نادیہ بخاری کا پہلا بلاگ۔ کالی بھیڑیں

بلاگر خاندان میں ایک نئی صاحب فکر صحافی کا اضافہ۔ نادیہ بخاری پاکستان کی نوجوان ابھرتی ہوئی اور باصلاحیت فکر وشعور کی دولت سے مالا مال صحافی ہیں جو جلد ہی اپنا مکمل تعارف خود کروائیں گی۔ یہ موضوع انہوں نے تبصرے کے طور پر لکھا تھا لیکن اسکی اہمیت کے پیش نظر اسے انکے اولیں بلاگ کے طور پر لگایا جا رہا ہے۔ میں چاہوں گا کہ ہم سب اس نوجوان صحافی کو خوش آمدید کہیں اور اسکی حوصلہ افزائی کریں۔ ہاں اردو میں نادیہ نے پہلی بار ٹائپنگ کی ہے جو قابل مبارکباد ہے۔صفدر ھمٰدانی۔ چیف ایڈیٹر عالمی اخبار۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کالی بھیڑیں
آج مجھےخوشی ہے کہ میرے محترم اُستاد صفدرھمدانی صاحب کےدیےھوئے حوصلے سے کچھ لکھنے کی جسا رت کر رھی ھوں
اس سال دس اورگیارہ اکتوبر کو پہلی بار سارک ممالک اورافغا نستان سے آئی ہوئی میڈ یا خواتین کو درپیش مسا ئل پر مبنی کا نفرنس میںشرکت کا مو قع ملا جس میںخواتین کو میڈیا کے حوالے سے د پیش مسا ئل پر ب تیں ھوئیں ان تما م مسا ئل میں ایک اھم مسلہ جو سامنے آیاوہ یہ تھاکہ سا تھی مرد حضرات کی طرف سے ناقابلِِ برداشت رویہ کہ بعض مرد حضرات خواتین پر بُری نگاہ
رکھتے ہیں ا ور کا م میں رو کاو ٹ بھی ڈا لتے ھیں یقیناً اُ ن کا کھنا ٹھیک ھے لیکن میں نے اُ ن چند دوستوں سے کہا کہ ھم یہ واویلا تو کرتے ھیں کہ مرد ٹھیک نہں ہیں تو اُ ن خو ا تین کو ھم کیو ں بے لگام چھوڑ د یتے ھیں جو ا پنےٹیلینٹ کی و جہ سے نہں بلکہ اپنے عورت ہونے کاناجائزفائدہ اُٹھاتی ہیں ہم نےکیوں مردوں ہی کو سُد ھارنے کا راگ الاپ رکھا ہے سب سے پہلے آ پ اپنے درمیان میں سے اُن کا لی بھیڑوں کو کیو ں نہیں نکالتیں جو اُن معصوم خواتین جو کہ ٹیلینٹڈ بھی ہیں اور ا پنے عورت ہو نے کا نا جا ئز فا ئدہ بھی نہیں اُٹھاتیں اُن کی راہ کی رکاوٹ بنتی ہیں تواس پر ما سوائے خاموشی کے کوئی جواب نہ تھا۔

33 thoughts on “نادیہ بخاری کا پہلا بلاگ۔ کالی بھیڑیں”

  1. کسی خاتون کی طرف سے بے بس اور مجبورمردوں کے حق میں یہ پہلی آوازہے جو میں اپنے صحافتی کیرئرمیں کسی خاتون صحافی کی زبانی سن رہا ہوں ، محترمہ نادیہ بخاری نےتصویر کو جو رخ دکھانےکی کوشش کی ہےاسے ہم لوگ جانتے بوجھتےہوئے بھی نظراندازکرتےہیں کہ یہ معاشرے میں عام کہا،سنا اور سمجھاجاتاہے کہ مرد حضرات ہی مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کام کرنےوالی خواتین کی مجبوریوں ، کمزوریوں کافائدہ اٹھاکراپنے سفلی وغیر اخلاقی جذبات کو تسکین پہنچانےکی کوشش کرتےہیں کبھی کسی کا دھیان اس طرف نہیں گیا کہ تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے،نادیہ بخاری اس بات سے اتفاق کریں گی کہ عملی زندگی میں قدم رکھنے ایسی عفت ماب بہنیں بیٹیاں بھی موجودہیں جو مردوں کےشانہ بشانہ کام کرتی ہیں اورمجال ہے کوئی مردان کی طرف ہاتھ بڑھاناتو درکناران کی طرف آنکھ اٹھاکربھی دیکھ لے۔۔بس کردارمضبوط، اخلاق پختہ، اور زہن پاکزہ ہوناچاہئے۔۔

  2. نادیہ جی نے آئینے کا دوسرارخ دکھایاہے جس پر غورکیا جانا ضروری ہے۔۔۔ایسی کالی بھیڑیں اب عام ہو گئی ہیں اور حق داروں کا حق ماررہی ہیں

  3. برادرم ناصر زیدی.عالمی اخبار کے بلاگ میں خوش آمدید. آپ نے بلاشبہ درست فرمایا کہ ”کسی خاتون کی طرف سے بے بس اور مجبورمردوں کے حق میں یہ پہلی آوازہے ” دراصل یہ سب حوصلے اور وسعت قلبی کے ساتھ ساتھ حق گوئی کا معاملہ ہے. میں سمجھتا ہوں کہ خاص طور پر ذرائع ابلاغ کی مناسبت سے یہ ایک ایسا اہم موضوع ہے جس پر خوب کھل کر بات ہونا چاہیئے.
    ہمیں خوشی ہے کہ ہماری نوجوان نسل کی اکثریت صاف گو ہے اور اپنی پیش رو نسل کی طرح منافقت سے کام نہیں لیتی.
    ذرا بات آگے بڑھے تو ہم آپ کو اپنے ریڈیو پاکستان کے زمانے کے قصے سنائیں گے کہ کیسے خواتین ہی خواتین کے راستے کا پتھر بنتی رہی ہیں.
    میں چاہوں گا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس اہم موضوع پر اظہار خیال کریں.

  4. محترم صفدرہمدانی صاحب
    باکل اس موضع پرمزید گفتگو ہونی چاہئےمجھے یقین ہے نوجوان نسل ہی اس پر کھل کر اظہارخیال کرےگی ، اور کس حد تک زہنی الجھاؤ اور سوچوں کی پراگندگی پردو ٹوک بات کرےگی میں خود نوجوان ہوں (اگرتیس سال کےنوجوان کو آپ احباب نوجوان تصورکرتےہیں تو میں پیش پیش ہوں)اوران معاملات پر واضح موقف اپنانےاورمنوانےکےحق میں ہوں ،خوشی قسمتی کہئے یا بدقسمتی میراتعلق بھی میڈٰیاسےہےاورالیکٹرونک میڈٰیا میں حال ہی میں مچنےوالےبھونچال کا حصہ ہوں اوریہاں ہوتاہے شب روزتماشامیرےآگے کےمصداق محترمہ نادیہ بخاری صاحبہ کا دیاگیانکتہ عملی طورپرمشاہدےمیں آتاہے،یوں سمجھئےاشارےکنایوں سے صورتحال کافی سمجھنےمیں آتی ہے،خواتین انیکرزکےساتھ تیسرے،چوتھےاور اس کے بعد آخری درجے کےٹی وی چینلزمیں ٹیلنٹ کےنام پر جو کچھ ہو رہاہےاس کی کہانیاں جلد یا بدیرمیڈٰیاپرمنظرعام ہوں گی کیونکہ اب میڈیاکےسدھارکی آوازبلند ہونا شروع ہو گئی ہےآپ لوگ ریڈیواورٹی وی کے ابتدائی دورکےکہنہ مشق صحافی ہیں یقیناآپ اور محترمہ ماہ پارہ صفدرکےاپنے تلخ تجربات ہوں گے لیکن داستان ابھی ختم نہیں ہوئی ۔۔تعلیم ۔روشن خیالی، جدیدیت کےنعروں اورظاہری خوشنمائی کےباوجودمشق ستم ابھی بھی جاری ہے،میں محترمہ ماہ پارہ صفدرکےپی ٹی وی کےدورکےتجربات پڑھتاہوں اورسوچنےپرمجبورہوجاتاہوں۔۔۔اب آپ ریڈیوکی راہداریوں کےگھن چکربیان کریں گے تویقیناًعقل دنگ رہ جائےگی۔۔لیکن کیاکیاجائےکہ جہالت کی سوچ کو ختم ہونےکیلئے ابھی کم ازکم برصغیرمیں ایک عرصہ چاہئے۔۔۔۔یاپھرتعلیم ۔۔۔تعلیم اورتعلیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  5. جی میں اپنے محترم سا تھیو ں خا ص کر صفدرھمدانی صا حب،لالو۔پرساد صا حب اورناصر زیدی صا حب کی مشکور ھوں۔کہ آپ محترم سا تھیو ںنےمجھےاتنی ھمت دی کہ مجھ میںاب مذ ید لکھنے کا حوصلہ پیداھوا ہے۔میری اسی طرح ھمت بڑھاتےرھیے گا۔ شکریہ

  6. بہت خوب ناصر زیدی،سلامت رہو. بھائی نوجوان ہونے کا عمر سے کیا تعلق.یہ تو فکر وشعور اور سوچ کا معاملہ ہے اور آپکی تحریرآپکی عمر عزیز کی غمازی کرتی ہے. ہمت افزا بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں خواتین نے اب آواز بلند کرنا شروع کی ہے. مسلہ خواتین اور مردوں کا نہیں بلکہ رویے کا ہے. ماہ پارہ نے ابھی اپنی ٹی وی کہانی کی تازہ قسط میں اسی طرف اشارے کیئے ہیں.”مثلاً ایک جرنیل صاحب میڈیا کی خواتین کو اپنی رعایا تصور کرتے تھے۔ ہمیشہ اشاروں کنایوں میں کچھ کہنے کی کوشش میں رہتے تھے۔ٹی وی کے ابتدائی برسوں میں لاہور ٹی وی کے ایک سینئیر ایڈیٹر مجھے مسلسل ہراساں کرتے رہے۔ مگر اس خوف میں اس کا گھر والوں کے سامنے کبھی ذکر نہیں کیا کہ مجھے ہی ٹی وی جانے سے روک دیا جائیگا”۔
    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/10/091023_mah_tv_eleven.shtml

  7. نادیہ صاحبہ کا استقبال ہے ، اچھی بات ہے کہ آپ نے حوصلے دیکھائے ہیں ۔بات یہہے کہ دونوں جانب سے اس طرح کا سلوک چلتا آ رہا ہے ۔ آپ نے کم از کم یکطرفہ بات نہیں کی اس کے لیے شاید آپ مورد الزام بھی ہوں ، لیکن اس میںبھی کوئی شک نہیں کہ کئی آوازیں آپ کے ساتھ ہوں گی۔
    امید کی آپ کی نئی تحریریں جلد ہی دیکھنے کو ملیں گی۔

  8. نادیہ صاحبہ
    بلاگ کی محفل میں خوش آمدید
    صرف اتنا کہوں گی کہ اچھے برے لوگ تو ہمیشہ سے ہیں اور تا قیامت رہیں گے۔ کالی بھیڑوں یا کالے بھیڑیوں سے نجات ممکن نہیں۔ ہم صرف اپنی راہیں سیدھی رکھ سکتے ہیں۔ اپنا دامن بچا سکتے ہیں۔
    والسلام
    زرقا

  9. بی بی سی پرمحترمہ ماہ پارہ کی یاداشتیں شروع دن سے ہی زیرمطالعہ ہیں مندرجہ بالالنک میں پڑھ چکاہوں اس سے پہلے کوکےوالی پھلجھڑی بھی علم میں آ چکی ہے، بالکل اسی قسم کی صورتحال اب بھی درپیش ہے،مسئلہ یہ ہواعدلیہ کی بحالی میں میڈیاکی چھتیس چھتیس گھنٹوں کی لائیو کوریج نےکالےکوٹ کاسہواًیاقصداًاتنا بھرپورساتھ دیاکہ خلق خدااوروکلاء کو اس کےجاندارکردارکو تسلیم کرناپڑا،اب اس بحالی میں میڈیاکےاپنےمقاصدتودھوم دھڑکےمیں چھپ کررہ گئے وکلاء سول سوسائٹی،سیاسی کارکنوں کی آوازپراس کا لبیک کہناسب کو یاد رہ گیااوراس طرح ایک اورمقدس گائےوجودمیں آ گئی جو اپنی تھوڑی سی تعریف پرپھولےنہیں سما رہی، حدتو یہ ہےکہ یہ مقدس گائے اب مست ہو کرخوب دھماچوکڑی مچا رہی ہےلیکن اس کے کردارکی نزاکت کو دیکھ کراب کوئی بھی اس بد مست گائے سے ٹکر لینےکا تصوربھی نہیں کرسکتا، اس خوف سے کہ کہیں یہ اس کی خبرنہ لیناشروع کردے میڈیاکی طرف انگلی اٹھانےکوئی جراءت نہیں کرپارہا۔۔۔اوراندرکھاتےوہ سب کچھ ہو رہا ہےجونہیں ہونا چاہئے۔۔۔نام کی حد تک مشہورچینلزنےکاروبارزندگی چلانےکیلئے ہرقسم کا استحصال شروع کررکھاہےمردکارکنوں کو ان کی محنت کےعوض دلاسے اوربعض اوقات دھمکیاں دی جاتی ہیں تو خواتین ورکرزکوپیارسےبہلانےپھسلانےکاعمل جاری ہے،اس ایڈیٹ بکس پر نظرآنےکا شوق کچھ اس قدرجنون آمیزہےکہ جذباتی خواتین تقاضوں کے رنگ میں رنگی جاتی ہیں ،بچھی جاتی ہیں ، ۔۔۔ایسی کالی بھیڑیں ہیں جو اس نظام میں داخل ہونےکےبعدباہرنکلنے کاراستہ بھول جاتی ہیں اس کےبعدنئی ادائیں اور ہرروزکامیابی کی نئی سیڑھی۔۔۔۔اس خرابی کو ابھی سےروک لینے کاانتظام کرناہوگاوگرنہ سارانظام دھڑم سے گرجائےگاایک ادھ واقعہ میڈیامیں درددلی سے رپورٹ ہو گیاتوعوام کو سڑکوں پر آنےسے کوئی نہیں روک سکےگاکیونکہ جو بھی ہو اس سوئی ہوئی قوم میں غیرت نامی جن ابھی باقی ہےقومی حمیت کا جنازہ البتہ کب کا نکل چکا۔۔۔۔۔۔

  10. نا دیہ بتول بخا ری، محمد ناصرزیدی اور لالوپرساد یادیو آپ سب کو عالمی اخبار کے بلاگ کی محفل میں خوش آمدید ۔۔ موضوع انتہائی حساس اور سنجیدہ ہے ۔۔یہ سچ ہے کہ عورت کو عورت سے بھی اتنا ہی خطرہ رہتا ہے جتنا مرد سے رہتا ہے ۔۔ لیکن اس کو روکا کیسے جائے ۔۔ تو اس کے لیئے میں زرقا کی ہم خیال ہوں کہ ہمیں ان کالی بھیڑوں کاحصہ نہیں بننا چاھئے بلکہ اپنی راہوں کو سیدھا رکھنا ہی اس عمل کےخلاف جہاد ہے ۔۔ آپ یہ نہ کہے کہ یہ صرف شو بز یا میڈیا میں ہی ایسا ہوتا ہے بلکہ ہر نہج ہر شعبے میں ایسا ہوتا ہے ۔۔۔ اور کہیں بھی کوئی سدباب نہیں ہو سکتا جب تک خود انسان میں احساس غیرت اور عزت نہیں ہو گا ۔۔ اور میرے تجربے نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ احساس غیرت ، خودداری ، احساس عزت ایک انتہائی subjective سا احساس ہے ۔۔۔اس لیئے کوئی مشترکہ اصول اور ضوابط نہیں بن سکتے ۔۔۔بلکہ اپنے احساس بیداری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جہاں تک ممکن ہو اسے سب میں دہراتےرہنا چاھئے ۔۔ اور جہاں کہیں بھی اور جو کوئی بھی زیادتی میں ملوث ہو اسے ضرور بے نقاب کرنا چاھیئے تاکہ دوسروں کوخبردار کر کے ان کی مدد ہو سکے اور برائی کو روکنے کا حق بھی ادا ہو سکے ۔۔
    ماہ پارہ صفدر(آپا) کی کاوش انتہائی قابل ستائش ہے کہ انہوں نے دوسری خواتین کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ ناصرف اپنےتکلیف دہ تجربات اور چھپے ہوئے خوف کا اظہار کر سکیں ۔۔ بلکہ برے کو برا کہنے کی جرات بھی کر سکیں ۔۔۔ اسی حوصلہ افزائی کو نادیہ نے بڑی خوبصورتی سے بلاگ میں لکھا ہے ۔۔۔

  11. نادیہ بخاری صاحبہ میری جانب سے بھی خوش آمدید
    بہت ہی اہم پہلو کی جانب اشارہ فرمایا ہے . در اصل ہم اعتدال سے دور اور انتہا پسندی کے عادی ہوے چلے جا رہے ہیں. کسی نے کہہ دیا کہ خواتین مظلوم ہیں تو بس چل نکلے انہیں انصاف دلانے. اور بغیر سوچے سمجھے ہر بات کا الزام مردوں پر لگانے.
    حقیقت واقعہ یہ ہے کہ معاشرے کے ہر طبقے کی طرح ان دو جنسوں میں بھی کالی بھیڑیں ہیں. ہمارا ہدف کالی بھیڑیں ہونی چاہییں نہ کہ مرد یا عورت.

  12. موضوع نہایت ہی موزوں اور اہم ہے اور اسکی خوبصورتی اس لئے اور بھی زیادہ ہوگئ ہے کہ اس موضوع کو ایک خاتون نے چننا اور اس پر لکھا ہے۔ یہ سلسلہ تو کئ جنم سے چل رہا ہے اور نہ صرف ہمارف معاشرے میں بلکہ اور دوسرے معاشرے میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے اور جس کے باعث جو حقدار ہیں انکا حق مارا جارہا ہے کیرنکہ وہ ایک تہذیب کے دائرے میں رہکر کام کرنا چاہتی ہیں ۔ لیکن اس کو ذرا غور سے دیکھا جائے تو پھر اس میں قصور مرد کا ہی نظر آتا ہے، اگر آپ کسی جگہ انٹرویو کے لئے گئ ہیں اور آپ کا باس جو کہ مرد ہے اور زیادہ تر باس مرد ہی ہوتے ہیں، آپ کی علمی ڈگری کو کم اور آپ کی ظاہری ڈگری کو دیکھتا ہے اور اگر اسکے عین مطابق نہ ہو تو وہ یہ کہکر جاب نہیں دیتا کہ جی آپ کا لے آؤٹ ٹھیک نہیں ہے، تو پھر وہ خواتین کیا کریں، اسی لئے اب وہ دوسرا روپ اپنا رہی ہیں۔ کیا کریں، لیکن ظاہر ہے کہ یہ ایک غلط سلسلہ ہے اور اس کو ختم کرنے کے لئے ظاہر کے اول الزکر طریقہ اپنانا موضوع نہیں ہے اسکے لئے ضروری ہے کہ خواتین، خواتین کا احتساب کرنا بند کرئیں۔ ہمارے معاشرے میں تو عورت ہی عورت کی دشمن ہے۔ مثالیں بھری پڑی ہیں۔ جب ایک ماں، ایک بہن، اپنے بیٹے یا بھائ کے لئے لڑکی دیکھنے جاتی ہے اور بچاری کسی لڑکی کو قربانی کے بکرے کی طرح سجا کر سامنے لایا جاتا ہے تو اس میں نقص کون نکالتا ہے ، وہی عورت۔ اسی طرح ہر جگہ عورت ہی عورتوں کے احتساب میں مصروف ہے۔

  13. اس کو اسطرح پڑھا جائے

    ، لیکن ظاہر ہے کہ یہ ایک غلط سلسلہ ہے اور اس کو ختم کرنے کے لئے ظاہر کے اول الزکر طریقہ اپنانا موزوں نہیں ہے

  14. میں یہاں ایک نظم جو میں نے پاکستان وومن گروپ کی طرف سے ایک پروگرام میں پڑھی تھی تبصرے کے طور پر پیش کرنا چاہونگی۔ نظم کا عنوان ہے عورت
    لفظ ہیں آنکھوں میں یا تحریر ہے
    پازیب ہیں پاوں میں یا زنجیر ہے
    زندگی اسکی فسانہ ہو گئی
    وہ دخترانِ جبر کی تعزیر ہے
    کوئی آہٹ توڑ دے ظلمت کا خواب
    ڈھونڈتی وہ راہوں میں تعبیر ہے
    ہےصحیفوں میں جسے چاہت لکھا
    بن گئی نفرت کی وہ تصویر ہے
    آپ وہ اپنے مقابل ہو گئی
    ذات میں عورت بھی کیا گھمبیر ہے
    مگر دراصل بات تو انسانی رویے کی ہے چاہے وہ کسی مرد سے متعلق ہو یا عورت سے منسوب۔ نادیہ اس اہم موضوع پر قلم اٹھا کر آپ نے نا صرف عورتوں کی عقل کو جھنجھوڑا ہے بلکہ ان مردوں کو بھی آئینہ دکھایا ہے جو عورتوں کی اہلیت کو غلط ترازو میں تولتے ہیں۔ انسانوں پر انسانوں کے ظلم کی داستان سے تو دنیا کی تاریخ فگار ہے ۔ میں آپکا اس بلاگ میں پرخلوص خیر مقدم کرتی ہوں۔ خدا آپکے قلم و زباں کو حق سے مذین رکھے آمین

  15. عشرت معین سیما صاحبہ.مختصر مگر جامع نظم. اسی کو تو کہتے ہیں اختصار کا حُسن.
    آپ نے مدلل بات کی ہے کہ ”دراصل بات تو انسانی رویے کی ہے چاہے وہ کسی مرد سے متعلق ہو یا عورت سے منسوب”۔ میں تو کبھی کبھی یوں بھی سوچتا ہوں کہ دہشت گردی صرف خود کش بمباری یا بم چلانا ہی تو نہیں. کیا ایسے رویے بھی دہشت گردی کی فہرست میں نہیں آتے؟ دشہت گردی بھی تو بے حیائی،بے شرمی،بے حسی اور مردہ ضمیری کی ہی ایک کیفیت ہے اور ایسے رویے بھی اسی میزان میں تولے جا سکتے ہیں.
    ہمارا برصغیر کا خاص طور پر مسلہ یہ ہے کہ ہم انسان کو کبھی ادیان میں کبھی مذاہب میں کبھی مسالک میں اور کبھی اصناف میں تقسیم کرتے ہیں اور ثانوی درسجے پر اسے انسان کے طور پر دیکھتے ہیں حالانکہ سچ تو یہی ہے کہ ہم سب کچھ بعد میں ہیں اور انسان پہلے ہیں.
    نادیہ بخاری نے ایک حساس نکتے کو چھیڑا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ اس سے صرف یہ کہہ کر جان چھڑائی جا سکتی ہے کہ ”انسان خود اچھا ہونا چاہیئے” میرا خیال ہے کہ اکثریت مجھ سے اتفاق کرے گی کہ یہ نقصان اٹھانے کا مسلہ بھی تو اچھے انسان کا ہے ورنہ برا انسان تو اپنا حساب کتاب خود ہی کر لیتا ہے.

  16. السلام علیکم۔ سب سے پہلے تو عالمی اخبار میں محترمہ نادیہ بخاری صاحبہ کو تہ دل سے خوش آمدید۔
    دوسری بات جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ: بالکل ٹھیک لکھا ہے آپ نے، یہاں ایسا ہی ہوتا ہے۔ جب اس شکم سیر کم بھوکی دنیا میں کوئی بھی ایک نئی ہوا کا جھونکا آتا ہے تو اس کے ساتھ یہی تو ہوتا ہے۔ لیکن جیسے محترمہ زرقا مفتی صاحبہ نے فرمایا کہ : اچھے برے لوگ تو ہمیشہ سے ہیں اور تا قیامت رہیں گے۔ کالی بھیڑوں یا کالے بھیڑیوں سے نجات ممکن نہیں۔ ہم صرف اپنی راہیں سیدھی رکھ سکتے ہیں۔ اپنا دامن بچا سکتے ہیں۔
    بس، ایک مکمل انقلاب کی ضرورت ہے، اور دعا کیجیے کہ اس ارتقائی انقلاب کے صفہ اول دستہ میں ہم بھی شامل ہوں! بجائے اس کے کہ کرکٹ کے کمنٹریٹر کی طرح بس یوں ہی کہتے رہیں کہ یہ ہورہا ہے اور یوں نہیں ہو رہا! صرف مشرق ہی نہیں، مغرب کا بھی حال برا ہے۔
    ہمارے پیارے ملک میں جب ملٹی کارپوریٹ میڈیا کے دور میں ایک دو ٹکے کے سگریٹ کے اشتہاری بینر پر بھارتی کسی اداکارہ کا خوبصورت پوز دکھائی دے رہا ہو، تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ہماری نفسیات کیا ہے۔
    ہنڈا موٹر سائیکل کے اشتہار میں ایک چست جینز پہنے کوئی ماڈل دل لبھانے والے انداز میں تشریف فرما دکھائی دے رہی ہو تب بھی سمجھ میں آجا تا ہے کہ یہاں عورت کو بھی ایک “کارپوریٹ چیز“ ہی سمجھا جا رہا ہے۔ نہ کہ انسان!
    باقی عورتوں کی بھی کیا بات ہے!
    مارٹن کنگ لوتھر نے کہا تھا کہ: “کوئی بھی آدمی تمہاری پیٹھ پر سوار نہیں ہو سکتا اگر تم خود اپنی کمر کو ٹیڑھا نہ کرو“۔ سو ہمارے اس تیز ترین میڈیائی دور میں عورتیں کی اکثریت کم کم ٹائیپ کے ڈراموں سے متاثر ہو کر خود تو بڑا ماڈرن دکھانے کے لیے کیا کیا کر گذرتی ہیں، لیکن ہے کوئی جو مجھے سرور کونین فخرٍموجودات صلعم کی پاکیزہ ترین بیٹی )اللہم صل علیٰ محمد و علیٰآل محمد) جیسا ماڈل رول دکھا سکے؟

    دعاگو
    فیاض امر

  17. کالی بھیڑ اور سفید بھیڑ کے تذ کرے نے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان صاحبہ اور کشمالہ طارق صاحبہ کا ( جاوید چوہدری کے چند دن قبل کے ٹی وی پروگرام ) کا مکالمہ یا د دلایا۔
    آزادیِ ء اظہار زندہ باد ۔
    اب تو مردوں کے علاوہ عورتیں بھی آزادی سے اپنی مخالف خاتون کو “ ہیرا منڈی “ اور “ “ بیڈ روم “ جیسے الفاظ کا طعنہ دے رہی ہیں۔ ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خدا بھلا کرے عالمی اخبار کی “ نظرِ ثانی “ پالیسی کا کہ ایسے مکالمے عالمی اخبار میں شایع نہیں ہوتے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نادیہ بخاری صاحبہ : اے آمدنت باعثِ آبادیِء ما
    وہ آئے عالمی اخبار میں سبحا ن اللہ

  18. السلام علیکم
    سب سے پہلے تع نادیہ بخاری صاحبہ کو عالمی اخبار کی فیملی میں شامل ہونے پر میری طرف سے بہت بہت مبارک باد قبول ہو ۔
    ویسے تو مجھے بھی عالمی اخبار پر آئے کم وقت ہی ہوا ہے مگر حقیقت کہوں تو میں یہ تک بھول گئی ہوں کے مجھے کتنا وقت ہو گیا ایسا لگتا ہے کے برسوں کا ساتھ ہے ہم سب کا ۔مجھے امید ہے کے آپ بھی ہم سب کی طرح بہت ہی جلدی سب میں گھل مل جائیں گی انشااللہ ۔)
    جہاں تک آپکے مضمون کی بات ہے تو اس پر اسقدر پائے کے لکھنے والے روشنی ڈال رہے ہیں کے میں انکی تحریریں پڑھ کر بہت کچھ سیکھ رہی ہوں بس اگر اس میں کچھ کمی ہے تو وہ قاضی صاحب اور مصباح بھائی کی تحریر کی کمی ہے اگر ان دونوں کی تحاریر اس میں شامل ہو جائیں تو مذید معلومات میں اضافہ ہی ہوگا
    آپکی دعاوں کی محتاج
    ماریہ علی

  19. معزرت قاضی صاحب کی تحریر تو بلکل میرے بلاگ کے اوپر ہی نظر آئی ہے مجھے اور بہت ہی مختصر مگر بہت با معنی )
    اب اگر کوئی رہ گیا تو وہ مصباح بھائی ہیں بس )

  20. امر فیاض نے مارٹن کنگ لوتھر کی بات لکھ کر میرے دل کی بات لکھ دی کہ: “کوئی بھی آدمی تمہاری پیٹھ پر سوار نہیں ہو سکتا اگر تم خود اپنی کمر کو ٹیڑھا نہ کرو“۔ ۔۔ عورت ہو کہ مرد یہ خالصتا رویوں کی بات ہے ۔۔ میں نے پہلے بھی کہا ھے کہ یہ احساس زمہ داری کے ساتھ اپنی عزت نفس کو بچانے کی بات ہے اور یہ بھی یاد رھے کہ احساس زمہ داری کے کئی درجے ہوتے ہیں اور اس کی درجہ بندی میں فرق کی اتنی ہی گنجائش ہوتے ہے جتنی قسم کے انسان ہو سکتے ہیں ۔۔
    ہمارے ہوسپٹلز میں نرسنگ اسٹاف کے لیئے ڈریس کوڈ ہوتا ہے لیکن ڈاکٹرز کے لیئے نہیں ۔۔ لیکن اگر ڈاکٹرز کے لیئے بھی کوئی ڈریس کوڈ ہو۔۔۔ تو کیا کوئی ڈریس کوڈ انسان کی اصل خباثت چھپا سکتا ہے ۔۔۔ نہیں ۔۔ اصل انقلاب انسان کے اندر کا ہے جو ٹکے ٹکے کے اشتہار اور شہرت کے لیئے اپنے عزت نفس اور جسمانی نمائش کے سودے نہ کریں ۔۔ لیکن دوستو بات وہی آ جاتی ہے کہ ہر ایک کے نزدیک اس کی عزت نفس اور کردار کی بلندی کے الگ معنی اور تعریف ہے ۔ سچ یہی ہے کہ عورت اور مرد کو اپنی ہی عزت عورت اور مرد سے بچانے کے لیئے ایک انقلاب کی ازیت سے گزرناہو گا ۔۔ جس کی پہلی سیڑھی “اعتراف “ ہے ۔۔۔

  21. میرے اپنے اندازے کے مطابق جتنے خواتین و حضرات کو اس موضوع پر اظہار خیال کرنا چاہیئے تھا وہ نہیں ہوا. اسکی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں.ہو سکتا ہے کہ یہ رویہ بھی ہو کہ یہ میرا مسلہ نہیں ہے. خواتین عمومی طور پر ایسے موضوعات پر بولنا یا قلم اٹھانا نہیں چاہتیں لیکن یہ موضوع بھی تو ایک خاتون ہی سامنے لائی ہیں.
    میں خاص طور پر کسی ایک بلاگر کا نام نہیں لکھ رہا لیکن جن احباب نے ابھی تک اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا ظاہر ہے انکے نام یہاں تبصروں میں موجود نہیں ہیں.
    ڈاکٹرنگہت صاحبہ نے درست لکھا ہے کہ ”کیا ڈریس کوڈ انسان کی اصل خباثت چھپا سکتا ہے ”.
    وہ سارے شعبے جن میں وردیاں استعمال ہوتی ہیں جو ڈریس کوڈ ہی ہے انکے ہاں ایسے منفی رویے دیگر کی نسبت زیادہ ہیں.اور اس وردی کے شعبے میں ”ملاں” بھی آتا ہے.

  22. صرف چند دن ہی غیر حاضر رہا اور ماشاء اللہ اتنے نئے ساتھی “عالمی اخبار” کے بلاگ میں شامل نظر آرہے ہیں، بہت ہی خوشی کی بات ہے، میری طرف سے بھی ان نئے لکھنے والے
    محترمہ بہن نا دیہ بتول بخا ری صاحبہ، محترم محمد ناصرزیدی صاحب اور محترم لالو پرساد یادیو صاحب کا دلی خیر مقدم ہے –

    وقت کی کمی کی بنا پرموضوع پر تبصرہ نہیں کر سکتا، لیکن
    لگتا ہے کہ میری غیرحاضریاں کافی فائدہ مند ہیں، آپ کا کیا خیال ہے ؟ ؟

  23. ا سلا مُ علیکم
    عا لمی ا خبا ر نے مجھے ا تنے محبت کر نے والے دوست دیے جنھوں نے مجھے اپنی قیمتی راے دے کر حو صلہ ا فزائی کی ان میں خاص کر صفدر ھمدانی صاحب،لالوپرساد صاحب،ناصرذیدی صاحب،شعیب صفد رصاحب،ڑاکٹرخواجہ اکرم صاحب،ذرقامفتی صاحبہ،
    نگھت نسیم صاحبہ ،راجہ اکرم صاحب،سیدانورظھیررھبر صاحب،عشرت معین سیما صاحبہ، امر فیاض صاحب،منظورقاضی صاحب،
    ماریہ علی صاحبہ،عبدالمناف صاحب۔آپ تمام محسنین کی میں تہہ دل سے مشکو ر ھوں ا نشا اللّھ ء میں مذید بھترلکھنے کی کو شش
    جا ر ی رکھوں گی

  24. سلام یا اہل البلاگ !
    آغا جی اور دیگر قابل صد احترام! نادیہ بخاری صاحبہ عالمی اخبار کی پہلی سالگرہ پر ایک تحفہ ہیں- اللہ کا شکر ہے-
    مناف بھائی آپ کی غیر حاضری کا بہت نقصاں ہوتا ہے اس کا اندازہ شاید آپکو نہیں-
    سب سلامت رہیں

  25. نادیہ بخاری صاحبہ کی آمد پر میں اپنے اوپر کی استقبالی تبصرے میں ادھورا شعر لکھا ہوں ، آج اس پورے شعر کو پیش کررہا ہوں :
    وہ آئے عالمی اخبار میں : سبحان اللہ
    بہار آگئی گلزار میں : سبحان اللہ
    ۔۔۔۔

  26. نادیہ صاحبہ کے کالم کو آگے بڑھاتے ہوئے میں اپنا افسانہ خودکشی کے بعد پڑھنے کی دعوت دیتی ہوں جو شاید آپ کو نادیہ کے کالم کی تفصیلات تک پہنچنے میں معاون ثابت ہو ۔اپنے استاد صفدر ہمدانی کا شکریہ ادا کرتی ہوں جن کی بدولت ھمت جواں ہے ورنہ تو ھماری فیلڈ میں عورت ہی عورت کی دشمن ہے۔مجھے بھی خواتین کی ھی مار پڑتی رہی ہے ایسی خواتین جنہوں نے مردوں کی آنکھوں پررنگین پٹی باندھی ہے۔محض مادی ترقی اور پیسے کی خاطر،

  27. نادیہ صاحبہ ۔ میں بھی آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ گوکہ دیر میں سہی ۔ وجہ اس کی ہمیشہ کی طرح ایک ہی کہ وہ حضور (ص) کے اسوہ حسنہ پر چلتے ہو ئے خلدمتِ خلق میں مصروفیت۔ جس کا ذکر ہمارے ہاں بہت کم ملتا ہے اورمسلمان سب سے کم کرتے ہیں ! لیکن میں نے اللہ سبھانہ تعالیٰ سے وعدہ کر لیا ہے کہ جب تک تو چا ہے گا میں تیرے بندوں کے ساتھ بھلائی کر تا رہونگا ۔ لہذا جب اس طرف کام کا دبا ؤ بڑھ جاتا ہے، تو بلاگ کی طرف آنا بہت کم ہوتا ہے۔ صرف میرے ذمہ جو دو کالم ہیں انہیں پو را کر تا ہوں کہ یہ بھی اسی عہد کا ایک حصہ ہیں ۔ اور اس مجبوری سے صفدر بھا ئی بھی واقف ہیں کہ وہ یہاں ہوکر گئے ہیں ۔
    بہر حال آپ کے بلاگ سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ عالمی اخبار میں ایک سچ لکھے والی خاتون کا اور اضافہ ہوا۔ ورنہ جس طرح مردوں کی صنف اپنے خلاف کچھ نہیں لکھنا چا ہتی، اسی طرح خواتین کی بھی ! سچ یہ ہے کہ بقول آپ کے کا لی بھیڑیں دونوں طرف ہیں، کم یا زیادہ ۔ مگر ظالم صرف مرد ہی دکھا ئے اور سمجھے جاتے ہیں ۔ جبکہ خواتین کے لیئے بہت سی سہولتیں ہیں۔ اور کسی بھی خاتون کی ایک شکا یت پر اس کو پولس بند کر دیتی ہے۔ مگر میرے پاس بطور کونسلر ایک کیس آیا جو مرد تھا ۔جس کا پورا جسم جلتی چیزوں سے دا غا گیا تھا ۔ میں نے ہر محکمہ کو ہلا ڈالا ! فون کرتے ، کرتے مجھے صبح سے شام ہو گئی اور میں اسے کوئی ایسی پنا ہ گاہ دینے میں ناکام رہا جہاں وہ ان چمٹے اور پھکنیوں وغیرہ سے محفوظ رہ سکے۔جو اس کی بیوی اٹھا کر مار دیتی تھی ۔وہ آدمی جاہل بھی نہیں تھا ایک کالج میں پرو فیسر تھا؟ اور میرے مشاہدے کہ مطابق بہت ہی ٹھنڈے مزاج کا لگتا تھا۔

  28. پتہ نہیں نادیہ صاحبہ اور رخسانہ ناز صاحبہ کن خواتین کی باتیں کررہی ہیں جو “عورت ہی عورت کی دشمن “ کی شکل میں نمودار ہوتی ہیں ۔
    کیا انہوں نے ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نائب مدیر عالمی اخبار اور محترمہ زرقا مفتی صاحبہ جیسی سخنور نواز خواتین کو بھی دیکھنے کا شرف حاصل کیا ہے؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ویسے عورت ماں بھی ہے اور ساس بھی
    ، بیٹی کو ماں پیا ری مگر وہی ماں ، بہو کے لیے ایک دشمن کا درجہ رکھتی ہے۔
    عورت کو اپنی سگی بیٹی سے محبت مگر سونتیلی بیٹی سے نفرت ؛
    عورت اگر ایک سہیلی ہو تو خوش مگر وہی سہیلی اگر سوکن کا روپ دھارلے تو دشمن!!!
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ ایک نہ ختم ہونے والی داستان ہے۔
    ۔۔۔۔۔

  29. نادیہ بخاری صاحبہ کے لیے جو شعر اوپر لکھا ہوں اس زمین میں ایک اور شعر لکھکر اس کو قطعہ بنا نا چاہتا ہوں:
    وہ آئے عالمی اخبار میں ، سبحان اللہ
    بہار آگئی گلزار میں ، سبحان اللہ
    سنا ہے علم کے جوہر دکھانے آئی ہیں
    ہے دھوم علم کے بازار میں ، سبحان اللہ

    ۔۔۔۔۔۔۔

  30. جناب منظورقاضی کی خدمت میں عرض ہے کہ بحیثیت عورت مجھے عورت ذات سے بیر نہیں نہ ہی ان کی تقدس سے انکارہے میری ماں بھی عورت میری بہن بھی عورت،میں تو صرف ان کی بات کر رہی ہوں جو میرے گھر سے نکلنے کے مقصد سے آگاہ تھیں اور میری مجبوریوں کے پیش نظرمجھے جھوٹی تسلیاں بھی دیتیں تھیں وہ میرے دکھ کا مداوا کرنے کی قدرت اورطاقت رکھتی تھیں مگرافسوس انہوں نے مجھے مزید زخم دیے کیوں کہ میں ان کی قبیل کی نہیں تھی اور نہ بن سکی۔ اور ہوں میرا مستقبل تاریک ہوا اور میری بیوہ ماں کی محنت رایئگان گئی ۔آج پہلا جرم بدصورتی،دوسری خطا سادگی،تیسراگناہ سچ بولنا اور خوشامدکے جراثیم نہ ہونا۔وہ لڑکیاں کیٹ واک بھی کرسکتی ہیں کسی کے ساتھ چائے پینے کے لیے وقت بھی نکال سکتی ہیں اوربے باکی کے ساتھ گفتگو بھی کرسکتی ہیں وہ اپنی جگہ مجبور ہم اپنی جگہ مجبور،اگر وہ اپنے دائرے میں قید رہیں تب بھی کوئی شکایت باقی نہ رہے مگر دخل اندازی کرتی ہیں دراندازی کرتی ہیں نتیجتآ ان کی فائلیں اوپرآجاتی ہیں اورہمارے ارمان منوں مٹی تلے دب جاتے ہیں وہ جیت جاتی ہیں اور ہم زندگی کی جنگ ہار جاتے ہیں ظاہر ہے کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں؟قاضی صاحب جب دل کی وادی سوجائے توایک زندگی دم توڑدیتی ہیں ۔۔اس زندگی میں ذاتی طورپرندامت اورپچھتاوے تو نہیں ہیں مگرخیال آتا ہے محض ہماری انا خودداری اورشرافت اپنے پیاروں کو ان کی قربانیوں کے بدلے خوشیاں اورآسودگی دینے سے محروم رکھتی ہے اورسومجبوریاں ضرب ہزاروں دکھ برابرزندگی،میں آج بھی سوچتی ہوں کہ اس عورت کیا جاتا اگر وہ مجھ پر ظلم نہ کرتی آخر ایسی کیا مجبوری تھی اس کی جس نے مجھے میری صلاحیتوں کے باوجوداس کی ایک ناانصافی پر ابھارا ۔مجھے قتل کرتے وقت یہ نہ سوچا کہ اس کے ساتھ کتنے نفوس مرجائیں گے ،میں روتی رہی گڑگڑاتی رہی مگر وہ مجھے پھانسی کی سزا سنا کر قلم کی نوک توڑ چکی تھی۔وہ تاریخ تھی 15جولائی اور سن 1993جب میں نے بے جان قدموں سے گھر کا مختصر آنگن صدیوں میں پار کر کے اپنی ماں سے کہا تھا اماں مجھے خوبصورت پیدا کیوں نہیں کیا اسی کے تو نمبر ملے تھے،عطیہ، سیما،غزالہ ،شازیہ اورناہید جیت گئیں۔شگفتہ باجی نے بھی منیرسومرو کی زبانی سنا تھا کہ باصلاحیت ہے مگر ہم اسے مستقل نہیں کرسکتے ایک ہی نقص ہے اس میں،،،ہاں مگراس ادارے کے ٹھکیدار اس کی انگلی پکڑ کر یہ کہ دیں کہ یہ ہماری ضرورت ہے تو کام بن سکتا ہے مگر اماں جان اب کسی کو میری ضرورت ہی نہیں ہے آپ نے کہا تھا کہ چوبیس گھنٹوں میں کوئی نہ کوئی گھڑی قبولیت کی ضرور ہوتی ہے اور اس لمحے آنکھ نہ لگنے پائے اور میں مدتوں سوئی نہیں ہوں اب اجازت دیں کہ میں آنکھیں موند لوں،کیوںکہ اب میں کسی کو بھی دیکھنا نہیں چاہتی تھے۔مجھےعطیہ، سیما،غزالہ ،شازیہ اورناہیدسے بھی شدید نفرت ہے۔

  31. رخسانہ ناز صاحبہ کے اس تفصیلی تبصرہ کو میں انہی کے بلا گ میں منتقل کرکے اپنا جوابی تبصرہ بھی پیش کردیا ہوں ۔
    ناز صاحبہ کے تخلص پر مجھے آرزو اکبر آبادی کی غزل کے یہ اشعار یا د آرہے ہیں :
    دل لذتِ غم کی نعمت پر بے جا نہیں جتنا ناز کرے
    مل جائے تو ائے ہنسنے والے تو مجھ سے زیادہ ناز کرے

    پھولوں پہ چمن ، تاروں پہ فلک ، ذروں پر صحرا ناز کرے
    کچھ اس سے الگ اے حسنِ عطا ، دل جس پہ ہمارا ناز کرے

    اے آرزو اپنی ہستی کو پابندِ نیاز ہی رہنے دے
    ہر ظرف کا ہے اک پیمانہ جو چاہے اتنا ناز کرے
    اور اقبال کا یہ شعر بھی کہ :
    کشادہ دستِ کرم جب وہ بے نیاز کرے
    نیاز مند نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرے
    ۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *