اس شعر : تعلق دیر سے ، رشتہ حرم سے ، ہے تو بس اتنا ۔ مسلسل لوٹا تا جاتا ہے انہی کے درمیاں مجھ کو ،
کا خالق ایک ہندو شاعر راجیو چکرورتی ہے جس کی مادری زبان تلگو ( آندھرا ( سابق ریاست حیدر آباد دکن ، بھارت کی زبان) ہے ۔ اور وہ اردو بھی تلگو اسکرپٹ ( حروف ) میں لکھتا ہے۔
یہ شعر راجیو چکرورتی نے حالیہ ٹیلیفونی مشاعرہ ( ڈلس ، ہیوسٹن ؛ اوکلا ہوما اور نیویارک ) کے چند معروف شعرا کی موجودگی میں اور جناب حنیف اخگر صاحب کے صدارت میں ، ٹیلیفون پر سنا یا تھا اور سب سے بےحد داد حاصل کی تھی۔
یہ مشاعرہ مصحفی کی ایک غزل کے اس مصرعہ کو طرح بنا کر پیش کیا گیا تھا۔
راجیو چکرورتی کی پوری غز ل جس کے تمام شعروں پر اس نے سب سے خوب داد حاصل کی وہ یہ ہے :
گلہ کیا گر نہیں ملتا ہے منزل کا نشا ں مجھ کو
نشاط آور ہے آوازِ رحیلِ کاروں مجھ کو
وہ جس سے ہوسکے حاصل سرورِ جاوداں مجھ کو
کوئی ایسا پلا دے جام اے پیرِ مغاں مجھ کو
یہ دنیا ، بے وفا دنیا ، وفا نا آشنا ، دنیا
بھلا ملتا بھی کیا اس میں رفیقِ جاوداں مجھ کو
نہ جانے اب تلک وہ شخص کیوں ہے بد گما ں مجھ سے
نہیںجس کے سوا کوئی خیالِ این و آں مجھ کو
کہاں ہیں دن وہ بچپن کے ؟ کہا ں وہ پل لڑکپن کے؟
لگے ہے اب متا عِ زیست رخشِ بے عناں مجھ کو
تعلق دیر سے ، رشتہ حرم سے ، ہے تو بس اتنا
مسلسل لوٹا جاتا ہے انہی کے درمیاں مجھ کو
رموزِ جلوہ ہاے حُسن سے میں خوب واقف ہوں
نظر آتا ہے ہرسو اُس کا سنگِ آستاں مجھ کو
زمینِ مصحفی میں کہ تو دی میں نے غزل ناداں
خبر کس کو ؟ کہینگے کیا سخن کے قدر داں مجھ کو
میں راجیو چکرورتی کو ان کے اردو زبان پر اس قدر عبور پر اور انکی قادر الکلامی پر مبارکباد دیتا ہوں ۔
میرے اس بلاگ کا موضوع تو راجیو چکرورتی کی شاعری ہے مگر میں اس سلسلےمیں ڈلس ، ٹیکسس میں رہنے والے ان تما م سخنوروں اور دانشوروں سے درخواست کرونگا کہ وہ راجیو چکرورتی کی شاعری اور انکی ادبی زندگی کے ارتقا کے متعلق تبصرے کریں اور اس ہندو شاعر کی ان خدمات کا اعتراف کریں جو وہ اردو زبان کے لیے کررہا ہے۔
راجیو چکرورتی کو میں کئی سال پہلے ڈلس کی بزم اردو کے مشاعروں میں اپنا کلام سناتے ہوے دیکھ چکا ہوں ۔ ان دنوں بھی وہ اپنی غزلوں کی ندرت سے تمام حاضرین کو متاثر کیا کرتے تھے مگر اب اس غزل کو پڑھکر میں سبحان اللہ ، ماشا اللہ اور مرحبا اور بہت خوب ، پھر سے عطا ہو اور پھر سے پڑھو اور پڑھتے رہو کہ رہا ہوں ۔
اردو زبان میں ہندو شعرا نے بہت کچھ کہا ہے ۔ جگناتھ آزاد ، برج نارائن چکبست اور تلوک چند محروم کے نام اردو زبان کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھ ے جاینگے ۔ اردو ادب میں گوپی چند نارنگ بھی اپنا مقام بنا چکےہیں۔
