آج 9 ربیع الاول ہے، جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہلِ بیت (ع) نے سانحہء کربلا کے بعد اپنا سوگ ختم کیا تھا، اسے عیدِ زہراء (سلام اللہ علیہا) بھی کہتے ہیں اور عیدِ شجاع بھی، تمام مسلمانوں کو یہ عید بہت بہت مبارک ہو.
مورخین کا اتفاق ہے کہ جناب مختار نے حضرت حنفیہ کی خدمت میں قاتلان امام علیہ السلام کے سروں کے ساتھ ایک خط بھی اس مضمون کے ساتھ لکھ کر بھیجا تھا کہ ؛ میں نے آپ علیہ السلام کے مددگاروں اور ماننے والوں کی ایک فوج آپ علیہ السلام کے دشمنوں کو قتل کرنے کے لِئے موصل بھیجا تھا ، اس فوج نے بڑی جوانمردی اور بہادری کے ساتھ آپ کے دشمنوں کا مقابلہ کیا اور بے شمار دشمنوں کو قتل کیا جس سے مومنین کے دلوں میں مسرت کی لہر دوڑ گئ اور آپ کے ماننے والے نہایت خوش اور مسرور ہوئَے ، اس سلسلے میں سب سے بڑا کردار ابراہیم بن مالک اشتر نے ادا کیا جو سب سے زیادہ تحسین و آفرین کے مستحق ہیں ۔
جناب محمد حنفیہ کے سامنے جس وہ تمام سر پیش کیے گئے تو دیکھتے ہی سجدہ شکر میں جھک گئَے اور جناب مختار کے حق میں دعا کی کہ ؛ خداوند مختار کو جزائَے خیر دے جس نے ہماری طرف سے واقعہ کربلا کا بدلا قاتلان حسین علیہ السلام لیا ہے ۔”؛
پھر اس کے بعد آپ سجدہ شکر سے سر اٹھا کر عرض پرواز ہوئَے ؛ “پالنے والے تو ابراہیم بن مالک اشتر کی ہر حال میں حفاظت فرما اور دشمنوں کے مقابلے میں ہمیشہ اں کی مدد کرتا رہ اور انہیں ایسے امور کی توفیق عطا فرما جو تیری مرضی کے مطابق ہوں اور جن سے تو راضی ہو اور ان کو دنیا و آخرت میں بخش دے” ۔
سر ابن زیاد امام زینُ العابدین علیہ السلام کے خدمت میں
جناب حنفیہ نے ابن زیاد ، عمر سعد ، حسین بن نمیر اور شمر زی الجوشن وغیرہ کے سروں کو امام زینُ العابدین علیہ السلام کی خدمت میں ارسال فرمایا ، اُن دنوں حضرت مکہ معظمہ میں ہی مقیم تھے ۔ حضرت کی خدمت میں اُن ملعونوں کے سر پہنچے اور آپ کی نگاہ اُن سروں پر پڑی ، آپ علیہ السلام نے فوراً سجدہ شکر میں اپنا سر رکھ دیا اور بارگاہ احدیت میں عرض کی
” پالنے والے میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے ہمارے دشمنوں سے انتقام لیا ” ۔ پھر سجدے سے سر اٹھا کر آپ علیہ السلام نے فرمایا ” خدا مختار کو جزائَے خیر دے کہ اُس نے ہمارے دشمنوں کو قتل کیا” ۔
جس وقت ابن زیاد کا سر آپ علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا آپ ناشتہ تناول فرما رہے تھے ۔ اُن سروں کو دیکھ کر آپ نے سجدہ شکر کیا پھر سر اٹھا کر فرمایا کہ ” خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُس نے میری وہ دعا قبول کر لی جو میں نے دربار کوفہ میں کی تھی جب میرے پدر بزگوار کا سر طشت میں رکھا ہوا تھا اور اُس وقت ابن زیدا ملعون ناشتہ کر رہا تھا ” یعنی خداوندا مجھے اُس وقت تک موت نہ دینا جب تک مجھے ابن زیاد ملعون کا کٹا ہوا سر نہ دکھا دے” ۔
اس کے بعد حضرت زینُ العابدین علیہ السلام نے داخل خانہ ہو کر مخدرات عصمت و طہارت سے فرمایا کہ اب لباس ماتم تبدیل کرو ، آنکھوں میں سرمہ لگاو ، بالوں میں کنگھی کرو ۔ چنانچہ آپ کے ارشاد کے مطابق اہل حرم نے عمل کیا ۔
امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد سے آج تک اہلبیت رسول صلی اللہُ علیہ و آلہ وسلم میں نہ کسی نے سرمہ لگایا تھا ، بالوں میں تیل ڈالا تھا ۔
از کتاب “امیر مختار ” مصنف سید بشارت حسین کامل مرزا پوری ۔
۹ربیع الاول اس لحاظ سے بھی خاص اہمیت کا حامل ہے کہ ۹ ربیع الاول سن 260 ھ کو حضرت حجت قائم آل محمد حضرت صاحب ُ العصر والزمان نے امامت کا منصب پوری زمہ داری کے ساتھ سنبھالا ۔
السلام ُ علیک یا صا حبُ آلعصر والزمان عجل اللہ ُ تعالٰی فرجہ۔
سب کو عید زہرا اور تاج پوشی امام مہدی صا حبُ آلعصر والزمان عجل اللہ ُ تعالٰی فرجہ بہت بہت بہت مبارک ہو
گلشن میں جیسے بہار لوٹ کے آئی ہے
مختار نے خبر ہی کچھہ ایسی سنائی ہے
خوب آج ہنسو عید کا دن ہے حسینیوں
دختر زہرا آج کے دن مسکرائی ہے

کیا صرف مسلمان کے پیارے ہیں حُسین
چرخِ نوعِ بشر کے تارے ہیں حُسین
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی، ہمارے ہیں حُسین
(جوش ملیح آبادی)
سبطینِ نبی یعنی حَسن اور حُسین
زہرا و علی کے دونوں نور العین
عینک ہے تماشائے دو عالم کے لئے
اے ذوق لگا آنکھوں سے انکی نعلین
(ابراہیم ذوق)
کبھي آوارہ و بے خانماں عشق
کبھي شاہ شہاں نوشيرواں عشق
کبھي ميداں ميں آتا ہے زرہ پوش
کبھي عريان و بے تيغ و سناں عشق
(اقبال)
ہر دم اس کی عنایت تازہ ہے
اس کی رحمت بغیر اندازہ ہے
جتنا ممکن ہے کھٹکھٹاتے جاؤ
یہ دستِ دعا خدا کا دروازہ ہے
(امجد حیدر آبادی)
امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں علماء اہل سنت کا نظریہ
محترم جناب آغا عبدالحسین بڈگامی جو عالمی اخبار کے کالم نگاروں میں اپنی ایک منفرد پہچان رکھتے ہیں .. ان کا لکھا ہوا ایک مکالہ پیش خدمت ہے جو پڑھنے والوں کے لئے کسی خزانے سے کم نہیں ..
نوشته شده در مارس 8, 2009 به وسیلهی عبدالحسین
امام زمان علماء اھل سنت کی نظر میں
باسمہ تعالی
نوربیع الاول عید زہرا ختم ولایت کا آغاز ہے۔ گیارہویں امام حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت آٹھ ربیع الاول دوسو ساٹھ ہجری میں واقع ہوئی اور بارہویں امام حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف منصب امامت پرفائز ہوئے اور ہمارے امام، امام زماں کا دور شروع ہوا جسے عید کے زہرا کے عنوان کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
امام زماں کے بارے میں نہ صرف شیعوں کا عقیدہ ہے بلکہ محقق علماء اھل سنت کا بھی اعتراف ہے ۔در اصل امام زمان، ایک ایسا بحث ہے جو کہ ہر دین اور مذھب میں پایا جاتا ہے ـ سب ایک نجات دھندہ کے انتظار میں ہیں ـ اسلام میں اسکا ایک خاص مقام ہے اور خاص نشاندہی کے ساتھ واضح ہے البتہ کچھ لوگوں کا ماننا ہےکہ مسلمانوں میں صرف شیعوں کاایسا تصور اور عقیدہ ہے کہ امام مھدی عجل اﷲ تعالی فرجہ الشریف ہیں جبکہ یہ عقیدہ صرف شیعیوں کا نہیں ہے اھل سنت بھی امام زمانہ کے وجود کا عقیدہ رکھتے ہیں ـ یہاں پر ان میں سے چند علماء کے نظریات نقل کرتے ہیں:
1۔ ابن حجر ہیثمی شافعی :
ابوالقاسم ، محمد ، الحجہ ،اپنے والد کے وفات کے وقت 5 سال کے تھے ـ اسی عمر میں خدا نے انہیں “حکمت ربانی” عطا کی ـ اور انہیں قائم منتظر کہتے ہیں ـ اخبار متواترہ میں آیا ہے کہ مھدی اس امت سے ہے ـ اور عیسی؏ آسمان سے اترکر مھدی؏ کی امامت میں نماز پڑیں گۓ
2 ۔ عماد الدین ابن کثیر دمشقی :
کالے جھنڈوں سے ابو مسلم نے خراسان میں بنی امیہ کی حکومت کا تختہ پلٹنے کیلۓ ہاتھ میں لیا تھا مراد نہیں ہے بلکہ وہ کالے جھنڈے جو مھدی؏ کے ساتھیوں کے ہاتھوں میں ہونگے مراد ہے ـ
3 ۔ ابن ابی الحدید مدائنی :
تمام اسلامی فرقوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جبتک مھدی ظہور نہیں کرتا احکام ، تکالیف اور دنیا کا خاتمہ نہیں ہو گا ـ
4 ۔ صدر الدین قونیوی :
میرے مرنےکے بعد ، طب اور حکمت کے بارے میں میری جو بھی کتابیں ہیں اور اسی طرح فلسفہ اور فلسفدانوں کی کتابیں ہیں سب کو بیچ ڈالنا اور اسکا پیسہ فقیروں میں صدقہ دینا ـ اور تفسیر ، حدیث اور تصوف کی کتابیں کتابخانہ میں رکھنا ـ میرے مرنے کی پہلی رات ستھر ہزار مرتبہ توحید (لاالہ الا اللہ) پڑھنا اور میرا سلام مھدی؏ تک پہچانا ـ
5 ۔ محمد بن بدرالدین رومی :
خدا نے حضرت محمدﷺکے ذریعہ نبوت تشریعی کو ختم کیا ، اب قیامت تک کوئی پیغمبر نہیں آۓ گا ـ اسی طرح خدا نے پیغمبر کے صالح فرزند کہ جسکا نام پیغمبر (محمد)کا نام اور کنیت پیغمبر (ابوالقاسم) کی کنیت ہے پر ولایت تامہ اور امامت عامہ ختم کرے گا ـ اور یہ وہی ولی ہے کہ جس کے بارے میں خبر دی گئ ہے کہ جب زمین ظلم و ستم سے بھری ہوگی اسے عدل و انصاف سے پر کرے گا ـ اور اس کا ظہور اچانک واقع ہوگا ـخدایا ! اسکے ظہور کی برکت سے یہ سب پریشانیاں اور مشکلات اس امت سے دور فرما ! اِنَّهُم يرَونَهُ بَعيداً وَ نَراهُ قَريباً ـ کچھ لوگ اسکے ظہور کو بعید اور ناممکن جانتے ہیں اور ہم اسے ممکن اور نذدیک جانتے ہیں ـ
6 ۔ جلال الدّین سیوطی :
احمد حنبل ، ابوعیسی ترمذی ، اور حافظ سلیمان بن احمد طبرانی ، سب نے عبداﷲ حرث زبیدی سے روایت نقل کی ہے کہ پیغبر اکرم ﷺنے فرمایا:” مشرق زمین(ایران) کے لوگ قیام کرکے حکومت مھدی کے مقدمات فراھم کریں گے” ـ یہ لوگ وہی ہوں گے جو کالے جھنڈے لےکر ایران سے نکلیں گے ، اور حدیث میں آیا ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں کہ جن کے بارے میں پیغمبر ﷺ نے فرمایاہے کہ سب اپنے امیر یعنی : مھدی علیہ السلام کی بیعت کریں گے ـ
7 ۔ شیخ عبدالحق دھلوی :
بہت سارے حدیث ہیں جو کہ حد تواتر کو پہنچیں ہیں ان میں آیا ہے کہ مھدی؏ اھل بیت پیغمبرﷺ سے اور فاطمہ سلام اﷲ علیہا کی اولادوں میں سے ہے ـ
8 ۔ شیخ ابوالعرفان صبّان :
پیغمبرﷺ سے اخبار اور احادیث حد تواتر تک نقل ہوے ہیں کہ مھدی ظہور کرے گا ـ جو کہ اھل بیت پیغمبر ﷺسے ہے اور زمین کو عدل و انصاف سے پر کرے گا ـ
9 ۔ ابوالفوز محمد امین بغدادی :
جس بات پر علماء کا اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ مھدی قائم آخرالزمان ہے ـ اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے پر کرے گا ـ مھدی ؏ کے ظہور کے بارے میں احادیث بہت زیادہ ہیں ـ
10۔ شیخ منصور علی ناصیف :
ساتواں باب ،خلیفہ مھدی-رضی اﷲ عنہ- کے بارے میں ـ علماء سلف و خلف کے درمیان مشھور ہے کہ آخر زمان میں حتمی اور یقینی طور اھل بیت پیغمبر ﷺ سے ایک شخص جس کانام مھدی ہے ظہور کرے گا اور تمام اسلامی ملکوں پر حاکم ہو جاے گا اور تمام مسلمان اسکی اطاعت کریں گے ـ وہ عدالت قائم کرے گا ـ دین کو قوت بخشے گا ـ اسوقت دجال پیدا ہوجاۓ گا ـ حضرت عیسی؏ آسمان سے اترے گآ اور دجال کو مار ڈالے گا یا مھدی کو دجال مارنے میں مدد کرے گا ـ مھدی کے بارے میں پیغمبر ﷺسے ممتاز صحابیوں کی ایک جماعت نے احایدیث نقل کۓ ہیں اور ان احادیث کو بڑے محدثین نے اپنی کتابوں میں اسناد اور مدارک کے ساتھ بیان کیا ہے ـ ابوداود ، ترمذی ، ابن ماجہ ، طبرانی ، ابویعلی ، بزّاز اور امام احمد حنبل اور حاکم نیشاپوری- رضی ﷲ عنہم اجمعین- جیسے بڑے محدث ناقلان احادیث مھدی میں سے ہیں ـ یہ اھل سنت کا سلف سے خلف تک کا عقیدہ ہے ـ
11۔ شیخ محمد عبدہ :
خاص و عام جانتے ہیں کہ قیامت کے علائم کے بارے میں اخبار اور احادیث موجود ہیں کہ ایک شخص اھل بیت پیغمبر ﷺ میں سے قیام کرے گا ، جسکا نام مھدی؏ ہے ـ وہ زمین کو جو کہ ظلم و ستم سے بھری ہوئ ہو گی کو عدل و انصاف سے پر کرے گا ـ آخری دنوں میں آسمان سے عیسی بن مریم ؏اترے گا ۔ مالیات کو ختم کرے گا ، صلیب کو توڑ دے گا اور دجّال کو قتل کرے گ ا ـ
12۔ احمد مصری :
اھل سنت بھی مسئلہ مھدویت پر یقین و ایمان رکھتے ہیں ـ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع:1. المهدي الموعود، ج1، ص 200.
