محرم کے آغاز پرمبارکبادوں کا جواز کیا ہے ؟

مجھے آج متعدد ای میلز آئی ہیں جس میں مجھے نئے اسلامی سال کے آغاز پر کئی مبارکبادیں بھیجی گئی ہیں ۔ میراوہی ایک پرانا رونا اور دکھ ہے جو آج آپ سب کے ساتھ بانٹناچاھتی ہوں کیونکہ اس ازیت دینے والوں میں ادیب ، صاحب فکرودانش ،وکیل ، ڈاکٹر اور انجنئرز بھی شامل ہیں ۔ میں جان بوجھ کر ایسے لاعلم لوگوں کو اس میں شامل نہیں کر رہی جنہیں اس موقع پر “مبارکباد“ دینے یا لینے سے کوئی غرض نہیں ہے ۔
دوستو یہ تو “غم کا مہینہ ہے“ اور غم بھی اس خانوادے کا جن کے زکر کے بغیر درود مکمل نہیں اور وہ درود جس کے بغیر نماز مکمل نہیں ۔ اس غم میں مبارکباد کیا معنی رکھتی ہے ۔ یہ تو سرا سر دل دکھانے والی بات ہے ۔۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ کیا صاحب فکر و شعور کو غم کے آداب بھی نہیں آتے ۔۔ کیا ان کواسلاف سے یہی تربیت ہے کہ جب پوری فضا سوگوار ہو اور غم حسین سے بوجھل ہو ۔۔ اس موقع پر چمکیلے بھڑکیلے مبارکبادکے اشعار والے کارڈ ایک دوسرے کو بھیجے جائیں ۔
ہمارے تو ہجری سال کا آغازاور اختتام دونوں قربانی پر ہوتا ہے ۔۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم آج سے صرف ایک دوسرے کومبارکباد کی بجائے دعائیں بھیجا کریں اورایک دوسرے کے جذبات کا احترام کیا کریں ۔۔
پاکستان جیسے ملک میں انگریزی سال کے شروع ہونے پر ہیپی نیویئر کی تقریبات کے خلاف تحریکیں چلتی ہے اور اسلامی جماعتیں ڈنڈے کے زور پر بھی ایسی تقریبات کو روکتی ہیں ۔ میں حیران ہوں کہ یہ اسلامی جماعتیں اس وقت کس سانپ کے غا رمیں روپوش ہیں جنہیں اس مہینے کی حرمت کی پامالی نظر نہیں آتی ۔

74 thoughts on “محرم کے آغاز پرمبارکبادوں کا جواز کیا ہے ؟”

  1. انگریزوں کے نئے سال کی مبارک باد ۔ ویلنٹائین ڈے ۔ مدر ڈے ۔ برتھ ڈے ۔ اور نہ جانے کون کون سے دنیا جہاں کے ہپی ڈے یہ سارے کے سارے بڑے زور شور سے میڈیا ہی کے تعارف کروائے ہوئے ہیں ۔
    عوام کی اکثریت جو کہ اخبار ، کمپیوٹر انٹر نیٹ جیسی سہولیات سے اب بھی محروم ہے اس سے لا علم بھی ہے ۔ ان میں سے اکثر ایسے بھی ہیں علم ہونے کے باوجود اسلامی تہوار کے علاوہ دوسرے غیر اسلامی تہواروں سے ایسے ہی بائیکاٹ کیا ہوا جیسے انگریز عید کے دن آُپ کو عید مبارک نہیں کہے گا ۔
    جب تک ہم اسلامی اور غیر اسلامی دن مہینے شمسی سال قمری سال اور تہواروں کا فرق اور اس کی اہمیت نہیں سمجھیں گیں ایسی غلطیاں کرتے ہی رہیں گے ۔

  2. موت کے سیلاب میں ہر خشک و تر بہہ جائے گا
    ہاں مگر نامِ حسین ابنِ علی رہ جائے گا۔۔۔جوش ملیح آبادی
    ڈاکٹر نگہت صاحبہ آپ نے جس دردناک موضوع کو چھیڑا ہے اور اس سے قبل نادیہ بی بی نے بھی اپنی تحریر میں اسکا ذکر کیا ہے تو میں خود بھی اس صورت حال پر گریاں کُناں ہوں۔ یقین کریں یہ بات میں پوری علمی دلالت کے ساتھ ایک طالب علم مسلمان کی حیثیت سے کہہ رہاہوں کہ یا تو دس محرم 61 ہجری کو امام حسین علیہ السلام کو شہید کر کے فوج یزیدی میں مبارکباد کا شور اٹھا تھا یا پھر اب سے کوئی دس پہلے سے ایک بار پھر نام نہاد مسلمانوں نے اس نجس اور مکروہ کام کو شروع کر رکھا ہے کہ وہ آغاز محرم پر خود اپنے ہی مسلم بہن بھائیوں کو باقاعدہ مبارکباد کے پیغام بھیجتے ہیں۔ اب تو چمکدار کارڈ بھی آ رہے ہیں اور موبائل پر پیغامات بھی۔ اللہ کے لیئے آیئے ہم سب مل کر اس مکروہ فعل کو روکیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کام میں کوئی مزدور،کوئی ان پڑھ یا غریب فقیر شامل نہیں،بلکہ یہ کام پڑھے لکھے اور خود کو صاحبان قلم اور صاحبان فکر کہنے والے لوگ کر رہے ہیں۔ وہ لوگ جنکو کمپیوٹر اور موبائل کی سہولت حاصل ہے۔
    کیا نئے سال کے آغاز پر مبارک دینا حکم قرآن یا حدیث ہے؟ ہم اس موقع پر دعا کیوں نہیں دے سکتے۔ ہم یہ کیوں نہیں کہتے کہ اسلامی سال کا آغاز اس درس کی یاد دہانی ہے کہ اپنے عہد کے یزید کو پہچانو یا پھر خود میں فکر حسینی پیدا کرؤ۔ حق کو حق کہنا سکیھو۔
    اور پھر یہ پیغامات مبارک بھیجنے والے اسقدر اخلاق کے حامل بھی نہیں کہ چلو لکم دینکم ولی دین کے مصداق آپ اپنے ذہن کے احباب کو بے شک یہ بھیجیں لیکن ایسے لوگوں کو تو نہ ارسال کریں جنکے عقائد آپ پر واضع ہیں۔
    کاش ہم یہ سوچتے کہ کیا ہم اپنے باپ دادا کی وفات یا برسی پر کسی کو مبارکباد کا ہیغام بھیجیں گے؟ہوسکتا ہے کہ ایسے لوگ اس بات پر مجھ جیسے پر بھی انتہا پسند یا رجعت پسند کا لیبل چسپاں کر دیں۔
    خدا کے لیئے اس مسلے پر سوچیئے اور مسالک کی قید سے باہر نکل کر اس پر لکھیئے۔

  3. میں اس بات کو ایک اور پیرائے میں بھی پیش کرنے کی جسارت کروں گا ہم مغربی ماحول میں رنگ گئے ہیں اور وہ سب کچھ کرنا جو یورپ و امریکا کرتا ہے فرض سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے انکی تقلید و نقالی نہیں کی تو ہم اس دنیا کا حصہ نہیں ہوں گے اب تو کچھ گھروں میں کرسمس ٹری بھی بننے لگے ہیں پوچھو تو کہتے ہیں کہ بچوں کے لئے بنا دیا ہے ان کے تمام دوستوںکے ہاں بنتا ہے اسکول میں ٹیچر جب سب سے کرسمس ٹری کا پوچھتیِ ہے تو ہمارا بچہ احساسِ کمتری کا شکار ہوتا ہے وہ سوچتا ہے کہ وہ اس کلاس کا حصہ نہیں ہے اور قران میں کہاں لکھا ہے یہ حرام ہے. کوئی ان سے پوچھے کہ کلاس میں تو ہر لڑکی کا بوائے فرینڈ بھی ہے کیا آپ چاہیں گے کہ آپ کی لڑکی کا بوائے فرینڈ بھی ہو ورنہ تو لڑکی اپنے آپ کو اس کلاس کا حصہ نہیں سمجھے گی تو وہ انتہائی چراغ پا ہوں گے ممکن ہے آپ کا گریبان بھی پکڑ لیں اور اب تو پاکستان میں بسنت پر بھی کئی کروڑ روپئے کئی جانیں اور لاکھوں بوتلیں درکار ہوتی ہیں یہ ہم نے ہندؤں کی نقالی کی. ماتھے پر ٹیکا بھی لگنے لگا ہے خیر موضوع طویل اور میدان خاردار ہے میں یہاں مبارکباد نہ دینے کی ایک اور توجیہ بھی پیش کروں گا کہ یہ سال ہجری ہے جو کہ ہجرت سے شروع ہوتا ہے اور ہجرت کیا کوئی خوشی کا موقع ہے. کہ نبی صلی اللہ و علیہ وسلم دشمن سے چھپ کر بھاگ رہے ہیں دشمن پیچھا کر رہا ہے آپ صلی غار میں چھپ رہے ہیں گھر والے کہیں ہیں آپ صلی کہیں ہیں. گھر سے بے گھر. اور ہم اس موقع پر لوگوں کو مبارکباد دے رہے ہیں کیا کہنے….
    اگر میں غلط کہہ رہا ہوں تو آپ اور اللہ میری اصلاح کرے آمین ثم آمین. آپ سب کی محبتوں کا امین…

  4. آویز نے درست کہا کہ
    ”جب تک ہم اسلامی اور غیر اسلامی دن مہینے شمسی سال قمری سال اور تہواروں کا فرق اور اس کی اہمیت نہیں سمجھیں گیں ایسی غلطیاں کرتے ہی رہیں گے“اس غلطی سے بچنے کیلئے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور اسلامی دنوں اور مہینوں کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا،یہ محرم الحرام کا مہینہ ہے جس کی اہمیت اور فضیلت کے بارے میں سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے ارشادات کتب حدیث میں موجود ہیں،یہ وہ ماہ ہے جس میں سید الشہدا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے عزیمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے میدان کربلا میں اپنی اور اپنے پیاروں کی جان دے کر قیامت تک کیلئے اپنے نانا جان کے دین کو زندہ کردیا،انہی شہدا کربلا کا غم امت اپنے اپنے انداز سے مناتی ہے اور ان کی یاد تازہ کرتی ہے،سوزو غم میں مبتلا امت کو مبارکباد دینا واقعی سمجھ سے بالا تر ہے،ہونا تو یہ چاہیے کہ مقصد شہادت کو سمجھ کر ظالم و جابر کے سامنے اعلائے کلمۃ الحق کو بلند کرنے کی جدوجہد کی جائے اور سیرت حسین کی پیروی کرتے ہوئے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کی جائے نا کہ غیروں کی تقلید میں بے راہ روی اور دین سے دوری کو فروغ دیا جائے۔
    ماتمی رت کا راج ہے ہر سو
    پھول مرجھاگئے ہیں سہروں کے
    اک تیرے غم کی روشنی کے سوا
    بجھ گئے سب چراغ چہروں کے

  5. نقش فریادی ہے کس کی شوخیء تحریر کا
    کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
    (غالب)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ برقی خط جناب شعیب صفدر ایڈو کیٹ نے عالمی اخبار http://www.aalmiakhbar.com کی طرف سے کن کن کو بھجوایا ۔، اس کی تفصیل یہاں دیکھ لیجئے۔:
    —– Original Message —–
    Sent: Saturday, December 19, 2009 3:45 AM
    Subject: Happy New Islamic Year

    اThe first month of the Islamic calendar.
    “ نوٹ: اس جگہ پر ایک “ چمکدار کارڈ “ ہے “

    By the Grace of Allah Subhanuhu Wa Ta’ala,
    May it be a blessed, happy and joyful new year for you all InshaAllah, bringing you prosperity, success and great health.

    (Aameen)
    – From
    Adv. Shoiab Safdar
    http://www.pensive-man.blogspot.com
    http://www.aalmiakhbar.com
    http://www.lrfpk.com
    http://www.pulaf.com
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    نوٹ :
    یہ بات ظاہر ہے کہ شعیب صفدر صاحب ایڈوکیٹ نے اپنا یہ برقی خط بھیجتے وقت عالمی اخبار http://www.aalmiakhbar.com کی پالیسی کی حساسیت کو پیش نظر نہیں رکھا ؟ :ایسا شعیب صفدر صاحب نے کیوں کیا ؟ اس گتھی کو وہی سلجھا سکتے ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    میرا خیال ہے کہ یہ بات کسی خاص منصوبے کےتحت کسی کی دلشکنی اور دل آزاری کے لیے نہیں کی گئی ۔ اس لیے اس کو فرقہ وارانہ رنگ نہ دیا جائے تو بہتر رہے گا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اللہ ہم سب کونیک توفیق دے ۔آمین
    فقط :
    خیر اندیش
    منظور قاضی از جرمنی

  6. امین ترمذی صاحب کی یہ منطق کہ اس دن رسول گھر سے بے گھر ہوئے یقیناً قابلِ تعریف ہے۔
    محرم میں اس رسول کا سارا گھر ختم کردیا گیا۔ یکم محرم یومِ شہادتِ حضرت عمر ابنِ خطاب بھی ہے۔ آپ کسی بھی مسلک سے ہوں یکم محرم پر رنگ لیاں کسی بھی مسلمان کو زیب نہیں دیتیں۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کھ پڑھے لکھے اوگ ایسا کررہے ہیں تو میں صرف یہ کہونگا کہ کربلا کی فوجِ یزید میں سات سو حافظِ قرآن بھی تھے۔

  7. بھائی جعفری صاحب اسلام علیکم
    آپ کا تبصرہ میری سمجھ میں نہیں آیا.. آیا میری تحریر قابلِ تعریف ہے جیسا آپ نے لکھا یا قابلِ اعتراض کیوں کہ جب آپ ” منطق”
    لکھتے ہیں تو اس کا مطلب اختلاف یا اعتراض ہوتا ہے میں اسے کیا سمجھوں. بہر حال آپ کی توجہ کا شکریہ.

  8. ترمذی صاحب

    سے میرا مطلب Logic ہے۔ آپ نے منطقی یعنی logical نکتہ نکالا ہے جو قابل تعریف ہے۔

    امام خمینی کی ایک کتاب Islamic Jurisprudence ہے جس میں اُن سے سوال پوچھا گیا کہ کیا اہلِ سنت کی جماعت میں انکے پچھے نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ انہوں نے امام جعفرصادق کے ایک tradition کو quote کیا اور وہ یوں تھا۔

    ٰٰٰٰ ٰٰٰ اہلِ سنت کے ساتھ پہلی صف میں کھڑے ہوکر نماز پڑھنا ایسا ہے جیسے خدا کے رسول کے پیچھے نماز پڑھیٰٰٰٰ ٰٰٰٰ۔

    جب میں نے ایک عالمِ دین سے اسکی تشریح پوچھی تو انکا جواب یہ تھا کہ

    جب کوئ غیر مسلم ایسی جماعت دیکھے گا جس میں ہاتھ باندھ کر اور ہاتھ چھوڑکر نماز پڑھنے والے ایک ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں تو اسکی سمجھ میں آجائے گا کہ مسلمان ایک متحد قوم ہے۔

    ترمذی صاحت اختلاف کی بات کرنا بہت آسان ہے۔ لیکن اتحاد کی بات کرنے کیلئے مواد کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپنے منطق کے ساتھ اتحاد کی بات کی ہے جو قابلِ تعریف ہے۔

  9. منظور قاضی صاحب مندرجہء ذیل تبصرہ ایک بلاگ میں کیا ہے جو ہمارے جو ہمارے جذبات کی مکمل ترجمانی کرتا ہے اور اس بلاگ سے مطابقت رکھتا ہے۔ اسلئے میں اسے یہاں چسپاں کررہا ہے۔

    ٰٰٰ ٰٰٰٰٰٰٰمیں کل دن سے ایک عجیب سی پریشانی میں مبتلا ہوں۔ مجھے کچھ لوگوں کے عجیب سے پیغامات موبائل فون پر موصول ہو رہے ہیں جیسے اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم مبارک ہو۔ محرم کی مبارک ہو، وغیرہ وغیرہ
    مجھے سمجھ نہیں آتا یہ کون لوگ ہیں۔ مجھے آج بھی اس ہندو ذاکر اہل بیت کی بات اپنے بڑوں کی زبانی یاد ہے کہ جسے لوگوں نے کہا کہ تم حسین سے اتنی محبت کرتے ہو تم مسلمان کیوں نہیں ہو جاتے تو اس نے درد بھری آواز سے کہا کہ تم پہلے یہ بتاؤ کہ قاتل حسین کون تھے۔ مجھے تو ایسا لگ رہا ہے کہ جو مبارکباد دے رہے ہیں یہ انہی قاتل حسین کے گروہ میں سے ہیں۔ یہاں تک کہ آج شام مجھے پنجاب کے ایک ایم پی اے کا مبارکباد کا پیغام آیا اور میں حیران ہو گئی کہ یہ تو سیاستدان ہے اسے تو کم از کم اس بات کا خیال ہونا چاہیے کہ مبارکباد کس موقع پر دینی چاہئے۔ معذرت چاہوں گی ان صاحبان سے جن کو میری بات سخت نا گوار گزر رہی ہے لیکن اگر ٹھنڈے دل سے سوچیں تو کیا مقتولین کو مبارکباد دینا بنتی ہے۔ٰٰٰ ٰٰٰٰٰٰٰ

  10. December 19, 2009 بوقت 10:09 pm
    تصحیح :
    تمام قارئین اورخاص طور پر ظفر جعفری صاحب کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ مندرجہ ذیل تحریر محترمہ نادیہ بتول بخاری صاحبہ کی ہے میری نہیں ۔ :

    “ میں کل دن سے ایک عجیب سی پریشانی میں مبتلا ہوں۔ مجھے کچھ لوگوں کے عجیب سے پیغامات موبائل فون پر موصول ہو رہے ہیں جیسے اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم مبارک ہو۔ محرم کی مبارک ہو، وغیرہ وغیرہ
    مجھے سمجھ نہیں آتا یہ کون لوگ ہیں۔ مجھے آج بھی اس ہندو ذاکر اہل بیت کی بات اپنے بڑوں کی زبانی یاد ہے کہ جسے لوگوں نے کہا کہتم حسین سے اتنی محبت کرتے ہو تم مسلمان کیوں نہیں ہو جاتے تو اس نے درد بھری آواز سے کہا کہ تم پہلے یہ بتاؤ کہ قاتل حسین کون تھے۔ مجھے تو ایسا لگ رہا ہے کہ جو مبارکباد دے رہے ہیں یہ انہی قاتل حسین کے گروہ میں سے ہیں۔ یہاں تک کہ آج شام مجھے پنجاب کے ایک ایم پی اے کا مبارکباد کا پیغام آیا اور میں حیران ہو گئی کہ یہ تو سیاستدان ہے اسے تو کم از کم اس بات کا خیال ہونا چاہیے کہ مبارکباد کس موقع پر دینی چاہئے۔ معذرت چاہوں گی ان صاحبان سے جن کو میری بات سخت نا گوار گزر رہی ہے لیکن اگر ٹھنڈے دل سے سوچیں تو کیا مقتولین کو مبارکباد دینا بنتی ہے۔“
    ۔۔۔۔۔۔
    یہ بھی کہتا چلوں کہ میں اس موضوع پر نادیہ علی بتول بخاری صاحبہ کا ہم خیال ہوں ۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  11. برادر بزرگ منظور قاضی صاحب.یہ عرض کرنے کی جسارت کر رہاہوں کہ شاید آپ غلط سمجھے ہیں کہ ظفر جعفری صاحب نے کہیں بھی یہ کہا ہے کہ یہ اقتباس آپ کے تبصرے کا ہے.بلکہ انہوں نے جو لکھا ہے وہ اس طرح ہے.”منظور قاضی صاحب مندرجہء ذیل تبصرہ ایک بلاگ میں کیا ہے جو ہمارے جو ہمارے جذبات کی مکمل ترجمانی کرتا ہے ”. انہوں نے یہ نہیں لکھا کہ ”منظور قاضی صاحب” نے”مندرجہء ذیل تبصرہ ایک بلاگ میں کیا ہے . اگر وہ اپنے فقرے کو اس طرح لکھ دیتے کہ ”منظور قاضی صاحب مندرجہء ذیل تبصرہ ایک بلاگ میں کیا”گیا” ہے”…. تو کوئی ابہام پیدا نہ ہوتا . یہ بات میں نے اس لیئے لکھی ہے کہ آپ احباب کے درمیان بلاوجہ کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو.

  12. جناب صفدرھمدانی صاحب کا کہنا درست ہے ۔
    “ ابہام “ کی وجہ ظفر جعفری صاحب کے تبصرے میں لفظ “ گیا “ کا نہ ہونا ہے۔
    میں اپنے اوپر کے تبصرے میں کہ چکا ہوں کہ:
    “ یہ بھی کہتا چلوں کہ میں اس موضوع پر نادیہ علی بتول بخاری صاحبہ کا ہم خیال ہوں ۔“
    ۔۔۔۔۔
    ایک بار پھر کہتا چلوں کہ نادیہ بتول بخاری صاحبہ کے ارشادات نہ صرف ظفر جعفری صاحب کے بلکہ “ ہمارے جذبات کی بھی مکمل ترجمانی کرتے ہیں “ ۔
    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی

  13. ۔ اسلام کی غربت کا یہی المیہ ہے کہ آج چودہ سو سال بعد بھی ہم امام حسین ؑ کی مظلومیت کو ثابت کرنے کی سعی میں مصروف ہیں اور دل ہائے مقفل ہیں کہ کوئی دستک وہاں کام ہی نہیں کرتی۔ آپ کے مضمون نے نے مجھے بنو امیہ کی ایجاد کردہ وہ دعائیں یاد کرادیں جن میں روز عاشورہ کو متبرک کہا گیا ہے اور سادہ دل عوام عوام کو یہ کہ کر بہکایا کہ اسی روز کشتی نوح ؑ کو گرداب سے نجات ملی اور اسی روز آدم ؑ کی دعا قبول ہوئی۔ حالاں یہ سب جھوٹ کا پلندہ ہے جسکی پشت پر سچی تو کیا،ایک جعلی حدیث بھی موجود نہیں ہے۔

  14. عزت پناہ قاضی صاحب۔
    آپ کی تحریر میں شامل ایمیل پتے اس نا چیز نے ہٹا دئیے ہیں تا کہ اکنار عالم سے آنے والے لوگ یہاں سے پتے لے لے کر لوگوں کو خواہ مخواہ پریشان نہ کریں۔ پرائیوسی پالیسی کے سبب یہ ناگزیر تھا، اور مجھے امید ہے کہ آپ حسب دستور زیر التفات، میری اس جراٗت کو معاف کر دیں گے۔
    مجھے آپ کی بات سے اتفاق ہے کہ اس معاملہ کو فرقہ واریت کا رنگ نہیں دینا چاہئیے۔
    نا چیز

  15. ” یہاں مبارکباد نہ دینے کی ایک اور توجیہ بھی پیش کروں گا کہ یہ سال ہجری ہے جو کہ ہجرت سے شروع ہوتا ہے اور ہجرت کیا کوئی خوشی کا موقع ہے. کہ نبی صلی اللہ و علیہ وسلم دشمن سے چھپ کر بھاگ رہے ہیں دشمن پیچھا کر رہا ہے آپ صلی غار میں چھپ رہے ہیں گھر والے کہیں ہیں آپ صلی کہیں ہیں. گھر سے بے گھر. اور ہم اس موقع پر لوگوں کو مبارکباد دے رہے ہیں کیا کہنے….”
    واہ امین صاحب، بہت خوب۔ اسے کہتے ہیں علم و دانش۔ بہت کم لوگوں نے ایسا اور اس پہلو سے سوچا ہوگا۔

  16. بہن نگہت آپ کے مضمون نے جو پہلی تا ریخ کو آ پ نے لگا یا تھا۔ اس نے آپ کے پاس مبارکباد آنے کا راستہ کھولا اس سے انہیں تا ثر یہ ملا کہ آپ اور عالمی اخبار دونوں اس نظریہ کے قائل ہیں کہ یہ اسلامی سال کا پہلا دن ہے اور مبارکباد دی جانی چا ہیئے ؟ لہذا مبارکبادیاں آنا شروع ہو گئیں، لو گوں کو تو فتنہ پھیلانے کے لیئے ایک بہانہ چا ہیئے؟
    جبکہ اسلامی سال کی حقیقت یہ ہے کہ اسلامی سال کا وجود مختلف روایات کے مطابق حضور ص کے حج الودا ع سے لیکر گیارہ سال یاسو لہ سال تک تھا ہی نہیں ۔ اورآج جو مہینے را ئج ہیں یہ ہی مہینے چارسو سال سے پہلے سے چلے آرہے تھے ۔ اور کفارِ انہیں شمسی سن سے مطا بقت رکھنے کے لیئے ہر تین سال کے بعد ایک سال تیرہ مہینے کا کر لیتے تھے۔ جو سورہ تو بہ کی اس آیت کے نزول کے بعد کہ سال بارہ مہنیہ کا ہے ۔ ہمیشہ کے لیئے بارہ مہینے کا قرار پا یا اور حضور ص نے اعلان فر ماد یا کہ آج تا ریخ ہیر پھیر سے نکل کر وہیں آگئی ہے جہاں آج کے دن اسے ہو نا چا ہیئے تھا ۔ وہ اگر ہم میں مزید رہتے تو اغلب تھا کہ وہ اسی دن سے شمار فر ما کر نیا کلینڈر مر حمت فر ما دیتے ۔ لیکن وہ زیادہ دن ہم میں نہیں رہے، نتیجہ یہ ہوا کہ سال کا معاملہ معلق رہا ۔ اور حضرت عمر کے دور میں جا کر اس کا رشتہ ہجرت سے جو ڑا گیا ۔ چونکہ ہجرت بارہ ربیع الا ول کو ہو ئی تھی۔ اور عرب سال محرم سے شروع کرتے تھے لہذا پہلی تا ریخ بارہ ربیع الاول لغایت یکم محرم قرار پائی ۔ اب رہا منانا اور نہ منا نا۔
    تو یہ معلہ تو اس فرقے نے شروع کیا جو حضور کا یوم ودلادت تک منا نے کے خلاف ہے ۔ مگر دوسری طرف نیا سال منا نے پر مصر ہے؟ جبکہ ہم نے تو بچپن سے یہ ہی دیکھا کہ سارے مسلمان جہاں محرم کا چاند نظرآیا اور سوگ منا نا شروع کر دیتے تھے کیو نکہ حضرت امام حسین تو سب کے تھے وہ کسی ایک فر قے کے نہیں تھے ۔ سنی بھی یکم محرم نیا کپڑا پہنتے تھے نہ کو ئی خوشی منا تے تھے نہ محرم میں شادی بیا ہ کر تے تھے وگیرہ وغیرہ ۔ نظر نیاز بھی دونوں کر تے تھے۔کو ئی تفریق نہیں تھی ۔
    یہ تو ہے تا ریخی صورت حال اس کی روشنی میں اگر آپ دیکھیں گی تو نئے سال کے گیا رہ سال تک نہ ہو نے اور گیارہ سال میں تین سو تیس دن کا فرق پڑنے سے یہ معلوم کر نا اب بہت مشکل ہے کہ وہ دس ذوالحج کس تاریخ کوتھی جس دن کہ حضور ص نے یہ فر مایا تھا کہ آج تا ریخ پھر ا پنی جگہ پر آگئی ؟ اگر وہاں سے تعلق جوڑتے تو پھر تا ریخ درست رہتی۔
    مگر جہا ں تک شہادت ِ حسین کا تعلق ہے ۔ وہ چونکہ اس کے بعد واقع ہو ئی جب کے مسلمانوں کونیا کلینڈر دیا جا چکا تھا۔ لہذا وہ تا ریخی اعتبار سے درست ہے اور اس کو چیلینج نہیں کیا جا سکتا کہ وہ یکم محرم سے ہی صعوبتوں کا سلسل شروع ہوا اور دس کو جا کر شہادت پر ختم ہوا ۔
    اب یہ نیا سال اور اس کا پہلا دن منانے والوں کا کام ہے کہ وہ تحقیق کر کے یہ ثابت کر یں کہ حضور ص نے جس تاریخ کو درست تاریخ فر مایا تھا اس کے حساب سے حساب لگیا ئیں کہ وہ گیارہ سال میں کہاں جا کر ٹھہری اور پھر اس تاریخ کے حساب سے جہاں بارہ ربیع لا اول پڑتی ہو اس کو سال کا پہلا دن مقرر کر یں ۔

  17. میں جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب کا ممنون ہوں کہ وہ مجھے عزت کی نظروں سے دیکھتے ہیں اور اپنے التفات سے نوازتے ہیں ۔ انہوں نے بہت ہی اچھا کیا کہ جناب شعیب صفدر صاحب کے برقی خط سے ای میل کے پتوں کو عالمی اخبار کی بالکل درست پالیسی کے سبب حذف کردیا ۔
    ۔۔
    میں انکا مشکور ہوں کہ انہوں نے میری تبصرے کی آخری بات سے اتفاق کیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چونکہ ہم شعیب صفدر صاحب کے برقی خط کی بات کررہے ہیں اس لیے ہمیں اس موضوع پر شعیب صفدر صاحب کے خیالات کا بھی انتظار رہے گا۔

  18. مصباح بھائی اسلام علیکم
    آپ کی حوصلہ افزائی کا شکریہ آپ نے اس وضاحت کو پسند کیا شکریہ آپ کی محبتوں کا امین

  19. شمس بھائی توجہ دلانے کا شکریہ ۔۔۔آپ کی اس تحریر سے میری اپنی معلومات میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس تاثر کو ضرور رد کرناچاھتی ہوں کہ جس مضمون کا آپ نے حوالہ دیا ہے ۔۔ اس مضمون میں میں نے اسلامی مہینے کے پہلے دن پر کوئی مبارکباد کی بات نہیں لکھی ہے یاکی ہے بلکہ اس کی حرمت کے بیان ہیں ۔۔ رہی بات فتنہ پھیلانے والوں کی تو وہ قران کی آیات امن سے بھی فتنہ پھیلا دیتے ہیں ۔۔۔

  20. میرا مقصد یہ نہیں تھا جو آپ سمجھیں ، میرا مقصد یہ تھا کہ نہ آپ اسلامی نئے سال کا ذکرکرتیں نہ لوگوں کو شہ ملتی ۔ کیونکہ ہر لفظ کی ہر آدمی اپنی مطلب سےتفہیم کر تا ہے، جیسا کہ آپ نے خود لکھا ہے کہ لوگ امن کی آیتوں کے غلط معنی نکا ل لیتے ہیں ۔ لہذا اس دورِ پر فساد میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔

  21. اسلامی سال کے آغاز پر خوشی منانے کی نئ بدعت سے کوفت ہوتی ہے۔ پہلے ایسا نہین ہوتا تھا۔

  22. This is a new tradition that is setting up its feet in Islamic Ummah i.e. celebration of new Islamic year. In my childhood and until recently I had not observed any such celebration. Muharram ul Haram demands soberity and continued rememebrance of the great sacrifice.

  23. نگہت آپی نے اس پہلو کی طرف توجہ مبذول کرائی جس کی طرف شازونادرہی کسی کا خیال جاتاہو،نئے سال کی خوشی اپنی جگہ لیکن اہل بیت کی قربانیوں کی تاریخ اس قدر اداس اوردل چھلنی کردینے والی ہے کہ سارے جذبات پر حاوی ہونی چاہئے۔۔۔ میں ان کے نقطہ نظر سے اتفاق کرتاہوں ۔۔

  24. I have seen this new trend of clelebrating New Islamic year and i think this shouldn’t happen. Our Islamic Year starts with the month of Moharam-ul-Haram which remembers us the great sacrifies and sad feelings.

  25. نگہت صاحبی، ہم مغرب کی تقلید میں اسقدر اندحے ہو چکے ہیں، کہ احساس ہمارے اندر سے ختم ہو چکا ہے اور ہم اپنے مذہبی مواقع بھی ان ہی کے انداز میں منانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور محرم کے مہینے میں تو بسا اوقات یہ چیز کاٹنے کو دوڑتی ہے۔

  26. اسلام و علیکُم،، میں آپ سب سے تائید کرتی ہوں اسلامی سال کے آغاز پے ایک دوسرے کو مبارک نہیں دینا چائے کیونکے یہ سال شروع ہوتا ہے غم کی کیفیت پے ، اور اختمام بھی قربانی پے ہوتا ہے،،،
    بابا جان نے بلکل سہی فرمایا کے
    کاش ہم یہ سوچتے کہ کیا ہم اپنے باپ دادا کی وفات یا برسی پر کسی کو مبارکباد کا ہیغام بھیجیں گے؟
    ہم لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے کے کیا ایسا ہوسکتا ہے کیا ؟؟؟؟ نہیں یہ نہیں ہوسکتا …..
    الله پاک ہم سب کو اپنے حفظہ و امان میں رکھے (امین )

  27. This is the ignorance of the ummah and lack of knowledge about the history and about the Imam Hussian AS . we should discorage this trend and we infromed it to others brothers and sisters to not doing so. it is entirely shameless attitue and behaviour that we are celebrating the Moharan as new yar.
    i personally appricatie the Dr saheba for take good and very right step to stop this ilness behaviour…..

  28. سب سے پہلے تو معذرت دیر سے جواب پر! معاملہ یہ تھا کہ کراچی بار میں ہم وکلاء کے الیکشن ہو رہے تھے اُس سلسلے میں الیکشن مہم میں مصروفیت کی بناء پر عالمی اخبار کا رُخ نہ کر پایا! اب وہاں کی جیت کے بعد حاضر ہوں۔
    میری جانب سے جو نئے اسلامی سال پر ای میل کی گئی تھی اُس کا ہر گز مطلب رنگ رلیاں منانا نہیں تھا، وہ ایک دعا خیر کے تناظر میں بھیجی گئی تھی! اس سلسلے میں اُس میں دعائیہ جملہ شامل تھا، اسے ہر گز اُس خوشی کی شکل میں نہ لیا جائے جس سے مراد عیاشی ہوتی ہے۔ نہ میں مسلکی بحث کا ہامی ہو اس سلسلے میں۔ ایک بار پھر معذرت۔
    عالمی اخبار کا ویب ادریس سوائے میری پیشہ ورانہ برقی خط کے ہر ای میل میں شامل ہوتا ہے اگر عالمی اخبار کی انتظامیہ اس فعل سے روکے گی تو ادارے کی پالیسی کے مطابق جو مناسب ہے وہ مجھ پر لازم ہو گا۔ اس سلسلے میں ادارے کو کوئی شکایت نہ ہو گی۔

  29. ھمیشہ اھل حق قایم رھینگے ایک مرکز پر
    ھمیشہ اھل باطل کی روش ٹھکرائ جایئکی
    ازل سے خیروشر کی قوتوں میں جنگ جاری ھے
    ھمیشہ داستان کربلا دھرائ جایئگی

    سب سے زیادہ اسی بات کی تکلیف ھے کہ سارے پڑھے لکھے لوگوں کے موسم غم میں بھی تہنیتی پیغامات آرھے ھیں

  30. جزاک اللہ شاہین رضوی صاحبہ : آ پ نے اپنا انتہائی موثر قطعہ لکھکر ثابت کردیا کہ آپ ایک اچھی شاعرہ ہیں۔
    اللہ آپ کے قلم میں مزید تاثیر ادا کرے۔ آمین

  31. ہمارا پہلا مہینہ بھی جذبہء ایثارو قربانی سے سرشار ہے اور آخری مہینہ بھی۔

  32. جن لوگوں کا مولا حسین علیہ السلام سے ہے ان کو مبارکباد سے کوئی غرض نہیں بس یہ ظاہر کررہا ہے کون مولا حسین کا غم منا رہا ہے اور ان غم کے دنوں میں خوشی کے پیغامات، یہ تو صرف تعلق کی بات ہے.

  33. مجھے افسوس ہے کہ ویسے تو ہم میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ مسلمان قوم فرقہ بندی سے دور ہوجائے۔ اور ہم ایکدوسرے کو برداشت کا سبق بھی پڑھاتے رہتےے ہیں لیکن جب بھی اسکا عملی ثبوت دینا کا وقت آتا ہے تو ایکدوسرے کو کافر اور یزید کہنے سے نہیں چوکتے۔ حالانکہ یزید کی یہ شکست کم نہیں کہ آج مسلمانون میں چاہے وہ شیعہ فقہہ سے تعلق رکھے یا سنی سے کوئ اپنے بچوں کا نام ان پہ نہیں رکھتا۔ یہاں پھر وہی بات آجاتی ہے کہ جب آپ اس چیز سے اچھی طرح واقف ہیں کہ آپ کے عقائد اور نظریات سے کسی اور گروہ کو اتفاق نہیں اور وہ اسے بالکل ایکدوسرے تناظر میں دیکھتے ہیں تو وہ اپنے اس بنیادی حق سے محروم نہیں ہوتے کہ وہ نئے سال کی آمد کو کیسے مناتے ہیں۔ اور اسکے نتیجے میں انہیں یزید کے گروہ میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ آپ صرف ایک موضوع پہ بات کر سکتے ہیں اور وہ یہ کہ بیرونی ثقافت کا مقابلہ کرنے کے لئے کیا ہمیں انکے ہر رسم اور رواج کے مقابلے پہ اپنی کوئ رسم یا رواج بنانی پڑے گی۔
    یہاں ایک بات اور ضروری ہے کہ ہمارے بچوں کو جو شیعہ فقہہ سے تعلق نہیں رکھتے انہیں بھی تو پتہ ہونا چاہئیے کہ اسلامی نیا سال شروع ہو گیا ہے۔ پھر یہ بات کہ یہ ہجرت سے وابستہ ہے اس لئے یہ غم کا سال ہے۔ چونکہ رسول اللہ سےاس غم کے دن کو منانے کی کوئ روایت نہیں اس لئیے اسکی بھی کوئ وجہ نہیں بنتی۔
    جہاں تک بدعات کا تعلق ہے تو اسکی حدود اگر متعین کرنے بیٹھیں تو بہت ساری گرو ہ بندیوں کا کوئ جواز نہ رہے گا اور ایک سیدھا سادہ سا دین نکل آئے گا جو انسان کی فلاح اور انسانیت کو جوڑے رکھنے کے لئیے وجود میں آیا۔
    میں پہلے بھی اس صفحے پہ آئ لیکن مجھے اندازہ ہوا کہ یہاں صرف ایک فقہہ کی بالادستی ہے تو پھرمیری دلچسپی ختم ہو گئ۔ امید ہے آپ اس تائثر کو ختم کرنے میں کامیاب ہو پائیں گے۔

  34. محترم منظور قاضی صاحب اسلام علیکم ۔ حوصلہ افزائ کا شکریہ مگر یہ کسی اور شاعر کا قطعہ ھے ۔

  35. اسلام علیکم
    محترم احبابِ محفل ، میں خود اِس بات پر اکثر حیران ہوتا ہوں ، یہ مہینہ تو دُکھ غم اور حزن کا مہینہ ہے، ہم میں سے اکثر لوگ اِس بات کا احساس نہیں کرتے اور عموما پڑھے لکھے لوگوں میں یہ بد پر ہیزی کچھ زیادہ ہی ہے ورنہ عموما اور کم پڑھے لکھے لوگ تو اِس مہینے میں خوشی کی کوئی تقریب بھی منعقد نہیں کرتے حتی کہ شادی کی تقریبات بھی احترامِ محرم میں محرم کے بعد ہی منعقد کی جاتی ہے اور اگر کوئی انتہائی مجبوری بھی آ پڑے تب بھی عاشورے تک تو مجبوری کو بھی آڑے نہیں آنے دیتے، مگر میں سمجھتا ہوں کہ امام عالی مقام (رضی اللہ تعالی عنہ) اور اہل بیتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد اور اُنکی شہادت کا دُکھ سارا سال بلکہ زندگی کے ہر ہر لمحے میں محسوس کرنا چاہیے ، اُنکی قربانی ، اُنکے ایثار کا ذکر پورے سال رہنا چاہیے ہر ہر گھر میں ، ہر ہر محفل میں رہنا چاہیے تانکہ ہم لوگوں میں بھی کسی حد تک قربانی کا صحیح شعور اُجاگر ہوں ، البتہ اِس مہینے میں خصوصی طور پر اِس دکھ کو غم کو سمجھنے کے لیے وقت نکالنا چاہیے ۔
    آصف احمد بھٹی

  36. آیا ممبر پہ جو شبیر کی مدحت کے لیے
    کھول دی چشم بشر بحر فضلیت کے لیے

    گنبد عرش پر محفوظ ھے فرمان رسول
    دم کرو ناد علی اپنی حفاظت کے لیے
    قاب و قوسین سے وہ پردہ اسری کاسفر
    لوح محفوظ کے اسناد کی وحدت کے لیے

    آل عمران کی یسین و محمد کی قسم
    الفت آل ضرروی ھے شفاعت کے لیے
    آج بھی کرب و بلا برملا یہ کہتی ھے
    جھکانا سر نہ کبھی ظلم کی بیعت کے لیے
    ٹکرے قاسم کے چنے دفن کیا اصغر کو
    بد دعا کی نہ کبھی شاہ نے امت کے لیے
    ضیاۓ مہر امامت کی روشنی شاھیں
    رھے گی ساتھہ میرے قبر کی وحشت کے لیے

  37. آپ غم منائيں دوسروں کو اپنے حساب سے چلنے دیں یہی رواداری ہے۔

  38. عنیقہ ناز عالمی اخبار کے بلاگ میں ایک بار پھر خوش آمدید ۔۔
    ہمیں سب سے پہلے تو اس بات کا اعزاز ہے کہ بہت سے ایسے دوست جو کسی بھی وقت کسی زاتی وجہ سے یہاں سے چلے جاتے ہیں وہ دوبارہ ضررو تشریف لاتے ہیں اور یہی ہمارے اخبار کی ہر لحاظ سے غیر جانبداری کی سب سے بڑی دلیل ہے ۔ مجھے آپ کے تبصرے میں اخبار کی پالیسی کے حوالے سے اس حصے کا جواب دینا ہے جس میں آپ نے عالمی اخبار پہ مبینہ طور پر ایک رخ سے یہ الزام لگایا ہے کہ یہاں ایک فقہ کی بالادستی ہے لیکن آپ کے اس فقرے میں خود اس بات کی غمازی موجود ہے کہ بقول آپ کے اس بات کا اندازہ ہوا ہے ۔۔۔۔ اندازے میں اور یقین میں یہی فرق ہے کہ اندازے کا ننانوے فیصدغلط ہونے کا امکان ہوتا ہے جبکہ یقین سو فیصد کا نام ہے ۔
    اب آپ کو اس بات کا یقین کرناپڑے گا کہ عالمی اخبار پر کسی رخ کسی جہت سے کسی طرح کاتعصب یا امتیازاموجود نہیں ہے اور نہ اس کی گنجائش ہے ۔ خود آپ کے اس تبصرے کو شامل کرنا اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے ۔مجھے یقین ہے کہ آپ تسلسل سے نہ تو عالمی اخبار پڑھتی ہیں اور نہ دیکھتی ہیں ورنہ آپ کو یہ بات کہنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی ۔
    اگر آپ کا یہ تاثر حتمی مرتبت کے ساتھ ساتھ حضرت علی ، خاتون جنت جناب فاطمہ ، امام حسن ، امام حسین اور دگیر اہل بیت اطہار کے زکر کہ وجہ سے ہے تو معاف فرمائیے گا یہ شاید آپ کا اپنا تعصب ہے ۔ یہ تمام ہستیاں کسی ایک فقہ یا اگر واشگاف الفاظ میں کہوں تو شعیہ مسلمانوں کے لیئے مختص نہیں ہیں ۔ یہ دین اسلام کا ہی نہیں کل آفاق کا سرمایہ ہیں ۔
    بہت زیادہ دلائل اسے دینے پڑتے ہیں جو آج کے زمانے میں زیادہ غلط ہو اس لیئے زیادہ دلائل سے اجتناب کرتے ہوئے آپ کو صرف یہ مشورہ دونگی کہ عالمی اخبار کی انتظامیہ اور اس کی تمام قلمی معاونین کسی پر اپنی رائے ، اپنا نظریہ ، اپنی فکر تھوپنے کے قائل نہیں ۔ ہم اپنی بات کہتے ہیں اور دوسروں کی سنتے ہیں کہ باب علم حضرت علی ہی نے فرمایا تھا کہ اپنی بات کہنے سے زیادہ مشکل دوسرے کی بات سننا ہے ۔
    میں آپ سے با فخر اہل سنت کی حثیت سے درخواست کرونگی کہ توازن اور میانہ روی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ۔ ہمارے اچھے کاموں میں ہمارے ساتھ شریک ہوں ۔ کوئی غلط کام ہو اس کی نشاندہی کریں ۔ ہم اس سے پہلے بھی اسلام کی ہر شخصیت کے بارے میں لکھ چکے ہیں اور اب میں پورے ادارتی عملے کی طرف سے آپ کو دعوت دیتی ہوں اور درخواست کرتی ہوں کہ آپ مسلمانوں کے خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق( رض) سے لے کر امام حنبل تک کسی بھی شخصیت کے بارے میں کچھ بھی تحریر فرماکر بھیجئے ۔ اور اگر یہ شائع نہ ہوتو آپ کا الزام جرم کی صورت میں سر آنکھوں پر ۔
    ایک آخری بات اور وہ بھی آپ کو ایک مشورے کے طور پر عالمی اخبار کے سرورق پر ہم سے ملیئے کے عنوان سے ادارتی عملے پر ایک نگاہ ضرور ڈالئے آپ کو اپنے ہی اندازے کی شائد نفی مل جائے کہ شاید آپ اگر فقہ جعفریہ یا شعیت کی بالادستی کہنا چاہ رہی ہیں تو ادارتی عملہ ننانوے فیصد اہل سنت پر مشتمل ہے ۔
    مجھے یقین ہے کہ اب آپ تسلسل سے بلاگ پر بھی آتی رہیں گی اور اپنی فکر کا کھل کر اظہار بھی کریں گی ۔۔ اور اکابرین اسلام کے بارے میں جو لکھنے کی دعوت ہم نے آپ کو دی ہے اس پر یقینی طور پر فوری عمل کریں گی ۔

  39. احسان مند ہیں آپکے مشورے کے محسن حجازی بھائی. مگر یہ کیا بات ہوئی کہ…….آپ غم منائیں….صرف ہم کیوں…آپ بھی کیوں نہیں….کیا آپ کو اس واقعے کا غم نہیں؟ کاش آپ اس طرح لکھتے کہ ….ہم غم منائيں دوسروں کو اپنے حساب سے چلنے دیں یہی رواداری ہے۔…….ویسے یہ غم میرا آپ کا ہی نہیں اور نہ کربلا والوں کوہمارے آپ کے غم منانے سے کوئی اجر مل رہا ہے یہ تو ہماری مغفرت کا ذریعہ ہے کیونکہ ارشاد رسول ہے
    اَخْبَرَنِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلی الله عليه وآله وسلم اَنَّ اَوَّلَ مَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ اَنَا وَفَاطِمَةُ وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ قُلْتُ : يَارَسُوْلَ اللّٰهِ، فَمُحِبُّوْنَا؟ قَالَ : مِنْ وَرَائِکُمْ.
    (حاکم، المستدرک، 3 : 164، رقم : 4723)
    ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا کہ سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے، میں (یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ خود) فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم ہیں۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم سے محبت کرنے والے کہاں ہونگے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (وہ) تمہارے پیچھے پیچھے جنت میں ہونگے‘‘۔

  40. سیدہ شاہین رضوی صاحبہ نے جو اشعار اوپر تحریر کیے ہیں وہ ماشا اللہ ہر لحاظ سے قابلِ تعریف ہیں۔
    مقفطع کا یہ شعر بھی بہت ہی خوب ہے :
    ضیائے مہرِ امامت کی روشنی شاہیں
    رہے گی ساتھ مرے قبر کی وحشت کے لیے
    ۔۔
    مگر :
    روشنی کی مناسبت سے ظلمت کا قافیہ کیسا رہے گا؟

    رہے گی ساتھ مری قبر کی ظلمت کے لیے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اللہ ان کا زور سخن اور زیادہ کرے ۔ آمین

  41. بہن عنیقہ ناز صاحبہ اسلام علیکم
    آپ کی تحریر کے سلسلے میں آپ کے آخری جملے سے بات شروع کرتا ہرں اور یہ جملہ و جزبہ قابلِ ستاتش ہے “امید ہے آپ اس تائثر کو ختم کرنے میں کامیاب ہو پائیں گے۔” میں پہلے اپنا تعارف کرادوں. میں اخبار کی انتظامیہ کا کوئی حصہ نہیں ہوں.آپ کا یہ کہنا یقیناِ درست ہے کہ ” یہاں ایک فقہ کی بالا دستی ہے ” بالکل درست. میں سو فیصد سنی العقیدہ ہوں میری کئی پشتوں میں کہیں شیعہ عقیدے کی شمولیت نہیں ہے. یہ بات لکھنا ضروری تھا کہ واضح ہو کہ بات کون کہہ رہا ہے. اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اپنا عقیدہ ہم پر تھومنا چاہ رہی ہے اگر اس کا ثبوت ملے تو میں مکمل طور پر آپ کے ساتھ ہوں دو تیں وضاحتیں.
    (1) پچھلے دنوں فیاض امر صاحب نےایک بلاگ شروع کیا جس میں انہوں نے کھل کر تو سنیوں کی مخالفت نہیں کی مگر آہستہ آہستہ وہ ایک ایسے موضوع کی طرف جانے لگا جہاں عقیدے کا فرق نظر آنے لگا. فیاض امر صاحب اخبار کے بڑے فعال مبصر ہیں لیکن جب ہم نے اختلافات کی بو محسوس کی تو اس کے خلاف آواز اُٹھائی اور یہ خواہش ظاہر کی کہ اس موضوع کو خارج از بلاگ کیا جائے انتظامیہ نے ہمارے جزبات کا احترام کرتے ہوئے شاید پہلی مرتبہ فیاض امر جیسےمخصوص تبصرہ نگار کا مکمل بلاگ اخبار سے خارج کر دیا جس سے فیاض صاحب ناراض بھی ہوئے اور اس دن کے بعد ان کی کوئی تحریر دیکھنے میں نہیں آئی. مجھے خوشی ہے کہ انتظامیہ نے فیاض صاحب جیسے فعال مبصر کو ہمارے جزبات کے احترم میں ناراض کیا. (ہم ان کو منانا چاہتے ہیں. سائیں خیر آہے)
    (2)# محسن حجازی نے کہا ہے:
    December 21, 2009 بوقت 7:58 am

    آپ غم منائيں دوسروں کو اپنے حساب سے چلنے دیں یہی رواداری ہے۔
    انتاظمیہ کے لئے کیا دشوار تھا اگر وہ اس تبصرے کو شائع نہ کرتے مگر انہوں نے اُس خیال کے مبصر کو بھی اپنی رائے کے اظہار کا موقع فراہم کیا.
    (3)یہاں ایک بات اور ضروری ہے کہ ہمارے بچوں کو جو شیعہ فقہہ سے تعلق نہیں رکھتے انہیں بھی تو پتہ ہونا چاہئیے کہ اسلامی نیا سال شروع ہو گیا ہے۔ پھر یہ بات کہ یہ ہجرت سے وابستہ ہے اس لئے یہ غم کا سال ہے۔ چونکہ رسول اللہ سےاس غم کے دن کو منانے کی کوئ روایت نہیں اس لئیے اسکی بھی کوئ وجہ نہیں بنتی۔
    یہ چونکہ میرا تبصرہ تھا اس لئے اس کی وضاحت کی کوشش کروں گا یقیناً آپ کی بات درست ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کا غم منانے کی کوئی روایت نہیں ہے . کیا اس دن کو خوشی کا دن منانے کی کوئی روایت یا کوئی حدیث آپ کی نظر سے گزری …نہیں.. کیا نبی صلعم نے کسی اپنے بچے یا نواسے یا کسی کی کوئی سالگرہ منائی. یہاں یہ بتاتا چلوں کہ میرے عقیدے کے مطابق نبی صلعم کی چار بیٹیاں تھیں کسی ایک کی پیدائش یا کسی خاص دن پر خوشی کا اظہار ہوا اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا انتظامیہ اس چار بیٹوں والی بات کو چھاپتی ہے یا حذف کرتی ہے فیصلہ ابھی آجاتا ہے ہم بھی دیکھیں گے (4) مجھے اور آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ قابل صد احترام عالم دین محترم شاہ بلیغ الدین کی تقاریر و شخصیت اہلِ تشیع کا انتہائی ناپسندیدہ ذکر ہے میں شاہ صاحب کا نتہائی معتقد ہوں الحمد لللہ شاہ صاحب میرے گھر میں میرے مہمان رہے میں انکے ڈیفنس کراچی کے مکان میں بھی گیا ہوں اور ان کے کنیڈا والے مکان میں بھی گیا ہوں جس انتظامیہ نے شاہ صاحب کو دو مرتبہ امیرکا بلایا میں اس انتظامیہ کا حصہ تھا .میں نے شاہ صاحب کے ساتھ دوسر شہر کا سفر کیا میں نے اپنے ریڈیو پروگرام میں کم ازکم پانچ بار ان کو انٹرویو کیا. اب سنئے تین ماہ قبل شاہ صاحب( کہ اللہ انہیں غریقِ رحمت کرے آمین) کے انتقال کے موقع پر اسی انتظامیہ نے ان کے انتقال کی خبر ان کی تعریف کرتے ہوئے چھاپی جو کہ میرے لئے حیرت انگیز بات تھی اور میں نے اخبار پر اس حیرت کا اظہار کیا جو انہوں نے چھاپی. ایسی کچھ اور باتیں بھی شاملِ اشاعت کرسکتا ہوں ممکن ہے اتنا ہی کافی ہو گا . اللہ کو حاضر و ناظر جان کر اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ اس تحریر سے کسی طرح بھی انتظامیہ کی خوشنودی کا طالب نہیں ہوں اُمید ہے آپ اور دوسرے احباب کسی فقہی اختلاف کو ہوا نہیں دیں گے اور بقول آپ کے آخری اور میرےپہلے جملے کے اس اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش ہے آپ سب کی محبتوں کا امین

  42. پچھلے سال محرم کے مہینے کے پہلے دس دن کے ہر ایک دن کی تاریخی حیثیت اور اس دن کے واقعات پر سیدہ ثناء شاہ نقوی صاحبہ عالمی اخبار کے بلاگون میں نہایت ہی موثر تبصرہ لاور تذکرہ لکھا کرتی تھیں ۔
    سیدہ ثنا ء شاہ نقوی صاحبہ کی اور انکے تبصروں اور تذکروں کی کمی بے حد محسو س ہورہی ہے۔
    انکی تحریریں انتہائی معلوماتی تھیں ۔ کاش کہ وہ خود پھر سے یہ سلسلہ جاری رکھیں یا پھر انتظامیہ گذشتہ محرم کے عالمی اخبار کے سیدہ ثناء شاہ نقوی صاحبہ کے اذکار کو پھر سے ایک نیا بلاگ کھول کر ان میں چسپاں کردے تاکہ پڑھنے والے کو محرم کے پہلے دس دنوں کے واقعات معلوم ہوتے رہیں۔
    ۔۔۔

  43. منظور بھائی محرم کے آغاز سے بھی کوئی دس دن پہلے سیدہ ثناہ شاہ کو میں نے ای میل لکھ کر درخواست کی تھی اور میری ان سے ایم ایس این مسینجر پر براہ راست بات بھی ہوئی تھی جس میں ان سے درخواست کی تھی محرم الحرام کے بلاگ کا وہ انتظام کریں ۔ جس کا انہوں نے مجھ سے وعدہ بھی کیا تھا لیکن ہنوز وہ لاپتہ ہیں ۔۔اور میں ابھی تک انہی کا انتظار کر رہی ہوں کہ کہ وہ اپنا وعدہ پورا کریں گی ۔۔ آپ ایسا کریں جو عالمی اخبار میں محرم اسپیشل کے نام سے مضامین چھپ رہے ہیں وہ پڑھ لیجئے ۔۔
    اچھاکوشش کرتی ہوں کہ میں یہ کام کروں ۔۔۔۔ آپ بتایئے اس کے لیئے نیا بلاگ بناؤں یا اسی میں لکھ دوں ۔۔

  44. بہن عنیقہ ناز صاحبہ اسلام علیکم
    ایک انتہائی اہم نکتہ جس کا شیعہ سنی والی بات سے تعلق نہیں ہے بلکہ خالصتاً اسلامی ہے اور وہ یہ کہ آپ نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو اسلامی سال کے آغاز سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں ماشااللہ . کیا اچھا اور اہم خیال ہے ضرور با الضرور بتائیں مگر انہیں یہ بھی بتائیں کہ ہمارا مذہب عیسائیت سے مختلف ہے ہمارے نبی نے کبھی کوئی سالگرہ نہیں منائی ہمارے ہاں کرسمس نہیں منایا جاتا بالکل اسی طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیم وصلم نے نئے سال پر کسی قسم کی خوشی نہ خود منائی نہ ہی اس کے بارے میں کچھ کہا تو بس سال شروع ہوگیا تو ہوگیا اس کے لئے ضروری نہیں ہے کہ رات کو بارہ بجے رقص و خمر کی محفل ہو اور صبح بلکہ رات سے ہی مبارک سلامت شروع ہو جائے .اور یہ تو بہت ضروری ہے کہ آپ انہیں اسلامی سال اور مہینوں کا بتائیں کیوں کہ ہم اس سے بالکل ناواقف ہیں مثال کے طور پر آج سے چھ ماہ بعد آپ کسی واقف کار سے پوچھئے گا میں نے چھ ماہ اس لئے کہا کہ ابھی تو شاید سب کو معلوم ہو اس لئے کہ مبارک سلامت کی ایک نئی رسم شروع ہوئی ہے .ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ کسی سے پوچھئے گا کہ آج اسلامی تاریخ کون سی ہے جواب نہ داردہو گا پھر پوچھئے کہ اسلامی مہینہ کون سا ہے جواب نہ دارد ہو گا اب پوچھئے کا سال کون ساہے آپ یقین مانیں جواب نہ دارد ہو گا تو پھر کتنا ضروری ہے کہ بچوں کو بتایا جائے مگر پہلے ہم خود تو سیکھ لیں بی بی اللہ جانتا ہے کوئی طنز نہیں ہے مگر ہم مذہب کو صرف تہواروں کی حد تک جانتے ہیں جس نے چھ مہینے سے جمعے کی نماز نہیں پڑھی جس کا قرآن میں سختی سے حکم ہے عید کی نماز پڑھنے ضرور جائے گا عید کی نماز کے بعد لوگوں سے پوچھیں کیا آپ نے آج کی فرض نماز فجر پڑھی ہے جواب ندرد .بی بی اللہ ہمیں راہ راست پر لائے یہاں ایک بات میں اپنی تعریف ضروری ہو گئی ہے اس لئے کہ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ پہلے آپ اس کا جواب دیں اس لئے یہ بتانا ضروری ہو گیا ہے کہ میں الحمدلللہ ثم اکحمدلللہ چھ وقت کا نمازی ہوں . اور پینتیس سال سے یورپ اور امیرکا کے قیام میں ماشااللہ حلق سے کوئی قطرہء ناپاک نہیں اترا اللہ گواہ ہے کبھی کسی کلب کا رُخ نہیں کیا ان باتوں کا تذکرہ اس لئے ضروری ہوا کہ کوئی کہہ سکتا کہ بھائی صاحب اپنی کہانی تو سناؤ. اللہ میرا اور کُل اُمتِ مسلمہ کا نگہبان ہو اور رحتوں اور کرم نوازیوں کی بارش ہم پر کرے آمین ثم آمین.. آپ سب کی محبتوں کا امین.

  45. مرحوم ضیالحق سے مجھے کوئ لگاؤ نہیں ہے لیکن اُنکی اس تلقین کا صدقِ دل سے قائل ہوں۔

    اپنے مذہب کو چھوڑو مت ، دوسرے کے مذہب کو چھیڑو مت۔

    الازہر کے ایک عیسائ پروفیسر نے کہا ہے کہ

    جتنا قریب شیعہ مسلک سنی مسالک سے ہے اتنے قریب سنی مسالک آپس میں ایک دوسرے سے نہیں ہیں۔

    کسی مفتی نے آج تک شیعہ سنی شادی کے خلاف فتوہ نہیں دیا۔

  46. محترمہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ سے عرض ہے کہ وہ ایک نیا بلاگ صرف اور صرف سیدہ ثنا ء شاہ صاحبہ کے پچھلے سال کے محرم کے بلاگ کی طرح ہو جس میں محرم کے پہلے دس دنوں میں ہر ہر دن کیا کیا ہوا اسکا حال موجود ہو اور ان دس دنوں کے بعد کس عظیم ہستی نے اسلام کو بچانے کی خاطر یزیدیت سے کیسا دلیرانہ مقابلہ کیا ، اس کا بھی تذکرہ موجود ہو ۔
    میر ے خیال میں عالمی اخبار کے ذخیرے میں سیدہ ثنا شاہ نقوی صاحبہ کے یہ تمام تبصرے موجود ہیں انہی کو آپ کے نئے بلاگ میں پیش کیا جاسکتا ہے ۔
    مجھے یقین ہے کہ ا س قسم کے معلوماتی بلاگ سے بہت سارے پڑھنے والے ماضی کی تاریخ سے واقف ہوتے رہینگے۔
    خیر اندیش :
    منظور قاضی از جرمنی

  47. ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ سے یہ بھی عرض ہے کہ عرفان مرتضی کی نظم ( مرثیہ ) جو انہوں نے علی اصغر ع پر لکھا ہے اور جس کی لنک کو میں آج ہی اس بلاگ میں چسپاں کیا ہوں ،اسے بھی اپنے نئے بلاگ میں یا تو کھول کر چسپاں کردیں یا پھر لنک ہی کو چسپاں کردیں۔
    عرفان مرتضی صاحب کی وہ نظم بڑے دلگداز انداز میں لکھی گئی ہے اور پڑھنے کے قابل ہے۔

  48. السلام علیکم
    جس دن یہ بلاگ لگا میں اس دن سے ہی اپنی رائے ظاہر کرنا چاہ رہا تھا لیکن ’وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے‘.
    لیکن اب تو نہ صرف تبصرون کی بھرمار ہے بلکہ دیگر کئی موضوعات زیر بحث آ گئے ہیں.میرا ذاتی خیال ہے کہ اگر اختلاف کو ’’وجہ نزاع‘‘ بنا کر مسائل پیدا کرنے کے بجائے اسے ’’تنوع ‘‘ قرار دے کر زندگی کا حس بنا دیا جائے تو سارے جھگڑے مٹ جائیں.

    جہاں تک تعلق ہے ماہ محرم شروع ہوتے ہی نئے سال کی مبارکباد دینے کا تو اس حوالے سے عرض کرنا چاہوں گا کہ
    یہ مہینہ صرف سانحہ کربلا ہی کی وجہ سے سوگوار نہیں کہ اسے ایک فقہ کے ساتھ خاص کر دیا جائے (قطع نظر اس کے کہ نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول، سید شباب اہل الجنۃ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سب کے سردار ہیں بلا امتیاز مسلک و فقہ) اسی ماہ کی پہلی تاریخ کو خلیفہ دوم، مراد رسول، امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تھا، لہذا تمام اہل سنت کے لئے بھی اس سال کا پہلا دن ہی سوگوار ہے.
    یہ ایک پہلو ہے جس کے پیش نظر مبارکباد کی رسم غیر مناسب ہے.

    دوسرے پہلو کی جانب دوستوں نے عرض کیا کہ یہ ایک غیر اسلامی رسم ہے جس کے تحت New Year Night کی محافل ہوتی ہے، ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارکبادیں دی جاتی ہیں اور نہ جانے کیا کیا ہوتا ہے………. اور یہ دن بھی عیسائیوں کی خصوصیت بن گیا ہے جس میں شمولیت ان سے مشابہت کے زمرے میں آتی ہے. اور مسلمانوں کو ان کی مشابہت سے منع کیا گیا ہے.

    ساتھ ہی یہ بات بھی مد نظر رکھی جائے کہ مسلمان کے لئے یہ دنیا دار الامتحان ہے، انسان ایک مقرر مدت کے لئے اس دنیا میں آیا ہے، اور کسی بھی وقت وہ مدت پوری ہو سکتی ہے.
    ہر گزرے والے دن کے ساتھ ہی موت کی قربت حاصل ہوتی ہے، اور ایک سال گزرنے کے بعد انسان اپنی موت سے ایک سال مزید قریب ہو جاتا ہے، عقل کا تقاضا تو یہ ہے کہ ایک مسلمان سوچے کہ میں نے پچھلا پورا سال کس طرح گزارا؟ اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے کیا کیا؟ جس مقصد کے لئے مجھے پیدا کیا گیا اس پر کس حد تک کاربند رہا؟ اور اگر موت آ گئی تو میری اس کے لئے کیا تیاری ہے؟ کیا میں اپنے رب کو منہ دکھانے کے قابل ہوں؟

    اگر تو آخرت پر ایمان کے ساتھ ساتھ فکر آخرت بھی ہے تو میرا نہیں خیال کہ کوئی نئے سال یا سالگرہ کی مبارکباد دے گا. یا اس دن خوشی منانے کا سوچے گا. بلکہ اپنے رب کے حضور گڑگڑا کر گزشتہ گناہوں کی معافی مانگے گا اور آئندہ اعمال صالحہ کے لئے عزم صمیم کرے گا..

    و السلام
    محتاج اصلاح و دعا

Comments are closed.