آج کئی دن بیمار رہنے کے بعد ہوسپٹل پہنچی تو میرے مریضوں نے فرداََ فرداََ پہلے تومیرا حال پوچھا اورپھر دوا کی تفصیل لی اور اس کے بعد مجھے جی کھول کر مشورے دئے اور خوب جی کھول کر ہوسپٹل کو بھی سنائیں کہ جس نے مجھے مکمل آرام نہیں کرنے دیا تھا کیونکہ میں ابھی کھانس ہی رہی تھی ۔۔۔
مجھے اپنے مریضوں سے بے انتہا محبت ہے ۔۔ وہ جو اپنے ہوش و حواسوں سے بیگانہ صرف ایک نکتہ پر مرکوز رہتے ہیں ، جو چاہے اچھا ہو یا نہ ہو لیکن ان کے لئے ان کی جمع پونجی ہوتی ہے ۔۔ کسی مریض کا پوری رات سونا میرے لئے کسی خوشخبری سے کم نہیں ہو تا ۔۔ کسی کا لبوں پر لپسٹک لگا لینا ایک امید کی سرخی بن کر میرے چہرے پر ناچنے لگتی ہے تو کبھی انکا کھانا کھانے ڈایئنگ روم کی طرف قطار لگانا مجھے سکون دیتا ہے ۔۔۔۔
کیون شیلنگ انہی مریضوں میں سے ایک مریض ہے جو پہلی بار ملا تو مجھ سے بے انتہاخفا تھا ۔۔ اور آتے ہیں مجھے صلواتیں سنائی تھیں ۔۔۔وجہ یہ تھی کہ ہفتہ پہلے اس کی دوست میری زیر علاج تھی اور میں نے اسے منع کر دیا تھا کہ وہ کیون کے ساتھ نہیں جا سکتی ۔۔ کیون کا کہنا تھا کہ میں اسے برا انسان جانتی ہوں اس لئے اسے منع کیا تھا ۔۔۔ میں نے اسے اپنی بات سمجھائی کہ ایسا کچھ نہیں تھا بلکہ اس کی دوست انتہائی بیمار تھی اور اس حالت میں نہیں تھی کہ وہ اکیلا اسے سنبھال پاتا ۔۔۔ پھر اور بہت ساری باتیں ہوئی جسے کیس ہسٹری کہتے ہیں وہ سارے مراحل طے ہوئے ۔۔ یوں کیون کے سارے گلے شکوے ختم ہوگئے ۔۔ اور تیزی سے روبصحت ہونے لگا ۔۔
کل جب اس نےبھی میرا حال پوچھا اور باتوں باتوں میں اچانک ہی بولا ۔۔۔ ڈاکٹر تم جب پریشان ہوتی ہو کیا کرتی ہو ؟؟؟۔۔۔
سوال اتنا اچانک تھا کہ ایک سیکنڈ کو جواب نہیں آیا ۔۔۔ پھرزرا سوچا تو کئی قرانی حوالے یاد آئے ۔۔ حضور اکرم کے ارشادات دماغ میں گونج گئے ۔۔ مولا علی کی حدیثوں سے لے کر کئی فلاسفر یاد آئے ۔۔۔ پر میں چپ تھی ۔۔۔۔ کیونکہ ان میں سے کوئی بھی میرے عمل میں نہیں تھا ۔۔ خود احتسابی سے میرا دکھ سوا ہو رہا تھا۔۔
کیون کہہ رہا تھا وہ سب سے زیادہ اداس اس دن ہوا تھا جب اس کی بیٹی نے اسے کہا تھا کہ ڈیڈی مجھے فون مت کیا کرو ۔۔ وہ اس دن مصیبت میں آ گیا تھا جب اس کی بیوی نے اس کا سامان گھر سے باہر رکھ دیا تھا ۔۔۔ اس نے کہا کہ وہ اس دن جینا نہیں چاہتا تھا جب اسے پتہ چلا کہ اس کے سارے دوست اسے یہ کہہ کر چھوڑ کر جا چکے ہیں کہ وہ زہنی طور پر بیمار انسان ہے اور جب وہ بہت دکھی ہوتا ہے تو شراب اور ڈرگس کا نشہ کرتا ہے جو کسی بھی شریف انسان کو زیب نہیں دیتا ۔۔۔ وہ اس دن بہت ہی رویا تھا جس دن میں نے بھی اسے برا سمجھا تھا اور اس کی دوست کے ساتھ جانے سے منع کر دیا تھا ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر تم رنج و فکر، پریشانی اور مصیبت کیا کرتی ہو؟؟؟ ۔۔۔۔
میں بہت کچھ سوچناچاہتی ہوں ۔۔ کہنا چاہتی ہوں ۔۔ کہہ نہیں پاتی کہ کیون نے مجھ سے یہ نہیں پوچھا تھا کہ “ ڈاکٹر اگر میں مصیبت میں آجاؤں تو مجھے کیا کرنا چاہئے “ اس نے تو مجھ سے پوچھا تھا کہ میں “رنج و فکر، پریشانی اور مصیبت “ میں کیا کرتی ہوں ۔۔۔۔
میری خاموشی میں شکست تھی ۔۔۔ میری آنکھوں کی نمی مجھے بےبس کر رہی تھی ۔۔۔ مجھے بھی سچ سچ کہنا تھا ۔۔۔۔۔ مجھے لگا جیسے وہ مصیبت سب سے چھوٹی ہوتی جو کسی اور پر آتی ہے ۔۔۔
کیون گٹار پراپنی بیٹی کے لئے لکھا ہوا اپنا ہی گیت گا رہا تھا ۔۔۔۔
مجھے یاد ہے میری بیٹی
تمہاری وہ چھوٹی چھوٹی باتیں
چاکلیٹ کا کھانا
روٹھنا ، منہ بسورنا
آنکھوں سے پھولوں کا گرنا
سوتے ہوئے کہنا
ڈیڈی آئی لو یو
میری بیٹی
میں جب کسی مصیبت میں ہوتا ہوں
تمہیں ہی یاد کرتا ہوں
تم میں مریم رہتی ہے
جو مرہم دیتی ہے
تم مصیبت میں راحت ہو
میری بیٹی
ڈیڈی لو یو ۔۔۔
کیون امیر تھا جو جانتا تھا کہ اسے رنج و فکر، پریشانی اور مصیبت میں کیا کرناہے ۔۔
مجھے سوچنا ہے ابھی ۔۔۔ سوچنا ہے یا پھر عمل بھی کرنا ہے ۔۔ کاش میں آج خود احتسابی سے نہ گزرتی ۔۔۔ میری بے عملی کا کچھ تو بھرم اپنی ہی نظر میں رہ جاتا ۔۔۔

بہت اہم سوال ہے جس پر غور کرنے کا وقت شاید اب ایسے ہی لوگوں کے پاس ہے جنہیں ہم بڑی بیدردی سے پاگل کہتے ہیں. ویسے ڈاکٹر نگہت صاحبہ سے شروع میں ہی عرض کر دوں کہ یہ چونکہ بیت بازی کا بلاگ نہیں اس لیئے مبصرین کی تعداد نہایت کم ہو گی.
کیون نے اگرچہ فلسفہ مضمون کے طور پر تو نہیں پڑھا لیکن وہ ذہنی طور پر فلسفی ہے.
اسکے اس گیت میں یاد کا،محبت کا،یقین کا،انسیت کا اور ادارک کا فلسفہ ہے.
ویسے میں تو رنج و فکر، پریشانی اور مصیبت میں بس یہی پڑھتا ہوں
استغفراللہ ربی واتوب الیہ
اور ان دنوں کو مستقل اور تواتر سے پڑھنا پڑتا ہے.
پیاری نگھت نسیم صاحبہ یہ کیا بیماری اور اپ پر ارے نہیں اپ بھی میرے والا کلیہ استعمال کریں جب بھی بیماری میری طرف بڑھنے لگتی ہے میں اس پر حملہ کر دیتی ہوں تو میں اپنی پیاری نگھت نسیم صاحبہ کو بھی یہی مشورہ دوں گی ۔۔۔۔۔
مجھے کیون کی بیٹی کے اس سخت رویے پر دکھ ھے اللہ بہتر کر گا
میں مشکل میں ناد علی پڑھتی ہوں اور اللہ کو یاد کرتی ہوں اور کیون کے لئے بھی دعا گو ہوں
ماشاللہ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو جانتے ہیں کہ کس وقت کیا کرنا ہے ۔۔
محترمہ بہن جی ! آپ چونکہ ڈاکٹر ہیں اس لیے آپ کا ہاتھ ہمیشہ معاشرے کی دکھتی رگ پر ہوتا ہے اور معاشرے کی بنض پر بھی، پہلے محاورے سے میرا مطلب یہ ہے کہ آپ کی بات انسانیت کی کمزوریوں کے بارے میں ہوتی ہے اور دوسرے محاورہ سے مراد یہ ہے کہ آپ انسانوں کے جذباتی مسائل کو زیرِ بحث لاتی ہیں، آپ کی یہ عادت خدا جانے پیشہ ورانہ اثرات کا نتیجہ ہے یا آپ کے دل میں اللہ تعالٰی نے ایک انسانیت کا ڈاکٹر چھپا رکھا ہے، زیادہ احتمال دوسری بات کا ہے اور وہ اس لیے کہ اگر پہلی بات درست ہوتی تو دنیا کے ڈاکٹروں کی اکثریت کو آپ کی طرح پاک دل ہونا چاہیے تھا، گھوم کر چلیں وطنِ عزیز کی طرف تو بہت رنج سے کہوں گا کہ وہاں تو اکثریت ڈاکٹروں اور لٹیروں میں فرق بہت ہی کم نظر آتا ہے- لیکن یہ صورتِ حال صرف وطنِ عزیز ہی کی نہیں بلکہ دنیا بھر میں کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد مختلف ہوا کرتے ہیں-
محترم ہمدانی صاحب کی پیشن گوئی بالکل درست ہے اس لیے کہ محترمہ بہن کی بات کو محسوس کرنے کے لیے دل بھی ویسا ہی نازک اور حساس چاہیے، مجھے کیا پڑی ہے کہ میں دنیا کے دوسرے کونے میں پڑے کسی کیون شیلنگ کے رنج و پریشانی پر سوچوں ؟ مجھے کسی بھی دوسرے شخص کے مسائل سے کیا لینا دینا ؟؟ خواہ کسی کھاتے پیتے ملک کا ایک دکھی انسان ہو جو اپنی بیٹی کو دیکھنے کے لیے تڑپ رہا ہے یا کسی ترقی پزیر ملک کا کوئی فرد جو اپنی بیٹی کے کھانے کے لیے کچھ تلاش کرتا پھر رہا ہے-
مجھے مطلب ہے صرف اور صرف اپنے مسائل سے، آخر کار میں نے نئی گاڑی بھی خریدنی ہے ابھی، اگر مرسڈیز ہو تو بہتر ہے تاکہ رقیبوں کا دل جلا سکوں، پھر میں نے بیٹے کو یونیورسٹی بھی بھیجنا ہے تاکہ لوگوں میں گردن اکڑا کر چل سکوں، بیٹی کی شادی بھی کسی کروڑ پتی گھر میں کرنی ہے، اس پر بھی زندگی بھی کی کمائی لٹانی ہے تاکہ معاشرے میں بلے بلے ہوسکے وغیرہ-
جب میرے مسائل اتنے بڑے ہیں تو مجھے دوسروں کی پریشانیوں کی طرف دیکھنے کی فرصت ہی کہاں ؟؟
جی ہاں اب آپ کا سوال کہ میں اپنی ان رنج و فکر، پریشانی اور مصیبت میں کیا کرتا ہوں؟ تو عرض ہے کہ میں الحمد للہ مسلمان ہوں، بے شک کام کا نہ سہی نام کا تو ہوں نا، میں جب بھی ایسی حالت میں گرفتار ہوتا ہوں تو اللہ کو یاد کرتا ہوں، کبھی اس سے شکوے کرتا ہوں کبھی اس کے آگے گڑگڑاتا بھی ہوں، اس کا تو فرمان ہے نا کہ ” اللہ کے ذکر ہی میں دلوں کا اطمنان ہے” بس اسی ایک آیت کا ترجمہ میرے لیے کافی ہے(نعوذ باللہ) میرے لیے اللہ تعالٰی کی ذات ہے ہی اس لیے کہ اس سے گلے شکوے کیے جا سکیں، کہ وہ مجھے نیا مکان اور نئی گاڑی وغیرہ جلدی کیوں نہیں دلواتا وغیرہ- اور اگر کبھی چار مہینوں میں ایک بار سر میں ذرا سا درد بھی ہو جائے تو فوراً شکوے شکایتیں شروع کر دیتا ہوں کہ ” یا اللہ یہ تو نے کیا کر دیا ؟ میرے سر میں آج درد کیوں ہے؟ تو مجھے جلدی شفا دے”، وغیرہ –
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ کا شکر بھی کرنا چاہیے اور خاص طور پر ان اوقات میں جب سب اچھا ہو، جب ہر طرح سے خیریت ہو، شاید یہ بات درست ہے لیکن میرے پاس اتنا وقت ہی کہاں کہ میں مثلاً نماز وغیرہ پڑھ سکوں، اللہ معاف کرنے والا ہے خبیر و علیم ہے وہ میری مجبوریوں کو جانتا ہے کہ میں کتنا مصروف ہوں، مجھے معاف کر دے گا، کیوں کہ میں مسلمان ہوں، رات سونے سے پہلے کہہ دیتا ہوں کہ “یا اللہ تیرا لاکھ بار شکر ہے” بس کافی ہے، وہ تو ہے ہی ” الصمد “، اسے میری نمازوں کی بھلا کیا ضرورت؟؟؟
شاید میں نمازیں پڑھتا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ صبح کو اگر میں اہنی نیند توڑ کر اٹھوں اور میری نیند میں خلل پڑ جائے تو دن کے باقی کام کیسے کروں گا ؟ اور نیند تو انسان کا بنیادی حق ہے، باقی نمازیں تو ٹھیک ہی ہیں پڑھنی چاہیں، لیکن سال میں ایک عید کی نماز پڑھ لینا بھی میری مسلمانیت کے ثبوت کے لیے کافی ہے.
تو یہ ہیں جناب میرے مسئلے اور ان کا حل، باقی لوگوں کے مسائل کی طرف دیکھنے کی نہ تو مجھے فرصت ہے، نہ ہی شوق ہے اور نہ ہی ضرورت- میں کیوں اس بلاگ میں لکھوں؟؟؟؟
مناف بھائی آپ نے اتنی خوبصورتی سے معاشرے کی بدصورتی لفظوں میں سمیٹی ہے کہ یوں لگا جیسے آپ نے بےحس لوگوں کی فہرست گنوا دی ہو ۔۔۔ شروع سے آخر تک ایک ایک جملہ ایک کہانی کہہ رہا ہے ۔۔۔ میری خواہش ہے کہ لوگ میرا بلاگ پڑھنے کی بجائے صرف مناف بھائی کا لکھا ہوا تبصرہ پڑھیں ۔۔ انہیں کہیں نہ کہیں اپنی تصویر ضرور نظر آ جائے گی ۔۔ اور شائد یہی موقعہ اللہ کرہم نے ہمارے سنورنے کا لکھا ہو ۔۔۔ کہ خود احتسابی ہی تو سنورنے کی طرف پہلا قدم ہوتی ہے ۔۔۔۔
پیاری نگہت
دکھ ہو یا سکھ، خوشی ہو یا پریشانی،یہ دونوں ہی انسانی زندگی کا حصہ ہیں۔
زندگی کا سکہ جس کسی کو بھی ملتا ہے اسے اس سکے کی دونوں سائیڈیں ساتھ ہی ملتی ہیں۔
پرشانی اور دکھ میں ہرشخص اسی روّیے کا اظہار کرتا ہے،جو اس نےزندگی کے مختلف تجربات سے گذرتے ہوئے اخذ کیا ہوتا ہے۔
دکھ اور پریشانیاں ہمیشہ بری نہیں ہوتیں کہ ہم ان سے جلد از جلد چھٹکارا پانے کی ہی کوشش کریں۔
یہ سورج کی دھوپ اور چاند کی چاندنی کی طرح ہوتی ہیں۔
جیسے کہ سورج کی روشنی پھلوں کو پکاتی اور میٹھا کرتی ہے اور چاند کی
روشنی اس کے سائز کو بڑھاتی اور اسے رس سے لبریز کر دیتی ہے اسی طرح
دکھ اور پریشانیاں انسان کی شخصیت کی ’’گرومنگ‘‘ کرتی اسے نکھارتی اور اس کی تراش خراش کرتی ہیں
بہترین شعر و ادب اور فنونِ لطیفہ دکھوں کی کٹھالی میں ہی پک پک کر تیار ہوتے ہیں
دنیا کے کسی بھی میدان میں عظیم اور بے لوث خدمات سر انجام دینے والے
لوگوں کے کردار، دکھوں کی بھٹی میں پک پک کر ہی تیار ہوئے ہیں
اس بھٹی میں پڑنے کے بعد ہی پتہ چلتا ہے کہ انسان کا اصل جوہر کیا تھا
اگر وہ سونا ہو تو کندن ہو جاتا ہے اور لکڑی ہو تو جل کر راکھ ہو جاتا ہے
دکھ انسانی کردار کی نوک پلک درست کرتے اسے سجاتے اور سنوارتے ہیں۔
انسان کو وسعت اور گہرائی عطا کرتے ہیں۔وہ یک سطحی اور ہلکا نہیں رہتا
بلکہ دکھ اس کی ذات کو کئی تہیں اور کئی پرتیں عطا کرتے ہیں۔
دکھ اپنے ہوں یا غیروں کے وہ ہمیشہ اپنے دامن میں بہت سی سوغاتیں
لاتے ہیں وہ انسان کو مالا مال کرنے کے لئے آتے ہیں۔
جن رشتوں کی بنیاد دکھوں پر استوار ہوتی ہے وہ بہت گہرے اور اٹوٹ ہوتے ہیں
انسان کا اصل سرمایہ وہ لوگ نہیں ہوتے جن سے ساتھ مل کر وہ ہنسا ہو اس کی اصل دولت
وہ دوست ہوتے ہیں جن کے کاندھے پر سر رکھ کر وہ رویا ہو
جانے کیسے کیسے رشتے
جانے کیسے کیسے ناطے
خود بن کر خود ٹوٹ گئے ہیں
کتنے پیارے پیارےچہرے
روٹھ گئے ہیں
چھوٹ گئے ہیں
سُکھ کا رشتہ،پیار کا رشتہ
خون کا کاروبار کا رشتہ
دل کا اور دلدار کا رشتہ
ہر اک رشتہ کچا رشتہ
درد کا رشتہ سچا رشتہ
اوہ ۔۔۔۔۔ نگہت۔تم نے کیا ٹاپک چھیڑ دیا ہے۔خیالات کا سمندر سا امڈ آیا ہے جی چاہتا ہے لکھتی ہی جاوں مگر
میری انگلیاں ساتھ نہیں دیتیں۔ ٹائپ کرنا مجھے بہت مشکل لگتا ہے۔
اللہ تعالیٰ منظور قاضی صاحب، مناف بھائی اور شاھین رضوی کو سلامت رکھے جو مجھ نا چیز پر احسان کر کے یہ کام کر دیتے ہیں
پیاری نگہت دکھوں میں ہی اللہ کا قرب ملتا ہے
دکھ بنی نوع انسان پر اللہ پاک کا عظیم احسان ہیں۔
یہ ’’ لوڈو‘‘ کی سانپ اور سیڑھی والی گیم کی وہ سیڑھی ہے جواچانک چار سے اٹھا کر چوراسی پر پہنچا دیتی ہے
ایک نظم’’ریت پر قدموں کے نشان‘‘ ارسال کر رہی ہوں جو اسی موضوع کے بارے میں ہے اب اگر چاہو تو اس کو اس بلاگ میں لگادو
بندے کے ساتھ مسلہ تب ہوتا ہے جب وہ زیادہ خود مختار بننے کی کو شش کرتا ہےکسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
جد مینوں جاچ ٹرن دی نئیں سی سارے چُکی پھردے سن
جس دن دا میں ٹرنا سِکھیا ،تھاں تھاں ڈگدا پھرنا واں
بھروسے پر خدا کے خود کو ڈھیلا چھوڑ دے عرشیؔ
شکستہ ناو کو درکار ہے پتوار سے ہجرت
عرشی ملک
السلام علیکم ڈاکٹر صاحبہ
سوال واقعی قابل غور ہے ؟ اور آپ نے اس ضمن میں خود احتسابی کا جو ذکر آپ نے کیا وہ یقینا ہم سب کے دل کی آواز ہے.
کچھ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے توفیق دی ہے کہ وہ اپنے رب کی طرف رجوع کئے رہتے ہیں .
اگر میرا پوچھیں تو آپ کا بلاگ ہی جواب ہوگا …..
یعنی اگر کوئی پوچھے کہ کیا کرنا چاہیئے تو شاید میں 2 گھنٹے کا لیکچر حوالوں کے ساتھ دے دوں
لیکن اگر کوئی پوچھے کہ تم کیا کرتے ہو تو ……………………….. کوئی جواب نہیں بن پاتا.. جو ہماری تعلیمات ہیں، اللہ کی طرف رجوع کرنے کی، نماز اور ذکر سے مدد طلب کرنے کی اس سے تو کوسوں دور ہوں.
