روایت

ہمارے ہاں آج کل بیگمات اپنے شوہر حضرات کو نام لے کر پکارتی ہیں۔ اس روایت کو بُرا  تو نہیں سمجھتی لیکن بہت زیادہ پسند بھی نہیں کرتی، آپ حیران ہوں گے کیوں؟ شاید اس کی سب سے بڑی وجہ میری امی ہیں۔ میں اپنی ایم ایس سی مکمل کرنے جارہی ہوں۔ اب تک میں نے اپنی والدہ کو ابو کا نام لیتے نہیں سنا۔ ایک دن میں نے شرارت میں امی سے پوچھا کہ امی ابو کا نام کیا ہے کیونکہ ہمیشہ امی نے ابو کو “نادیہ کے ابو” کہہ کر پکارا یا پھر یوں سے مخاطب ہوتی رہیں کہ “سنتے ہیں جی” تو میری بھی یہی حسرت رہی کہ امی ابو کا نام اپنی زبان پر لائیں۔ نہ جانے اس دن مجھے کیا ہوگیا تھا کہ میں بے چین ہوگئی اور امی کو مجبور کیا کہ وہ ابو کا نام لیں۔ تو میری امی پہلے تو ہنستی رہیں، جب میں نے بہت تنگ کیا تو کہنے لگیں “سید اقتدار مہدی، یہی نام ہے نا” میں نام سنتے ہی ہنس پڑی۔ امی نے حیرت سے مجھ سے پوچھا کیوں یہی نام نہیں ہے کیا؟ میں نے کہا جی جی امی یہی نام ہے۔ حالانکہ میری امی کنڈرگارٹن کی فارغ التحصیل ہیں لیکن نہ جانے آج سے 25 سال پہلے خواتین مردوں سے ڈرا کرتی تھیں یا پھر کم ہمت تھیں اور آج کی عورت بہادر بھی ہے اور باہمت بھی یا پھر اس دور کی اور اب کی روایت میں فرق پیدا ہوچکا ہے۔

21 thoughts on “روایت”

  1. نادیہ صاحبہ

    میری ساس کی شادی کو 60 سال ہوچکے ہیں۔ وہ اپنے شوہر کا نام لیتی ہیں۔ میری شادی کو 40 سال ہوچکے ہیں اور ثریا بھی میرا نام لیتی ہیں۔ میری چار بہنیں اپنے شوہروں کے نام نہیں لیتیں۔ کیا غلط ہے اور کیا صحیح تو اسکا جواب میرے پاس یہی ہے کہ ہم بھی صحیح ہیں اور دوسری روش بھی صحیح ہے کیونکہ دنیا کے کسی مذہب یا قانون نے اسے issue نہیں بنایا۔

  2. وقت گزرنے کے ساتھ بہت کچھ بدل جاتا ہے، روایات بھی بدل جاتی ہیں. ہر دور میں خاندانی روایات مختلف رہی ہیں. خواتین کا اپنے شوہروں کو نام لے کر نہ پکارنا ایک روایت تھی جو دم توڑ رہی ہے. روایت اچھی تھی یا بُری اس کا فیصلہ خواتین کو کرنا ہے. نام لے کر کسی بھی شخص کو پکارنے میں بے تکلفی اور قربت کا عنصر جھلکتا ہےتاہم نام نہ لے کر پکارنے میں تکریم کا عنصر بھی شامل ہوجاتا ہے.
    خواتین کا اپنے شوہروں سے بے تکلف اور قریب ہونے کے لیے نام لینا کچھ زیادہ ضروری نہیں!!!

  3. اس روایت کی وجہ ” ڈر” یقیناً نہیں تھی بلکہ ” احترام ” کہئیے-

    آپ کی امی صاحبہ میری اس بات کی تصدیق بھی کریں گی، اور آپ کا خود بھی یہی مشاہدہ ہو گا زندگی بھر کا کہ آپ کی امی آپ کے والد کی عزت کرتی ہیں نہ کہ ان سے ڈرتی ہیں، ڈرا کسی بھوت پریت عفریت سے جاتا ہے (جن کا وجود ہی نہیں) نہ کے شوہر سے.

    اور رہا آج کا زمانہ ؟

    آج تو ہر الٹی بات کو درست اور اچھی بات کو دقیانوسی اور پسماندگی کہنے کا رواج پڑ چکا ہے.
    آج ایماندار اور شریف کو بزدل اور بے ایمان اور دھوکے باز کو ہوشیار کہاجاتا ہے
    آج دولت کے پجاری اور حریص کو عقلمند اور قناعت و کفایت شعار کو بے وقوف کہاجاتا ہے
    آج تعلیم یافتگی کی شناخت صرف ایک زبان (انگریزی) کا بولا جانا ہے اور کوئی پانچ پی ایچ ڈی والا پنجابی بولے تو وہ جاہل کہلائے گا . . . . وغیرہ

  4. اس نہایت ہی معصوم اور دلچسپ بلاگ کو پڑھکر میری اماں مرحوم بھی یاد آگئیں جنھوں نے میرے والد کی موت تک انہیں “اجی ” “منظور کے ابا ” کہ کر مخاطب کیا .
    جون ایلیا ( جانِ اولیا ) نے بھی اس روایت پر ایک شعر لکھا تھا جو مجھے پوری طرح یاد نہیں صرف اسکا دوسرا مصرعہ اس وقت ذہن میں ہے کہ؛
    ‘تم مرا نام کیوں نہیں لیتیں ”

    شائد کوئی قاری اس کا پہلا مصرعہ بھی لکھ دے .
    ….
    یہ مشرقی روایات کا کمال ہے کہ اس میں سادگی بھی ہے اور شرم و حیا کی معراج بھی ہے .
    میاں بیوی چاہے تخلیہ میں ایک دوسرے کو کچھ ہی کہیں لیکن برسرِ عام اپنی حیا اور خودی اور خودداری اور شرم کی خاطر ایک دوسرے کا نام لیتے ہوئے ہچکچکا تے ہیں .
    مجھے یہ بھی یاد ہے کہ صرف بیوی ہی اپنے شوہر کا نام نہیں لیتی تھی بلکہ شوہر بھی اپنی بیوی کو ” بیگم ” اور اس طرح کے دوسرے خطابات سے پکارتے تھے ، انہیں ببھی اپنی بیوی کا نام سب کے سامنے لیتے ہوئے شرم آتی تھی .

    دوسرے اسلامی معاشروں میں بھی شوہر اپنی بیگم کو ” حبیبی” ” عینی ” قلبی ” وغیرہ جیسے خطابات سے پکارتے ہیں .

    مغربی تہذیب و تمدن اور ٹیلی ویژن کی وجہ سے وہ دن خواب ہوتے جارہے ہیں اور وہ روایت قصہ پارینہ بنتی جارہی ہے ..

  5. ی نادیہ جی ! ہر زمانے میں ہر جگہ کا مختلف ماحول ااور روایات رواج، رہے ہیں، اگر میں نے امی جان کو ابا جان کا نام کھبی لیتے نہیں سنا تھا تو شیخ صاحب ،کہتے سنا ،لاہور میں ممانی جن کو مامو ن کا نام لیتے سنا . اور آجکل نام لینا عام سنائی دیتا ہے، لیکن جہاں ہماری اکثریت آبادی گاؤں( پاکستان) میں ہے ، وہاں یقیننا ابھی بھی وہ ہی روایت، ہوگی-
    میں اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں لوں گی کہ منے کا ابّا یا امی کہنے سے، یا فلاں صاحب، یا نام پکارنے سے عزت میں کوئی، کمی بیشی آتی ہے. کہ آپ آپ کھ رہے ہوں ،مگر بولنے کے سٹائل لہجے سے محسوسس ہو جاتا ہے ، کہ آپ اس کی کتنی عزت کر رہے ہیں -نام لینے سے کم از کم زدہ قربت، اور محسوس ہوتا ہے کہ آپ کس سے یا ذاتی طور پی کس سے مخاطب ہیں –