( اور بھی کئی ایک مشہور و معروف ہندو شعرا اور ادیبوں کے نام لکھکر میںاس بلاگ کو طویل کرنا نہیں چاہتا )
میں یہ نہیں جانتا کہ راجیو چکرورتی نے ابھی تک اپنے اشعار کامجموعہ شایع کیا یا نہیں ۔ اگر اردو نواز اور اردو کے سرپرست حضرات انکی اس سلسلے میں ہمت افزای کریں اور انکی شاعری کے مجموعے کو چھاپیں
تو اس ابھرتے ہوے شاعر کی نہ صرف ہمت افزای ہوگی بلکہ اردو کی خدمت بھی ہوگی ۔
راجیو چکرورتی صاحب تو شاید اردو فانٹ بھی نہیں جانتے ۔ اس لیے میں ان کے ان احباب سےدرخواست کرونگا جو اردو فانٹ جانتے ہیں وہ اس بلاگ میں تبصرے لکھکر انکی شاعری پر تعمیری تبصرے کریں۔
اگر اس بلاگ کو دنیا بھر میں پڑھنے والے یہ لکھیں کہ انکے ممالک میں جو ہندو شعرا اردو میں غزل اور نظم لکھتے ہیں انکے نام کیا ہیں ، انکی ادبی زندگی پر کچھ لکھیں اور اگر انکا کوی شعر انہیں پسند آیا ہو تو وہ بھی لکھدیں تو سب کو یہ معلوم ہوگا کہ اردو کی خدمت ہندو شعرا کس طرح کررہے ہیں۔
اس بلاگ کا موضوع ہے راجیو چکرورتی اور اسکی شاعری اور اس کے ساتھ ساتھ موجودہ دور کے ہندو شعرا کی اردو زبا ن میں شاعری ۔
اردو کا ایک شیدای۔
منظور قاضی از جرمنی

اوپر کے تبصرےمیں مصحفی کی غزل کا جو طرحی مصرعہ تھا وہ یہ تھا :
‘ خدا جانے کہاں لے جاے اب بادِ خزاں مجھ کو “
واہ کیا کہنے، بہت اچھے، لیکن یہ جو دَیر اور حرم کے درمیان لوٹ رہا ہے یہ ہے کون، اس کی شناخت بھی اہم ہے نہیں تو ہم ہمیشہ لٹتے رہیں گے اور نوحے کہتے رہیں گے۔ اس قوت کی نشان دہی ضروری ہے۔ تاکہ اس سے بچا جا سکے۔
عمران چوہدری ثاقب صاحب آپ کے سوال کا جواب یہ ہندو شاعر شاید یوں دے گا کہ کسی ملا اور پنڈت سے پوچھو کہ وہ کس کس کو کس کس طریقے سے لوٹ رہا ہے؟
اس بلا گ کا موضوع ہندو شعرا کی اردو شاعری ہے ۔ اگر آپ کو کسی ہندو شاعر کی اردو شاعری پسند آی ہے تو ضرور یہا ں پر لکھیے ۔
موضوع ہے ہندو شعرا کی اردو شاعری : اس پر میں چند ہندو شعرا کے نعتیہ( صلعم ) کے چنداردو اشعار لکھرہاہوں:
فراق گورکھپوری:
انواربےشمار معدود نہیں
رحمت کی شاہراہ مسدود نہیں
معلوم ہے کچھ تم کو محمد(ص ) کا مقام
وہ امتِ اسلام میں محدود نہیں
۔۔۔۔
تلوک چند محروم:
مبارک پیشوا جس کی ہے شفقت دوست دشمن پر
مبارک پیش رو جس کا ہے سینہ صاف کینے سے
انہی اوصاف کی خوشبو ابھی اطراف عالم میں
شمیم جانفزا لاتی ہے مکے اور مدینے سے
۔۔۔کشن پرشاد:
بلوایں مجھے شاد جو سلطان مدینہ
جاتے ہی میں ہوجا وںگا قربانِ مدینہ
مومن جو نہیں ہوں تو میں کافر بھی نہیں شاد
اس رمز سے آگاہ ہییں سلطانِ مدینہ
۔۔۔۔
