بیرونی دنیا میں پاکستان کی ندامت کا باعث ہماری پولیس

اس وڈیو پر کچھ لکھنا خود اپنی ذلت ہے. کیسی تکریم ہے ایک عام پاکستانی کی. کاش کوئی عدالت اسکا از خود نوٹس لے اور ان پولیس والوں کو بس یہی سزا سنا دے.

15 thoughts on “بیرونی دنیا میں پاکستان کی ندامت کا باعث ہماری پولیس”

  1. صفدر بھائی یہ تو ایک واقعہ ہے ورنہ وہاں تو بقول عاصمہ جہانگیر کے آجکل بھی روز ہو تا ہے۔ ہم جب وہاں تھے تو ہر تھانے میں ہو تا تھا اور ہر وقت ہوتا تھا اور سب کو بر ہنہ کر کے ہی پٹائی ہو تی تھی۔ مگر ہو تی ٹکٹکی روم میں تھی جو کہ ہر تھانے سے ملحق ہو تا تھا۔ یہ لوگ خوش قسمت تھے کہ کیمرے کی نظر میں آگئے ؟ وہاں صرف پٹائی ہی نہیں ہوتی تھی، پہلے انہیں بھاگنے کا حکم ہو تا تھا پھر بھاگتے ہوئے پولس مقابلہ کرکے فرار ہوتے ہو ئے گولی مار دی جاتی تھی۔

  2. صفدر ھمٰدانی صا حب کل سے مختلف ٹی وی چینلز پر یہ خبر اچھا خاصا رسپانس لے رہی ہے اج ھمارے پاس جو مزے کی خبر ائی ہے وہ یہ کہ ٹریفک واڈنز نے اج ایک پولیس کانسٹیبل کولاہور مغل پورہ میں ڈکیتی کرتے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا اور وہ اپنےمزید جرائم کو بھی مانا ہے جہاں پولیس چور ہو وہاںکچھ بھی ہو سکتا ہے

  3. توبہ میرے مالک ہمارے گناہوں کومعاف کر ۔۔ اتنی تزلیل وہ بھی اپنے ہی ہم وطنوں کے ہاتھوں ۔۔ وہ بھی اپنے ہی وطن میں ۔۔ وہ بھی مدد کرنے والوں کے ہاتھوں ۔۔ خدایا میرا دل کرتا ہے کہ میں پاگل ہو جاؤں اور ایسے تمام غموں اور دکھوں سے آزاد ہو جاؤں جو روزانہ مجھے اتنا دکھی کر دیتے ہیں کہ میرے جسم و جاں کی حرارت تک چھین لیتے ہیں ۔۔ بابا آپ نے صحیح کہا کہ پولیس کو تمغہ شجاعت اور عوام کو تمغہ ندامت ملنا چاہئے ۔۔ تشدت کرنا ایک زہنی مرض ہے جس میں جانے کون کون مبتلا ہے ۔۔ اور کوئی جانتا ہی نہیں ۔۔

  4. السلام علیکم
    کمال کی بات ہے اس سب کو دیکھ کر ہر یہاں لکھا ہوا پڑھکر ایک بہت ہی پرانے گانے کا ایک ٹوٹا پھوٹا سا شعر یاد آ رہا ہے ۔۔
    “اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پے بجلیاں “ مگر یہاں تو نشیمن پر بجلیاں تو چھوٹا جملہ ہے پتہ نہیں کیا کیا گرایا جا رہا ہے ۔
    بس اللہ پاکستان اور پاکستانی عوام کو خود اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔آمین

  5. پاکستان پولیس پیٹ کی آگ بھرنے، دولت کمانے، اور عہدوں میں ترقّی کی خاطر جی سر کہنے والی پتنگ کا نام ہے ، اسے اڑانے والے غنڈے، اسمگلر، بد معاش، قاتل، اغوا کار، لٹیرے، سیاسی و مذہبی لیڈر، وزیر، جاگیردار، وڈیرے، سرمایہ دار، چودھری، نواب، سردار اور اسی قسم و نسل کے دیگر لوگ ہوتے ہیں ۔

    وزیر داخلہ، آئی جی، ڈی آئی جی، ایس پی، ڈی ایس پی و انسپکٹر تک تمام معصوم لوگوں کو یہی غنڈے، بد معاش، قاتل، اغوا کار، لٹیرے، سیاسی و مذہبی لیڈر، وزیر، جاگیردار، وڈیرے، سرمایہ دار، اسمگلر، ڈاکو، چودھری، نواب اور سردار لوگ ( جنہیں عرف عام میں بڑے صاحب کہتے ہیں ) اپنی مرضی اور مطلب والے علاقوں اور تھانوں میں متعیّن کرواتے ہیں ۔ پھر اسی محکمہ کے ذریعے اپنی مرضی سے کسی شریف کو بدمعاش، اور جرائم کی دنیا کے بادشاہ کو معصوم بھی بنواتے ہیں ۔
    محکمہ پولیس اگر ان مذکورہ بالا بڑے صاحب لوگوں کی تابعداری نہ کرے تو ان کے افسران کا ڈیوٹی پر بحال رہنا بہت مشکل یا پریشانی کا باعث ہوتا ہے ۔ پولیس افسر کسی بھی جرم کی رپورٹ درج کرنے سے پہلے بڑے صاحب سے اجازت لینے کا بھی پابند ہوتا ہے ۔

    پاکستان کے ذیادہ تر چور، ڈاکو، اغوا کرنے والے اور بھتّہ خور بڑے صاحب کے ملازم، غلام، مرید اور بزنس پارٹنر ہوتے ہیں ۔ اوّل تو پولیس انہیں گرفتار ہی نہیں کرتی اگر با امر مجبوری گرفتار ہو بھی جائے تو ان پر الزامات کی قسم بہت ہلکی رکھی جاتی ہیں ۔ اگر کبھی کوئی چور ڈاکو یا بڑا مجرم بڑے صاحب کی ٹیم سے باغی ہوکر علیحدہ ہوتا ہے تو وہ کچھ ہی عرصہ بعد پولیس مقابلہ میں پار ہو جاتا ہے ۔

    یہی بڑے صاحب اپنے یا اپنی پارٹی کے مخالف لوگوں پر اسی پولیس کے ذریعے سر عام ہولناک تشدّد کرواتے ہیں ۔ چنیوٹ میں تو مرد حضرات کو ہی پولیس کے بے رحمانہ عذاب کا مزہ چکھتے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ پاکستان کے عوام تو اپنی معصوم ماؤں، بہنوں، بیویوں اور بیٹیوں کو آئے دن اپنے شہروں اور دیہات کے گلی کوچوں اور بازاروں میں سر عام اس سے بھی بد تر، وحشیانہ اور مادر ذاد برہنہ سلوک میں دیکھتے رہتے ہیں ۔

    محترم صفدر ھمٰدانی صاحب کی خواہش ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ کاش کوئی جج اس کیس کو سنے بغیر صرف وڈیو دیکھ کر ہی کسی بحث میں جائے بغیر یہ ظلم کرنے والے پولیس والوں کو بس یہی سزا اور اتنی ہی سزا دے دے جو انہوں نے ان نوجوانوں کو دی ہے یعنی ‘‘چھترول‘‘ کی سزا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    جبکہ میری معصوم اور چھوٹی سی سوچ فقط اتنی سی ہے کہ صرف پولیس کی بجائے ہر دور میں ہر قسم کے چھوٹے یا بڑے جرم پر آہنی ہاتھوں کو استعمال کرنے کا اعلان والا ڈرامہ کرنے والے تمام بے غیرت اور حرام خور بالا حکام، مذکورہ بڑے صاحب اور انکے حکم پر عمل کرنے والے ظالم پولیس افسران و دیگر عملہ کو متعلقہ واقعہ کی طرح من و عن عوامی میدان میں سزا دیئے بغیر کبھی بھی جرائم کی تعداد کم نہیں ہو سکتی ۔ کہ اللہ کے دیئے ہوئے ہاتھوں سے یہی کمینے لوگ اپنے بنک اکاؤنٹ میں عوام کی لوٹی ہوئی دولت بھرنے میں دن رات مشغول ہیں جبکہ مصنوئی آہنی ہاتھوں سے قوم و ملک کو تباھ کر رہے ہیں ۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو کراچی میں ڈاکو و قاتل کی عوام کے ہاتھوں موقع پر مارنے اور جلانے کے واقعات کی طرح ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی نہ صرف یہی صورتحال شروع ہو جائے گی بلکہ انشاءاللہ آئیندہ ڈاکو کے ساتھ پولیس اور بڑے صاحب بھی عوام کے ہاتھوں اس سزا میں شامل کر لئے جائیں گے ۔
    اسکے علاوہ اگر کوئی صاحب اس مرض کی دوا یا قلمی نسخہ اپنے پاس رکھتے ہوں تو برائے مہربانی ثواب دارین حاصل کرنے کیلئے بلاگ میں تشریف لا کر اپنی اظہار رائے سے مشکور فرمائیں ۔

    اس کربناک ماحول کی ستائی ہوئی پاکستانی مظلوم عوام سکھ کا سانس لینے کیلئے محترم ھمٰدانی بابا جی صاحب سے دست بستہ کسی زود اثر روحانی وظیفہ کی طلبگار بھی ہے ۔

  6. ابوغریب کے حوالے سے بھی ایک ڈاکیومینٹری دیکھی تھی مگر یہ اپنی پاکستانی پولیس بیغرتی کی انتہا ہے یہ.

  7. ً صفدر ھمٰدانی صاحب
    کھاں سے لکھناشروع کروں سمجھ نھیں آ رھی ،اِس قوم کی بیحسی پر کے اِس نظام پر ،کوئی نھیں بولتا پتا ھے کیوں ، کیوں کں سب کو پتا ھے کھ اگر م

  8. برادر محترم زوار قمر عابدی. سب سے پہلے تو ہمارا یہ اعزاز کہ اتنا اچھا شاعر اور اتنی اچھی فکر رکھنے والا انسان بھی ہماری بلاگ فیملی میں شامل ہو گیا ہے. مجھے زوار قمر کے بارے میں کچھ بتانے کی اس لیئے ضرورت نہیں کہ ” اور کھُل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں”. مجھے یقین ہے کہ زوار قمر اب مسلسل بلاگ پر آتے رہیں گے اور باقاعدگی سے اس فکری محفل میں حصہ لینے کے علاوہ اپنی تخیلقات بھی عالمی اخبار کے ادبی صفحے کے لیئے ضرور روانہ کریں گے.
    میں عالمی بلاگ کی انتظامیہ اور بلاگرز کی طرف سے آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں
    رہی بات یہ کہ آپ کہاں سے لکھنا شروع کریں تو اس موضوع پرجہاں سے بھی شروع کریں 63 سال سے وہی کہانی ہے. یہ وہ فلم ہے کہ اسے جہاں سے بھی دیکھیں گے یہ احساس نہیں ہو گا کہ آپ نے کوئی حصہ دیکھا نہیں ہے. سب ایک ہے.

  9. ً صفدر ھمٰدانی صاحب
    کھاں سے لکھناشروع کروں سمجھ نھیں آ رھی ،اِس قوم کی بیحسی پر کے اِس نظام پر ،کوئی نھیں بولتا پتا ھے کیوں ، کیوں کں سب کو پتا ھے کھ اگر میں بولا تو میرا بھید بھی کُھل جائےگا،سب چور ھیں کوئی چھوٹاکوئی بڑا،حمام میں سب ننگے ھیں،صفدربھائی یھاں کوئی نںیں بولے گا،یھ،،،،،یں سف پاکستان کے اصحابِکھف ھیں،اصحابِکھف کے کُتے نھیں کھوں گاکیوں کں کُتے تو پھر بھونکتے ھین،یھ تو بھنکتے بھی نھیں،،،،اِن کےگلے میں جھوٹ،رشوت،بےایمانی،حوس،اورلالچ کی ھڈی پھنس گئی ھے جو اِن کی آواز باھر نھیں نکلنے دیتی،ایک نفسانفسی کا عالم ھے،ائے خُدارحم کر اِن بےحِس لوگوں پراوراِن بےحِس حکمرانں پر میں تو سوچتا ھوں جو چنیوٹ شھر میں ھواھے پاکستان کے ھر شھر اور ھر گاوں میں ھو،،،،، اور روز ھو ،،،، شایدایساھونےسے 20کروڑ عام میں سے2کروڑ جاگ جائیں

  10. بھائی زوار قمر. اب یہ کہنا کہ ”اللہ رحم کرے گا” کیا اللہ کی رحمانیت کا امتحان لینا نہیں ہے؟ اور پھر یہ کہ آخر وہ رحیم وکریم ہم پر ہی کیوں رحم کرے کہ جو خود پر رحم کو تیار نہیں. بھائی جان،یہ ایتھوپیا،چیچنیا،روانڈا،یوگنڈا،غربت کے مارے افریقی ملک اور ملوکیت کے آہنی پنجے میں گرفتار اکثر عرب ممالک بھی تو اسی مالک الملک نے پیدا کیئے ہیں. ان پر بھی تو اسی نے رحم کرنا ہے.
    رہی بات اصحاب کھف کی کتوں کی تو حضور میں تو عام کتے کی بھی تذلیل کو تیار نہیں کہ ایک عام کتا بھی نابینا کو راستہ دکھاتا ہے، آپکے خالی گھر کی چور حکومتوں کے عہد میں بھی حفاظت کرتا ہے،بارودی سرنگوں کو تلاش کرتا ہے اور ایسے کتنے ہی نیک کام کرتا ہے جو عام انسان نہیں کر پاتا. اصحاب کھف کے کتے تو درجات کے حوالے سے بلند ہی تھے نا.
    تو ایسے ضمیر فروش لوگوں، بے درد پولیس والوں یا اپنے ہی لوگوں کی تذلیل کرنے والوں کو ”کتا” کہہ کر اس وفادار جانور کی تذلیل کیوں کی جائے.
    میں نے کچھ عرصے پہلے ایک کالم لکھا تھا جو اگر میں 63 برس پہلے بھی لکھتا تو آج سے 20 سال بعد بھی اسی طرح تازہ ہوتا.
    بے شرم حکمران اور بے شرم عوام
    http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=safdar&article=4297

  11. زوار بھائی آپ کو بلاگ فیملی میں خوش آمدید ۔۔ واہ کیا خوب لکھا آپ نے ۔۔ مزہ آ گیا ۔۔ جی آیاں نوں بھائی ۔۔

  12. محترم صفدر بھائی
    سھی کھا آپ نے خدا نے 63 برس پہلے ھم پر رحم کر کے اپنی رحمانیت کا شھکار دیکھ لیا ھے اب کیوں بھلا ھم پر وہ رحم کرے گا،ھم نے چُھوڑا کسکو ھے نھ اپنوں کو نھ غیروں کو، کھیں اسلام کے نام پر خودکش دھماکے کھیں21 صدی کے نام پر بے حیائی،ھر طرف مُنافقت ھے، ھم14 آگست تو مناتے ھیں مگر اُس جشن کے شورشرابے میں 63سال پھلے والی میری ماؤں بھنوں چیخیں کراھیں اور سسکیاں دب کر رہ جاتی ھیں، نھ ھی اُنکے آنچلوں کی سرسراھٹ سُنائی دیتی ھے اور نھ ھی معصوم بچوں کے چیخنے کی، نھ ھی اُس وقت اُنکی عصمت دری یاد آتی ھے، اور نھ ھی اُنکی مخمور آنکھوں کو اُنکے کٹے ھوئے گلے نظر آتے ھیںجشنِ آذادی کے نام پر ایک تماشھ ھوتا ھے ،
    یھ قوم کے نام نھاد سپوت اور رھبر سڑکوں پر نکل آتے ھیں اور پھر63سال پھلے والی،وھی وعدے،وھی قسمیں،سُنائی دیتی ھیں

    لوگ آنکھوں میں لیے وعدئے فردا کے چراغ
    خود کو وقفِ راہِ اُمید کیے جاتے ہیں

    یومِ آذادی پہ ہر سال ہمارے قاید
    جانے کس عہد کی تجدید کیئے جاتے ہیں

    اور مجھے 63 سال پہلے کیئے گئے اپنی ماں بہنوں کے شُکر کے سجدے فے کار نظر آتے ہیں

  13. شکریہ بہنا یہ سب آپ ہی کی تحریک کا حصہ ہے ، خاص طور پر آغا سفدر ھمدانی کا جن کے الفاظ اور جذبہء انداز ہم جیسے بےشعور لوگوں کو شعور دیتا ہے سلامت رہیں پروردیگار آپ سب کے ہمت اور حوصلے اِسی طرح بُلند رکھے آمین

  14. بھائی زوار قمر عابدی صاحب ۔ عالمی اخبار کے بلاگ میں پخیر راغلے ۔

    پاکستان کے دنگل میدان میں اشرف المخلوق ہونے کے گھمنڈ میں ہم سب انسان جنگل کے حیوانوں سے بھی بد تر باہم گتھم گتھا ہیں جسکی دھول کے گردو غبار کے اندھیرے میں تمام انسانوں کے ساتھ ساتھ بیچارے بھائی عابدی صاحب بھی مشرق مغرب شمال جنوب کی شناخت بھول کر راستہ پوچھنے پر مجبور ہیں کہ کس طرف سے سفر شروع کیا جائے ۔ جبکہ ہماری اپنی وجہ سے بنے ہوئے اس گرد و غبار کے طوفان میں ہم سب ہی اندھے ہو کر راستہ بھول کر ۔ ۔ ۔ جائیں تو جائیں کہاں ۔ ۔ ۔ گانے میں مصروف ہیں ۔

    بھائی صاحب، چاروں جانب ایک ہی حال ہے آپ کسی طرف سے بھی سفر کی چال شروع کر دیں ، دوسرے لفظوں میں زمین گول ہے اللہ کا نام لیکر چلنا شروع کر دیں آخر میں دوبارہ وہیں پہنچ جائیں گے ۔
    آپ نے فرمایا کہ ۔ ۔ ۔ ۔ حمام میں سب ننگے ہیں،۔ ۔ ۔ ۔ بھائی صاحب حمام کا رواج تو ہمارے ملک میں 60 سال پیشتر ختم ہو گیا تھا، تب سے گھر، بازار، گلی کوچوں، میدانوں، شہروں، دیہات، جنگلوں اور غرض کہ ہر ہر جگہ ہم سب ہی ننگے ہیں ۔ ہم اللہ کو بھول کر حق و باطل کی پہچان بھی بھول گئے ۔ ہماری عقل و آنکھوں پر شیطانی پردے لٹکے ہوئے ہیں ، نتیجتاً ہمیں سر عام ننگے ہونے کا احساس نہیں ہو رہا ، یا پھر اس کے مطلب کا علم نہیں ۔ آجکل ایک شیطان تو ہمیں مادر ذاد برہنہ کر کے نہ صرف دیکھ رہا ہے بلکہ ہمیں مستقبل میں بلیک میل کرنے کیلئے اور ہمیں اپنی اوقات دکھانے کیلئے ہماری مکمل ننگی فلمیں بنا کر انہیں محفوظ کر رہا ہے ۔ تا کہ آئیندہ برے معاشی حالات میں سینما گھروں میں پیش کر کے دولت اور آسکر ایوارڈ حاصل کرے ۔

    آپ نے ایک اور مرحلے پر فرمایا کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محترم صفدر بھائی، صحیح کہا آپ نے خدا نے 63 برس پہلے ھم پر رحم کر کے اپنی رحمانیت کا شھکار دیکھ لیا ھے اب کیوں بھلا ھم پر وہ رحم کرے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    میں آپ کی اس درج بالا بات سے اتفاق نہیں کروں گا کیونکہ یہ اللہ خالق و مالک کی نا شکری کے الفاظ ہیں۔ کیا یہ درست نہیں کہ اللہ رحمٰن و رحیم کا یہ ہم پر مسلسل رحم ہی تو ہے کہ ہمارے سیاہ کرتوتوں کے باوجود ہم پر سابقہ قوموں کی طرح فوری اور سخت زمینی و آسمانی عذابات نہیں اتر رہے، ہمارے ماتھوں پر چور قاتل اور زانی نہیں لکھا جا رہا ۔ ہماری شکلیں حیوانوں جیسی نہیں بنائی جا رہیں ۔ کیا یہ ہم پر اللہ کا عظیم احسان اور رحم نہیں کہ اس نے ہمیں حیوان، بے زبان اور گند گی کا کیڑا بنانے کی بجائے اپنی مخلوق میں سب سے افضل و اعلٰی بنا کر موت و حیات کے علاوہ ہر چیز پر حکمرانی اور استعمال کی طاقت عطا فرمائی ۔

    دیگر مذاہب کے ماننے والے ملکوں سے کہیں ذیادہ قدرتی نعمتیں اللہ نے مسلمان ممالک اور خصوصاً اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عطا فرمائی ہیں ۔ ہم ان نعمتوں پر اللہ کا شکر نہیں کرتے، ہم ان نعمتوں کی تقسیم اور ان کا استعمال اللہ کے حکم اور نبی کے عمل کے مطابق نہیں کرتے،اسی وجہ سے گودام پر گودام دولت سے بھرنے کے بعد بھی ہم پریشان ہی ہیں ۔ ہمارے اپنے خود کے بنائے ہوئے پریشانیوں کے میدان میں کھیل کود بند کر کے دنیا اور آخرت کی بھلائی اور کامیابی کیلئے ہمیں نفس کی غلامی کا لباس اتار کر اللہ کے احکامات اور حضرت محمّد مصطفٰی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی عملی تفسیر کا پیرھن استعمال کر کے اپنے پاک عمل سے اللہ اور اس کے آخری نبی کی خوشنودی حاصل کرنا ہو گی ۔
    اے اللہ ہمیں اپنے احکامات پر عمل کرنے والا اور شکر کرنے والا بندہ بنا لے، آمین ۔

  15. خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *