آج بہت عرصے کے بعد مجھے اپنے محترم ڈاکٹر وزیر آغا صاحب کی طرف جانے کا موقع ملا، آغا جی سے بہت سی باتیں ہوئیں لیکن ساری باتوں میں جس بات نے میرے دل کو جکڑ لیا وہ یہ تھی،، آغا جی فرمانے لگے کہ دوستی اس وقت تک مضبوط رہتی ہے جب تک دوست قریب ہوں اور اگر کسی وجہ سے دور ہو جائیں، چاہے وہ دوری ذریعہ معاش کی تلاش ہی کیوں نہ ہو، ہم در اصل اپنے ان دوستوں کو فکسڈ ڈیپازٹ سمجھتے ہیں جو ہم سے دور ہوتے ہیں کہ جیسے ان میں روز بروز محبت بڑھ رہی ہو،حالانکہ ایسا نہیں ہوتا جب ایک دوست دوسرے دوست سے لمبی جدائی کے بعد ملتا ہے تو وہ حالات و واقعات کی وجہ سے بالکل تبدیل ہو چکا ہوتا ہے، بالکل ایسے ہی جیسے ہم روز اپنی زندگی میں کئی مرتبہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اور کئی مرتبہ اسے بدلتے ہیں۔ اسی طرح آپ کا دور بیٹھا ہوا دوست نہ جانے کن حالات سے گزرتا ہے۔ جب آپ اتنا بدلتے ہیں تو پھر دوستوں سے محبت کا تقاضا کیسا۔ جب میں نے آغا صاحب کے منہ سے یہ بات سنی تو مجھے بہت شرمندگی ہوئی اور اچانک مجھے اپنے عالمی اخبار کے وہ محترم دوست یاد آئے جنہوں نے ہمیشہ میری ہمت بندھائی۔ عالمی اخبار میں تاخیر سے لکھنے پر اپنے دوستوں سے معذرت چاہتی ہوں،اور کوشش کروں گی کہ اگلی مرتبہ ایسی غلطی نہ ہو۔۔۔

پروردگار وزیر آغا صاحب جیسے صاحب طرز انشا پرداز کو ہمیشہ صاحب عزت رکھے انکی ایک ہی بات نے ہمیں ہماری نادیہ بخاری واپس دلوا دی. بس اب نادیہ جی کسی دن ناصر زیدی کو بھی اپنے ساتھ میرے بزرگ وزیر آغا کے پاس لے جائیے گا. ہو سکتا ہے کہ انکی ہی کوئی بات ناصر زیدی کی سمجھ میں آ جائے. میں نے کئی برس پہلے ایک کالم اسی موضوع پر لکھا تھا کہ دوستی دراصل سرمایہ کاری ہے لیکن ہر سچے رشتے کی طرح یہ بھی یکطرفہ ٹریفک نہیں ہے.
السلام علیکم محترم صفدر ھمٰدانی صا حب ویسے مجھے یہ جان کر خوشی ھوئی کہ اج جس موضوع پر بات کی اس پر اپ پہلے ہی روشنی ڈال چکے ہیں ۔۔۔۔اغا جی کی کیا بات ہے اج مجہے بتا رہے تھے کہ وہ ماشااللہ 88سال کے ہو چکے ہیں لیکن مہمان نواز اتنے ہیںکہ اج بھی وہ اپنے ہاتھ سے چائے بنا کر پلاتے ہیں ۔۔ناصر زیدی تو پتہ نہیں اج کل کہاں غائب ہیں جب میری چھٹی ہو رہی ہوتی ہے تو ان کی آمد ہو رہی ہوتی ہے ان کے انگن میں ایک پیارے سے پھول کا اضافہ ہوا ہے جس کا نام میںنے تو لڈو رکھا ہے بس روز یہی پوچھتی ہوںناصر لڈو کیسا ہے وہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں اللہ کا شکر ہے ۔۔۔۔۔۔۔
چند ایک استثناء کے علاوہ تقریباً کوئی بات بھی مطلق نہیں ہوتی
بے شک ڈاکٹرآغا صاحب کا کہا درست ہے لیکن مطلق نہیں، یعنی کچھ مثالیں مختلف بھی مل جائیں گی
دو بھائی ہیں جو میرے دوست ہیں، میں تیسری جماعت میں ان میں سے بڑے بھائی کا ہم جماعت تھا، ان میں سے چھوٹا ہم سے ایک جماعت پیچھے تھا یعنی دوسری میں تھا، ان دونوں سے میری دوستی کو اب الحمد للہ 43 سال ہو چکے ہیں، ہماری ملاقات ہر 5 یا 6 یا 10 سال بعد ہوتی ہے آخری ملاقات جنوری 2009 میں 12 سال بعد ہوئی تھی، ہماری اولاد جوان ہو چکی ہے، کبھی فکسڈ ڈپازٹ کا خیال تک نہیں گزرا، بے شک دوستی میں اضافہ نہیں ہوا، لیکن بخدا کمی بھی نہیں ہوئی، شکراً للہ –
پنجابی کی ایک ضرب المثل ہے کہ اگر برتن پاس پاس رکھے ہوں تو وہ آپس میں ٹکرائیں گے، یعنی زیادہ روابط ، اختلافات کو جنم دیتے ہیں اور تعلقات کی خرابی کا اندیشہ بڑھتا ہے- کبھی کبھی دوری، دوستی رشتے ناطوں کے لیے مفید بھی ہوتی ہے
مجھے مولا علی علیہ السلام کی حدیث یاد آئی ۔۔ کیا اچھا کہا انہوں نے دوست کے بارے میں ۔۔ جیسے سمندر کوزے میں آ گیا ہو ۔۔
فر ماتے ہیں ۔۔
“برا دوست آگ کی مانند ہے ، اگر جلتا ہو گا تو آپ کو جلا دے گا اور بجھا ہو گا تو آپ کے ہاتھ کالے کر دے گا “
یعنی دوست بناتے وقت ہمیں احتیاط کی اہمیت طرف اشارہ کر دیا ۔۔۔ اب دیکھئے کہ کتنی خوبصورتی سے دوست کی حثیت واضح فرما رہے ہیں ۔۔۔کسے نے امام عالی جناب سے پوچھا کہ :دوست اور بھائی میں کیا فرق ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ بھائی سونا ہے اور دوست ہیرا ہے ۔اس آدمی نے کیا کہ یہ کیا کہہ دیا آپ نے کہ بھائی کو کم قیمت کر دیا اور دوست کو قیمتی چیز سے تشبیہ دے دی ۔۔ تو امام عالی جناب نے تبسم فرمایا اور فرمایا کہ “ اگر سونے میں دراڑ آجائے تو اس کو پگھلا کر بلکل پہلے جیسا بنایا جا سکتا ہے ۔۔جبکہ ہیرے میں اگر دراڑ آجائے تو وہ کبھی بھی پہلے جیسا نہیں بن سکتا “ ۔۔ سبحان اللہ ۔۔اچھے دوست کی مقام ۔۔
اچھے دوست کے بارے میں حضرت امام عالی جناب حضرت علی ہی فرماتے ہیں “اچھا دوست کتنی دفعہ ہی کیوں نہ روٹھ جائے اسے منا لینا چاہیئے ۔۔کیونکہ تسبیح کے دانے کتنی دفعہ کیوں نہ بکھریں چن لئے جاتے ہیں “ ۔۔۔
الحمدوللہ ہماری بلاگ فیملی تسبیح کے ایسے ہی دانوں سے پروئی ہوئی ہے ۔۔ نادیہ ۔۔ بس سنبھال رکھنے کی ضرورت ہے ۔۔ کیونکہ عالی مقام امام اعظم ہی فرماتے ہیں کہ “سب سے کمزور آدمی وہ ہے جو دوست حاصل کرنے میں ناکام ہو اور اس سے بھی زیادہ کمزور انسان وہ ہے جو ہاتھ آئے ہوئے دوست کو گنوا دے “ ۔۔
اور میری پیاری دلاری بہن یہ بھی کہوں اپنے مولا علی کی بات جاتے جاتے کہ “ لاکھوں کو دوست بنانا کوئی بڑی بات نہیں ۔۔ بڑی بات یہ ہے کہ ایسا دوست بنائیں جو تمہارا ساتھ اس وقت دے جب لاکھوں تمہارے مخالف ہوں ۔۔۔ سبحان اللہ ۔۔۔
اب دوست قیمتی سرمایہ نہ ہوا تو کیا ہوا ۔۔۔ اسے فکسڈ ڈپازٹ میں نہیں سیونگ اکاؤنٹ میں رکھنا چاہئے تاکہ ہر ماہ اپنی جمع تفریق کی رپورٹ ملتی رہے ۔۔۔
آیئے آج سےاچھا دوست بننے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔تاکہ ہمیں اچھے دوستوں کی رفاقتیں نصیب ہوں ۔۔ آمین
نادیہ بخاری صاحبہ آپ کے ذریعے ایک اہم فلسفہ سمجھنے کا.بہت شکریہ، اس اہم پوسٹکے لئے.
عبدالمناف بھائی اپ نے جو با ت کی اس سے بھی میں انکار نہیں کرتی لیکن یہاںتو اجتماعی رویے کی با تہو رہی ھے کہ جیسے نگھت نسیم صاحبہ نے کہا کہ ۔۔۔ اسے فکسڈ ڈپازٹ میں نہیں سیونگ اکاؤنٹ میں رکھنا چاہئے تاکہ ہر ماہ اپنی جمع تفریق کی رپورٹ ملتی رہے ۔۔۔
وحیداخترواحد صاحب اپ کا بہت شکریہ
واہ جی نگہت بہن، ماشا اللہ۔ الکلام الامام ، امام الکلام۔ امام کا کلام، کلام کا امام ہوتا ہے۔ آپ نےامام علی (ع) کے فرمودات پر مشتمل اتنی خوبصورت باتیں لکھیں کہ میں نے انہیں اپنے پاس محفوظ کر لیا ہے۔ خدا ان پر عمل کی بھی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین
عالمی اخبار میں ابھی دوستی کے بارے میں نادیہ بخاری کا بلاگ پڑھا تو دل یہ لکھنے کو چاہا کہ ‘‘دوستی ایسا ناطہ جو سونے سے بھی مہنگا‘‘ اوریہ واقعی درست ہے۔اگر چہ دوستی کے سامنے سونے کی بھی کوئی حیثیت نہیں لیکن شاعر کے ایک خوبصورت مصرعے کے طور پر بات دل کو لگتی ہے۔
نادیہ دراصل دوست انسان خود منتخب کرتا ہے اور یہ بہت خوبصورت رشتہ ہے۔ میرے خیال میں دوری یا دیر سے ملنے سے اسمیں فرق نہیں پڑتا۔دوست کی مجبوری یا مشکلات اگر دوسرا دوست سمجھتا ہے تو کچھ عرصے کے لیئے اگر اس سے کوئی رابطہ نہیں بھی رہتا تو اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ دوستی کا رشتہ جاتا رہا۔ بامعنی اور بغیر مفاد کی دوستی اکثر بہن بھائیوں کے رشتے سے بھی بڑھ کر ہوتی ہے۔ دوست تو وہ ہے جو صرف بُرے وقت میں ہی نہیں بلکہ ہر وقت کام آئے۔اگر کسی محفل میں کوئی آپ کے دوست کے خلاف بات کرے تو اسے روک دیں۔ دوستی بلاشبہ یکطرفہ ٹریفک نہیں بلکہ بہر دو جانب رابطے اور تعلق کا نام ہی دوستی ہے
سیدمصباح حسین صا حب اپ نے درست فرمایا کہ امام علی (ع) کے فرمودات پر خدا عمل کی بھی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین
عابدہ مظفر صا حبہ ہم بھی تو یہی کہہ رہے ہیںکہ دوستی بلاشبہ یکطرفہ ٹریفک نہیں بلکہ بہر دو جانب رابطے اور تعلق کا نام ہی دوستی ہے
ہم اپنے دوست سے تو کافی عرصے کے بعد بھی ویسے ہی تعلقات کی امید رکھتے ہیں جیسے کبھی کسی زمانے میں تھے چاہے ہم خود ہی کیوںنہ بدل گئے ہوں