اللہ کا کرم ہے کوئی ایسی پریشانی ہوئی نہیں کبھی کیوں کہ میں نے کبھی کوئی بڑی خواہش ہی نہیں پالی …البتہ اگر کچھ معمول سے ہٹ کر ہو جائے تو اپنے بستر کا سہارا لے لیتا ہوں 🙂
دکھ تو انسانی شخصیت کو گریس اور وقار عطا کرتے ہیں۔اگر کوئی واقعی میں دکھ کی لذت سے آشنا ہو جائے تو وہ کبھی خوشی اور وقتی لذات کی پروا بھی نہ کرے
اونی پونی قیمت دے کر سب نے سکھ خریدے
ہم نے مہنگے دام چکا کر عرشی دکھ خریدے
اب تو کتنے سالوں سے ہے اپنی دکھ سے یاری
جس پر دکھ کی چھاپ ہو عرشی ہر وہ صورت پیاری
خوشی کی میں نے دستک سن کے دروازہ نہیں کھولا
مجھے بھائی نہیں اس لذتِ آزار سے ہجرت
جو اپنے آپ سے ملنا ہے تو لازم ہے تنہائی
ہمیں راس آگئی ہر حاشیہ بردار سے ہجرت
آپ نے بھی دنیا دیکھی ہے بہت سے ایسے لوگ بھی دیکھے ہوں گے۔جو خوشی اور اچھے حالات میں تو بہت
گریٹ اور اعلیٰ ظرف دکھائی دیتے ہیں لکن کوئی بات ان کے مزاج یا مفاد کے خلاف ہو جائے
تو فوراً اخلاقیات کا وہ سطحی لبادہ جو انہوں کے اوڑھ رکھا ہوتا ہے اسے اتار پھینکتے ہیں
کرو جو نفس سے ہجرت تو ہم رستم تمہیں جانیں
بہت آسان ہے کرنا در و دیوار سے ہجرت
خدا محفوظ رکھے محفلوں سے ایسے لوگوں کی
جو کر جاتے ہیں آکر طیش میں کردار سے ہجرت
واہ جی واہ. آج تو فرشی بلاگ والوں کے ہاں عرشی بھی آئے ہوئے ہیں. میں بھی سوچ رہا رھا کہ آخر یہ بلاگ فیملی کے ہاں آج افسردہ خوشی کیوں ہے. میں نے اس لیئے بار بار عرش والوں کو فرشی بلاگ میں آنے پر اور لکھنے پر مجبور نہیں کیا کہ ایک تو عرش والے ہوتے بہت نازک مزاج ہیں اور پھر اتنی طویل نعت کہنے کے بعد کچھ سکون بھی درکار ہوتا ہے. حالانکہ نعت کہنا تو تقویت کا باعث ہوتا ہے. دراصل ہم چاہتے یہ ہیں کہ عرشی صاحبہ اشعار کے علاوہ بھی اپنی منفرد فکر کا اظہار کیا کریں جیسے مندجہ بالا تبصروں میں ہوا ہے
اچھا جانب یہ کیسا کمال کا شعر کہا آپ نے لیکن ”سالوں ” سے مجھے ہمیشہ وحشت رہی ہے.اگر آپ بھی ان ”سالوں” سے گلو خلاصی چاہیں تو اسے ”برسوں” کر لیں وزن بھی اسی طرح ” ڈھائی من” رہے گا. کیا خیال ہے؟
اب تو کتنے سالوں سے ہے اپنی دکھ سے یاری
جس پر دکھ کی چھاپ ہو عرشی ہر وہ صورت پیاری
صفدر ہمدانی صاحب کا قیمتی اور مفت مشورہ اچھا لگا۔اس مہنگائی کے دور میں مفت مشورہ بھی مل جائے تو اور کیا چاہیے۔۔میں سالوں کو برسوں کرنے پر خوشی سے راضی ہوں۔انہیں اجازت ہے کہ بلاگ پر جا کر ان ’’سالوں ‘‘ کا کچھ کریں ۔یعنی ان کو ’’برسوں‘‘کر دیں ۔۔۔ کیونکہ یہی کام مجھے نہیں اآتا
نکہت صاحبہ سلام علیکم اور مبارک باد ۔ میرے اس جملے سے شاید آپ کو ایسا لگے کہ میں بھی آپ کے بیماروں کی فہرست میں ہوں ۔ لیکن کیا کروں جن تلخ باتوں کا آپ نے ذکرکیا ہے۔اس کے لیے مبارک باد پیش کرنا ہی پڑا۔ جس انداز سےآپ نے ایک معمولی واقعہ کوعظیم سوال بنا دیا،اُسی انداز کے لیے مبارک باد۔ کیونکہ آپ مبارک باد کی قابل ہیں ۔ اللہ نے آپ کو یہ توفیق عطا فرمائی کہ آپ نے خود احتسابی بھی کی اور دوسروں کو خود احتسابی کے لیے تحریک بھی دی۔۔۔۔۔آپ کے مریض کا یہ جملہ
’’ڈاکٹر تم جب پریشان ہوتی ہو کیا کرتی ہو ؟؟؟۔۔۔‘‘
ہم جیسے تو شاید سنتے اور معمولی بات سمجھ کر یا سوادئی کی بڑ سمجھ کر بھول جاتے مگر آپ اس جملے سے کسی کے دل کے درد اور اس درد کے مداوا کی ترکیب وتدبیر کی فکر میں لگ گئیں ، یہی آپ کی وہ انسانیت دوستی ہے لیکن اس سے زیادہ یہ بات ہے کہ آپ نے قارئین کے لیے ایک سوال قائم کیا ہے۔ جو عمل کی منزل کی ابتدا ہے کیونکہ جب انسان سوچنے لگتا ہے تبھی اس کےقدم آگے بڑھتے ہیں ۔ لیکن سوچے ہی نہیں تو جمود طاری رہتی ہے۔
خدا ہمیں بھی خود احتسابی کی توفیق عطا فرمائے ۔
ڈاکٹر نگہت صاحبہ آپ نے جس موضوع کی جانب ہماری توجہ دلوائی ہے اسکا جواب دیئے بنا نہیں رہا جارہا۔اس دنیا میں آنے والے ہر شخص کو دکھ اور سکھ دونوں کے ساتھ زندگی گزارنی ہے۔میں آپکی طرح ڈاکٹر تو نہیں لیکن سکول سے لیکر ترجمان کے طور پر بہت سے لوگوں سے انٹر ایکشن ہوتا ہے۔ ڈاکٹر،وکیل یا اسی طرح دیگر مواقع پر جب میں اپنے ہم وطنوں کے لیئے ترجمان کے طور پر کام کرتی ہوں تو انکی منفی باتون کے جواب میں ہمیشہ انہیں یہی کہتی ہوں کہ اللہ کا شکر ادا کریں کہ ہزارہا لوگ ان سے بھی برے حالات میں ہیں اور وہ اپنی سوچ مثبت رکھیں۔ہر شے کے دو پہلو ہیں۔منفی اور مثبت۔لیکن مشکل حالات میں مثبت پہلو دیکھنے کی کوشش کریں۔مثال کے طور پر اگر کسی کی کار کا حادثہ ہوا ہے تو وہ اسکا شکر کرے کہ اسکی جان سلامت ہے اور ہاتھ پاؤں کام کر رہے ہیں یا پھر بینائی نہیں گئی اور ان لوگوں کو دیکھ کر شکر کریں کہ جو وہیل چیئر پر ہیں اور دوسروں کے مرہون منت ہیں۔میں خود بھی اسی نہج پر سوچتی ہوں کہ ہمارے ہی ارد گرد ایسے لوگ بھی تو ہیں جنہیں ایک وقت کی روٹی کے لیئے نہ جانے کتنی تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔میں نے پاکستان میں خود یہ مشاہدہ کیا ہے کہ صبح کام کے لیئے نکلنے والے کو یہ یقین نہیں ہوتا کہ وہ شام میں گھر والوں کے لیئے دو وقت کی روٹی کا انتظام کر کے واپس آئے گا۔
میں جس سکول میں کام کرتی ہوں وہاں پہلی کلاس سے کالج لیول تک کے بچے ہیں اور میرا کام انہیں صرف پڑھانا نہیں بلکہ ایک پُل کا کام کرنا ہے اور دو کلچرز کی خوبیوں اور خامیوں کے مسائل کو اکثر حل کیا ہے۔اپنا ملک اور کلچر چھوڑ کر آنے والے بچوں کو بہت سے مسائل کا سامنا ہوتا ہے لیکن انہیں صرف اور صرف مثبت سوچ سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔اس لیئے میں مطمئن ہوں کہ جس پلیٹ فارم پر میں کام کرتی ہوں میں وہاں سے اپنی بساط کے مطابق درست سمت میں کام کر رہی ہوں اور ممکن ہے کہ سننے والے کو وقتی طور پر میری بات کڑوی لگتی ہو لیکن بعد میں وہ ضرور اس پر سوچتا ہے اور منفی سوچ سے دور رہنے کی کوشش کرتا ہے۔
اکرام بھائی مجھے آپ کے تبصرے کا بہت انتظار تھا کہ آپ وہاں تک پہنچ جاتے ہیں جہاں سے اصل بات شروع ہوتی ہے ۔۔ میں خود کو ابھی بھی عمل سے دور پاتی ہوں ۔۔ بلکل ایسے ہی جیسے راجہ بھائی نے کہا ۔۔
عابدہ آپا آپ کا شعبہ بہت متبرک ہے ۔۔ اور آپ نے بہت ہی اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی ہے ۔۔ بہت بہت شکریہ ۔۔
عرشی آپا اتنے خوبصورت اشعار کا شکریہ ۔۔ اللہ کریم ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے ۔۔آمین
نگہت جی
السلام علیکم
میں تو صرف اپنی بات کر سکتی ہوں
اگر کوئی اپنا دکھ اور رنج کا باعث بنے تو چھپ کر رو لیتی ہوں
مصیبت اور پریشانی میں اللہ تعالیٰ سے گلے شکوے کرتی ہوں اوراللہ ہی کا ذکر بھی کرتی ہوں اس سے سکونِ قلب حاصل ہوتا ہے
اور ساتھ ہی مصیبت کوٹالنے کی تراکیب سوچنے لگتی ہوں
انسان بہت کمزور ہے لیکن ایک دوسرے کا دُکھ بانٹ سکتے ہیں یہ بہت بڑی صفت ہے
والسلام
زرقا
میری بہت پیاری بہن اور دوست ڈاکٹر نگہت نیسم سلامت رھو ۔۔آپ رنج و فکر، پریشانی اور مصیبت میں کیا کرتے ہیں ؟ کیون شیلنگ کی بات سنکر میں بھی سوچ میں پڑ گی ھوں۔۔۔ ھم میں سے بعض لوگ، اچھے انسانوں کو اذیت دینے، کرب مسلسل میں مبتلا رکھنے میں خوشی محسوس کرتے ھیں،،میں اکثر دیکھتی ھوں کہ لوگ کوشش کرتے ھیں کہ اپنی زبان سے گہرے سے گہرا زخم لگا کر دوستوں کو اور دکھہ دیا جاۓ،، رنج ، فکر، پریشانی یہ تو وہ کیفیات ھیں جو 24 گھنٹوں میں ایک ادھ بار ھر انسان کو اپنی گرفت میں لیتی ھیں۔ اس کرب مسلسل میں مبتلا رھنے والے اس مرض سے بہت آسانی سے چھٹکارہ پاسکتے ھیں۔۔،۔۔۔کسی پریشانی کے عالم میں نماز پڑھتےھوۓ مجھے تو ویسے بھی بہت رونا آجاتا ھے۔ مشکل میں کثرت سے شکر الحمداللہ پڑھ کر۔گناھوں کی توبہ کرتے ھوۓ۔ ،ھر مشکل میں نادیہ بخاری کی طرح ناد علی پڑھ کر ،کسی کی مدد کر کے بھی مجھے بے پناہ قلبی سکون حاصل ھوتاھے۔۔۔۔ ڈاکٹر خواجہ اکرام اور ،محترمہ عابدہ مظفر نے کتنی اچھی بات کی ھے۔۔اچھی بات صدقہ جاریہ ھوتی ھے۔۔۔اوراس کا بہت ثواب بھی ھے۔ دکھہ پریشانی دراصل قریبی دوستوں کی آزمائش ھوتی ھے۔۔ ایک آدھ اچھے اور سچے دوستوں سے بھی اپنے مسائل شیئر کرنے سے دل کا بوجھہ ھلکا ھوتاھے۔ مجھے یقین ھے کیون جیسے حساس لوگ اپنے دکھہ دینے والے نام نہاد دوستوں سے چھٹکارہ پاکر مکمل صحت مند ھوجایئنگے۔۔ آسودگی کشید کرنے کا ایک نسخہ یہ بھی ھے کہ اپنے آزار پہچانے والے دوستوں اور دشمنوں کو بھی دل سے معاف کریا جاۓ بارھا خوداحتسابی کے کڑے عمل سے گذرنے کی مشق ـمسلسل کے باوجود بشری کم زوریاں غالب آجاتی ھیں ،
درگاہ کی سیڑھی کوگویا پلکوں سے میں نے صاف کیا
جب عرصہ محشر سے پہلے دشمن کو میں نے معاف کیا
شاھین رضوی
معظمہ شاہین رضوی صاحبہ. بہت دنوں بعد آنے کا بھی شکریہ
جب عرصہ محشر سے پہلے دشمن کو میں نے معاف کیا…….واہ واہ. کیا کہنا. یقیقن کریں میں اکثر و بیشتر اپنی تحریروں میں اور منبر پر اس بات کا ذکر کرتا ہوں کہ اللہ پاک نے انسان میں اپنے سارے اوصاف منتقل کیئے ہیں لیکن محدود حد تک.لیکن ان سب میں عفو ودرگزر اور معاف کرنا تو بالکل اسکا ذاتی پسندیدہ ترین وصف ہے بالکل تخلیق کی طرح. دنیا میں سب سے زیادہ مشکل کام ہی تو معاف کرنا ہے. ہم آپ جو معاف کرتے ہیں تو منہہ سے بول کر کرتے ہیں اور اگر اس میں نیت کی سچائی بھی شامل ہو تو کہا کہنا. اسی لیئے تو وہ رحیم و رحمان بار بار کہتا ہے کہ اللہ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور دوست رکھتا ہے. اللہ ہم سبکو معاف کرنے والوں میں شامل رکھے.آمین
زرقا میری دوست کہاں رہ جاتی ہو ۔۔ اتنا اانتظار کیا ۔۔ ہاں تم سچ کہتی ہو میری بھی یہی کیفیت ہوتی ہے ۔۔تم نے ایک بات بہت ہی توجہ طلب کہی کہ انسان بہت کمزور ہے لیکن ایک دوسرے کا دُکھ بانٹ سکتے ہیں یہ بہت بڑی صفت ہے۔۔ واقعی انسان کی یہ صفت بہت بڑی ہے ۔۔ اگر کوئی سوچے تو ۔۔ اور پھر اسے ایمانداری کے ساتھ نبھائے بھی تو کیا کہنے ۔۔
بہت ہی پیاری شاہین تو تمہارا پی سی ڈاکٹر کے ہاں سے صحتیاب ہو کر آہی گیا ۔۔ مبارکاں جی ۔۔ تم نے بہت عمدہ کہاکہ معاف کر دینے سے رنج و الم کم ہو جاتے ہیں اور دل کا سکون بھی اسی میں ہے ۔۔ بے شک بابا کی تائید بھی دل کو لگی ۔۔۔ایک دفعہ میں نے اپنے ابا جی سے پوچھا کہ مجھے کچھ بتا دیجئے کہ مجھے سکون سے نیند آ جایا کرے ۔۔ تو ابا جی نے مجھے تلقین کی کہ روز رات کو سونے سے پہلے اپنے اللہ سے گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگوں اور اسی سے توفیق مانگتے ہوئے نئے دن کی امید جگاؤں اور پھر اسی کے صدقے، اسی اللہ کریم کی خاطر ایک ایسے شخص کو معاف کردوں جس سے میں سب سے زیادہ رنجیدہ ہوئی ہوں ۔۔۔ پھر کہا بیٹی ایک دن ایسا آئے گا کہ تمہیں کوئی تکلیف نہ دے سکے گا ۔۔۔ مشکل کشا مولا علی فرماتے ہیں کہ انسان برا نہیں ہو تا اسے سے وابستہ توقعات اسے برا بناتی ہیں ۔۔ کہیں ایسا تو نہیں ہماری تکلیفوں کا باعث ہماری توقعات ہی ہوں ۔۔مجھے اب یہ بھی سوچنا ہے ۔۔۔ بےشک خوداحتسابی کے کڑے عمل سے گذرنے کی مشق مسلسل کے باوجود بشری کم زوریاں غالب آجاتی ھیں ۔۔ اللہ پاک ہم سب اپنی پناہوں میں رکھے ۔۔ آمین
بہت محترم ومکرم صفدررضا ھمدانی صاحب۔۔ اسلام علیکم ۔۔۔ میں بحث مباحثہ سے ، اونچی آواز میں بات کرنے۔کسی کو آزار پہچانے سے۔۔کسی کا دل دکھانے سے بہت ڈرتی ھوں ۔رب کردگار نے یہ دنیا خلق ھی اس لیے کی ھے کہ ھمارا امتحان لیا جاسکے۔۔کہ ھم اس کی مخلوق سے کیسا سلوک کرتے ھیں سلام میں پہل کرنے میں دعا دینے میں کسی کے دکھہ درد میں شریک ھونا کسی حاجت مند کی مدد کرنے پر کسی مصیبت میں صبر کرنے پر، میرا رب انسان کو کیسے کیسے انعام و اکرام سے نوازتاھے۔۔ صرف اچھی بات کر کے ھی ھم اپنے دکھوں کو سکھہ میں بدل سکتے ھیں۔۔ اس نے تو ھمارے لیے صرف اور صرف آسانیاں ھی پیدا کی ھیں۔۔۔اس کو ھماری عبادت ضرورت نیہں ۔مشرقین و مغربین ۔ساتوں آسمان۔اور عرش و فرش کا ذرہ ذرہ اسکی حمد و ثنا میں مصروف ھے۔ ۔ دوستوں ۔اللہ ہم سبکو معاف کرنے والوں میں شامل رکھے.آمین
دیگر دوستوں کی طرح آپکی دعا پر آمین ثم آمین کہتی ھوں
اللہ پاک آپ سب لوگوں کو دارین میں ان نیکیوں کا اجرعطا فرماۓ۔
محتاج دعا
شاھین رضوی
میری بہت عزیز اور دردمند بہن ڈاکٹر نگہت نسیم ۔۔اللہ تعالی تم کو ھمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے دکھہ بیماری سے رنج و الم سے ھمیشہ محفوظ رکھے۔۔۔ تمھاری باتوں مین بھی شفا ھے اور ھاتھوں مین بھی۔۔ اور یقینا یہ سب تمھاری کڑی محنت کے ساتھہ تمھارے والدین کی دعاوں کا ثمر ھےاللہ پاک ۔۔۔تمھارے ھسپتال آنے والے سارے مریضوں کو شفاۓ کامل عطا فرماۓ۔۔ ،میری بہت پیاری بہن داکٹر نگہت نسیم ۔۔ شاید میری تنہا ئ نے مجھے تھوڑا سا کم زور اور خوف زدہ بھی کردیا ھے۔۔ اور پھر مجھہ جیسے خائف لوگ بہت جلد ھتیار بھی ڈال دیتے ھیں ۔۔کیا میرا یہ رویہ نارمل ھے؟ کیا میں موضوع سے ھٹ رھی ھوں ؟
نگہت بہنا کے تاترات پڑھکر میں ہی نہیں تقریبًا سب ہی ایک بار سوچنے پر مجبور ہوے ہوں گے کہ اِس پر کیا لکھا جائے ، کیوں میرے خیال میں اِس سوال کا جواب اِنسان کو اپنی پوری ذات کا احاطہ کرنے کے بعد پورے ایمان اور یقین کے ساتھ دینا پڑتا ہے، مناف بھائی نے واقعی معاشرتی بُرائیوں کا خوبصورت انداز میں احاطہ کیا ہے …
نگہت بہنا کے ہی مضمون میں پڑھا ہوا مولا علی علیہ السلام کا فرمان یاد آ گیا کہ :- جب کسی نے پوچھا کہ مجھے کس طرح معلوم ہو گا کے مجھ پار جو مُصیبت یہ پریشانی ہے وہ سزا ہے کہ آزمائیش تو میرے مولا نے فرمایا کہ اگر وہ تمھیں عبادت سے دور کر دے تئ سزا ھے اور اگر عبادت کے قریب کر دے تو وہ تمھاری آزمائیش ہے
مجھے اِس بات کا فخر ہے کے مجھ جیسے ناچیز گُنہگار انسان کو اُس ربّ الُعزت نے اپنی اِس ارضِ مُقدس پر رہنے کا شرف بخشا ہے، جب بھی کبھی کوئی آزمائیش کی یا اِمتحان کی گھڑی ہوتی ہے میں مکہّ معظمہ عمرے کی ادائیگی کے لیے چلا جاتا ہوں یا اُس شاہِ شفاعت کے در پر مدینہ منورہ حاضری ہو جاتا ہوں،اور پھر وہاں
بیتاب جبیں کو سجدے میں ثقلین کا صدقہ ملتا ہے
خوش بخت ہوں مجھ کو مالکِ قونین کا صدقہ ملتا ہے
مُجھ جیسے خاطی اِنسان کو لجپال کے در سے دیکھ قمر
میں جب بھی مدینے جاتا ہون حسنینٌ کا صدقہ ملتا ہے
مُحمد وآلِ مُحمد کے در پر حاضری دیکر جنت اُلبقیع کے دروزے پر بیٹھ کر گُنبدِ خصراں پر نظر کر کہ دُعا کرنے کا سرور ہی اور ہے ، وہاں …. جہاں …. چوکھٹ سے جو نیچے دی؛ھو تو سدرہ بھی دیکھائی دیتا یے
اور جہاں ہر فرد سر جھکاے ،آنکھوں میں اشکِ ندامت لیے درِ توبہ پر کھڑا مُعافی اور رحم کا خواست گار نظر آتا ہے، جہاں ہر زُبان سے درود و سلام کے نغمے رواں ہوتے ہیں، اُسکے حرم میں سب ایک صف باندھے کھڑے ہیں کہ جس کی نظر میں نہ کوئی امی ر ن ہ ہی غریب نہ ہی کوٰئی خاص طبقے کا ہے اور نہ ہی کوئی عام، نہ یہ تو اُس رحمت اُللعلمین کا دربار ہے جہاں سے کبھی کوئی خالی نہیں گیا ، میں خود کو خوش نصیب سمجھتیا ہوں کہ زندگی کی کشمکش میں بھی مُجھے سکون کہ یھ لمحے نصیب ہیں کہ میں درِ رسول پر حصری دیتا ہوں …اور دُخترِ رسول کو اُنکے لُٹے ہوے گھر کا پُرسہ،
مگر کیون شیلنگ کو یہ سب کس طرح سمجھاہا جایے ، وہ تو اُس معاشرے اور مادی دُنیا کا اِنسان ہے ، جہاں اصول ہی کہ جو چیز بیکار ہو جائے اُسے پھینک دو ……
گھرر میں یہی تھی چیزجو بیکار پھینک دی
بچوں نے اپنے باپ کی دستار پھینک دی