بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

آج اخبار میں ایک خبر لگاتے ہوئے مجھے بہت ہی شرمساری ہوئی ۔۔ بے اختیار منہ سے نکلا کہ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی ۔۔۔۔ خبر کچھ یوں تھی کہ پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے سماعت کے دوران قرآن کی پہلی دو سورتوں کے غلط نام بتائے جبکہ وہ اپنی دینی مدرسہ کی سند کے تعلیمی دورانیہ کا جواب بھی نہ دے سکے۔

جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آپ ایم اے اسلامیات ہیں لیکن پانچ پاروں کا ترجمہ بھی نہیں آتا ۔ آپ کو معلوم نہیں قرآن میں کتنی سورتیں ہیں ۔

جسٹس عارف حسین نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آپ پورے ایوان کی بے عزتی کر رہے ہیں، پانچ سال کیسے پورے کرنے دیں۔آپ خود مستعفی نہ ہوئے تو اس کیس کا فیصلہ کریں گے جس پر جمشید دستی نے کہا کہ وہ مستعفی ہونے کے لئے تیار ہیں۔

واضح رہے کہ جمشید دستی کے مخالف امیدوار نواب زادہ افتخار نے ان کی تعلیمی اسناد کو چیلنج کیا تھا۔

میں اس وقت سے سوچ رہی ہوں کہ جسٹس عارف حسین کو پیپلز پارٹی کے صرف ایک رکن قومی اسمبلی جمشید دستی ہی نظر آئے کہ ان کی ڈگری جعلی ہے ۔۔۔ باقی رکن قومی اسمبلی کی جاہل فوج ظفر موج تو پس منظر میں ہی رہ گئی ۔۔۔۔ کاش اس جہالت کو ختم کرنے کے لئے تاریخ کا نیا باب رقم کیا جاتا اور جاہلوں کے سربراہ صدر پاکستان کو عدالت میں کھڑا کیا جاتا اور انہیں جسٹس عارف حسین اپنے ریمارکس میں کہتے کہ آپ سمیت آپ کے حواری پورے پاکستان کی بے عزتی کر رہے ہیں، آپ سب کو پانچ سال کیسے پورے کرنے دیں۔

آپ خود مستعفی نہ ہوئے تو اس کیس کا فیصلہ اب ہم کریں گے ۔۔۔۔

ہائے مجھے کوئی دیوانہ ہی کہہ دے ۔۔۔ جنوں میں لکھ رہی ہوں کیا کیا ۔۔

27 thoughts on “بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی”

  1. آداب نسیم جی
    مجھے آپ کی بات بہت پسند آئی ہے. جاھل اعظم کا بھی احتساب ہونا چاہئے. لیکن آپ کو یہ بات بھی ماننی ہو گی کہ جس طرح کی قوم ہے اسی طرح کا سربراہ ہمیں سزا کے طور ملا ہے.

  2. سعدی بھائی عالمی اخبار کی بلاگ کی محفل میں خوش آمدید ۔۔۔ جی آیاں نوں ۔۔۔سعدی بھائی آپ نے میرے دل کی بات کہہ دی ۔۔ میں کہہ کہہ کر تھک گئی ہوں کہ مقدمہ اب چپ رہنے والی قوم پر ہونا چایئے ۔۔جو ایسے جاہلوں کی سربراہی میں بھی خاموش ہے ۔۔ پر بھائی اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان میں ابھی بھی پڑھے لکھے لوگ ہیں ۔۔ دانشور اور عالم ہیں جو اس جہالت کے خلاف جہاد کر سکتے ہیں ۔۔ ۔۔ پر ستم تو دیکھئے کہ سب کے سب چپ ہیں ۔۔ یہ بھی االلہ کریم کی سزا نہیں تو اور کیا ہے ۔۔۔ اس بار کہیں ایسا نہ ہو کہ گھن کے ساتھ گہیوں بھی پس جائے ۔۔۔
    سعدی بھائی آپ کا یوں اچانک آنا بہت اچھا لگا ۔۔۔ خوش آمدید ۔۔

  3. جعلی ڈگری، جعلی ووٹر.جعلی ہے سرکار
    جعلی پیر ہیں جعلی ملاں ، جعلی ٹھیکیدار
    جعلی ڈاکٹر،جعلی دوائیں. جعلی ہیں فنکار
    جعلی حکیم اور جعلی سرجن خاک ہو ٹھیک بیمار

    صفدر جعلی پن کی اس دنیا کی ریت نرالی
    بھوک سے لوگ مریں بیچارے حاکم گھر دیوالی

    یہ بات کوئی آج کی یا چند سال پہلے کی نہیں ہے ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ. بہت دور نہیں جاتے ورنہ میرے پاس تو 1948 کے کچھ لوگوں کا بھی ریکارڈ ہے اور پھر پاکستان میں یونینسٹ پارٹی کے کچھ مرحوم وڈیرے ارکان بھی خریدی ہوئی ڈگریوں کے زور پر حکومتیں کر چکے ہیں.
    میں نے پچھلے چند ماہ کے اخبارات سے چیدہ چیدہ خبروں کی سرخیاں جمع کی ہیں لیکن اس سے پہلے ذرا 16 جنوری دو ہزار چار کی ایک خبر کا تراشہ ملاحظہ کیجئے.

    ”سندھ ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے پیر پگاڑا کی پارٹی پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے ایم این اے محمد خان جونیجو اور سندھ اسیمبلی کے ممبر بشیر بانبھن کی اسمبلی رکنیت ختم کرکے انہیں نااہل قراردے دیا ہے-ان دونوں ارکان کو ان کی بی اے کی ڈگریاں جعلی ثابت ہونے پر نااہل قرار دیا گیا ہے-سابق سینیٹر اور معروف سیاستدان شاہنواز جونیجو کے فرزند محمد خان جونیجو کے خلاف ان کے مخالف پیپلز پارٹی کے امیدوار فدا حسین ڈیرو نے انتخابی عذرداری دائر کر رکھی تھی”.
    سرکار یہ تو تھی خبر لیکن اس خبر میں ایک نام ایسا ہے جسے پاکستان کے شریف ترین وزیر اعظم کہا جاتا ہے اور جنہیں آمر مطلق جنرل ضیا الحق نے ایک ہی ثانیے میں اسلام آباد ایر پورٹ پر ہی وزارت عظمیٰ سے اسوقت فارغ کر دیا تھا جب ہو بیرونی ملک کے دورے سے واپس اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر پہنچے تھے اور امر مطلق جنرل ضیاالحق پاکستان سے باہر دورے پر جا رہے تھے.

    اب ذرا گزشتہ چند ماہ کی بہت مختصر تعداد میں سرخیاں ملاحظہ کر لیں تو احساس ہوتا ہے کہ جیسے وطن عزیز میں ہر اونچے منصب پر فائز آدمی کی ڈگری شاید جعلی ہے. ویسے ایک بات کہوں کہ اپنے ہاں صرف ڈگری جعلی نہیں،دوائی جعلی،سرخ مرچ جعلی،تعلیمی ادارے زیادہ تر جعلی.استاد جعلی.ووٹر جعلی،نصابی کتب جعلی.حکومت جعلی،حذب مخالف جعلی، پیر فقیر جعلی، مولوی جعلی،عالم دین اکثر جعلی،ڈومیسائل جعلی ،پاسپورٹ جعلی،کرنسی جعلی،نقلی فوجی جعلی،پولیس جعلی،نظریہ ضرورت والے جج جعلی، یا مالک کیسے لکھوں کہ کئی حدیثیں جعلی …..اور کیا کیا لکھوں حتیٰ کہ شاعر ادیب جعلی

    لیجئے یہ سرخیاں کسی تبصرے کے بغیر حاضر ہیں.

    شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور میں 72 افراد کی ڈگریاں جعلی ثابت ہونے پر ختم کردی گئیں

    مڈایشیا کے دو اساتذہ فرحان احمد اور صدف رفیع کے پاس جعلی ڈگریاں تھیں

    پاکستان میں دہشت گردوں کو جعلی دستاویزات فراہم کرنے والی گھریلو صنعتیں

    پاکستان میں جعلی ڈگریوں اور سندوں کا کاروبار بھی عروج پر ہے’

    ڈاکٹرعامر لیاقت حسین کی جعلی ڈگریاں اور اُن کی تفصیلات

    مملکت خداداد پاکستان کے قا نون ساز ادارے اور ان پڑھ نمائندے … پارلیمان کے اکثر ممبران کے پاس یا تو جعلی ڈگریاں ہیں اور یا اُنہوں نے یہ ڈگریاں خریدی ہیں.

    آئی بی سی سی پچاس پچاس ہزار روپے لے کر جعلی ڈگریوں فراہم کرتا ہے … قومی اسمبلی میں موجود متعدد ایم این ایز نے بھی جعلی ڈگریاں بنوا رکھی ہیں

    ڈگریاں تیار کرنے والے گروہ سے ایک لاکھ سے زائد جعلی ڈگریاں برآمد

    وزیر پارلیمانی امور بابر اعوان کی قانونی ڈاکٹریٹ کی ڈگری جعلی ہے

    حکومت کو چاہئے کہ وہ ان لوگوں پر بھی ہاتھ ڈالے جو یہ جعلی ڈگریاں جاری کرتے ہیں … پاکستان میں جعلی ڈگریوں اور سندوں کا کاروبار بھی عروج پر ہے

    یا ارحم الراحمین

  4. السلام علیکم
    بہت بہت معزرت یہاں میں آپ سب کی علمی گفتگو میں کچھ خلل ڈال رہی ہوں۔ آپ یہاں شاید یہ بات فراموش کر رہے ہیں کے جنرل مشرف نے الیکشن لڑنے کے لئیے جب گریجویشن کی شرط رکھی تھی تو بہت سے پائے کے سیاستدان یکدم اسکیرن سے آؤٹ ہو گئے تھے اور انکی اولادیں یا پھر انکے منہ چڑہے آلائے کار سامنے آئے تھے ۔اس وقت مشرف کا ڈنڈا سخت تھا تو ڈر کے جاہل لوگ پیچھے ہو گئے تھے اور کچھ پڑھے لکھے لوگ سامنے آئے تھے ۔ پھر جب ڈنڈا ہٹا تو پھر وہی جہالت کی لاٹھی اور پاکستان کی مظلوم عوام کے ہانکا جانے لگا ۔
    موجودہ حکومت وجود میں آتے ہی پالیمنٹ سے گریجویشن کی شرط ختم کروائی گئی وہ بھی مطفقہ طور پر ۔
    نگھت نسیم صاحبہ نے بہت پیار سے یہ بات تو کہہ دی کے۔۔۔““جسٹس عارف حسین کو پیپلز پارٹی کے صرف ایک رکن قومی اسمبلی جمشید دستی ہی نظر آئے کہ ان کی ڈگری جعلی ہے ۔۔۔ باقی رکن قومی اسمبلی کی جاہل فوج ظفر موج تو پس منظر میں ہی رہ گئی ۔۔۔۔ کاش اس جہالت کو ختم کرنے کے لئے تاریخ کا نیا باب رقم کیا جاتا اور جاہلوں کے سربراہ صدر پاکستان کو عدالت میں کھڑا کیا جاتا اور انہیں جسٹس عارف حسین اپنے ریمارکس میں کہتے کہ آپ سمیت آپ کے حواری پورے پاکستان کی بے عزتی کر رہے ہیں، آپ سب کو پانچ سال کیسے پورے کرنے دیں۔““تو یہاں صرف پیپلز پارٹی ہی کیوں؟ آپکے خیال میں باقی جماعیتں جیسے کے مسلم لیگ نون ۔قاف ۔اے این پی ۔ایم کیو ایم وغیرہ یہ سب بھی پڑہا لکھا پارلیمنٹ چاہتی ہیں کیا ؟
    مشرف کو آمر ڈکٹیٹر وغیرہ کہنے والے اس کے اچھے اقدامات کی تعاریف کیوں نہیں کرتے ؟
    جس وقت پارلیمنٹ میں گریجویشن کی شرط ختم کرنے کا بل پیش کیا گیا تھا اس وقت کونسی جماعت تھی جس نے یہ مخالفت کی کے جی ہم اس بل کی مخالفت کرتے ہیں ۔ اس سے پھر ماضی کی طرح جاہل پارلیمنٹ ہوگا ؟
    بہر حال میں تو یہی کہتی ہوں کے آج جو جالی ڈگری کی وجہ سے شرمندہ ہو کے مستعفی ہو رہے ہیں یا نا اہل ہو رہے ہیں وہ بھی مشرف کی ہی دین ہے اب دیکھیں ان کے بدلے میں پارلیمنٹ میں کون آتا ہے ؟ کیونکہ اب تو وہ شرط بھی نہیں ہے ۔)