  6. سلام نادیہ صاحبہ….مولا آپ کو خوش رکھیں…آپ کی تحریروں کا کیا کہنا…واہ واہ واہ…….
    آپ نے درست فرمایا………………………….کہ اس دور کی اور اب کی روایت میں فرق پیدا ھو چکا ہے…
    اصل میں مسئلہ نہ ڈر کا ہے ، نہ کم ہمتی کا ، نہ بہادری کا…اس ترقی کے دور میں تہذیب ختم ہو رہی ہے..وہ
    زمانہ تہذیب کا تھا اب تہذیب کم کم ہی نظر آتی ہے…تب ایکدوسرے کو ” آپ جناب ” سے مخاطب کیا جاتا تھا…
    لیکن اب “تو تڑاخ” فیشن کا حصہ ہے…اور تو اور اب ” تو تڑاخ ” محبت کا اظہار ہے یعنی جس کو “تو” کہہ کر..
    ًمخاظب نہ کرو اور ” آپ ” کہہ دیا جائے تو وہ برا مان جائے گا کہ آپ نے ہمیں غیر کردیا….آپ نے تو صرف نام
    سے پکارنے کی بات کی ہے…میں نے تو کچھ لڑکیوں کو بھری محفلوں میں بزرگوں کے سامنےمذاق ہی مذاق میں
    اپنے شوہروں کو ” چپتیں ” رسید کرتے ہوئے دیکھا ہے…استفسار پر جواب ملا ” یہ پیار ہے”….اب سوچیئے کہ جب
    اس دور کا پیار ، محبت ، عشق، دوستی وغیرہ ہی تہذیب سے عاری ہوں تو….اخلاقیات ، سماجی قدریں، نفرت ،عداوت
    اور دشمنی میں تہذیب کہاں ملے گی….. کاش اور شعبوں میں ترقی کے ساتھ ساتھ تہذیب کے شعبے میں بھی ترقی ہوتی….
    اوہ اوہ میں بھول گیا …..کہ… ہمارے مدرسوں، اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تہذیب کے شعبے ہی نہیں…ایک
    ماں کی گود تھی لیکن آجکل کی مائیں تو خود ” اسٹار پلس ” کی تہذیب کو اپنائے ہوئے ہیں…اور جو مائیں ابھی تہذیب
    سکھاتی ہیں ان کی نصیحتیں قابل اعتنا نہیں سمجھی جاتیں………
    والسلام….
    سید ظل ِ ثقلین………

  7. محترم منظور قاضی صاحب….
    سلام….
    جون ایلیا مرحوم کا وہ شعر کچھ اسطرح ہے….

    شرم ، دہشت ، جھجک ، پریشانی…
    ناز سے کام…….کیوں نہیں لیتیں…
    آپ ، جی ، تم ارے یہ سب کیا ہے…
    تم ……….مرا نام کیوں نہیں لیتیں….
    ….
    میرے حافظے کے مطابق یہ شعر تھا …کافی پہلے سنا تھا …. اگر غلط ہو تو معزرت…..

  8. شوہر کا نام لےنے مےں ہمت اور بہادری کا کےا تعلق ؟ مےرے خےال مےں اس کا تعلق کلچر اور رواےات سے ہے . جس طرح کسی زمانے مےں سر پر رومال ےا ٹوپی لےنا لازمی سمجھا جاتاتھا،شرفا کے گھرانوں مےں اس کے بغےر گھر سے نکلنے کا تصور ہی نہےں تھا ،اآج ےہ تصور ےکسر بدل چکا ہے .وےسے کبھی اس پر بھی بحث ہونی چاہےے کہ اآج کی عورت کو بہادری اورہمت کا نعرہ دے کر کس طرف لے جاےا جارہا ہے اور اس کے ہمارے سماج پر کےا مضمرات سامنے اآئےں گے .بعض نعرے کلےشے بن جاتے ہےں اور ان کے پےچھے کارفرما نظرےہ برسوں ےا عشروں بعد بے نقاب ہوتا ہے . بہرحال بلاگ دلچسپ تھا.

  9. پیاری نادیہ بخاری سلامت رھو۔۔۔۔۔بھئ یہ تو ھماری مشرقی تہذیب کی وہ خوبصورت روایات تھیں جن احترام کیا جاتا تھا۔۔میرے والد مرحوم و مغفور کا نام سید علی رضا رضوی تھا،، اللہ انکو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرواۓ ،ھمارے خاندان میں بابا کو زیادہ لوگ پہلوی صاحب کہہ کر پکارتے تھے۔۔۔ امی بابا کو رضا صاحب یا پہلوی صاحب کہہ کر پکارتی تھیں جو بہت اچھا لگتا تھا۔۔ میرے سب سے چھوٹے چچا اپنی بیگم کو بیوی کہہ پکارتے تھے۔۔۔بس باقی اب تو سب ھی نام لیتے ھیں ۔۔۔اس کا مطلب یہ نیہں کہ احترام و محبت کم ھوگی ۔۔ قدریں بدل رھی ھیں۔۔لوگ بدل رھے ھیں،،،زمانہ بدل رھا۔ ھے بہت ساری خوبصورت روایتوں کا خاتمہ ھورھا ھے۔۔۔۔۔ مگر مجھہ جیسے لکیر کے فقیروں کو تو وھی پرانا زمانہ اچھا لگتا تھا۔۔ اب تم لوگوں کے ھاتھہ میں ان خوبصورت روایات کو قائم و زندہ رکھنا۔۔۔

  10. نادیہ بہن ! مجھے معلوم نہیں کہ یہ آپ کی تحریروں کا جادو ہے یا موضوع کا اثر یا شاید اصل وجہ آپ کے خیالات کی پاکیزگی ہو کہ لکھنے والے اس طرح کھنچے چلے آتے ہیں-

    اب اسی بلاگ کو دیکھئیے، آپ کے اس بلاگ کے سبب جناب سید ظل ِ ثقلین اور مھًد عامر خاکوانی صاحب اس محفل میں تشریف لائے، ہم سب ان حضرات کو خوش آمدید کہتے ہیں-

    لیکن ایک گزارش آپ کی خدمت میں پہلے کی گئی تھی کہ اپنے بلاگ کے تبصروں پر خود بھی تو کچھ تبصرہ کرتی رہا کیجیے
    گستاخی نہ سمجھئیے گا

  11. سید ظل ثقلین صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے جون ایلیا کا پورا قطعہ لکھدیا .
    اس کا یہ شعر اس موضوع پر صادق آتا ہے :
    “آپ ، جی ، تم ارے یہ سب کیا ہے
    تم مرا نام کیوں نہیں لیتیں ؟

  12. عبدالمناف بھا ئی یہ اپ جیسے بڑے لوگوں کی شفقت ہے کہ اپ مجھ نہ چیز کو اہمیت دیتے ہیں جناب سید ظل ِ ثقلین خود بہت اچھے شاعر ہیں ۔شکریہ ثقلین۔۔ اور محمد عامر خاکوانی صا حب تو پاکستان کے بڑے کالم کار جانے جاتے ہیں میں ان کی بھی خاص شکر گزار ہوں کہ نہ صرف پڑھتے ہیں بلکہ تبصرہ بھی کرتے ہیں شکریہ پیاری شاھین جی جان کر خوشی ہوئی اپ بھی میری ہم خیا ل نکلی
    پیاری عا بدہ جی نہ صر ف گاوں میں بلکہ شہروں میں بھی یہی سلسلہ چل رہا ہے
    منظو ر قاضی صا حب نے سو فیصد درست فرمایا کہ یہ مشرقی روایات کا کمال ہے کہ اس میں سادگی بھی ہے اور شرم و حیا کی معراج بھی ہے .

    علی ریحان اپ کا تبصرہ بھی دلچسپ ہے
    ظفرجعفری صا حب بہت اچھا لگا جان کر اپ کی خوش دامن صا حبہ اور اپ کی زوجہ محترمہ کا انداز تخا طب۔۔۔۔

  13. ہمارے گاؤں کے بوڑھے بابا رحمت اللہ کی بیوی تو آج تک نماز کا اختتامی سلام اس طرح ادا کرتی ہیں ( السّلام و علیکم شہزاد کے ابا ) ۔ جیسا دیس ویسا بھیس کا عمل دخل بھی ہے ۔ خواندگی کا تناسب بڑھنے اور بتدریج جمہوریت کی آمد کے ساتھ ساتھ یہ پرانے حجابات آہستہ آہستہ ختم ہوتے جا رہے ہیں ۔ جمہوریت میں برابری ضروری ہے ، میاں بیوی سائیکل کے دو وھیل ہیں ، وھیل چھوٹے بڑے ہوں تو گاڑی ہچکولے کھا کر آہستہ چلتی ہے ، اب ہم وھیل برابر رکھے ہوئے ہیں اور ہماری گاڑی بڑی تیزی سے محو سفر ہے ، اور ہم اوسطاً 50 سال میں منزل مقصود پر پہنچ جاتے ہیں ۔ جبکہ بابا رحمت اللہ یا اس سے پہلے کے دور کے لوگ 100 سال میں بمشکل یہ سفر طے کرتے تھے ۔ پی ایچ ڈی سے بھی ذیادہ آگے چل کر ہم مذید جلدی سفر مکمل کیا کریں گے ۔ جہاں علم حاصل کیا جائے صرف ذاتی مقاصد کیلئے ، دوسروں پر حکمرانی کیلئے ، خود کو دنیاوی معاملات میں دوسروں سے بڑا کہلوانے کیلئے، دوسروں کو حقیر سمجھنے کیلئے ، بڑا آدمی بن کر دولت لوٹنے اور ملکی و غیر ملکی بنکوں میں جمع کرنے کیلئے ، تو ان معاشروں میں کہیں تو ابا جان کو پاپا کہتے ہیں اور کہیں یہ پاپے کھائے جاتے ہیں ۔ نام لیتے ہوئے ادب و احترام کا پہلو ذہن نشیں ہونا ضروری ہے کہ اس سے محبتیں بڑھتی ہیں ، اور عمر و صحت میں بھی نکھار پیدا ہوتا ہے ۔

  14. محمد علی خان صاحب کی تحریر پڑھکر لطف آگیا کہ رحمت اللہ کی بیوی اپنی نماز کے خاتمہ پر اسلام و علیکم و رحمت اللہ کی بجائے اسلام وعلیکم ” شہزاد کے اباّ ” کہا کرتی ہیں .

    مشرقی شرم و حیا کی یہ ایک دلچسپ مثال ہے.

    محمد علی خان صاحب خوش رہیں اور اسی طرح اپنی تحریروں سے خوشیاں تقسیم کرتے رہیں .
    ا

  15. حضرت علی کا قول ہے

    اپنی اولاد سے اُن قدروں کی توقع نہ رکھو جو تمہاری ہیں کیونکہ ان کا بدل چُکا ہوتا ہے۔

    انگریزی میں اسے generation gap کہتے ہیں۔

    مجھے اپنے ایک مرحوم دوست یاد آرہے ہیں جو کہتے تھے کہ اگر میری بیوی نے مجھ سے ٰٰٰ ٰٰٰسرتاجّّّّ ّّّ کہا تو میں خود کشی کرلونگا۔

    اس میں کسی کو غلط کہنا زیادتی ہوگی۔ ہر فیملی کی اپنی اپنی values ہیں۔ دوسرے پر اعتراض کرنا بڑی غلطی ہے۔

  16. تصحیح

    حضرت علی کا قول ہے

    اپنی اولاد سے اُن قدروں کی توقع نہ رکھو جو تمہاری ہیں کیونکہ ان کا وقت بدل چُکا ہوتا ہے۔

  17. ظفرجعفری صا حب ایسی ہرگز کوئی بات نہیں ہے کہ کوئی کسی پا اعتراض کر رہا ہو ایک ہلکی پھلکی سی گفتگو چل رہی ہے
    محمد علی خان صا حب اپ نے بالکل درست فرمایا نام لیتے ہوئے ادب و احترام کا پہلو ذہن نشیں ہونا ضروری ہے کہ اس سے محبتیں بڑھتی ہیں ، اور عمر و صحت میں بھی نکھار پیدا ہوتا ہے ۔

  18. محترمہ نادیہ بخاری صاحبہ،
    بقول قاضی منظور صاحب کے کتنی معصوم اور بھولی بھالی سوچ ہے جو بلاگ میں بھی عیاں ہے.ہماری ذاتی زندگی، رسم و رواج اور خاندانی روایات بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں. اس معاشرتی اور سماجی نبدیلی کے پیچھے مادی ترقی، رفتار زمانہ اور الیکٹرانک میڈیا، ریڈیو، ٹی وی اور سب سے بڑھ کر انٹرنیٹ، کا بڑا دخل ہے. آپ نے تو صرف نام لینے کی بات کی ہے اور ہم نے تو والدین کو اکٹھے کھانا کھاتے یا ایک صوفے پہ اکھٹے بیٹھے کبھی نہیں دیکھا تھا.عورت مرد سے دو تین قدم پیچھے چلا کرتی تھی. اس میں ڈر یا خوف نہیں بلکہ شرم و حیاء، جھجھک اور خاندانی روایات کا اثر نمایاں تھا.
    اور اب تو زمانہ اتنا بدل چکا ہے کہ دیہات میں بھی ڈبل بیڈ (توبہ، توبہ، توبہ، کہیں سے بے حیائی کا فتویٰ نہ آجائے) کلچر، کہ جس میں پیار بڑھنے سے زیادہ امکانات جلدی لڑائی کے ہوتے ہیں، آچکا ہے. خاوند کو نام سے پکارنا تو پرانی بات ہوئی اب تو وہ غریب مذکر سے مئونث ہو کے رہ گیا ہے جیسے کامران سے کامی ہوا تو عمران سے عِمـی، جمیل سےجمی بنا تو بلال سے بِلی!
    مغربی روایات اتی تیزی سے ہماری زندگی میں آرہی ہیں کہ جو عورت خاوند سے دو تین قدم پیچھے چلا کرتی تھی آج وہ آگے آگے ہے اور خاوند بچارہ بچے سنبھالے گرتا پڑتا دو تین قدم پیچھے. انتقام ہے شاید زمانے کا جو ہمارے الٹے دن آگئے !
    اور جب عورت کو حق حمکرانی ملا تو خاوند غریب تو ’زرداری‘ بن کے گھر داری پہ آگیا، وہ تو بے نظیر شہید ہوئی جو زرداری نے دبئی محل کی نظر بندی توڑ،چہار دیواری پھلانگ ، صدارت کا تاج سر پہ سجائے ایوان صدر کو قصر زرداری بنایا اور یوں بچارے خاوند کو گھر داری سے ہٹایا ورنہ مر گیا تھا غریب بن موت !

  19. نادیہ صاحبہ

    ٰٰٰٰ ٰٰٰٰٰ دوسرے پر اعتراض کرنا بڑی غلطی ہےٰٰٰٰٰٰٰٰ ٰٰٰٰٰٰٰ

    اس جملہ کا تعلق اس بلاگ سے نہیں ہے بلکہ ایک عام سا جملہ ہے جسکا یہاں مطلب یہ ہےکہ شوہر کا نام لینا بھی ٹھیک ہے اور نہ لینا بھی ٹھیک ہے۔ یہ کوئ قانونی یا شرعی مسئلہ نہیں ہے۔

  20. جناب جاوید اقبال کیانی صاحب ۔۔ سلامت رھیں آپکی گل وگلزار قسم کے تبصرے نے بے اختیار مسکرانے پر مجبور کردیا۔ اور خاص کر زرداری نامہ ۔۔۔۔تھوڑے دن قبل بے نظیر کی شادی کی تصویریں دیکھی ۔ جہاں زرداری شرم سے خاموش دلھن اور بےنظیر بھٹو جیالوں کو کبھی مکا اور کبھی وکٹری کا نشان دکھاتی بہت جیدار دلھا لگ رھی تھیں ۔۔ کبھی کبھی سوچتی ھون کہ آج مرحومہ پاکستان کھپے کو صدرمملکت کے روپ میں دیکھہ کر خود ھی فوت ھوچکی ھوتیں

    میں تو اسی بات کی قائل ھوں کہ عورت کو مرد سے چند قدم پیچھے ھی چلنا چاھیے۔۔۔

  21. محترمہ شاھین رضوی صاحبہ،
    آپ مسکرائیں، میرا کلیجہ سوا سیر ہوگیا . الحمداللہ، اس جاہل کی تحریر بھی کسی کھاتے لگی. اپ کی دلی پژیرائی کا بے حد شکریہ.

    ’’میں تو اسی بات کی قائل ھوں کہ عورت کو مرد سے چند قدم پیچھے ھی چلنا چاھیے۔۔۔‘‘ یہ کیا کہہ دیا آپ نے، ذرا اپنی برادری سے بچ بچا بھئی! اس پہ بھی کچھ لکھنے کو جی چاہا مگر کسی اور موقعے پہ. والسلام.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *