صحرا میں حسینی لشکر کے تمام افراد کی شہادت اور اہل خانہ کی اسیری آج بھی کیوں نمونہ عمل بنی ہوئی ہے؟، اس سانحے میں ایسے کونسے عوامل تھے جو اسے ہر آنے والے زمانے میں روشن سے روشن تر کر رہے ہیں؟۔

    تاریخ میں ایسی ہزاروں بلکہ لاکھوں جنگیں ہوں گی جس میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ کربلا میں صرف 72 افراد کی شہادت ہوئی۔ ان 72 افراد کی شہادت میں ایسا کونسا عامل پوشیدہ ہے کہ تاریخ کا ہر باضمیر انسان ان افراد کے ساتھ شامل ہونے کو اپنے لئے باعث فضیلت سمجھتا ہے اور ببانگ دہل یہ کہتا نظر آتا ہے:
    انسان کو بیدار تو ہو لینے دو ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین ۔۔۔
    سلام یا حسین ۔۔ لبیک یا حسین
    طالب دعا

  2. کل چاند دیکھا گیا محرم اورآج د ن ہے پہلا ماتم کا
    بے ادب سالِ نو مناتے ہیں ہے طریقہ ازل سے شاتم کا

  3. میری شہزادی بیٹی اپنے نیک شوہر آفتاب اور بچّوں کے ہمراہ سدا سکھی رہو،یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ آقا حسین علیہ السّلا م نے اپنے اور اپنے خانوادے کے پاکیزہ تر لہو سے دین اسلام کی جو آبیاری کی اس سے اسلام آج دنیا میں پھل پھول رہا ہے ورنہ تو اسلام کے نام پر وہ تکفیری گروہ قبضہ کر چکاہوتا جس کے نزدیک اسلاف ،اور انبیاء کے مقابر شہید کرنا مقدّس کام ہے
    اللہ کریم ہم سب کو آقا حسین علیہ السّلام کے نقش قدم پر چلنے کی تو فیق عطا فرمائے آمین

  4. اسلام علیکم ساتھیو
    محرم کا مہینہ ہمارے سال کا اآغاز بھی ہے اور حزن و ملال کی ابتداء بھی ۔یہ ماھ اپنے اندر جہاں‌بے تحاشہ غم و اندہ رکھتا ہے وہیں ہزار ہا سبق بھی پوشیدہ ہیں ۔ اللہ اور اسکے نبی کی محبت کا جاوداں سبق بھی ہے اور اٰلِ رسول کی مظلومیت اور اُن پر کئے جانے والے ظلم کی انتہاء بھی ہے ۔

    عالم اآرا

  5. کربلا سے عشق کا معیار پیدا کیجئے
    اپنے اندر جرآت انکار پیدا کیجئے
    صرف رونا ہی شفاعت کی ضمانت تو نہیں
    ذات میں شبیر کا کردار پیدا کیجئے

  6. سوز
    ہان!عابدِ بیمار سدا شام کے اندوہ پہ روئے
    جیتے ہوئے آنسو نہیں خون کے آنسو روئے
    وہ کوہِ گراں آکے گرا بیمار کے سر پر
    نظروں سے نہیں محو ہوا تا عمر وہ منظر
    بازار کے ہنگام میں نیزوں پہ کٹے سر
    ماں بہنوں کو دیکھا ناقوں پہ کھلے سر
    نکلا تھا تماشے کو ایک مجمع ء فاجر
    یاد آئے وہ منظر یاد وہ کر کے روئے
    ہاں عابد بیمار سدا شام کے اندوہ پہ روئے
    شاعرہء اہل بیت و کنیزِ بتول
    سیّدہ زائرہ عابدی

  7. دل میں موج زن ہے محبت رسول (ص) سے
    اس واسطے ہے مجھ کو مودت بتول (س) سے
    شمس میں بھی ان میں شامل ہوں بہ فضلِ خدا
    بھیجیں ہیں جو درود سدا عرض وطول سے

  8. اے خدا کے بندوں میں منتخب خدا والو
    تختِ اِنما والو تاجِ ہل اتی والو
    شانِ مصطفے والو وضعِ مرتضی والو
    ائے خدا کے بندوں میں منتخب خدا والو
    کیا وفا پہ جانیں دیں تم نے اے وفا والو
    ہائے کربلا والو ہائے کربلا والو
    ہائے کربلا والو ہائے کربلا والو
    چھوٹے چھوٹے بچوں نے جنگ کی اجازت لی
    بڑھ گئے جواں بن کر کم سِنی سے رخصت لی
    دین کی حمایت میں عزتِ شہادت لی
    زندگی کو کیا کہئے موت سے بھی خدمت لی
    ہائے کربلا والو ہائے کربلا والو
    ہائے کربلا والو ہائے کربلا والو
    کِس بلا کے جنگل میں آلِ مصطفے ٹھہری
    بے دیاروں کا مدفن ارضِ کربلا ٹھہری
    آئی شامِ عاشورہ صبح کو وغا ٹھہری
    کیا خبر مدینہ کو شامیوں سے کیا ٹھہری
    ہائے کربلا والو ہائے کربلا والو
    ہائے کربلا والو ہائے کربلا والو
    حق پہ مرنے والوں نے جان دی سلیقے سے
    شوق سے تمنا سے عزم سے ارادے سے
    زندگی نہ کی پیاری فاطمہ کے پیارے سے
    ماں کی گود سے آیا کوئی کوئی جھولے سے
    ہائے کربلا والو ہائے کربلا والو
    ہائے کربلا والو ہائے کربلا والو
    کوئی تم میں اکبر تھا کوئی تم میں اصغر تھا
    کوئی ثانئِ جعفر کوئی مثلِ حیدر تھا
    کوئی قدر و قیمت میں دو جہاں سے بہتر تھا
    زیرِ تیغ کر بل میں فاطمہ کا گھر بھر تھا
    ہائے کربلا والو ہائے کربلا والو
    اس طرح کے عالم میں پھر نہ دل جگر دیکھے
    در پہ آکے ماں نے جنگ کے ہنر دیکھے
    اپنے چاند کے ٹکڑے خون میں تر بہ تر دیکھے
    ریگِ گرم پر لاشے، برچھیوں پہ سر دیکھے
    ہائے کربلا والو ہائے کربلا والو
    شاعر نامعلوم

  9. ہادئ دوجہاں حضرت محمّد مصطفٰے صلّی اللہ علیہ
    واٰلہ وسلّم کے بے حد چہیتے نواسے حضرت امام حسین علیہالسّلام نے کربلا آباد کرنے کے لئے مدینے کے
    چالیس گھروں کے دو سو افراد پر مشتمل بنوہاشم قبیلے کو ساتھ لیا جس میں سب سے ننّھے مسافر علی اصغر صرف سولہ دن کے تھے

  10. وحِ حضرت سلیمان علیہ السّلام ملنے کے بعد اس کی قدیم زبان کو سمجھنے کے لئے اس پر کئ مہینے ماہرِ ینِ لسانیات کام کرتے رہے بالآخر جب اس کی زبان سمجھ میں آگئ کہ اس لوحِ مبارک پر پنجتن کے نام تحریر ہیں تب ان دو انگریز سپاہیوں نے جنہوں نے اس کو زمین سے بازیاب کیا تھا اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا اور اپنے نام کرم حسین اور فضل حسین رکھّے ،
    میں بحیثیت ایک مسلمان کے یہ بار بار سوچتی ہوں کہ حسین نام میں ان دونوں سپاہیوں کو کیا کشش نظر آئ کہ دونوں نے ہی نامِ حسین اپنے ناموں کا حصّہ بنا نے پر ترجیح دی جبکہ مولائے کائنا ت حضرت علی علیہ السّلام کا نام بھی اور مولا حسن علیہ السّلام کا نام بھی لوحِ مبارک پر کندہ تھا
    اس لوحِ مبارک کے لئے بہت سے لوگ چاہتے تھے کہ اسے مغربی دنیا کے لئے دیدارِعام کے لئے عجائب گھر کی زینت بنایا جائے لیکن چرچ کو یقیناً یہ خوف لاحق ہوا ہو گا کہ اس طرح مغرب دینِاسلام کی جانب راغب ہو جائے گا چنانچہ لوحِمبارک کو چرچ کے خفیہ مقام پر عوام النّاس سے اوجھل کر کے رکھ دیا گیا ورہ تو شائد مغرب میں ہر دوسرے شخص کا نام حسین پر ہوتا اور وہ مسلما ن بھی ہوتا

  11. یہ دراصل تسلسل ہے اس جنگ کا جو روزِ ازل رحمٰن و شیطان کے درمیان شروع ہوئی اور لمحہء آخر تک جاری رہے گی۔ اس جنگ کا عروج 10 محرم الحرام 61ھ کو ہوا جب حق اور باطل ایک دوسرے کے آمنے سامنے آکر یوں جدا ہوئے جیسے دن اور رات کا فرق عیاں ہے۔ یہاں فتح و شکست کے معنیٰ بھی بدل گئے۔ ایسا عجب معرکہ ہوا کہ ہر قسم کا اسلحہ اپنی بھرپور قوت دکھا کر بھی شکستہ رہا اور بہتا ہوا لہو شمشیر پر غالب آگیا۔
    یہ ایسی جنگ تھی جس کے بظاہر فاتحین اپنے مفتوحین کے سروں سے سجے پرچم اٹھا کر اپنی فتح کا اعلان کرنے چلے لیکن انہی مقدس سروں سے متعلق کچھ بے ردا عفت مآب ہستیوں نے فتح کا اصل معنیٰ سارے جہان کو کچھ اس انداز میں سمجھانا شروع کیا کہ دیگر مخلوقات کی مانند اب انسان بھی حقیقت سے آشنا ہوتا گیا۔ جسکی قسمت یاور رہی، وہ حسین ؑ کا عزادار بنتا گیا اور جس کو کربلا سمجھ آتی گئی، اسکی زندگی میں آنے والے تمام سال آغاز سے انجام تک غمِ حسینؑ کے سمندر سے متصل ہوتے گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *