وہ ہو چکے ابھی رخصت تھے ابتری لائے
یہ سال ِ نومبارک ہو اب خوشی لا ئے
فلک سے بھیج دے اللہ اسی مسیحا کو
جو مہر باں ہو جہاں پراور بہتری لائے
وہ ہو چکے ابھی رخصت تھے ابتری لائے
یہ سال ِ نومبارک ہو اب خوشی لا ئے
فلک سے بھیج دے اللہ اسی مسیحا کو
جو مہر باں ہو جہاں پراور بہتری لائے
شمس بھائی آپ کی خواہشں اور دعا میں شامل ھوتے ھوئے آمین ۔
شمس جیلانی صاحب کی دعا پر میں آمین ثمہ آمین کہتا ہوں
بقول غالب :
دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
یقینی طور پر غالب کا شعر سن 2009 کی طرف اشارہ کررہا ہے
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
ہم ہر سال ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارک دیتے ہیں اور اپنی نیک خواہشات کا اظپار کرتے ہیں، دراصل ہی ہماری خواہش ہی ہوتی ہے، لیکن کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ، یہ سال بھی اسی کا ہے جو اس سال کا بظاہرحکمران ہے، اور تب تک ایسا ہی رہے گا جب تک اصلاح احوال نہیں ہوتی۔
واہ واہ جیلانی صآحب “ فلک سے بھیج دے اللہ اسی مسیحا کو۔۔ ۔۔ جو مہر باں ہو جہاں پراور بہتری لائے” بہت خوب ۔
سب کو نیا سال بہت بہت مبارک ہو۔ اللہ سے دعا ہے کہ مسلمانوں کے لیے یہ سال باعثِ رحمت ہو۔
آج کرسمس ھے تو سب کو برگزیدہ پیغمبر حضرت عیسٰی علیہ السّلام کئ پیدایش پر “میرئ کرسمس اور ساتھ ساتھ ھمارے قائداعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش اور نیا سال مبارک ہو 🙂
آمین ثمہ آمین۔ لیکن مسلہ دعا کا نہیں عمل کا ہے جس سے اکثریتی مسلم امہ محروم ہو چکی ہے
بےشک دعا اور عمل ساتھ ساتھ ہیں۔ دعا بغیر عمل کے ادھوری ھے۔
” بقول شاعر “عمل سے زندگی بنتی ھے جنت بھی جہنم بھئ “