  5. پاکستان کی بیچاری سیاست دنیا میں واحد سیاست ہے جس پر وہ شخص بھی تبصرہ کرسکتا ہے جسے شاید سیاست کی تعریف بھی علم نہ ہو اور پاکستان کی تاریخ و جغرافیہ سے بھی آگاہی نہ ہو۔ یہ باکل ایسے ہی ہے جیسے اسلام مسلمانوں کے ہاتھ میں آ گیا ہے اس لیئے جس کا بھی جیسے جی چاہتا ہے اسکی تعریف کرتا اور اسے اپنے حق میں استعمال کرتا ہے۔
    جیسے پاکستانی پارلیمان میں آنے کے لیئے وراثتی سیاست اور مال و دولت کے علاوہ کسی اور معیار کی ضرورت نہیں اسی طرح شاید اب صحافی اور تبصرہ نگار ہونے کے لیئے بھی کسی بنیادی صحافتی تعلیم اور تجزیاتی رجحان کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔
    یہ صرف ایک جمشید دستی نہیں ہے بلکہ اگر کھدائی کی گئی تو ایسے دھوکہ بازوں کے ”دستے” نکلیں گے۔ سپریم کورٹ میں اس دستی کے ساتھ دو ”بے دستی” بھی ہیں۔ سپریم کورٹ کے چھ رکنی لارجر بنچ نے نذیر جٹ کے خلاف جعلی ڈگری کیس کی بھی سماعت کی۔ نذیر جٹ کے وکیل نے بتایا کہ ان کے موکل نے وفاق المدارس اور الخیر یونیورسٹی سے بی اے کیا ہے۔ جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ ڈبل ایم اے کا سنا تھا ڈبل بی اے کا پہلی بار سن رہے ہیں۔ بعد میں ذوالفقار ملوکا نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل نے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
    پاکستان کے آمر جنرل مشرف کی جماعت ق لیگ کا محمد اجمل۔ سپریم کورٹ نے مسلم لیگ ق کے رکن پنجاب اسمبلی محمد اجمل کو بھی جعلی ڈگری کیس میں آج طلب کیا تھا۔ جعلی ڈگری ثابت ہونے پر انہوں نے بدھ کو استعفیٰ دیا تھا جسے آج منظور کرلیا گیا۔
    باقی رہے نام اللہ کا

  6. السلام علیکم
    ویسے تو ہمدانی صاحب آپ نے بلکل درست کہا اور یہ حقیقت بھی ہے ہے کے صحافت کوئی بچوں کا کھیل نہیں جس سے ہم جیسے کھیلیں اور ہم جیسے بچے تو خیر نا خود کو صحافی مانتے ہیں نا ہی تبصرہ نگار ۔ہم تو وہ ہیں جو کے اپنی رائے دیتے ہیں چاہے کسی کو اچھی لگے یا بری اور شروع سے آپ ہی مجھ سمیت کئی آنے والوں کو یہی درس دیتے آئے ہیں کے جو دل میں ہو کھل کر اظہار کرو کیونکہ اپنی رائے دینے کا سب کو حق حاصل ہے اس میں چاہے کوئی ٹھیلے والا ہو کوئی پان والا ہو یا کوئی مجھ جیسا کم علم بس شرط یہ ہے کے اس کو اپنے پاکستان سے پیار ہونا ضروری ہے؟
    رہی بات یہ صحافی اور تبصرہ نگاری کی تو میری کم علمی کے مطابق یہ دونوں ہی کافی الگ الگ ہیں صحافی ہونا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جس کو آپ بخوبی جانتے ہیں مگر میں نہیں ۔اور تبصرہ کرنا ؟وہ تو ہمدانی صاحب کوئی بھی کر سکتا ہے نا ؟)جس کو کچھ غلط دیکھ کر غلط پڑھ کر دکھ ہوگا وہ اس پر اپنی سوچ اور سمجھ کا اظہار تو کرے گا نا ؟ ہاں اگر اسکے لئیے بھی کسی سند کی ضرورت ہے تو پھر معزرت پہلے میں کسی یونیورسٹی یا انسٹیٹیوٹ میں ایڈمیشن لیتی ہوں وہاں سے ڈگری لے کر پھر اپنی رائے کا اظہار کیا کرونگی ؟مگر یقین مانیں میں جمشید دستی کی طرح جعلی ڈگری لے کے نہیں آونگی بس مجھے اس یونیورسٹی یا انٹیٹیوٹ کا ایڈرس ضرور دے دیں پلیز؟
    مجھے امید ہے آپ میرے اس ‘‘ تبصرے ‘‘ کو ذاتی نہیں لیں گے ؟)
    آپکی دعاوں کی محتاج
    آپکی بیٹی جیسی
    ماریہ علی

  7. ماریہ صاحبہ.میں نے آپ کی ہدایت کے مطابق آپ کی کسی بات کو ذاتی نہیں لیا اور اگر آپ نہ بھی کہتیں تب بھی میں اسے ذاتی طور پر نہ لیتا. میں نے آپ کے تبصرے کے بعد جو تمہیدی جملے لکھے وہ قطعی طور پر آپ کے بارے میں نہیں تھے ایک عمومی بات تھی جسے شاید آپ نے ذاتی طور پر لیا جو یہ لکھا کہ ………………ہاں اگر اسکے لئیے بھی کسی سند کی ضرورت ہے تو پھر معزرت پہلے میں کسی یونیورسٹی یا انسٹیٹیوٹ میں ایڈمیشن لیتی ہوں وہاں سے ڈگری لے کر پھر اپنی رائے کا اظہار کیا کرونگی…… چشم ما روشن دل ما شاد …. مجھ سے زیادہ کس کو اس بات کی خوشی ہو گی کہ آپ ایک اور ڈگری حاصل کریں گی اور وہ صحافت سے متعلق.
    یہ بات اب جو آپ نے کہی ہے تو بتاتا چلوں کہ اظہار خیال میں اور تبصرے میں وقعی بہت فرق ہوتا ہے اور صحافتی تبصرے اور تجزیے کے لیئے تربیت اورمتعلقہ شعبے میں ڈگری کی ضرورت ہوتی ہے.
    آپ نے خود فرمایا ہے کہ…………….شروع سے آپ ہی مجھ سمیت کئی آنے والوں کو یہی درس دیتے آئے ہیں کے جو دل میں ہو کھل کر اظہار کرو کیونکہ اپنی رائے دینے کا سب کو حق حاصل ہے ….. آپ نے درست کہا اور میں آج بھی اسی رائے کا حامی ہوں اور انشااللہ تا حیات رہوں گا. آپ نے دیکھا میں نے ”اظہار” کی بات ہے جو ایک عمومی اصطلاح ہے اسکا پیشہ وارانہ رخ ”تبصرہ” کہلاتا ہے اور میں نے اوپر تبصرے کے بارے میں ہی بات کی ہے جو پروفیشنل زمرے میں آتی ہے اور صحافت میں اس تبصرے کو ”کمنٹ” اور تبصرہ کرنے والے کو ” کمنٹیٹر ” کہا جاتا ہے.
    یہ بات بھی محل نظر رہے کہ یہاں جو لوگ اظہارخیال کرتے ہیں وہ ”بلاگ” میں لکھتے ہیں اخبار میں نہیں. اخبار بلاگ سے بالکل الگ چیز ہے.
    اب ماشااللہ آپ ”ماہر دندان ” ہیں تو کیا کوئی بھی آدمی یا مجھ جیسا عطائی یہ کام کر سکتا ہے؟ قطعی نہیں. بس یہ اتنا بھی میں نے صحافت کے پیشہ وارانہ رخ کی وجہ سے لکھا ہے اور مجھے یقین ہے کہ آپ میری بات کو اپنی ذات پر بلاوجہ منطبق نہیں کریں گی اور اس موضوع پر ہم مزید بات نہیں کریں گے کیونکہ اوپر جو کچھ لکھا وہ براہ راست آپ کے بارے میں نہیں تھا.

    ہمیں جعلی ڈگریوں کے موضوع پر اس بلاگ میں توجہ مرکوز رکھنی ہو گی

  8. اسلام علیکم
    ان سب باتوں کا زمیدار کون؟
    غربت کی وجہ سے جھالت؟
    یا جھالت کی وجہ سے غربت؟
    ھماری قوم ھمے شہ سے گھنگرو بن کر بجتی رھی ھے اور بجتی رھے گی
    کبہی گوروں کے ھاتھ تو کبھی شیطان پاکستانی حکمران ۔
    اللہ نگھ بان

  9. ماریہ صاحبہ ( میرے انداز تخاطب پر حیران مت ہوں کہ مجھے بھی آپ نے پہلے کی طرح آپا کہہ کر مخاطب نہیں کیا )

    تو ماریہ صاحبہ شاید آپ نے میری بات سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔۔ زرا غور کریں میں نے لکھا ہے “ جسٹس عارف حسین کو پیپلز پارٹی کے صرف ایک رکن قومی اسمبلی جمشید دستی ہی نظر آئے ؟ ۔۔ باقی رکن قومی اسمبلی کی جاہل فوج ظفر موج تو پس منظر میں ہی رہ گئی ۔۔۔۔ اس جملے کے بعدماسوائے آپ کے ہر ایک نے میری ہی طرح اب تک یہی سمجھا ہے کہ یہ صرف پی پی پی ہی میں نہیں ہو رہا بلکہ ہر جگہ پر ہر جماعت میں جعلی پن کا عمل دخل ہے ۔۔

    پھر بابا کے تبصرے میں مزید وضاحت اور تفصیل موجود ہے ۔۔۔ ارے آپ مشرف کو اچھاکہہ رہی ہیں تو کہیئے لیکن سب آپ کی ہاں میں ہاں ملائیں۔۔ تو یہ ہاں کرنے والے کی مرضی ہے ۔۔۔ میں نے لوگوں کو صدام حسین اور ضیاالحق تک کی پوجا کرتے دیکھا ہے ۔۔۔۔۔ کسی کو کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔

    بات صرف اتنی سی ہے ماریہ صاحبہ کہ حقائق نہیں بدل سکتے وہ چاہے کوئی مانے یا نا مانے ۔۔۔ جس کے جو اچھے کام ہیں وہ ہر حال میں اچھے ہیں ۔۔ بس جو یاد رکھنے کی بات ہے وہ یہ ہے کہ اچھے کام کی تعریف ہر ایک کی ڈکشنری میں الگ ہوتی ہے ۔۔۔ یعنی دنیا میں بہت تھوڑے سے کام ایسے ہیں جو سب ہی کی نظروں میں متعبر ہوتے ہیں ۔۔ مثلا ۔۔ یہ اب آپ سوچیں کہ وہ کون کون سے کام ہیں ۔۔؟

  10. السلام علیکم
    سب سے پہلے تو ہمدانی صاحب میں اس بات کو بلکل بھی آگے نہیں بڑہانا چاہتی تھی مگر مجبورا کچھ لائنز لکھ رہی ہوں اسکے لئیے معزرت
    ۔سب سے پہلے تو ہمدانی صاحب آپ نے جس طرح تمہید باندھی تو شاید میری کم علمی کہیے یا پھر بچپنا کے مجھے یہی تاثر ملا کے آپ مجھے سمجھا رہے ہیں اس کے لئیے میں اپنی کم علمی اور بچپنے کی وجہ سے معزرت خواہ ہوں۔باقی آپ نے ایک بہت ہی اچھی بات کہی کے ۔۔‘‘آپ نے دیکھا میں نے ”اظہار” کی بات ہے جو ایک عمومی اصطلاح ہے اسکا پیشہ وارانہ رخ ”تبصرہ” کہلاتا ہے اور میں نے اوپر تبصرے کے بارے میں ہی بات کی ہے جو پروفیشنل زمرے میں آتی ہے اور صحافت میں اس تبصرے کو ”کمنٹ” اور تبصرہ کرنے والے کو ” کمنٹیٹر ” کہا جاتا ہے‘‘
    تو میں تو اظہار خیال ہی کر رہی تھی اب تک مگر اتفاق سے جب اپنا اظہار خیال پوسٹ کرنے لگی تو بٹن پر لکھا تھا ‘‘ تبصرہ ارسال کریں‘‘ تو پھر میں نے یہ سوچا کے ہم تو اظہار خیال کر رہے ہیں مگر مانا وہ تبصرہ جاتا ہے تو آپکی تمہید پڑھکر تھوڑا کنفیوز ہو گئی کے یہ شاید میری رائے کے صلہ میں آپکی طرف سے تحفہ ہے) خیر میں شرمندہ ہوں اپنی غلطی پر اور آپ سے معافی مانگتی ہوں آپ بزرگ ہیں ہر لحاظ سے نا تو میرا مقصد یہ کبھی تھا نا ہے کے میں آپ سب سے بدتمیزی کروں ۔بس اختلاف رائے کا حق استعمال کر کے اتنی باتیں کہہ دیتی ہوں پلیز اسکو بدتمیزی نا مانا جائے ۔
    اور جہاں تک نگھت آپا کی بات ہے تو انکے گوش گزار یہ بات کرنا چاہتی ہوں کے نا تو میں نے اپنی رائے کبھی تھوپی ہے اور نا ہی تھوپنا چاہتی ہوں اور نا ہی آپلوگ تھوپنے دیں گے کیونکہ آپ سب با علم لوگ ہیں میری بچپنے والی حرکتوں کی اصلاح کے لئیے آپ سب موجود ہیں) میں نے کس جگہ آپ سے یا کسی سے یہ کہا کے جو میں کہہ رہی ہوں وہی سہی مانیں؟ہاں بس ایک کمزوری ہے میری کے میں ہاں میں ہاں نہیں ملاتی ۔بس شاید یہ غلط کرتی ہوں؟
    باقی یہ کہہ کر بات ختم کرتی ہوں کے کچھ باتیں میں بھی سمجھتی ہوں مجھے پتہ ہے میں عقل کل نہیں ہوں آپ سب کے سامنے آپکی قابلیت کے سامنے کچھ بھی نہیں ہوں مگر اسی دنیا میں رہتی ہوں پاکستان سے بھی تعلق ہے اس لئیے کچھ باتیں میں بھی سمجھتی ہوں سو بہت ہوگا کے اشاروں میں سمجھانے سے بہتر ہے میرا ذاتی ای میل آپ سب کے پاس ہے بہتر ہوگا اسطرح کی باتیں ای میل پر ہی کی جائیں تو اچھا ہوگا ؟اور ساتھ ہی ساتھ یہ امید کرتی ہوں کے اب یہ بات ای میل پر ہی ڈسکسہوگی یہاں بلاگ میں نہیں
    آپ سب کی دعاوں کی محتاج
    ماریہ علی

  11. ماریہ صاحبہ۔ یہ کمال ہے کہ بقول آپ کے آپ بات بڑھانا بھی نہیں چاہتی اور پھر کچھ لائینز ضرور لکھیں آپ نے۔ آپ کا لکھا بسرو چشم۔
    ضروری تو نہیں ہوتا کہ ہر بات کا جواب دیا جائے اور خاموشی بعض اوقات بہت کچھ کہہ دیتی ہے لیکن تفصیل سے سمجھانے کے لیئے تفصیلی لکھنا پڑتا ہے۔ آپ کا یہ خیال میرے فلسفہ تحریر کے مطابق درست نہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔ بس ایک کمزوری ہے میری کے میں ہاں میں ہاں نہیں ملاتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے نزدیک ہاں میں ہاں ملانا کوئی بری بات نہییں ہے اور بلاوجہ نزاعی پہلو نکالنا اور تنازعہ پیدا کرنا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ ہاں غلط بات کے ضمن میں ہاں میں ہاں ملانا اچھی نہیں۔ لیکن اسکے باوجود آپکو یہ بقول آپکے یہ ادراک بھی ہے کہ یہ آپکی کمزوری ہے تو آپ بالغ نظر انسان کمزوری کا علم ہو جانے کے بعد اس پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے۔ ہم لوگ اگر 30اور 35 برس لکھنے کے بعد چند ماہ کے لکھنے والے سے اتفاق کر سکتے ہیں یا اسکی ہاں میں ہاں ملا سکتے ہیں اور اسکے لکھے کی تعریف کر سکتے ہیں تو کیا اس سے ہمارے علم اور مرتبے میں کوئی کمی ہو جاتی ہے؟
    آپ نے نہایت چابکدستی سے بلاگ کی سائٹ پر ”تبصرہ ارسال کریں” کا ذکر کیا تو مجھے آپ کی خدمت میں یہ عرض کرنے دیجئے اس بلاگ پر صرف شوقیہ لوگ نہیں لکھتے اور یہ شوقیہ اخبار اور بلاگ نہیں ہے بلکہ سو فیصد سے زائدپروفیشنل اخبار ہے اور متعدد عالمی نشریاتی اداروں کے اخبارات کے اگر قد سے بڑا نہیں تو کم بھی نہیں۔ اس لیئے اسمیں ہر چیز پروفیشنل لکھی ہوئی ہے اور اسی وجہ سے یہ نہیں لکھا کہ ”اپنا خیال ارسال کریں”۔
    آپ نے درست فرمایا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔میرا ذاتی ای میل آپ سب کے پاس ہے بہتر ہوگا اسطرح کی باتیں ای میل پر ہی کی جائیں تو اچھا ہوگا ؟۔۔۔۔۔۔۔اسی تناظر میں عرض کروں گا کہ آپ جو بھی مزید ارشاد فرمانا چاہیں میری ای میل بھی آپ کے پاس ہے آپ ای میل میں ہی ارشاد فرمائیں کیونکہ اسوقت اگر کوئی ہے تو دو افراد کا اختلاف رائے ہے جسکا باقی احباب سے کوئی تعلق نہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ اپنے ہی مشورے پر عمل ضرور کریں گی۔ خوش رہیں

  12. فائزہ تمہیں ہر بار بلاگ پر آنایاد کیوں کروانا پڑتا پے ۔۔ سنو ایک بات زبردست ہوئی ہے کہ تمہاری املا صحیح ہو رہی ہے ۔۔ لگتا ہے گھر بیٹھ کر صرف اردو ہی لکھ رہی ہو ۔۔ ماشاللہ ۔۔

  13. محترم ہمدانی صاحب، اگر کسی ستم ظریف نے پورے پاکستان کو ہی جعلستان کہہ دیا تو؟ ……… پھر تو مر گئے ہم جیتے جی.
    اس لمحے بے اختیار حبیب جالب مرحوم کا ایک قطعہ یاد آرہا ہے جوکہ کچھ اسطرح ہے
    ہوگئے حکمران کمینے لوگ
    خاک میں مل گئے نگینے لوگ
    ہر محب وطن ذلیل ہوا
    رات کا فاصلہ طویل ہوا
    بے حیائی کو جس نے اپنایا (بلکہ جعلی ڈگری جو بھی لایا)
    وُہی عزتمآب کہلایا

    16 جنوری 2004 اور سندھ ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے مطابق ایم این اے محمد خان جونیجو کی اسمبلی رکنیت ختم کرکے انہیں نااہل قراردینا کچھ مشکوک لگا کیونکہ محمد خان جونیجو تو 1993 میں وفات پا چکے تھے؟

  14. مُحتمہ نگہت نسیم بہنا،
    آپ کا مضمون پڑھکر ایک ہلکا پُھلکا تبصرہ لکھنے کیلے بیتھا تھا مگر ہھاں تو ماریہ صاحبہ نے ایک الگ قصہ چہیڑ رکھا ہے ، چلیں …. دیکھیں کےا نتیجہ نکلتا ہے ،

    تو بہنا ، مُعاشرے ک کن کن ناسوروں کا رونہ رویئں … کسی نا معلوم شاعر کا شعر کا کہ

    ایک دُکھ ہو تو کوئی اُس کا مداوا بہی کرے
    درد. سر دردِ جِگر دردِ کمر تینوں ہیں

    آپ تو ڈاکٹر ہیں آُ ہی کوئی علاض کر دیں ، آپ نے اپنے جوابی تبصرے میں کہا کہ مُقدمہ عوام پر بھی چلنا چاہے ، تو باجی …. یہ تو بھوکے کو مارنے والی بات ہو گئی وہ بھی ےع کہکر کہ تو بھوکا کیوں ہے ، ارے عوام وکیل کہاں سے لائیں گے اپنے لیے ..اچھا چلیں وکیل مِل بھی گےا کوئی …ڈاکٹر شیر افگن نیازی جیسا تو اٰسکو فیس کون دے گا ، اچھا چلیں فیس دے بھی دی تو ..اُس وکیل کو عدالت تک جانے کون دے گا ، میرا کیال ہے ڈاکٹر افگن صاحب کا دوبارہ جوتے کھانے کا تو کوئی پروگرام نھیں ہو گا،

    ہماری قومی اسمبلی میں جہاں ہمارے مُلک کے ہر شُعبے کا ایک سربرہ بیٹھا ہے ، کسی کو معلوم نہیں اصلی ہے کے نقلی …جب ایسے رہبر ہوں تو آپ عوام سے کیا توقع کرتی ہیں ، دُکھ تو یہ ہے کہ کتنی دیدہ دلیری سے ےع سب کام ہو رھا ہے ،کےا اُن کی پارتی کے سربراہان ،کو کوئی خبر نہیں اپنے ایم این اے کے بارے میں کہ وہ کون ہے کیا ہے ، سب معلوم ہے مگر چُپ رہو ،تنویر سُپا نے کےا خوب کہا کہ
    ہمارے شہر ک مُنصف کا یہ وطیرہ ہے
    غریب کو ہی سزا ہے جُرم کرے نہ کرے
    کےا الیکشن کمیشن کا یہ سب سے پہلے پارتی کے رہنماوں کا یہ فرضنہیں بنتا کہ وہ ایماندری سے اس بات کی تحقیق کریں ، کیا اُن کو معلوم نہیں کہ ہم کس ک ہاتھوں میں قوم کا مُستقبل سونپ رہے ہیںجب ناکارہ حُکمران تخت نشیین ہوں گے تو عوام بھی ویسی ہو گی جو خود ببے شعور ہو وہ کسی کو کیا شعور دے گا ،

    کل میں یہاں کے اُردونیوز میںایک خبر پڑھ رہا تھا ،ہمارے پنجاب اسمبلی ک سپیکر صاحب میڈیکل کالج کی سلانہ تقریب کی صدارت کر رہے تھے ،جب اُنکو تقریر کے لیے بُلاےا گےا تئ اُنہوں نےاُردو میں تقریر شروع کی ،طالبعلموں نے حیرانگی سے ایک دوسرے کو دیکھا ، سپیکر صاحب نے حلات خو بھانپتے ۃوے فوراً کھا کۃ آپ جو کُچھ مرضی کر لو میں تقریر اُردو میں ہی کروں گا
    اورپھر غُصے کے عالم میں بولے کےکہ مُجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم سیاست دان لوگ جب مُلک سے باہر جاتے ہیں ہماری اتنی عزت نہیں ہوتی جتنی ایک عام ڈاکٹر کی ہوتی ہے ، اب موصوف کو کون سمجھاتا کہ ،،،،، ڈاکٹر جعلی ڈگریاں لے کر نہیں جاتے باہر کے مملک میں…. اور ڈاکٹروں یگلش بھی آتی ہے ، شائید یہ جوژ کا ہی شعر ہے کہ
    میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
    گھیری ہوئی ےے طوائف تماش بینوں میں

  15. برادرم جاوید اقبال کیانی۔ شکریہ آپکا اور معزرت میری طرف سے کہ آپ نے اس جانب توجہ دلوائی، یہ شاہنواز جونیجو کے فرزند محمد خان جونیجو ہیں۔خیر اسی بہانے ایک شریف وزیر اعظم کا تذکرہ ہو گیا۔ جعلی ڈگری والے محمد خان جونیجو بھی اسی خاندان کے ہیں اور آپ نے دیکھا کہ کیسے ایک جعلی فرد پورے خاندان کو رسوا کروا دیتا یے۔
    وزیر اعظم جونیجو پاکستان کے دسویں وزیراعظم تھے جو 18 اگست 1932 کو پیدا ہوئے آپ صوبہ سندھ کے علاقے سندھڑی میں پیدا ہوئے۔ برطانیہ سے زراعت میں ڈپلومہ حاصل کیا۔ سیاسی زندگی کا آغاز اکیس سال کی عمر سے کیا۔ 1962 میں آپ کو سانگڑھ سے مغربی پاکستان سے صوبائی اسمبلی کا رکن منتحب کیا گیا۔ جولائی 1963 میں آپ کو مغربی پاکستان کا وزیر بنایا گیا۔1985 کے غیر جماعتی الیکشن میں آپ نے کامیابی حاصل کی اور جنرل ضیاالحق نے آپ کو وزیراعظم نامزد کیا۔آپ کی شہرت پاکستان کے ایماندار سیاستدان اور وزیراعظم کے ہے۔ بطور وزیراعظم کئی نکات پر جنرل ضیاالحق سے کشیدگی ہوئی جن میں اوجڑی کیمپ دھماکے کے بعد جنرل ضیاالحق نے 8 ویں ترمیم استعمال کرتے ہوئے جونیجو حکومت کو ختم کر دیا۔
    کئی سالوں کی علالت کے بعد 16 مارچ 1993 کو آپ وفات پاگئے
    اچھا محترم کیانی صاحب میں تین روز قبل آپکوایک ای میل تحریر کی تھی کوئی جواب عنایت نہیں ہوا۔معلوم نہیں کہ آپ تک پہنچی یا نہیں؟

  16. گومیں رہا رہینِ ستم ہائے روز گار
    لیکن تیرے خیال سے غافل نہیں رہا
    معذرت معذرت، معذرت. غفلت اور کوتائی کی معافی، انشاء اللـہ آج شام آپ سے ضرور رابطہ ہوگا، والسلام

  17. یہ تو سچ ہے نا کہ علم کے حصول کی کوئی عمر نہیں لیکن شرط صرف نیت کی ہے۔ اسی لیئے ہم جیسے ہر عہد اور ہر دور میں طالب علم ہی رہتے ہیں اور یہی اعزاز کافی ہے۔ آج ایک مطالعے کے دوران باب شہر علم کا ایک قول پڑھا سوچا کہ صاحبان فکر احباب سے کسی تبصرے کے بغیر شیئر کرؤں۔ مولائے متقیان علی ابن ابی طالب فرماتے ہیں

    ”ایک عالم کے علم کی زکوۃ یہ ہے کہ وہ جاہل کی جہالت کو برداشت کرے۔”

  18. اپنی کوتاہیوں کا جب کر لیا اقرار
    مانا ہر جرم کا میں ہی سزاوار
    اک تیری کشش جو لاتی ہے بار بار
    رگڑ رہا ہوں ناک، کر دے معاف یار (بہت معذرت کے ساتھ)

  19. جگ جگ جئے جاوید بھائی ۔۔۔۔ آپ نے کشش کی بات کی جناب عالی یہ عالمی اخبار ہے جسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ جو بھی ایک بار اس پلیٹ فارم پر آگیا وہ کہیں اور نہ جا سکا ۔۔۔ بھلا آپ کہاں جا سکیں گے اور سنیں بھائی ویسے آپ کو جانے کون دے گا ۔۔۔ سو جلدی سے مجھے اپنی تخلیقات بھجوا دیجئے ۔۔

  20. نگہت صاحبہ، فارسہ لفظ “زر” کے ساتھ جب “داری” کا لاحقہ لگتا ہےتو منطق کا ایک نیا دبستان وجود میں آتاہے “زرداری” دبستان اور اس دبستان کے پروردہ فن۔ باتم گری کےماھراور ہر طرح کی اخلاقی قدروں سے آزاد ہوتے ہیں۔

    بعض دفع تو مجھے اس دبستان کے ممبران کےسامنےحسن بن صباح کی ذات چھوٹی لگنے لگی ہے۔

    حسن بن صباح تو سامنے موجود چالیس، پچاس لوگوں کےمجمعےکو ہپناٹائیز کرتا تھا، یہ لوگ تو گھروں مین بیٹھی پوری چاہل قوم کوہپناٹائیز کر لیتے ہیں۔

    کاش اس خوابیدہ قوم میں محمود غزنوی کی سی نظرپیدا ہو جائے تاکہ جب اسے سومنات کے معلق بت کو چھوڑنےکے بدلے میں لالچ دلایا جائے اور اس بت کے معلق ہونے کی ہیبت باری کرنے کی کوشش کی جائے تو اس معلوم ہو کہ مدنر کی داہنی، باہنی دیوار اور چھت گرانے سے ذرداری دبستان کا بت زمین بوس ہو جائے گا۔

  21. وحید بھائی اب مجھے آپ خود بتایئں کہ کیاآپ کا تبصرہ آپ کی نظموں اور غزلوں کی طرح منفرد نہیں ہے کیا ۔۔۔ لیجئے آج کتنے لوگوں کو اس بات سے آگاہی ہوئی ہو گی کی “زر” کے ساتھ جب “داری” کا لاحقہ لگتا ہےتو منطق کا ایک نیا دبستان وجود میں آتاہے ۔۔۔ اور یہ بھی کہ حسن بن صباح کون تھا ۔۔۔ یہی وہ علم ہے جس کی بات بابا کرتے ہیں کہ ایک دوسرے میں بانٹنا ہے ۔۔ جیتے رہئے ۔۔ جس طرح سے آپ نے میرا مان رکھا ۔۔ میرا رب آپ کا مان رکھے ۔۔آمین ۔۔

  22. ڈاکٹر صاحبہ، میں نے بھی عالمی اخبار اور اس لڑی میں پروئے سب ہیروں کی کشش کی بات ہی تو کی ہے.
    آپ نے ’ -تخلیقات‘ والی فرمائش بھی خوب کی. بہن جی،خدا را اتنا بھی سیڑھی پہ نہ چڑھائیں. بس ایک بھرم ہی ہے ورنہ اصل بات ’لالہ مُوسٰی‘
    والی ہی ہے. میں تو ڈھنگ کا خط’ تخلیق ‘ نہیں کرسکتا اور آپ کی فرمائش ہے ’تخلیقات‘ کی؟
    فکر نہ کیجیے عالمی اخبار اور یہاں کے دانشوروں کی راہنمائی مییسر رہی تو انشاء اللـہ اپنا حصہ بھی ضرور ڈالوں گا. دعاعیہ کلمات کا بہت بہت شکریہ.

  23. برادر عزیز اقبال کیانی. لو جی آپ نے اپنے قلم کار ہونے کا ثبوت خود ہی پیش کر دیا کہ” میں تو ڈھنگ کا خط’ تخلیق ‘ نہیں کرسکتا اور آپ کی فرمائش ہے ’تخلیقات‘ کی؟”. بھائی جان یقین کریں کہ خط لکھنے والے بلاگ،کالم،شعر یا افسانہ یا تو لکھ ہی نہیں سکتے یا پھر شاذو نادر لکھتے ہیں. کیونکہ ایسے لوگ ساری قلمی توانائیاں خط لکھنے پر صرف کر چکے ہوتے ہیں. یہ خط چاہے نوجوانی میں لکھے ہوں یا پھر ہجرتوں کے سفر میں.
    رہی بات بقول آپ کے ”عالمی اخبار اور یہاں کے” دانشوروں ” کی تو عالی جناب ان سے ذرا پرہیز کیجئے گا اور اللہ پاک کی عطا کردہ اپنی ہی دانش پر انحصار کیجئے گا. میں توہوں تلوار صفت صاف گو آدمی. ہم نے تو اپنے اس سفر میں اللہ محفوظ رکھے ایسا ایسا دانشور کو دیکھا ہے کہ جب وہ لفظوں کے دریا بہاتا ہے تو لگتا ہے کہ دانش انہیں کے ہاں پیدا ہوئی تھی اور جب عمل کا وقت آتا ہے تو سب سے پچھلی قطار میں.
    کوئی شعر لکھنے والا غالب سے کم نہیں بلکہ دو تین فٹ زیادہ ہے،کوئی تجزیہ کار ڈیوڈ مک فیلڈ سے چھوٹا نہیں بلکہ گز دو گز زیادہ ہے.کوئی نصیحت کرنے والا سر سید سے نیچے نہیں بلکہ تین چار مرلے زیادہ ہے.
    میں نے تو عمر اور تجربے میں بھی خود اپنے جیسے سے بہت بڑے لکھاریوں کو بھی دیکھا ہے اور یہیں انہی بلاگوں میں بلکہ ”بھگتا” ہے کہ ذرا آپ نے انکی بات سے اختلاف کیا، بس ،ایک ہی لمحے میں ”قبلہ ھمدانی صاحب” جناب صفدر ہو گئے. وہ لوگ جو اپنی تحریروں میں سب سے زیادہ انسانی اقدار اور دل کو وسیع رکھنے اور احترام رائے کا درس لکھتے تھے وہ جیسے یہ سب لکھنا بھول گئے اور کچھ بزرگ تو ایسے بھی ہیں جنہوں نے ہر قسم کا رابطہ بھی اس لیئے ختم کر دیا کہ ہم نے ،میں نے یا کسی اور نے انکے نظریے،فلسفے اور تحریر کو چیلنج کر دیا.
    اقبال کیانی بھائی یہ قلم کاری کی دنیا تو اسی زمین پر ایک ”پُل صراط” ہے. اللہ پاک مجھے اور آپ کو دانشوروں سے محفوظ رکھے.
    جو بات آپکو فون پر کہی تھی وہی بات میں اکثر لکھتا بھی رہتا ہوں کہ سب سے چھوٹے دل والا اور منافق قبیلہ میرا اپنا شاعروں اور ادیبوں کا قبیلہ ہے کہ جنکے الفاظ انکے عمل کا ننانوے فیصد ساتھ نہیں دیتے. یہ وہ مقام ہے جہاں خالق کائنات اپنی لاریب کتاب کے سورہ الصحف میں فرماتا ہے کہ ” اے ایمان والو تم جو کہتے ہو وہ کرتے کیوں نہیں ہو”.

  24. میں بہت ’کنـی کترانے‘ کی کوشش کررہا ہوں مگر یہ ’وکھری ٹائپ‘ کی محفل مجھے ایک نہ ایک دن اس سمندر میں کودنے پہ مجبور کرکے ہی دم لے گی اور میری اس ’خود کشی‘ کے ذمے دار ہوں گے صرف اور صرف صفدر ہمدانی صاحب اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ.
    کرم کیجیو میرے مولا ، بھرم رکھیو میرے مولا

  25. افسوس کہ پاکستان میں جعلی ڈگریوں کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔
    جعلی دوائیں ، جعلی اشیا ، جعلی معاہدے اور ہر قسم کی جعلی باتیں ۔ جعلی ملا ، جعلی رہنما ، یہ سب کیوں ہورہا ہے؟
    اس کا علاج کیا ہوگا؟
    امریکہ میں بھی میڈوف نے معصوم انسانوں کو کئی سال تک دھوکے میں رکھکر ان سے رقومات وصول کیں کہ ان رقومات کو وہ معہ سود کے ادا کردےگا اور اس منصوبے پر عمل کرکے ( جس کو پانزی اسکیم کہتے ہیں ) ہزاروں ڈالر کا غبن کردیا اور اب وہ عمر قید بھگت رہا ہے۔
    اس کے علاوہ بڑے بڑے پیمانوں پر امریکہ میں اور مغربی ممالک میں بھی فراڈ ہوچکےہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    میرے کمپیوٹر میں ہر روز کئی اسپام قسم کے خطوط آتے ہیں کہ کسی کے باپ نے اپنے مرنے سے قبل اپنی لاکھوں ڈالر کی رقومات میرے نام جمع کردی ہیں ، وہ رقومات مجھے مل سکتی ہیں اگرمیں اس خط لکھنےوالے ( والی ) کو اپنا بینک اکاؤنٹ وغیرہ بتا دوں۔
    ۔۔۔۔۔۔
    حد تو یہ ہے کہ میرے بھتیجے نے جو کراچی میں رہتا ہے چند دنوں قبل یہ خوشخبری سنائی کہ اسپین کے کسی شخص نے اپنی وفات سے قبل میرے بھائی کے نام پر کئی لاکھ ڈالر کی رقم کہیں محفوظ رکھی ہے اب وہ جلد سے جلد اپنے والد کا بینک اکاونٹ اس اسپین کے شخص کو لکھ بھیجیں۔ ( اس اسپین کے شخص کو قطعی طور پر یہ معلوم نہیں کہ میر ا بھائی انور تو سات سال سے اس دنیا میں نہیں ہے اور نہ اس مرحوم بھائی کا کوئی بینک اکاونٹ ہے ۔)
    ۔۔۔۔۔۔۔
    فراڈ دنیا بھر میں کسی نہ کسی پیمانے پر ہورہا ہے مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نایجیریا اور پاکستان میں یہ ایک قسم کا ہنر اور فیشن بن گیا ہے ۔ جو اس فن میں کمال رکھتا ہے وہی پاکستان کے بھولے بھالے عوام کو دھوکا دے کر اپنا الّو سیدھا کرتا رہتا ہے ۔
    صفدر ھمدانی صاحب کے یہ اشعار اسی مسئلہ کی عکاسی کرتے ہیں :
    جعلی ڈگری، جعلی ووٹر.جعلی ہے سرکار
    جعلی پیر ہیں جعلی ملاں ، جعلی ٹھیکیدار
    جعلی ڈاکٹر،جعلی دوائیں. جعلی ہیں فنکار
    جعلی حکیم اور جعلی سرجن خاک ہو ٹھیک بیمار
    ۔۔۔۔۔
    اللہ ہر ایک کو تمام آفات اور بلاوں سے اور شیطان کے شر سے محفو ظ رکھے۔
    فقط:
    منظور قاضی
    از جرمنی

  26. یاد رہے کہ فراڈ اور دھوکے بازی میں اسرائیل نے ایک تازہ مثال پیش کردی اور برطانیہ کے جعلی پاسپورٹوں کو استعمال کرکے اپنے غنڈوں کو دوبائی میں بجھواکر حماس کے ایک رکن کو شہید کردیا۔
    برطانوی حکومت نے اس بات پر اسرائیل کے نمائندے کو ملک سےباہر نکال دیا مگر یہ بات واضح ہوگئی کہ فراڈ کے سلسلےمیں اسرائیل بھی بہت آگے نکل گیا ہے ۔
    ۔۔۔۔۔
    اس سلسلے میں ہم کراچی کے قبضہ گروپ کی مثالیں بھی دے سکتے ہیں کہ اس قسم کے گروپ کچی زمینوں پر قبضہ کرلیتے ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    لاہور کے غیر قانونی پلازے بھی اسی زمرے میں آتے ہیں جو سرکاری زمینوں پر بنائے گئے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پینے کے پانی میں ملاوٹ ، کھانے کی اشیا میں ملاوٹ ، دودھ میں ملاوٹ ۔ بجلی کی تاروں پر کنڈے بازی ، وغیرہ وغیرہ ۔ فہرست طویل ہوتی جائے گی ۔
    ۔۔۔۔۔
    کس کس فراڈ کی بات کریں جب آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہو۔
    ۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *