کیا اب بھی کالا باغ ڈیم نہیں بننا چائیے ؟

کیا اے این پی کو فراخ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی انا کے بت توڑ کر کالا باغ ڈیم کی مخالفت ترک نہیں کر دینی چائیے ؟ کیا سندھ اور خیبر پختونخواہ کو پاکستان کی خاطر اپنی تنگ نظری، علاقائی سوچ اور تعصب سے بھرپور اصولوں کو ترک کرکے ’سب سے پہلے پاکستان‘ کا نعرہ نہیں لگانا چایئے؟
وطن عزیز انتہائی نازک دور سے گذر رہا ہے.تمام مسائل ایک طرف مگر بجلی اور پانی کا بحران ایک طرف. صنعتیں دھڑا دھڑ بند ہو رہی ہیں، کھیت کھلیان سوکھ رہے ہیں. ملکی پیداوارمیں کمی اور خوراک کی قلت ، پہلے سے قرضوں میں جکڑے، ملک کو مزید تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے. انڈیا نے سندھ تاس معائدے کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نہ صرف غیر قانونی بند باندھ لئے بلکہ ہمارے حصے کا پانی بھی روکے بیٹھا ہے. منگلا اور تربیلا ڈیم پورے ملک کی ضرورت پوری کرنے سے قاصر ہیں. کالا باغ ڈیم کا منصوبہ کئی سالوں سے سرد خانے میں پڑا ہوا ہے کیونکہ سندھ اور خیبر پختونخواہ محض پنجاب سے عداوت کی بنا پہ اس کی راہ میں رکاوٹ بنے بیٹھے ہیں.
اب جبکہ پنجاب نے نیشنل فنانس ایوارڈ میں دوسرے صوبوں کی خاطر اپنے حصے میں کمی قبول کرتے ہوئے بڑی فراخ دلی کا ثبوت دیا اور مسلم لیگ (ن) ، جسکی قیادت پنجاب کے پاس ہے، نے ( ہزارہ ڈویژن کے عوام کی مخالفت کے باوجود) خیبر پختونخواہ کےنام کی حمایت کرکے بڑائی کا ثبوت دیا تو کیا ان صوبوں کا فرض نہیں بنتا کہ وہ محض اس بنا پر کہ کالا باغ ڈیم سے زیادہ فائدہ پنجاب کو ملے گا اپنی مخالفت ترک کرتے ہوئے پاکستان کے غریب عوام پہ رحم کریں. اگراس ڈیم کا پانی زیادہ تر پنجاب کی زمینوں کو سیراب کرے گا تو بھی اناج اور بجلی پاکستان کے عوام کے لئے ہی ہوگی.
آیئے اس قومی مسئلے پہ اپنی بھرپور رائے پیش کریں، شکریہ.

26 thoughts on “کیا اب بھی کالا باغ ڈیم نہیں بننا چائیے ؟”

  1. کیانی صاحب، ان علاقوں کے لوگ تو سادہ دل اور محب وطن ہیں. مسئلہ ہے تو یہاں کے کرتا دھرتا لوگوں گا، کہ جو جمہوریت ہو یا مارشل لاء، ہمشہ اقتدار میں رہتے ہیں اور نعرہ تو یہی لگاتے ہیں کہ ’سب سے پہلے پاکستان‘، مگر منہ میں “توڑ دو” کہیا نہیں بھولتے.

