یہ تمھارا اور ہمارا عالمی اخبار ہے

منظور قاضی نے کہا ہے:
October 23, 2009 بوقت 12:30 am
میں صفدر ھمدانی صاحب اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اور عالمی اخبار کی انتظامیہ کے تمام اربابِ اختیارکو دلی مبارکباد پیش کرتاہوں کہ ان سب نے اپنی بے لوث اور انتھک کوششوں سے عالمی اخبار کو باوقار طریقہ سے دنیا میں مسلسل ایک سال سے دنیا کے سامنے پیش کیا ۔ اللہ سے دعا ہے کہ یہ سلسلہ تا ابد قائم رہے۔ آمین
اس عالمی اخبار کے آغاز پر صفدر ھمدانی صاحب نے یکم اکتوبر 2008 ء کو عالمی اخبار کے جن مقاصد کا اظہا ر کیا اس کی تفصیل ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے اپنے 21 اکتوبر 2009 ء کے مضمون “ کچھ حسین یادیں “ میں لکھی ہیں:
ان مقاصد کو میں اپنے الفاظ میں یہا ں پیش کرنے کی کوشش کررہا ہوں اس شرط پر کہ اگر میری تحریرمیں کوئی غلطی نظر آئے تو براہ مہربانی صفدرھمدانی صاحب اس کی تصحیح کردیں۔
1۔ غیر جانبدار اور حقائق پر مبنی خبریں دینا
2۔ خبر اور خبریت کے معیار پر کبھی کوئی سودے بازی نہ کرنا
3۔ جرائتِ اظہار اور خیال کا ابلاغ اور حق گوئی سے کام لینا۔
4۔ تصویر کے سارے پہلووں کو دنیا کے سامنے پیش کرنا
5۔ پاکستان کی بقا اور سلامتی اور ملی اور قومی غیرت کا تحفظ کرنا ۔
6۔صحافتی سچائیوں پر پورا اترنا۔
۔۔۔۔۔
ان مقاصد میں اگر کئی اورمقاصد عالمی اخبار کی انتظامیہ شامل کرنا چاہے تو ضرور شامل کردے تاکہ یہ فہرست مکمل ہوجائے۔
میرا جہاں تک خیال ہے عالمی اخبار ان مقاصد کے علاوہ مندرجہ ذیل مقاصد کے حصول میں بھی انتہائی کامیاب قدم اٹھارہا ہے
1۔ اردو یونی کوڈ فانٹ میں اردو لکھنے کے لیے بلا گ نگاروں اور مبصرین کی ہمت افزائی کرنا ۔
2۔اردو دنیا کے ابھرتے ہوئے سخنوروں کی ہمت افزائی کرنا۔

50 thoughts on “یہ تمھارا اور ہمارا عالمی اخبار ہے”

  1. میں قارئین سے معافی چاہتا ہوں کہ جب سے بلاگ لکھنےکی فانٹ علوی نستعلیق میں تبدیل ہوگئی ہے ، مجھے اس میں بلاگ لکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے حالانکہ میں نے زرقا مفتی صاحبہ کے مشورے کے مطابق علوی نستعلیق کو بھی اپنے کمپئوٹر میں شامل کرلیا ہے ۔ مگر جب بھی میں ے یا ہ کے حروف کو بلاگ کے حصہ میں لکھتا ہوں تو وہ چوکور ( مستطیل ) شکل میں نمودار ہوتے ہیں ۔
    اس کا حل میں نے ( زرقا مفتی صاحبہ کے مشورے کے مطابق ) یہ نکالا ہے کہ میں کسی دوسرے بلاگ میں اپنی تحریر لکھوں اور پھر اس کو کٹ اور پیسٹ cut/pasteکے ذریعہ بلاگ کے حصہ میں منتقل کردوں۔ تو اس طریقہ سے آج اس بلاگ کو شروع کیا ہوں۔

    بہرحال : جو کچھ بھی اب تک اس تبصرہ میں لکھا ا سکااس بلاگ کے اصل موضوع یعنی عالمی اخبار سے کوئی تعلق نہیں ۔ جس کی معافی چاہتا ہوں ۔
    ایک بات شروع ہی سے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں عالمی اخبار کی انتظامیہ کا کوئی رکن نہیں ہوں اس لیے جو کچھ بھی لکھرہا ہوں وہ میری اپنی رائے ہے ۔ اس کو عالمی اخبار کی انتظامیہ کی رائے یا موقف نہ سمجھا جائے ۔ اگر عالمی اخبار کی انتظامیہ کی “ نظر ثانی“ میرے اس تبصرے کو یا اس کے کسی حصہ کو “ حذف “ بھی کردے تو اس کی مرضی ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بلاگ کا اصل موضوع ہے عالمی اخبار ، اس کے مقاصد اور اسکا پاکستان کے دوسرے اخبارات سے سرسری موازنہ:

    عالمی اخبار دنیا کے دوسرے اردو اخبارات سے اس معاملہ میں سبقت لے جاتا ہے کہ یہ کسی کمپنی یا ملک یا کسی سرمایہ دار یا کسی سیاسی یا مذہبی پارٹی کی سرپرستی میں نہیں چل رہا ہے۔ اس کی وجہ سے اس کو اپنے غیر جانبدارانہ موقف پر چلنے کی آزادی ہے۔

    اس اخبار کو صرف اور صرف اسکی انتظامیہ اوراس کے بے لوث معاونین نے اپنی دن رات کی محنت سے پروان چڑھایا ہے اور بارہ مہینوں سے بغیر کسی تعطل یا تامل کے اسکو چلایا ہے اور اپنے اصولوں کو اور اپنے مقاصد کو کسی طرح بھی قربان نہیں کیا ہے۔

    شروع شروع میں اس میں لکھنے والے مضامین اور بلاگ اور کالموں کو “ نظر ثانی “ کے بغیر شایع کیا گیا مگر جب انتظامیہ نے یہ محسوس کیا کہ لکھنے والے بالکل آپے سے باہر ہوکر ایک دوسرے کی تنقیص اور تذلیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو تمام مضامین اور تبصروں پر مجبوراً “ نظر ثانی “ کی ضرورت پیش آئی ( یہ میرا خیال ہے)

    عا لمی اخبار چونکہ کسی اشتہار سے پا ک ہے اور وہ کسی سرمایہ دار ھلقے کی سرپرستی میں قائم ہوا اسلیے اسکو اپنی مشمولات کو آزادی سے دنیا کے سامنے پیش کرنے میں کوئی جھجک پیش نہیں آتی ۔

    دنیا ئے اردو کےدوسرے اخبارات ان تمام سرپرستوں کے مرہونِِ منت رہتے ہیں جو ان کو اپنے اشتہارات دے کر انکی روزی روزگار کا وسیلہ بنے ہوئے ہیں ۔ مگر عالمی اخبار اس معاملہ میں خود مختا ر ہے ۔

    اس کے علاوہ دنیا ے اردو کے کالم اور ببلاگ نگاروں کی اکثریت ان پر مبنی ہے جو کسی نہ کسی پارٹی کے سرپرستی میں کام کررہے ہیں۔ کوئی مسلم لیگ نون کا ہمدرد ہے تو کوئی پی پی پی کا یا کوئی مسلم لیگ قاف کا یا پھر کوئی ایم کیوایم کا ۔ جس کے وجہ سے یہ افراد صرف اورصرف اپنی پارٹی یا اپنے سرپرست ہی کی حمایت میں اپنی تحریر کو اس طرح لکھتے ہیں کہ غیر شعوری طور پر پڑھنے والا یا سننے والا انکے سرپرست کو اچھا اور انکے حریف کو برا سمجھنا شروع کردے ۔ ( مثال کے طور پر جنگ اخبار کے کالم نویسوں میں عرفان صدیقی ، ہارون الر شید اور حامد میر اور ڈاکٹر صفدر محمود ، نذیر ناجی اور ایاز میر صاحبان کے کالموں کو پڑھیے ۔ )

    شکر ہے کہ چند بے لاگ کالم نگار جن میں کشور ناہید صاحبہ اور اب ڈاکٹر قدیر خان صاحب شامل ہیں ، اپنے اپنے حصوں کی شمع جلا رہے ہیں اس لیے کہ وہ کسی کی سرپرستی میں کام نہیں کرتے۔ و ہ صرف اور صرف پاکستان کے مفاد کو محفوظ رکھنے کی خاطر اپنے مضامین لکھتے ہیں۔

    عالمی اخبار بھی صرف پاکستان کے مفاد کی حفاظت کی طرف کوشاں ہے ۔ وہ جمہوریت کا علم بردار ہے اور آمریت کا مخالف ہے ۔
    عالمی اخبار پاکستان کے ضمیر کی آواز ہے اس لیے جب کبھی کسی طرف سے پاکستان کے مفاد کے خلاف حملہ ہوتا ہے تو عالمی اخبار اپنی بساط اور استطاعت کے مطابق اس حملے کو رد کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔

    آج کل پاکستان جنگ کی حالت میں ہے ۔ عالمی اخبار پاکستان دشمن عناصر کے خلاف ہے اور اپنے پوری پوری کوشش سے پاکستان کے مجاہدوں اور اس کی آزادی کی حفاظت کرنے والوں کی حمایت میں اپنی توانائی صرف کررہا ہے ۔

    کیا کوئی دوسرے پاکستانی اخبار غیر ضروری موضوعات پر اپنا وقت ضایع نہیں کررہے ہیں ؟

    کیا دوسرے پاکستانی اخبارات پاکستان کے اندر بد انتظامی ، بدکاری ، رشوت ستانی ، بد عملی اور حرامکا ری اور غریبوں کا استحصال اور اپنے رہنماوں کی خود غرضی اور عوام سے بیزارگی پر کچھ لکھ رہے ہیں اور پاکستانی رہنماوں کو جھنجھوڑ رہے ہیں ؟

    میرے خیال میں ان سوالات کےجوابات نفی میں ہیں ۔

    عالمی اخبار کے مقاصد اور عزائم بلند ہیں ۔ حالانکہ اس کے لکھنے والوں میں سے بیشتر افراد پاکستان سے باہر ہیں مگر وہ سب پاکستان کے اندر بسنے والوں کی مشکلوں اور مصیبتوں اور غموں میں برابر کے شریک ہیں اور اپنی طرف سے دامے درمے سخنے مدد کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔
    جہاں تک برقی صحافت کا تعلق ہے جس میں بہت سارے پاکستانی ٹیلیوژن اسٹیشن شامل ہیں ان میں سے چند ایک اینکر Anchor ناظم بہت ہی خوش اسلوبی سے پاکستان کے مسائل پر بحث اور مذاکرے پیش کرتے ہیں اس لیے میں انکا موازنہ عالمی اخبار سےنہیں کررہا ہوں ۔ مگر ان میں بھی حامد میر اور جاوید چوھدری جیسے ناظمین بھی ہیں جو اپنے طرف سے رائے عامہ کو اپنے موقف کی طرف موڑنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔

    مجھے ان ناظمین اینکرز میں سلیم صافی ، نجم سیٹھی ، معید پیرزادہ ، ڈاکٹر دانش ، مبشر لقمان، طلعت حسین ، شاہد مسعود ، کاشف عباسی، فیصل قریشی ، اور انکے علاوہ نسیم زہرہ ، مہر بخاری ، عاصمہ چوھدری ، عاصمہ شیرازی، عائلہ ملک کی بے باک نظامت پسند آتی ہے ۔ مجھے پاکستان کے ان صحافیوں کی حق گوئی اور بے باکی محسوس کر کے خوشی ہوتی ہے ،

    ویسے دوسرے پروگراموں میں “ حسبِ حال “ کافی تفریحی اور ساتھ ہی ساتھ تعمیری پروگرام ہے ۔ حسب حال میں “ عزیزی “ کا کردار بھی خاصا دلچسپ ہوتا ہے اور آفتاب اقبال اور نازیہ کی باتیں بھی خاصی معلوماتی ہوتی ہیں ۔

    ایک اور پرواگرام بھی خاصہ دلچسپ ہے جسے شائد پاکستانی خواتین کافی پسند کرتی ہیں وہ ہے “ بیگم نوازش علی “ کی محفل ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں عالمی اخبار کی بات کررہا تھا مگر پاکستان کی برقی صحافت کے متعلق لکھنا شروع کیا جو بذات خود ایک الگ موضوع ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔
    یہ تمھارا اور ہمارا عالمی اخبار ہے :
    فقط:
    خیر اندیش :
    منظور قاضی از جرمنی

  2. ہمارے محترم بھائی شمس جیلانی نے کینیڈا سے ایک قطعہ ارسال کیا ہے

    قطعہ

    عالمی اخبار کی پہلی سالگرہ

    میں بتا ؤں کیا تمہیں کیاعالمی اخبار ہے
    جس کا میرِ کارواں خود صفدرِ جرار ہے
    جھوٹ پاؤگے نہیں جس کا ہے سچائی شعار
    اس میں جو بھی لکھ رہا ہے صاحب َ کردار ہے

  3. تصحیح : ھلقے کی بجائے حلقے پڑھیے ۔ شکریہ ۔
    کمپوزنگ کی دوسری تما م کوتاہیو ں کی معافی چاہتا ہوں ۔ ہ

  4. میں تمام لکھنے پڑھنے والوں سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ عالمی اخبار کی سالگرہ کے حوالے سے کوئی نظم ، قطعہ یا اشعار اسی بلاگ میں لکھیں تاکہ ہم زرقا سے درخواست کر سکیں کہ یکم نومبر کو یہاں پر لکھے ہوئے تمام اشعار ادبی صفحے کی رونق بنا دیں اوراس طرح عالمی اخبار کی پہلی سالگرہ آپ سب کی شمولیت سے یادگار ہو جائے ۔۔

  5. عالمی اخبار ۔۔اور ۔۔ خوشی ۔۔

    “ خوشی
    ایک عجیب الوہی سا احساس تکمیل ہے
    جس کا ایک وجود ہمیشہ ہی سے رہا ہے
    آتش شوق میں کسی نہ کسی کو جگاتا ہی رہا ہے
    خوشی جو
    کبھی بے کیف زندگی میں رنگ بھردے
    تو
    کبھی اضطراب کی کشتی کو پار لگادے
    وہی خوشی
    جو اپنے وجود میں اساطیری تو کبھی مجسم نگار ہے
    گزرے برس نومبر کی پہلی تاریخ تھی
    فراز کوہ سے بلند ۔۔ رفعتوں کے حصول کی تمنا جاگی تھی
    ایک ایسی ہی خوشی نے در دل پہ دستک دی تھی
    پھر یوں ہوا کہ دعاؤں نے قبولیت کے گیت گائے
    خوش بختی ، شہرت اور عظمت نے بھی سر جھکائے
    خوشی
    جو سراپا سنگھار ہے
    جو مجسم بہار ہے
    یہ ۔۔ خوشی ۔۔
    عالمی اخبار ہے ۔۔

  6. ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اور ڈاکٹر شمس جیلانی صاحب نے اپنے اشعار سے اس بلاگ میں جان ڈالدی ۔
    قارئین سے عرض ہے کہ یہ بلاگ صرف میرا نہیں بلکہ آپ سب عالمی اخبار کے شیدائیوں کا بلاگ ہے۔ اسکی پذیرائی عالمی اخبار کی پزیرائی ہے ۔
    دعا کرتے رہیے کہ عالمی اخبار اسی طرح سالگرہوں پر سالگرہیں مناتا رہے اور اردو اور پاکستان کی خدمت کرتا رہے۔
    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی از جرمنی

  7. عالمی اخبار اک معیار ہے
    ………………………….

    عہدِ کذب و شر میں اک کردار ہے
    صاحبانِ درد کا اظہار ہے
    …..
    لکھنے والے اس کے سب اہلِ ہُنر
    اہلِ علم و فکر کا شہکار ہے
    ……
    قارئیں اس کے سبھی حق آشنا
    سامنے ہر جبر کے دیوار ہے
    ……
    بس یہی ہے ایک سادہ سا ھدف
    صاف ہر اک ظلم سے انکار ہے
    …..
    قافلہ حق آشنا لوگوں کا یہ
    مصلحت سے ہر کوئی بیزار ہے
    …..
    مرحلہ سچ بولنے کا آئے تو
    یہ قلم سچ پوچھیئے تلوار ہے
    …..
    ہر خبر میزان میں تولی ہوئی
    کالموں میں گرمئی گفتار ہے
    ……
    چھوڑ کر وہ جا چکے اس بزم کو
    جنکا مقصدعلم کا بیوپار ہے
    …..
    اک سہارا رحمتِ پروردگار
    ہر سہارا دوسرا بیکار ہے
    ….
    قافلے میں ہم فقیروں کے سنو
    ساتھ ہے جو صاحبِ ایثار ہے
    …..
    آپ ہی کی ہے عطا کردہ سند
    عالمی اخبار اک معیار ہے
    ……
    کھا کے صفدر دوستوں سے بھی فریب
    ہاں ضمیرِسر کشاں بیدار ہے

  8. محترم شمس جیلانی صاحب کے تیسرے مصرعے میں کمپوزنگ کی غلطی کی وجہ سے لفظ ” ہے ” لکھنے سے
    رہ گیا ہے اسے یوں پڑھا جائے ” جھوٹ پاؤگے نہیں جس کا ہے سچائی شعار ” اللہ شمس صاحب کو اور
    ان کے قلم کو تا دیر ہمارا رہنما و معاون رکھے وہ ہمارے لئے من الشمس ہیں. آمین ثم آمین . آپ سب کی محبتوں کا امین

  9. قارئین سے معافی چاہتےہوے یہ عرض کرتا ہوں کہ میرے ابتدائی تبصرے کے اس جملے کو لفظ “نہیں “ کے ساتھ یوں پڑھا جائے :

    “ عا لمی اخبار چونکہ کسی اشتہار سے پا ک ہے اور وہ کسی سرمایہ دار حلقے کی سرپرستی میں “ نہیں “ قائم ہوا اسلیے اسکو اپنی مشمولات کو آزادی سے دنیا کے سامنے پیش کرنے میں کوئی جھجک پیش نہیں آتی “
    شکریہ :
    منظور قاضی از جرمنی

  10. عشرت معین سیما برلن ،جرمنی سے بہت محبت سے لکھتی ہیں ۔۔

    ایک دعا،ایک تحفہ عالمی اخبار کی نذر

    سالگرہ کا دن آیا ہے
    سارے جگنو سارے موسم سارے رنگ
    ہیں تیرے نام
    تیرے نام پہ کالی رات نے اپنا سینہ چاک کیا
    تیرے نام پہ سورج نے اس دنیا کو پرنام کیا
    تیرے نام لکھوں میں اپنے سارے لفظ
    پھر یہ لفظ اگائیں
    ذہن کے بنجر کھلیانوں میں
    سوچ کی لامتناہی فصلیں
    میرے مولا میری اس خواہش پہ تو رحمت برسانا
    سوچ کے کھلیانوں کو ہرا بھرا ہی رکھنا
    میری بستی میں جگنو، موسم اور رنگوں کو زندہ رکھنا

  11. محترم منظور قا ضی جرمنی سے ہمارے وہ ساتھی ہیں جن کے ساتھ ہونے پر عالمی اخبار کو فخر ہے جو صرف اردو کی محبت میں ہمارے ساتھ دن رات کی کاوشوں میں ہمہ وقت شامل رہتے ہیں — انہوں نے عالمی اخبار کے لیئے لکھا تھا ..

    ہم کو اپنی جاں سے پیارا عالمی اخبار ہے
    مونس و ہمدم ہمارا عالمی اخبار ہے

    دستِ صفدر کا سنوارا عالمی اخبار ہے
    چشم نگہت کا ستارا عالمی اخبار ہے

    شیخ امجد کا نکھارا عالمی اخبار ہے
    زرقا مفتی کا دلارا عالمی اخبار ہے

    بزمِ اردو کا سہارا عالمی اخبار ہے
    امنِ عالم کا ادارا عالمی اخبار ہے

    بحرِ اردو کا کنارا عالمی اخبار ہے
    یہ تمھارا اور ہمارا عالمی اخبار ہے

  12. یہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی ذرّہ نوازی ہے کہ وہ مجھے عزت کی نظرو ں سے دیکھتی ہیں اور میری کاوشوں کو سراہتی ہیں اور میرے دل سے نکلی ہوئی نظم کو اس بلاگ میں پیش کرچکی ہیں :
    مگر
    شیخ سعدی کے اس شعر کو دہرانے پر اکتفا کرتا ہوں کہ:
    جمالِ ہم نشیں در من اثر کرد
    وگرنہ من کہ ایک خاکم کہ ہستم
    ہ۔۔۔۔۔
    عالمی اخبار پائندہ تا بندہ باد ، شاد باد منزلِ مراد

  13. میں ، محترمہ عشرت معین سیما صاحبہ کے عالمی اخبار کے لیے دعائیہ تحفہ پر آمین ثمہ آمین کہتا ہوں ۔

  14. دوستو یہ کوئی ضروری تھوڑی ہے کہ سب اشعار ھی لکھیں بھئی جس کوجو آتا ھے وہ ہی لکھ دے ۔۔

  15. ڈاکٹر شمس جیلانی صاحب کا عالمی اخبار کے لیے قطعہ معنی کے لحاظ سے بہت ہی خوب ہے۔
    مگر اس کے تیسرے مصرعہ کے متعلق امین ترمذی صاحب نے یہ فرمایا ہے کہ اس میں لفظ “ ہے “ کی کمی ہے ۔
    شمس جیلانی صاحب کا پورا قطعہ یوں ہے:
    میں بتا ؤں کیا تمہیں کیاعالمی اخبار ہے
    جس کا میرِ کارواں خود صفدرِ جرار ہے
    جھوٹ پاؤگے نہیں جس کا ہے سچائی شعار
    اس میں جوبھی لکھ رہا ہے صاحبِ کردار ہے
    ۔۔۔۔
    امین ترمذی صاحب نے اپنے 23 اکتوبر کے تبصرےمیں فرمایا ہے کہ : “محترم شمس جیلانی صاحب کے تیسرے مصرعے میں کمپوزنگ کی غلطی کی وجہ سے لفظ ” ہے ” لکھنے سے رہ گیا ہے اسے یوں پڑھا جائے ” جھوٹ پاؤگے نہیں جس کا ہے سچائی شعار ” ۔“
    ۔۔۔۔۔۔
    مشکل یہ ہے کہ امین ترمذی صاحب کے تجویز کردہ تیسرے مصرعہ میں اور شمس جیلانی صاحب کے قطعہ کے تیسرےمصرعہ میں کوئی فرق نظر نہیں آتا :
    کیا امین ترمذی صاحب یہ کہنا چاہتے تھے کہ اس مصرعہ کو یوں پڑھا جائے ؟
    جھوٹ پاوگے نہیں “ ہے “ جس کا ہے سچائی شعار ؟
    یا یوں پڑھا جائے :
    جھوٹ پاوگے نہیں “ ہے “ جس کا سچائی شعار ؟
    اس کی تشریح امین ترمذی صاحب یا شمس جیلانی صاحب فرمادیں تو ہمارے علم میں اضافہ ہوگا۔
    ۔۔۔۔۔۔
    ایک مبتدی کی حیثیت سے میرا یہ خیال ہے کہ تیسرا مصرعہ باقی کے مصرعوں کے وز ن کے مطا بق نہیں ہے ۔ اس میں لفظ “ ہے “ کو ادھر سے لے کر ادھر لکھا جائے تب بھی اس کا وزن وہ نہیں ہے جو بقیہ مصرعوں کا ہے:
    میرے خیال میں یہ تیسرا مصرعہ یوں بھی لکھا جاسکتا ہے کہ:
    جھوٹ کہ سکتا نہیں جو صادق و دیندار ہے
    اور دوسرے مصرعہ کے ساتھ ساتھ یہ بھی لکھا جاسکتا ہے کہ :
    اس پہ ہردم مہرباں خود حیدرِ کرار ہے
    ۔۔۔۔
    بہر حال : یہ ایک مبتدیانہ رائے ہے جسے میں ڈرتے ڈرتے پیش کررہا ہوں اس لیے کہ مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ علم و فن کے معاملے میں : “ من کہ اک خاکم کہ ہستم “

  16. میرا ، شمس جیلانی صاحب کے قطعہ کے تیسرے مصرعہ کے وزن میں نہ ہونے کا خیال بالکل غلط معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ جب میں اسے بار بار پڑھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ وزن میں ہے ، اس لیے میرے اوپر کے تبصرے میں اس تیسرے مصرعہ کے بارے میں میری اپنی تحریر اور تجویز کو غیر ضروری سمجھا جائے۔
    شمس جیلانی صاحب سے معذرت کے ساتھ :
    منظور قاضی از جرمنی

  17. محترم و مکرم جناب صفدر رضا صاحب بہت عزیز بہن ڈاکٹر نگہت نسیم ،اور عالمی اخبار کی انتظا میہ اور قاریئن کو عالمی اخبار کی پہلی سالگرہ کے پر مسرت موقعہ پر دل کی اتھاہ گہرایئوں سے آپ سب کو بہت بہت بہت مبارک باد،اور خرقہ پوش جناب صفدر رضا ھمدانی صاحب اورمسیحا پیاری نگہت نسیم کو اعلی ادبی ذوق کے حامل منتظمین کو ۔2108 میں عالمی اخبار کی صدسالہ سالگرہ کی پیشگی مبارک باد۔۔۔صحافتی تقدس کا معیار عالمی اخبار ھے۔۔یکم نومبر2008 سے یکم نومبر 2009 تک کے سفر میں
    آپ لوگ جن کڑی کھٹنایئوں سے گزرے ھونگے۔۔۔جس کڑی مشقت سے گزرے ھونگے،
    ایک پاکیزہ صحافت کا نیا معیار ھے
    حق پرستی اس کی شیوہ غیر جانب دار ھے
    منکسر،خلاق حق گو اور خوش اطوار ھے
    محترم صفدر رضا کا عالمی اخبار ھے

    اللہ پاک آپ سب کو سلامت رکھے۔امین

  18. میں بھی آپ کے دیگر دوستوں کی جناب منظور قاضی کی تایئد کرونگی1۔ غیر جانبدار اور حقائق پر مبنی خبریں دینا
    2۔ خبر اور خبریت کے معیار پر کبھی کوئی سودے بازی نہ کرنا
    3۔ جرائتِ اظہار اور خیال کا ابلاغ اور حق گوئی سے کام لینا۔
    4۔ تصویر کے سارے پہلووں کو دنیا کے سامنے پیش کرنا
    5۔ پاکستان کی بقا اور سلامتی اور ملی اور قومی غیرت کا تحفظ کرنا ۔
    6۔صحافتی سچائیوں پر پورا اترنا۔ اردو یونی کوڈ فانٹ میں اردو لکھنے کے لیے بلا گ نگاروں اور مبصرین کی ہمت افزائی کرنا ۔
    2۔اردو دنیا کے ابھرتے ہوئے سخنوروں کی ہمت افزائی کرنا۔
    محترم بھائ شمس جیلانی کے خوبصورت قطعہ پر دل سے بے احتیار واہ واہ کی صداآی

    اور بہت پیاری نگہت نسیم ما شا اللہ کتنی سہولت اور خوبصورتی سے آپ اپنے احساس کو لفظوں میں ڈھالتی ھیں
    ایک نظم بھی آپ کو ارسال کرنی ھے۔
    میرے چھوٹےبھائ سید صفدررضا رضوی ان دنوں کویت آۓ ھوۓ ھیں۔
    انکی طرف سے بھی آپ سب کو اس کا میابی اور سالگرہ پر بہت مبارک باد
    عالمی اخبار کے میر کارواں کی بر ملا اور پر اثر شاعری ۔
    ھر شعر سچا اور دل پر اثر اندازھوا اس احساس کو تقویت ملی
    کہ بہت تاریکی میں ایک جگنو بھی بہت حوصلہ دیتا ھے

    ——————————————————————————–

    ۔

  19. منظور قاضی صاحب نے جن دو نکات کا اضافہ کیا ہے اس میں ایک کی جانب میں پُر زور حمایت کرتے ہوئے تمام لکھنے والوًں کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ آج انٹرینٹ سے استفادہ کرنے والوً ں کی تعداد میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے وہ ہر لحاظ سے خوش ئیند ہے ۔ بس اگر تمام احباب مل کر ایسے لوگوں کو یونی کوڈ میں اردو لکھنے اور نیٹ کت تمام سائٹ پر اردو کے استعمال کی جانب متوجہ کرانے میں اگر کامیاب ہو گئے تو یہ بھی ایک نیا انقلاب ہوگا۔۔
    قاضی صاحب کے دوسرے نکتے میں اگر ادیبوں کو بھی شامل کیا جاسکےتوکیا بات ہے۔

  20. شاہین رضوی صاحبہ کا دلی شکریہ کہ انہوں نے عالمی اخبار کے اصولو ں پر اپنی اتفاقی رائے لکھی اور میرے مجوزہ مشوروں کی تائید کی ۔
    ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب کا بھی دلی شکریہ کہ انہوں نے اپنا حمایتی تبصرہ پیش کیا ۔ میں ان کی ہر بات کی تائید کرتےہوئے صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سخنور کامطلب ( لغت میں ) : شاعر ، مقرر اور عالم ہے
    سُخن پرداز : کا مطلب : شاعر ، ادیب ، مقرر ہے
    سخن گو : کا مطلب شاعر ، خوش بیان ہے
    سخن طراز: کا مطلب : شاعر ، فصیح البیان ہے
    اب یہ ان کی مرضی ہے کہ وہ سخنور اور ادیب کے الفاظ استعما ل کریں یا پھر سخن پرداز افراد کے الفاظ استعمال کریں۔
    مقصد ابھرتے ہوئے سخنوروں ( شاعروں اور ادیبوں ) کی ہمت افزائی سے ہے ۔
    ڈاکٹر خواجہ اکرا م صاحب کے تبصروں سے میں بہت کچھ سیکھتا ہوں ، امید کہ وہ اپنے تبصروں سے عالمی اخبار کے پڑھنے والوں کو مستفید فرماتے رہینگے۔

  21. محترم منظور قاضی صاحب سلام علیکم
    شکریہ ۔ بات در اصل یہ ہے کہ ہم رائج الوقت مفاہیم کو ہی ترجیح دیتے ہیں ۔ اس لیے میں نے لکھا وگرنہ آپ کی بات سے اتفاق تو ہے ہی۔ ۔
    دوسری بات کی بھی تائید اور دشواری کا ذکر ضروری ہے۔ میرے کمپیوٹر میں بھی علوی نستعلیق موجود ہے ، تاہم دشواری ہوتی ہے ۔ الفاظ بلاگ پر واضھ نہیں ہوتے اس لیے بہت سی غلیطیاں رہ جاتی ہیں اور خاص طور پر میرے جیسے لکھنے والے جو لکھ کر دوبارہ دیکھتے نہیں ۔ ان کے لیے اور بھی پریشانی ہے ۔ اس لیے بلاگ میں جو فونٹ موجود ہے اس کو تبدیل کیا جائے یا کوئی اور ترکیب نکالیں ۔ کیوں نہ Times new room , Arial
    کو ہی default font رہنے دیا جائے

  22. ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب ہندوستان میں اردو کا چراغ روشن رکھ رہے ہیں اس لیے میرے دل میں انکی بے حد عزت اور قدر ہے۔
    وہ چونکہ اردو میں اپنی اعلیٰ تعلیم ( پی ایچ ڈی ) حاصل کرچکے ہیں اس لیے انکی باتیں تحقیق کی بنیاد پر ہوتی ہیں اس لیے ان میں کافی وزن ہوتا ہے۔
    حال ہی میں ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے مجھے ( اور میرے خیال میں عالمی اخبار کے کئی کرم فرماوں کو ) ایک ویب سائٹ ڈیلی آگ بھجوائی جس کو پڑھکر یہ محسوس ہوا کہ اردو ہندوستان میں زندہ اور تابندہ ہے اور وہ دیوناگری کے سونامی ( سیلاب ) کا مقابلہ کرکے آگے بڑھ رہی ہے: یہ ویب سائٹ پڑھنے کے قابل ہے :
    http://dailyaag.com/aag/epaper/magazine/magazine.html
    ۔۔۔۔۔
    جہاں تک ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب کے تکنیکی (فنی ) مشورہ کا تعلق ہے اس کے بارے میں امجد شیخ اور زرقا مفتی صاحبہ ہی کچھ کہ سکتے اور کرسکتے ہیں۔ میں اس معاملے میں بالکل پیدل ہوں ۔

    مجھے تبصرے لکھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی لیکن “ بلاگ“ لکھنے کی جو موجودہ فانٹ ہے اس میں لکھنے کی بے حد دشواری پیش آتی ہے ( جس کا تذکرہ میں اپنے ابتدائی تبصرے میں کرچکا ہوں ) ۔

    کاش کہ بلاگ لکھنے کا طریقہ ( اردو فانٹ وغیرہ ) تبدیل نہ ہوتا اور وہی پرانا طریقہ موجود ہوتا جس میں اردو فانٹ بھی وہی ہوتی جو تبصرے لکھنے کی اردو فانٹ ہے اور جس میں مشمولات کے لکھنے کی بھی اتنی ہی جگہ ہوتی جتنی تبصرے لکھنے کے لیے ہوتی ہے۔ موجودہ بلاگ لکھنے کی جگہ بالکل تنگ ہوکر سکڑ گئی ہے جس کے باعث یہ معلوم کرنا مشکل ہوتا ہے کہ ہم کمپوزنگ کی کیا کیا غلطیا ں کررہے ہیں ۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب نے جو الفاظ “ واضھ “ اور “ غلیطیاں “ کمپوز کی ہیں وہ اسی مشکل مسئلہ کی وجہ سے درست ہونے سے رہگئیں ۔ ورنہ ڈاکٹر صاآحب انکی تصحیح ضرور کرتے ۔
    بہر حال : مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ میں اکیلا ہی اس مشکل سے دوچار نہیں بلکہ ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب بھی اسی مشکل سے دوچار ہیں ۔
    امید ہے کہ جلد از جلد عالمی اخبار کے بلاگ لکھنے کی فانٹ اور تبصرے لکھنے کی فانٹ میں وہی ہم آہنگی پیدا ہوجاےگی جو پہلے تھی۔ ( یہ میرا اپنا خیال ہے ، ویسے میں ہر حال میں خوش ہوں )
    ۔۔۔۔۔
    خیر اندیش
    منظور قاضی از جرمنی (میونخ کی ایک قریبی بستی سے )

    ۔۔۔

  23. میرے پاس ایک صاحب نے یہ ایک دلچسپ نظم اس نوٹ کے ساتھ روانہ کی کہ۔“ آج سے پچاس سال قبل راندھیر ( بھارت ) کے ایک حکیم نے کہی تھی جو شاعر بھی تھے ( اس حکیم شاعر کا نام نہیں لکھا ) مگر یہ لکھا کہ ،“ یہ نظم باپو محمد ابراہیم صاحب نے عنایت کی ہے:
    اس دلچسپ نظم کا عنوان ہے: علاج بالغذا
    چونکہ “ یہ تمھارا اور ہمارا عالمی اخبار ہے “ میں اس نظم کو اس بلاگ میں پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں، مگر اس درخواست کے ساتھ کہ اس میں جو گھریلو نسخے تجویز کیے گئے ہیں ان پر بھروسہ کرنا یا نہ کرنا آپ کا کام ہے ، اس لیے کے اس میں سے چند ایک نسخے تو مفید ثابت ہوسکتے ہیں مگر چند نہیں:
    نظم :علاج بالغذا :
    جہاں تک کام چلتا ہو غذا سے
    وہاں تک چاہیے بچنا دوا سے

    اگر خوں کم بنے ، بلغم زیادہ
    تو کھا گاجر ، چنے ، شلغم زیادہ

    جگر کے بل پہ ہے انساں جیتا
    اگر ضعفِ جگر ہے کھا پپیتا

    جگر میں ہو اگر گرمی کا احساس
    مربّہ آملہ کھا یا اننا س

    اگر ہوتی ہے معدہ میں گرانی
    تو پی لے سونف یا ادرک کا پانی

    تھکن سے ہوں اگر عضلات ڈھیلے
    تو فوراً دودھ گرما گرم پی لے

    جو دکھتا ہو گلا نزلے کے مارے
    تو کر نمکین پانی کے غرارے

    اگر ہو درد سے دانتوں کے بے کل
    تو انگلی سے مسوڑھوں پر نمک مَل

    جو طاقت میں کمی ہوتی ہو محسوس
    تو مصری کی ڈلی ملتان کی چوس

    شفا چاہے اگر کھانسی سے جلدی
    تو پی لے دودھ میں تھوڑی سی ہلدی

    اگر کانوں میں کچھ تکلیف ہووے
    تو سرسوں کا تیل پھائے سے نچوڑے

    اگر آنکھوں میں پڑجاتے ہوں جالے
    تو دکھنی مرچ گھی کے ساتھ کھالے

    تپِ دق سے اگر چاہے رہائی
    بدل پانی کے گننا چوس بھائی

    دمہ میں یہ غذا بے شک ہے اچھی
    کھٹائی چھوڑ کھا دریا کی مچھلی

    اگر تجھ کو لگے جاڑے میں سردی
    تو استعمال کر انڈ ے کی زردی

    جو بدہضمی میں تو چاہے اِ فاقہ
    تو دو اک وقت کا کرلے تو فاقہ
    ۔۔۔۔

    نوٹ : طاقت بڑھانے کے لیے ملتان کی مصری چوسنا اور تپِ دق کے علاج کے لیے گننا چوسنا اور پھر دمہ کے علاج کے لیے دریا کی مچھلی کھانا اور پھر یہ کہ آنکھو ں کے جالے کو دور کرنے کے لیے “دکھن کی مرچی گھی کے سا تھ“ کھانا یہ سب ٹوٹکے اور نسخے خطرناک معلوم ہوتے ہیں جو کوئی ‘نیم حکیم خطرہء جاں “ ہی تجویز کرسکتا ہے۔
    میں جانتا ہوں کہ “ دکھنی مرچ “ کتنی تیز ہوتی ہے ( اس لیے کہ میری پیدائش اورنگ آباد دکھن کی ہے) اس مرچ کو گھی کے ساتھ کھانے سے آنکھوں کے جالے دور ہوں یا نہ ہوں ، آنکھوں سے آنسو نکلتے ہیں اور پیشانی سے پسینہ ٹپکتا ہے ، اور پھر گھی کے کولیسٹرول سے دل کی شریانیں بھی بند ہوجایا کرتی ہیں ( یہ میرا آزمایا ہوا نسخہ ہے، جس کو آپ سب نہ آزمائیں توہی اچھا ہے ) ۔
    بہرحال :
    خیر اندیش :
    منظور قاضی از جرمنی

  24. آج مجھے ای میل کے ذریعہ ایک صحافی اظہار الحق صاحب کا مضمون مندرجہ ذیل لنک کی صورت میں وصول ہوا :
    http://columns.izharulhaq.net/
    اس مضمون میں پاکستان کی موجودہ صحافت کے اس رخ کو پیش کیا گیا جس نے پورے پاکستان پر کافی حد تک قابو پالیا ہے۔ اس مضمون میں ٹی وی کے میزبان ناظمین کی کارکردگی کے بھیانک پہلو کو پیش کیا گیا ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے اپنے سرپرستوں کے ایجنڈوں کو پاکستان بھر میں ہر ہر طریقہ سے پورا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انکو پاکستان کا خیال نہیں ہے بلکہ اپنے اپنے سرپرستوں اور اپنے اپنے ایجنڈوں کی تکمیل کا خیال ہے۔
    اس لحاظ سے عالمی اخبار انتہائی بلند مقام رکھتا ہے اور یہ کہ سکتا ہے کہ وہ پاکستان کے کسی سرمایہ دار ، جاگیردار اور بیوپاری یا کسی سیاسی پارٹی کا محتاج نہیں ہے ۔ اسی لیے وہ حق گوئی اور بے باکی سے کام لے کر جو بھی کہتا ہے ایک خود مختار ادارے کی حیثیت سے کہتا ہے۔

  25. ابھی ابھی میرے چھوٹے بھائی مسعود قاضی نے اپنی ایک تازہ غزل بذریعہ ای میل بھجوائی ہے جس کے اشعار حالاتِ حاضرہ کی عکاسی کرتے ہیں ۔
    ملاحظہ کیجئے :
    سن کے جی د ہلتا ہے ، خاص و عام کی باتیں
    ہورہی ہیں سڑکوں پر انتقام کی باتیں

    بعد میں تو خود وہ بھی امن ، امن چیخیں گے
    آج کل جو کرتے ہیں قتلِ عام کی باتیں

    وہ نظام آیا تو خود بھی مارے جاوگے !!
    شیخ آپ کرتے ہیں جس نظام کی باتیں

    سونے والے سوتے ہیں کس طرح خدا جانے؟
    ہم کو تو جگاتی ہیں، دن تمام کی باتیں

    کرکے کچھ دکھاو تو َ غیر منتظم لوگو !
    اب فضول لگتی ہیں انتظام کی باتیں

    ان حیسن لمحوں کو روح میں سمالیجیے
    کل کو یاد آیئں گیں آج شام کی باتیں
    ۔۔۔۔
    از : مسعود قاضی ۔ ڈلس ، ٹیکسس

  26. محترم جناب منظور قاضی صاحب ، جیسا کہ آپ نے کہا کچھ لکھنے کو تو میں آپ کی بات کو ٹال نہیں سکی ۔ ۔۔۔ یہاں ہم سب کا ساتھ چونکہ لکھنے کی وجہ سے ہے ۔۔ زاتی کوئی مقصد پوشیدہ نہیں ۔ ہر کوئی اپنا کام کر رہا ہے ۔ میں نے اپنا لکھنے کا سفر عالمی اخبار سے پہلے جس اخبار سے کیا تھا وہ بھی مجھے یاد ہے ۔۔۔ اور میرا خیال ہے بھولنا اتنا اسان نہیں ہوتا ۔ ۔آنلائن اخبار سے متعارف کروانے کا سہرہ متحرمہ ڈاکٹر نگہت نسم صاحبہ کے سر ہے ۔ اور جس ہستی نے میری حوصلہ افزائی کی ۔جن کی عزت میں آج بھی کرتی ہوں ۔۔۔ اگر انھوں نے ایسا نہ بھی کیا ہوتا تب بھی عزت کرنا میرا فرض بنتا ہے ۔۔۔۔ مجھے راہنمائی دینے والے جناب محترم صفدر ہمدانی صاحب ہیں ۔۔۔۔جن کی شب و روز محنت کا نتیجہ عالمی اخبار ہے ،،، جب اس پر بلاگ لکھنا شروع کیا تھا تو کل کی بات لگتی تھی ۔ لیکن آج ایک سال کا عالمی اخبار ہو گیا ۔۔۔ ماشاءاللہ ۔۔ دعا ہے کہیں برس تک یہ عالمی اخبار یوںہی اپنا سفر جاری رکھے ۔ اس میں شامل دوستوں کا کاروں بنتا رہے ۔۔ پیار اور محبت کے ساتھ ۔۔۔ بے غرضی حسد منافقیت سے پاک ہر کوئی اپنے حصے کی شمح جلاتا رہے آمین

  27. محترمہ تانیہ رحمان صاحبہ کا بہت بہت شکریہ کہ انہوں نے میری درخواست قبول کرکے عالمی اخبار میں اپنا تبصرہ شایع کیا۔
    مجھے یاد ہے کہ وہ عالمی اخبار کے بلاگوں کی منتظم اور میزبان ہونے کی حیثیت سے ہر نئے بلاگ لکھنے والے کا استقبال کیا کرتی تھیں۔
    انکی بے باک مگر پرخلوص تحریریں مجھے اب تک یاد ہیں۔
    وہ جہاں بھی رہیں خوش رہیں مگر کبھی کبھی عالمی اخبار کے بلاگوں میں بھی آتی جاتی رہیں تو عالمی اخبار کی رونق میں اضافہ ہوتا رہے گا ۔
    یہ خوشی کی بات ہے کہ وہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اور جناب صفدر ھمدانی صاحب کی رہنمائی کو یاد کرتی ہیں اور انکا شکریہ ادا کرتی ہیں۔ ان دونوں کی رہنمائی سے ہم سب مستفید ہورہے ہیں ۔
    تانیہ رحمان صاحبہ ہماری دعائیں اور نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں ۔
    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی از جرمنی

  28. عالمی اخبار کے پڑھنے والوں کو عظمی محمود صاحبہ کی یہ تازہ غزل پڑھکر بے حد خوشی ہوگی:

    جب کلی پھول ہو گئ یوں ہی
    پھول سے دھول ہو گئ یوں ہی

    اسکے طرزِ عمل کا کیا شکوہ ؟
    میں ہی معمول ہو گئ یوں ہی

    دوستی مشغلے کے طور ہوئ
    پھر میں مشغول ہو گئ یوں ہی

    سارے خیمے کا بوجھ مجھ پہ لد ا
    میں جو مستول ہو گئ یوں ہی

    بات سے بات پھر نکلتی گئ
    بات میں طول ہو گئ یوں ہی

    ایک اہلِ نظر نے مجھ کو چنا
    پھر میں مقبول ہوگئ یوں ہی

    حال خستہ نہ عظمی ہوتا مرا
    مجھ سے کچھ بھول ہو گئ یوں ہی
    ۔۔۔۔۔۔
    نوٹ: قارئین کو یا د ہوگا کہ چند ماہ قبل عظمی محمود صاحبہ کی شاعری کو ڈاکٹر پنہاں صاحبہ نے عالمی اخبار کے ایک بلاگ کا موضوع بنا یا تھا اور عظمی محمود صاحبہ کی غزلوں کو اپنے بلاگ میں پیش کیا تھا۔ ان دنوں عظمی محمود صاحبہ ٹیکسس (امریکہ ) میں مقیم تھیں ، اب وہ کینیڈا کے کسی شہر میں مقیم ہیں اور فیس بک Face Book کلب میں اپنا کلام پیش کرکے کلب کے ممبروں سے کافی داد حاصل کررہی ہیں۔
    ( افسوس صد افسوس کہ چند حاسدوں نے عظمی محمود صاحبہ کی دلشکنی کی اور ان پر سرقے کا بے بنیاد الزام لگا کر یہ تک کہ دیا کہ وہ خود شعر نہیں کہتیں بلکہ کسی سے لکھا تی ہیں۔ یہ ہونہار اور فطری شاعرات پر ایک ظلم ہے جس کی عکاسی روبینہ فیصل صاحبہ نے بھی اپنے ایک کالم میں ( کسی شاعرہ کا نام لیے بغیر ) کی ہے ) ۔
    بہرحال عظمی محمود صاحبہ اپنی عزت اور حرمت اور خود داری اور خود اعتمادی اوراپنی خداداد صلاحیت کی حفا ظت کرنا جانتی ہیں اور بڑی دلیری کے ساتھ اپنی تخلیقات دنیا کے سامنے پیش کررہی ہیں ۔
    اب عظمی محمود صاحبہ ہی بتا سکتی ہیں کہ انکے اس شعر میں انکا کس “اہللِ نظر “ کی طرف اشارہ ہے: :
    ایک اہلِ نظر نے مجھ کو چنا
    پھر میں مقبول ہوگئی یوں ہی
    اردو کی یہ ابھرتی ہوئی شاعرہ ہم سب کی ہمت افزائی کی مستحق ہے۔

    اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
    فقط:
    خیر اندیش ؛
    منظور قاضی از جرمنی
    ( اوپر جو کچھ لکھا ہوں اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے ، کسی اور پر نہیں )

  29. دوستو عالمی اخبار کی سالگرہ کی وجہ سے اور کچھ ہسپتال میں ڈیوٹیوں کی وجہ کچھ زیادہ ہی مصروف تھی ۔۔۔ اس وقت بھی رات کا ایک بج رہا ہے ۔۔ اور میں آپ سب کی محبتوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں ۔۔ خاص طور پر منظور بھائی کا جن کی وجہ سے محترمہ تانیہ رحمان نے اپنی بے انتہامصروفیت میں بھی عالمی اخبار کے لیئے وقت نکالا ۔۔ آپ کی دعاؤں اور مبارکباد کا تہہ دل سے شکریہ ۔

    مسعود بھائی کا یہ شہر بہت عمدہ ہے ۔۔ داد لیجیئے ۔۔
    ان حیسن لمحوں کو روح میں سمالیجیے
    کل کو یاد آیئں گیں آج شام کی باتیں

  30. ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی عنایات کا شکریہ ۔
    انکا مشکور ہوں کہ انہوں نے میری نیت کے خلوص کو سراہا اور تانیہ رحمٰن صاحبہ کی عالمی اخبار کی تحریر پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔
    ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے مسعود قاضی کے شعر کو بھی پسند کیا اس پر مسعود قاضی کو خوش ہونا چاہئے ۔
    ہم سب خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ایک سال سے صفدرھمدانی صاحب اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اور انکے معاونین نے عالمی اخبار کو ایک سال سے انتہائی باوقار طریقے سے جاری رکھا۔
    خدا کرے کہ یہ علم کا چراغ ہمیشہ جلتارہے اور علم کی روشنی پھیلاتا رہے۔ آمین

  31. محترمہ عظمیٰ محمود صاحبہ کی اس بلاگ میں پیش کردہ غزل کی زمین میں میرے یہ دو اشعار: :
    میں توجہ کا مستحق تو نہ تھا
    پھر بھی مبذو ل ہوگئی یوں ہی
    اور یہ شعربھی کہ:
    بات معقول ہورہی تھی ، مگر
    غیر معقول ہوگئی یوں ہی
    ۔۔۔۔۔۔۔

  32. اسلام و علیکم
    محترم منظور قاضی صاحب ۔۔ آپ کا بہت بہت شکریہ جو آپ نے مجھے اتنے اچھے لفاظ میں یاد رکھا ہوا ہے ۔ یہ آپ کا بڑا پن ہے ۔۔۔ ورنہ آج کے دور میں ہر کوئی چڑھتے سورج کا پوجاری ہے ۔۔دعاوں میں یاد رکھا میرے لیے بہت ہے ۔۔۔ اللہ پاک آپ کو ہمیشہ خوش رکھے ۔بلامفاد جو کام آپ کرتے ہیں ایسے انسان آج کے دور میں ہت کم ہیں ۔اور جب اتنے خلوص اور پیار سے لکھنے کو کہتے ہیں ، تو انکار کی جرات نہین ہوتی ۔

  33. ایک اور شعر عظمیٰ محمود صاحبہ کی غزل کی زمین میں:
    ایک قاتل نگاہ سے میری
    روح مقتول ہوگئی یوں ہی

  34. میرا ایک اور شعر عظمی محمود صاحبہ کی غزل کی زمین میں:
    بات لائق نہ تھی فسانے کی
    وہ بھی مشمول ہوگئی یوں ہی

  35. میرا ایک اور شعر عظمی محمود صاحبہ کی غزل کی زمین میں:
    عقل معزول ہوگئی یوں ہی
    غم کی محمول ہوگئی یوں ہی

    ۔۔۔۔۔
    اس طرح یہ میری ، پانچ اشعار کی غزل بن گئی ہے۔

  36. بات شامل نہ تھی فسانے میں
    کی بجائے یہ مصرعہ حاضر ہے:
    بات لایق نہ تھی فسانے کی
    وہ بھی مشمول ہوگئی یوں ہی

  37. میر ی یہ غزل ( جو عظمٰی محمود صاحبہ کی غزل کی زمین میں ہے ) اس طرح ہے:

    عقل معزول ہوگئی یوں ہی
    غم کی محمول ہوگئی یوں ہی

    بات لایق نہ تھی فسانے کی
    وہ بھی مشمول ہوگئی یوں ہی

    میں توجہ کا مستحق تو نہ تھا
    پھر بھی مبذول ہوگئی یوں ہی

    بات معقول ہورہی تھی مگر
    غیر معقول ہوگئی یوں ہی

    ایک قاتل نگاہ سے میری
    روح مقتول ہوگئ یوں ہی

  38. قارئین کو یہ جان کر بے حد خوشی ہوگی کہ سیدہ ماریہ علی کا ظمی صاحبہ آج اپنے شوہرِ نامدار جناب علی کاظمی صاحب کی سالگرہ منا رہی ہیں۔
    ہم سب دعا گو ہیں کہ :
    علی کاظمی صاحب سلامت رہیں ہزار برس
    ہر برس کے ہو ں دن پچا س ہزار
    ۔ ۔۔۔۔

    دلی دعاوں کےساتھ
    خیر اندیش:
    منظور قاضی از جرمنی

  39. مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ عظمی محمود صاحبہ کے کلام کی facebook انجمن میں کافی اچھی پذیرائی ہورہی ہے۔
    اللہ انکے کلام کو قبیولیت عوام اور حیاتِ دوام بخشے۔
    اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ ۔

  40. کل مجھے عظمی محمود صاحبہ نے اپنی فیس بک facebook
    کے ذریعہ اپنی ایک تازہ غزل روانہ کی ۔
    میں اس غزل کو عالمی اخبا ر کے پڑھنے والوں کی خدمت میں پیش کررہا ہوں ۔
    یہ ایک ابھرتی ہوئی شاعرہ کا کلام ہے ، امید کہ اس کی پذیرائی ہوگی
    ۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ :
    عظمی محمود صاحبہ کی غزل :

    گزرے ہوئے دنوں کے حوالوں میں رہ گئے
    اب وہ تماشہ دیکھنے والوں میں رہ گئے

    خاموش لب سے بات کی تردید میں نے کی
    تب انکے سب جواب، سوالوں میں رہ گئے

    اتنا طویل پہلے نہ تھا دورِ انتظار
    وعدے نئے وصال کے سالوں میں رہ گئے

    کرنے گئے تھے عالم ِ ارواح کا سفر
    وہ لوگ جو کہ آسماں والوں میں رہ گئے

    مصروفیت نے کرنے کی توفیق جب نہ دی
    عظمی ٰ وہ کام ، میرے خیالوں میں رہ گئے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فیس بک facebook کی انجمن صرف عظمی محمود صاحبہ کے گنے چنے چند قدر دانوں پر مشتمل ہے ۔ مگر عالمی اخبار کے پڑھنے والوں کی تعداد ( میری دانست میں ) کئی ہزار ہے اس لیے عظمی محمود صاحبہ کاکلام ہزاروں قارئین پڑھ سکینگے اور ہوسکے تواس بلاگ میں اپنے تاثرات سے عظمی محمود صاحبہ کو آگاہ کردینگے ۔
    خیر اندیش
    منظور قاضی از جرمنی
    نوٹ : اگر کوئی سخنور اس غزل پر تعمیری تنقید کرنا چاہے تو یہ بلاگ حاضر ہے

  41. اوپر کی ایک غزل کے قافیہ اور ردیف سےمتاثر ہوکر میرا یہ شعر: ( یہ صرف تک بندی کی خاطر ہے ، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے) :
    سارے رقیب جا چکے ہمت کو ہار کر
    ہم ہی تمھارے چاہنے والوں میں رہ گئے

    فقط: منظور قاضی از جرمنی

  42. اس ہی غزل کی زمین میں میرا ایک اور شعر ( تک بندی ):
    تم کو تم ہی سے مانگنے والے چلے گئے
    ہم ہی خدا سے مانگنے والوں میں رہ گئے

  43. میرا ایک اور شعر اوپر لکھی ہوئی غزل کی زمین میں :
    جتنی بھی خوبیاں تھیں انہیں بھول ہی گئے
    ہم عیب ہی نکالنے والوں میں رہ گئے

  44. میرا ایک اور شعر اوپر لکھی ہوئی غزل کی زمین میں ، موجودہ حالات کے پس منظر میں:
    مشکل سے ایک باغ مِلا تھا نصیب میں
    گلچیں انہیں اجاڑنے والوں میں رہ گئے

  45. معافی کی ساتھ ایک تصحیح :
    اوپر کے تبصرہ میں میرے شعر کے دوسرے مصرعہ میں لفظ “ انہیں “ کی بجائے “ اسے “ پڑھیے : شکریہ :
    مشکل سے ایک باغ ملاتھا نصیب میں
    گلچیں اسے اجاڑنے والوں میں رہ گئے
    ۔۔۔۔۔

  46. اوپر کی ایک اچھی غزل کی زمین میں میرا ایک اور شعر:
    وہ زندگی سنوارنے والوں میں رہگئے
    ہم زندگی بگاڑنے والوں میں رہگئے
    ۔۔۔۔
    اب میری یہ پانچ اشعار کی غزل مکمل ہوگئی ہے۔

  47. میری غزل کا مقطع عرض ہے:
    منظور نے تمام کیا اپنی یہ غزل
    باقی تمام سوچنے والوں میں رہ گئے

  48. میری یہ غزل جو عظمی محمود صاحبہ کی غزل کی زمین میں ہے، کچھ یوں ہے:
    وہ زندگی سنوارنے والوں میں رہ گئے
    ہم زندگی بگاڑنے والوں میں رہ گئے
    سارے رقیب جا چکے ہمت کو ہار کر
    ہم ہی تمھارے چاہنے والوں میں رہ گئے
    تم کو تم ہی سے مانگنے والے چلے گئے
    ہم ہی خدا سے مانگنے والوں میں رہ گئے
    جتنی بھی خوبیاں تھیں انہیں بھول ہی گئے
    ہم عیب ہی نکالنے والوں میں رہ گئے
    مشکل سے ایک باغ ملا تھا نصیب میں
    گلچیں اسے اجاڑنے والوں میں رہ گئے
    منظور نے تمام کیا اپنی یہ غز ل
    باقی تمام سوچنے والوں میں رہگئے

  49. آج عظمی محمود صاحبہ نے فیس بک facebook کے ذریعہ اپنی یہ تازہ غزل مجھے روانہ کی۔ جسے میں شکریہ کے ساتھ اس بلاگ کے پڑھنے والوں کی خدمت میں پیش کررہا ہوں:

    غزل :

    اِک ملاقات اس سے جو کل ھو گئی
    زندگی کا وہ نعم البدل ھو گئی

    بات کچھ اُسنے کی بات کچھ میں نے کی
    بات ھی بات میں اک غزل ھو گئی

    اُس نے آغازِ ترکِ تعلق کیا
    لیجئے میری مشکل بھی حل ھو گئی۔

    اُسکاپہلے ہی مجھ پر بھرم کھل گیا۔
    بات جو آج ہونی تھی کل ھو گئی۔

    اس سے تکرار عظمٰی ذرا سی ہوئی
    بات جو سرسری تھی اَٹل ھو گئی۔
    ۔۔۔۔۔۔
    اللہ اس ابھرتی ہوئی شاعرہ کا زورِ قلم اور زیادہ کرے ۔ آمین

  50. بات کچھ اس نے کی ، بات کچھ میں نے کی
    بات ہی بات میں اک غزل ہوگئی
    کی بجائے یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ :
    اس نے کچھ بات کی ، میں نے کچھ بات کی
    بات ہی بات میں اک غزل ہوگئی
    بہرحال : بہت ہی اچھی غزل ہے
    اللہ کرے زورِ سخن اور زیادہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *