جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ میں اپنے خاندان سے ملنے پہلے لندن اور پھر کیلی فورنیا کے شہر فریسنو آئی ہوں . کتابوں کی تقریب اجرا کے بعد ایک ہفتہ ہم سب نے صرف باتیں کرنے اور اپنی یادوں کو ایک دوسرے سے شیئر کرنے کا پروگرام بنایا ہوا تھا . سوآج کل ہم سب صرف باتیں کرتے ہیں اور کبھی کھبی ہم سب کھانا کھانے کی بجائے صرف باتیں کرتے ہیں . آج سوچا کہ امی جی ( اپنی ساس رشیدہ بیگم ) سے ان کی کہانی پوچھتے ہیں . وہ جو ہر وقت پاکستان کے نیوز چینلز دن رات دیکھتی ہیں لیکن ان سب سے الگ اپنی ایک رائے رکھتی ہیں جو کسی مبصر سے کم نہیں ہوتی ..
بڑی مشکلوں سے وہ راضی ہوئیں اور وہ جیسے جیسے بولتی گئیں میں لکھتی گئی . میرے ساتھ صومیہ بھی تھی کاغذ قلم لے کر کہ جہاں میری لکھنے کی رفتار کم ہو جائے وہ نوٹ کر لے .
آئیے امی جی کی کہانی امی جی کی زبانی سنتے ہیں ….
میں انڈیا کے ضلع جالندھر کے قصبہ اپرا کے گاؤں رائے پور میں رہتی تھی. قران شریف پڑھنے کے علاوہ کوئی کام ضروری نہیں ہوتا تھا. ہمارے پاس کوئی ڈگری نہیں ہوتی تھی لیکن سب بچے جوان بوڑھے قرآن پڑھے ہوئے تھے. سب علم کے خواہاں تھے پر ڈگریوں سے بے نیاز تھے . ہم سب لوگ ایک ساتھ رہتے تھے . سب کی عزت و احترام ایک دوسرے پر لازم تھی . جھوٹ بولنے کا تصور تک نہ تھا. خاندان کے خاندان ایک ساتھ رہتے تھے . ساررے رشتہ دار ایک براداری کی طرح رہتے تھے . سینا پرونا ، کھانا پکانا ، زمینداری کرنا، مٹی میں کھیلنا، مٹی میں رہنا ہی کام تھا .
کھیت کنویں سب اپنےتھے . سوائے نمک کے ہم کچھ نہیں خریدتے تھے. ہمارے سامنے ہندوؤں کی برادری رہتی تھی . وہ امیر اور سنار تھے لیکن لین دین میں ہیرے تھے کبھی کوئی لڑائی نہیں . کوئی فساد اور دنگا نہیں . سب ایک دوسرے سے راضی . سب ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی تھے .شادی بیاہ، جینے مرنے میں بھی ساتھ رہتے تھے .
جب پاکستان بنا تب بھی ہمارے گاؤں میں کچھ نہ ہوا تھا. کسی نے کسی کو نہیں لوٹا. مجھے یاد ہے کہ میرے ابا جی گھر میں آئے اور کہنے لگے کہ ارے تم لوگ ابھی بھی سو رہے ہو. گاؤں کے گاؤں جا رہے ہیں لیکن یہ پتہ نہیں تھاکہ کہاں جا رہے ہیں اور کیوں جا رہے ہیں .. . میری ماں نے دو لحاف گڈے پر رکھے .اور سب مردوں نے طے کیا کہ ہم اپنی ٹیوں کی خود حاظت کریں گے اور اگر کوئی موقع ایسا آیا تو سب لڑکیوں کو دریا میں پھینک دیں گے لیکن کسی کے ہاتھ نہیں لگنے دیں گے . اور خود لڑتے ہوئے مر جائیں گے . ابھی ہم چلے ہی تھے کہ ہمارے گاؤں کو کسی نے آگ لگا دی .. بس پھر کیاتھا ہم سب دھاڑیں مار کر رونے لگے .. لیکن چلتے گئے اورپھر اسی طرح قافلے کے قافلے ملتے گئے اور ہم سب ایک کیمپ میں پہنچ گئے.
اتنے میں ایسے ہوا کہ ایک طرف سے رونے دھاڑنے کی آوازیں آنے لگیں . لوگوں نے اپنی لڑکیوں کو اپنے ہاتھوں میں مظبوطی سے تھام لیا اور دریا کی طرف دوڑنے لگے کہ لڑکیوں کو پھینک دیں گے . لیکن کسی نے چیخیں مار کر سمجھایا کہ لوگ اپنی جگہ چھوٹنے پر رو رہے ہیں . کوئی بلوہ کرنے والا آیا گیا نہیں ہے . میری امی کی یہی دعا تھی کہ اے اللہ اگر مارنا ہے تو ہم سب کو ایک ساتھ مار دے لیکن ہمیں الگ الگ مت کرنا. ایسے میں میرا چھوٹا بھائی ہم سے بچھڑ گیا. وہ جو گھنٹے ہم نے گزارے وہ ہم ہی جانتے ہیں کہ وہ کیسے گزرے . لیکن شکر خدا کا کہ وہ مل گیا . اور پانچ میل کے فاصلے پر فلور کیمپ میں پہنچ ہی گئے . ہم لوگ چھوٹی عید کے بعد نکلے تھے اور بڑی عید تک ہی ہم لوگ کیمپ میں ہی تھے .
بارشیں برسیں . سیلاب آیا ، بھوک آئی ، سردی آئی ، کئی بچے پیدا ہوئے ، لاکھوں مر گئے ، بس نہ آیا تو آرام کا دن نہ آیا . بچوں کو اپنی گود میں سنبھالے بارشوں میں دوسرے کیمپ جانا پڑ گیا . نہ پاکی کا پتہ نا صفائی کا خیال . نہ کھانا نہ پانی … وہیں میری دادی اور تائی جی اور ان کی بیٹی کی وفات ہو گئی . کوئی جماعت ..کوئی خیر خبر لینے والا نہ تھا. . پھر ہم لوگ ساڑھے تین مہینے کیمپ میں رہے . پھر کہیں جا کر ریل گاڑی کا بندوبست ہوا اور ہم پاکستان کے لئے روانہ ہوئے. یہ ہندوؤں کا اصول تھا کہ اگر ہندؤں سے بھری گاڑی لاہورر سے آرام سے واپس آتی تو وہ لوگ مسلمانوں کی گاڑی کو سکون سے لاہور جانے دیتے تھے ورنہ امرتسر ، دریائے ستلج پر ہی بھری گاڑی تباہ کر دیتے تھے .
ایک دن ہم لوگ مال گاڑیوں میں بھر دئے گئے اور پاکستان کے لئے روانہ ہو گئے . ہم لوگوں کو بولنے کی اجازت نہیں تھی . کہ ہندو مار ہی نہ دیں . ملتان چھاؤنی پہنچ کر گاڑی روک لی گئی . اور سب سے کہا کہ یہی پر سب اتر جائیں . گاڑی سے اتر کر سب سجدہ شکر میں پاک سر زمین پر گر گئے . اب ایک نئی مشکل درپیش تھی کہ کہاں جائیں . ہم لوگ پھر فوجی چھاؤنی میں آگئے . ایک کمرے میں بہت سارے خاندان ایک ساتھ رہنے لگے .دس دن رہنے کے بعد ہم لوگ وہاں سے چلے تو دو دن خانیوال پر رکنے کے بعد میاں چنوں پہنچے .
میاں چنوں میں کپاس اور روئی کے کارخانوں میں کیمپ لگے ہوئے تھے. وہاں رک گئے .ہم سب حیران تھے کہ اب کیا کریں . وہاں دس دن رہنے کے بعد ہم پانچ سو خاندانوں نے ایک ہی گاؤں میں اکٹھے رہنے کا فیصلہ کر لیا اور گورنمنٹ سے کلیم میں زمینیں ایک ساتھ مانگ لیں تاکہ سب کے دکھ سکھ سانجھے رہیں. ہم سب نے کھانا ایک ساتھ پکانا اور ایک ساتھ کھانا. بس یہی ہماری برادری تھی .
پھرچودہ سال کی عمر میں1948 میں میری شادی ہو گئی . نہ کوئی لین دین نہ کوئی شغل میلا . سب اتنی سادگی اور سکون سے ہوا کہ کوئی سوچ نہیں سکتا . تمہارے ابا جی کی عمر سولہ سال کی تھی . ان دنوں تمہارے ابا جی لاہور کام کرتے تھے . میں بھی وہیں آگئی . ہم دنوں ایک ساتھ بڑے ہوئے تھے اور ایک ساتھ ہی بوڑھے بھی . میں تمہارے ابا جی کے سفر کی گواہ ہوں . تمہارے ابا جی پڑھے لکھے تھے اور نوکری پیشہ تھے . سب انہیں طعنے دیتے تھے کہ زمینداری کرو کہ زمینداری کی جڑیں زمین کے اند ر ہوتی ہیں اور نوکری کی زمین کے اوپر . لوگ میرے باپ کوبھی طعنہ دیتے تھے کہ انہوں نے میری شادی کسی فقیر سے کر دی ہے . پر میرے باپ کہتے تھے کہ نصیب نوکریوں سے نہیں بنتے . نصیب بنانے والا اوپر ہے جو جنگل میں بھی منگل کر دیتا ہے .
اور ایسا ہی ہوا میری زندگی جنگل سے بے شک شروع ہوئی پر اس میں ابھی تک منگل ہی ہے . مجھے اللہ تعالی نے اتنے سکھ عطا کئے کہ میں اس کا شکر نہیں ادا کر سکتی . اس نے مجھے چھت دی ، عزت دی ، تماہرے ابا جی کا ساتھ دیا ، عزت کرنے والے نیک صالح اولاد عطا کی . وہ مجھے اس کے علاوہ دے بھی کیا . سچ کہوں تو مجھے کوئی دکھ نہیں سوائے پاکستان کی بربادی کے . ہر شخص ظالم ہو گیا ہے . خود غرضی اور بدنیتی کاہر طرف راج ہے. ہر طرف ایک اندھیر نگری سی ہے . مجھے اپنا ہندوستان والا گھر ابھی بہت یاد آتا ہے . خوابوں میں بھی وہیں رہتی ہوں . میں روز کیا ہر پل سوچتی ہوں کیا کوئی حکمران ، کوئی چھوٹا بڑا تم یا کوئی اور ہماری ہجرت کی تکلیف سہہ سکتا ہے.
پاکستان سے تو ہم لوگ آگئے ، بس بھی گئے ، گھر بار بھی بن گئے . بس پتہ نہیں لوگ کب اور کیسے بدل گئے . وہ بھائی چارہ نہیں رہا، محبت نہیں رہی ، مقابلے اور حسد کی دوڑ لگی ہوئی ہے . لوگ اتنا سہم گئے ہیں کہ اپنی خوشیاں اپنوں سے ہی چھپانے لگ گئے ہیں … بس میری بیٹی یوں سمجھو کہ جب پاکستان بن رہا تھا اس وقت بھی یہ حال نہیں تھا جو اب ہے . اس وقت قرار آجاتا تھا اور سمجھ بھی آتی تھی کہ کون مار رہا ہے اور کیوں مار رہا ہے ….. اب کون مار رہا ہے اور کیوں مار رہا ہے یہ سمجھ نہیں آتا ….
میں نے پوری ہجرت کے سفر میں صرف سنا تھا کہ بلوائی مسلمانوں کو مار رہے ہیں لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا … بیٹی کتنے افسوس کی بات ہے کہ پاکستان میں ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کو مارتے دیکھا ہے .. ہندوؤں کے ساتھ رہ کر کسی نے کسی کو کافر نہیں کہا پر آج کے مسلمان کے لئے اپنے ہی کسی مسلمان بھائی کو کافر کہہ دینا سب سے آسان تر ہے ….
بیٹی میرا پیغام تم سب کے لئے یہ ہے کہ دیکھو سب نے کسی جگہ تو رہنا ہی ہے تو کیوں نہ مل کر رہیں .. محبت سے رہیں ..ایک دوسرے کی عزت کریں اور انہیں ان کی مسلکی آزادی کے ساتھ رہنے دیں ..اگر ہم ہی ایک دوسرے کو کافر کہیں گے یا برا بھلا کہیں گے تو سوچیں جو مسلمان نہیں ہیں وہ ہمارے بارے میں کیا کیا نہ سوچیں گے … ؟ ؟
اس کے بعد میری امی جی (میری ساس رشیدہ بیگم) نے مزید کچھ بولنے سے انکار کر دیا اور جھلملاتی آنکھیں لئے اپنے کمرے میں چلی گئیں.

باجی ، بالکل سچ کہا اماں جی نے ، وہ وقت ہی نہیں رہا ، اس کہانی میں مجھے پاکستان کی کہانی نظر آتی ہے ، آج ہم جن مباحث میں الجھے ہیں کہ پاکستان کیوں بنا تو یہ اس کا جواب بھی ہے ، کہ لوگوں نے اپنے آرام و سکون کو چھوڑ کر اس لٹے پُٹے وطن کو اپنایا اسے بنایا ، پہچان دی ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر یہ دیس پتہ نہیں کس کی بد نظری کا شکار ہوا اور آج ہم اس وقت کو ترستے ہیں جسکا ذکراماں جی نے کیا ہے ، واقعٰی خواب ہی تو لگتا ہے ، حقیقت تو بہت تلخ ہے ، اور سچی بات ہے آپ لوگ جو ہمیں ہاک آئی سے دیکھ پاتے ہو ، آپ ہی ہمارے لوگوں کو احساس دلا سکتے ہو ، کہ آپ پرسکون جگہ پر رہ کہ بھی اس خانہ خراب کو اپنا سمجھتے ہو ، اور روح یہیں رکھتے ہو جسم چاہے کہیں بھی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
سویٹ سسٹر۔۔۔۔میں اس خوبصورت تحریرکے جواب میں بس یہی کہوں گا
ماں جیسی ہستی کو آپ نے جو خراجِ تحسین پیش کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے
لے جاتی ہے مجبوری حسن گھر سے وگرنہ
کب دل مرا کہتا ہے کہ ماں چھوڑ کے جائوں
ماں تیری عظمت کو سلام،
ماں تجھے سلام،
ماں جی، ہم آپ سے شرمندہ ہیں کہ ہم نے آپ بزرگوں کی قربانیوں کو فراموش کر دیا اور جو تحفہ آپ نے پاکستان کی شکل میں ہمیں دیا ہم اُسکی حفاظت نہ کر سکے۔ توڑ دیا اُسے اور اب اُس ٹُوٹے پُھوٹے ہُوئے کو مزید توڑنے کی کوشش میں ہیں ۔
آپ اللہ جی سے اپنی اُن قربانیوں کے واسطے سے دعا کیجیئے کہ اللہ جی اس ٹُوٹے پُھوٹے وطنِ عزیز کو مزید تباہی سے محفوظ رکھے اور قیامت تک اسے قائم و دائم رکھے—– آمین ثمَ آمین
ـــــــــــــ o ــــــــــــ
امی جی کی کہانی امی جی کی زبانی … از: ڈاکٹر نگہت نسیم.سڈنی
سچ پوچھو تو میں دم سادھے تمھاری شفیق ماں جیسی ساس ،آفتاب بھائ کی والدہ ماجدہ کی کہانی سن رھی تھی ۔ کہانی کے اختتام پر ھم سبھی کی آنکھوں میں انسو آگۓ ھونگے ، یہ آنسو ان گناھوں کا اعتراف بھی ھیں کہ ھم سے ھمارے بزرگوں نے پاکستان کے حوالے سے جو توقعات وابستہ کی تھیں ھم وہ نہ کرسکے ، جتنے زخم ھمارے بزرگوں کے سینوں پر ھیں اتنے ھی ھم سب بھی گھائل ھیں ، یہ آچھے دلوں والے نیک دل نیک طینت بزرگ کتنی بڑي نعمت ھیں ، اللہ ان سب کا سايہ ھمارے سروں پر قائم رکھے آمین
میری ایک دعا ھے کہ اللہ کرے آنے والے سال میں پاکستان دینا کے دس خطرناک ترین ممالک کی فہرست سے دینا کی سب سے پرامن ملک کے طور پر اپنی شناخت بناۓ اور ھمارے بڑے ھم سب راضی اور خوش رھیں انکی آنکھوں میں نمی آۓ تو صرف تشکر اور خوشی ۔ کے قیمتی آنسو
خدا کرے کہ میری ارضِ پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہِ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے صدیوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
خدا کرے کہ نہ خم ہو سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویشِ ماہ و سال نہ ہو
ہر ایک فرد ہو تہزیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کیلئے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو
شامی بھائی اور شاہد صاحب آپ کو بلاگ فیملی میں خوش آمدید …
یہاں پر ہم سب بہن بھائی ایک دوسرے کی بہت عزت کرتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اختلاف نہیں کرتے . ہم بھرپور اور واشگاف موضوع سے اختلاف بھی کرتے ہیں لیکن زاتیات اور بدتمیزی پر نہیں اترتے . ہر شخص کی عزت اور احترام ایک دوسرے پر لازم ہے . اگر اختلاف شدید ہو جائے تو دونوں فریقین زاتی ای میل سے ایک دوسرے سے بحث کرتے ہیں .
یہاں پر محترم المقام جناب صفدر ہمدانی سے آپ مل ہی چکے ہیں ..انتہائی مہربان اور شفیق .. ان کی سب سے اچھی بات کہ ہماری غلطی کی نشاندہی اسی وقت کر دیتے ہیں اور اپنی غلطی تسلیم بھی کرتے ہیں .. اتنا کشادہ قلب و زہن والے کی ہم سب کو دل سے قدر کرنی چاہئے ..
محترم شمس جیلانی بھائی .. ہمارے دینی اسکالر .. .. ہمہ وقت ہماری راہنمائی کے لئے کوشاں رہتے ہیں .. انتہائی حلیم طبع ..آپ ان سے کسی موحوع پر بات انتہائی سکون سے کر سکتے ہیں ..
محترم مصباح حسین جیلانی بھائی جو آج کل اپنی علالت کے باعث نہیں آ پارہے … انتہائی شفیق اور حوصلہ بڑھانے والے ہیں ..اللہ کریم انہیں صحت و سلامتی عطا فرمائے ….امین
زرقا مفتی میری بہت ہی پیاری سی بہن ہے ..کم کم آتی ہے لیکن جب آتی ہے پوری محفل کو روشن کر جاتی ہے … ادب کے ہر زیور سے مالا مال میری یہ بہن مجھے بے حد عزیز ہے ..
ہمارے منظور قاضی بھائی بھی ہمارے بھائی ہیں … اردو ادب سے بے انتہا محبت کرنے والے .. اردو کی آبیاری کرنے والے اور ہر وقت ہر شعر کی نوک پلک درست کرنے والے منظور بھائی ہم سب کو بے حد عزیز ہیں ..
میری آپا عالم آراء جن کی بے لوث دعائیں ہم سب کے لئے اثاثہ ہیں .. بس اپ سر جھکا دیجئے وہ ابھی دعائیں دیں گی
جعفر حسین بھائیی کراچی کی تازہ تازہ خبروں کے ساتھ آتے ہیں
اظہرالحق کو پاکستان میں ہونے والی نا انضافیوں پر قلق رہتا ہے
شعیب صفدر وکیل ہونے کے ناطے عدالتی کاروائیوں کے دلچسپ قصوں کے ساتھ ملتے ہیں
یہ ہماری بجو زائرہ عابدی ہیں .. ان سے آپ ہر قسم کے دیسی اور قرانی نسخوں کا پوچھ سکتے ہیں .. بجو اتنی محبت سے بتائیں گی کی جی چاہتا ہے کہ بس ان کی سنتے جاؤں
فرخندہ رضوی ہماری بہن چاند کی طح آتی جاتی تھیں .. آج کل ہماے گھر آنگن کچھ پابندی کے ساتھ چمک رہا ہے .. کاش یہ چاند یونہی ہمارے آنگن میں ٹھہرا رہے
سید اکمل حسین بھائی وڈیو کلپس کے ساتھ شامل رہتے ہیں کہ وہ ملٹی میڈیا اور ولایت ٹی وی کی دیکھ ریکھ کرتے ہیں
نیو دہلی سے ہمارے اکرام بھائی … ہمیشہ دو ملکوں میں کشیدگی کم کرنے میں مصروف رہتے ہیں .. کاش میں اپنے اکرام بھائی کو اپنے ملک کا سفیر بنا سکتی …
راجہ اکرام بھی میرا بھائی … اسلام آباد سے جب اسے فرصت ہوتی ہے آ ملتا ہے …
الیاس عمران بھائی .. روزانہ ایک آیت معہ ترجمہ اور ایک حدیث روزانہ بھیجتے ہیں …. ان کے انے سے رونقیں بڑھنے لگتی ہیں
ہم سب کی چھوٹی بہن اور گڑیا ثمرین بخاری … اسے جب جب پڑھائی فرصت دیتی ہے آتی ہے .. اس کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ سب کی سیکھتی ہے اور شکر گزار رہتی ہے …
رضا بھائی ابھی ابھی فیملی می شامل ہوئے ہیں اور آج کل ایک سفرنامہ لکھ رہے ہیں …
قمر رضا بھائی ….. ماشاللہ اتنا پیارا لکھتے ہیں کہ آپ پرھتے رہ جائیں …
لیجئے اب دل تھام لیجئے .. اب میری دلاری میری لاڈلی بہن شاہین حیدر رضوی سے ملئے … ملنسار .. غلاف کعبہ کو پکڑ کر ہر فرد کے لئے دعائیں کرنے والی بے غرض بے لوث پیار کرنے والی ہستی ..
اس کے علاوہ بھی احباب ہیں جو آتے جاتے ہیں .. لیکن یہ ہماری بلاگ فیملی ہے .. جس کا ایک فرد بھی بغیر بتائے کہی چلا جائے مجھے فکر اور پریشانی ہو جاتی ہے .. میری دعاؤں میں سب شامل رہتے ہیں .. میرا ایمان ہے کہ اچھے دوست انسان کی گواہی ہوتے ہیں زندگی میں بھی اور مر جانے کے بعد بھی .. میری یہ معتبر گوایئاں ہیں .. الل کریمو رحیم پنجتن پاک کے صدقے میری بلاگ فیملی کو نظر بد سے بچائے اور ہر مشکل گھڑی میں مصب الاسباب بنے ..آمین
آپ کو ایک بار پھر بلاگ فیملی میں خوش آمدید کہتی ہوں ……
میں نے پوری ہجرت کے سفر میں صرف سنا تھا کہ بلوائی مسلمانوں کو مار رہے ہیں لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا … بیٹی کتنے افسوس کی بات ہے کہ پاکستان میں ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کو مارتے دیکھا ہے .. ہندوؤں کے ساتھ رہ کر کسی نے کسی کو کافر نہیں کہا پر آج کے مسلمان کے لئے اپنے ہی کسی مسلمان بھائی کو کافر کہہ دینا سب سے آسان تر ہے …
اس آپ بیتی کا ماحصل یہی ہے. پاکستان جو جائے امان کے لیئے حاصل کیا تھا شہر آشوب بن چکا ہے. سب سے زیادہ آسان کام اپنے ہی مسلمان بھائی بہن کو کافر کہنا ہے.میں اکثر محافل میں مجالس میں اپنے خطابات میں کہتا ہوں کہ اللہ کے حبیب کی زندگی اٹھا کر دیکھ لیجئے انہوں نے چالیس برس کافروں کے درمیان رہ کر بھی کسی کو کافر نہیں کہا بلکہ اپنے کردار اور حُسن اخلاق سے کافر کو مسلمان ہونے پر مجبور کیا.
آج پاکستان میں وہ طبقہ حکمران ہے جنکی سات نسلوں میں سے کسی ایک نے بھی نہ تو قایم پاکستان کی تحریک میں حصہ لیا اور نہ ہی انکے اپنے گھر کا کوئی فرد کسی گاڑی میں کٹا،نہ کوئی بھائی بہن اغوا ہوا اور نہ ہی کسی کی عزت لُٹی.
قربانیاں دینے والی ایک نسل تھی اور کلیم حاصل کرنے والی دوسری.
یہ کسی ایک ماں کی کہانی نہیں.بس اپنے ارد گرد دیکھیں.اس عمر کی کسی خاتون یا مرد سے بات کریں اور اسے لکھ دیں. آپکو یہ سب بیانات ایک ہی جیسے لگیں گے.
اسلام علیکم محترم بھائیو اور بہت پیاری بہنو
اللہ آپ سب کو ہر مشکل اور پریشانی سے بچائے رکھے آمین ۔ اللہ اماں جی کو سلامت رکھے آمین
آج مجھے بھی اپنی والدہ کی باتیں یاد آگئیں ، جو وہ اپنی ہجرت کے متعلق بتایا کرتی تھیں ،اور وہ ماحول بھی جسے وہ ہمیشہ یاد کرتی تھیں ،آج اماں جی کی کہانی نے مجھے اس پیارے ماحول کی طرف ہانک دیا جو اب سے پچاس سال پہلے تک بھی شاید اتنا ظالم اور بے رحم نہیں تھا ،
میرے ایک محترم بزرگ کا کہنا ہے کہ جولوگ قربانیاں دے کر کچھ حاصل کرتے ہیں انہیں اس کی تباہی کا دکھ بھی بہت شدید ہوتا ہے ،جنہیں سب کچھ بنا بنایا مل جاتا ہے انہیں اس دکھ کا احساس نہیں ہوتا ۔اللہ ہم سب کو اپنے ملک سے محبت کرنے اور اس کو امن و آشتی کا گہوارہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے ۔
اماں جی کا دکھ ہم سب کا دکھ ہے ،اور اچھی اولاد کافرض ہے کہ وہ اس دکھ کو کم کرنے میں اپنا اپنا حصہ ڈالے چاہے ایک دعا سے ہی صحیح ۔
اللہ میرے وطن کے لوگوں کو ہر آفت اور مصیبت سے بچائے رکھے اور میرا وطن ہمیشہ سلامت اور آباد رہے آمین
عالم آرا ۔
سب نئے آنے والوں کو خوش آمدید
بہن نگہت آپ کا بہت شکریہ ۔ جزاک اللہ خیر
اللہ عالمی اخبار کی فیملی کو آباد رکھے ۔
عالم آرا
ہماری سب کی ماؤں کی کہانیاں ایک سی ہے۔اُن کی قربانیوں سے یہ ملک ملا۔مگر افسوس ہمارے تمام حکمرانوں نے اسے دنگل کا اکھاڑا بنا ڈالا ۔وہ سب قربانیاں رائگاں چلی گہئں ۔ہمارے ماں باپ نے ایسا پاکستان ہر گز نہیں چاہا تھا۔جہاں ایک پاکستانی دوسرے پاکستانی کا خون بہا رہا ہو ۔ایک محلے میں رہنے والے ایک دوسرے کے دشمن ہوں ۔ہم کب اچھے لیڈر کا انتخاب کر پائیں گے ۔خدا جانے ۔
میرے خیال میں اس بات کا حل ہمیں ہی نکالنا ہے ۔ہماری عوام کسی کی لیڈر کی بات میں نا آئیں ۔ان کے جلسوں میں جانا اور ان کے جھنڈے لہرانا چھوڑ دیں ۔
ان کی کال پر باہر نکلنا چھوڑ دیں ۔تو شاید یہی شرمندگی انہیں کوئی راستہ دیکھا سکے ۔بندر کا تماشہ دیکھنا پرانی کہانی ہو چکا ہے ۔۔ایسامیراخیال ہے ۔
اللہ ہمارے پاکستان کو سلامت رکھئے ۔کبھی نا کبھی ہمارے بزرگوں کا خون رنگ لائے گا ۔ابھی شاید اور انتظار باقی ہے ۔ہماری سب اُن ماؤں کو سلام جو ابھی بھی اُس کیانی کو نہیں بھولی ہیں ۔ہمارے حکمران تو آج کی بات کل اور کل کی آج بھول جاتے ہیں ۔
احتشام جمیل اور شاہد اشتیاق بیگ. عالمی اخبار کی بلاگ فیملی میں خوش آمدید. ہمیں یقین ہے کہ ہم سب آپکی فکری گفتگو سے انشااللہ مستفیض ہونگے.
فرخندہ رضوی.آپ بلاگ فیملی میں باقاعدگی سے تشریف لاتی ہیں میں سب کی جانب سے آپکا شکریہ ادا کرتا ہوں.
ہماری عوام کسی کی لیڈر کی بات میں نا آئیں ۔ان کے جلسوں میں جانا اور ان کے جھنڈے لہرانا چھوڑ دیں ۔
ان کی کال پر باہر نکلنا چھوڑ دیں ۔تو شاید یہی شرمندگی انہیں کوئی راستہ دیکھا سکے ۔بندر کا تماشہ دیکھنا پرانی کہانی ہو چکا ہے ………حل تو اچھا ہے لیکن مسلہ تو عمل کا ہے
”پاکستان تو ہم لوگ آگئے ، بس بھی گئے ، گھر بار بھی بن گئے . بس پتہ نہیں لوگ کب اور کیسے بدل گئے . وہ بھائی چارہ نہیں رہا، محبت نہیں رہی ، مقابلے اور حسد کی دوڑ لگی ہوئی ہے . لوگ اتنا سہم گئے ہیں کہ اپنی خوشیاں اپنوں سے ہی چھپانے لگ گئے ہیں … بس میری بیٹی یوں سمجھو کہ جب پاکستان بن رہا تھا اس وقت بھی یہ حال نہیں تھا جو اب ہے . اس وقت قرار آجاتا تھا اور سمجھ بھی آتی تھی کہ کون مار رہا ہے اور کیوں مار رہا ہے ….. اب کون مار رہا ہے اور کیوں مار رہا ہے یہ سمجھ نہیں آتا ….“
بھارت سے پاکستان ہجرت کرنے والی ہر ماں کی کہانی ایسی ہی ہے بلکہ یوں کہیں کہ یہ ایک حقیقت ہے ھماری امی جی (اللہ انہیں جنت نصیب کرے) نے بھی ایسی ہی کہانیاں کئی مرتبہ سنائی تھیں بلکہ اکثر وہ اس بات کا تذکرہ بھی کرتی تھیں کہ اگر ”پاکستان کا ایسا ہی حشر ہونا تھا تو پاکستان نہ بنتا تو اچھا تھا کم از کم مسلمان مسلمان کے ہاتھوں تو نہ مارا جاتا مسجد اور امام بارگاہوں میں بم پھاڑنے والے اپنے آپ کو مجاہد کہلا رہے ہیں اور اس کھلی دہشت گردی کو جہاد کا نام دے رہے ہیں “ (یہ بات امی مرحومہ نے 7 مئی 2004 میں کراچی میں سندھ مدرسہ میں قائم سو سالہ قدیم مسجد حیدری میں بم پھٹنے کی اطلاع ملنے پر کہی تھی)
خدا کرے کے ھماری آنے والی نسلیں اس ملک کی حفاظت کر سکیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہماری عوام کسی کی لیڈر کی بات میں نا آئیں ۔ان کے جلسوں میں جانا اور ان کے جھنڈے لہرانا چھوڑ دیں ۔
ان کی کال پر باہر نکلنا چھوڑ دیں ۔تو شاید یہی شرمندگی انہیں کوئی راستہ دیکھا سکے ۔بندر کا تماشہ دیکھنا پرانی کہانی ہو چکا ہے ………حل تو اچھا ہے لیکن مسلہ تو عمل کا ہے
مسٔلہ واقعی عمل کا ہے اور اسی بات کو شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے اس طرح کہا ہے
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نا ناری ہے
یہ حقیقت ہے کہ عمل ہی ایک ایسی واحد شے ہے جس سے انسان اپنی زندگی کو کامیاب اور خوشگوار بھی بنا سکتا ہے اور پرآشوب بھی بنا سکتا ہے۔
اللہ تعالی نے انسان کو بے پناہ صلاحیتوں سے مالا مال کیا ہے۔
عقل دی تاکہ اپنے لئے صحیح راستہ کا انتخاب کرے
سعی و کوشش کی خوبی سے نوازا تاکہ اس کے منتخب کردہ راستے کے حصول کے لئے جدوجہدِ عمل سے کام لے
ہمت و استقلال، بردباری اور عرفان دیا تاکہ مقاصد کے حصول میں پیش آنے والی پریشانیوں کا مقابلہ کرسکے۔
اللہ تعالی نے انسان کی حدود متعین کی ہوئی ہیں۔ جن کے اندر رہ کر انسان بہت کچھ کرسکتا ہے اور جہاں تک خدا چاہتا ہے اس سے آگے کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ جس نے عمل کیا اور کوشش کی ترقی کی راہ اختیار کی اسی ترقی ملی ہے۔ جس نے عمل کیا نہ کوشش کی اسے مایوس ہونا پڑا۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت بدلنے کا
کاش یہ خاکی بندہ اپنی اوقات پہچان لے اور اللہ کا بندہ بن کر اپنے کو سدھارنے کی سعی کرنا شروع کردے ۔ آمین
اس کے علاوہ بھی احباب ہیں جو آتے جاتے ہیں .. لیکن یہ ہماری بلاگ فیملی ہے .. جس کا ایک فرد بھی بغیر بتائے کہی چلا جائے مجھے فکر اور پریشانی ہو جاتی ہے
چلیں نگہت بہن بلاگ فیملی کے تعارف میں نہ سہی لیکن شاید آنے جانے والوں اس خاکسار کی یاد آئی ھو اللہ حافظ
میں محترمہ نگہت نسیم صاحبہ اور بھائی صفدر ہمدانی صاحب کا بہت مشکور ہوں۔
آپکی محبت ہے جو مجھے اس فورم میں کھینچ لائی ہے۔ میں اپنی انتہائی کوشش کروں گا کہ میری یہاں موجودگی کسی کی پیشانی پر شکنوں کا باعث نہ بننے پائے۔ لیکن باقی سب کی طرح میں بھی غلطی کرنے سے پاک نہیں ہوں ۔
اگر اپنی کم علمی یا نالائقی کی وجہ سے کسی کی دلآزاری کا باعث بن جاؤں تو برائے مہربانی مجھے ٹوکنے میں دیر مت کیجیئے گا ۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت اور احترام کا جزبہ قائم رکھے ۔ آمین
او مائی گاڈ اپنی بہن فاطمہ کو کون بھول سکتا ہے . ہاں واقعی مجھ سے آپ کا نام لکھنے سے رہ گیا .. سو سوری … وجوہات کی مد میں ایک ہزار وجہ لکھ سکتی ہوں لیکن اس سے میری غلطی سدھر نہیں سکتی .. ہاں دل ضرور نرمی کی طرف آ جائے گا .. جس کا مجھے زرہ برابر گمان نہیں کہ میری بہن فاطمہ مجھ سے بد گمان ہو سکتی ہے . مجھے معاف کر دیں مجھ سے واقعی بھول ہوئی ہے ….
شامی بھائی اور شاہد صاحب یہ ہے میری بہن فاطمہ ابرار جو کراچی میں رہتی ہیں . بے انتہا غضب کا شعر کہتی ہے .. مجھے بے حد عزیز ہیں …. آپ سے تعارف کروانا بھولی نہیں تھی بلکہ رات کے پھچلے پہر لکھی گئی تحریر کی غلطی تھی … آپ تو جانتے ہی ہیں اجنبی دیسوں کا وقت بھی اجنبی ہی لگتا ہے …
اب جس جس نام کو میں لکھ نہیں پائی ہوں ان سب سے فردا فردا دلی معزرت … وہ سب مجھے محترم ہیں اور عزیز ہیں …..
فاطمہ میری پیاری بہن بس اب مان جاؤ نہ … یہ دیکھیں کان پکڑیں کھڑی ہوں ….
ارے نگہت بس بلاگ پڑھتے ھوئے جو اس وقت محسوس کیا لکھ دیا ھاں یہ ضرور ھے جتنی خوشی جب آپکا فون آتا ھے ھوتی ھے اور میں پھولے نہیں سماتی تو ایک خلش تو دل میں پیدا ھوئی کہ میری مختصر سی غیر حاضری نے نگہت بہن کے قلم اور ذھن سے میرا نام محو کر دیا لیکن یہ سوچ کر خود کو تسلی دی میں کون سی عالمی اخبار کی مستقل کالم نگار یا تبصرہ نگار ھوں اور ھاں یہ کان وان پکڑنے کا زمانہ گیا اب آپ بڑی ھو گئ ھیں ڈیئر خوش و آباد رھیئے
ماں کی شان ہی نرالی ہے۔ اللہ نے ایک ایسی نعمت عطاکی ہے ہر انسان کو کہ اگر یہ نہ ہوتی شفیق ہستی تو شاید پتھر ہی ہوتے۔ تعلیم و تربیت کی بنیاد ہےماں۔
http://www.youtube.com/watch?v=dbJt7v9874g
تُو نے رات رات جاگ کراور لمحہ لمحہ سنبھال کر
مجھے بڑا کیا تو نے پال کر مجھے دِین کی کُچھ خبر نہ تھی
دُنیا پہ میری نظر نہ تھی مِرے شب و روز سجا دئیے
تُو نے سب سبق پڑھا دئیے تُو ہم پہ مہربان ہےکڑی دُھوپ میں سائبان ہے
تِری ہستی پیکرِ لُطف و کرم تِرے دم سے یہ جہاں رشکِ ارم
تُو بوقتِ غم، مسرّت کا پیام تُو شبِ تاریک میں ماہِ تمام
تُو ہے رنج و غم میں خوشیوں کی نویدتُو ہے نااُمیدی میں اِک شمعِ اُمید
تِرے قدموں تلے، خُلدِ بریں تُو حقیقت میں مُحبت کی امیں
تیرے دامن میں قرارِ زندگی تیرے گُلشن میں بہارِ زندگی
تُو ہے عظمت کا مُقدّس شاہکا رتیرے دم سے آدمیت کا وقار
تُو محبت کی حسیں پہچان بھی تُو کتابِ زیست کا عنوان بھی
تیری دُنیا میں نہیں کوئی مثال تیری عظمت ہے یقیناً لازوال
تیرے سائے میں بچپن کی لُوٹی بہارتیرے پیار میں پایا ہمیشہ دِل نے قرار
جو ناتواں تھے، تو قُوّت مِلی تُجھ سے ہمیں جو غم ہوا کبھی توراحت مِلی تجھ سے ہمیں
جو کوئی دُکھ ہوا ، رات بھر جگایا تُجھے ہر ایک حال میں صابر ہمیشہ پایا تُجھے
“ہر ایک حال میں صابر ہمیشہ پایا تجھے ہمارے سُکھ سے سُکھی ہے، ہمارے دُکھ سے دُکھی
نہ بھول کر کوئی شکوہ لبوں پہ آیا کبھی جو تیرے پیار میں پایا سُکوں۔۔ کہیں نہ مِلا
کہ تُجھ سا سایہ کوئی۔۔ بر سرِ زمیں نہ ملا -رسولِ حق نے بتایا ہمیں مقام تیرا
کہ ایک طرزِ عبادت ہے احترام تیرا خُدا رکھے تُجھے اپنی اماں کے سائے میں
کہ ہم سبھی ہیں اُسی کی اماں کے سائے میں یہ زندگی ہے محبت کی داستاں تجھ سے
ہمیشہ راضی رہے ربِّ دو جہاں تجھ سے تِرے وجود کی ہر جاں فزا ادا کو سلام
سلام تیری وفا کو، تِری عطا کو سلام ہے تیری ذات سے اُلفت، خُدا ، رسول کے بعد
تِرا وجود ہے رحمت، خُدا ، رسول کے بعد (صلّی اللہ علیہ وسلّم)