  2. ”صوبے کا نام بدلنے کےاےشو پراے اےن پی ک اکردار افسوسناک رہا. مےرے خےال مےں انہےں فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہزارہ کے عوام کے دلی جذبات کا احساس کرنا چاہےے تھا ÷ےہ درست ہے کہ جمہورےت مےں اکثرےت کے موقف کو تسلےم کےا جاتا ہے ،مگر اکثرےت پر زمہ دارہ بھی عائد ہوتی ہے . بعض اےشوزاےسے ہوتے ہےں ،جہاں اکثرےت کو اپنی قوت اور عددی برتری کے بل بوتے پر من مانی نہےں کرنی چاہےے . کالاباغ ڈےم بھی اےسا ہی اےشو ہے . ہمارے خےال مےں اس نوعےت کے پراجےکٹس کے لئے سے ٹےکنےکل فزےبلٹی کے ساتھ ساتھ سےاسی فزےبلٹی بھی اتنی ہی ضروری ہے . کالاباغ ڈےم اس لئے نہےں بننا چاہےے کہ سندھ اور سرحد کے عوام مےں اس کے خلاف شدےد نوعےت کی نفرت موجود ہے ،جب تک وقت اس سردمہری کو پگھلا نہےں دےتا ،اےسا قدم نہےں اٹھانا چاہےے .بالکل اسی طرح پختوں خواہ نام کا اےشو ہے . صوبہ سرحد مےں سرائےکی ،ہزاروی،ہندکو،کوہستانی اور چترالی جےسی غےر پختون خواہ اآبادےاں موجود ہےں .نام بدلتے ہوئے ان کے جذبات اور تحفظات مدنظر رکھنے چاہےں . اے اےن پی اس امتحان مےں بری طرح ناکام ہوئی ،اسی طرح پےپلزپارٹی ،جے ےو اآئی ،شےرپائو گروپ ،مسلم لےگ ق اور مسلم لےگ ن ..بعض پختون خواہ کے نام رپ اس لئے اکٹھے ہوگئے کہ ان کا ہزارہ مےں ووٹ بےنک ہی نہےں ،کسی نے اپنے ووٹ بنک کو بڑھانے کی کوشش کی تو کوئی پورے صوبے مےں ےکساں ووٹ بنک بنانے کے چکر مےں ہزارہ کے رواےتی اثرونفوز سے بھی محروم ہوگئے .

  3. جو بات پہلے لکھنی چاہیئے تھی ،وہ تاخیر سے لکھنے کی معذرت . جس طرح عالمی اخبار کے دوستوں نے میرے اس مختصر سے تبصرے کی پزیرائی کی ،اس کی مجھے توقع ہی نہیں تھی .مجھے نادیہ بخاری نے اس کے بارے میں بتایا اورجب میں نے دیکھا تو ازحد مسرت ہوئی .ہمدانی ”صاحب سمیت دوسرے دوستون نے جو خیر مقدم کیا اس کا میں شکرگزار ہوں .

  4. وحیداخترواحد صاحب،
    یہاں کسی کی بھی حب الوطنی پہ شک کئے بغیر صرف اور صرف حب الوطنی ثابت کرنے کا وقت اور مطالبہ ہے، خواہ وہ عوام ہوں یا صاحب اقتدار.یہ ایک ایسا قومی مسئلہ ہے جس کے اثرات کراچی سے لیکر خیبر تک کے عوام تک نہ صرف موجودہ وقت میں بلکہ آنے والے سالوں میں بھی برائے راست درپیش رہیں گے. لھذا اس پہ کھلے دل و دماغ سے غور و فکر کی ضرورت ہے. آپ کا شکریہ.

  5. عامر خاکوانی صاحب،
    خوش آمدید، آپ آئے بہار آئی، آپ نے اپنے تبصرے میں دو نکات اٹھائے ہیں. ایک یہ کہ اکثریت کو اپنا فیصلہ اقلیت پہ مسلط نہیں کرنا چائیے اور دوسرا ٹیکنیکل فیزیبلٹی کی.
    خاکوانی صاحب اگر فیصلہ مسلط ہونا ہوتا تو اب تک ایسا ہو چکا ہوتا اور اس ڈیم سے بجلی بھی پیدا ہو رہی ہوتی لیکن رونا ہی اسی بات کا رہا ہے کہ جو فیصلہ ملکی مفاد میں کر گذرنا چائیے تھا وہ تو کسی نے کیا نہیں جبکہ اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کی خاطر ایسے ایسے فیصلے اور حرکات کی گئیں کہ دنیا بھی ششدر ہوتی رہی. جہاں تک ’ ٹیکنیکل فیزیبلٹی‘ کی بات ہے تو تمام متعلقہ ماہرین، ایک نہیں بلکہ، بار بار اسے قابل عمل منصوبہ قرار دے چکے ہیں اور بڑی وضاحت سے کہہ چکے ہیں کہ اٹھانے جانے والے اعتراضات محض مفروضوں پہ مبنی ہیں. آپ اپنے دلائل ذرا وضاحت سے دیں تو بڑی خوشی ہوگی کہ یہ ایک نہایت ہی اہم مسئلہ ہے جس کا برائے راست تعلق پورے ملک کی اکانومی سے ہے. آپ کا بہت شکریہ.

  6. تبصرہ نہیں فقط معلومات

    کالاباغ ڈیم یا کالاباغ بند حکومت پاکستان کا پانی کو ذخیرہ کر کے بجلی کی پیداوار و زرعی زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے ایک بڑا منصوبہ تھا جو تاحال متنازعہ ہونے کی وجہ سے قابل عمل نہیں ہو سکا۔ اس منصوبہ کے لیے منتخب کیا گیا مقام کالاباغ تھا جو کہ ضلع میانوالی میں واقع ہے۔ ضلع میانوالی صوبہ پنجاب کے شمال مغربی حصے میں واقع ہے۔ یاد رہے کہ ضلع میانوالی پہلے صوبہ سرحد کا حصہ تھا جسے ایک تنازعہ کے بعد پنجاب میں شامل کر دیا گیا۔
    کالاباغ بند کا منصوبہ اس کی تیاری کے مراحل سے ہی متنازعہ رہا ہے۔ دسمبر 2005ء میں اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اعلان کیا کہ، “وہ پاکستان کے وسیع تر مفاد میں کالاباغ بند تعمیر کر کے رہیں گے“۔ جبکہ 26 مئی 2008ء کو وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے ایک اخباری بیان میں کہا، “کالاباغ بند کبھی تعمیر نہ کیا جائے گا“ انھوں نے مزید کہا، “صوبہ سرحد، سندھ اور دوسرے متعلقہ فریقین کی مخالفت کی وجہ سے یہ منصوبہ قابل عمل نہیں رہا

  7. ھمدانی صاحب کی معلومات میں ایک چھوٹا سااضافہ، یہ منصوبہ 1955 سے کچھ پہلے کا ہے اور جرنل ایوب خان نے سب سے پہلے اس منصوبے کو تنازعات کی وجہ سے پس پشت ڈال کر متبادل کے طور پر منگلا اور تربیلا ڈیم بنوائے تھے.

  8. ضرورت فیزیبلٹی اسیڈی کی ہے کہ اس کے سارے صوبوں کیلئے کیا فوائد ہیں اور کیا نقصانات۔ اگر کسی پروجیکٹ سے کچھ علاقوں کو ناقابلِ تلافی نقصان ہوتا ہے تو یہ پروجیکٹ نہیں ہونا چاہئے ۔ میں بحیثیت ایک ماہرِ ارضیات کے یہ کہنا چاہونگا کہ دریا پانی کے ساتھ ساتھ مٹی بھی لیکر چلتے ہیں۔ یہ مٹی سمندر کے ساحلی علاقوں میں جمع ہو ہوکر سمندر کو چڑھنے سے روکتی ہے۔ اگر سمندر کو دریا سے پانی نہیں ملتا تو مٹی بھی نہیں ملتی جسکی وجہ سے سمندر ساحلی علاقوں میں چڑھنا شروع ہوجاتا ہے اور اس سے ناقابلِ تلافی نقصان ہوتا ہے۔ بدین، ٹھٹہ اور سندھ کے دیگر ساحلی علاقوں میں سمندر چڑھ رہا ہے اور کھارے پانی سے وہاں کی فصلیں تباہ ہورہی ہیں۔ لیکن سندھ اور سرحد کو اعتماد میں لیکر اگر صرف سیلابی پانی کو اسٹور کیا جائے تو کالا باغ ڈیم کے بننے میں کوئ ہرج نہیں ہے۔ کیونکہ چشمہ کینال کے ذریعہ دریائے سندھ سے معاہدہ سے زیادہ پانی لیا جارہا ہے اسلئے سندھ کو اعتماد میں لینا مشکل ہوگا ۔ بین الصوبائ معاہدوں کو نظر انداز کرنے سے وفاق کمزور ہوتا ہے۔

  9. محمد عامر خاکوانی صا حب میں بھی اپ کوجناب جاوید اقبال کیانی صا حب بلاگ کی طرح خوش امدید کہتی ہوں
    مجھے سندھی ٹوپی ڈے پر اج کی شہلا رضا کی تقریر یاد ہے جس پر وہ چیخ چیخ کر سندھ کے رہنے والوں کو کہہ رہی تھیں کہ ہم سٹیپ نہ لیتے تو اج ہیاں کالا باغ ڈیم بنا ہو تا مجھے ان کا اتنا متعصبانہ اندازنہایت عجیب لگا

  10. جناب صفدر ہمدانی صاحب،
    نہ صرف صدر جنرل مشرف بلکہ اسے پہلے صدر (اب موصوف کوصدر لکھنا شاید غیر قانونی ہو گیا ہے) جنرل ضیاء الحق، میاں نواز شریف، مرحومہ بے نظیر بھٹو کے ادوار میں بھی بڑی شد و مد سےاس منصوبے کو مکمل کئے جانے کے اعلانات کئے جاتے رہے لیکن عملی قدم اٹھاتے ہوئے سب کے قدم ڈگمگاتے ہی رہے.

  11. وحیداخترواحد صاحب،
    محترم، 1956 میں تو پاکستان کو پہلا آئین نصیب ہوا تھا . اسے پہلے تو ’گاندھی کی دھوتیوں‘ کی طرح حکومتیں بدلتی رہیں ڈیم بنانے کی بھلا کسے فرصت تھی؟ ایوب خان کے (1958 کے بعد) دو پانچ سالہ منصوبوں میں دوسرے ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ منگلا اور تربیلا ڈیم تھے جو کہ وقت مقررہ پہ مکمل ہوئے. کالا باغ ڈیم کے منصوبے پہ 76- 1975 میں کام شروع ہوا تھا .ضیاء الحق کے دور میں 1984 میں ترمیم شدہ فیزیبلٹی رپورٹ پیش کی گئی جو کہ حسب معمول پھر تعطل کا شکار ہوگئی. 2003 میں تمام اعتراضات کی روشنی میں نئی رپورٹ تیار ہوئی جو اس وقت کے متعلقہ وزیر لیاقت علی جتوئی نے اس وقت کی قومی اسمبلی میں پیش کی اور آج تک دوبارہ منظر عام پہ ہی نہیں آئی.

  12. محترم ظفرجعفری صاحب،

    ’’ضرورت فیزیبلٹی اسیڈی کی ہے کہ اس کے سارے صوبوں کیلئے کیا فوائد ہیں اور کیا نقصانات۔ اگر کسی پروجیکٹ سے کچھ علاقوں کو ناقابلِ تلافی نقصان ہوتا ہے تو یہ پروجیکٹ نہیں ہونا چاہئے‘‘ ۔

    حضور، آپ Google Search پہ کالا باغ ڈیم سرچ کریں ایک چھوڑ کئی فیزیبلٹی سٹڈی رپورٹس مل جائیں گی.آپ ساری رپورٹس پڑھ کے دیکھ لیں تمام ماہرین، جن میںآپ جیسے ماہر اراضیات (ملکی غیر ملکی) اور ڈیم ٹیکنالوجی سے وابسطہ دوسرے ماہرین بھی ہیں، نے تمام خدشات کو محض مفروضے قرار دیتے ہوئے ایک سے زیادہ دفعہ اس ڈیم کو قابل عمل منصوبہ قرار دیا ہے.علاوہ ازیں، بات کسی ایک صوبے کے نفع نقصان کی نہیں بلکہ پورے ملک کی معیشت کی ہے اور بڑے فوائد کے حصول کے لئے چھوٹا نقصان برداشت کرنا گھاٹے کا سودا ہر گز نہیں ہوتا. آپکی رائے کا شکریہ.

    نا د یہ بتول بخا ری صاحبہ،
    ’’مجھے سندھی ٹوپی ڈے پر اج کی شہلا رضا کی تقریر یاد ہے جس پر وہ چیخ چیخ کر سندھ کے رہنے والوں کو کہہ رہی تھیں کہ ہم سٹیپ نہ لیتے تو اج ہیاں کالا باغ ڈیم بنا ہو تا مجھے ان کا اتنا متعصبانہ اندازنہایت عجیب لگا‘‘

    بہن، یہاں ایک شہلا رضا نہیں بلکہ لاشوں کی سیاست کرنے والوں کا ایک قبیلہ ہے جو بنا کسی جواز کے کالا باغ ڈیم کو کبھی اپنی لاشوں پہ بننے کی اورکبھی بم سے اڑا دینے کی دھمکیاں دیتے آئے ہیں. اور جو حالات ہیں سب کے سامنے ہیں. اس پہ بھی ظلم کہ تعصبات کی آگ ابھی بھی بھڑک رہی ہے.خیر اب تو حکومت نے بھی یہ فائل بند کر دی ہے. اپنی رائے سے نوازنے کا شکریہ.

  13. جاوید اقبال کیانی صاحب

    آپنے میری تحریر کا وہ حصہ Quote کردیا جسکو پڑھ کر قاری آبکی بیجا حمایت کریگا ۔ اب میں اپنی تحریر کا بقیہ حصہ Quote کر رہا ہوں۔

    ٰٰٰٰ ٰٰٰٰمیں بحیثیت ایک ماہرِ ارضیات کے یہ کہنا چاہونگا کہ دریا پانی کے ساتھ ساتھ مٹی بھی لیکر چلتے ہیں۔ یہ مٹی سمندر کے ساحلی علاقوں میں جمع ہو ہوکر سمندر کو چڑھنے سے روکتی ہے۔ اگر سمندر کو دریا سے پانی نہیں ملتا تو مٹی بھی نہیں ملتی جسکی وجہ سے سمندر ساحلی علاقوں میں چڑھنا شروع ہوجاتا ہے اور اس سے ناقابلِ تلافی نقصان ہوتا ہے۔ بدین، ٹھٹہ اور سندھ کے دیگر ساحلی علاقوں میں سمندر چڑھ رہا ہے اور کھارے پانی سے وہاں کی فصلیں تباہ ہورہی ہیں۔ لیکن سندھ اور سرحد کو اعتماد میں لیکر اگر صرف سیلابی پانی کو اسٹور کیا جائے تو کالا باغ ڈیم کے بننے میں کوئ ہرج نہیں ہے۔ کیونکہ چشمہ کینال کے ذریعہ دریائے سندھ سے معاہدہ سے زیادہ پانی لیا جارہا ہے اسلئے سندھ کو اعتماد میں لینا مشکل ہوگا ۔ بین الصوبائ معاہدوں کو نظر انداز کرنے سے وفاق کمزور ہوتا ہے۔ٰٰٰ ٰٰٰ

    اس کا بھی آپ ذرا تحمل سے جواب دیں۔ 1971 میں میری عمر 28 سال تھی۔ اُس وقت مغربی پاکستان میں رائے عامہ یہی تھی کہ بنگالی غدار ہیں، انہیں کچل دینا چاہئے۔ مسائل تحمل اور افہام و تفہیم سے حل ہوتے ہیں۔ آپکا صوبہ کالا باغ ڈیم چاہتا ہے اور تین صوبے اس کے خلاف ہیں۔ دریائے سندھ میں موجودہ dams کی وجہ سے پانی کم ہورہا ہے جسکی وجہ سے سندھ کے ساحلی علاقوں میں سمندر چڑھ رہا ہے اور وہاں کی فصلیں تباہ ہورہی ہیں۔ میں google عرصہ سے دیکھ رہا ہوں اور وہ ایک ایسی debate ہے جسے جیتنا ناممکن ہے۔ آپکی یہ بات صحیح ہے کہ جو بات ملک کے وسیع تر مفاد میں ہے وہی کرنی چاہئے۔ افہام و تفہیم ہی ملک کے وسیع تر مفاد میں ہے ۔

  14. جاوید اقبال کیانی صاحب یہ منصوبہ پہلی مرتبہ 1955 کے لگ بھگ پرپوز کیا گیا تھا. یہ پہلا منصوبہ تھا ڈیم کے حوالے سے جو پرپوز ہوا تھا.

  15. منگلا اوت تربیلا ڈیم اس کے آلٹرنیٹ کے طور پر سامے آئے بالکل ایسے ہی جیسے دیامیر بھاشا ڈیم.

  16. محترم ظفرجعفری صاحب،
    مجھے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی میری حمایت کرے یا مخالفت. اس بلاگ میں جو کوئی بھی اپنی رائے دے گا وہ عالمی اخبار کے قارئین کے علم کی خاطر ہوگی. اور پھر یہاں کوئی ریفرنڈم بھی نیہں ہو رہا کہ جس کی خاطر میں آپ کی رائے کا کوئی مخصوص حصہ اپنے لئے حمایت کی خاطر quote کروں. دنیا میں کہیں بھی اسطرح کا Mega Project کسی فیزیبلٹی سٹڈی کے بغیر شروع نہیں کیا جاتا اور آپ نے بھی فیزیبلٹی سٹڈی کی ہی بات کی تھی اور اپنے خدشے کو شامل کیا تھا جس کے جواب میں میں نے یہی عرض کی تھی کہ اس پراجیکٹ پہ ایک سے زیادہ فیزیبلٹی سٹڈی رپورٹس موجود ہیں اور یہ رپورٹس تیار کرنے والے بلاشبہ اپنی فیلڈ کے ماہر ترین لوگ ہوں گےجنھوں نے بغیر کسی دبائو کے اپنی رپورٹس تیار کی ہوں گی جو کہ حکومت پاکستان کے علاوہ ورلڈ بنک کے لئے تھیں. ورلڈ بنک اور کنسورشیم کے دوسرے ممبران کسی ملک کے مخصوص حصے کو فائدہ پہنچانے کی خاطر ملک کے باقی حصے کو داءو پہ نہیں لگا سکتے کہ اسے ورلڈ بنک کی اپنی کریڈیبلٹی مشکوک ہوتی ہے.
    مجھے نہیں معلوم کہ آپ کا اپنی فیلڈ میں کتنا تجربہ ہے اور آپ اراضیات کے کس ڈیپارٹمنت سے وابسطہ ہیں لیکن یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ورلڈ بنک کے لئے فیزیبلٹی سٹڈی تیار کرنے والے ماہرین کا تجربہ آپ سے کہیں زیادہ ہوگا اور انہوں نے اُس وقت بھی وہ تمام خدشات، جوآج آپ کے ذہن میں جنم لے رہے ہیں، ضرور مد نظر رکھے ہوں گے، جس کا انہوں نے جواب بھی دیا ہے.

    ’’اس کا بھی آپ ذرا تحمل سے جواب دیں۔ 1971 میں میری عمر 28 سال تھی۔ اُس وقت مغربی پاکستان میں رائے عامہ یہی تھی کہ بنگالی غدار ہیں، انہیں کچل دینا چاہئے‘‘۔

    مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ آپ مجھ سے اس پُرتعصب سوال کا کیا جواب چاہتے ہیں؟ میں نے تو کسی کو کچلنے کی بات نہیں کی !

    ’’آپکا صوبہ کالا باغ ڈیم چاہتا ہے اور تین صوبے اس کے خلاف ہیں۔‘‘

    برادر محترم میرا کوئی صوبہ نہیں. میں پاکستانی ہوں ساراپاکستان میرا ملک ہے.اگر میں نے کالا باغ ڈیم کی خاطرپنجاب کی بات کی ہے تو اس پہ قائم ہوں کہ اس ڈیم کی محض اس لئے مخالفت کی گئی کہ پنجاب کو زیادہ فائدہ پہنچتا. لیکن جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ زیادہ فائدے کی خاطر تھوڑا نقصان اٹھانا گھاتے کا سودا ہر گز نہیں اور سندھ اور خیبر پختونخواہ کے نقصان کے خدشات ،فیزیبلٹی سٹڈی رپورٹس کی روشنی میں، محض مفروضے ہیں جن کا حکومت پاکستان، ورلڈ بنک اور امداد دینے والے کنسورشیم کے ممبران نے بخوبی جائزہ لینے کا بعد ہی اس پراجیکٹ کو قابل عمل منصوبہ قرار دیا ہوگا. دوسری بات میں پھر دُہراتا ہوں کہ اگر پنجاب کی زمین سیراب ہوتی ہے تب بھی روٹی (اناج) غریب پاکستانی کے لئے ہی ہوگی.

    ’’آپکی یہ بات صحیح ہے کہ جو بات ملک کے وسیع تر مفاد میں ہے وہی کرنی چاہئے۔ افہام و تفہیم ہی ملک کے وسیع تر مفاد میں ہے ‘‘

    میں بھی یہی کہتا ہوں کہ خدشات سے نکل کر ملکی مفاد کی خاطر افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کیا جائے. ملک کے غریب عوام پہ رحم کیا جائے اور ملکی معیشت کے بڑے فائدے کی خاطر قربانی دیتے ہوئے چھوٹے نقصان کو گلے لگا لینا چائیے کہ یہی زندہ قوموں کی نشانی ہوتی ہے. واسلام.

  17. محترم ظہور احمد صاحب،

    میں محترم ایاز لطیف پلیجو صاحب کی پوری رپورٹ تو پیش کرنے سے قاصر ہوں اور اگر کوئی مخصوص حصہ پیش کر دیا تب بھی الزام سے بچ نہ پاءوں گا. آپ اگر کسی مخصوص حصے کو زیر بحث لانا چاہتے ہیں تو چشمِ ما روشن، دلِ ما شاد.

    اگر پلیجو صاحب کا تھوڑا تعارف کرا دیتے تو بہتر ہوتا تاکہ میں انہیں ورلڈ بنک کے لئے فیزیبلٹی سٹڈی رپورٹس تیار کرنے والے ماہرین کے تناظر میں دیکھتا.

    ویسے پلیجو صاحب نے بھی جو نقاط اٹھائے ہیں ان کا جواب بھی اوپر بیان کی گئی فیزیبلٹی سٹڈی رپورٹس میں موجود ہے، لہذا اس جھاڑی کو بار بار جھاڑنا لاحاصل بحث کے سوا کچھ نہیں. آپ کا بہت شکریہ.

  18. جاوید اقبال کیانی صاحب

    جب تین صوبے ایک پروجیکٹ کے خلاف ہیں تو ایسے پروجیکٹ کو ایک ڈکٹیٹر تو کر سکتا ہے۔ اسے جمہوری حکومت بغیر افہام و تفہیم کے نہیں کرسکتی۔ سندھ مزید بنجر ہوجائے گا۔ سرحد اور بلوچستان بھی پریشان ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیلاب کے پانی کو اسٹور کرنے پر انِ تین صوبوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ بنگلہ دیش کا ذکر میں نے تاریخ سے کچھ سیکھنے کیلئے کیا۔ اگر یہ پروجیکٹ سندھ، سرحد اور بلوچستان کو اعتماد میں لئے بغیر کیا گیا تو وہاں باغی رجحانات بڑھیں گے جن سے بچنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے GHQ اور پولس اکیڈمی تک تو غیر محفوظ ہیں۔ جہاں تک لوڈ شیڈند ہے تو اسکا حل تھر کوئلہ سے بہتر کوئ اور نہیں ہے۔

  19. ظفرجعفری صاحب،
    اس پراجیکٹ پہ کام شروع ہونے کے بعد یہ بدقسمت ملک 20 سال دو ڈکٹیٹروں کے کنٹرول میں بھی رہا جو ہر سال یہ ڈیم بننے کی خوشخبریاں سناتے رہے لیکں انہوں نے بھی زبانی جمع خرچ ہی کیا. نواز شریف اور مرحومہ بے نظیر بھٹو کو بھی دو دو دفعہ اقتدار ملا تب بھی قوم کو یہ ڈیم مکمل کرنے کی خوشخبریاں ہی سنائی جاتی رہیں. اگر یہ منصوبہ ناقابل عمل تھا تو آج تک 1 بلین روپے سے زیادہ سرمایہ کس لئے برباد کیا گیا ؟ ایک صوبے کو بنجر کرکے دوسرے صوبے یا پورے ملک میں خوشحالی نہیں آسکتی . بلوچستان کے اعتراضات عمومی نوعیت کے ہیں جبکہ خیبر پختونخواہ کو لوگوں کے بے گھر ہونے، ڈیم میں آنے والی زمین اور سیلاب کے خدشات ہیں جو ہر حکومت اور متعلقہ ماہرین کی کمیٹیاں نہ صرف بار بار دور کرنے کی کوشش کرتی رہیں بلکہ ان کی تسلی کی خاطر ڈیم کے ڈیزائین میں کئی بار تبدیلی بھی کی گئی.اس طرح کے اعتراضات منگلا ڈیم، تربیلا ڈیم، اسلام آباد یا فوجی چھائونیوں کی تعمیر کے وقت بھی ہوتے رہے لیکن ناگزیر سمجھ کر وہ فیصلے بھی صادر ہی ہوئے اور تاریخ نے کسی ایسے فیصلے کو آج تک غلط ثابت نہیں کیا.
    کالا باغ ڈیم بنانے کا آج تک فیصلہ ہی نہیں ہوا لیکن باغی رجحانات پھر بھی کہیں نہ کہیں موجود ہیں؟
    یہ میری یا آپ کی نہیں بلکہ دنیا کے ماہرین کی متفقہ رائے ہے کہ ہایڈروالیکٹرک، تھرمل پاور یا IPP کے مقابلے میں سستی ہوتی ہے ورنہ ہماری سابقہ حکومتیں اور پاور جینیریشن سے متعلقہ ماہرین اس آپشن پہ سب سے پہلے غور کرتے.

  20. وحیداخترواحد صاحب،
    ہو سکتا ہے آپ کی بات ہی صحیح ہو کیونکہ میری معلومات بھی مختلف رپورٹس کی بنیاد پہ تھیں جو کہ غلط بھی ہو سکتی ہیں. بہرحال یہ کوئی پرائمری ایشو نہیں ہے. تصحیح کا شکریہ.

  21. کیانی صاحب، آپ ٹھیک کہہ رہے ہیںکہ یہ پرائمری اشو نہیں ہے. پھر بھی ایک چھوٹا سا آرٹیکل پیش. خدمت ہے:

    During the sixties when the Indus Basin Water Treaty was signed, the Kalabagh dam emerged as the most favourite site. President Ayub Khan dropped it in favour of Tarbella site, which fell in his native area.

    http://www.pakissan.com/english/watercrisis/kalabagh.dam.and.political.pressures.shtml

    دراصل کالاباغ ڈیم کی سائٹ کا پروپوزل 1955کے لگ بھگ آیاتھا، جب حکومت پاکستان نے دیموں کے لئے بہترین جگہوں کے لئے سروے کروایا تھا.

  22. اسی آرٹیکل سے ایک اور اقتباس:

    In the heat of the moment, the government also ignored the fact that the Kalabagh dam has been the most studied – it was subjected to a series of most exhaustive studies spanning three decades (1953-1982) – and it was a technically sound project. If the three smaller provinces somehow view it as a Punjab project, farmers in Punjab would hold people from other federating units responsible for abandoning it.

  23. محترم وحیداخترواحد صاحب،
    آپ کے دونوں حوالاجات (1960، 1982-1953) کی روشنی میں کنفیوژن کا عنصر پھر بھی ہے. بہرحال قابل غور بات جو آپ کے ریفرینس میں ہے وہ ’’technically sound project‘‘ ہے اور ساتھ ہی یہ بات بھی کہ دوسرے صوبے اسے محض پنجاب کا پراجیکٹ سمجھے بیٹھے ہیں. یہ قیمتی حوالہ پیش کرنے کا شکریہ.

  24. جاوید اقبال کیانی صاحب، اس کو در اصل حکومتی سطح پر سنجیدگی سے 80 کی دھائی کے درمیان لیا گیا تھا. اس کی جگہ کا ابتدائی سروے 1953 میں مکمل ہو گیا تھا.

    مجھے وہ کتاب یاد نہیں آرہی جس میں سے میں آپ کو اس کا مستند حوالہ دے سکتا ہوں، شاید “Friends! Not Masters” تھی، مگر شاید نہیں. مگر جو مضمون میں نے شئر کیا ہے، وہ اس پراجیکٹ کی ابتدائ کا 1953 سے رشتہ جوڑتا ضرور نظر آتا ہے.

  25. محترم وحیداخترواحد صاحب،
    اتنی قیمتی معلومات بہم پہنچانے کا پھر سے شکریہ.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *