اے میری ارض پاک
اے میری ارض پاک ہم تجھ سے بہت شرمندہ ہیں
جن گلیوں میں شوق تمنا نے
پاؤں پاؤں چلنا سیکھا
جہاں ماؤں نے جوان بیٹوں کو
آنکھ بھر کر نہ دیکھا
جس چوکھٹ سے بھایئوں نے بہنوں کو رخصت کیا
اے میری ارض پاک
مزید پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

یہ ہی تاثر وطن سے محبت کرنے والوں کی اس اکثریت کا ہے جو بے بس ہے اور کھلی آنکھوں سے یہ سب ہوتے دیکھ رہی ہے۔یہ اکثریت نہ امیر ہے نہ وزیر،نہ افسر شاہی میں شامل اور نہ پالیسی سازوں میں۔یہ اکثریت صرف وہ فصل کاٹ رہی ہے جسکا بیج کسی اور نے بویا ہے۔
اس نظم کو شاعری کی کسوٹی کی بجائے قلبی اضطراب اور احساس کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔
اے میری ارض پاک
کیوں بک گئے حکمراں سامراجیوں کے سامنے
کیوں اپنی ہی فوج نے جلائے اپنے ہی آشیانے
کیوں نکلے مسلماں ہی مسلماں کو ختم کرنے
کیوں تاریخ لگی ہے باب کربلا کو پھر کھولنے
تقلید کے خوگر اس کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکتے.. انگریز جاتے جاتے اتنے انڈے بچے دے گیا ہے نہ جانے حکمرانوں کتنی نسلیں اسی کا کے نام کی مالا جپتی رہیں گی، اسی کے گن گاتی رہیں گی، اور اس کی رضا کے لئے سب کچھ قربان کرتی رہیں گی…
ہم تو دعا ہی کر سکتے ہیں کہ
خدا کرے مری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
بہت خوبصورت انداز سے محبان وطن کے خیالات کی ترجمانی کی ہے. اللہ کرے زور قلم اور زیادہ.. آمین
نگہت! آپکی نظم پڑھ کر میں فیض صاحب کا ایک قطعہ اس کے جواب میں پیش کرنا چاہونگی جو یہ نظم پڑہنے کے بعد بے اختیار ذہن میں مچل رہا ہے
ان دنوں رسم و رہِ شہرِ نگاراں کیا ہے
قاصد قیمتِ گلگشتِ بہاراں کیا ہے
کوئے جاناں ہے کہ مقتل ہے کہ میخانہ ہے
آج کل صورتِ بربادی ء یاراں کیا ہے
آپکی نظم ہمارے دلوں کی آواز ہے خدا آپکے قلم کی طاقت کو تاابد قائم رکھے آمین
باجی آپکی نظم بہت خوبصورت اور ہمارے دلوں کی آواز ہے خاص طور پر یہ بند قال توجہ ہے
کیوں بک گئے حکمراں سامراجیوں کے سامنے
کیوں اپنی ہی فوج نے جلائے اپنے ہی آشیانے
کیوں نکلے مسلماں ہی مسلماں کو ختم کرنے
کیوں تاریخ لگی ہے باب کربلا کو پھر کھولنے
یہاں پر مجھے ایک نظم کے چند اشعار یاد آرہے جو نذر قارئن ہیں
کسی نے بہت ہی خوب کہا ہے
یہ رات ہوگی طویل کتنی
بلند ہوگی فصیل کتنی
یہ خوف دہشت کا دور دورہ
رہے گا کب تک
گلہ گلی کوچہ کوچہ پہرہ
رہے گا کب تک
یہ آگ جنگل کی آگ کب تک
فلک سے برسے گی راکھ کب تک
ستارے ٹوٹیں گے آسماں سے
پرندے روٹھیں گے آشیاں سے
یہ پھول پتے ہوائیں شبنم
کریں گے کس کس کا اور ماتم
سیاہ پرہول آندھیوں کا یہ موج میلہ
رہے گا کب تک