ہری چند اختر :
کس نے ذرّ وں کو اُٹھایا اور صحرا کردیا
کس نے قطروں کو ملایا اور دریا کردیا
آدمیت کا غرض ساماں مہیا کردیا
اک عرب (ص) نے آدمی کا بول بالا کردیا
۔۔۔۔۔
پیار ے لال رونق :
تو ہے محبوب خدا چاہنےوالا تیرا
مرتبہ سارے رسولوں میں ہے بالا تیرا
آہ کر ہجرِ محمد( ص) میں سنبھل کر اے دل
عرش کے پار نکل جاے گا نالا تیرا
۔۔۔۔۔۔
دلو رام کوثری
خدا کا نور ہے، نورِ پیمبر (ص)
خدا کی شان ہے شانِ محمد ( ص)
علی (ص) و فاطمہ ( ص) شبیر و شبّر
بسا ان سے گلستان محمد ( ص)
بتا وں کوثری کیا شغل اپنا
میں ہوں ہردم ثنا خوانِ محمد(ص )
۔۔۔
دتاتریہ کیفی :
ہے حامی و ممدوح مر ا شافعِ محشر ( ص)
کیفی مجھے اب خوف ہے کیا روز جزا کا
۔۔۔۔
درگا سہاے سرور جہاں آبادی :
دلِ بے تاب کو سینے سے لگالے آجا
کہ سنبھلتا نہیں کم بخت سنبھالے آجا
۔۔
کملی والے مجھے کملی میں چھپا لے آجا
۔۔۔۔
اے وو عالم کے حسینوںسے نرالے جا
۔۔۔۔۔۔
مندرجہ بالا ہندو شعرا اس جہان میں نہیں ہیں ۔ میرے خیال میں جگت ناتھ آزاد نے بھی اردو میں نعتیہ کلا م لکھا ہے ۔ اس کے علاوہ موجودہ ہندو شعرا نےبھی اس مضمون پر اشعار لکھے ہونگے ۔
قاریین میں سے کوی اپنی تحقیق مے مطابق کسی ہندو شاعر کی اردو شاعری چاہے وہ نعتیہ ہو یا پھر غزل اور نظم کی صورت میں ہو ، وہ اس بلاگ میں لکھیں تو ممکن ہے کہ سب کو یہ معلوم ہوگا کہ اردو صرف اور صرف مسلمانوں کی حد تک محدود نہیں ہے ۔ اس کے شیدای ہر جگہ اور ہر قوم میں موجود ہیں۔
بہر حال : اگر وہ حضرات جو اردو فانٹ جانتے ہیں اس بلاگ کے موضوع پر لکھتے رہیں تو ٹھیک ورنہ عدم دلچسپی کےبا عث آہستہ آہستہ یہ بلاگ پس پردہ چلے جاے گا۔
اردو کا شیدای :
منظور قاضی از جرمنی
جب سے تمہاری یاد کی بانہوں میں آگئے
محسوس یوں ہوا کہ پنا ہوں میں آگیا
یہ تیرے لب پہ تیرے تبسّم کی اک لکیر
یہ کیسے قہقے مری آہوں میں آگئے
تیغی بجنوری
۔۔۔۔۔۔۔
دنیا جانے وہ برہم ہیں
واقف اس انداز سے ہم ہیں
فکروں سے آزاد وہی ہے
جسکے دلمیں غم ہی ہیں
آنند لکھنوی
جسکے دل میں غم ہی غم ہیں
آداب عرض کرتا ھوں ، مُحترم منظور قاضی صاحب – آپ کی مھّبت اور داد کا بے حد ممنون ہوں –
ناچیز-” راجیو”
ہم کسی دین سے ہوں قائلِ کردار تو ہیں
ہم ثناء خانہ شہِ حیدرِ کرّار تو ہیں
عشق ہوجائے کسی سے کوئ چارا تو نھیں
صرف مسلم کا محمّد پہ اجارہ تو نہیں
اوپر دو اشعار کےخالق
کنور مہندر سنگھ بیدی
جناب راجیو چکرورتی صاحب کو اس بلاگ میں بذات خود شرکت کا شکریہ ۔ اے آمدنت باعث آبادی ما۔
سب سے پہلےمیں راجیو جی کو انکی اتنی اچھی غزل پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ دعا ہے کہ انکا زور سخن اور زیادہ ہو۔
راجیو جی کا شکریہ کہ انہوں نے ڈلس کے حالیہ ٹیلیفونی مشاعرہ کو ریکارڈ کیا اور اپنے احباب میں مفت تقسیم کیا، میں نےبھی یہ ریکارڈینگ حاصل کی اور اس کی ایک کاپی صفدر ھمدانی صاحب کو بھیج دیا ۔ ( اگر فنی مشکلات حایل نہ ہوں تو وہ شاید اس ریکارڈنگ کو اس ویب سایٹ پر لگا دینگے ) ۔
اس مشاعرہ کے دوران راجیو جی کے متعلق انکے کسی دوست نے کہا تھا کہ راجیو جی تلگو حروف میں اردو لکھتے ہیں اور یہ بھی کہا کہ راجیو جی کی مادری زبان تلگو ہے ۔ یہی بات میں نے اس بلاگ کی ابتدا میں لکھی ۔ اب راجیو چکرورتی صاحب نے مجھے ای میل کے ذریع لکھا ہے کہ وہ اردو فانٹ بھی جانتے ہیں مگر زیادہ تر دیوناگری حروف میں اردو لکھتے ہیں۔ میں اس سلسلےمیں راجیو چکرورتی صاحب سے معافی چاہتے ہوے یہ کہتا ہوں کہ راجیو جی دیوناگر ی حروف میں اردو لکھتے ہیں۔ (تلگو میں نہیں )
ویسے انکے ذہن میں اردو الفاظ اور اردو استعارات اور تشبیہات اور محاوروں کا ذخیرہ موجود ہے جسے وہ بر مو قع استعمال کرنے میں کمال رکھتے ہیں۔
میں یہا ں اپنی ایک اور غلطی کی تصحیح کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ مشاعرہ کی ٹیپ میں داد کی شور وغوغا میں میں نےانکا ایک مصرعہ غلط سنا ۔ صحیح مصرعہ یوں ہے: بھلا ملتا بھی کیا اس میں رفیق و رازداں مجھ کو ( اس غلطی کی طرف راجیو چکرورتی صاحب نے اپنے ای میل میں توجہ دلای ہے جس کا شکریہ )
پورا شعر یوں ہے:
یہ دنیا ، بے وفا دنیا ، وفا نا آشنا دنیا
بھلا ملتا بھی کیا اس میں رفیق و رازداں مجھ کو
راجیو چکرورتی سے یہی گذارش ہے کہ وہ اس ویب سایٹ کے بلاگوں میں حصہ لیتےرہیں۔
چونکہ یہ بلاگ راجیوچکرورتی صاحب اور ہندو شعرا کی اردو شاعری کے لیے وقف ہے ، میں راجیو چکرورتی صاحب سے کہونگا کہ وہ اپنا کلا م اس بلاگ میں لکھیں اور اگر انکو کسی اور ہندو شاعر کا اردو کلام پسند ہو تو وہ بھی یہاں لکھیں ۔
اگر راجیو چکرورتی صاحب کو اردو فانٹ میں لکھنے میں مشکل پیش آے تو وہ اپنے کسی دوست سے جو اردو فانٹ لکھنا جانتا ہے اس سے کہیں کہ وہ
آپ کی نظم یا غزل کو اردو فانٹ میں لکھکر یہاں پوسٹ کرے یا اگر یہ بھی ممکن نہیں تو راجیو چکرورتی صاحب مجھے رومن اردو میں ای میل کے ذریعہ بھجوایں اور میں انکےکلام کو اردو فانٹ میں منتقل کرکے اس بلاگ میں ڈال دونگا۔ ( اگر میری کمپوزنگ میں کوی غلطی ہوی تو راجیو صاحب اس کی تصحیح کرسکتے ہیں )
مقصد ایک ابھرتے ہوے ہندو سخنور کی اردو شاعری کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔
راجیو چکرورتی صاحب کو بلاگوں کی دنیا میں خوش آمدید
یہ بلاگ ہندو شعرا کی اردو میں شاعری کے موضوع پر ہے ۔ اسی سلسلہ میں ایک ویب سایٹ پر خوشبیر سنگھ شاد کے متعلق پیر زادہ قاسم صاحب کی یہ تحریر پڑھنےمیں آی :
” شاعروں کے ہجوم اور مشاعروں کی ہلچل میں اچانک خوشبیر سنگھ شاد سے ملاقات ہوی اور اسکی جیتی جاگتی شاعری نے ایک عجیب خوشگوار حیرت سے دوچار کردیا ”
پیر زادہ قاسم اسی سلسلے میں یہ کہتے ہیں :” سچی اور اچھی تخلیق کا کما ل یہی ہے کہ وہ پڑھنے والوں کے جذ بات کو اظہار طلب بنا سکے”
اس کے بعد پیر زادہ قاسم ، خوشبیر سنگھ شاد کے یہ اشعار پیش کرتے ہیں :
اسے ہمت سمجھ لو یا ہماری بے بسی کہ لو
گذر کر روز ہی اب کوچہ ء قاتل سے جاتے ہیں
۔۔
بہت مصروف ہوجاتی ہیں سو چیں رنگ بھرنے میں
کہ جب بھی ذہن مین تخلیق کا خاکہ ابھرتا ہے
۔۔۔۔
کبھی تعمیر کرپا یا تو پھر تم کو دکھا ونگا
مرے خوابو ں کی دنیا اک نئے انداز کی ہوگی
۔۔۔
مجھے تجھ سے شکایت بھی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے
تجھے ا ے زندگی میں والہانہ چاہتا ہوں
۔۔۔۔۔
اندھیروں میں بھٹکنا ہے پریشانی میںرہنا ہے
میں جگنو ہوں مجھے ہرشب کی ویرانی میں رہنا ہے
۔۔۔۔۔
اور یہ شعر :
ایسا تو کوئی شخص ملا ہی نہ تھا کبھی
یہ کس نے اپنے آپ سے ملوادیا مجھے
۔۔
فقط :
علم کا طالب
منظور قاضی
اب جبکہ یہ بلاگ ہندو شعرا کی اردو شاعری کے موضوع پر ہے اس لئے میں فراق گورکھپوری کے یہ چند اشعار بھی لکھ دیتا ہوں:
اب یاد رفتگاں کی بھی ہمت نہیں رہی
یاروں نے کتنی دور بسائی ہیں بستیا ں
۔۔۔۔
فریب عہد محبت کی سادگی کی قسم
وہ جھوٹ بول کہ سچ کو بھی پیا ر آجاے
۔
منہ سے ہم اپنے بُرا تو نہیں کرتے فراق
ہے ترا دوست مگر آدمی اچھا نہیں
۔۔۔۔۔
ایک ہندو شاعر پنڈت برج نارائن چکبست کے یہ اردو اشعار:
اگر محبت سے نہ انسان آشنا ہوتا
یہ مرنے کا مزہ ہوتا نہ جینے کا مزہ ہوتا
ہزاروں جان دیتے ہیں بتوں کی بے وفائی پر
اگر ان میں سے کوی با وفا ہوتا تو کیا ہوتا
۔۔
اور یہ شعر بھی شاید چکبست کا ہی ہے:
زندگی کیا ہے عناصر کا ظہور ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشاں ہونا
مزید تبصرے نہ ہونے کی وجہ سے میں اس بلاگ کو ختم کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔
چونکہ میں 14 جنوری کو تین ہفتوں کے لیے اسپین جارہا ہوں اسلیے میں اس تاریخ کے بعد اس بلاگ کی نظامت نہیں کرسکونگا جس کا افسوس ہے۔
ایک ضروری تصحیح: راجیو چکرورتی صاحب کی غزل مصحفی کی غزل کی زمین میں تھی مگرمشاعرہ کا طرحی مصرع : ”خد ا جانے کہاں لے جائےگی باد۔ خزاں مجھ کو ” راز چاند پوری مرحوم ، والد جناب سرور عالم راز سرور صاحب ، کا تھا ۔
فقط:
منظور قاضی
میونخ جرمنی سے