امیر خسرو اور پنجابی شاعری

امیر خسرو کا بہت سا ایسا کلام ہے جسکے ہر شعر کامصرعہ اولیٰٰٰ فارسی میں ہے اوراسکا ہندی میں ترجمہ مصرعہ ثانی ہے۔

شبانِ ہجراں درازچوں زلف دروزوصلت چو عمر کوتاہ
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

اس طرح اُردو زبان کی ابتدا اور ارتقاء ہوئ۔ آج اگر یہی نسخہ پنجابی اور اُردو کے امتزاج کیلئے استعمال کیا جائے تو کیسا رہیگا۔ یعنی مصرعہ اولیٰٰ پنجابی میں ہو اور اسکا اردو میں ترجمہ مصرعہ ثانی ہو۔ یہی نسخہ پاکستان کی دوسری علاقائ زبانوں اور اردو کے امتزاج کیلئے بھی استعمال ہوسکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق دنیا میں نوّے کروڑ لوگ اردو/ہندی بولتے اور سمجھتے ہیں اور یہ کہ انگریزی اور چینی کے بعد یہ سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے۔

20 thoughts on “امیر خسرو اور پنجابی شاعری”

  1. محترم جناب ظفر جعفری صاحب ! یقین مانیے کہ اگر میں شاعر ہوتا تو ضرور آپ کی اس تجویز پر عمل کرتے ہوئے ابھی بارہ چودہ اشعار کی نظم کہہ دیتا، لیکن کیا کروں ؟

    آپ کا خیال بہت اعلٰی ہے، یقیناً اس طرح علاقائی زبانوں کی ترقی کے امکان بہت وسیع ہیں،
    میرے خیال میں ابتدا بھی آپ ہی چند اشعار بلکہ ایک مکمل نظم – غزل سے کیجیے

  2. میری فارسی ” آمدن آنا مصدر ” اور رفتن جانا مصدر سے زیادہ نہیں مگر امیر خسرو کا شعر جو ظفر جعفری صاحب نے اپنے تبصرے میں لکھا ہے اس کا دوسرا مصرعہ ( قدیم اردو کا ) ، فارسی میں لکھے ہوئے پہلے مصرعہ کا ترجمہ نہیں کرتا

    (چونکہ صفدرھمدانی صاحب فارسی زبان پر قدرت رکھتے ہییں ، امید ہے کہ وہ اس سلسلہ میں سب کی رہنمائی کرینگے.)

    فارسی کا مصرعہ ہے :
    شبانِ ہجراں درازچوں زلف دروزوصلت چو عمر کوتاہ

    شبان ہجراں دراز چوں زلف
    یعنی ہجر کی راتیں زلف کی مانند طویل ہیں
    اورتیرے وصل کے دن کی عمر ( مدت ) چھوٹی سی ہے

    اب دوسرا قدیم اردو کا مصرعہ یہ ہے کہ:
    سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

    ظاہر ہے کہ پہلے مصرعہ کا مضمون کچھ اور ہے اور دوسرے مصرعہ کا مفہوم کچھ اور.

    یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ امیر خسرو ، ولی د کنی اور سراج اورنگ آبادی وغیرہ کی طرح اردو کے اولین شاعروں میں سے ہیں اور انکی شاعری کی عظمت کو سب ہی مانتے ہیں .

    طفر جعفری صاحب کا مشورہ کہ ایسا ہی تجربہ پنجابی زبان اور پاکستان کی دوسری علا قائی زبانوں کے لیے بھی کیا جاسکتا ہے ، تو اس سلسلہ میں انہیں یہ بھی کہنا پڑے گا کہ ان کی اس مشق کا نتیجہ کیا نکلے گا ؟

    کیا وہ اردو اور پنجابی کے امتزاج سے ایک نئی زبان کی ایجاد کرنا چاہتے ہیں ؟

    اسی طرح کیا وہ اردو اور پاکستان کی علاقائی زبانوں کے امتزاج سے نئی نئی زبانیں ایجاد کرنا چاہتے ہیں ؟

    ہم سب جانتے ہیں کہ اردو کا دامن کافی وسیع ہے . اس کا نام ہی لشکری زبان ہے اور اس میں دنیا بھر کی زبانوں کے الفاظ داخل ہوتے جارہے ہیں .
    اگر انکا مقصد سندھی اور پنجابی اور پشتو اوربلوچی زبانوں میں کہے ہوئے اشعار کا اردو میں ترجمہ کرنا ہے تو پھرایسا کام تو آج کل ہوہی رہا ہے .
    سندھی شاعری کے اردو ترجمے کے سلسلہ میں شیخ ایاز نے کافی کام کیاہے . ( اس سلسلہ میں جناب فیاض امر صاحب نے چند ماہ قبل عالمی اخبار میں کافی تفصیل سے روشنی ڈالی تھی )

    اسی طرح پنجابی اور دوسری علاقائی زبانوں کی شاعری کو بھی مختلف افراد نے اردوشاعری میں تبدیل کیا ہے ..

    اردو ایک زندہ زبان ہے جودنیا کی مختلف زبانوں کے امتزاج سے وسیع تر ہوتی جائیگی .

    بہرحال : ظفر جعفری صاحب نے ایک اچھے موضوع پر بلاگ شروع کیا .

    دیکھتے ہیں کہ مبصرین اس موضوع پر کس قسم کے تبصرے پیش کرتے ہیں.

  3. مناف صاحب
    مجھے پنجابی نہیں آتا۔ ورنہ میں یہ ضرور کرتا۔

    قاضی صاحب
    مجھے فارسی نہیں آتی۔ امیر خسرو کی شاعری میں فارسی اور ہندی کا امتزج موجود ہے۔ میرا مقصد علاقائ زبانوں کا اس طرح فروغ ہے ۔ جو بھی اس کی ابتدا کریگا وہ اس کا امیر خسرو کہلائے گا۔

  4. معروف شاعر انور مسعود کی نظم”ماں” کا اردو ترجمہ۔ یہ ترجمہ ایک ویب سائٹ پر جناب سخنور نے کیا ہوا ہے۔

    امبڑی (ماں)

    ما سٹر: اَج بڑی دیر نال آیاں ایں بشیریا!
    ایہ تیراپنڈ اے تے نال ای سکول اے
    جائں گا توُں میرےے کولوں ہڈیاں بھناں کے
    آیاں ایں تُو اَج دوونویں ٹلیاں گھسا کے

    ترجمہ:
    ماسٹر: آج بڑی دیر سے تم آئے ہو بشیریا
    قریب تیرا گاؤں ہے اور ساتھ اس کے سکول ہے
    جاؤ گے اب مجھ سے تم ہڈیاں تڑوا کے
    آئے ہو اب تم دونوں پیریڈ بھی گزار کے

    بشیرا: منشی جی میری اِک گل پہلں سُن لو
    اکرمے نے نھیر جیہانھیراَج پایاجے
    مائ نوں ایہ ماردائے تے بڑا ڈاہڈا ماردائے
    اَج ایس بھیڑکے نے حد پئ مکائ اے
    اوہنوں مارمار کے مدھانی بھَن سُٹی سوُ
    بندے کٹھے ہوے نیں تے اوتھوں پج گیائے
    چُک کے کتاباں تے سکوُل ول نسیائے

    ترجمہ
    بشیرا: منشی جی میری اِک بات پہلے سن لیں
    اکرمے نے اندھیر سا اندھیر آج مچایا ہے
    ماں کو یہ مارتا ہے اور بہت مارتا ہے
    آج یہ پھلانگ گیا حدیں سب ساری
    ماں کو مار مار کے مدھانی توڑ دی ہے
    لوگ اکٹھے ہوئے ہیں اور فرار وہاں سے ہوا ہے
    بستہ اٹھا کر یہ سکول کی طرف بھاگا ہے

    مائی ایہدی منشی جی گھر ساڈے آئی سی
    مُونہ اُتے نیل سن سُجا ھویاہتھ سی
    اکھں وچ اتھرو تے بُلاں وچ رَت سی

    ترجمہ:
    ماں اس کی منشی جی گھر ہمارے آئی تھی
    منہ پہ نیل پڑے تھے اور ہاتھ سوجا ہوا تھا
    آنکھوں میں تھے آنسو اور سوجا ہوا ہاتھ تھا

    کہن لگی سوہنیا وے پتر بشیریا
    میرا اک کم وی توں کریں اج ہیریا
    روٹی میرے اکرمے دی لئ جا مدرسے
    اَج فیر ٹُر گیا اے میرے نال رُس کے

    ترجمہ:
    کہنے لگی پیارے او بیٹے میرے بشیریا
    کام آج میرا ایک کرنا ہے رے ہیریا (ہیرا)
    روٹی میرے اکرمے کی تو لے جا مدرسے
    آج پھر چلا گیا مجھ سے وہ پھر روٹھ کے

    گھیؤ وچ گُنّھ کے پراؤنٹھے اوس پکاے نیں
    ریجھ نال رِنھیاں سُوآنڈیاں دا حلوہ
    پونے وچ بَنھ کے تے میرے ہتھ وچ دَتی سُو
    ایہو گل آکھدی سی مُڑ مُڑ منشی جی
    چھیتی نال جائیں بیبا’دیریاں نہ لائیں بیبا

    ترجمہ:
    گوندھ کر گھی میں پراٹھے اس نے پکائے ہیں
    پیار سے بنایا ہے انڈوں کا ساتھ حلوہ
    سب یہ چیزیں باندھ کر میرے حوالے کی ہیں
    یہی بات کہتی تھی وہ بار بار منشی جی
    جلدی سے جانا بیٹا دیر سے نہ جانا بیٹا

    اوہدیاں تے لُو سدیاں ہون گیاں آندراں
    بھکھا بھانا اج او سکولے ٹُر گیااے
    روٹی اوہنے دتی اے میں بھجا لگا آیاجے
    اکرمے نے نھیر جیہانھیر اج پایا اے

    ترجمہ:
    اس کی تو آنتیں بھی بھوک سے بلکتی ہوں گی
    بغیر کچھ کھائے پیے وہ سکول چلا گیا ہے
    روٹی اس نے دی ہے میں بھاگا چلا آیا ہوں
    اکرمے نے اندھیر سا اندھیر آج مچایا ہے

  5. مجھے یہ جان کر نہایت مسرت ہوئی کہ اردو لوگ اتنا زیادہ بولتے یا سمجھتے ہیں زبردست معلومات میں اضافہ ہوا ہے اور اپ کی شاعری کی صنف میں اتنی تحقیق قابل ستائش ہے بہت اعلی

  6. ابوالحسن امیر خسرو 1253ء میں آگرہ کے قریب ضلع ایٹہ میں پیدا ہوئے۔ یہ اردو کے بانی کہلاتے ہیں۔ یہ طبلہ، ستار اور بہت سے راگ کے موجد بھی ہیں۔ امیر خسرو بلا شبہ دنیا کے صاحبِ کمالوں میں سے تھے۔ ان پر سرزمینِ ہندو پاکستان جتنا بھی فخر کرے کم ہے۔فارسی اور ہندی دونوں کے بلند پائہ شاعر، بزلہ سنج،لطیفہ گو،فنِ مسیقی کے ماہر، عجیب خوبیوں کا مجسمہ تھے۔

    اردو کی پہلی قطعہ اور پہلی غزل از امیر خسرو

    زر گر پسرے چوماہ پارہ
    کچھ گھڑئے سنوارئے پکارا
    نقد دلِ من گرفت و بشکست
    پھر کچھ نہ گھڑا نہ کچھ سنوارا
    ————————
    غزل
    شبانِ ہجراں درازچوں زلف دروزوصلت چو عمر کوتاہ
    سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
    زحال مسکیں مکن تغافل دُرائے نیناں بنائے پتیاں
    کہ تابِ ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں
    یکایک از دل دو چشمِ جادو بصد فریبم ببردتسکیں
    کسے پڑی ہے جو جا سنادے پیارے پی کوں ہماری بتیاں
    چوں شمع سوزاں چو ذرہ حیراں زمہرآں مہ بگشتم آخر
    نہ نیند نیناں، نہ انگ چیناں، نہ آپ آویں نہ بھیجیں بتیاں
    بحقِّ روزِ وصال دلبر کہ داد مارا فریب خسرو
    سپیت من کے درائے راکھوں جو جائے پاؤں پیا کے کھتیای

    یہ فارسی اور ہندی کا بہترین امتزاج ہے جس نے دو کلچروں کو کسی حد تک merge کردیا۔ میں سمجھتا ہوں یہ نسخہ پاکستان کے مختلف کلچرز کو قریب کرسکتا ہے۔

  7. تصحیح

    مندرجہء بالا غزل کا مطلع

    زحال مسکیں مکن تغافل دُرائے نیناں بنائے پتیاں
    کہ تابِ ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں

  8. ہر زبان اپنے ماحول اور معاشرے کے رسمو رواج کی عکاسی کرتی ہے – اپ نے صفدر صاحب کی خوبصورت نظم کو پڑھا، ترجمے میں وہ خوبصورتی نہیں، جو براۓ راست اسی زبان میں ہوتی ہے -یہ اسی ترجمے میں نہیں کسی کا بھی آپ اصل کے بعد ترجمہ پڑھیں. اس میں بھی یہی تاثر ہو گا -کیا خوب ہے …cheti نال جائیں ببا دریں نہ لائین وے” ،، ترجمے میں الفاظ مل جاتے ہیں اردو میں لیکن ؤو تاثر اور خوبصورتی نہیں ملی. منظور قاضی صاحب، آپ نے کہا ہے “اردوکا دامن وسیع ہے” مگر میں نے پنجابی کے کئی الفاظ کا اردو میں ترجمہ نہیں ہے، مثال کے طور ” چُک پڑ گئی”، یہ کوئی چیز اٹھانے سے پڑتی ہے . اسطرح کے کئی اور الفاظ ہیں جتفصیل میں نہیں جانا چاہتی
    اردو مختلف زبانو ں کامیکچر ہے تو اس میں ہم علاقائی زبانیں استمال کیوں نہیں کرنے چائیں ، ضرور کرنے چائیں-
    احمد فراز کا ایک آرٹیکل جو انہوں نے ایک اخبار میں لکھا تھا ،” اردو مکمل تو کیا مچور زبان بھی نہیں ہے” –

  9. میاں محمد بخش صاحب نے اپنے پنجابی کلام کو صرف پنجابی تک ہی محدود نہیں رکھا، بلکہ اس میں اردو اور ہندی سمیت دیگر علاقائی زبانوں کے الفاظ اور انشاء کا ایک امتزاج پیش کیا ہے، جس سے ایک الگ رنگ قائم ہو گیا ہے۔ میاں صاحب نے مصرعوں کو ایک زبان تک محدود نہیں رکھا، بلکہ ایک ہی مصرعے میں مختلف زبانوں کا استعمال کیا ہے۔ مثلا اس شعر میں کام کا لفظ نحوی طور پر اردو ہے، لیکن انہوں نے پنجابی کے کم کی جگہ اسے استعمال کر کے اوزان کی بندش پوری کی ہے۔
    کام تمام میسّر ہوندے نام اوہدا چِت دھریاں
    رحموں سُکےّ ساوے کردا قہروں ساڑے ہریاں
    اور
    جُدا جُدا ہرجُونے جوگے جگ تے کیتے کھانے
    اَنّھے لوہلے ماڑے موٹے ہر نوں نت پُچانے
    اس میں انہوں نے وکھرے کی جگہ جدا کو استعمال کیا ہے۔
    اسی طرح کئی شعراء نے اپنے کلام میں اردو فراسی اور عربی کو یکجا کیا ہے، بلکہ کچھ نے تو آیات و کلمات ِ قرآنی کا بھی استعمال کیا ہے۔ جیسا کہ اقبال نے لاتقنطوا ، الا اللہ اور کچھ دیگر کلمات وغیرہ کا استعمال کیا ہے۔ اقبال کا ایک شعر ملاحظہ ہو
    دلِ طورِ سینا و فارا ں دو نیم —- تجلی کا پھر منتظر ہے کلیم
    ماضی قریب کے جناب شیر افضل جعفری نے اردو شاعری کو ایک بالکل نیا رنگ دیا تھا جسے چناب رنگ کہتے ہیں، جس میں انہوں نے اردو شاعری کو جھنگ کی ثقافت اور بولی کے ساتھ نئی شیرینی دی تھی۔ ۔۔۔غرض شعراء زبانوں کا لطف اٹھانے کے لئے ایسے تجربات کرتے رہتے ہیں۔
    شعراء نے یہ کام اس لئے نہیں کیا کہ خدا نخواستہ اردو ایک نا تمام زبان ہے تو اس میں مکمل ادائیگی ممکن نہ تھی۔ بلکہ اسکا سبب اردو کے پردہء نقاشی کی وسعت اور وہ ارتقائی مزاج ہے جو دوسری زبانوں کو کم نصیب ہے۔ خود انگریزی ادب میں آپ کو ایسا کلام بے شمار ملے گا جس میں لاطینی اور فرانسیسی ضرب الامثال وغیرہ کا بکثرت استعمال ہے۔ جان کیٹس کی ایک مشہور نظم لا بل ڈم سین مرسی کا عنوان ہی فرانسیسی ہے۔
    اردو زبان میں، دیگر زندہ زبانوں کی طرح یہ خوبصورتی ہے کہ اس میں دیگر زبانوں کے الفاظ تھوڑی سے تبدیلی کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں، اور یہ مزاج اس نے عربی و فارسی سے پایا ہے۔ تاہم ہمارے یہاں آزادی کے بعد اس سلسلے میں باقاعدہ طور پر کام نہیں ہوا اور ہم نے کئی الفاظ کو مجبورا انکی اصل صورت میں ہی قبول کر لیا ہے۔ لیکن یورپی زبانوں کے الفاظ کو اردو میں جگہ دیتے ہوئے آج بھی مشکل ہوتی ہے جیسے یورپی زبانوں کو عربی و فارسی کو اپنے یہاں جگہ دیتے ہوئے مشکل پیش آتی ہے۔ اس کے باوجود انگریزی جیسی زبان میں عربی الفاظ کو تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ ان میں سر نام کیٹ اور کاٹن جیسے الفاظ ہیں جن کو قط اور قطن سے لیا گیا ہے۔
    بہر کیف مکرمی ظفر جعفری کا موضوع اپنی مسلمہ اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ شاعری و ادب کے ایسے تجربات ممکن ہے ہماری منقسم ملت کو قریب کر سکے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عرصہ دراز سے پی ٹی وی کی اردو نشریات بھی لسانی تقسیم کی شکار قوم کو قریب نہیں کر سکیں تو شاعری بچاری اکیلی کیا کر سکتی ہے۔ لیکن ایسا کرنے میں حرج ہی کیا ہے، جبکہ ہماری شاعری کی تاریخ میں اسکی امثلہ موجود ہیں۔

  10. محترمہ عابدہ مظفر صاحبہ۔
    سلام مسنون۔
    پہلی بات تو یہ کہ نظم قبلہ صفدر ہمدانی صاحب کی نہیں ہے۔
    آپکی یہ بات درست ہے کہ ترجمہ اکثر اصل شے کی روح کھو دیتا ہے، جسکا سبب با محاورہ ترجمے کا فقدان ہے۔
    جہاں تک زبان کے دامن کی وسعت کا واسطہ ہے تو اردو کیا، کسی بھی زبان میں ہر لفظ کو ترجمہ نہیں ملے گا۔ عربی جیسی وسیع بلاغت کی زبان جسے ام اللسان مانا گیا ہے، اس میں بھی ماموں اور خالو کے لئے الگ الفاظ نہیں ملیں گے۔
    پنجابی کی وسعت سے انکار نہیں اور میری نظر میں اردو کی تشکیل میں فارسی اور عربی سے زیادہ پنجابی اور ہندی کا عمل دخل ہے۔ مثلا اردو کی انشاء تقریبا زیادہ تر انہی زبانوں کے ڈھانچے پر قائم ہے، اور باقی جو الفاظ عربی فارسی سے داخل ہوئے ہیں انکے لئے عربی و فارسی قواعد مروجہ ہیں۔ تاہم اس کا مظلب ہر گز ہر گز یہ نہیں کہ پنجابی اردو کی جگہ لے سکتی ہے یا اردو پنجابی کی۔ اردو کا ایک اپنا مزاج اور دبستان ہے، جو ادب آداب اور راز و نیاز کے سانچوں میں ڈھلا ہوا ہے۔ اردو کی نمو میں شیرینی کے ساتھ ساتھ نفاست الفاظ، شائستگی اور ندرت خیال پر بھی خاص توجہ رہی ہے، جو اور زبانوں کو بہت کم نصیب ہے۔
    کسی خاص لفظ کے لئے ترجمہ موجود نہ ہونا یہ ثابت نہیں کرتا کہ کوئی زبان واقعی غریب زبان ہے۔ پھر ضروری نہیں کہ چُک جیسے لفظ کو اردو میں بھی یہی آہنگ ملے۔ آپ یہ مت سمجھیں کہ یہ تکلیف صرف اہل پنجاب کو ہی در پیش آتی ہے بلکہ ہر زبان والوں کو یہ تکلیف در پیش آتی ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہمارا اس صورت حال سے سامنا ہوا ہے یا نہیں۔ مثلا اسی چُک پڑنے کو اردو میں جھول پڑنا کہتے ہیں، لیکن کتنے ہی افراد ہونگے جنہیں اس سے بے خبری ہوگی۔ بلکہ بابائے اردو مولوی عبد الحق نے بھی اس لفظ کا استعمال کیا ہے۔

    لیکن مجھے اصل بات اور موضوع سے انکار نہیں کہ ہم مختلف زبانوں کے الفاظ استعمال کر سکتے ہیں اور ایسے تجربات ہوتے رہنے چاہئیں۔

  11. محترمہ بہن عابدہ مظفر صاحبہ ! آپ کی بات بالکل درست ہے کہ ترجمہ میں وہ خوبصورتی کبھی نہیں آ سکتی جو اصل زبان میں کہی بات میں ہوتی ہے لیکن . . .
    اگر جناب سخنور صاحب ، انور مسعود صاحب کی نظم کا اردو ترجمہ نہ کرتے تو کتنے لوگ اس خوب صورت نظم سے محروم رہ جاتے، 100 % نہ سہی ساٹھ، ستر، اسی فی صد تو ضرور محظوظ ہوئے ہوں گے قارئین، اور نظم کا بنیادی خیال تو یقیناً مکمل سمجھا جاسکتا ہے.

    ہمدانی صاحب کا انتخاب بہت اعلٰی ہے، مزید کی درخواست ہے اگر کچھ موجود ہو یا مل سکے،
    محترم ظفر جعفری صاحب اور مصباح شاہ صاحب کی معلوماتی تحریروں کا بہت بہت شکریہ، از راہء کرم جاری رکھئیے

  12. یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ترجمہ میں چاشنی کم ہوتی ہے۔ ہم جب ایک زبان کے لطیفے دوسری زبان میں سناتے ہیں تو اکثر لطیفے اپنا لطف کھودیتے ہیں۔ قومی حالات کے پیش نظر ایک حل میرے ذہن میں ابھر تھا جسے میں نے امیر خسرو کی مثال دیتے ہوئے پیش کیا ہے اور آپ سب اس پر بہت عمدہ گفتگو کر رہے ہیں ۔ میں اس گفتگو پر مناف صاحب، قاضی صاحب،ہمدانی صاحب، مصباح صاحب، نادیہ صاحبہ اور عابدہ صاحبہ آپ سب کا مشکور ہوں۔ یہ گفتگو جاری رہنی چاہئے۔

  13. سید مصباح صاحب ! تصحیح کے لئے شکریہ . وہ نظم محترم صفدر صاحب کی نہیں تھی ، .
    کچھ باتیں اپ کے گوش گزار کرنا چاہتی ہوں، دراصل معاملہ یہ ہے کہ مادری زبان میں انسان ہمیشہ اپنے حقیقی تصورات ، خیالات کا جس انداز میں اظہار کر سکتا ہے وہ کسی سیکھی
    ہوئی زبان میں نہیں کر سکتا . کئی لوگ اپنی زبان کو کم تر تصور کریں ، جیسے مرزا غالب نے کھا اگر ان کی شا eri کے میارکو پرکھنا ہے تو فارسی شا یری کو پڑھیں. حلانکے مرزا کو شہرت ان کے فارسی کلام سے نہیں بلکہ اردو ہی سے ملی تھی – علامہ اقبال کی نصف شا یری اردو کی بجاۓ فارسی میں ہے- ان کی شہرت ان کی دوسری سیاسی وجوہات کی بنا پر ملی –
    اپ کا یہ کہنا “کہ نفاست، شیرینی (یہ بھی پنجابی کا لفظ ہے )اور ندرت خیال جو اردو میں ہے اس کی نسبت اور زبانون میں کم ہے” ، یہ مقابلہ یا موازنہ ہم اس وقت کر سکتے ہیں جب ہم نے روسی ، چاینس، فنش ، سویڈش ، کورین، جاپانی ، وغیرہ وغیرہ پڑھی ہوں – بابا بلھے شا ہ وارث شا ہ، مدھو لال حسین اور سلطان باھو کو ہی پڑھ لیں ، کونسی ندرت، خیال ، شائستگی ، نفاست کی کمی محسوس ہوتی ہے ؟
    اور معاف کیجیے .”چک ” کا متبادل “جھول “ہر گز وہ مطلب نہیں دیتا

  14. جناب ظفر جعفری صاحب ۔۔۔۔ اسلام علیکم ۔۔ امیر خسرو اورپنجابی شاعری ۔ بہت فکر انگیز بلاگ ھے۔ ۔ جیسے ساری ماوں کو صرف اپنا بچہ اچھا لگتاھے اسی طرح سب کو اپنی مادری زبان اچھی لگتی ھے۔ علاقائ زبانوں کے ترجمے سے آپس میں لطف محبت بڑھےگی۔۔۔ بین الاقوامی زبانوں کی خوبصورت تخلیق کے ترجمے تو اکثر مل جاتے ھیں علاقائ زبانوں کے ترجمے ھونے چاھیۓ۔۔۔ شائد یہ ادبی کاوشش کسی تعمیری انقلاب کا پیش خیمہ بنیں ۔۔۔ لشکری زبان ھونے کی وجہ سے اردو کا دامن تو بہت وسیع ھے اوپر کسی تبصرہ نگار نے احمد فراز کے کسی اخبار میں شائع آرٹیکل حوالہ دیا ھے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ،” اردو مکمل تو کیا میچور زبان بھی نہیں ہے” انکا کوئ پشتو شعر مقبول نیہں ھوا اور انکی ساری شہرت اسی اردو زبان کی مرھون منت تھی ۔

  15. صرف اتنا کہوں گا کہ شیرینی اردو زبان میں فارسی سے ماخوذ ہے، اور پنجابی میں یہ الگ تلفظ کے ساتھ، فارسی معانی کے علاوہ نذر نیاز کے طور بھی استعمال ہوتا ہے۔

  16. ہمیں دو یا زیادہ زبانوں کا آپس میں موازنہ نہیں کرنا چاہیے- ہرایک کی اپنی دنیا ہے
    سیب کیلے یا مالٹے میں کون سا پھل زیادہ لذیذ ہے ؟ یقینآ آپ کا جواب ہوگا . . . آم
    ہر پاکستانی یہی جواب دے گا- ایک محاورہ ہے کہ ذائقہ ( یا پسند) پر جھگڑا نہیں جاسکتا
    آپ کو آم پسند ہیں اور کسی دوسرے کو انناس، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کی پسند ہی اچھی ثابت ہوگئی

    آپ نے شاید نہ سُنا ہو کہ کسی شخص نے صرف ایک شاعر کو پڑھنے اور سمجھنے کے لیے ایک مکمل اجنبی زبان پوری سیکھی –
    سیکھنے والے کا نام Karl Marx جس نے روسی زبان سیکھی صرف اور صرف Pushkin کو پڑھنے کے لیے، اور یقین جانئیے وہ ہے ہی اس قابل کہ اسے پڑھا جائے-

    یہ صرف اس لیے لکھا کہ پنجابی اور اردو کا موازنہ کرنے کی بجائے ظفر جعفری صاحب کے موضوع یعنی ” دورنگی شاعری” کی طرف واپس آیا جائے، اور اگر بہت جلد شاعر خواتین و حضرات کی طرف سز اس سلسلہ میں چند نمونے چند مثالیں پیش نہ کی گئیں تو مجھ بدذوق کو کچھ کہنا پڑ جائے گا، مسئلہ آپ کو ہوگا

    پڑھنے کا

  17. برادر ذی شرف و عز جناب مکرمی مناف صاحب تسلیمات۔
    آپ کی بات صد فیصد درست ہے کہ بات اصل موضوع پر ہی رہے تو اچھی ہے، لیکن ایسے موضوعات میں ذیلی موضوعات نکل آنا ایک قدرتی عمل ہے، کیونکہ جب زبانوں کے اشتراک و امتزاج کی بات ہوگی، تو انکے اپنے اوصاف بھی ذکر میں آئیں گے۔ میں خود پنجابی ہوں، لیکن اردو زبان کو کسی قیمت پر دوسری زبانوں کے سامنے کمتر نہیں جانتا۔ ہمارا آج بھی وسیلہء ارتباط اردو ہے اور تمام بڑے جرائد و رسائل اسی زبان میں پڑھے جاتے ہیں۔
    کسی لفظ کو یا سوچ کو اپنی انا کا مسئلہ بنانا مری عادت نہیں، اور اکثر ایک دفعہ سچ کہ دینا کافی سمجھتا ہوں۔ اگر کسی کو بات سمجھ نہ آئے تو اس پر زیادہ کہنا بھی لا یعنی ہوتا ہے۔ اور اگلی بات بحث برائے بحث رہ جاتی ہے۔ محدود معلومات کو زیادہ جاننا سب سے بڑی ستم ظریفی ہے اور یہ ہمارا مسئلہ من حیث القوم ہے۔
    آپ کی بات سے مجھے اتفاق ہے کہ اس تقابلی بحث کو یہاں چھوڑ دینا ہی بھلا ہے۔
    داغ دہلوی نے یہ شعر اس طرح کہا تھا
    اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
    ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

    جو اہل دانش و فکر کی محنتوں سے تھوڑا بدل کر یوں ہو گیا کہ
    اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
    سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
    قومیات کے مسئلے پر ہمیں تقسیم در تقیسیم ہونے کی بجائے یکجہتی اور ملی انا کا رویہ اپنانا ہوگا۔۔۔ جہاں بھر کی زبانوں کے سامنے، اگر ہماردو کو ہی بہتر زبان جانیں اور خود کو با عزت قوم سمجھیں تو اسی میں ہمارا مستقبل بچ سکتا ہے۔ میں آج سے کوئی تیس برس پہلے کا ایک مجلہ دیکھ دیکھ رہا تھا جس میں معترض نے فرمایا تھا کہ امریکی بیوقوف ہیں جو صرف امریکہ کے اندر منعقد کھیل تماشوں کو عالمی کپ کہا کرتے ہیں۔۔۔۔گویا انکی نظر میں یہ کنویں کے مینڈک والی بات تھی، لیکن آج آپ دیکھیں تو اپنے اند کو کُل عالم جاننے والے امریکی کُل عالم کے اندر پھیل گئے ہیں۔ لیکن ہم ہیں کہ اپنے اندر کو ابھی تک نا تمام کہ کر ہی فخر و مباہات کی منزلیں پاتے ہیں اور اسی کو اپنی علمیت کی سند جاننتے ہیں۔

    بہر کیف آپ کی بات سے مجھے بار دیگر اتفاق ہے کہ اس تقابلی بحث کو یہاں چھوڑ دینا ہی بھلا ہے۔

  18. جو احباب پنجابی شاعری کرتے ہیں وہ اس جانب قدم اُٹھاسکتے ہیں۔

  19. مصباح شاہ صاحب تائید کا بہت شکریہ
    میں نے شعراء کرام کو خبردار کر دیا تھا، کوئی نہ بولا تو اب میرا قصور نہیں ہے، سُنئیے( میرے پاس کچھ اور تو نہیں مصابح شاہ صاحب کی طرف سے لکھے، داغ ہی کے شعر کا پنجابی ترجمہ کرتا ہوں)

    اردو ہے جس کا نام ہم ہی جانتے ہیں داغ
    اردو والا بُوٹا لگیا وچ ہے ساڈے باغ

    سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
    ایدیاں دُھماں جگ دے اندر، ہندوستاں کی ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *