ڈاکٹرنگہت آپاجی ۔۔آپ کی تحریریں مجھے خصوصی طورپرکچھ نہ کچھ لکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔میرے اندرنہ جانے کیساایک ڈرساتھاجومیں اپنوں سے متعلق اپنے جذبات کوصفحہ ¿ قرطاس پہ لانے سے ڈرتاتھا۔ناقص ساکالم لکھاہے جومیرے اندازے کے مطابق نامکمل ہے۔لکھنے کاشوق بہت زیادہ ہے ۔تحریرکی زبان پربھی ابھی عبورنہیں ہے ۔ لیکن میرے ایک استادہیں وہ کہتے ہیں کہ اپنی قلم کوجتناگھسیٹوں گے اتناجلدی آپ کی قلم بہترلکھناشروع کرے گی۔میرے پہلے والے کالموں میں نئے کالموں میں فرق آیاہے ۔اب میں سمجھتاہوں کہ کالم کی نوعیت کیاہوتی ہے۔اس میں کس قدرتحقیقی باتیں ہونی چاہیئے اورکتنی دیگر۔اپنے گذشتہ کالموں کی کمیوں اورخامیوں کی نشاندہی بھی میں کرنے کے قابل ہوگیاہوں۔حوصلہ افزائی ۔نوآموزکالم نویس کےلئے ضروری ہے۔عالمی اخبارنے جس قدرمیری حوصلہ افزائی کی ہے اس کامیں مقروض ہوں۔خاص کرباباصفدرصاحب اورڈاکٹرنگہت آپاجی کابہت قرض دارہوں جومجھے مسلسل دُعائیں بھی دیتے ہیں اورمیری حوصلہ افزائی کےلئے میرے ناقص کالم کوبھی جگہ دیتے ہیں۔موقرروزنامے میں کالم کی اشاعت کی وجہ سے ہی میرے حوصلے بلندہوکرتحریرکی ترغیب دیتے ہیں۔میں عالم اخبارکے تمام اراکین اورقارئین کاشکرگذارہوں جومیری ناقص تحریروں کواپنی نظروں سے گذارتے ہیں۔آپ کی دُعاﺅں کاطلبگار۔طارق ابرار۔۔۔۔
میں بہت زیادہ لکھناچاہتاہوں مگرمصروفیات کی وجہ سے لکھ نہیں پاتاہوں۔مصروفیات کے سبب اردگردکی روزمرہ زندگی کی زندگی میں بہت سے واقعات رونماہوتے ہیں جومیں چاہتے ہوئے بھی مصروفیت کے سبب تحریرنہیں کرپاتاہوں۔اورجب وقت ملتاہے تووہ واقعات میرے ذہن میں دھندلے سے ہوگئے ہوتے ہیں جن کودوبارہ تصورمیں لانے کےلئے ذہن پہ دباﺅڈالناپڑتاہے جوکہ ذہنی پریشانی کاسبب ہوتاہے۔اس لیے سوچتاہوں کہ لکھنے کے معاملے میں تیزی لانی چاہیئے۔ مصروفیات سے وقت نکال کرہمیں واقعات کوروزانہ ڈائری پہ نوٹ کرناچاہیئے۔یہ میری چھوٹی سی تحریرہے جوتنہائی میں بچپن اوروالدین کی یاداچانک ذہن میں گرد ش کرنے کے بعدتحریرکردی ۔میرے سامنے میراماضی بھی تھااورحال بھی۔اس لیے جزبات میں آکرچندسطورصفحہ ¿ قرطاس پہ اُتاردیں۔ سوچاجذبات کااظہارکرہی لوں کیونکہ انسان کویہ معلوم نہیں کہ وہ کتناجیے گا۔اس لیے جلدی جلدی لکھناچاہتاہوں۔
21 thoughts on “کیامیں قلمکارہوں مجھے نہیں معلوم”
اسّلام علیکم طارق ابرار بیٹے اور میرے محترم ہم نشین ،
میں ابھی ابھی تمام دن کی چکّی کی مشقّت کے بعد جب بس میں بیٹھی تو سب سے پہلا خیال نیا بلاگ تحریر کرنے کا آیا اور بس میں ہی پیپر ورک بھی کر لیا اور گھر آکر پہلا کام اپنے کمپیوٹر کو اون کر کے بلاگ لکھنے لئے کھولا تو بیٹے طارق ابرار کی مسکراتی تحیریر پر نظر پڑی ،
خوش آمدید عالمی اخبار کی محفل ادب میں شمولیت اور مبارکباد کہ تم نے لکھنے کا ارا دہ کیا اور اللہ کریم نے تمھارا قلم رواں کیا ،،بیٹا دنیا کا ہر فن اس کے فنکار سے خون جگر مانگتا ہے ،،تب جاکر اسے اپنی محنت کا کچھ ثمر ملنا شروع ہوتا ہے اور جب وہ اپنے آپ کو دنیا کے تمام کاموں میں موجود رہتے ہوئے اپنے فن کے لئے اپنا آپ وقف کرتا ہے تب شہرت دوام اس کا مقدّر بن جاتی ہے ،پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ،کہانیاں اپنے اطراف میں تلاش کرو گے تو تفکّر کے زریعے لکھنے کی راہیں ملیں گی ،کسی وقت صرف آسمان اور اس میں موجود اجرام فلکی پر غور کرو
کسی وقت صرف سمندراور اس کے اوپر آبی حیات اور درون آب مخلوقات پر غور کرو ،،،اور زندگی کے ہر پہلو میں خیر کا پہلو تلاش کرتے رہو،،مضامین قلب پر اترنے لگیں گے انشاللہ ،ہم سب ساتھی تمھاری ہمّت اور حوصلہ بڑھانے کو بیٹھے ملیں گے ،جبکہ نگہت نسیم تو ہیں ہی آپ کی پہلی راہبر
اور تمھاری تحریر نے دل باغ باغ کر دیا کہ تم نے اپنے والدین کی خدمات کو کتنے بہترین لفظوں کا خراج پیش کیا ہے ،
جیتے رہو ،سلامت رہو ،اور اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
دعاگو
زائرہ بجّو مسسی سا گا کینیڈا
اسّلام علیکم طارق ابرار بیٹے اور میرے محترم ہم نشین ،
میں ابھی ابھی تمام دن کی چکّی کی مشقّت کے بعد جب بس میں بیٹھی تو سب سے پہلا خیال نیا بلاگ تحریر کرنے کا آیا اور بس میں ہی پیپر ورک بھی کر لیا اور گھر آکر پہلا کام اپنے کمپیوٹر کو اون کر کے بلاگ لکھنے لئے کھولا تو بیٹے طارق ابرار کی مسکراتی تحیریر پر نظر پڑی ،
خوش آمدید عالمی اخبار کی محفل ادب میں شمولیت اور مبارکباد کہ تم نے لکھنے کا ارا دہ کیا اور اللہ کریم نے تمھارا قلم رواں کیا ،،بیٹا دنیا کا ہر فن اس کے فنکار سے خون جگر مانگتا ہے ،،تب جاکر اسے اپنی محنت کا کچھ ثمر ملنا شروع ہوتا ہے اور جب وہ اپنے آپ کو دنیا کے تمام کاموں میں موجود رہتے ہوئے اپنے فن کے لئے اپنا آپ وقف کرتا ہے تب شہرت دوام اس کا مقدّر بن جاتی ہے ،پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ،کہانیاں اپنے اطراف میں تلاش کرو گے تو تفکّر کے زریعے لکھنے کی راہیں ملیں گی ،کسی وقت صرف آسمان اور اس میں موجود اجرام فلکی پر غور کرو
کسی وقت صرف سمندراور اس کے اوپر آبی حیات اور درون آب مخلوقات پر غور کرو ،،،اور زندگی کے ہر پہلو میں خیر کا پہلو تلاش کرتے رہو،،مضامین قلب پر اترنے لگیں گے انشاللہ ،ہم سب ساتھی تمھاری ہمّت اور حوصلہ بڑھانے کو بیٹھے ملیں گے ،جبکہ نگہت نسیم تو ہیں ہی آپ کی پہلی راہبر
اور تمھاری تحریر نے دل باغ باغ کر دیا کہ تم نے اپنے والدین کی خدمات کو کتنے بہترین لفظوں کا خراج پیش کیا ہے ،
جیتے رہو ،سلامت رہو ،اور اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
دعاگو
زائرہ بجّو مسسی سا گا کینیڈا
خوش آمدید بھاءی طارق۔
اسلام علیکم
بہت اچھی تحریر ہے بھائی طارق
لکھتے رہئے اللہ اآپ کو کامیابی عطا فرمائے آمین .
آپا عالم آرا
اسلام علیکم بہن زائرہ عابدی
اسلام علیکم محترم المقام محترمہ سیدہ زائرہ عابدی صاحب ۔۔۔
میرے پاس آپ کاشکریہ اداکرنے کےلئے الفاظ کی کمی ہے ۔پھربھی دِل کی عمیق گہرائیوں سے بہت بہت شکریہ اداکرتاہوں اوردُعاگوہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ پرہمیشہ سلامتی برقراررکھے۔میں اکثروبیشتربلاگ پڑھتاہوں ۔مگرناقص علم کے سبب بلاگ پرتبصرے کرنے سے گریزکرتاہوں۔عالمی اخبارعلم کابہت بڑاخزانہ ہے خاص طورپراُردوکالم،ادب اوربلاگ۔مجھے عالمی اخبارکے کالم نویسیو ں کی تحریربہت اچھی لگتی ہیں۔بلا گ بھی علم میں بے انتہااضافہ کرتے ہیں۔ادب پڑھ کرادب سے لگاﺅبھی بڑھتاہے۔ عابدی صاحبہ آپ نے بجافرمایاکہ ہرفن اس کے فنکارسے خون ِجگرمانگتاہے ۔میںاس بات سے متفق ہوں۔انشاءاللہ ۔عالمی اخبارکی نگرانی میں قلمی جہادکرنے کی کوشش کروں گا۔یہ کالم مجھے لکھنے کی کافی برسوں سے تمناتھی اورجوخیالات تحریرکیے ہیں و ہ دِل میں رکھ کربوجھ محسوس کرتاتھا۔یایوں کہوں کہ یہ کالم میرے اُوپرفرض بھی تھااورقرض بھی ۔یہ کالم لکھ کرمیراقرض اورفرض پورانہیں ہوا۔لیکن دِل کابوجھ ہلکاضرورہواہے۔ والدین کوخراج عقیدت پیش کرنے کے بعدخوشی محسوس کررہاہوں ۔جموں وکشمیرکے موقرروزنامہ میں کالم شائع ہوا،کافی لوگوں نے فون کال کرکے مبارکباددی اوراس کالم کواپنی ہی کہانی تصورکیا۔اس حوصلہ افزائی کے بعدمیں نے اب فیصلہ لیاہے کہ متواترکالم لکھاکروں گااوروہ بھی عالمی اخبارکی نائب مدیرہ یعنی پیاری آپاڈاکٹرنگہت آپا،باباصفدرصاحب کی زیرنگرانی میں اپنی علمی تربیت کروں گا۔میں سوچ رہاتھاکہ میراکالم نہ جانے قارئین کوکیسالگے گا۔مگرآپ نے حوصلہ بڑھایا۔اس کے لئے بہت بہت شکریہ۔آپ کے مشورے سرآنکھوں پر۔ ۔کالم کی کیپشن لکھنے میں کافی غلطیاں ہوئی ہیں۔اس کے لیے معذرت ۔میںبہت ڈرااورسہماہواتھاکہ نگہت آپاپتہ نہیں کیاکہیں گی ۔اس طرح سے بلاگ میں کالم کیوں چسپاں کیا۔آپ نے حوصلہ بڑھایا۔اُمیدہے نگہت آپابھی اگرمجھ سے گستاخی ہوئی ہے تومجھے معاف فرمائیں گی۔دُعاﺅں میں یادرکھیے۔آپ کاعزیز۔طارق ابرارچودھری۔۔۔
آپاشمش جیلانی صاحبہ آپ نے خوش آمدیداس کےلئے بہت بہت شکریہ ۔اللہ تعالیٰ آپ پرہمیشہ سلامتی کی بارش برسائے۔آمین۔ثمہ آمین۔
طارق صاحب بہت بہت شکریہ آپنے مجھے آپا بنا کر میرا بہت مان بڑھایا ہے. آپکی آپا شمس جیلانی
عزیزی طارق نہایت باریک تحریر ہے قطعی نہیں پڑھ سکتا
وہ بھی اِک دورتھایہ بھی اِک دورہے
طارق ابرارچودھری
بچپن ہرانسان کی زندگی کابہت ہی خوشگوارپڑاﺅہوتاہے کیونکہ بچپن میں انسان کونہ ہی یہ شعورہوتاہے کہ زندگی کیاچیز ہے، ہم کیوں اس دُنیامیں آئے ہیں ۔اورنہ ہی اسے اس چیزکی فکرہوتی ہے کہ اس نے آئندہ زندگی میں کیامقصدلیکرآگے بڑھناہے، نہ روزگارکی فکر ہوتی ہے اورنہ ہی یہ خبر ہوتی ہے کہ اس کی زندگی کیسے کیسے مرحلوں سے ہوکرگزرے گی ۔یہ وہی دورہوتاہے جب دُنیاکے تمام والدین اپنے بچوں کی شرارتوں اورمستیوں سے مسرورہورہے ہوتے ہیں۔کبھی کبھی والدین بچوں کی شرارتوں پہ وقتی طوربرُا بھی منالیتے ہیں اورکئی مرتبہ توغصے میں آکرمعمولی پٹائی بھی کربیٹھتے ہیںجس پربچے اپنے والدین سے ناراض ہوکرروٹھ جاتے ہیں ۔والدین کواپنے بچوں کاان سے روٹھناایک پل بھی نہیں بھاتااوروہ دوسری ہی آن اسے اتنالاڈپیارکرتے ہیں کہ بچے بھی چندہی لمحوں میں سب کچھ بھلادیتے ہیں۔اکثروبیشتریہ بات کہی جاتی ہے کہ بچے اگرشرارت نہیں کریں گے توانہیں بچہ کون کہے گا۔بعض دفعہ تووالدین بچوں کومنانے کےلئے ٹافیاں بازارسے منگواکردیتے ہیں یاپھروالدکواپنے کندھوں پہ سواری کراکربچوں کوخوش کرناپڑتاہے۔والدین اوربچوں کاآپس میں جوپیاراورلگاﺅہوتاہے وہ اپنے آ پ میں انوکھااورجاوداں ہوتاہے۔ہرشخص جب اپنے ماضی کوٹٹولتاہے تووہ بچپن کوہی اپنے ہی خوشگوارتصورکرتاہے ، وہ اپنے بچپن میں لوٹ جانے کی تمناکرتاہے مگرایساانسان صرف خیالی طورپرہی کرکے چندلمحوں کےلئے سکون وفرحت حاصل کرسکتاہے ۔بچپن کی اصطلاح اگرکی جائے تومیرے نزدیک یہی ہے کہ شرارتوں ،مستیوں اوردُنیاسے بے خبری کادورہی کسی بھی شخص کا بچپن کہلاتاہے۔ہرشخص کے بچپن میں ہی اس کے والدین اپنی آنکھوں میں اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے سپنے بننے شروع کردیتے ہیں ،اورانہیں شرمندہ تعبیرکرنے کےلئے عملی کام کرناشروع کردیتے ہیں۔دُنیاکے تمام والدین اپنے بچوں کواپنی آنکھوں کے سامنے بلندمقام پرپہنچتے ہوئے دیکھناچاہتے ہیں ۔اس خواہش کوحقیقت کاجامہ پہنانے کےلئے والدین اپنی اولادکی خاطردِن رات ایک کردیتے ہیں۔بچوں کی خوشیاں ہی والدین کےلئے سب سے بڑی راحت کاسامان فراہم کرتی ہیں۔ایک طرف جہاں والدین کواپنے بچوں کے مستقبل کی فکرہوتی ہے وہیں دوسری طرف بچوں کے علم میں یہ نہیں ہوتاکہ اس کے والدین اتنی مشقت کیوں کررہے ہیں۔جوں جوں بچہ علم وشعورکی منزلوں کی جانب بڑھتاہے توں توں اس کابچپن کم ہوتاچلاجاتاہے ۔ دُنیاکے تمام بچوں کی طرح میرابچپن بھی ایسے ہی گزرا۔
میرابچپن غالباًگیارہ۔بارہ سال کی عمرتک ہی محدودرہااور تعلیم کی ابتدائی پانچ جماعتیں ہی میں نے اپنے گاﺅں دھنوں کے پرائمری سکول میں جاکرپڑھیں۔میرے والدصاحب بہت ہی محنتی شخص ہیں ۔اُنہوں نے غربت کوبرداشت کیا،مصیبتیں جھیلیں، لوگوں سے وردی،کتابوں ،جوتوں،پنسل اورقلم جیسی بنیادی چیزوں کےلئے اُدھار،قرض بیاض پرمانگ کرمیری تعلیم کوجاری رکھا،پیٹ پرپتھرباندھے ،بھوک سہی مگرکبھی اپنے بچوں کوتعلیم کے نورسے منورہونے میں پریشانیاں نہ آنے دیں۔ والدہ محترمہ نے بھی ہمت اوربہادری کامظاہرہ کیااوروالدصاحب کابھرپورساتھ دیتے ہوئے اُن کی ہمت اورحوصلے میں اضافہ ہی کیا۔گیارہ برس کی عمرتک نابالغ ذہن نے غربت کوقریبی سے دیکھااورمحسوس کیا۔غربت سے نجات کی راہ مجھے کم سنی کی عمرمیں تعلیم ہی نظرآئی ۔والدین اکثرکہتے تھے کہ اگرآپ پڑھوگے توکل کوآپ بھی ایک اچھے انسان بن جاﺅگے اورامیرہوجاﺅگے اورہماری دُعاﺅں کے نتیجے میں بلندیوں کوچھوجاﺅگے۔میں شروع سے ہی سنجیدہ رہاہوں اوراب تک ہوں۔والدین کے اقوال زریں پردماغ پرزوردے کر سوچاکرتاتھا۔میری خوش نصیبی ہی تھی کہ ابتدائی تعلیم کے دوران ہی اچھے استاد(ماسٹرگلزاراورماسٹرشمیم احمد)بھی نصیب ہوئے جن کی سخت محنت کی وجہ سے دِل اوردِماغ کی طرف مائل ہوااورپڑھائی میں خوب جی لگنے لگا، اورتعلیم کے تئیں جوش وشوق بھی آہستہ آہستہ بڑھتاہی چلاگیا۔پانچویں جماعت پاس کرتے ہی غربت کے خاتمہ اوراعلیٰ تعلیم کے حصول کے خوابوں کوآنکھوں میں سجاکرپسماندہ طبقہ کےلئے سرکارکی جانب سے قائم کردہ ہوسٹل میں داخلہ کی خاطرانٹرنس ٹیسٹ میں حصہ لینے کےلئے جموں شہرکی راہ لی ۔انٹرنس ٹیسٹ میں والدین کی دُعاﺅں کی بدولت کامیابی نصیب ہوئی اوربالآخرمیراداخلہ 1999گوجرہوسٹل جموں میں ہوگیااورمیری شہری زندگی کی ابتداہوگئی۔واضح کرتاچلوں کہ میراآبائی گھرشہرجموں جوکہ ریاست جموں وکشمیرکاسرمائی دارالخلافہ ہے سے تقریباً50 کلومیٹرکی دوری پربلاک بھلوال کے ایک دوردرازگاﺅں ”دھنوں “میں واقع ہے۔اب میری عمر26 سال ہوگئی ہے جس سے صا ف ظاہرہوتاہے کہ میری شہری زندگی کی عمر15سال ہوچکی ہے۔میں نے ان پندرہ برسوں کی شہری زندگی کی وجہ سے بہت کچھ سیکھاہے ۔2006 میں میرا ہوسٹل کاتعلیمی سفرختم ہوا،اس کے بعدسے کمپیوٹرکاڈپلومہ کیا،ایک دوسال کالج میں مالی پریشانیوں کے سبب داخلہ ہی نہ لیامگرہمت نہ ہاری ،مالی حالت بہترہوتے ہی اعلیٰ تعلیم کی اگلی منزلوں کی طرف قدم بڑھائے ۔ساتھ ہی روزگارکی تلاش میں دِن رات ایک کیا،شارٹ ہینڈ،ٹائپنگ اورکمپیوٹرکی تعلیم سیکھنے کاسبب میری غربت اورمالی پریشانیاں ہی تھیں۔بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ غربت ہماری راہ میں رکاوٹ ہے مگرمیں کہتاہوں کہ اللہ تعالیٰ پہ توکل رکھاجائے توغربت ہی کواللہ تعالیٰ مشکلات کے ازالہ کاذریعہ بنادیتاہے۔آج میں سمجھتاہوں کہ اگرغربت اورپریشانیاں میری راہ میں نہ آتیں تومجھے اتناشعوراورسمجھ نہ ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے شعورسے نوازاہے جس کےلئے اس ذات باری تعالیٰ کاجتنابھی شکراداکیاجائے وہ کم ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے انسان کےلئے طرح طرح کی نعمتیں وقف کی ہیں ۔غربت دیکرانسان اپنے بندوں کاامتحان لیتاہے ۔میرے والدین نے غربت اورمشکل حالات میں صبروشکرکادامن نہ چھوڑا،اوراللہ تعالیٰ پریقین کامل رکھا۔ میں نے بھی والدین کے صبروتحمل کودیکھتے ہوئے دِل پہ پتھررکھتے ہوئے ان سے دوری اختیارکی ۔پندرہ برسوں پرمحیط میری شہری زندگی کے دوران زیادہ سے زیادہ 2 یا3 سال ہی کاوقت ہوگا(جوکہ چھٹیاں میں نے گھرمیں گذاری ہوں گی )جو اپنے گھرمیں والدین کیساتھ گذارہ ہے۔دیگر۲۱سال میں نے والدین سے دوری اختیارکیے رکھی اوراب بھی پیشہ وارانہ مصروفیات کے سبب دورہی رہتاہوں مگرمیرے والدین میرے دِل کے بہت قریب بستے ہیں ۔وہ میرے لیے سب کچھ ہیں۔وہ ہیں تومیری دُنیاآبادہے ۔ اُن کے دم سے ہی میری زندگی روشن ہے ،گھرکی مالی پریشانیوں کودورکرنے کےلئے ،میںاپنے بہن بھائیوں کے تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کےلئے ،والدین کی آنکھوں میں خوشیوں کی روشنی جگانے کےلئے ۔بے شک شہری زندگی میں مجھے والدین کی یادتوشدت سے ستاتی رہی ،ستاتی ہے ،ساتھ ہی اپنے گھراوراپنے گاﺅں کی یادنے بھی سخت تڑپایا،مگراپنے مشن پرگامزن رہ کربرداشت کیااورصبروشکرکادامن تھامے رکھا۔آج بھی کئی مرتبہ والدین کہتے ہیں کہ اتوارکوگھرآجاﺅمگرموقرروزنامہ اُڑان میں بطورسب ایڈیٹراہم ذمہ داریاں نبھانے کی سبب بعض دفعہ والدین کے کہنے کے باوجود وقت پرگھرنہیں جاپاتاہوں ۔میرے والدین میری پریشانی سمجھتے ہیں اورفخرکرتے ہیں کہ ان کابیٹااچھاکام کررہاہے ۔جب گھرجاتاہوں توبڑی شاہانہ خاطرتواضع کرتے ہیں۔ دودھ ۔دہی ۔لسی اوردیگرچیزیں مجھے زبردستی کھلائی جاتی ہیں۔میرے والدصاحب کبھی مجھے گھرکاکام کرنے کونہیں کہتے ۔اکثرچھوٹے بھائی والدین سے گلہ کرتے ہیں آپ بڑے بھائی کوکوئی کام نہیں بتاتے اوروہ فارغ رہتے ہیں۔والدین کامیرے تئیں لگاﺅاورپیارانوکھاہے جومیرے لیے اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ نعمت ہی ہے۔اورمیرے ذہن میں سوال اُبھرتاہے کہ کون ہے دُنیامیںجومجھے میرے والدین سے زیادہ پیارکرے؟، دُعائیں دے ۔اللہ تعالیٰ سے گڑگڑاکردُعائیں مانگے ۔اکثروالدین میری اوردیگربہن بھائیوں کی کامیابی وکامرانی کےلئے اللہ تعالیٰ کے حضورسربسجودہوکر دُعائیں مانگتے ہیں ۔میں کئی مرتبہ نمازادانہیں کرپاتاہوں مگروالدین کی دعاﺅں کی بدولت ہرجگہ عزت ہی ملتی ہے ۔کئی بارتومیں چھوٹی سی عمرمیں اعلیٰ پایہ کی شخصیات سے دادملنے پرگبھراجاتاہوں اورسوچتاہوں کہ کیامیں ہی دُنیامیں اتناخوش نصیب تونہیں ہوں۔میرے نانوں جان اورنانی صاحبہ بھی میرے لیے بہت دُعائیں کرتے ہیں۔میں سمجھتاہوں کہ میرے والدین اوربزرگوں کی دُعائیں ہی ہیں جومجھ ناچیزکوہرجگہ کامیاب وکامران کرتی ہیں ورنہ میرے اتنے اچھے اعمال نہیں کہ ہرجاسے عزت ہی نصیب ہو۔اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سربسجودہوکروالدین نے میری عافیت اورسربلندی کےلئے جودُعائیں مانگیں ہیں اورمیرے لیے جومشقتیں جھیلی ہیں ان کاکوئی نعم البدل نہیں ۔اورنہ میں اپنے والدین اوربزرگوں کاکبھی شکراداکرسکتاہوں۔مجھے فخرہوتاہے اپنے والدین پرجومشکل وقت میں میری ہمت بنے رہے ۔ مجھے یقین ہے کہ دُنیامیںمیرے والدین سے بڑھ کراپنی اولادکوپیارکرنے والے والدین بہت کم ہی ہوں گے۔دُنیامیں اگرمیراکوئی رول ماڈل اورمشعل راہ ہے تووہ میرے والدین ہیں ۔مجھے اپنے والدین پرنازہے جن کی سخت محنت اورجفاکشی نے مجھے غلط راستوں سے ہمیشہ دوری اختیارکرنے پرمجبورکیا۔آج سوچتاہوں کہ اگرمیراگھرکچانہ ہوتا، میں غریب اورمزدوروالد کابیٹانہ ہوتاتومیں کیاہوتا، شایدگمراہ راستوں پہ چل رہاہوتا۔میرے والدین پراللہ تعالیٰ کااحسان عظیم ہے اس نے ان کی اولاد کوراہ راست پرگامزن رکھاہواہے ۔اب میں اورمیراچھوٹابھائی گھرکی مالی حالت کوبہتربنانے کےلئے کام کررہے ہیں ۔میراچھوٹابھائی عارف بھی ایک اخبارمیں کام کررہاہے ۔اورغربت کے خاتمہ کے مشن پہ میرے ساتھ شانہ بشانہ اورقدم سے قدم ملاکرچل رہاہے۔وہ میراسہاراہے وہ میرے جسم کااہم حصہ ہے ،میرے جگرکاٹکڑاہے۔میں اپنے والدین اوربہن بھائیوں کی خوشی میں ہی اپنی خوشی تصورکرتاہوں۔ میرے والدین کی بہت سے عادتیں مجھ میں شعوری یالاشعوری طورپرمنتقل ہوگئی ہیں۔والدین اگرمیرے بھائی بہن بے چین ہوں تومجھے بھی سکون نہیں ہوتا۔بالکل اسی طرح وہ جذبہ اوراحساس جومیں نے اپنے والدین میںمحسوس کیا، اگرمجھے کوئی پریشانی ہوتی تھی وہ پریشان ہوجاتے تھے۔میرے والدنے زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا، ان کواگرکہابھی جائے کہ ،ایسانہیں ،ایساکہنا، وہ پھربھی سچ ہی کہہ دیتے ہیں،ان کی زبان ہمیشہ سچ ہی بولتے ہے۔زندگی بھرسچائی کاوالدصاحب نے ساتھ دیا،چاہے اس کاانہوں نے نقصان ہی کیوں نہ بھگتناپڑاہو۔مجھے آج محسوس ہوتاہے کہ میرے والدصاحب اگرسچے ،ایمانداراورمحنت کش نہ ہوتے تومجھے کہیں سے بھی وہ درس نہ مل پاتاجومیں نے اپنے والدصاحب اوروالدہ محترمہ سے سیکھاہے۔ میرے والدین کی ایک ایک بات میرے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔میری بھی کوشش رہتی ہے کہ ہرپل والدین کی خوشی کاساما ن پیداکروں ۔ آج میںاپنے دونوں ماموں صاحبان جناب مشتاق احمدصاحب اورمحمدصادق ،چاچاغلام مصطفےٰ صاحب کے علاوہ اُن تمام لوگوں بالخصوص اپنے گاﺅں والوں کاجنھوں نے میرے والدکوادھاردیکرمیرے والدکی مددفرمائی کاشکریہ اداکرتاہوں ۔میں اپنے گاﺅں والوںاوردیگرلوگوں کامقروض ہوںجنھوں نے میرے والدین اورمیری مددفرمائی ۔میری ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ کسی سے بلندآوازیاتلخ لہجہ میں بات نہ کروں کیونکہ نہ جانے کب کسی نے میرے والدپراحسان کیاہو۔پھربھی اگرکسی شخص کی دل آزاری جانے انجانے میں ہوئی ہوتواس سے معافی کاطلبگارہوں۔
میراصحافتی سفرروزنامہ تسکین سے سال 2007 میں شروع ہوا،مگرباقاعدہ صحافت میں میرے قدم 2010 میں ہی پڑے ،جب روزنامہ اُڑان کے مدیراعلیٰ ،ایدیٹراورمنیجنگ ایڈیٹرنے مجھ ناچیزکی صلاحیتوں کوبھانپتے ہوئے اپنے اخبارمیں کام کرنے کےلئے منتخب کرلیا۔جان صاحب (ایڈیٹراُڑان)،تنویرصاحب (منیجنگ ایڈیٹر)اوراقبال شاہ صاحب (مدیراعلیٰ اُڑان ) کاشکرگذارہوں جنھوں نے میرے آگے بڑھنے کے راستے ہموارکیے اورمجھے صحافت کے پیشہ میں زورآزمائی کاموقعہ فراہم کیا۔اگرمجھے اُڑان کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کامظاہرہ کرنے کاموقعہ میسرنہ ملاہوتاتوشایدمیں آج گلیوں میں خوارہورہاہوتا۔یہ اللہ تعالیٰ کاہی احسان ہے جس نے اقبال صاحب، تنویرصاحب اورجان صاحب کی نظرکرم مجھ ناچیزکی طرف مائل کی اورانہوں نے مجھ پراحسان کیا۔مجھے تنویرصاحب ،جان صاحب اوربیتاب جے پوری کی حمایت اورشفقت کے سایہ میں اپنے چھ سالہ صحافتی سفرکے دوران اعلیٰ پایہ کے دانشوروں ، قلمکاروں ، شاعروں اورادیبوںکی صحبت میں بیٹھنے کاموقع میسراہوا،ان کی صحبت میں میرے اندرکاسویاہواقلمکاربھی جاگ اُٹھااوراس نے مجھے اپنے خیالات اورجذبات صفحہ¿ قرطاس پراُتارنے کی ترغیب دی ۔دانشوروں کی صحبت کانتیجہ ہے کہ آج اپنے والدین ،آبائی گھراورزندگی کی مختصرجھلکی پیش کرنے سے قلم کونہ روک سکا۔یادوسرے لفظوں میں یوں کہاجائے کہ
دانشوروں کی صحبت ِپیہم کافیض ہے
بیتاب ورنہ صاحب ادراک یوں نہ تھا
(بیتاب جے پوری)
اچھے بھائ طارق ابرار
تم نے اپنے بارے میں اتنی تفصیل سے تحریر کیا اور اچھا لگا کہ تم کو سبکی دعاوں ملتی ھیں اور خاص کر والدین کی دعا تو قسمت والوں کو ملتی ھیں ھم سبکی دعايئں بھی تمھارے ساتھہ ھیں
اتنا سنجیدہ بلاک تھا مگر تم نے اسکو مزاح میں بدل کر مجھے ھسنے پر نیہں قہقہے لگانے پر مجبور کردیا
اب میں اس سے زیادہ کیا کہوں تم نے بہت مفصل تحریر کیا ھے
تمھارا بھائ شاھین رضوی
سلامت رہو عزیز بھائی
باباصفدرصاحب۔معذرت چاہتاہوں ۔آپ کوپڑھنے میں دشواری ہوئی۔اب دوبارہ سے بلاگ میں ناقص سی تحریریونی کوڈمیں پیش کردی ہے۔اُمیدہے کہ آپ بھی اس تحریرکوضرورپڑھیں گے۔
آپاجی۔۔۔آپ نے دولفظ لکھے۔خوشی ہوئی۔آپ کی صحت ناسازہے اسلئے اُمیدکرتاہوں کہ آپ صحت یاب ہوکراس بلاگ میں کچھ نہ کچھ ضرورلکھیں گی ۔۔آپ کاعزیزبھائی۔طارق ابرارچودھری۔
شمس جیلانی صاحب آپ کامشکورہوں کہ آپ نے میری تحریرکوپڑھا۔۔اوربلاگ میں خوش آمدیدکہا۔
شاہین رضوی صاحب۔آپ نے ناقص سی تحریرپڑھیے۔شکریہ ۔آپ کواچھی لگی ۔یہ میری خوش قسمتی ۔اللہ تعالیٰ سے دُعاگوہوں کہ والدین کی دُعائیں ہمیشہ مجھے کامیابی وکامرانی عطافرمائیں اورمجھے والدین کی اطاعت کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ مجھے لگتاہے کہ یہ کالم لکھنامجھ پرفرض بھی تھااورقرض بھی۔فرض اورقرض اداتونہیں ہوسکتاہے مگرتھوڑاسابوجھ ہلکاہواہے۔آپ نے کہاکہ آپ کومیری تحریرپڑھ کرہنسی ہی نہیں آئی بلکہ آپ نے قہقہے لگائے۔شایدآپ نے بلاگ کی سرخی پڑھ کرقہقہ لگایاہوگاکیونکہ سرخی موزوں نہیں ہے۔ایسے ہی لکھ دی ہے ۔کیونکہ قلمکارکہلانابہت بڑااعزازہوتاہے ۔میری تحریرپڑھ کرآپ کولگاہوگاکہ ایسی ناقص تحریروالے بھی خودکوقلمکارکہلانے لگ پڑے ہیں ۔۔۔آپ وضاحت کردیجئے کہ آپ کوکیاچیزپڑھ کرقہقہے لگانے پڑے۔۔۔غلطیوں کی نشاندہی کردیجئے۔شکرگذاررہوں گا۔میں مانتاہوں کہ میں ابھی قلمکارکہلانے کامستحق نہیں ہوں۔لیکن ساتھ ہی مجھے یہ بھی یقین ہے کہ باباصفدرصاحب،ڈاکٹر نگہت آپا،سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ، شمس جیلانی صاحب،عالم آراصاحبہ اورشاہین رضوی صاحب جیسے قلمکاروں کی زیرسایہ تربیت پاﺅں گاتوضرورایک دِن قلمکاربن جاﺅں گا۔دُعاﺅں میں یادرکھیے گا۔اللہ تعالیٰ عالمی اخبارکے رفقاءکوہمیشہ ایک دُوسرے کےلئے دُعاﺅں کاذریعہ بنائے رکھے۔آمین۔
السّلام علیکم ساتھیوں دوستوں،بیٹوں بیٹیوں ،اوروعلیکم واسّلام بہن عالم آراء،
سب سے پہلے دیر سے آنے کی معذرت کہ میں خود مہمان گئ ہوئ تھی کئ دن کے بعد واپسی ہوئ تو لیپ ٹاپ حضور ناراض ہو کر کام کرنے سے انکاری تھے ،اللہ ،اللہ کر کے نواسے صاحب نے ٹھیک کر کے دیا تب ہی حاضر ہو سکی ہوں
اب میں طارق ابرار بیٹے کی تحریر پر آتی ہوں
خوبصورت عنوان( وہ بھی ایک دور تھا یہ بھی ایک دور ہے)
جی بیٹے انسان کی زندگی ان ادوار کے درمیان ہی تو بسر ہوتی ہے کبھی زندگی کے لق و دق صحرا میں ننگے پاؤں چلتے ہوئے چٹیل دھوپ کی تمازت روح کو جلاتی ہے تو کبھی دل سے ٹپکتے ہوئے آنسوؤں کو زمانے سے چھپانا ہوتا ہے لیکن تہلیل نفسی کے جاں سوز عمل سے انسان اللہ کے نام کا سہارا لے کر صبرو شکیبائ سے گزر جاتا ہے تو دھیرے دھیرے زندگی کے آسمان پر چاندنی رات کا احساس بھی جاگتا چلا جاتا ہے پھر زندگی کی ساری تمازتیں ہم بھول جاتے ہیں بس وہ ہماری یاد داشتوں میں ہی محفوظ رہ جاتی ہیں
طارق بیٹے ابھی چند روز پہلے میرے بیٹے نے شارجہ سے مجھے لکھا کہ وہ اپنے والد کا بہت بہت شکر گزار ہے کہ جن کی بدولت وہ آج اس مقام پر ہے ،ساتھ میں اس نے میری خدمات کا بھی فراخ دلانہ تذکرہ کیا ،
اپنے بیٹے کی تحریر کی روشنی میں میں نے اسے جواب میں لکھا کہ اگر وہ ایسے نا ہوتے تو آج ہم میں سے مجھ سمیت کوئ ایسا ناہوتا جو اللہ کے فضل وکرم کے طفیل اور تمھارے بابا کی محنتوں سے بن گئے ،اور میں تمھارے بابا کی خدمات کو چند لفظوں میں تحریر نہیں کر سکتی تھی اس لئے اپنی کتاب زندگی میں ایک پورا باب ان کے نام کیا ہے
تو بیٹا تم جمّوں کشمیر سے اپنے محترم ماں باپ کے بیٹے طارق ابرار کے نام سے ہو یا تمھاری طرح کا ایک اور لائق اور سعادت مند بیٹا شارجہ سے یا دنیا کے کسی بھی مقام سے اپنے والد کو اور اپنی ماؤ ں کو یوں خراج تحسین پیش کرے تو یہ والدین کے لئے بھی اور ان کی اولاد کے لئے بھی خوش نصیبی کی معراج ہے ،
اللہ کریم تم کواور ہر لائق بیٹے کو دین و دنیا کی سعادتوں سے ہمکنار کرے اور جس طرح آج وہ اپنے والدین کے لئے ماشاللہ ان کی حیات میں صدقہ ء جاریہ بن چکے ہیں تم سب کی اولاد تمھارے لئے صدقہء جاریہ کا سبب بن جائے آمین
دعاگو زائرہ بجّو
مسی ساگا کینیڈا
طارق ابرار اللہ نہ کرے کہ میں کسی کی تحریر پرھنسو یا کسی عنوان پر قہقہے لگاوں
تم نے اپنے ایک تبصرے میں برادر عزيز شمس بھائ کو آپا کہا تھا اس لیے اور مجھے بھی ابھی شاھین رضوی صاحب کہا ھے تو بس اس بات پر ھنسی آگی تھی باقی تم بہت اچھےلھکنے والے ھو
اور اللہ پاک تم کو خوب خدمت گذاری کا اجر عطا فرماۓ آمین
محترمہ سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی دیرنہیں ہوئی۔اس خوشگواراورموسم بہارکی محفل میں آپ کے دوبارہ آنے سے تویوں لگ رہاہے کہ پھرسے بہارآگئی ہے۔آپ کادِل کی عمیق گہرائیوں سے استقبال کرتاہوں۔آپ کے اظہارخیال کاایک ایک لفظ معتبرہے ۔اوربہت اچھالگ رہاہے ۔آپ نے بیش قیمتی باتیں سکھائی ہیں اس کےلئے بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت شکریہ۔یوں ہی آئندہ بھی حوصلہ افزائی کی توقع رہے گی۔
کتناخوبصورت جملہ ہے اس کوباربارپڑھنے کادِل کرتاہے۔
” دنیا کے کسی بھی مقام سے اپنے والد کو اور اپنی ماو¿ ں کو یوں خراج تحسین پیش کرے تو یہ والدین کے لئے بھی اور ان کی اولاد کے لئے بھی خوش نصیبی کی معراج ہے “
بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت شکریہ محترمہ سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ۔۔۔۔
آپا شاہین رضوی صاحبہ ۔۔۔
میں نے غلط سمجھا۔۔اس کے لے معذرت خواہ ہوں۔۔
میں اپنے ہی عذرکی نشاندہی نہ کرسکا۔۔یہ میری کم عقلی ہے۔۔۔میں نے آپ پرہی غلط الزام سالگادیاتھاشائد۔۔اس کے لیے معذرت۔۔
میں نے توغلطی کی ہی تھی مگرمحترم المقام جناب شمس جیلانی نے بھی خودکومیری آپاہی کہاہے ۔آپ درج بالاجیلانی صاحب کاکمنٹ دیکھیں۔۔۔اس کامطلب ہے کہ ان سے بھی غلطی ہوئی۔۔تحریرمیں غلطیاں رہ جاتی ہیں۔۔۔آپ کاہنسناجائزتھا۔۔آپ کوبھی میں نے صاحبہ کی جگہ صاحب ہی لکھا۔۔ہوجاتی ہیں اکثرغلطیاں۔آخرانسان ہیں ہم سب۔۔
میں جانتاہوں کہ آپ کسی کی تحریرپرہنس نہیں سکتی۔۔میں ہی غلط فہمی کاشکارہوا۔اس کےلئے پھرسے معذرت۔۔آپ نے تحریرکواچھاقراردے کرحوصلہ افزائی کی۔اس کےلئے بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آئندہ بھی حوصلہ افزائی کاطلبگاررہو ں گا۔۔دُعاﺅں میں یادرکھئے۔آپ کاچھوٹابھائی۔۔طارق ابرارچودھری۔
ویسے ایک بات بتاﺅں۔آپ کاوصی شاہ کیساتھ مکالمہ پڑھا۔بہت اچھالگا۔۔۔سوچ رہاتھاکہ اسے اپنے اخبار”اُڑان “ میں بھی شائع کروں۔۔لیکن اجازت درکارتھی۔۔۔اب اجازت دینایانہ دیناآپ کے ہاتھ ہے۔۔۔۔ویسے وصی شاہ میرے پسندیدہ شاعراورادیبوں میں سے ایک ہیں۔۔۔
اسّلام علیکم، محترم ساتھیوں ،بیٹوں بیٹیوں ،
طارق ابرار ویسے تو میری عمرآپ کی امّی بھی نہیں بلکہ نانی جان یا دادی جان جتنی ہے لیکن میں اپنے احباب کے حلقے میں اورتمام خا ندان میں بجّو کے نام سے مشہور ہوکر جگ بجّو بن گئ اس لئے آپ مجھے پورے نام کے بجاءے صرف زائرہ بجّو کہئے گا تو زحمت سے بچ جائے گا ،
میں بھی آ پ کو دل کی گہرائ سے خوش آمدید کہتی ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ کریم آپ کو دین اور دنیا کی بے مثال نعمتوں سے مالا مال کر دے آمین ،اس کے ساتھ ایک نصیحت یہ ہے کہ دنیا کا کوئ کام ہو نماز نہیں چھٹنی چاہئے بے شک قضا پڑھئے لیکن چھوڑنی نہیں ہئے
یہ بھی بتا دوں کہ اولاد کی ہر ہر نماز میں والدین بھی حصّے دار ہوتے ہیں ،،اللہ کریم آپ کی توفیقات میں دن دونی رات چوگنی ترقّی عطا کرے آمین
دعا گو زائرہ بجّو
یہ سچ ہے کہ میں جب عالمی اخبارکے خانوادے کے اراکین کی عمرکودیکھتاہوں تواپنی عمرکوبہت مختصرپاتاہوں۔بعض اراکین کی عمریں تومیری امی کی امی یعنی نانی یادادی کی ہیں ۔۔۔مجھے توسمجھ ہی نہیں آتی ہے کہ میں اپنے سے اتنی بڑی عمروالی شخصیات کوکس تعلق سے پکاروں۔۔۔میں عزت واحترام سے محترم المقام نام کیساتھ لکھتاہوں۔اس اُمیدسے کہ شایددوسری طرف والی شخصیت جواب میںمیرے ساتھ تعلق کااظہارخودہی کردے۔۔جگ بجوصاحبہ ۔۔میں آپ کے بیٹے کی مانندہوں۔
آپ نے مجھے خوش آمدیدکہا۔۔اس کےلئے شکریہ۔۔۔نیک دُعاﺅں سے نوازا۔۔اس کےلئے بھی شکریہ۔۔نصیحت کی۔اس کے بھی شکریہ۔میں جانتاہوں ۔۔شکریہ کہنے سے محبتوں کاشکریہ ادانہیں ہوسکتا۔۔پھربھی اپنافر ض سمجھ کربہت بہت شکریہ اداکرتاہوں۔۔۔
میرے ے لائق بیٹے اللہ کریم تمھیں حضرت خضر علیہ السّلا م کی عمر کے صدقے میں صحت و تند رستی کے ساتھ لمبی عمرعطا فرمائے آمین تمھارے ماں باپ کا دل تم سے ٹھنڈا رہے اور تم کو اچھّی سی شریک زندگی عطا کرے ثمّہ آ مین ،
تم عالمی اخبارپر ایک بہترین علمی اضافہ ہو ،ہم سب یہاں ایک دوسرے سے بے لوث محبّت کے رشتے سے منسلک ہیں اور تمھارا سب سے بڑارشتہ ہم سے محبّت کی استواری ہے انشاللہ پھر حاضر ہوتی ہوں
آپ کی زائرہ بجّو
زائرہ بجوصاحبہ ۔آپ نے بیٹے کادرجہ عطافرمایا۔۔۔یہ میرے لیے اعزازسے کم نہیں۔اتنی دُعائیں عطاکیں۔جن کےلئے ہمیشہ مشکوروممنون رہوں گا۔میں سمجھتاہوں کہ دُعاﺅں کاشکریہ اداکرپاناکسی بھی شخص کےلئے ممکن ہی نہیں۔پھربھی شکریہ اداکرناایک اچھاعمل ہے ۔۔اوریقیناکرنابھی چاہیئے کیونکہ اچھے اعمال ہی ہمیں اچھی راہ پہ گامزن رکھنے میں معاون ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ اچھے اعمال کرنے کی توفیق عطافرمائے۔
آپ نے مجھے عالمی اخبارمیں علمی اضافہ قراردیا۔۔اس کےلئے بہت شکریہ۔۔یہ میرے لیے آپ کی طرف سے بہت بڑی حوصلہ افزائی ہے ۔۔۔بے شک عالمی اخبارکابلاگ ہم سب کےلئے ایک دوسرے سے بے لوث محبت وخلوص رشتواراستواررکھنے کابہت بڑاپلیٹ فارم ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب پرسلامتی فرمائے۔۔آمین۔
اسّلام علیکم طارق ابرار بیٹے اور میرے محترم ہم نشین ،
میں ابھی ابھی تمام دن کی چکّی کی مشقّت کے بعد جب بس میں بیٹھی تو سب سے پہلا خیال نیا بلاگ تحریر کرنے کا آیا اور بس میں ہی پیپر ورک بھی کر لیا اور گھر آکر پہلا کام اپنے کمپیوٹر کو اون کر کے بلاگ لکھنے لئے کھولا تو بیٹے طارق ابرار کی مسکراتی تحیریر پر نظر پڑی ،
خوش آمدید عالمی اخبار کی محفل ادب میں شمولیت اور مبارکباد کہ تم نے لکھنے کا ارا دہ کیا اور اللہ کریم نے تمھارا قلم رواں کیا ،،بیٹا دنیا کا ہر فن اس کے فنکار سے خون جگر مانگتا ہے ،،تب جاکر اسے اپنی محنت کا کچھ ثمر ملنا شروع ہوتا ہے اور جب وہ اپنے آپ کو دنیا کے تمام کاموں میں موجود رہتے ہوئے اپنے فن کے لئے اپنا آپ وقف کرتا ہے تب شہرت دوام اس کا مقدّر بن جاتی ہے ،پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ،کہانیاں اپنے اطراف میں تلاش کرو گے تو تفکّر کے زریعے لکھنے کی راہیں ملیں گی ،کسی وقت صرف آسمان اور اس میں موجود اجرام فلکی پر غور کرو
کسی وقت صرف سمندراور اس کے اوپر آبی حیات اور درون آب مخلوقات پر غور کرو ،،،اور زندگی کے ہر پہلو میں خیر کا پہلو تلاش کرتے رہو،،مضامین قلب پر اترنے لگیں گے انشاللہ ،ہم سب ساتھی تمھاری ہمّت اور حوصلہ بڑھانے کو بیٹھے ملیں گے ،جبکہ نگہت نسیم تو ہیں ہی آپ کی پہلی راہبر
اور تمھاری تحریر نے دل باغ باغ کر دیا کہ تم نے اپنے والدین کی خدمات کو کتنے بہترین لفظوں کا خراج پیش کیا ہے ،
جیتے رہو ،سلامت رہو ،اور اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
دعاگو
زائرہ بجّو مسسی سا گا کینیڈا
اسّلام علیکم طارق ابرار بیٹے اور میرے محترم ہم نشین ،
میں ابھی ابھی تمام دن کی چکّی کی مشقّت کے بعد جب بس میں بیٹھی تو سب سے پہلا خیال نیا بلاگ تحریر کرنے کا آیا اور بس میں ہی پیپر ورک بھی کر لیا اور گھر آکر پہلا کام اپنے کمپیوٹر کو اون کر کے بلاگ لکھنے لئے کھولا تو بیٹے طارق ابرار کی مسکراتی تحیریر پر نظر پڑی ،
خوش آمدید عالمی اخبار کی محفل ادب میں شمولیت اور مبارکباد کہ تم نے لکھنے کا ارا دہ کیا اور اللہ کریم نے تمھارا قلم رواں کیا ،،بیٹا دنیا کا ہر فن اس کے فنکار سے خون جگر مانگتا ہے ،،تب جاکر اسے اپنی محنت کا کچھ ثمر ملنا شروع ہوتا ہے اور جب وہ اپنے آپ کو دنیا کے تمام کاموں میں موجود رہتے ہوئے اپنے فن کے لئے اپنا آپ وقف کرتا ہے تب شہرت دوام اس کا مقدّر بن جاتی ہے ،پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ،کہانیاں اپنے اطراف میں تلاش کرو گے تو تفکّر کے زریعے لکھنے کی راہیں ملیں گی ،کسی وقت صرف آسمان اور اس میں موجود اجرام فلکی پر غور کرو
کسی وقت صرف سمندراور اس کے اوپر آبی حیات اور درون آب مخلوقات پر غور کرو ،،،اور زندگی کے ہر پہلو میں خیر کا پہلو تلاش کرتے رہو،،مضامین قلب پر اترنے لگیں گے انشاللہ ،ہم سب ساتھی تمھاری ہمّت اور حوصلہ بڑھانے کو بیٹھے ملیں گے ،جبکہ نگہت نسیم تو ہیں ہی آپ کی پہلی راہبر
اور تمھاری تحریر نے دل باغ باغ کر دیا کہ تم نے اپنے والدین کی خدمات کو کتنے بہترین لفظوں کا خراج پیش کیا ہے ،
جیتے رہو ،سلامت رہو ،اور اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
دعاگو
زائرہ بجّو مسسی سا گا کینیڈا
خوش آمدید بھاءی طارق۔
اسلام علیکم
بہت اچھی تحریر ہے بھائی طارق
لکھتے رہئے اللہ اآپ کو کامیابی عطا فرمائے آمین .
آپا عالم آرا
اسلام علیکم بہن زائرہ عابدی
اسلام علیکم محترم المقام محترمہ سیدہ زائرہ عابدی صاحب ۔۔۔
میرے پاس آپ کاشکریہ اداکرنے کےلئے الفاظ کی کمی ہے ۔پھربھی دِل کی عمیق گہرائیوں سے بہت بہت شکریہ اداکرتاہوں اوردُعاگوہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ پرہمیشہ سلامتی برقراررکھے۔میں اکثروبیشتربلاگ پڑھتاہوں ۔مگرناقص علم کے سبب بلاگ پرتبصرے کرنے سے گریزکرتاہوں۔عالمی اخبارعلم کابہت بڑاخزانہ ہے خاص طورپراُردوکالم،ادب اوربلاگ۔مجھے عالمی اخبارکے کالم نویسیو ں کی تحریربہت اچھی لگتی ہیں۔بلا گ بھی علم میں بے انتہااضافہ کرتے ہیں۔ادب پڑھ کرادب سے لگاﺅبھی بڑھتاہے۔ عابدی صاحبہ آپ نے بجافرمایاکہ ہرفن اس کے فنکارسے خون ِجگرمانگتاہے ۔میںاس بات سے متفق ہوں۔انشاءاللہ ۔عالمی اخبارکی نگرانی میں قلمی جہادکرنے کی کوشش کروں گا۔یہ کالم مجھے لکھنے کی کافی برسوں سے تمناتھی اورجوخیالات تحریرکیے ہیں و ہ دِل میں رکھ کربوجھ محسوس کرتاتھا۔یایوں کہوں کہ یہ کالم میرے اُوپرفرض بھی تھااورقرض بھی ۔یہ کالم لکھ کرمیراقرض اورفرض پورانہیں ہوا۔لیکن دِل کابوجھ ہلکاضرورہواہے۔ والدین کوخراج عقیدت پیش کرنے کے بعدخوشی محسوس کررہاہوں ۔جموں وکشمیرکے موقرروزنامہ میں کالم شائع ہوا،کافی لوگوں نے فون کال کرکے مبارکباددی اوراس کالم کواپنی ہی کہانی تصورکیا۔اس حوصلہ افزائی کے بعدمیں نے اب فیصلہ لیاہے کہ متواترکالم لکھاکروں گااوروہ بھی عالمی اخبارکی نائب مدیرہ یعنی پیاری آپاڈاکٹرنگہت آپا،باباصفدرصاحب کی زیرنگرانی میں اپنی علمی تربیت کروں گا۔میں سوچ رہاتھاکہ میراکالم نہ جانے قارئین کوکیسالگے گا۔مگرآپ نے حوصلہ بڑھایا۔اس کے لئے بہت بہت شکریہ۔آپ کے مشورے سرآنکھوں پر۔ ۔کالم کی کیپشن لکھنے میں کافی غلطیاں ہوئی ہیں۔اس کے لیے معذرت ۔میںبہت ڈرااورسہماہواتھاکہ نگہت آپاپتہ نہیں کیاکہیں گی ۔اس طرح سے بلاگ میں کالم کیوں چسپاں کیا۔آپ نے حوصلہ بڑھایا۔اُمیدہے نگہت آپابھی اگرمجھ سے گستاخی ہوئی ہے تومجھے معاف فرمائیں گی۔دُعاﺅں میں یادرکھیے۔آپ کاعزیز۔طارق ابرارچودھری۔۔۔
آپاشمش جیلانی صاحبہ آپ نے خوش آمدیداس کےلئے بہت بہت شکریہ ۔اللہ تعالیٰ آپ پرہمیشہ سلامتی کی بارش برسائے۔آمین۔ثمہ آمین۔
طارق صاحب بہت بہت شکریہ آپنے مجھے آپا بنا کر میرا بہت مان بڑھایا ہے. آپکی آپا شمس جیلانی
عزیزی طارق نہایت باریک تحریر ہے قطعی نہیں پڑھ سکتا
وہ بھی اِک دورتھایہ بھی اِک دورہے
طارق ابرارچودھری
بچپن ہرانسان کی زندگی کابہت ہی خوشگوارپڑاﺅہوتاہے کیونکہ بچپن میں انسان کونہ ہی یہ شعورہوتاہے کہ زندگی کیاچیز ہے، ہم کیوں اس دُنیامیں آئے ہیں ۔اورنہ ہی اسے اس چیزکی فکرہوتی ہے کہ اس نے آئندہ زندگی میں کیامقصدلیکرآگے بڑھناہے، نہ روزگارکی فکر ہوتی ہے اورنہ ہی یہ خبر ہوتی ہے کہ اس کی زندگی کیسے کیسے مرحلوں سے ہوکرگزرے گی ۔یہ وہی دورہوتاہے جب دُنیاکے تمام والدین اپنے بچوں کی شرارتوں اورمستیوں سے مسرورہورہے ہوتے ہیں۔کبھی کبھی والدین بچوں کی شرارتوں پہ وقتی طوربرُا بھی منالیتے ہیں اورکئی مرتبہ توغصے میں آکرمعمولی پٹائی بھی کربیٹھتے ہیںجس پربچے اپنے والدین سے ناراض ہوکرروٹھ جاتے ہیں ۔والدین کواپنے بچوں کاان سے روٹھناایک پل بھی نہیں بھاتااوروہ دوسری ہی آن اسے اتنالاڈپیارکرتے ہیں کہ بچے بھی چندہی لمحوں میں سب کچھ بھلادیتے ہیں۔اکثروبیشتریہ بات کہی جاتی ہے کہ بچے اگرشرارت نہیں کریں گے توانہیں بچہ کون کہے گا۔بعض دفعہ تووالدین بچوں کومنانے کےلئے ٹافیاں بازارسے منگواکردیتے ہیں یاپھروالدکواپنے کندھوں پہ سواری کراکربچوں کوخوش کرناپڑتاہے۔والدین اوربچوں کاآپس میں جوپیاراورلگاﺅہوتاہے وہ اپنے آ پ میں انوکھااورجاوداں ہوتاہے۔ہرشخص جب اپنے ماضی کوٹٹولتاہے تووہ بچپن کوہی اپنے ہی خوشگوارتصورکرتاہے ، وہ اپنے بچپن میں لوٹ جانے کی تمناکرتاہے مگرایساانسان صرف خیالی طورپرہی کرکے چندلمحوں کےلئے سکون وفرحت حاصل کرسکتاہے ۔بچپن کی اصطلاح اگرکی جائے تومیرے نزدیک یہی ہے کہ شرارتوں ،مستیوں اوردُنیاسے بے خبری کادورہی کسی بھی شخص کا بچپن کہلاتاہے۔ہرشخص کے بچپن میں ہی اس کے والدین اپنی آنکھوں میں اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے سپنے بننے شروع کردیتے ہیں ،اورانہیں شرمندہ تعبیرکرنے کےلئے عملی کام کرناشروع کردیتے ہیں۔دُنیاکے تمام والدین اپنے بچوں کواپنی آنکھوں کے سامنے بلندمقام پرپہنچتے ہوئے دیکھناچاہتے ہیں ۔اس خواہش کوحقیقت کاجامہ پہنانے کےلئے والدین اپنی اولادکی خاطردِن رات ایک کردیتے ہیں۔بچوں کی خوشیاں ہی والدین کےلئے سب سے بڑی راحت کاسامان فراہم کرتی ہیں۔ایک طرف جہاں والدین کواپنے بچوں کے مستقبل کی فکرہوتی ہے وہیں دوسری طرف بچوں کے علم میں یہ نہیں ہوتاکہ اس کے والدین اتنی مشقت کیوں کررہے ہیں۔جوں جوں بچہ علم وشعورکی منزلوں کی جانب بڑھتاہے توں توں اس کابچپن کم ہوتاچلاجاتاہے ۔ دُنیاکے تمام بچوں کی طرح میرابچپن بھی ایسے ہی گزرا۔
میرابچپن غالباًگیارہ۔بارہ سال کی عمرتک ہی محدودرہااور تعلیم کی ابتدائی پانچ جماعتیں ہی میں نے اپنے گاﺅں دھنوں کے پرائمری سکول میں جاکرپڑھیں۔میرے والدصاحب بہت ہی محنتی شخص ہیں ۔اُنہوں نے غربت کوبرداشت کیا،مصیبتیں جھیلیں، لوگوں سے وردی،کتابوں ،جوتوں،پنسل اورقلم جیسی بنیادی چیزوں کےلئے اُدھار،قرض بیاض پرمانگ کرمیری تعلیم کوجاری رکھا،پیٹ پرپتھرباندھے ،بھوک سہی مگرکبھی اپنے بچوں کوتعلیم کے نورسے منورہونے میں پریشانیاں نہ آنے دیں۔ والدہ محترمہ نے بھی ہمت اوربہادری کامظاہرہ کیااوروالدصاحب کابھرپورساتھ دیتے ہوئے اُن کی ہمت اورحوصلے میں اضافہ ہی کیا۔گیارہ برس کی عمرتک نابالغ ذہن نے غربت کوقریبی سے دیکھااورمحسوس کیا۔غربت سے نجات کی راہ مجھے کم سنی کی عمرمیں تعلیم ہی نظرآئی ۔والدین اکثرکہتے تھے کہ اگرآپ پڑھوگے توکل کوآپ بھی ایک اچھے انسان بن جاﺅگے اورامیرہوجاﺅگے اورہماری دُعاﺅں کے نتیجے میں بلندیوں کوچھوجاﺅگے۔میں شروع سے ہی سنجیدہ رہاہوں اوراب تک ہوں۔والدین کے اقوال زریں پردماغ پرزوردے کر سوچاکرتاتھا۔میری خوش نصیبی ہی تھی کہ ابتدائی تعلیم کے دوران ہی اچھے استاد(ماسٹرگلزاراورماسٹرشمیم احمد)بھی نصیب ہوئے جن کی سخت محنت کی وجہ سے دِل اوردِماغ کی طرف مائل ہوااورپڑھائی میں خوب جی لگنے لگا، اورتعلیم کے تئیں جوش وشوق بھی آہستہ آہستہ بڑھتاہی چلاگیا۔پانچویں جماعت پاس کرتے ہی غربت کے خاتمہ اوراعلیٰ تعلیم کے حصول کے خوابوں کوآنکھوں میں سجاکرپسماندہ طبقہ کےلئے سرکارکی جانب سے قائم کردہ ہوسٹل میں داخلہ کی خاطرانٹرنس ٹیسٹ میں حصہ لینے کےلئے جموں شہرکی راہ لی ۔انٹرنس ٹیسٹ میں والدین کی دُعاﺅں کی بدولت کامیابی نصیب ہوئی اوربالآخرمیراداخلہ 1999گوجرہوسٹل جموں میں ہوگیااورمیری شہری زندگی کی ابتداہوگئی۔واضح کرتاچلوں کہ میراآبائی گھرشہرجموں جوکہ ریاست جموں وکشمیرکاسرمائی دارالخلافہ ہے سے تقریباً50 کلومیٹرکی دوری پربلاک بھلوال کے ایک دوردرازگاﺅں ”دھنوں “میں واقع ہے۔اب میری عمر26 سال ہوگئی ہے جس سے صا ف ظاہرہوتاہے کہ میری شہری زندگی کی عمر15سال ہوچکی ہے۔میں نے ان پندرہ برسوں کی شہری زندگی کی وجہ سے بہت کچھ سیکھاہے ۔2006 میں میرا ہوسٹل کاتعلیمی سفرختم ہوا،اس کے بعدسے کمپیوٹرکاڈپلومہ کیا،ایک دوسال کالج میں مالی پریشانیوں کے سبب داخلہ ہی نہ لیامگرہمت نہ ہاری ،مالی حالت بہترہوتے ہی اعلیٰ تعلیم کی اگلی منزلوں کی طرف قدم بڑھائے ۔ساتھ ہی روزگارکی تلاش میں دِن رات ایک کیا،شارٹ ہینڈ،ٹائپنگ اورکمپیوٹرکی تعلیم سیکھنے کاسبب میری غربت اورمالی پریشانیاں ہی تھیں۔بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ غربت ہماری راہ میں رکاوٹ ہے مگرمیں کہتاہوں کہ اللہ تعالیٰ پہ توکل رکھاجائے توغربت ہی کواللہ تعالیٰ مشکلات کے ازالہ کاذریعہ بنادیتاہے۔آج میں سمجھتاہوں کہ اگرغربت اورپریشانیاں میری راہ میں نہ آتیں تومجھے اتناشعوراورسمجھ نہ ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے شعورسے نوازاہے جس کےلئے اس ذات باری تعالیٰ کاجتنابھی شکراداکیاجائے وہ کم ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے انسان کےلئے طرح طرح کی نعمتیں وقف کی ہیں ۔غربت دیکرانسان اپنے بندوں کاامتحان لیتاہے ۔میرے والدین نے غربت اورمشکل حالات میں صبروشکرکادامن نہ چھوڑا،اوراللہ تعالیٰ پریقین کامل رکھا۔ میں نے بھی والدین کے صبروتحمل کودیکھتے ہوئے دِل پہ پتھررکھتے ہوئے ان سے دوری اختیارکی ۔پندرہ برسوں پرمحیط میری شہری زندگی کے دوران زیادہ سے زیادہ 2 یا3 سال ہی کاوقت ہوگا(جوکہ چھٹیاں میں نے گھرمیں گذاری ہوں گی )جو اپنے گھرمیں والدین کیساتھ گذارہ ہے۔دیگر۲۱سال میں نے والدین سے دوری اختیارکیے رکھی اوراب بھی پیشہ وارانہ مصروفیات کے سبب دورہی رہتاہوں مگرمیرے والدین میرے دِل کے بہت قریب بستے ہیں ۔وہ میرے لیے سب کچھ ہیں۔وہ ہیں تومیری دُنیاآبادہے ۔ اُن کے دم سے ہی میری زندگی روشن ہے ،گھرکی مالی پریشانیوں کودورکرنے کےلئے ،میںاپنے بہن بھائیوں کے تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کےلئے ،والدین کی آنکھوں میں خوشیوں کی روشنی جگانے کےلئے ۔بے شک شہری زندگی میں مجھے والدین کی یادتوشدت سے ستاتی رہی ،ستاتی ہے ،ساتھ ہی اپنے گھراوراپنے گاﺅں کی یادنے بھی سخت تڑپایا،مگراپنے مشن پرگامزن رہ کربرداشت کیااورصبروشکرکادامن تھامے رکھا۔آج بھی کئی مرتبہ والدین کہتے ہیں کہ اتوارکوگھرآجاﺅمگرموقرروزنامہ اُڑان میں بطورسب ایڈیٹراہم ذمہ داریاں نبھانے کی سبب بعض دفعہ والدین کے کہنے کے باوجود وقت پرگھرنہیں جاپاتاہوں ۔میرے والدین میری پریشانی سمجھتے ہیں اورفخرکرتے ہیں کہ ان کابیٹااچھاکام کررہاہے ۔جب گھرجاتاہوں توبڑی شاہانہ خاطرتواضع کرتے ہیں۔ دودھ ۔دہی ۔لسی اوردیگرچیزیں مجھے زبردستی کھلائی جاتی ہیں۔میرے والدصاحب کبھی مجھے گھرکاکام کرنے کونہیں کہتے ۔اکثرچھوٹے بھائی والدین سے گلہ کرتے ہیں آپ بڑے بھائی کوکوئی کام نہیں بتاتے اوروہ فارغ رہتے ہیں۔والدین کامیرے تئیں لگاﺅاورپیارانوکھاہے جومیرے لیے اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ نعمت ہی ہے۔اورمیرے ذہن میں سوال اُبھرتاہے کہ کون ہے دُنیامیںجومجھے میرے والدین سے زیادہ پیارکرے؟، دُعائیں دے ۔اللہ تعالیٰ سے گڑگڑاکردُعائیں مانگے ۔اکثروالدین میری اوردیگربہن بھائیوں کی کامیابی وکامرانی کےلئے اللہ تعالیٰ کے حضورسربسجودہوکر دُعائیں مانگتے ہیں ۔میں کئی مرتبہ نمازادانہیں کرپاتاہوں مگروالدین کی دعاﺅں کی بدولت ہرجگہ عزت ہی ملتی ہے ۔کئی بارتومیں چھوٹی سی عمرمیں اعلیٰ پایہ کی شخصیات سے دادملنے پرگبھراجاتاہوں اورسوچتاہوں کہ کیامیں ہی دُنیامیں اتناخوش نصیب تونہیں ہوں۔میرے نانوں جان اورنانی صاحبہ بھی میرے لیے بہت دُعائیں کرتے ہیں۔میں سمجھتاہوں کہ میرے والدین اوربزرگوں کی دُعائیں ہی ہیں جومجھ ناچیزکوہرجگہ کامیاب وکامران کرتی ہیں ورنہ میرے اتنے اچھے اعمال نہیں کہ ہرجاسے عزت ہی نصیب ہو۔اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سربسجودہوکروالدین نے میری عافیت اورسربلندی کےلئے جودُعائیں مانگیں ہیں اورمیرے لیے جومشقتیں جھیلی ہیں ان کاکوئی نعم البدل نہیں ۔اورنہ میں اپنے والدین اوربزرگوں کاکبھی شکراداکرسکتاہوں۔مجھے فخرہوتاہے اپنے والدین پرجومشکل وقت میں میری ہمت بنے رہے ۔ مجھے یقین ہے کہ دُنیامیںمیرے والدین سے بڑھ کراپنی اولادکوپیارکرنے والے والدین بہت کم ہی ہوں گے۔دُنیامیں اگرمیراکوئی رول ماڈل اورمشعل راہ ہے تووہ میرے والدین ہیں ۔مجھے اپنے والدین پرنازہے جن کی سخت محنت اورجفاکشی نے مجھے غلط راستوں سے ہمیشہ دوری اختیارکرنے پرمجبورکیا۔آج سوچتاہوں کہ اگرمیراگھرکچانہ ہوتا، میں غریب اورمزدوروالد کابیٹانہ ہوتاتومیں کیاہوتا، شایدگمراہ راستوں پہ چل رہاہوتا۔میرے والدین پراللہ تعالیٰ کااحسان عظیم ہے اس نے ان کی اولاد کوراہ راست پرگامزن رکھاہواہے ۔اب میں اورمیراچھوٹابھائی گھرکی مالی حالت کوبہتربنانے کےلئے کام کررہے ہیں ۔میراچھوٹابھائی عارف بھی ایک اخبارمیں کام کررہاہے ۔اورغربت کے خاتمہ کے مشن پہ میرے ساتھ شانہ بشانہ اورقدم سے قدم ملاکرچل رہاہے۔وہ میراسہاراہے وہ میرے جسم کااہم حصہ ہے ،میرے جگرکاٹکڑاہے۔میں اپنے والدین اوربہن بھائیوں کی خوشی میں ہی اپنی خوشی تصورکرتاہوں۔ میرے والدین کی بہت سے عادتیں مجھ میں شعوری یالاشعوری طورپرمنتقل ہوگئی ہیں۔والدین اگرمیرے بھائی بہن بے چین ہوں تومجھے بھی سکون نہیں ہوتا۔بالکل اسی طرح وہ جذبہ اوراحساس جومیں نے اپنے والدین میںمحسوس کیا، اگرمجھے کوئی پریشانی ہوتی تھی وہ پریشان ہوجاتے تھے۔میرے والدنے زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا، ان کواگرکہابھی جائے کہ ،ایسانہیں ،ایساکہنا، وہ پھربھی سچ ہی کہہ دیتے ہیں،ان کی زبان ہمیشہ سچ ہی بولتے ہے۔زندگی بھرسچائی کاوالدصاحب نے ساتھ دیا،چاہے اس کاانہوں نے نقصان ہی کیوں نہ بھگتناپڑاہو۔مجھے آج محسوس ہوتاہے کہ میرے والدصاحب اگرسچے ،ایمانداراورمحنت کش نہ ہوتے تومجھے کہیں سے بھی وہ درس نہ مل پاتاجومیں نے اپنے والدصاحب اوروالدہ محترمہ سے سیکھاہے۔ میرے والدین کی ایک ایک بات میرے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔میری بھی کوشش رہتی ہے کہ ہرپل والدین کی خوشی کاساما ن پیداکروں ۔ آج میںاپنے دونوں ماموں صاحبان جناب مشتاق احمدصاحب اورمحمدصادق ،چاچاغلام مصطفےٰ صاحب کے علاوہ اُن تمام لوگوں بالخصوص اپنے گاﺅں والوں کاجنھوں نے میرے والدکوادھاردیکرمیرے والدکی مددفرمائی کاشکریہ اداکرتاہوں ۔میں اپنے گاﺅں والوںاوردیگرلوگوں کامقروض ہوںجنھوں نے میرے والدین اورمیری مددفرمائی ۔میری ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ کسی سے بلندآوازیاتلخ لہجہ میں بات نہ کروں کیونکہ نہ جانے کب کسی نے میرے والدپراحسان کیاہو۔پھربھی اگرکسی شخص کی دل آزاری جانے انجانے میں ہوئی ہوتواس سے معافی کاطلبگارہوں۔
میراصحافتی سفرروزنامہ تسکین سے سال 2007 میں شروع ہوا،مگرباقاعدہ صحافت میں میرے قدم 2010 میں ہی پڑے ،جب روزنامہ اُڑان کے مدیراعلیٰ ،ایدیٹراورمنیجنگ ایڈیٹرنے مجھ ناچیزکی صلاحیتوں کوبھانپتے ہوئے اپنے اخبارمیں کام کرنے کےلئے منتخب کرلیا۔جان صاحب (ایڈیٹراُڑان)،تنویرصاحب (منیجنگ ایڈیٹر)اوراقبال شاہ صاحب (مدیراعلیٰ اُڑان ) کاشکرگذارہوں جنھوں نے میرے آگے بڑھنے کے راستے ہموارکیے اورمجھے صحافت کے پیشہ میں زورآزمائی کاموقعہ فراہم کیا۔اگرمجھے اُڑان کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کامظاہرہ کرنے کاموقعہ میسرنہ ملاہوتاتوشایدمیں آج گلیوں میں خوارہورہاہوتا۔یہ اللہ تعالیٰ کاہی احسان ہے جس نے اقبال صاحب، تنویرصاحب اورجان صاحب کی نظرکرم مجھ ناچیزکی طرف مائل کی اورانہوں نے مجھ پراحسان کیا۔مجھے تنویرصاحب ،جان صاحب اوربیتاب جے پوری کی حمایت اورشفقت کے سایہ میں اپنے چھ سالہ صحافتی سفرکے دوران اعلیٰ پایہ کے دانشوروں ، قلمکاروں ، شاعروں اورادیبوںکی صحبت میں بیٹھنے کاموقع میسراہوا،ان کی صحبت میں میرے اندرکاسویاہواقلمکاربھی جاگ اُٹھااوراس نے مجھے اپنے خیالات اورجذبات صفحہ¿ قرطاس پراُتارنے کی ترغیب دی ۔دانشوروں کی صحبت کانتیجہ ہے کہ آج اپنے والدین ،آبائی گھراورزندگی کی مختصرجھلکی پیش کرنے سے قلم کونہ روک سکا۔یادوسرے لفظوں میں یوں کہاجائے کہ
دانشوروں کی صحبت ِپیہم کافیض ہے
بیتاب ورنہ صاحب ادراک یوں نہ تھا
(بیتاب جے پوری)
اچھے بھائ طارق ابرار
تم نے اپنے بارے میں اتنی تفصیل سے تحریر کیا اور اچھا لگا کہ تم کو سبکی دعاوں ملتی ھیں اور خاص کر والدین کی دعا تو قسمت والوں کو ملتی ھیں ھم سبکی دعايئں بھی تمھارے ساتھہ ھیں
اتنا سنجیدہ بلاک تھا مگر تم نے اسکو مزاح میں بدل کر مجھے ھسنے پر نیہں قہقہے لگانے پر مجبور کردیا
اب میں اس سے زیادہ کیا کہوں تم نے بہت مفصل تحریر کیا ھے
تمھارا بھائ شاھین رضوی
سلامت رہو عزیز بھائی
باباصفدرصاحب۔معذرت چاہتاہوں ۔آپ کوپڑھنے میں دشواری ہوئی۔اب دوبارہ سے بلاگ میں ناقص سی تحریریونی کوڈمیں پیش کردی ہے۔اُمیدہے کہ آپ بھی اس تحریرکوضرورپڑھیں گے۔
آپاجی۔۔۔آپ نے دولفظ لکھے۔خوشی ہوئی۔آپ کی صحت ناسازہے اسلئے اُمیدکرتاہوں کہ آپ صحت یاب ہوکراس بلاگ میں کچھ نہ کچھ ضرورلکھیں گی ۔۔آپ کاعزیزبھائی۔طارق ابرارچودھری۔
شمس جیلانی صاحب آپ کامشکورہوں کہ آپ نے میری تحریرکوپڑھا۔۔اوربلاگ میں خوش آمدیدکہا۔
شاہین رضوی صاحب۔آپ نے ناقص سی تحریرپڑھیے۔شکریہ ۔آپ کواچھی لگی ۔یہ میری خوش قسمتی ۔اللہ تعالیٰ سے دُعاگوہوں کہ والدین کی دُعائیں ہمیشہ مجھے کامیابی وکامرانی عطافرمائیں اورمجھے والدین کی اطاعت کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ مجھے لگتاہے کہ یہ کالم لکھنامجھ پرفرض بھی تھااورقرض بھی۔فرض اورقرض اداتونہیں ہوسکتاہے مگرتھوڑاسابوجھ ہلکاہواہے۔آپ نے کہاکہ آپ کومیری تحریرپڑھ کرہنسی ہی نہیں آئی بلکہ آپ نے قہقہے لگائے۔شایدآپ نے بلاگ کی سرخی پڑھ کرقہقہ لگایاہوگاکیونکہ سرخی موزوں نہیں ہے۔ایسے ہی لکھ دی ہے ۔کیونکہ قلمکارکہلانابہت بڑااعزازہوتاہے ۔میری تحریرپڑھ کرآپ کولگاہوگاکہ ایسی ناقص تحریروالے بھی خودکوقلمکارکہلانے لگ پڑے ہیں ۔۔۔آپ وضاحت کردیجئے کہ آپ کوکیاچیزپڑھ کرقہقہے لگانے پڑے۔۔۔غلطیوں کی نشاندہی کردیجئے۔شکرگذاررہوں گا۔میں مانتاہوں کہ میں ابھی قلمکارکہلانے کامستحق نہیں ہوں۔لیکن ساتھ ہی مجھے یہ بھی یقین ہے کہ باباصفدرصاحب،ڈاکٹر نگہت آپا،سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ، شمس جیلانی صاحب،عالم آراصاحبہ اورشاہین رضوی صاحب جیسے قلمکاروں کی زیرسایہ تربیت پاﺅں گاتوضرورایک دِن قلمکاربن جاﺅں گا۔دُعاﺅں میں یادرکھیے گا۔اللہ تعالیٰ عالمی اخبارکے رفقاءکوہمیشہ ایک دُوسرے کےلئے دُعاﺅں کاذریعہ بنائے رکھے۔آمین۔
السّلام علیکم ساتھیوں دوستوں،بیٹوں بیٹیوں ،اوروعلیکم واسّلام بہن عالم آراء،
سب سے پہلے دیر سے آنے کی معذرت کہ میں خود مہمان گئ ہوئ تھی کئ دن کے بعد واپسی ہوئ تو لیپ ٹاپ حضور ناراض ہو کر کام کرنے سے انکاری تھے ،اللہ ،اللہ کر کے نواسے صاحب نے ٹھیک کر کے دیا تب ہی حاضر ہو سکی ہوں
اب میں طارق ابرار بیٹے کی تحریر پر آتی ہوں
خوبصورت عنوان( وہ بھی ایک دور تھا یہ بھی ایک دور ہے)
جی بیٹے انسان کی زندگی ان ادوار کے درمیان ہی تو بسر ہوتی ہے کبھی زندگی کے لق و دق صحرا میں ننگے پاؤں چلتے ہوئے چٹیل دھوپ کی تمازت روح کو جلاتی ہے تو کبھی دل سے ٹپکتے ہوئے آنسوؤں کو زمانے سے چھپانا ہوتا ہے لیکن تہلیل نفسی کے جاں سوز عمل سے انسان اللہ کے نام کا سہارا لے کر صبرو شکیبائ سے گزر جاتا ہے تو دھیرے دھیرے زندگی کے آسمان پر چاندنی رات کا احساس بھی جاگتا چلا جاتا ہے پھر زندگی کی ساری تمازتیں ہم بھول جاتے ہیں بس وہ ہماری یاد داشتوں میں ہی محفوظ رہ جاتی ہیں
طارق بیٹے ابھی چند روز پہلے میرے بیٹے نے شارجہ سے مجھے لکھا کہ وہ اپنے والد کا بہت بہت شکر گزار ہے کہ جن کی بدولت وہ آج اس مقام پر ہے ،ساتھ میں اس نے میری خدمات کا بھی فراخ دلانہ تذکرہ کیا ،
اپنے بیٹے کی تحریر کی روشنی میں میں نے اسے جواب میں لکھا کہ اگر وہ ایسے نا ہوتے تو آج ہم میں سے مجھ سمیت کوئ ایسا ناہوتا جو اللہ کے فضل وکرم کے طفیل اور تمھارے بابا کی محنتوں سے بن گئے ،اور میں تمھارے بابا کی خدمات کو چند لفظوں میں تحریر نہیں کر سکتی تھی اس لئے اپنی کتاب زندگی میں ایک پورا باب ان کے نام کیا ہے
تو بیٹا تم جمّوں کشمیر سے اپنے محترم ماں باپ کے بیٹے طارق ابرار کے نام سے ہو یا تمھاری طرح کا ایک اور لائق اور سعادت مند بیٹا شارجہ سے یا دنیا کے کسی بھی مقام سے اپنے والد کو اور اپنی ماؤ ں کو یوں خراج تحسین پیش کرے تو یہ والدین کے لئے بھی اور ان کی اولاد کے لئے بھی خوش نصیبی کی معراج ہے ،
اللہ کریم تم کواور ہر لائق بیٹے کو دین و دنیا کی سعادتوں سے ہمکنار کرے اور جس طرح آج وہ اپنے والدین کے لئے ماشاللہ ان کی حیات میں صدقہ ء جاریہ بن چکے ہیں تم سب کی اولاد تمھارے لئے صدقہء جاریہ کا سبب بن جائے آمین
دعاگو زائرہ بجّو
مسی ساگا کینیڈا
طارق ابرار اللہ نہ کرے کہ میں کسی کی تحریر پرھنسو یا کسی عنوان پر قہقہے لگاوں
تم نے اپنے ایک تبصرے میں برادر عزيز شمس بھائ کو آپا کہا تھا اس لیے اور مجھے بھی ابھی شاھین رضوی صاحب کہا ھے تو بس اس بات پر ھنسی آگی تھی باقی تم بہت اچھےلھکنے والے ھو
اور اللہ پاک تم کو خوب خدمت گذاری کا اجر عطا فرماۓ آمین
محترمہ سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی دیرنہیں ہوئی۔اس خوشگواراورموسم بہارکی محفل میں آپ کے دوبارہ آنے سے تویوں لگ رہاہے کہ پھرسے بہارآگئی ہے۔آپ کادِل کی عمیق گہرائیوں سے استقبال کرتاہوں۔آپ کے اظہارخیال کاایک ایک لفظ معتبرہے ۔اوربہت اچھالگ رہاہے ۔آپ نے بیش قیمتی باتیں سکھائی ہیں اس کےلئے بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت شکریہ۔یوں ہی آئندہ بھی حوصلہ افزائی کی توقع رہے گی۔
کتناخوبصورت جملہ ہے اس کوباربارپڑھنے کادِل کرتاہے۔
” دنیا کے کسی بھی مقام سے اپنے والد کو اور اپنی ماو¿ ں کو یوں خراج تحسین پیش کرے تو یہ والدین کے لئے بھی اور ان کی اولاد کے لئے بھی خوش نصیبی کی معراج ہے “
بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت شکریہ محترمہ سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ۔۔۔۔
آپا شاہین رضوی صاحبہ ۔۔۔
میں نے غلط سمجھا۔۔اس کے لے معذرت خواہ ہوں۔۔
میں اپنے ہی عذرکی نشاندہی نہ کرسکا۔۔یہ میری کم عقلی ہے۔۔۔میں نے آپ پرہی غلط الزام سالگادیاتھاشائد۔۔اس کے لیے معذرت۔۔
میں نے توغلطی کی ہی تھی مگرمحترم المقام جناب شمس جیلانی نے بھی خودکومیری آپاہی کہاہے ۔آپ درج بالاجیلانی صاحب کاکمنٹ دیکھیں۔۔۔اس کامطلب ہے کہ ان سے بھی غلطی ہوئی۔۔تحریرمیں غلطیاں رہ جاتی ہیں۔۔۔آپ کاہنسناجائزتھا۔۔آپ کوبھی میں نے صاحبہ کی جگہ صاحب ہی لکھا۔۔ہوجاتی ہیں اکثرغلطیاں۔آخرانسان ہیں ہم سب۔۔
میں جانتاہوں کہ آپ کسی کی تحریرپرہنس نہیں سکتی۔۔میں ہی غلط فہمی کاشکارہوا۔اس کےلئے پھرسے معذرت۔۔آپ نے تحریرکواچھاقراردے کرحوصلہ افزائی کی۔اس کےلئے بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آئندہ بھی حوصلہ افزائی کاطلبگاررہو ں گا۔۔دُعاﺅں میں یادرکھئے۔آپ کاچھوٹابھائی۔۔طارق ابرارچودھری۔
ویسے ایک بات بتاﺅں۔آپ کاوصی شاہ کیساتھ مکالمہ پڑھا۔بہت اچھالگا۔۔۔سوچ رہاتھاکہ اسے اپنے اخبار”اُڑان “ میں بھی شائع کروں۔۔لیکن اجازت درکارتھی۔۔۔اب اجازت دینایانہ دیناآپ کے ہاتھ ہے۔۔۔۔ویسے وصی شاہ میرے پسندیدہ شاعراورادیبوں میں سے ایک ہیں۔۔۔
اسّلام علیکم، محترم ساتھیوں ،بیٹوں بیٹیوں ،
طارق ابرار ویسے تو میری عمرآپ کی امّی بھی نہیں بلکہ نانی جان یا دادی جان جتنی ہے لیکن میں اپنے احباب کے حلقے میں اورتمام خا ندان میں بجّو کے نام سے مشہور ہوکر جگ بجّو بن گئ اس لئے آپ مجھے پورے نام کے بجاءے صرف زائرہ بجّو کہئے گا تو زحمت سے بچ جائے گا ،
میں بھی آ پ کو دل کی گہرائ سے خوش آمدید کہتی ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ کریم آپ کو دین اور دنیا کی بے مثال نعمتوں سے مالا مال کر دے آمین ،اس کے ساتھ ایک نصیحت یہ ہے کہ دنیا کا کوئ کام ہو نماز نہیں چھٹنی چاہئے بے شک قضا پڑھئے لیکن چھوڑنی نہیں ہئے
یہ بھی بتا دوں کہ اولاد کی ہر ہر نماز میں والدین بھی حصّے دار ہوتے ہیں ،،اللہ کریم آپ کی توفیقات میں دن دونی رات چوگنی ترقّی عطا کرے آمین
دعا گو زائرہ بجّو
یہ سچ ہے کہ میں جب عالمی اخبارکے خانوادے کے اراکین کی عمرکودیکھتاہوں تواپنی عمرکوبہت مختصرپاتاہوں۔بعض اراکین کی عمریں تومیری امی کی امی یعنی نانی یادادی کی ہیں ۔۔۔مجھے توسمجھ ہی نہیں آتی ہے کہ میں اپنے سے اتنی بڑی عمروالی شخصیات کوکس تعلق سے پکاروں۔۔۔میں عزت واحترام سے محترم المقام نام کیساتھ لکھتاہوں۔اس اُمیدسے کہ شایددوسری طرف والی شخصیت جواب میںمیرے ساتھ تعلق کااظہارخودہی کردے۔۔جگ بجوصاحبہ ۔۔میں آپ کے بیٹے کی مانندہوں۔
آپ نے مجھے خوش آمدیدکہا۔۔اس کےلئے شکریہ۔۔۔نیک دُعاﺅں سے نوازا۔۔اس کےلئے بھی شکریہ۔۔نصیحت کی۔اس کے بھی شکریہ۔میں جانتاہوں ۔۔شکریہ کہنے سے محبتوں کاشکریہ ادانہیں ہوسکتا۔۔پھربھی اپنافر ض سمجھ کربہت بہت شکریہ اداکرتاہوں۔۔۔
میرے ے لائق بیٹے اللہ کریم تمھیں حضرت خضر علیہ السّلا م کی عمر کے صدقے میں صحت و تند رستی کے ساتھ لمبی عمرعطا فرمائے آمین تمھارے ماں باپ کا دل تم سے ٹھنڈا رہے اور تم کو اچھّی سی شریک زندگی عطا کرے ثمّہ آ مین ،
تم عالمی اخبارپر ایک بہترین علمی اضافہ ہو ،ہم سب یہاں ایک دوسرے سے بے لوث محبّت کے رشتے سے منسلک ہیں اور تمھارا سب سے بڑارشتہ ہم سے محبّت کی استواری ہے انشاللہ پھر حاضر ہوتی ہوں
آپ کی زائرہ بجّو
زائرہ بجوصاحبہ ۔آپ نے بیٹے کادرجہ عطافرمایا۔۔۔یہ میرے لیے اعزازسے کم نہیں۔اتنی دُعائیں عطاکیں۔جن کےلئے ہمیشہ مشکوروممنون رہوں گا۔میں سمجھتاہوں کہ دُعاﺅں کاشکریہ اداکرپاناکسی بھی شخص کےلئے ممکن ہی نہیں۔پھربھی شکریہ اداکرناایک اچھاعمل ہے ۔۔اوریقیناکرنابھی چاہیئے کیونکہ اچھے اعمال ہی ہمیں اچھی راہ پہ گامزن رکھنے میں معاون ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ اچھے اعمال کرنے کی توفیق عطافرمائے۔
آپ نے مجھے عالمی اخبارمیں علمی اضافہ قراردیا۔۔اس کےلئے بہت شکریہ۔۔یہ میرے لیے آپ کی طرف سے بہت بڑی حوصلہ افزائی ہے ۔۔۔بے شک عالمی اخبارکابلاگ ہم سب کےلئے ایک دوسرے سے بے لوث محبت وخلوص رشتواراستواررکھنے کابہت بڑاپلیٹ فارم ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب پرسلامتی فرمائے۔۔آمین۔