2. المهدي الموعود ، ج 2، ص 72
3. شرح نهج البلاغه، ج 2، ص535
4. الامام الثاني عشر، ص 78حاشیہ،
5. طرازُ البُردَة، شرح قصيده برده بوصيري، از كتاب ” الامام الثاني عشر”، ص 77، حاشیہ
6. ” العرف الوردي”، از ” المهدي الموعود…” ، ج 2، ص 72
7. ” اللمعات”، نقل از: ” منتخب الاثر”، ص 3، از حاشيه ” صحيح ترمذي”، ج 2، ص 46، چاپ دهلي ( 1342 ه.ق)
8. ” اسعاف الراغبين”، ج 2، ص 140، چاپ مصر(1312 ه.ق)
9. ” سبائك الذهب في معرفة قبائل العرب” ، ص 78
10. غاية المامول، ج 5، ص 632 و 381
11. تفسير ” المنار”، ج6، ص 57
12. ” المهدي المنتظر و العقل”، تاليف شيخ محمد جواد مغنيه لبناني ، ص59
یہ علی و فاطمہ کے مومنوں کی عید ہے
کربلا سے لٹ کے آئے قیدیوں کی عید ہے
آج کے دن مسکرائے تھے علی ابن حسین
عید زہرا،در حقیقت غم زدوں کی عید ہے
…صفدر ہمدانی
طوق لعنت کے عنوان سے لکھی طویل نظم کے دو شعر
ہو لعنت کربلا سے آج تک کے سب یزیدوں پر
حسینی فکر کے دشمن ترے اظہار پر لعنت
۔۔۔۔۔
ستایا جنہوں نے صفدر محمد کے گھرانے کو
…عبادت ہے کریں گر ایسے اہلِ نار پر لعنت
خیر مبارک
تام مومین کو عید زھرا علیہ سلآم اور تاج پوشی امام زمانھ یا صا حب العصرو زمان بہت بہت مبارک ھو مومین آپ علیہ السلآم کی تاجعل کی دعا
فرمائیں
ایک شعر مومین کی نذر ھے جس بھی شاعرکاھے خدا آن کے درجات کو بلند فرمائیں ّ آمینّ
ہٹ جائیں گر اماِم زماں درمیان سے
لآکھوں بلآئیں ٹوٹ پڑیں آسمان سے
پیاری فاطمہ سلامت رہیں اور تمام مشکلات میں اللہ کریم آپ کے ساتھ ہوں .. خیر مبارک .. بہت اچھا لگتا ہے جب آپ یہاں لکھتی ہیں … اتنے حسین شعر کو اتنی محبت سے یہاں لکھنے پر آپ کے لئے دل سے دعائیں نکل رہی ہیں .. اللہ سبحانہ تعالی ہم سب کی ان کوششوں کو قبول فرمائے ..آمین
واللہ یہی سچ ہے …
ہٹ جائیں گر اماِم زماں درمیان سے
لاکھوں بلائیں ٹوٹ پڑیں آسمان سے
منظور بھائی سلامت رہیں .. آپ کے آنے سے رونق بڑھ جاتی ہے .. ماشاللہ
میری جانب سے بھی تمام عالم اسلام کو یہ عظیم دن بہت بہت مبارک ہو۔
ایسے موقعے پر جناب برادر محترم عبد المناف صاحب کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔ ان سے درخواست ہے کہ اگر وہ خود یہ بات پڑھیں تو واپس آ جائیں انہیں”کچھ نہ کچھ” نہیں کہا جائے گا اور اگر کسی اور صاحب کو ان کے بارے میں خبر ہو تو خبر ان تک پہنچانے کی بجائے انہیں خبر تک پہنچا کر ہماری دلی دعائیں لیں۔۔۔۔۔
نا چیز
اللہ سبحان تعالی جب کسی کو اپنی نظر میں رکھ لیں تو وہ بشر ہر نظر میں سمانے لگتا ہے …اللہ کریم ہم سب کو سیدھا اور سچا رستہ عطا کرے ..آمین
مصباح بھائی عبد المناف بھائی آج کل صرف “سفر,حیرت و عشق” پڑھتے ہیں اور صرف “قمر رضوی” کی لکھی ہوئی تحریر پر تبصرہ کرتے ہیں …. مجھے تو اب یہ ایک ٹرایئنگل سا لگتا ہے ” مناف بھائی + قمر رضوی بھائی + زین عباس ” یہ تینوں صرف ایک دوسرے کی تحریروں پر رائے رکھتے ہیں باقی کسی تحریر اور لکھنے والے کی کوئی اہمیت ہے اور نہ ضرورت .. یہ یقیننا مجھے کسی طور کبھی اچھا نہیں لگا .. اور میں گاہے گاہے سب کو یاد دلاتی رہتی ہوں کہ اگر آپ کسی کی تحریر کو نہیں پڑھیں گے اور رائے نہیں دیں گے تو کوئی دوسرا بھی کب تک آپ کو پڑھے گا .. خاص طور پر میں بلاگ کی بات کر رہی ہوں .. ہمیں ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلنا ہے اور ایک دوسرے کی پہچان بننا ہے نا کہ ڈیڑھ انچ کی مسجد بنا کر رہنا ہے … مجھے معلوم ہے کہ میری باتیں آپ کو کڑوی لگ رہی ہیں لیکن میں کئی مہینوں سے یہ کہنا چاہ رہی تھی …
آپ سب سے انتہائی معذرت لیکن یہی میرا فرض تھا کہ بہت ساری آئی ہوئی شکائیتوں کو میں آپ سب کے روبرو کرتی … ہم سب یہاں ایک خاندان کی طرح رہتے ہیں .. اور آپ سب کی زیادہ سے زیادہ شرکت ہی اس پلیٹ فارم کو کامیاب بنا سکتی ہے …
آپی مجھے آپ کی باتیں کڑوی نہیں لگی ہیں اور آپ نے جس شائستگی سے بات کی اس میں کوئی ایسا پہلو تھا ہی نہیں۔۔۔۔۔سو آپ کواسی قسم کی کڑوی کے سلسلے مزید بھی کچھ کہنا ہو تو بندہ بسر و چشم سننے کو پڑھنے کو تیار ہے۔
مصباح بھائی سدا خوش و خوشحال رہیں .. آپ نے جیسے یہ سب لکھ کر میر امان بڑھایا ہے اس سے زیادہ اللہ کریم آپ کا مان سلامت رکھے … بس ہم سب کو ملکر اپنی تحریک کو زندہ رکھنا ہے .. اکائی صرف خدا کی ذات سے منسوب ہے اور اسی کا حق ہے .. ہمیں تو بس مل جل کر رہنے کا حکم ہے .. سو انشاللہ ہم سب مل جل کر رہیں گے .. مجھے گنہگار کواپنی دعاؤں میں یا درکھئے گا ..
یعنی کہ بقول شاعر
اتنی یکتائی بھی نہیں اچھی
روشنی ہفت رنگ ہوتی ہے
تمام مسلم امہ کو عید زہراء (سلام اللہ علیہا) اور تاج پوشی امام مہدی عج فرجہ مبارک ہو ۔۔۔ !!
ماشاءاللہ ۔۔۔ سبحان اللہ
علی عامر بھائی خوشی کے اس موقع پر آپ کوہم سب کی طرف سے خوش آمدید اور بہت بہت مبارکباد .. سلامت رہیں اور اللہ پاک کی اماں میں رہیں ..آمین
قابل احترام محترمھ نگھت نسیم صاحبہ بہت ساری دعا ئیں آپنے بلآگ ایک نو وارد کی چند سطور کو سراھا وہ شعر جن ذات اقدس کے بارے
تھا ان کو سراھا ہی جا سکتا ھے یقین ھے کہ آپ بلآگ کےتمام محترم اہل قلم و قارئیں حوصلہ افزآئ کریں گے تا کہ فکر وتفکر کی
صلآحیتیں نمو پا سکیں اور میرے اظہار بیان میں طاقت آسکے سب خوش رہیے آمین…….
السلام علیکم
میری طرف سے بھی آپ سب اور تمام اہل اسلام کو مبارک ہو ۔
بعض روایات کے تحت 9 ربیع الاول آقا صلاۃ السلام ، سرکار دوعالم ، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم پیدائش بھی ہے ، 12 ربیع الاول کو کچھ عشروع پہلے تک برافات ( بارہ وفات ) بھی کہتے تھے ( میرے محدود علم کے مطابق ) تمام علماء اِس پر مطفق ہیں کہ آقا صلاۃ السلام 12 نے ربیع الاول کے روز ہی اِس دُنیا سے ظاہری پردہ فرمایا تھا ۔ واللہ اعلم بالثواب ۔
غلام ابن غلام ۔ آصف احمد بھٹی
بسمہ تعالی
سلام علیکم
ڈاکٹر صاحبہ کو خاص طور اور عالمی اخبار کے جملہ قلمکاروں اور قارئین کی خدمت میں امام زماں عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے آغاز امامت جسے عید زھرا کے نام سے جانا جاتا ہے دل کی عمیق گہرایوں کے ساتھ مبارکباد عرض کرتا ہوں۔ آج امام زماں عج کی امامت کا 1224 واں سال امامت ہے آو سب مل کر آنحضرت کے تعجیل ظہور کے لئے دعا کریں :
الھم عجل لولیک الفرج۔آمین
عبدالحسین
عید زھرا علیہ سلآم اور تاج پوشی امام زمانھ یا صا حب العصرو زمان بہت بہت مبارک ھو
سچوں کے دینا ہمار اصول ہے
اس سلسلے میں موت بھی م کو قبول ہے
ہم سے نہ ہو سکےگا کہ جھوٹے کو داد دیں
اس رہ میںہم سے کوئی فضول ہے
سچوں پہ جان دینا ہمار اصول ہے
اس سلسلے میں موت بھی ہم کو قبول ہے
ہم سے نہ ہو سکےگا کہ جھوٹے کو داد دیں
اس رہ میںہم سے کوئی توقع فضول ہے
عید زھرا علیہ سلآم اور تاج پوشی امام زمانھ یا صا حب العصرو زمان بہت بہت مبارک ھو
تمام قارئین مؤمنین و مؤمنات کی خدمت میں السلام علیکم و عید مبارک
میں برادر عبدالحسین صاحب کی دُعا پر آمین کہتا ہوں کہ اللھم عجل لولیک الفرج
اللہ کریم سے دُعا ہے کہ ہمارے امام، ولائت کے آخری تاجدار اور اپنی آخری حجت کے ظہور میں تعجیل فرمائے اور ہمیں ان کے اعون، انصار اور شیعوں میں سے قرار فرمائے۔
میں برادر محترم جناب مصباح شاہ صاحب کی یادآوری پر بے حد ممنون ہوں، شاہ صاحب یقین مانیے کہ یہ موقع ہی ایسا ہے کہ یہاں حاضری واجب جانتا ہوں، لیکن آپ کے الفاظ پڑھ کر فوری طور پر ہاتھ باندھ کر حاضرِ خدمت ہوا ہوں۔
محترمہ باجی صاحبہ آپ کا فرمانا آپ کے نقطہء نگاہ سے یقیناً درست ہے لیکن حقیقت کافی مختلف ہے
باجی صاحبہ کی تحریر ایسی ہے کہ انہیں خود ہی اس کے” کڑوے لگنے” کا اندیشہ ہوا
بہر حال جیسا کہ عرض کیا ہے کہ حقیقت کافی مختلف ہے، یعنی آپ کی ارشاد کردہ باتوں میں کچھ درست اور کچھ غیر درست ہیں، مثلاً:
مصباح بھائی عبد المناف بھائی آج کل صرف “سفر,حیرت و عشق” پڑھتے ہیں
۔۔۔یہ بات درست نہیں، اگر درست ہوتی تو میں اس بلاگ میں یہ سب کچھ نہ لکھ رہا ہوتا
اور صرف “قمر رضوی” کی لکھی ہوئی تحریر پر تبصرہ کرتے ہیں
۔۔۔یہ بھی درست نہیں، کیوں کہ میں کئی دوسرے بلاگز میں بھی لکھتا رہتا ہوں
مجھے تو اب یہ ایک ٹرایئنگل سا لگتا ہے ” مناف بھائی + قمر رضوی بھائی + زین عباس ”
۔۔۔یہ بات تو بالکل ہی درست نہیں، کیوں کہ اس کا فائدہ کیا ہوگا مجھے یا کسی دوسرے کو؟؟
یہ تینوں صرف ایک دوسرے کی تحریروں پر رائے رکھتے ہیں باقی کسی تحریر اور لکھنے والے کی کوئی اہمیت ہے اور نہ ضرورت
۔۔۔ باجی بصد احترام عرض کروں گا کہ یہ بھی ایک مفروضہ ہے
یہ یقیننا مجھے کسی طور کبھی اچھا نہیں لگا
۔۔۔ آپ کو اچھا نہ لگا، یہ درست تو ہوگا لیکن حق بجانب نہیں، کیوں کہ بغیر صفائی کا موقع دیے، بغیر وجہ جانے کسی بات کا بُرا منالینا کیسے ٹھیک ہے؟
اور میں گاہے گاہے سب کو یاد دلاتی رہتی ہوں کہ اگر آپ کسی کی تحریر کو نہیں پڑھیں گے اور رائے نہیں دیں گے تو کوئی دوسرا بھی کب تک آپ کو پڑھے گا
۔۔۔باجی جی ! عرض ہے کہ جہاں تک ہوسکتا ہے میں عالمی اخبار کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں لیکن ضروری نہیں کہ ہر پڑھی بات پر کچھ عرض بھی کروں
خاص طور پر میں بلاگ کی بات کر رہی ہوں .. ہمیں ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلنا ہے اور ایک دوسرے کی پہچان بننا ہے
۔۔۔بالکل درست بات ہے
نا کہ ڈیڑھ انچ کی مسجد بنا کر رہنا ہے
۔۔۔بالکل غلط بات ہے
مجھے معلوم ہے کہ میری باتیں آپ کو کڑوی لگ رہی ہیں
۔۔۔بالکل غلط بات ہے
لیکن میں کئی مہینوں سے یہ کہنا چاہ رہی تھی …
درست ہوگا، یقیناً
اب میں آپ سے ایک سوال پوچھنے کی جسارت کروں گا کہ
کیا وجہ ہے کہ “سفر ِحیرت و عشق” جو ایک دینی، مذہبی، تاریخی، ثقافتی، معلوماتی سلسلہء تحریر ہے، وہاں سوائے زین عباس اور اس حقیر کے کوئی نہیں آتا، اور آپ اس پر کسی کی ایسی خبر نہیں لیتیں جیسی ہماری خبر لی، کیا آپ کی نظر میں یہ امکان بھی ہے کہ قمر رضوی جیسا نیا لکھنے والا “عالمی اخبار” جیسے دانشوروں کی بزم میں اپنی پہلی کاوش کی “اس پذیرائی” پر دل برداشتہ ہوکر ہی کہیں اور آنے جانے سے گھبراتا ہو، اور اگر اپنے سفر نامہ کو لکھنا نہیں چھوڑ بیٹھا تو شاید اس وجہ سے کہ جو کام شروع کر ہی بیٹھا ہے اس کو پایہء تکمیل تک پہنچا دے، یا اس کے برخلاف کسی ایسے کلیہ کا کہیں کوئی وجود ہے کہ “جو دوسروں کے لکھے پر تبصرہ نہیں کرتا ہم بھی اس کا لکھا نہیں پڑھیں گے ”
خود آپ نے قمر رضوی کی تحریروں پر اپنی رائے کیوں نہیں دی؟؟؟؟؟
یہاں بلاگ میں لکھنے والے تو ماشاء اللہ کافی احباب موجود ہیں لیکن میری نظر میں اس نئے لکھنے والے کی حوصلہ افزائی فرضِ اولین ہے، میں جناب شمس جیلانی صاحب، اور آغا ہمٰدانی صاحب کی تحریروں پر تبصرہ نہیں کروں گا کہ اولاً انہیں (یا کسی اور کو ) اس کی ضرورت نہیں اور دوئم کہ میں اس لائق نہیں
لیکن قمر رضوی کی ہمت بندھانی، ان کی تحریر کے مثبت و منفی پہلوؤں پر بات کرنی میں بے حد اہم جانتا ہوں۔
کتنے اہلِ قلم اور صاحبانِ رائے موجود ہیں یہاں بلاگ میں؟؟ اور “وہاں” اگر ایک بھی کم ہوگیا تو ٹرائی اینگل بھی نہ رہے گے کہ ایک سطح کے احاطہ کے لیے کم از کم تین مستقیم خطوط ناگزیر ہوتے ہیں، یعنی یہ کم از کم تعداد ہے، اب آپ بھی اس تعداد کو بڑھانے میں اپنا حصہ ڈالیے۔
میری باتیں نمکین یا کھٹی تو ہوسکتی ہیں لیکن کڑوی ہرگز نہیں، انشاء اللہ
(سچ کڑوا ہوتا ہے، صرف ایک محاورہ ہے، اچھے لہجہ اور بہتر انداز میں گزارشات پیش کرنے سے یہ کڑواہٹ ختم کی جاسکتی ہے)۔
عیدِ شجاع کے پر مسرت موقع پر تمام عالمِ اسلام اور خصوصاً امامِ زمانہ علیہ السلام کی خدمت میں ھدیہِ تبریک پیش کرتے ہیں
پروردگارِ عالم تمام مومنین کو ایسی ہزاروں عیدیں نصیب ہوں آمین
بی بی زھرا علیہ السلام محترمہ نگہت نسیم آپی کو صحت و سلامتی کے ساتھ عمرِ خضر عطا فرمائیں اور اپنی حفظ و امان مین رکھیں اتنی قیمتی معلومات سے مزین بہترین بلاگ لگانے پر آپی مبارکباد کی مستحق ہیں
( انتہائی ذاتی مصروفیات کی بنا پر چند دن بلاگ کی خوبصورت محفل سے غیر حاضری پر تمام احباب سے معذرت خواہ ہیں)
بندہ حقیر
جعفر حسین
کراچی
محترم عبدلمناف بھائی سلامت رہیں
آپ کی باتیں پڑھی اور بہت خوشی ہوئی کہ آپ خیریت سے ہیں ۔۔۔ جی چاہتا ہے کہ آپ ہی کی طرح ایک ایک سطر کا جواب لکھوں لیکن اس وقت صرف کچھ باتوں کی وضاحت ضروری سمجھتی ہوں … میں محترم قمر رضا کے سفر نامہ پر میں گاہے بگاہے اپنی رائے ضرور دیتی رہی ہوں ۔۔ آپ یا قمر رضا صاحب خود اس پر نظر نہ کریں تو اور بات ہے ۔۔
میرے لئے صرف ایک نہیں بلکہ عالمی اخبار پر ہر نیا لکھنے والا اتنی ہی توجہ کا مستحق ہے جتنے قمر رضا صاحب ہیں ۔۔ اور میں حتی المکان اسی کوشش میں ہوتی ہوں کہ سب کا خیال رکھوں اور میری ہمت افزائی سے ان سب کا سفر جاری رہے ۔۔ میرے پیش نظر پورا عالمی اخبار ہے اور آپ صرف ایک سفرنامے کو پڑھنے کی بات کر رہے ہیں .. آپ کو شاید یاد نہیں قمر رضا کے سفر نامے کی تشہیر میں نے ہی ان صفحات پر کی تھی ۔۔۔ اور انہیں انہی کی صلاحتیوں پر انہیں اسلام آباد کابیورو چیف کی نامزدگی بھی میں نے ہی کی تھی ۔۔
لیکن عبدلمناف بھائی کبھی آپ نے سوچا کہ قمر رضا صاحب اور زین عباس ایک دوسرے کے علاوہ کیوں کسی اور کی تحریر نہیں پڑھتے اور نہ ہی تبصرہ کرتے ہیں ۔۔ اگر یہاں یہ کلیہ لگا لیں کہ وہ پڑھتے ہونگے بس تبصرہ نہیں کرتے ہیں تو وہی کلیہ ان کے لئے کیوں نہیں لگایا جا سکتا کہ ان کے سفرنامے کوبھی ہم سب پڑھتے ہونگے لیکن تبصرہ نہیں کرتے ۔۔ ۔۔لیکن مسلہ یہ ہے کہ آپ کو لگتا ہے کہ جیسے وہ سفر نامہ ہم میں سے کوئی پڑھتا ہی نہیں ہے کیونکہ آپ کے علاوہ کوئی اور تبصرہ نہیں کرتا ۔۔ تو بھائی کلیہ تو سب کے لئے ایک ہی ہونا چاہئے نا ۔۔ اسی لئے کہا تھا کہ ہمیں ہر ایک کو پڑھنے اور انہیں با خبر کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ورنہ ہم سب ایک دوسرے سے دور ہو جائیں گے ..
رہی بات کہ آپ بابا یا شمس بھائی کی تحریروں پر تبصرہ نہیں کر سکتے تو میں نے تو آپ کو ماسوائے قمر رضا کی تحریروں کے کسی اور تحریر پر شاد و نادر ہی پایا ۔۔ لیکن کوئی بات نہیں یہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے ۔۔۔
لیکن میں آپ سے اختلاف رائے کی جسارت چاہونگی کہ میرے نزدیک ہر لکھنے والے کو چاہے وہ نیا ہو یاپرانا ۔۔انہیں پڑھنے والے چاھیئے ہوتے ہیں جو ان کی ہمت بڑھائیں اور ان کے صحیح سمت ہونے کی تصدیق کریں ۔۔ کیا پرانے درختوں کو اپنی حفاظت اور سلامتی کے لئے ہوا ، پانی اور روشنی نہیں چاھیئے ہوتی ۔۔۔بلکہ ہمیں ان کی حفاظت زیادہ شدت سے کرنی چاہئے کہ وہ چھوٹے پودوں پر سایہ کی طرح دراز رہتے ہیں اور انہیں اپنے تجربات سے دھوپ بارش سے بچاتے ہیں ۔۔
۔
آپ کی کشادہ دلی سے امید ہے کہ میری باتوں کو اپنی بہن کا شکوہ سمجھ کر معاف فرما دیں گے ۔۔
سلام مسنون۔
آپی آپ تو جانتی ہیں کہ میں اس سلسلے میں ویسے ہی الگ روش کا قائل ہوں۔ عموماً روایتی سیاسی مضامین اور موضاعات پرتبصراتی قلم اٹھانا تھوڑا اس لئے مشکل ہو جاتا ہے کہ ایک تو اس سلسلے میں اسقدر پُر معنی اور با مقصد کہا جا چکا ہے اور پاکستانی ٹی وی چینلز بھی مسلسل اپنا کام کر رہے ہیں، لیکن جن کے کان پر جوں کو رینگنا تھا، وہ ویسے ہی کان کٹے لوگ ہیں۔ میں نے دیکھاہے کہ اچھا بھلے ضبط و تحمل والے منجھے ہوئے افراد بھی ان حالات کا مقابلہ اور مشاہدہ کرتے کرتے سخت گو ہوئے جاتے ہیں۔ سو میں نے جان بوجھ کر خود کو مذھبی تحاریر اور مطالعہ تک محدود کر لیا ہے تا کہ میرا اپنا قبلہ تو کم از کم درست ہو سکے، اس سلسلے میں ایک طویل تحریر ابھی زیر قلم ہے جس کے لئے تفسیر، صحاح ستہ و تاریخ مسعودی و ابن ہشام جیسی کتب کا کافی مطالعہ بھی کرنا پڑ رہا ہے اور علماء سے استفادہ بھی کرتا رہتا ہوں۔ سو اس سبب سے بھی غیر حاضری ہو جاتی ہے۔ بایں ہمہ آپ کو اندازہ ہو گا کہ میں کسی حد تک(بلکہ حتی الوسع )موڈریٹر کی ذمہ داری نبھاتا رہتا ہوں اور جہاں ضروری ہو وہاں کچھ کچھ ضرور عرض بھی کر دیتا ہوں۔
لیکن اس سیاست کی کوڑھی کو نہ چھوڑے بنتی ہےاور نہ ہی نگلے۔ سو کریں تو کیا کریں۔ کہیں نے کہیں تو مسابقہ ہو ہی جاتا ہے۔ موجودہ سیاسی منظر نامے نے پھر سے ایک دفعہ اپنے خول سے نکلنے پر مجبور کردیا اور تاریخ میں اپنی گواہی کے طور پر چند سطریں ثبت کر دیں۔
قمر رضا صاحب کا سفر نامہ میں نے پڑھا ہے اور انکا انداز تحریر بھی مجھے پسند آیا، لیکن تمام اقساط نہ پڑھ سکا کیونکہ قسط وار چیزیں دیکھنا اور پڑھنا میرے لئے تھوڑا مشکل کام ہے، اور خاص طور پر جب اقساط کی تعداد بھی زیادہ ہو۔ میں چاہوں گا کہ ایسی تحاریر ضرور کتاب کی شکل میں آئیں تا کہ ان سے کما حقہُ استفادہ کیا جس سکے۔ بہر کیف انکی تحریر میں طلسماتی کشش ہے اور ان کے الفاظ کا چناؤ انہیں باقی سفر ناموں سے ممیز کرتا ہے۔ تاہم میں با قاعدہ تبصرہ نہ کر سکا، یہ واقعا ایک غفلت ہے جس پر میں شرمندہ ہوں۔
جہاں تک مناف بھائی کی بات ہے تو چند روز پہلے تک تو وہ کم و بیش سبھی تحاریر پر اپنی آراء سے ہم سب کو بہرہ مند فرما رہے تھے۔ انکا آخری عمومی تبصرہ 29 جنوری کو زینت قرطاس بنا تھا اور پیام نجات کے حوالہ سے انکی آخری تحریر 30 جنوری کو دیکھی تھی۔ پھر آٹھ دس دن کے لئے یکدم بے خبری سے ہمیں فکر لاحق ہوئی کہ آخر ما جرا کیا ہے، خیریت تو ہے ناں۔ اب خیریت ملی تو جان میں جان آئی ہے۔ باقی آنا جانا تو لگا ہی رہتا ہے۔ وہ بلاگ میں لوٹ آئے تو اچھا ہوا، اب بات شاید پہلے سے ڈگر پر چلتی رہے گی اور اپنی کمی کا احساس ہو دوبارہ نہیں ہونے دیں گے، انشاء اللہ۔
تھوڑا زیادہ لمبا اس لئے لکھ گیا کہ مجھے آپکا شکوہ بجا نظر آ رہا تھا، سو مناسب جانا کہ موقعے کا فائدہ اٹھا کر اپنا عذر بھی پیش کردوں، گو کہ عذر گناہ بد تر از گناہ والا معاملہ ہے۔
خدا آپ کو اور اس محفل کو یونہی سدا آباد اور خوش و خرم رکھے۔ آمین
مصباح بھائی میری صرف اتنی سی گزارش ہے کہ ہمیں محبتیں ..شفقتیں . اور توجہ بانٹنی آنی چاہئے .. تاکہ جہاں تک ہو سکے ہم اس ٹھنڈک اور آسودگی کو آگے بڑھا جائیں …تاہم ذاتی پسند اور ناپسند پر سب کا حق ہے اور مجھے آپ سے اتفاق ہے .. لیکن میں آپ سب پر یہ مان بھی رکھتی ہوں کہ ہم سب ایک دوسرے کے معاون و مددگار ہونے کی کوشش ضرور کریں گے ..انشاللہ ..
مجھے دعاؤں میں ضرور یاد رکھئے گا ..
مناف بھائی.ڈاکٹر نگہت اور مصباح بھائی. میں نے اوپر کے تبصرہ جات پڑھے ہیں اور صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ خاندان کا کوئی ایک قریبی فرد بتائے بغیر اتنے دن غائب رہے تو فکر ہوتی ہے اوت فکر ہی وسوسوں کو جنم دیتی ہے. میں مانتا ہوں کہ ہر کوئی،ہر وقت ہر کسی کے بلاگ پر تبصرہ نہیں کرتا اور کر بھی نہیں سکتا. لیکن انتظامیہ کا ایک عذاب ہے انہیں اس جہنم میں ایندھن جھونکتے رہنا ہے کوئی کچھ لکھے یا نہ لکھے. میرا تو فلسفہ یہ ہے کہ میں ہر ہم سفر کو انتظامیہ ہی سمجھتا ہوں لیکن شاید دوسری طرف ایسی صورت حال نہیں. اب اگر میں بار بار یہ کہوں کہ یہ فقیر اور عزیزی نگہت نسیم کم از کم روزانہ 16 سے 18 گھنٹے اس اخبار کے بائیس شعبوں کے لیئے کام کرتے ہیں اور پھر غزہ اور مصر جیسے معاملات آ جائیں تو اور رات بھی گئی.ایسے میں ہو سکتا ہے کہ کوئی ہم سفر یہ کہے کہ ہم پر کیا کوئی احسان کرتے ہیں آپ دونوں. اب جو لوگ اتنا کام کریں گے تو کیا وہ کسی کی بھی غیر حاضری کا پوچھ بھی نہیں سکتے. ہاں وسوسوں کا یہی مسلہ ہے کہ وہ مزید مسائل پیدا کرتے ہیں.
رہی زین اور قمر کی بات تو یہ دونوں ابھی بچے ہیں اور قلم کا سفر ابھی شروع کیا ہے. انکو شاید ابھی آگے جانا ہے اور اس قلم کی کمٹمنٹ بڑی سخت ہے. مجھے تو یہ بھی احساس ہوا ہے کہ قمر اور زین شاید اپنی تحریروں کے علاوہ اور کچھ پڑھتے بھی نہ ہوں. رہی بات حوصلہ افزائی کی تو میں اور نگہت صاحبہ بدنام ہیں کہ ہم لوگوں کی بے جا حد سے زیادہ حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اس ضمن میں مصباح سمیت اپنے کئی دوستوں سے کئی مثبت باتیں بھی سن چکے ہیں.
اب رہی بات قمر کے سفر نامے کی تو اگر میں نے تنقید لکھی تو مشکل ہو جائے گی اور پھر آپ ہی کہیں گے حوصلہ شکنی کی. اس سفر نامے میں کوئی ایسی انوکھی اور اچھوتی بات نہیں سوائے ایک نئے لکھاری کے انداز کے. جن احباب کے پاس میرا ایران کا سفر نامہ ہے وہ دیکھیں گے کہ یہ ساری اضافی معلومات پہلے سے اس میں موجود ہیں. میرا سفر نامہ”ایران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا” پورے ایران کے حوالے سےتھا اور زیارات مشہد اس کا جزوی حصہ تھا. قمر کے سفر نامے میں مرکزی حصہ زیارات ہیں اور یہی اسکو شروع کرتے ہوئے طے ہوا تھا.میں نے پچھلے دنوں عزیزی قمر کو کہا تھا کہ اب یہ ڈریگ ہو رہا ہے لیکن انہوں نے مجھ سے اتفاق نہیں کیا.
اب یہ وجہ ہے کہ میں اس پر تبصرہ نہیں لکھتا.
ورنہ جب میں اسکو لگاتا ہوں اور املا کے ساتھ پیراگراف درست کرتا ہوں اور تصاویر لگاتا ہوں تو یقین کریں ایک ایک سطر پڑھتا ہوں
ہم سب کا گلہ اور تنقید سنتے ہیں اور سنیں گے.لیکن کیا کوئی ہماری بھی بات سنے گا.اور اگر آپ نہیں سنیں گے تو کس کو کہیں گے
ویسے میں تو سیف لسان ہوں.یہ کہہ دوں کہ کیا بلاگ میں کبھی یہ لکھا ہم نے کہ قمر یا زین نہیں آئے کہاں ہیں؟ ہاں منظور قاضی، کیانی اور مناف جیسے احباب دو دن بھی نظر نہ آئیں تو تشویش ہوتی ہے. میں سمجھتا ہوں کہ تواتر اور تسلسل سے بلاگ میں لکھنے والے اگر زیادہ دنوں کے لیے کہیں جائیں تو قاضی صاحب کی طرح بتا جائیں
ویسے ہمارا وعدہ ہے کہ ہم کسی کی بھی غیر حاضری پر اپنی تشویش والی عادت بھی بدلنےکی کوشش کریں گے
بھئی میری تو عید ہو گئی ، عیدِ زہراء علیہا السلام تو تھی ہی اب مصباح شاہ صاحب اور آغا ہمٰدانی صاحب کے تبصروں سے واقعی دل خوش ہو گیا۔
میں اوپر کہی باتیں نہیں دُہراؤں گا، اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ آغا صاحب یا نگہت بہن صاحبہ کا کام کیا ہے اور اس سارے سلسلہ میں مجھ حقیر کا حصہ کس قدر کم ہے،
پہلے بھی کبھی عرض کرچکا ہوں کہ لکھ کر کہنے میں اور روبرو بات کرنے میں کافی فرق ہے، یہ جاننا کافی مشکل ہوتا ہے کہ کوئی کون سی بات مسکراہٹ کے ساتھ لکھ رہا ہے اور کونسی تیوریوں پر بل ڈال کے، اسی لیے میں آمنے سامنے بہت کھل کر بات کرتا ہوں لیکن لکھنتے وقت محتاط رہتا ہوں۔
عرض حقیر کی صرف اتنی ہے کہ
اولاً : آپ سب کی تشویش کی اساس آپ کی محبتیں ہی ہیں، اور یہی میری عید کی اصل وجہ بھی ہے، میں سوائے ایک لفظ “شکریہ” لکھنے کے اور کر بھی کیا سکتا ہوں؟
دوئم : آغا صاحب جانتے ہیں کہ میں نے گزشتہ سال اگست میں ایک جگہ ملازمت اختیار کی تھی (اس سے پہلے “عالمی اخبار” پر میری حاضری کم ہرگز نہیں تھی) وہاں دسمبر تک رہا، ماہءِ دسمبر محرم الحرام کی مصروفیات میں گزرا، یہ بھی اللہ کریم کا کرم ہے کہ عین اسی ماہ کی عبادات کی بجاآوری کے لیے فرصت نصیب ہوئی، وسط جنوری سے ایک اور جگہ نوکری شروع کی ہے۔
بس اس سے زیادہ لکھوں گا تو زیادہ ہوجائے گا، مصروفیت کا رونا نہیں روؤں گا کیوں کہ یہ زندگی کا ایک حصہ ہے، صرف آپ سب سے معذرت کرنا غرض ہے کہ اتنی دیر سے مطلع کر رہا ہوں، میں سمجھ رہا تھا کہ آغا صاحب باخبر ہیں اور وہ کم از کم نگہت بہن کو تو بتا ہی چکے ہوں گے۔
اللہ کریم “عالمی اخبار” کے اس خانوادہ کو محبت اور اخوت، ایثار اور رواداری کا علم بلند رکھنے اور دنیا بھر میں اس کی تشہیر کی مزید توفیق عطا فرمائے، سب بہنوں اور بھائیوں کو صحت اور سلامتی عطا فرمائے، دونوں جہانوں کی خوشیاں اور کامرانیاں نصیب فرمائے، محمد و آلِ محمد پر درود و سلام نازل فرمائے اور ان کے تمام دشمنوں کو نیست و نابود فرمائے، الٰہی آمین۔
ا سّلام علیکم ،میری جانب سے عالمی اخبار کے تمام کنبے کو عید زہرا سلام اللہ علیہا اور تاج پوشی امام زمانہ العجل علیہا لسّلام بہت بہت مبارک ہو
معزّز ہم نشینوں ، دیر سے بلاگ پر آنے کی معزرت کہ مجالس کے اختتام کے ساتھ ہی عید میلا د النّبی کی بہار آئ ہے
،،ساتھ میں تدریسی مصروفیات جس کے سبب سر اٹھانے کی فرصت نہیں مل سکی ،پھر بھی کوشش کروں گی کہ یہ بلاگ بھی تفصیل سے تحریر کر سکوں
بہت سی دعاؤں کے ہمراہ اللہ حافظ
زائرہ بجّو
ایڈمنٹن ،کینیڈا
بسم اللہ الرّحمٰن الرّحیم ویسے تو ہمارے بارہ آ یمّہ ء طاہرین کے لئے ہادئ ء دو جہاں محمّد صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے فرمایا ہمارا پہلا بھی محمّد (صلعم) ہے ہمارا اوسط بھی محمّد (صلعم) ہے اور ہمارا آخر بھی محمّد (صلعم) ہے ہم کل کے کل محمّد (صلعم ) ہیں
امامت کی منزل پر آپ کی اس عالم رنگ و بو میں ظاہری آمد چھٹے امام علیہ السّلام کی حیثیت سے ہے
یہ ہمارے لئے اس مبارک مہینے کی ایک اور سعادت ہے کہ ا س مہینے آنگن میں بنی ہاشم کے ایک اور ابن محمّد (صلعم )تشریف لائے ،کاشانہ نبوّت کا یہ آنگن عام گھروں کا آنگن نہیں تھا ،،اس آنگن کی خاص بات یہ تھی کہ یہاں حضرت جبرائیل امیں آ سمانوں سےاللہ تعالیٰی کی جانب سے وحئ ء الٰہی کے تحائف لے کر آتے تھے
آپ شہر مدینہ کی پاک وطیّب فضا ؤں میں 17 ربیع الاّو ل 83 ہجری مطابق 702ء اپر یل کی 23 تاریخ کو عرش پریں سے فرش زمیں پر تشریف لائے ،،بارہ سال تک اپنے محترم دادا امام زین العابدین علیہ السّلام کی اعلٰی تربیت و اوصاف سے بہرہ مند ہوئے
19 برس کی عمر تک اپنے والد گرامی حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام کی پاکیزہ تربیت و صحبت میں رہے امام زین العابدین علیہ السّلام نے اور امام محمد باقر علیہ السّلام نے آ پکی فکری تربیت میں کربلا کو اس طرح بسایا کہ کہ آپ کی سوچ کے ہر ہر لمحے میں کربلا آباد ہو گئ
آ پ علیہ السّلام بھی اپنے پاکیزہ آبائے طاہرین کی طرح منجانب پروردگار عالم اما مت کے منصب کے ساتھ معلّم کی ہی حیثیت سے تشریف لائے ،،دنیا کے کسی
بھی مکتب و مدرسے سے تعلیم نہیں حا صل کی پھر بھی کیمیا گری میں آپ کا نام روشن ہے جابر بن حیّان مشہور کیمیا داں آپ کا ہی شاگرد تھا
حالانکہ آ پ علیہ السّلام دنیا کے کسی بھی معلّم سے تعلیم یافتہ نہیں تھے لیکن پھر بھی علوم کا بحر ز خّار آ پ کی شخصیت میںٹھا ٹھین مارتا
تھا ،،مضمون جاری ہے
بسم اللہ الرحمٰن الرّحیم ہ مضمون کا تسلسل جوڑ لجئے کیو نکہ علو م کے یہ خزانے آپ علیہ ا لسّلام کو براہ راست آپ کے جدّ ا عظم نبئ اکرم حضرت محمّد صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم سے امام در امام منتقل ہو رہے تھے یہی وجہ تھی کہ آپ کی علمی جلالت کا دور دور تک شہرہ تھا ،
آ پ ا س وقت کی اپنی اس عظیم علمی درسگاہ میں فلسفہ سائنس،کیمسٹری ، منطق، فلکیات ہیئت اور بے شمار مضامین پر بذات خود لکچر دیتے تھے،آ پ (ع) کی اس درس گاہ میں اور بھی کئ اعلٰی تعلیم یافتہ افراد بھی شامل تھے جو اس وقت کے معاشرے میں فروغ علم کے لئے امام علیہ السّلام کے شانہ بشانہ کام کر رہے تھے
آ پ (ع) نے اپنے طالبعلموں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا
صحتمند زندگی گزارنے کے لئے تفریح بہت ضروری ہے اس لئے اپنی زندگی کا کچھ حصّہ تفریح کے لئے وقف کرو تاکہ فطرت کے نظّاروں سے لطف اندوز ہو سکو
اسی طرح آپ (ع) نے اپنے فرمودات میں فرمایا کسی بھی معاملے میں جلد بازی سے کام مت لو ورنہ معاشرے میںبے وقو ف گردانے جاؤگے
اپنے مخلص ساتھیوں سے صائب مشورہ طلب کرنے میں پس و پیش سے کام مت لو
اللہ تعا لٰی کی زات پر بھروسہ تم کو توکّل کی راہ پر کھڑا کر دے گا
آ پ (ع) نے فرمایا ، غصّے کو کبھی اپنے اور حاوی مت ہونے دو ،ورنہ اس بد خصلت کے سبب مخلوق خدا تم سے دور ہو جائے گی
آ پ نے فرمایا علم اور حلم کو ساتھ رکھو ورنہ کوئ ایک اکیلا فائدہ مند نہیں ہوگا اور تمھاری زات میں خود بھی ادھورے پن کا حساس ہو تا رہے گا
آپ (ع) نے فرمایا کم خرچ بہترین زینت ہے
آپ نے فرمایا ہر اہم کام کو اللہ کی صائب رائے سے انجام دو تاکہ تمہارے کامو ں میں اللہ اپنی برکت شامل کر دے ،
جاری ہے
آ پ علیہ السّلام نے شہر مدینہ میں اس وقت جو یو نیورسٹی بنائ تھی اس میں 4 ہزار سے اوپر طالبعلم اکتساب علم کے لئے آتے تھے ،جبکہ دیگر ممالک سے بھی طالبعلم حصول علم کے آتے جن کی رہائش اور طعام کا بندوبست بھی امام علیہ السّلام ہی کیا کرتے تھے
البحرين
آپ سب کو عید زہراؐ بہت بہت مبارک ہو