ایک اور Collateral Damage

السلام علیکم
احباب محفل ، محترم وزیر اعظم صاحب ، نے قومی اسمبلی میں ڈراؤن کے حملوں کی مزمت کی ہے اور ایک بار پھر امریکہ سے ڈراؤن ٹیکنالوجی مانگی ہے ، ( جو اُسی روز اور اُسکے بعد بھی مزید ڈراؤن حملے کر کے دے دی گئی ہے ) اور اصل حدف پھر بچ گیا اورکچھ مزید معصوم Collateral Damage کے نام پر قتل کر دئیے گئے ، محترم وزیر اعظم صاحب نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے بات بھی کی ہے اب دیکھئے بیچاری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ کیا ہوتا ہے بقول محترمہ فوزیہ وہاب صاحبہ کہ کراچی میں ہزاروں خواتین رہتی ہیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہی کو کیوں امریکہ کے حوالے کیا گیا ہے ( یعنی یقینا اُن کا کچھ نہ کچھ تعلق القائدہ سے تھا )
آصف احمد بھٹی

13 thoughts on “ایک اور Collateral Damage”

  1. “ کارِ بد تو خود کرے ، لعنت کرے شیطان پر “۔
    امریکہ کا اور خود پاکستان کا اصل ہدف کون ہے ؟
    اگر امریکہ اور خود پاکستان کےہد فتِ ملامت القاعدہ کے مردود و ملعون رہنما ہیں تو وہ پاکستانی طالبان ( ملا) جنھوں نے انکو پناہ دی ہے وہ سب بھی ہدفِ ملامت ہی رہینگے ۔۔
    اب کولیڑل ڈیمیج ( ضمنی نقصان ) کے نتیجہ میں “ معصوم انسان “ “ قتل “ کیے جارہے ہیں تو اسکی ذمہ داری طالبان پر عائد ہوتی ہے جنھوں نے ان مردودوں کو نہ صرف پناہ دی بلکہ انکی حمایت میں پورے پاکستان میں خود کش حملے کرکے دہشت گردی کا سلسلہ شروع کردیا ۔

    بلاگ نگار اور اسکے ہمنواوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ میزبانوں ( یعنی طالبان ) کی مذمت کریں اور انکو ہی اس ضمنی نقصان کا ذمہ دار گردانیں ۔
    جب تک القاعدہ کے وہ ذمہ دار افراد جنھوں نے امریکہ اور پاکستان کے کئی ہزار افراد کو ہلاک کیا اوراب تک بار بار امریکہ اور پاکستان میں رہنے والوں اور وہاں جانے والوں کو قتل کررہے ہیںاور قتل کرنے کے اقدامات کررہے ہیں ، وہ امریکہ اور پاکستان کا ہدف ہی رہینگے۔
    اورضمنی نقصان کی ذمہ داری ان مردودوں پر ہی عائد ہوگی ۔

  2. ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا چلیں مان لیتے ہیں قصور ھے تو اسے اغیار کے حوالے کیوں کیا گیا وہ تو دھرتی ما ں کی آغوش میں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قصور وار تھی تو خود تحقیق کی ھوتی پھر کوئی فیصلہ کرتے

  3. السلام علیکم
    احباب اکرام ، میں متعدد بار ہر قسم کے دہشت گرد کی مزمت کر چکا ہوں اور میرا خیال ہے کہ آپ سب بھی ہر قسم کے دہشت گرد کی مزمت کرتے ہیں ، گزشتہ دنوں امریکہ کے شہر ورجینا میں سی آئی اے کے ہیڈ کواٹر کے باہر سینکڑوں مظاہرین نے پاکستان پر ڈراؤن حملوں کے خلاف مظاہرہ کیا تھا ، وہ سارے کے سارے امریکی تھے اُن مین کوئی بھی طالبان یا القائدہ کا حامی نہیں تھا مگر وہ سب عام معصوم انسانوں کے قتل کے خلاف آواز اُٹھا رہے تھے ، جلوس کی قیادت امریکی خاتون سینڈی شیہان کر رہی تھی اور اپنے خطاب میں اُس نے ڈراؤن حملوں کو بزدلانہ اور غیر اخلاقی قرار دیا تھا اور روبے ڈیسو نام امریکی نے جو کہ جلوس کے منتظمین میں سے تھا کہا کہ سی آئی اے خود اعتراف کر چکی ہے کہ ہر سو ہلاکتوں میں صرف ایک ہی مشتبہ ( یہاں لفظ مشتبہ استعمال ہوا ہے ) ہوتا ہے باقی تمام بے گناہ اور معصوم شہری ہوتے ہیں اور جو Collateral Damage کے زمرے مین آجاتے ہیں ۔
    آصف احمد بھٹی

  4. السلام علیکم
    محترمہ نادیہ بخاری صاحبہ ، میں آپ کی بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں اور میں تو اِسے عزاب اللہ سمجھتا ہوں کہ کسی قوم پر عزاب اللہ اُترنے سے مراد صرف یہی نہیں ہے کہ آسمان سے آگ یا پتھر برسنا شروع ہو جائے ، یا زمین زلزلوں سے ہمہ وقت متحرک رہے ، بارشیں اپنا قہر برسانے لگیں ، کسی قوم کا دو یا دو سے زیادہ حصوں میں بٹ جانا بھی عزاب کی ہی ایک قسم ہے ، قوم پر نااہل لوگوں کو مسلط ہو جانا بھی عزاب ہی کے زمرے میں آتا ہے اور دہشت گردی میں بے سبب اور بلا وجہ قتل کر دینا یا قتل ہو جانا بھی عزاب ہی ہے اور اُس قوم پر عزاب آنے سے کون روک سکتا ہے جس کے حکمران خود اپنی بیٹیاں حیوانی خصلت رکھنے والوں کو بیچ دیں ، اور عوام اُس پر احتجاج بھی نہ کریں ، جس کے معصوم بچے بوڑھے اور عورتیں بے سبب ہی قتل کر دئے جائیں اور Collateral Damage کہہ کر بات ختم کر دی جائے اور عوام بھی آمین کہہ کر چپ ہو جائے ، غیرت و حمیت کی کون سی حد ہے جو ہم نے باقی رکھ چھوڑی ہے ۔
    آصف احمد بھٹی

  5. انگریزی کا ایک مقولہ ہےکہ : my mind is made up ; do not confuse me with facts
    یعنی میرے دماغ نے تو یہ فیصلہ کرلیا ہے ۔ اب آپ مجھے حقائق بتا کر پریشان نہ کریں :
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کولیڑل ڈیمیج (collateral damage ) یعنی ضمنی جانی اور مالی نقصان کی حقیقت اور اس کے دکھ کو نہ صرف چند امریکی شہری اور پاکستان کی حکومت کے اربابِ اختیار اور اسکے تمام رہنما بھی بخوبی جانتے ہیں اور اس پر دلی دکھ کا اظہا ربھی کرتے ہیں اور اسکے باوجود پاکستانی حکومت امریکی ڈرون حملوں کو پاکستان کی بقا اور حفاظت کے لیے ضروری سمجھتی ہے اور بظاہر نہیں تو در پردہ ایسے اقدامات کی اجازت شروع ہی سے دے بھی چکی ہے ۔۔
    اب رہا ضمنی نقصانا ت کی ذمہ داری کا سوال تو اسکے ذمہ دار پاکستانی طالبان اور انکے حواری اور ہم نو ا ہی ہیں جو امریکہ اور پاکستان کے دشمنوں کو پناہ دے رہے ہیں اور اسی سلسلہ میں پاکستان بھر میں ادوھم مچارہے ہیں اور دہشت گردی بھی کررہے ہیں۔
    ۔۔۔۔
    اصل مسئلہ ضمنی نقصانات کی “ ذمہ داری سونپنے کا ہے “
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بلاگ نگار کو اپنی توانائی ، ضمنی نقصانات کے ذمہ دار طالبان کو سمجھانے میں ہی صرف کرنی چاہیے ۔
    امکان ہے کہ یہ مردود اور ملعون طالبان اور انکے سرپرست ملا ، بلاگ نگار کی بات سن لیں اور شر پسند بیرونی عناصر کو اپنے گھروں میں مہمان بنا کر رکھنا چھوڑدیں ۔ جب تک یہ نہ ہوگا ڈرون حملوں ااور انکے ذریعہ ضمنی نقصانات کے ذمہ دار طالبان ہی قرار دیے جائنگے۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  6. السلام علیکم
    محترم قاضی صاحب ، آپ یقینا اب تک یہ تو سمجھ ہی گئے ہونگے کہ میں ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہوں اور جب میں ہر قسم کی کہتا ہوں تو اِس سے مراد ہے کہ ہر وہ آدمی جو بلاوجہ کسی بھی انسان کی جان لے یا اُسے خوفزدہ کرے وہ دہشت گرد ہے ، اب اُس میں طالبان شامل ہوں یا مردود مُلا، القائدہ شامل ہو یا غیر ملکی عناصر ( چیچن و ازبک وغیرہ ) را شامل ہو یا کلعدم تنظمیں ، بلیک واٹر ہو یا سیاسی و لسانی تنظیمیں ، میری نظر میں سب برابر ہیں ، اور پھر اِس بات کا کیا ثبوت ہے کہ القائدہ یا طالبان ہی یہ سب کچھ کر رہے ہیں ؟ اگر حکومت ( یا امریکہ ) کی بات مانی جائے تو بھی کوئی کیسے یقین کر سکتا ہے کہ یہ لوگ ایجنسیز کی رپورٹ پر یہ سب کچھ کہتے ہیں سب جانتے ہیں کہ امریکہ نے عراق پر حملے سے پہلے کیا الزامات لگائے تھے مگر آج سالوں بعد بھی جب کہ وہ لاکھوں عراقیوں کو قتل کر چکا ہے اپنے الزامات ثابت نہیں کر سکا، مین نہیں کہتا کہ صدام کوئی فرشتہ تھا یقینا وہ غلط انسان تھا مگر امریکہ کو کیا حق پہنچتا تھا کہ وہ عراق پر حملہ آور ہوتا اور لاکھوں عراقیوں کا قتل کرتا کیا یہ دہشت گردی نہیں ہے ؟ نائن الیون کا واقعہ بھی ابھی تک مشکوک ہے امریکہ کے پاس کیا جواز تھا کہ وہ افغانستان پر حمہ کرے ؟ اور اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ نائن الیون میں القائدہ ملوث تھی تب بھی امریکہ اپنے مقاصد حاصل کر چکا ہے افغانستان میں سے طالبان کی حکومت ختم ہو چکی ہے القائدہ اب کہیں زمین دوز ہو چکی ہے سالوں سے اُس نے مغرب کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی اِس لیے اب امریکہ کے پاس معہ اپنے اتحادیوں کے یہان مزید رہنے کا کوئی جواز نہیں اور اگر وہ ابھی طالبان اور القائدہ سے خطرہ محسوس کر بھی رہا ہے تو بھی جو طریقہ کار اُس نے اپنا رکھا ہے وہ صرف تباہی کی طرف ہی لیکر جاتا ہے ہر ڈراون حملہ طالبان کو مزید مضموط بناتا ہے اگر سو لوگوں میں ایک مشتبہ شخص ہلاک ہوتا ہے تو باقی کے ننانوے لوگوں کے بیٹے بھائی امریکہ کے خلاف اور طالبان کے حمایت میں اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور یہی لوگ پھر ہر اُس شخص ، ادارے اور حکومت کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں جو امریکہ کی کسی بھی طرح ( جسمانی ، زبانی یا صرف خاموش رہ کر بھی ) حمایت کرے ، جب ہم ڈراؤن حملوں کی مزمت نہیں کرتے تو بلواسطہ ہم لوگ امریکہ کی حمایت ہی کر رہے ہوتے ہیں اور یہی بات تحریک طالبان پاکستان کی دہشت گرد قیادت پاکستان کی عام اور معصوم عوام کے خلاف استعمال کرتے ہیں اور اپنے لوگوں کے ہاتھوں اپنے لوگوں کو ہی قتل کرواتے ہیں ۔ ہمیں صرف طالبان ہی نہیں ہر دہشت گرد کو دہشت گرد کہنے کی اخلاقی جرائت کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ طالبان یقینا غلط ہیں مگر وہ امریکہ جاکر حملہ آور نہین ہوئے امریکہ ہی اُنکی سر زمین پر آیا ہے اب اگر کوئی اپنی سر زمین سے بیرونی مداخلت ختم کرنے کے لیے ہتھیار اُٹھاتا ہے تو وہ پھر بھی ایک اخلاقی جواز رکھتا ہے ، تحریک طالبان پاکستان یقینا غلط لوگوں کا ٹولہ ہے مگر وہ مزاحمت کا اخلاقی جواز رکھتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنی ساری توانائیاں معصوم اور بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے پر ہی لگا رہے ہیں ۔
    مجھے احساس ہے کہ میں ہمیشہ اپنا موقف درست انداز میں ابلاغ نہیں کر پاتا مجھے ہمیشہ مناسب الفاظ چننے میں ناکامی ہی ہوتی ہے مگر اُمید ہے آپ کسی حد تک میری بات سمجھ رہے ہونگے ۔
    آصف احمد بھٹی

  7. بلاگ نگار کی ضد پر تعجب ہوتا ہے کہ وہ امریکہ کی عراق اور افغانستان میں غلط قسم کی کاروائیوں کو پاکستان کے ڈرون حملوں سے جوڑنے کی ناکام کرشش کررہے ہیں۔
    یہ تو ایک تسلیم شدہ بات ہے کہ صدام کی حکومت پر حملہ وغیرہ ، امریکہ اور برطانیہ کی غلطیوں کی بنیاد پر تھا ۔
    افغانستان پر امریکہ کا حملہ کس وجہ سے ہوا وہ بھی دنیا پر ظاہر ہے کہ طالبان نے القاعدہ کی میزبانی کی تھی اور القاعدہ کے رہنماوں نے اور انکے وہ ساتھیوں نےجو اب تک امریکہ کی قید میں ہیں ۔ بار بار کہا تھا کہ امریکہ پر گیارہ ستمبر 2001 کا حملہ انہی مردودوں نےکروایا تھا ۔ اس کی وجہ سے امریکہ نے طالبان کی حکومت کا افغانستان میں خاتمہ کرنے کی مہم جوئی کی ۔ ( اس تاریخی حقیقت کو جھٹلانے کی کوشش بھی بے کار ہے )

    مگر پاکستان میں امریکی ڈرون حملے ( پاکستانی قیادت اور حکومت کی رضامندی سے ) صرف اور صرف القاعدہ اور اسکے میزبانوں کے خاتمے کے لیے ہورہے ہیں ۔ ( اس مسلمہ حقیقت کوبھی جھٹلانا بے کار ہے )

    جب بلاگ نگار یہ تسلیم کرتےہیں کہ طالبان دہشت گرد ہیں تو وہ یہ تسلیم کرنے سے کیوں انکار کرتےہیں کہ یہ ہی پاکستانی طالبان ، القاعدہ کی میزبانی کرتے ہوئے اور القاعدہ کی مدد سے پاکستان میں دہشت گردی کررہے ہیں ؟ ۔

    یہ دنیا کا قانون ہے کہ اگر کوئی فرد کسی قاتل کو جان بوجھ کر اپنےگھر میں پناہ دے اور اسکی حمایت سے مقتول کے گھروں میں جاکر دہشت گردی کرے تو وہ بھی قاتل اور مجرم سمجھا جاے گا ۔

    اس مسئلہ کا حل یہی ہے کہ طالبان اور انکے دوست ملا ان القاعدہ کے شر پسندوں کو اپنے گھر اور ملک سے نکال باہر کرے اور پاکستان میں دہشت گردی ختم کردے ورنہ ان کو اور انکے ساتھ معصوم انسانوں کو بھی ڈرون کا شکار ہونا پڑےگا۔
    اور معصوم انسانوں کے قتل ( کولیڑل ڈییمیج ) ضمنی نقصان کی ذمہ داری صرف اور صرف طالبان اور اسکے مہمان القاعدہ کے افراد پر ہی ہوگی ۔

    بلاگ نگار یہ نہ بھولیں کہ امریکہ کے ڈرون حملے پاکستانی حکومت کی مرضی اور درخواست پر ہورہے ہیں
    ۔
    بلاگ نگار کو امریکہ کومسلسل اپنی تنقید کا نشانہ بنانے کی بجائے ، فاٹا کے علاقوں میں جاکر طالبان اور القاعدہ شرپسنووں کو پاکستان سے نکالنے میں پاکستانی فوج کی مدد کرنا چاہیے ۔
    اور معصوم انسانوں کے قتل کی ذمہ داری ان مردود اور ملعون طالبان اور انکے ملا استادوں اور القاعدہ کے شرپسندوں پر ڈالنی چاہیے۔

    اگر ایسا نہیں ہوتا تو اس قسم کے بلاگ اور تبصرے بار بار دہرانے اور لکھنے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا ۔

    اگر بلاگ نگار امریکہ اور پاکستانی حکومت کے خلاف کوئی احتجاجی تحریک چلانا ہی چاہتے ہیں تو وہ پہلے ان ڈرون حملوں سے معصوم انسانوں کے قتل کی ذمہ داری طالبان پر ڈالیں ۔

  8. السلام علیکم
    محترم منظور قاضی صاحب ، سب سے پہلے تو میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہونگا کہ کم از کم آپ اِس موضوع پر اپنی رائے تحریر کرتے رہتے ہیں ، مجھے خوشی ہے کہ اختلاف رائے کے باوجود آپ میری بات کو اہمیت دیتے ہیں اور یہ آپ کے اعلی ظرف پر دال ہے ۔
    میرے محترم ، میں باقی تمام باتیں چھوڑ کر آپ کی بات پر آتا ہوں ، آپ نے فرمایا کہ !
    یہ دنیا کا قانون ہے کہ اگر کوئی فرد کسی قاتل کو جان بوجھ کر اپنےگھر میں پناہ دے اور اسکی حمایت سے مقتول کے گھروں میں جاکر دہشت گردی کرے تو وہ بھی قاتل اور مجرم سمجھا جاے گا ۔
    میرا سوال ہے کہ کیا یہی قانون طالبان کو جواز فراہم نہیں کرتا؟
    کہ وہ کسی فرد ( کرزئی انتظامیہ اور پاکستانی انتظامیہ ) کسی قاتل ( امریکہ اور اُسکے حواری ) کو جان بوجھ کر اپنے گھر میں پناہ دے اور اُسکی حمایت سے مقتول (عام افغانی عوام اور پاکستان میں ڈراؤن حملوں کے متاثرین ) کے گھروں میں جاکر دہشت گردی (ڈراؤن حملے وغیرہ ) کرے تو وہ بھی ( کرزئی انتظامیہ اور پاکستانی انتظامیہ ) قاتل اور مجرم سمجھا جائے گا ۔
    آپ بار بار طالبان کو معلون و مردود قرار دیتے ہیں ٹھیک ہے ہم مان لیتے ہیں یقینا وہ معلون و مردود ہیں مگر خدارا تصویر کا دوسرا رُخ بھی تو دیکھئے ، اگر ہم افغانستان کی بات چھوڑ بھی دیں تب بھی آپ خود مانتے ہیں کہ !
    یہ تو ایک تسلیم شدہ بات ہے کہ صدام کی حکومت پر حملہ وغیرہ ، امریکہ اور برطانیہ کی غلطیوں کی بنیاد پر تھا ۔
    اور اِن غلطیوں کے سبب لاکھوں مسلمان شہید ہوئے ہیں، اِن غلطیوں کے سبب ہی القائدہ کو پھولنے پھیلنے کا موقع ملا ہے اِن غلطیوں کے سبب ہی شدت پسندو کو کم پڑھے لکھے اور اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا موقع ملا ہے ، اور آج بھی امریکہ عراق میں موجود ہے اور اُس کی یہ موجودگی القاعدہ کو مسلسل توانائی فراہم کر رہی ہے امریکہ کے اِس کردار کی بھی تو مذمت ہونی چاہیے صرف طالبان کو ہی مردود کہہ دینے سے مسئلہ تو حل نہیں ہوگا ، ڈراؤن حملوں سے مزید اشتعال پھیلتا ہے یہ آگ مزید پھیلتی ہے اِس طرح کی کاوائیوں سے ایک نسل تو ختم کی جاسکتی ہے مگر یہ مسئلہ جو کا توں ہی رہے گا ، آج وزیرستان یا جنوبی پنجاب ہے تو ممکن ہے کل وسطی پنجاب یا سندھ اِس سے متاثر ہو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ آگ صرف پاکستان تک ہی محدود رہے گی یہ پھیل کر دُنیا کے دوسرے ممالک تک بھی جا سکتی ہے اور مغرب کے دامن سے تو دھواں اُٹھنا شروع بھی ہو چکا ہے ۔
    آصف احمد بھٹی

  9. آصف احمد بھٹی صاحب کا شکریہ کہ وہ میری باتوں کا برا نہیں مانتے اور مجھ سے امن و سلامتی کے ساتھ بات کرتے ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کم از کم انہوں نے عراق کے موضوع کو پاکستان سے الگ کردیا ، یہی غنیمت ہے ۔ اس لیے کہ امریکہ کے عراق پر حملے کی نوعیت مختلف بنیادوں پر تھی ۔ میں اس سلسلے میں یہ مانتا ہوں کہ امریکہ اور برطانیہ نے مختلف بے بنیاد بہانے بنا کر عراق پر حملہ کیا صرف اس لئے کہ اسے صدام کی حکومت بدلنا تھی اور وہاں کے تیل کے ذخیروں پر قبضہ کرنا تھا وغیرہ وغیرہ ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب رہا افغانستان پر امریکی حملے کا معاملہ تو وہ کیوں ہوا اور کس لیے ہوا ، اسکی وجوہات بھی اس بلاگ کے اوپر کے تبصروں میں موجود ہیں انکو بار بار دہرانے سے یہ تبصرہ خواہ مخواہ مزید طویل ہوجائے گا ۔
    یہ بات غور سے پڑھ لیجئے : کہ میرے خیال کے مطابق اگر امریکہ القاعدہ کے لیڈروں کو تورا بورا کے راستے سے افغانستان سے فرار ہوتے وقت ہی ختم کردیتا تو یہ جان کر کہ اس نے اپنے دشمن ( قاتل ) کا خاتمہ کردیا ہے وہ افغانستان میں افیون کے ذخیروں کے لالچ میں موجود نہیں رہتا۔ ( وہاں صرف افیون کے ذخیرے ہیں تیل کے کنویں نہیں ) ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امریکہ صرف اور صرف القاعدہ اور اسکو پناہ دینے والے طالبان کو ( خواہ وہ افغانستان میں ہوں یا پاکستان میں ) ختم کرنے کے لیے نہ صرف اپنی دولت بلکہ اپنے بچیوں اور بچوں کو قربان کررہا ہے ۔ اور اس وقت تک کرتا رہے گا جب تک اس کا اصل مقصد ( یعنی القاعدہ کی گرفتاری یا خاتمہ ) پورا نہیں ہوجاتا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    افغانستان میں امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک کی فوجیں ، افغانستانی طالبان کی نظروں میں بیرونی ممالک کی قابض افواج کا درجہ رکھتی ہیں۔ اس لیے افغانستان کے طالبان بیرونی افواج سے لڑ رہے ہیں
    جس کے جواب میں بیرونی افواج ، ان طالبان کو ڈرون حملوں کو کارزئی حکومت کی رضامندی سے مار نے کی کوشش کررہی ہیں اور ان ڈرون حملوں میں اگر معصوم شہری ہلاک ہوتے ہیں تو کارزائی کی حکومت کا امریکہ سے احتجاج حق بجانب ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    آصف احمد بھٹی صاحب سے یہی عرض ہے کہ وہ افغانستان کے ڈرون حملوں کی اور پاکستان کے ڈرون حملوں کی نوعیت میں جو فرق ہے اسکو تسلیم کریں۔
    افغانستان میں ڈرون حملوں کے بغیر امریکہ اور اسکے اتحادی افواج ، افغانی طالبان سے لڑ سکتے ہیں ، اس لیے ڈرون حملوں کا افغانستان میں استعمال غیر ضروری ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان میں امریکہ اور امریکہ کی اتحادی افواج ،پاکستانی طالبان سے نہیں لڑرہی ہیں ۔ ان کو پاکستانی حکومت نے اس کی اجازت دی ہےکہ وہ پاکستان کی فضا اور ( چند ہوائی اڈے ) استعما ل کریں اور ڈرون حملوں سے پاکستانی طالبان کو اور انکے مہمان ( القاعدہ کے لوگوں) کو ختم کرنے کی کوشش کریں صرف ا س لیے کہ ان پاکستانی طالبان نے القاعدہ کے منحوس بھگوڑوں کو پناہ دی ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    اب رہا پاکستانی طالبان اور انکے مہمان القاعدہ کا معاملہ تو اس پر میرے پچھلے تبصرے پڑھیے جن میں بار بار کہ رہا ہوں کہ اگر پاکستانی طالبان القاعدہ کے رہنماوں کو ( جو امریکہ کی نظروں میں اسکے دشمن ہیں ) اپنے گھروں میں نہ صرف پناہ دے رہے ہیں بلکہ ان کی ایما پر پاکستان میں صرف اس واسطے دہشت گردی پھیلارہے ہیں کہ پاکستان امریکہ کا اتحادی ملک ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان احمقوں کو یہ نہیں معلوم کہ طالبان کے علاوہ تمام پاکستان کے وفادار شہری طالبان کے دشمن بن گئے ہیں اور انکے ہمیشہ کے لیے پاکستان سے دفع ہوجانےکی دعائیں مانگ رہےہیں۔ پاکستان کے شہریوں نے سوات میں طالبان کی عارضی جنت نما حکومت کی جھلک دیکھ لی ہے اور اب وہ ان مردود اور ملعون ملاوں کی شکل سے بیزار ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں پھر اپنی یہ بات دہراتا ہوں کہ اگر پاکستان کے طالبان ، امریکہ اور پاکستان کے دشمنوں کو پناہ دیتے رہینگے تو ان پر (پاکستانی حکومت کے رضامندی کے ساتھ ) امریکہ کے ڈرون حملے ہوتے رہینگے ،

    اور اگر ان ڈرون حملوں سے ضمنی نقصانات یعنی معصوم انسانوں کا قتل ہوتا ہے تو اسکے ذمہ دار پاکستانی طالبان ہیں کوئی اور نہیں اس لیے کہ یہ بزدل اور مکار پاکستانی طالبان اور القاعدہ کے رہنما ، معصوم بچوں اور عورتوں کو ڈھال بناکر اپنی جان بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔
    اگر پاکستانی قوم کو دہشت گردی کی تنبیہ اور دھونس دےکر ، طالبان اپنی مرضی پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں تو یہ انکی زبردست غلطی ہے۔
    ۔۔۔۔۔
    آصف احمد بھٹی صاحب اور انکے ہم خیال ساتھیوں سے یہی کہونگا کہ وہ سب ڈرون حملوں کی مخالفت کے ساتھ ساتھ پاکستانی طالبان کو ہی ان ڈرون حملوں کا اور انکے نتیجہ میں معصوم لوگوں کے قتل کا ذمہ دار ٹھیرائیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بر سبیل تذکرہ :
    اتفاق کی بات ہے کہ پاکستان کی حکومت بھی یہی کوشش کررہی ہے کہ وہ خود اس قابل ہوجائے کہ پاکستان کے دشمنوں پر ڈرون حملے کرے اور اسی لیے پاکستانی حکومت امریکہ سے درخواست کررہی ہے کہ وہ خود یہ ڈرون حملے نہ کرے بلکہ پاکستان کو ڈرون ہوائی جہاز دے دے تاکہ امریکہ کی بجائے پاکستان ہی پاکستانی طالبان پر ڈرون حملے کرے ۔
    ۔۔
    اگر ایسا ہو تو امریکی ڈرون حملے تو پاکستان میں نہیں ہونگے ، صرف اور صرف کیری لوگر بل کے تحت جو امریکہ امداد پاکستان کو مل رہی ہے وہی جاری رہے گی۔ جس کو غیور اور خوددار پاکستانی ( امریکہ کو گالیاں دینے کے ساتھ ساتھ ) ، ہنسی خوشی قبول کرتے رہینگے۔
    ۔۔۔۔
    بہر کیف
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  10. میرے اوپر ک تبصر ے کے آخری پیراگراف کے شروع میں : اگر ایسا ہو تو امریکی ڈرون حملے تو پاکستان میں نہیں ہونگے ، پاکستانی ڈرون حملے پاکستان میں ہونگے ۔۔۔۔۔۔۔
    پڑھیے :
    شکریہ

  11. السلام علیکم
    محترم منظور قاضی صاحب ، میرے خیال میں باہمی مکالمے کے اِس مقام پر ہمیں بحث کے متفقہ نکات سمیٹ لینے چاہیے ، جہاں تک میں سمجھا ہوں ہم میں اِن باتوں پر اتفاق ہے ۔
    1 – ہم تحریک طالبان پاکستان کی تمام دہشت گردانہ کاروائیوں کی مذمت کرتے ہیں اور اُنہیں ( تحریک طالبان پاکستان ) دہشت گرد سمجھتے ہیں ۔
    2 – القائدہ ( اگر اُس کا کوئی وجود ہے تو ) اُس کی تمام دہشت گرد کاروائیوں کی مزمت کرتے ہیں ۔
    3 – تحریک طالبان ( افغانستان ) کو امریکہ کے خلاف لڑائی کا اخلاقی جواز حاصل ہے کہ امریکہ اُن کے ملک پر قابض ہے ۔
    4 – امریکہ و برطانیہ کا عراق پر حملہ اور قبضہ غلط تھا اور وہاں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کھلی دہشت گردی ہے ۔
    5 – ڈراون حملوں میں عموما معصوم لوگ قتل ہو رہے ہیں ۔
    اب آتے ہیں اختلافی نکات پر !
    1 – ڈراؤن حملوں کے ذمہ داروں پر ہمارا اختلاف ہے ، آپ تحریک طالبان پاکستان اور القائدہ کو ذمہ دار سمجھتے ہیں ( اور مین بھی کسی حد تک ) مگر میں صرف ذمہ داروں کی بات نہیں کرتا بلکہ اُس کے بعد ہونے والی معصوم ہلاکتوں کی بھی سخت مزمت کرتا ہوں ۔
    2 – آپ تمام طالبانی دہشت گردوں کا خاتمہ چاہتے ہیں اور میں ساتھ ساتھ دہشت گردی کے اسباب کا خاتمہ بھی چاہتا ہوں ۔
    3 – آپ مُلاؤں ( یہاں یقینا آپ کی مراد القائدہ ہوتی ہے ) کو معلون و مردود کہتے ہیں اور میں کسی بھی کلمہ گو کو مردود نہیں کہہ سکتا البتہ اُنکی غلط کاموں پر اُنکی سخت مذمت کرتا ہوں ۔
    مین نے اپنی سمجھ کے مطابق اتفاقی اور اختلافی نکات علیحدہ کر دئیے ہیں آپ بھی ایک نظر ڈال لیں اور اگر کہیں مجھ سے بھول چوک ہو گئی ہو تو نشاندہی کر دیں یا اِن نکات کے علاوہ بھی اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کچھ اور نکات شامل کیے جا سکتے ہیں تو مہربانی فرما کر اُنکی بھی نشاندہی کر دیجئے ۔
    ایک چیز اور جو آپ اکثر اپنے تبصروں میں تحریر کرتے ہیں کہ ڈراؤن حملے پاکستانی حکومت کی اجازت سے ہو رہے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حکمرانوں سے پہلے والے تو غاصب تھے اور وہ ایسی کوئی بھی اجازت دینے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں رکھتے تھے اور موجودہ حکمران بھی ایک معاہدے کے تحت تخت نشین ہوئے ہیں ، یہ بھی عوامی امنگوں کی درست ترجمانی نہیں کر تے اِس لیے اِن کی ہمنوائی بھی کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ ( یہ میری ذاتی رائے ہے )
    آصف احمد بھٹی

  12. آصف احمد بھٹی صاحب نے میری پانچ باتوں سے شروع شروع میں اختلاف کیا اب وہ اتفا ق بھی کرتے ہیں مگر اس اتفاق میں اگر اور مگر کی شرایط بھی لگادیتے ہیں۔ جن پر میں بحث و تکرار کرکے مزید توانائی صرف کرنا نہیں چاہتا ۔
    ان کے مفروضات اور انکے نتائج حقائق کی عکاس ہیں یا نہیں وہ تو تاریخ ہی بتائے گی ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    انکی تین اختلافی باتیں یہ ہیں:
    انہوں نے کہا :
    1“ ۔ڈراؤن حملوں کے ذمہ داروں پر ہمارا اختلاف ہے ، آپ تحریک طالبان پاکستان اور القائدہ کو ذمہ دار سمجھتے ہیں ( اور مین بھی کسی حد تک ) مگر میں صرف ذمہ داروں کی بات نہیں کرتا بلکہ اُس کے بعد ہونے والی معصوم ہلاکتوں کی بھی سخت مزمت کرتا ہوں ۔“

    میرا جواب :
    آپ جب تحریک طالبان پاکستان اور القائدہ کو “ کسی حد تک “ ہی سہی ڈرون حملوں کے ذمہ دار سمجھتے ہیں تو پھر انہی کو قابل مذمت سمجھتےہوئے “ معصوم ہلاکتوں “ کا ذمہ دار سمجھنا چاہیے ۔
    انکا “ صرف ذمہ داروں کی بات نہیں کرتا “ کہنا کہاں تک درست ہے ۔؟
    جو ذمہ دار ہیں وہی قابلِ مذمت بھی ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    آصف احمد بھٹی صاحب نے کہا :

    2“ – آپ تمام طالبانی دہشت گردوں کا خاتمہ چاہتے ہیں اور میں ساتھ ساتھ دہشت گردی کے اسباب کا خاتمہ بھی چاہتا ہوں ۔“
    میرا جواب :
    یہ آصف احمد بھٹی ( میں آصف زرداری لکھتے لکھتے بچ گیا ) صاحب نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ میں دہشت گردی کے اسباب کا خاتمہ نہیں چاہتا ؟
    میں تو شروع ہی سے دہشت گردی کے اسباب یعنی پاکستانی طالبان کا القاعدہ کو پناہ دینا اور انکی مدد اور انکے حکم پر پاکستان میں دہشت گردی پھیلانا ہی دہشت گردی کے اسباب اور وجوہات سمجھتا ہوں ۔
    ڈرون حملے تو ان اسباب کا نتیجہ ہیں ۔
    دہشت گردی کے اسبا ب کا خاتمہ جتنی جلد ی ہو اتنا پاکستان کے لیے اچھا ہے۔ ورنہ امریکی ڈرون کی بجائے پاکستانی ڈرون حملوں کا سلسلہ چلتا رہے گا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آصف احمد بھٹی صاحب کا تیسرا اختلاف:
    “ 3 – آپ مُلاؤں ( یہاں یقینا آپ کی مراد القائدہ ہوتی ہے ) کو معلون و مردود کہتے ہیں اور میں کسی بھی کلمہ گو کو مردود نہیں کہہ سکتا البتہ اُنکی غلط کاموں پر اُنکی سخت مذمت کرتا ہوں ۔“
    میر ا جواب :
    میں ان سب کو ملعون و مردود کہتا ہوں خواہ وہ کلمہ گو ہوں یا چھ وقت کے نمازی ( تہجد کو ملا کر) اور سات حج کرکے اور روزہ ، اور زکوٰتہ کی پابندی کے باوجود ، معصوم بچوں کو مصنوعی جنت کی سیر کراکے انکا دماغ ماوف کرتے ہیں اور انکو خود کش حملوں کی ترغیب دیتے ہیں اور انکے ذریعہ معصوم انسانوں کو شہید کیا کرتے ہیں۔ ( میرا ایک بھتیجہ ان مردودوں اور ملعونوں نے تو شہید کردیا ۔ اب میں انکو مردود اور ملعون نہ کہوں تو کیا ان کو سجدہ کروں ؟ )
    ۔۔۔۔۔۔
    امید کہ آپ میرے جوابات سے مطمئن ہوگئے ہونگے ۔
    ۔۔۔۔۔۔
    اب رہی آپ کی آخری (ذاتی رائے ) جو آپ نے اس طرح کہی ہے :
    “ ایک چیز اور جو آپ اکثر اپنے تبصروں میں تحریر کرتے ہیں کہ ڈراؤن حملے پاکستانی حکومت کی اجازت سے ہو رہے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حکمرانوں سے پہلے والے تو غاصب تھے اور وہ ایسی کوئی بھی اجازت دینے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں رکھتے تھے اور موجودہ حکمران بھی ایک معاہدے کے تحت تخت نشین ہوئے ہیں ، یہ بھی عوامی امنگوں کی درست ترجمانی نہیں کر تے اِس لیے اِن کی ہمنوائی بھی کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ ( یہ میری ذاتی رائے ہے )“

    میر ا جواب :
    یہ آپ کی ذاتی رائےہے : اس میں سابقہ اور موجودہ حکمرانوں پر تنقید کی گئی ہے ۔ سابقہ حکمران تو آمر تھا مگر موجودہ حکمران تو جمہوریت کے نمائیندے ہیں یعنی عوام کی اکثریت نے انکو منتخب کیا ۔
    اس پر جاوید اختر کا شعر یاد آتا ہے :
    اب کیا سوچیں کیا ہونا ہے جو ہوگا اچھا ہوگا
    پہلے سوچا ہوتا پاگل ، اب رونے سے کیا ہوگا
    ۔۔۔۔
    امید کہ آیندہ انتخابات میں جمہور صحیح رہنماوں کو منتخب کرے گی یہ میراخیال خام اور ایک ایسا خواب ہے جو شاید شرمندہ ء تعبیر نہ ہو ۔ اگر یہ خواب پورا بھی ہواتو شائد میں اسکے تعبیر دیکھنے کے لیے اس دنیا میں موجود نہ رہوں۔
    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  13. جناب آصف احمد بھٹی صاحب، میں یہاں بلاگ میں اس لیئے لکھ رہا ہوں کہ جو ای میل آپکی ہمارے پاس ہےasif@trends.com.kwاس پر میں کوئی 5 ای میل بھیج چکا ہوں جو واپس آ جاتی ہیں۔ اگر کوئی فعال ای میل ہے تو پلیز ہمیں ارسال کریں۔
    کہنا یہ ہے کہ آپ اپنی ادبی چیزیں براہ راست زرقا مفتی صاحہ کو اور کلام براہ راست ڈاکٹر نگہت صاحبہ کو ارسال کیا کریں کیونکہ وہ ہی ان شعبوں کی نگران ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *