زیارتِ امام حسین علیہ السلام

Safar-e-karbalaصد شکر ہے خدائے لم یزل کا جس نے ھمیں توفیق عطا فرمائی کہ ھم اس پاک سر زمینِ کربلا پر ابنِ ساقیِ کوثر، شافع محشر، سیدِ شباب الجنہ، نواسئہ رسول (ص) ، جگر گوشہٗ بتول امام ِ عالیٰ مقام حضرت امام حسین علیہ السلام کے حرمِ مقدس پر اپنی جبیںِ بے عمل سے بوسہ لے سکیں ۔

بہ ازنِ محمد و آلِ محمد(ص)  ھم اپنی شریکِ حیات  کے ھمراہ انشاٗاللہ  ۴ اور ۵ دسمبر کی درمیانی رات کو راہیِ ارضِ کربلاٗ ہونگے ۔ فرداً فرداً سب افراد سے رابطہ نہیں ہوسکتا تھا اس لیے عالمی اخبار کی وساطت سے   عالمی اخبار  کے  تمام لکھاری اور قارئین   اور خصوصاً   جناب ھمدانی صاحب اور آپی نگہت نسیم  کی خدمت میں حاضر ہیں اور التماس ہے  کہ اگر ھم سے دانا یا نادانستگی میں کسی کی کوئی دل آزاری ہوگئی ہو تو ھمیں معاف فرما دیں۔

ھم دعا گو ہیں کہ ربالعزت آپ تمام افراد کو صحت و سلامتی عطا فرمائے اور سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے آمین ۔

13 thoughts on “زیارتِ امام حسین علیہ السلام”

  1. اسلام علیکم
    بھائی جعفر اآپ دونوں کو یہ سعادت مبارک ہو دعاؤں میں ہمیں بھی یاد رکھئے گا ۔
    اللہ سے دعا ہے کہ وہ آپ کی دعاؤں کو شرف قبولیت بخشے ۔آمین
    عالم آرا
    وینکور

  2. مرزا سلامت علی دبیر کے مرثیے کے چند اشعار​

    مسافرانِ مصیبت وطن میں آتے ہیں
    سفر سے آتے ہیں سوغات نذر لاتے ہیں
    جو پیشوائی کو آتا ہے منہ چھپاتے ہیں
    سوئے مدینہ یہ رو رو کے غل مچاتے ہیں
    لٹا کے آئے ہیں زہرا کے ہم گھرانے کو
    نہ کر قبول تو ہم بے کسوں کے آنے کو

    مدینہ یاد تو ہو گا تجھے وہ جاہ و حشم
    گئے تھے کیسے تجمل سے کربلا کو ہم
    وہ خیمہ اور وہ سپہ اور فوج اور وہ علم
    اور اب سیاہ کفنی اور حسین کا ماتم
    پسند آمدِ ذریتِ رسول نہ کر
    مدینہ ایسے حقیروں کو تو قبول نہ کر

    مدینہ ہم ترے والی کو آئے ہیں کھو کر
    مدینہ گردنِ شپیر پر چلا خنجر
    مدینہ کوفے میں سر ننگے ہم پھرے در در
    مدینہ داغِ رسن ہیں ہمارے شانوں پر
    نہ راہ دے ہمیں، زہرا کا نورِ عین نہیں
    مدینہ اکبر و قاسم نہیں، حسین نہیں

    ہلی زمین مدینے کی اُس گھڑی پیہم
    کیا بشیر کو سجاد نے طلب اُس دم
    گلے میں ڈال دی شالِ عزا بدیدۂ نم
    اور اس کے ہاتھ میں رو کر دیا سیاہ علم
    کہا کہ جا نہیں گو اپنے منہ دکھانے کی
    مگر وطن میں خبر کر دے میرے آنے کی

  3. ا للہ کریم و کارساز آپ دونوں کی مساعی کے ہم رکاب ہو آمین مولا کے در پہ ہمارا بھی سلام کہئے گا

  4. اے خامہ سے اشک کا سیلاب رواں ہو
    اے نطق بصد درد دلی مرثیہ خواں ہو

    اے لوح سیہ پوشی الفاظ عیاں ہو
    اے سطرصف بزم امام دوجہاں بنو

    اے فکر معانی کی نہ تفتیش کو کم کر
    چن چن کے مصیبت کے مضامیں کو بہم کر

    ہرسال جو توفیق ہے مصروف رفاقت
    سامان عزا کے ہیں بہم کرنے کی عادت

    ہے تعزیہ داری مرے نزدیک سعادت
    رونے کو سمجھتاہوں میں خالق کی عبادت

    المنۃ للہ کہ عقیدت سے بھرا ہو
    بچپن سے عزا دار شہ ہردوسراہوں

    تا چرخ بریں نالوں کی احسن ہے رسائی
    خاموش ہو اے سبط پیغمبر کے فدائی

    کر حق سے مناجات بصد ناصیہ سائی
    بہترین صد پاش شہ کرب و بلائی

    اس مرثیہ نو کا الٰہی یہ صلہ ہو
    دل سے نہ جد ا آل محمد کی ولا ہو

  5. شاہ است حسین ، بادشاہ است حسین
    دین است حسین ، دیں پناہ است حسین

    سردادنداددست دردست یزید
    حقا کہ بنائے لا الہ است حسین

  6. وہ فاطمہ کی گود کا پالا ہوا حسین
    کردارِ مرتضٰی سے سنبھالا ہوا حسین
    حق کی تجلیوں سے اُجالا ہوا حسین
    قرآن کے لباس میں ڈھالا ہوا حسین
    یمان یہ ہے حاصلِ ایماں حسین تھے
    دنیا میں بولتا ہوا قرآں حسین تھے

    نانا کا حِلم ، باپ کی قوت ، حَسن کی خُو
    جو مصطفٰے کا خون ، رگوں میں وہی لہو
    خود دار ، خود شناس ، حق آگاہ ، صُلح جُو
    ایمان کا شباب مسلماں کی آبرو
    سبطِ محمد عربی ، ذی شرف حسین
    سلطانِ دین و ابنِ امیرِ نجف حسین

    ہونے لگی جو ظلم کی یلغار دین پر
    شیطانیت کی فوج اُتر آئی زمین پر
    پڑتی تھی گرد مُصحفِ دینِ مبین پر
    لہرائے شک و وہم کے سائے یقین پر
    جب اہلِ ظُلم ، ظُلم پہ مغرور ہو گئے
    شبیر بھی دفاع پہ مجبور ہوگئے

    چھوڑا مدینہ ، جانبِ کرب و بلا چلے
    ہمراہ لے کے قافلۂ اقربا چلے
    انصارِ سر فروش بہ عزمِ وغا چلے
    ایسے چلے بہشت کی جیسے ہوا چلے
    اقوں پہ محذراتِ حرم کو لئے ہوئے
    عباسِ نامدار علم کو لئے ہوئے

    بخشا تھا جو نبی نے علی کو وہی عَلَم
    اللہ رے عَلَم کی بلندی زہے حشم
    ایسا علم کہ پشتِ فَلَک سامنے تھی خَم
    نصرت نے لیں بلائیں پھر پَرے کی دم بدم
    شقّے سے سربلندی دیں آشکار تھی
    پرچم پہ زُلفِ حور بہشتی نثار تھی

    کیا کہئے اس عَلَم کا علُو ، عظمت و کمال
    اُونچا ہو اس سے طائرِ طوبٰی یہ کیا مجال
    ظاہر تھی اس سے شانِ خداوندِ ذوالجلال
    اس کو اُٹھا کے چلتا تھا شیرِ خدا کا لال
    ]اس سے عیاں مشیتِ ربِ عظیم تھی
    چوبِ علم نہیں تھی عصائے کلیم تھی

    پنجے میں اس کے پنجتنی نُور جلوہ گر
    وہ آب و تاب تھی کہ ٹھہرتی نہ تھی نظر
    حیران ہو کے دیکھتے تھے اس کو دیدہ ور
    محجوب آفتاب تھا شرمندہ تھا قمر

    اہلِ زمیں نہیں ، نگراں آسمان ہے
    کیسے نہ ہو حَسِیں ، حُسینی نشان ہے

    رفعت ہے زورِ بازوئے عباس کی گواہ
    خِیرہ شروں کی اس پہ پہنچتی نہیں نگاہ
    فطرت ہے جن کی پست وہ ہیں دیکھ کر تباہ
    سائے میں اس کے چلتی ہے اِسلام کی سپاہ
    ]یہ زندگی ہے دین کی ، ایماں کی جان ہے
    اسلام کے عروج کا زندہ نشان ہے

    تھے سربکف حُسین کے انصار و اقربا
    مُسلم کے بھائی ، زینبِ غمگیں کے مہ لقا
    ہمراہ تھے برادرِ عباس با وفا
    تیور کچھ ایسے ، رُوح اجل کی بھی ہو فنا

    قاسم بھی تھے حَسن کی نشانی بھی ساتھ تھی
    اکبر کی شاندار جوانی بھی ساتھ تھی

    وہ منزلیں کہ جن سے گزرتا تھا کارواں
    فیضِ قدم سے بنتی گئیں رشکِ کہکشاں
    جُھک جُھک کے دیکھتا تھا زمیں کو خود آسماں
    ایسی بہار گلشنِ فردوس میں کہاں

    انداز قدسیانِ فلک کے جلوس کا
    یہ قافلہ تھا صرف بہتّر نفوس کا

    سب کی رگوں میں جوش سے تپتا ہوا لہو
    ارمان یہ کہ پیشِ خدا جائیں سُرخرو
    پوری ہو نصرتِ شہ والا کی آرزو
    پڑھ لیں نماز ، خون سے کر لیں ذرا وضو

    س بندگی کی داد ذرا آسمان دے
    پیری پڑھے نماز ، جوانی اذان دے

    طالع ہوا اُفق پہ محرم کا جب ہلال
    تھا پاس کربلا کے رسولِ خدا کا لال
    دل میں جو تھا جُدائی صُغرٰی کا بھی ملال
    چہرہ تھا پُر سکون مگر قلب پُر جلال

    تصویر ضبطِ دشت میں وہ شیر مرد تھا
    دِل میں مزارِ جَد سے بچھڑنے کا درد تھا

    آئے جو کربلا میں امامِ فلک مقام
    دیکھا کہ چار سمت ہے فوجوں کا اژدہام
    صُبح حرم کو گھیرنے آیا ہے ابرِ شام
    خواہش کہ خوں میں غرق ہو دیں کا مہ تمام

    کینہ قلوب میں جو تھا بدر و حنین کا
    بیعت بہانہ بن گئی قتلِ حُسین کا

    قرآن و شرعِ دین کا نگہدار وہ حُسین
    ارضِ حرم کا مالک و مختار وہ حُسین
    توحید کا مجسّمِ اظہار وہ حُسین
    حق کی چٹان ، دین کی دیوار وہ حُسین

    ٹکرا کے جس سے ظلم کی موجیں بکھر گئیں
    جو ندیاں ہوَس کی چڑھی تھیں اُتر گئیں

    ہاتھوں میں فاطمہ کے کھلایا ہوا حُسین
    آغوشِ حیدری میں سمایا ہوا حُسین
    اوجِ سپہرِ دین پہ چھایا ہوا حُسین
    خوشبوئے مصطفٰے میں سمایا ہوا حُسین

    اپنی جبیں پہ تاجِ امامت لئے ہوئے
    سانسوں میں باغِ خُلد کی نکہت لئے ہوئے

    جس میں تمام حق کے کمالات وہ حُسین
    بدلی ہے جس نے موجِ خیالات وہ حُسین
    جس نے پلٹ دیا رُخِ حالات وہ حُسین
    ممکن بنائے جس نے محالات وہ حُسین

    دنیا کو جس کے عزم نے مبہوت کردیا
    تختِ شہی کو تختۂ تابوت کردیا

    توڑی ہے جس نے جبر کی زنجیر وہ حُسین
    جس نے مٹائی ظلم کی تصویر وہ حُسین

    گوگل سرچ سے مدد لی ھے

  7. جی بابا جی اآپ نے درست فرمایا یہ واقعی ھماری خوش بختی ہے بلکہ ہر اس بندے کی خوش بختی ہے جو مولا (ع( کی زیارت کا شرف حاصل کرتا ہے
    ھمیں زندگی میں کبھی کسی چیز کے ملنے سے اتنی خوشی نہیں ہوئی تھی جتنی شافعِ محشر کی زیارات کا ازن ملنے سے ہوئی ہے ھمارے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے ھم فضاؤں میں اڑتا ہوا محسوس کررہے ہیں کائنات کی سب سے افضل شے ھم کو نصیب ہورہی ہے اور نہ صرف یہ دنیا کی زندگی کی راحت ہے بلکہ آخرت بھی سنور جائے گی مولا ہمیں حضرت حر (ع( کے قدموں میں جگہ عطا فرمائیں اآمین

  8. زائرہ بجو سلام
    آپ کا سلام ضرور امام کی خدمت میں پیش کریں گے بلکہ عالمی اخبار کے تمام احباب کی طرف سے نذرانہ عقیدت پیش کریں گے انشاّاللہ
    اور آپ کی اور آپ کے خاندان کی صحت و سلامتی کے لیے بھی دعا کریں گے اللہ پاک آپ سب کو معصومین علیہ السلام کے صدقے میں صحت و سلامتی عطا فرمائے امین

  9. شاھین باجی اللہ اآپ کی توفیقات میں اضافہ فرمائے
    بہت ہی خوبصورت مرثیہ ہے

    وہ فاطمہ کی گود کا پالا ہوا حسین
    کردارِ مرتضٰی سے سنبھالا ہوا حسین
    حق کی تجلیوں سے اُجالا ہوا حسین
    قرآن کے لباس میں ڈھالا ہوا حسین
    یمان یہ ہے حاصلِ ایماں حسین تھے
    دنیا میں بولتا ہوا قرآں حسین تھے
    شاعر کا حوالہ بھی مل جاتا تو اچھا ہوتا۔

    اللہ آپ کی اور آپ کے گھرانے کی حفاظت فرمائے اور آپ کو کوئی غم نہ ملے سوائے غمِ حسین (ع( کے ۔؎ اآمین

  10. وعلیکم سلام بیٹے جعفر

    ہم سب عالمی اخبار کے ساتھی بھی آپ کے اور آپ کے قافلے والوں کے لئے دست بدعاء ہیں

    ائے مسافرِ کربلا ،بارگاہِ عشق میں سلام میرا بھی کہ دینا
    ان سے کہنا کہ چشمِ بینا کے بند ہونے سے پہلے ہی
    اذنِ باریابی عطا ہو جائے ،کاش ایسا بھی ہو جائے
    میں زیارت کو جاؤں اور وہیں پر دم میرا نکل جائے
    بقلم خود
    معذرت کہ نا جانے کون سی کی پریس ہو گئ کہ تحریر دائیں سے بائیں چلی گئ

  11. شکر ہے اللہ کا پوسٹ کرنے کے بعد تحریر خود بخود درست سمت میں چلی گئ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *