فاعلاتن فاعلاتن فاعلن ۔ ” عشق میں پرکیف ہیں رسوائیاں “

میں اس ثقیل موضوع پر بلاگ لکھ تو رہا ہوں مگر مجھے افاعیل کا پتہ بالکل نہیں۔ بھلا ہو اردو بندھن کی محفل کا کہ کل اس کی انتظامیہ نے مجھے اپنی رومن اردو میں یہ طرح مصرعہ بذریعہ ای میل بھیج کر دعوت کلام دیا۔ ( میں دوسری اردو کی انجمنوں کے ساتھ ساتھ اس اردو بندھن کا بھی رکن ہوں ) ۔

اس اردو بندھن کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ مصرعہ ڈاکٹر علی احمد ( احمد علی ) برقی اعظمی ( مقیم دہلی انڈیا ) کا ہے ۔ اور یہ مصرعہ بحر رمل مسدس محذوف میں ہے ۔

یہ اس محفل کامارچ کے مہینے کے عالمی مشاعرہ ہے جس کی صدارت سید انور جاوید ہاشمی ( مقیم کراچی ) کررہے ہیں۔
اس محفل کی انتظامیہ نے پورا شعر تو نہیں لکھا ۔ مگر شاید طرحی مشاعرہ کی روایت کے مطابق صرف طرح مصرعہ دے کر طبع آزمای کی دعوت دے دی۔ اور یہ بھی کہ دیا کہ یہ ایک غیر مردف یعنی کہ بغیر ردیف کی غزل ہے اور اسکا قافیہ ہے رسوائیاں، تنہائیاں، پرچھائیاں وغیرہ وغیرہ

میں شاعر تو نہیں مگر تنک بندی کر نے کی کوشش کرتا ہوں :
میری ” کاوش ” مندرجہ ذیل ہے:

دیکھ کر حالات کی رعنائیاں
لے رہی ہے زندگی انگڑائیاں

اپنی رسوائی پہ عا شق نے کہا
” عشق میں پرکیف ہیں رسوائیاں”

ذہن میں تیرے خیالوں کے طفیل
بج رہی ہیں ہرگھڑی شہنائیاں

ظلمتوں میں ‌ساتھ دیتی ہی نہیں
کتنی مخلص ہیں مری پرچھائیاں

عالمی اخبار کو پڑھتے ہوئے
دور ہوتی ہیں مری تنہا ئیاں

نوٹ: میں اردو بندھن کے مشاعرہ میں یہ مبتدیانہ غزل بھیجنے کی جرائت نہیں کرسکتا مگر یہاں لکھنےمیں کوئ خوف نہیں اس لیے کہ یہ اپنے رشتہ داروں جیسا ماحول ہے۔

اب اگر اس بلاگ کو پڑھنے والے سخنور اور دانشور اس بلاگ کے موضوع پر اسی بلاگ میں طبع آزمائی کریں تو سب کے علم میں ضرور اضافہ ہوگا۔
اس بلاگ کا مقصد علم عروض کا مذاق اڑانا نہیں بلکہ اس علم کے متعلق کچھ معلومات ایک دوسرے کو دینی ہیں جن سے شاعری کے اس بنیادی پہلو پر بھی روشنی ڈالی جاسکے۔
سب جانتے ہیں کہ غزل صرف اور صرف عروض کی بنیاد پر ہی لکھی جا سکتی ہے ۔ اور عروض اور بحر اور افاعیل کا علم ہر شاعر کے لیے ضروری تو نہیں لیکن فائدہ مند ضرور ہے۔
شاید فراز اور جالب اس سلسلےمیں باقاعدگی کے ساتھ واقفیت رکھتے تھے یا نہیں مگر وہ فطری طور پر ان
قواعد کی پابندی ضرور کرتے تھے ۔
میری خواہش ہے کہ عالمی اخبار میں بھی اسہی قسم کے مشاعروں ( طرحی یا غیر طرحی ) کا سلسلہ شروع ہوجائے ۔
بہر حال :
“صلائے‌عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے”
علم کا طالب :
منظور قاضی از جرمنی

15 thoughts on “فاعلاتن فاعلاتن فاعلن ۔ ” عشق میں پرکیف ہیں رسوائیاں “”

  1. اچھی غزل ہے قاضی صاحب بلکہ اسے مشاعرے میں‌ بھی بھیجیئے۔

    اور دوسرے یہ کہ میں نہیں مانتا کہ آپ کو عروض سے واقفیت نہیں ہے، کہ یہ غزل مکمل وزن میں‌ ہے اور بالخصوص یہ مصرع جو کہ مسبغ ہے (یا محذوف کی جگہ مقطوع ہے):

    “ذہن میں تیرے خیالوں کے طفیل”

    یہ تو وہی بات ہے اور وہی وزن ہے

    من نہ دانم فاعلاتن فاعلات

    🙂

  2. محمد وارث صاحب کی ذرہ نوازی اور ہمت افزائی کا شکریہ کہ انہوں نے یہ کہا کہ میری “غزل مکمل وزن میں ہے ” ۔ انہوں نے تو اس غزل کی تقطیع بھی کردی اور میرے ایک مصرعہ کے لیے کہا کہ وہ ” مسبخ‌ہے ( یا محذوف کی جگہ مقطوع ہے ) ” ۔ میں تو سمجھ رہا تھا کہ یہ بحر رمل مسدس محذوف میں ہے مگر محمد وارث صاحب کی تحریر سے معلوم ہو ا کہ یہ بحر رمل مسدس مسبخ میں ہے ۔
    میں کیسے انہیں یہ کہوں کہ ” میں نہ جانوں فاعلاتن فاعلات” ۔ شاید سخنوروں کی محفلوں نے اور اچھےاچھےشعرا کے نپے تلے اشعار نے مجھے سعدی کےشعر کی طرح اس قابل کردیا کہ میں تک بندی کرسکوں:
    جمال ہم نشین در من اثر کرد ۔ وگرنہ من کہ اک خاکم کہ ہستم

    میں انتہائی ادب سے محمد وارث صاحب سے عرض کرونگا کہ وہ آسان انداز میں عروض اور بحور اور اوزان اور فن تقطیع پر تبصرے لکھتے رہیں تو یقینی طور پر تمام سخنور اس نہایت ہی بنیادی علم سے استفادہ کرسکینگے۔
    میں انکے مشورے کی روشنی میں اس غزل کو اردو بندھن webmaster@urdubandhan.com کو بھجوادونگا ۔ مگر مجھے یقین ہے کہ اچھے اچھے اساتذہ نے اس غزل سے بہتر غزلیں بھجوائی ہونگی ۔ ( اس لیے مجھے اس سلسلے میں کوی خوش فہمی نہیں ہے )

    ویسے اگر کوی اور سخنور یا دانشور اس بلاگ میں ہی سہی اس طرح مصرعہ پر طبع آزمائی کریں تو انکی مرضی۔
    علم کا طالب :
    منظور قاضی از جرمنی

  3. شکریہ قاضی صاحب، دراصل یہ غزل بحر رمل مسدس محذوف میں‌ ہی ہے، لیکن اس بحر کے وزن، یعنی فاعلاتن فاعلاتن فاعلن کے ساتھ ایک اور بحر، بحرِ رمل مسدس مقصور (معذرت کہ پہلے اسے مقطوع لکھ گیا تھا) کے وزن، جو کہ فاعلاتن فاعلاتن فاعلات ہے کا اجماع جائز ہے۔ رہا ‘مسبغ’ تو وہ دراصل بحر کا نام نہیں ہے بلکہ ایک زحاف کا نام ہے جس سے رکن کے آخری ساکن سے پہلے ‌ایک ساکن الف کا اضافہ ہو جاتا ہے یعنی فاعلن سے فاعلان بن جاتا ہے، فاعلات اور فاعلان کا وزن ایک ہے سو چاہے اسے رمل مسدس مقصور کہیں‌ یا مسبغ، مطلب ایک ہے گویا اس بحر (رمل مسدس محذوف) کے آخری رکن فاعلن کو فاعلات یا فاعلان کے ساتھ بدلنا جائز ہے!

    آپ کی توجہ اس طرف دلانا چاہی تھی کہ اس بات (مختلف اوزان کا اجماع)کا علم، علم عروض‌ میں‌ ‘کچھ’ درک حاصل ہونے کے بعد ہی ہوتا ہے اور چونکہ آپ کی غزل میں ایک مصرع (مذکورہ مصرع) اس وزن میں تھا سو میں سوچا کہ آپ تو ماشاءاللہ اس علم کے ماہر ہیں۔

    اور نوازش آپ کی قاضی صاحب کہ آپ نے اس ہیچمدان کو اس قابل سمجھا کہ عروض‌ جیسے علم پر کچھ لکھ سکوں، ایک کوشش میں‌ یہ کرتا ہوں‌ اپنے بلاگ پر، کہ جو شاعری بھی پوسٹ کروں‌ اسکی بحر، افاعیل اور تقطیع وغیرہ لکھ دوں‌ تا کہ احباب اس ادق علم پر کچھ پڑھنا چاہیں یا ڈھونڈنا چاہیں‌ تو کچھ معلومات مل سکیں!

    والسلام مع الاحترام

  4. محمد وارث صاحب نے ایک نہایت ہی دقیق نکتہ کو اتنی آسان زبان میں سمجھا دیا ۔ یہ انکے فن عروض پر عبور کا مظہر ہے ۔ شاید میری طرح دوسرے سخنور اور دانشور بھی اس تشریح کا لطف اٹھارہے ہونگے کہ فاعلاتن فاعلاتن فاعلن ( بحر رمل مسدس محذوف ) اور فاعلاتن فاعلاتن فاعلان ( بحر رمل مسدس مقصور ) دونون کا امتزاج ایک شعر میں یا ایک غزل میں جائز ہے ۔
    میں اس فن پر مہارت تو کیا اس کی ابجد سے بھی واقف نہیں۔ مگر ضرور کوشش کرتا ہوں کہ کم ازکم اسکے قواعد اور اصول کی تحقیق کرتا رہوں۔ مگر مشکل یہ ہے کہ اس فن کو اسکے ماہروں نے ایسا معمہ بنا دیا ہے کہ مجھ جیسا کم علم انسان اس کو حل کرنے کی ہمت نہیں کرتا ۔

    محمد وارث صاحب کا شکریہ ادا کرونگا اگر وہ اپنے بلاگ کا نام یہاں اس بلاگ میں لکھدیں تاکہ میں اور میرے علاوہ دوسرے قارئین انکی معلومات سے استفادہ کرتے رہیں ۔
    فقط:
    علم کا طالب : منظور قاضی از جرمنی

  5. بحر رمل مسدس محذوف/مقصور
    محذوف وزن۔۔۔فاعلاتن فاعلاتن فاعلن۔۔۔حزف کے عمل سے فاعلن حاصل ہوتا ہے
    مقصور وزن۔۔۔۔۔فاعلاتن فاعلاتن فاعلات۔۔۔۔قصر کے عمل سے فاعلات حاصل ہوتا ہے
    محذوف
    صبح دم دروازہ ء خاور کھلا
    مہر عالم تاب کا منظر کھلا
    مقصور
    ہو گئی مجھ کو غمِ فرقت پہاڑ
    چھپ رہی ہے کیوں پسِ کہسار صبح

  6. واہ واہ صفدر ھمدانی صاحب نے تو کمال کردیا کہ بحور کی مثالیں بھی دے دیں ۔
    ہم سب محدود علم رکھنے والوں کو اسی قسم کی رہنمائی کی ضرورت ہے ۔
    خدا کا شکر ہے کہ اس بلاگ کی افادیت میں صفدر ھمدانی صاحب کی مثالوں کی وجہ سے ، اضافہ ہوگیا۔
    ۔
    فقط : علم کا طالب : منظور قاضی از جرمنی

  7. شکریہ قاضی صاحب، میرے بلاگ کا ربط http://muhammad-waris.blogspot.com/ ہے، اور سائیڈ بار کے ٹیگز میں مختلف بحور کی تقطیع کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے، مذکورہ بحر میں سب سے زیادہ مشہور اور ہزاروں اشعار پر مشتمل مولانا رومی کی مثنوی اور اقبال کی مثنوی جاوید نامہ ہیں!

  8. اب محمد وارث صاحب کے اوپر لکھے ہوے تبصرے کے ساتھ اس بلاگ کا مقصد جزوی طور پر پورا ہوگیا۔

    اب اس بلاگ میں عروض کے موضوع پر بحث کرنا ضروری نہیں اس لیے کہ اس موقف پر عالمی اخبار کی انتظامیہ نے کھل کر اپنا موقف ظاہر کردیا ہے۔

    اگر کوی سخنور عروض کے بارے میں کچھ جاننا چاہے تو وہ عروض کے بارے میں اپنی ذاتی تحقیق جاری رکھے اور محمد وارث صاحب کے بلاگ سے استفادہ کرے۔

    ہا ں اگر کوی سخنور اس موضوع کے عنواں میں دیی ہوی طرح پر اشعار لکھنا چاہے تو یہ بلا گ حاضر ہے۔
    فقط :
    علم کا طالب
    منظور قاضی از جرمنی

  9. میرے بلاگ کے شروع میں جو غزل اپنی تک بندی کے نتیجہ میں لکھا ہوں اس کے ایک شعر کے پہلے مصرعہ کو یوں تبدیل کیا ہوں:

    ظلمتوں میں چھوڑ جاتی ہیں مجھے
    کتنی مخلص ہیں مری پرچھائیاں

    ایک مطلع ثانی بھی لکھدیتا ہوں :

    ہا ئے میری عقل کی پسپا ئیاں
    ہا ئے میرے عشق کی گہرائیاں

    امید کہ اوپر کے اشعار بھی فاعلاتن فاعلاتن فاعلن کے سانچے پر پورے اتر ے ہونگے ۔ اگر نہ بھی اتریں تو کیا ہو ا میں نے تو اپنے دل کی بات شعر میں کہدی ۔ ۔

    ایک پرانا لطیفہ یاد آگیا:
    ایک تیلی نے جاٹ سے کہا:
    جاٹ رے جاٹ تیرے سر پر کھاٹ
    جاٹ نے جواب دیا :
    تیلی رے تیلی تیرے سر پر کولھو

    تیلی نے جاٹ سے کہا کہ تیرا ا مصرعہ عروض اور وزن میں نہیں ۔
    جاٹ نے جواب دیا : مصرعہ وزن اور عروض میں نہیں مگر کولھو کے وزن سے تیرا کچومر تو نکل گیا نا !!!
    فقط:
    علم عروض سے نا واقف مگر علم عروض کی اہمیت اور افا دیت کا قائل:
    علم عروض پر مہارت کے بغیر بھی غزل کہی جا سکتی ہے مگر علم عروض سے واقفیت میں فائدہ ہی ہے نقصان نہیں۔
    علم کا طالب :
    منظور قاضی از جرمنی

  10. میرے خیال میں اس موضوع کے عنوان میں جو طرحی مصرعہ ہے اس کے محدود قافیہ کی وجہ سے دوسرے سخنور اس طرح پر کچھ لکھ نہ سکے۔
    اس مصرعہ کو اردو بندھن والوں نے مارچ کے مشاعرہ کے لیے چنا ہے ( تفصیلات میرے اس بلاگ کے شروع میں موجود ہیں)۔
    اردو بندھن کی انتظامیہ نے ” عشق میں پر کیف ہیں رسوائیاں ” دے کر کہا کہ یہ غیر مردف غزل کا مصرعہ ہے یعنی اس کی کوئی ردیف نہیں مگر قافیہ ہے
    رسوائیاں، پرچھائیاں ،تنہائیاں وغیرہ وغیرہ ۔
    منتظمین نے یہ نہیں لکھا کہ وغیرہ وغیرہ میں دشواریاں، عیاریاں ، مکا ریاں جیسے قافیے بھی شامل ہیں یا نہیں ۔ اگر وہ اس کی اجازت دے دیتے تو اس میں غزل کہنے کا دائرہ وسیع ہوجاتا ۔
    ویسے منتظمین مشاعرہ نے کہا ہے کہ اس طرح میں کو ی ردیف نہیں ۔ مگر میرے خیال میں اس مصرعہ کی ردیف ” ئیاں ” ہے اور قافیہ “‌رسوا” ، تنہا” اور ” پسپا ” ہے۔ اور اس کی محدودیت کی وجہ سے یہ قافیہ ذرا تنگ ہوگیا ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ شاعروں کی غزلوں میں خیالات کا توارد ہوجاے۔ اور نکتہ چیں دانشور وں کو نکتہ چینی کے لیے مواد مل جائے۔

    میں نے تو جلدی جلدی میں اپنی غزل لکھدی اب دیکھتے ہیں کہ اس قافیہ پر دوسرے شعرا نے کیا کہا ہے ۔
    بہر حال:
    علم کا طالب :
    منظور قاضی از جرمنی

  11. اگر کوی سخنور اس بلاگ کے طرحی مصرعہ پر مارچ کے اختتام تک کوی شعر یا قطعہ یا غزل نہ لکھیں تو یہ بلا گ اختتام کو پہنچے گا۔
    اگر اردو بندھن والوں نے یا اردو انجمن نے اپریل کے مہینے میں کوئی طرحی مشاعرے کے لیے کوی طرح مصرعہ دیا تو میں انشا اللہ اسکو بھی اپنے بلاگ میں جوں کا توں ( افاعیل ھی اگر دیے گئے ہیں تو انکے ساتھ ) اپنے بلاگ میں‌پیش کردونگا۔

    عالمی اخبار تو میری جان ہے مگر میں بہت ساری اردو کی محفلوں کا رکن بن جانے کی کوشش کررہا ہوں تاکہ اردو کی پیاس بجھتی رہے۔ اگر ان انجمنوں میں کوئی تعمیری بات نظر آئی تو میں اس بات کو اپنے بلاگو ں میں عالمی اخبار میں پیش کرتا رہونگا۔

    امید کرتا ہوں کہ تمام دانشور اور سخنور بھی اسی طرح اپنے علم کو اور خاص طور پر اردو کو دنیا میں پھیلاتے رہیں گے اور اپنے اپنے تعمیری تبصروں سے سب کو مستفید اور مستفیض فرمایئنگے ۔
    فقط:
    علم کا طالب : منظور قاضی از جرمنی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *