یہ ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کی نوازش ہے کہ انہوں نے اپنے ذاتی ایی میل کے ذریعہ مجھے اپنی ایک تازہ غزل ان پیج سافٹ ویر کی اردو فانٹ میں عطا کی ۔ ( انہوں نے اس کی کاپی ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کو بھی بھجوادی ہے )۔
پنہاں صا حبہ کا کلا م ایک ایسا گرانقدر عطیہ ہے کہ اگر اسکو میں اپنے کمپیوٹر میں ہمیشہ کے لیے محد و د کردوں تو یہ میری خود غرضی ہوگی اس لیے میں اس کو عالمی اخبار کے اس بلاگ میں اس امید پر شایع کررہا ہوں کہ ڈاکٹر پنہاں صاحبہ میری اس اشاعت کو شرفِ قبولیت بخشینگیں ۔
میرے کمپوٹر کا ( اور ویسے تو زندگی کا بھی )کوئی بھروسہ نہیں اس لیے میں چاہتا ہوں کہ پنہااں صاحبہ کی اس غزل کو جلد از جلد اس بلاگ میں شایع کردوں ( پڑھنے والوں کو یاد ہوگا کہ میں عرشی صاحبہ کے کلام کی وصولی کے بعد اسے بھی ان پیج سے یونی کوڈ میں منتقل کرکے عالمی اخبار میں شامل کردیا کرتا تھا )
غزل :
از ڈاکٹر پنہاں صاحبہ
وہ زندگی جو سہ نہ سکے زندگی کا جبر
اس ناتواں پہ کیوں یہ گراں آگہی کا جبر
دل وہ بھی دیکھتا ہے جو آنکھیں نہ دیکھتیں
تاریکیوں سے اور ِسوا روشنی کا جبر
تسکین ڈھونڈنے کو بخارات ہو چلا
پانی بھی سہ رہا ہے یہاں تشنگی کا جبر
اپنے وجود پر بھی مجھے اختیار کیا
آنکھوں پہ غم کا جبر لبوں پر خوشی کا جبر
شاید شکست و ریخت کا اک سلسلہ ہوں میں
اثبات کا ہے مجھ پہ کبھی ہے نفی کا جبر
تعبیر دیکھتی رہی بس ایک خواب کی
تھوڑا سا لطفِ جہل بہت آگہی کا جبر
یہ پوچھتے تو ہوں گے خدا سے ملا ئکہ
کس طرح آدمی نے سہا زندگی کا جبر
اٹھنا ازل کی صبح تو سونا ابد کی شام
وہ تھا سفر کا جبر تو یہ ماندگی کا جبر
پنہاں بہت میں تنگ ہوں اندر کے شور سے
فطرت کا مجھ پہ جبر ہے یہ شاعری کا جبر
۔۔۔۔۔۔۔۔
میں زرقا مفتی صاحبہ ( مدیر شعبہ شعر و ادب عالمی اخبار ) سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس غزل کو پنہاں صاحبہ کی شاعری کے سیکشن میں منتقل کردیں ۔
…….
اگر اس غزل کی کمپوزنگ میں مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہو تو امید کرتا ہوں کہ پنہاںصاحبہ مجھے معاف کرتے ہوئے ، اسکی تصحیح کردینگیں ۔
…….
قاریین سے یہی درخواست ہے کہ اپنے تبصروں میں کسی ذیلی موضوع پر بحث چھیڑنے سے پہلے پنہاںصاحبہ کی اجازت ضرور حا صل کرلیں .
……
میں اس بلاگ کو پنہاں صاحبہ کی شاعری اور انکے ارشادات کے لیے شروع کیا ہوں .
یہ ہم سب کی خوش قسمتی ہے کہ ایک انتہائی مصروف شاعرہ اپنا وقت نکال کر پھر سے عالمی اخبار کے صفحات کو اپنے کلام سے رونق بخش رہی ہے.
فقط:
علم کا شیدائی
منظور قاضی
از جرمنی
manzoorquazi@gmail.com

منظور قاضی صاحب! آپ نے اس غزل ا اکیلے ہی لطف اندوز نہیں ہوے، یہ خوشی کی بات ہے ،کہ
آپ نے عالمی اخبار کے ذریے ہمیں پڑھنے کا موقع دیا، شکریہ.dr پنہا ن صاحبہ١ بہت خوب لکھا ہے …..اپنے وجود پر بھی اختیار تھا…آنکھوں میں غم کا جبر لبوں پر خوشی کا جبر، بہت ندرت ہے .امید ہے ،آپ اکثر لکھیں گی، عالمی اخبار میں،
جناب منظور قاضی صاحب۔۔ اسلام علکیم ۔۔ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کی دلکش شاعری سے سجا آپ کا ادبی بلاگ مبارک باد کا مستحق ھے
دل وہ بھی دیکھتا ہے جو آنکھیں نہ دیکھتیں
تاریکیوں سے اور ِسوا روشنی کا جبر
تسکین ڈھونڈنے کو بخارات ہو چلا
پانی بھی سہ رہا ہے یہاں تشنگی کا جبر
اپنے وجود پر بھی مجھے اختیار کیا
آنکھوں پہ غم کا جبر لبوں پر خوشی کا جبر
شاید شکست و ریخت کا اک سلسلہ ہوں میں
اثبات کا ہے مجھ پہ کبھی ہے نفی کا جبر
سبحان اللہ بہت خوب
ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کی شاعری سے اھل نقد ونظر متاثر ھوۓ بغیر نیہں رہ سکتے
آپکی ادب دوستی اور زبان اردو سے لطف و محبت قابل تعریف ھے
اللہ آپ کو عمر خضر عطا فرماۓ آمیں ثم آمین
شاھین رضوی
جناب منظور قاضی صاحب،
مر حبا قاضی صاحب، کیا خوبصورت پیشکش ہے. چونکہ اپنے ادب اور ادیبوں کو جاننے کے لئے مجھے ایک لمبا سفر طے کرنا ہے، جیسے کہ میں نے پچھلے ایک بلاگ (صنعتی شاعری) میں پنہاں صاحبہ کا پہلی دفعہ نام سنا، تو تب سے ان کا کلام پڑھنے اور ان کے مجموعات حاصل کرنے کی شدت سے آرزو ہے. ادب سے دور، لیکن ادب کے اس پیاسے کے لئے پانی کا ایک گھونٹ پھی غنیمت ہے.
یہ پوچھتے تو ہوں گے خدا سے ملا ئکہ
کس طرح آدمی نے سہا زندگی کا جبر
کیا خوب تخیل اور انسان کی بے بسی کی داستان ہے، ماشاء اللہ.
میں عابدہ مظفر صاحبہ ، شاہین رضوی صاحبہ اور جاوید اقبال کیانی صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس بلاگ کی پذیرائی کی اور اپنے تبصروں میں ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کی شاعری کی عظمت کو سراہا.
مجھے یقین ہے کہ علم کے شیدائیوں کے اس شوق و ذوق کو ڈاکٹر پنہاں صاحبہ نے محسوس کیا ہوگا اور اگر ہوسکا تو وہ خود اپنے الفاظ میں ان تبصروں پر اپنا تبصرہ عطا کرینگیں.
سب پڑھنےوالوں کی خدمت میں اور خاص طور پر ان تمام دانشوروں کی اطلاع کے عرض ہے جو ڈاکٹرپنہاں کے نام اور انکے کلام سے ا ب تک واقف نہیں ہیں ، کہ وہ گوگل میں ڈاکٹر پنہاں Dr.PinhaaN کے نام کو تلاش click کریں تو انہیں ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کے وہ بلاگ بھی پڑھنے کو ملینگے جو انہوں نے عالمی اخبار میں 2009 میں تحریر کیے تھے اور انتہائی محنت اور محبت سےان بلاگوں میں پڑھنےوالوں کو ( اور خاص طور پر مجھ کم علم کو ) اپنے علم سے اور اپنے کلام سے سرفراز کیا تھا.
یہ بھی بتا تا چلوں کہ گوگل میں ان مشاعروں کی جھلک ( ویڈیو ) بھی دیکھنے اور سننے کو مل جائے گی جن میں ڈاکٹر پنہاں صاحبہ نے اپنا کلام سنا یا تھا اور اردو دنیا کے مشہور و معروف شعرا سے داد حاصل کی تھی .
افسوس کہ میں اتنی فنی مہارت نہیں رکھتا کہ ان ویڈیو پروگراموں میں سے کم از کم ایک کو اس بلاگ میں منتقل کرسکوں. اگر کوئی ماہر فن اس اہم کام کو انجام دے تو اس بلاگ کی افادیت اور بھی بڑھ جاے گی.
میں تو اپنی طرف سے پنہاں صاحبہ کا خیر مقدم کررہا ہوں مگر مجھ سے زیادہ علم کا ذوق اور شوق رکھنے والے دانشور اور سخنور ( جن میں عرشی صاحبہ اور زرقا مفتی صاحبہ اور جناب صفدر ھمدانی صاحب اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ شامل ہیں ). اپنے تاثرات اس بلاگ میں عطا کریں تو مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر پنہاںصاحبہ ضرور محظوظ ہونگیں اور یہ محسوس کرینگیں کہ وہ اپنوں کی محفل میںپھر سے واپس آگئی ہیں .
فقط:
علم کا شیدائی
منظور قاضی
جرمنی سے
محترمہ شاہین رضوی صاحبہ،
عرشی ملک صاحبہ کی امانت (عرشی کلام) ہم تک پہنچانے کا بے حد شکریہ. سبحان اللہ، کیا دن چڑھا کہ ایک ہی وقت میں عرشی صاحبہ اور ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کے کلام نے بلاگ کو چار چاند لگا دیے.
ماتھا تو ٹیکتے رھے ھر صبح و شام ھم
پر سچ تو یہ ھے ھم سے عبادت نہ ھوسکی
پوری نظم ایک بھرپور فلسفہ ہے،مگر اس شعر نے بے اختیار بُلھے شاہ کی یاد تازہ کرا دی
لوک بُلھے نوں متیں دیندے، بُلھیا جا مسیتی
مسیت گیئوں تاں کُجھ نئیں ملدا ، جو دلوں نماز نہ نیتی
بُلھے شاہ رب اندروں ملدا ، جو جائے دلوں پلیتی
کیا خوب ہی ہو کہ کبھی کبھی عرشی صاحبہ وقت نکال کر اس بلاگ محفل میں خود اپنا (عرشی) کلام پیش کیا کریں .
تسکین ڈھونڈنے کو بخارات ہو چلا
پانی بھی سہ رہا ہے یہاں تشنگی کا جبر
سارا کلام ہی بہت خوبصورت ہے لیکن اس شعر کا الگ ہی رنگ ہے
محترم قاضی صاحب،
عرشی ملک صاحبہ کی نظم پہ تبصرہ، محترمہ شاہین رضوی کے لئے،غلطی سے آپ کے بلاگ میں لگ گیا، برائے مہربانی اسے یہاں سے Delete کر دیں، شکریہ.
جناب جاوید اقبال کیانی صاحب ۔ اسلام علیکم ۔ عرشی آپا کی ادبی کاوششوں کو اھل نقد ونظر تک پہنجانا تو میرے لیے باعث افتخار ھے
خوبصورت ابلاغ کی بازگشت سماعتوں کے گنبدوں میں تا دیر گونجتی رھتی ھے مجھے بھی یقین ھے کہ ھماری حوصلہ افزائ کے لیے عرشی آپا اور ڈاکٹر پنہاں بھی ان بلاگز میں شرکت کرینگیں ۔۔
جناب —– بابا بلھےشاہ کی کیا بات ھے ۔ انکی خوبصورت شاعری کی بازگشت سماعتوں کے گنبدوں میں تا دیر گونجتی رھتی ھے ۔۔بلھیا کی جاناں میں کون۔۔
منظور قاضی صاحب ! آپ نے ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کی شاعری پڑھنے کا دوبارہ موقع عطا کیا ۔آپ کا بہت بہت شکریہ۔
میں پہلے بھی عالمی اخبار کے شاعری کے سیکشن میں جا کر ڈاکٹر صاحبہ کی تمام شاعری پڑھ کر عش عش کر چکی تھی۔
یہ نئی غزل بھی ماشا اللہ خوب ہے۔
تعبیر دیکھتی رہی بس ایک خواب کی
تھوڑا سا لطفِ جہل بہت آگہی کا جبر
یہ پوچھتے تو ہوں گے خدا سے ملائکہ
کس طرح آدمی نے سہا زندگی کا جبر
ہر شعر انوکھا ہے اور معنی کا ایک جہاں آباد ہے۔
واہ واہ سبحان اللہ
منظور قاضی صاحب ڈاکٹر پنہاں کے مشاعروں کا کوئی لنک اآپ کے پاس ہو تو مجھے بھیج دیں۔ان کی شاعری تو بہت پڑھی ہے لیکن کلامَ شاعر بہ زبانَ شاعر سننے کو جی چاہتا ہے
پنہاں صاحبہ کی ایک بھرپور غزل، عمدہ، سلیقے سے سجی اور خوبصورت. لطف آگیا پڑھ کر.
ایک چھوٹی سے رائے ہے، اگرچہ میں پنہاں صاحبہ کے مشاق قلم پر کسی قسم کی رائے دینے کا اہل نہیں ہوں، پھیر بھی ایک آدھ جگہ ایک آدھ لفظ سے بدلنے سے شاید بہتری آجائے، یہ میری ذاتی رائے ہے:
جیسے :
اس ناتواں پہ کیوں یہ گراں آگہی کا جبر
کو اگر اسطرح کر دیا جا ئے
اس ناتواں پہ کیوں “ہے“ گراں آگہی کا جبر
اور یہ مصرع بھی بہتر ہو سکتا ہے:
دل وہ بھی دیکھتا ہے جو آنکھیں نہ دیکھتیں
“آنکھیں نہ دیکھتیں” قدرے نا مکمل محسوس ہو رہا ہے، شاعر کہنا چاہتا ہے کہ دل وہ بھی دیکھتا ہے جو آنکھیں “نہیں” دیکھتیں. “نہیں” کی جگہ “نہ” غیر مکمل احساس دے رہا ہے.
اس کو اگر کر دیا جائے:
دل دیکھتا ہے جس کو نظر دیکھتی نہیں
جناب منظور قاضی صاحب ، ارشاد عرشی صاحبہ، اور تمام احباب
ِ
عنایت ، نوازش ، کرم ، مہربانی ۔
ِ
احقر
پنہاںٓ
وہ زندگی جو سہہ نہ سکے زندگی کا جبر
اس ناتواں پہ کیوں یہ گراں آگہی کا جبر
ِ
دل وہ بھی دیکھتا ہے جو آنکھیں نہ دیکھتیں
تاریکیوں سے اور سوا روشنی کا جبر
ِ
احقر
پنہاںٓ
سب کرم فرماوں کے تبصروں کے جوابات دینے میں تاخیر ہوگئی . معافی چاہتاہوں . ( کمپیوٹر کی آنکھ مچولی بیچ میں حائل رہی )
جاوید اقبال کیانی صاحب سے عرض ہے کہ مجھے انکے تبصرے کو اس بلاگ سے حذف کرنے کی نہ اجازت ہے نہ مجھے اس کی ترکیب معلوم ہے. اب محترمہ شاہین رضوی صاحبہ نے انکے تبصرے کا جواب اس بلاگ میں لکھ ہی دیا ہے تو پھر اسے اسی بلاگ میں رہنے دیجئے .
ارشاد عرشی ملک صاحبہ سے عرض ہے کہ گوگل میں چند مشاعروں کے ویڈیو پروگرام موجود ہیں جن میں ڈاکٹر پنہاں صاحبہ نے امریکہ کے مشاعروں میں اپنے اشعار سنائے تھے . جیسا کہ میں اس بلا گ کے ایک تبصرے میں عرض کرچکا ہوں مجھے وہ ترکیب نہیں آتی جس کے ذریعہ میں ان مشاعروں کی ویڈیو کو اس بلاگ میں منتقل کرسکوں . کاش کہ میں ایسا کرسکتا .
میں ان احباب کا مشکور ہونگا جو ان ویڈیو پروگراموں میں سے ایک یا دو پروگرام اس بلاگ میں چسپاں کردیں گے.
گوگل میں Dr.Pinhaan کلک کرکے دیکھ لیجئے اور اس میں عالمی اخبار کے وہ بلاگ بھی پڑھ لیجئے جن میں ڈاکٹرپنہاں کی تحریر شامل ہے. اور ساتھ ہی ساتھ وہ ویڈیو پروگرام بھی دیکھ لیجئے جن میں ڈاکٹرپنہاں صاحبہ نے اپنا کلام سنایا تھا.
میں بذاتِ خود اب تک ڈاکٹرپنہاں صاحبہ سے نہیں مل سکا اور نہ میں ان مشاعروں میں شریک ہوسکا جن میں ڈاکٹرپنہاں نے اپنا کلا م سنا یا تھا. پھر بھی مجھے انکے کلام کی عظمت کا احساس ہے اور اس سے دلی عقیدت ہے.
( مجھے عرشی صاحبہ کے ویڈیو بھی دیکھنے کا اشتیاق ہے جن میں انہوں نے اپنا کلام عطا کیا )
……………..
وحید اختر واحد صاحب کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کے وہ اشعار جن پر وحید اختر واحد صاحب نے اپنی رائے دی تھی وہی اشعار ڈاکٹر پنہاں صاحبہ نے اپنے ہی ہاتھوں سے لکھ کر یہ واضح کردیا کہ میں نے انکے اشعار کی کمپوزنگ میں کوئی غلطی نہیں کی تھی .
وحید اختر واحد صاحب ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کے اشعار بار بار پڑھ لیں تو ممکن ہےکہ وہ انکے رموز سے ضرور واقف ہوجاینگے …
فقط:
علم کا خواہاں
منظور قاضی
از جرمنی
http://www.youtube.com/watch?v=XhIJgTm2LpE
اگر یہ لنک ادھر کامیابی سے منتقل ہوگیا ہے تو اس میں ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کو ایک مشاعرہ میں پڑھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے.
خدا کا شکر ہے کہ میرے اوپر کے تبصرےمیں ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کو نہ صرف ایک مشاعرہ میں پڑھتے ہوئے دیکھا اور سنا جاسکتا ہے بلکہ چند اور ویڈیو پروگراموں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے جن میںپنہاں صاحبہ نےاپنا کلا م سنایا.
ان پروگراموں میں وہ پروگرام بھی شامل ہے جس میں پنہاں صاحبہ نے اپنی ایک غزل سنائی جس کے دو اشعار یہ ہیں:
اپنے بُرے سلوک پہ پچھتا ئے گی بہت
میں زندگی کےدل میں کسک چھوڑ جاونگی
پنہاں غزل کے جام میں خود کو نچو ڑ کے
اپنی مٹھاس اپنا نمک چھوڑ جاونگی
اس پوری غزل کو ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کی زبانی پڑھتے ہوے دیکھئے اور مرحبا ، ماشااللہ ، سبحان اللہ کہتے رہیے.
فقط:
منظور قاضی
از جرمنی
ڈاکٹر پنہاں کا ایک شعر میرا پیچھا نہیں چھوڑتا۔
جو بیت گئ دل پر کب اسکی شکایت کی
اِک موم کی گُڑیا نے سورج سے محبت کی
میں نے ان کے ساتھ کئ مشاعرے پڑھے ہیں۔ یہ جتنی بڑی شاعرہ ہیں اُتنی ہی بڑی انسان بھی ہیں۔ انکا کلام چودہ برس کی عمر سے اخبارات اور رسالوں کی زینت بنا ہوا ہے۔
محترم منظور قاضی صاحب ! آپ کے عطا کردہ لنک کا شکریہ۔ آپ نے ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کو سننے کا موقع فراہم کیا۔ جزا کم اللہ
وہ خود کو چاہتا تھا مجھے چاہتا نہ تھا
میں اس کے دل میں اپنا یہ شک چھوڑ جاوں گی
کچھ دل میں دھک سا ہو گا میرا نام لو گے جب
میں اپنے ٹوٹنے کی کھنک چھوڑ جاوں گی
اپنے برے سلوک پہ پچھتائے گی بہت
میں زندگی کے دل میں کسک چھوڑ جاوں گی
پنہاں غزل کے جام میں خود کو نچوڑ کے
اپنی مٹھاس اپنا نمک چھوڑ جاوں گی
سبحان اللہ سبحان اللہ۔ کیا کلام ہے اور کیا پڑھنے کا انداز ہے۔
افسوس کہ میں نے آپ کو بہت دیر سے جانا۔بقول شاعر
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے
میں ارشاد عرشی ملک صاحبہ کا تہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس بلاگ کو سراہا اور وہ ڈ اکٹر پنہاں صاحبہ کے ویڈیو پروگرام بھی دیکھ سکیں . . مجھے یقین تھا کہ وہ خود چونکہ اعلی پایہ کی شاعرہ ہیں ، وہ ضرور پنہاں صاحبہ کی شاعری کو پسند کرینگی اور پنہاں صاحبہ سے براہِ راست رابطہ قائم کرینگی .
کاش کہ میں عرشی صاحبہ کو بھی ایسے ہی ویڈیو پروگراموں میں غزل پڑھتے ہوئے دیکھ سکوں .
……………
ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کے چار شعری مجموعوں کے نام یہ ہیں :
1. احساسِ ناتمامی
2. غزل سہیلی
3. آدھی رات کا پورا چاند
4.خود شکنی
نوٹ : میرے پاس جرمنی میں ا ن کی مزید تصانیف سے متعلق کوئی معلومات نہیں. امید کہ پنہاںصاحبہ یا ظفر جعفری صاحب اس سلسلے میں مزید معلومات فراہم کردینگے . ( شکریہ )
……..
ظفر جعفری صاحب نے ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کے جس شعر کےمتعلق کہا ہےکہ وہ شعر انکا پیچھا نہیں چھوڑتا ، اس شعر کی پوری غزل ملاحظہ فرمائیے:
میں یہ غزل خاص طور پر ارشاد عرشی ملک صاحبہ اور شاہین رضوی صاحبہ اور ان تمام سخنوروں کے مطالعہ کے لیے پیش کررہا ہوں جو ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کی شاعری کی چاشنی سے لطف اندوز ہونے لگے ہیں ..
جو بیت گئی دل پر کب اس کی شکایت کی
اک موم کی گڑیا نے سورج سے محبت کی
پھولوں پہ یہ کیا رونا، برسات پہ کیا ہنسنا
اے عشقِِ جنوں پرورحد ہوتی ہے وحشت کی
واقف ہی نہیں کوئی محشر سے مرے دل کے
دیکھی ہے بھلا کس نے تصویر قیامت کی
لفظوں نے بنائے تھے کاغذ کے محل سارے
رکھی تھی ہواوں پر بنیاد عمارت کی
یوں عقل و خرد نے تو سمجھائی تھی کچھ باتیں
دل مان گیا تھا پر جذبوں نے بغاوت کی
جو ٹوٹ گئی کشتی ساحل سے ہی ٹکرا کے
وہ کیسے یہ کہ دے کہ قائل نہیں قسمت کی
مانگی تھی محبت کی دن رات دُعا جس نے
اُس دل کو تمنا تھی دُنیا کی نہ دولت کی
ہر خواب کھرچتی ہوں میں اپنی اب آنکھوں سے
معلوم نہ تھا مجھ کو سب چال ہے فطرت کی
جینے کے طریقے تو تھے اور بہت اے دل
پھر تجھ کو یہ کیا سوجھی کیوں اپنی یہ حالت کی
گم صم سی خلاوں میں تکتی ہے نہ جانےکیا
ہنستی ہوئی وہ لڑکی ایسی نہ تھی عادت کی
پرپھول کی قسمت میں لکھا ہے بکھرنا کیوں
اب لوح و قلم جانیں کس نے یہ شرارت کی
تہذیب و تمدن میں اور شعر و ادب میں بھی
جدت کو سدا لازم تعظیم روایت کی
گم شوقِ ریاضت میں گمنام رہی پنہاں
مصروفِ عبادت تھی بھوکی نہ تھی شہرت کی
نوٹ : دوسرے شعر میں “عشق” اور تیرھویں شعر میں ” شوق ” کے الفاظ میں ق کے نیچے زیر ہے .
……
فقط :
منظور قاضی
از جرمنی
http://www.pinhaan.com/index.html
مجھے آج تک پتہ نہیں تھا کہ ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کی مندرجہ بالا ، اپنی ایک ویب سائیٹ بھی ہے جس میں انکا کلام اور ان کی شاعری پر لکھے گئے مضامیں اور خود انکے افسانے اور مضامین بھی موجود ہیں .
میں ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کا مشکور ہوں کہ انہوں نے آج مجھے اپنی اس ویب سایٹ سے مطلع کیا .
اس ویب سائٹ میں پنہاں صاحبہ کی غزلیات، صنعتی غزلیں ، متفرق نظمیں ، آزاد نظمیں ، نثری نظمیں، مختصر نظمیں ، ہائیکو کے علاوہ انکے افسانے ، مضامین اور افکار و نظریا ت، موجود ہیں .
میرے خیال میں ، اس ویب سائٹ کی روشنی میں انکو گمنام شاعرہ کا خطاب دینا نا مناسب ہے .
ڈاکٹر پنہاں صاحبہ سب کچھ ہوتے ہوئے اپنے خطوط کے آخر اپنے آپ کو ” احقر ” کیوں کہتی (لکھتی) ہیں ؟ یہی سوال میرے ذہن میں بار بار اٹھتا ہے مگر میں ان سےاس کی وجہ پوچھ کر انکو ناراض نہیں کرنا چاہتا .
میں انکی اس ویب سائٹ سے انکی شخصیت، انکی شاعری ، انکے ادبی کارناموں اور انکی تخلیقات سے متعارف ہوتا جارہا ہوں اور انکی طویل اورصحت مند زندگی کے لیے دعا گو ہوں.
فقط:
علم کا خواہاں
منظور قاضی
از جرمنی
جناب منظور قاضی صاحب،
ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کی ویب سائیٹ سے آگاہ کرنے کا بے حد شکریہ، یہ ہوئی نا بات موتی بکھیرنے یا ہیرے بانٹنے کی.
کاش، آپ کی طرح میں بھی، عرشی صاحبہ کو بھی ایسے ہی ویڈیو پروگراموں میں غزل پڑھتے ہوئے دیکھ سکوں .
جاوید اقبا ل کیانی صاحب کا دلی شکریہ کہ انہوں نے میری کاوش کو سراہا .
پنہاں اور عرشی جیسی شاعرات دنیائے اردو میں بہت ہی کم ہیں .
انہیں شاعرات کے لیے میں غالب کا یہ شعر ردو بدل کے ساتھ لکھ چکا ہوں کہ:
ہین اوربھی اردو کے سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ پنہاں ( اور عرشی ) کا ہے اندازِ بیاں اور
……..
ظفر جعفری صااحب اور شاہین رضوی صاحبہ نے دوسری شاعرات کے نام بھی اپنے اپنے تبصروں میں د یے ہیں مگر افسوس کہ میں ان شاعرات سے اور انکے کلام سے واقف نہیں. اگر وہ ان شاعرات کے اشعار بھی اپنے اپنے تبصروں میں لکھدیتے یا ان پر بلاگ بھی لکھدیتے تو لطف آجاتا .
اردو کی جتنی ترویج اور خدمت ہوتی رہے اتنا ہی اچھا ہے .
فقط:
علم کا خواہا ں
منظور قاضی
جرمنی سے
مجھے آج کنول خاں صاحبہ نے کینیڈا سے اپنے ذاتی برقی ای میل کے ذریعہ پنہاں صاحبہ کی تعریف کرنے پر یہ ارشاد فرمایا ہے: ( گویم مشکل و نہ گویم مشکل ) :
”
elm kay shidayee chachoo Na manzoor kaghzi Sahib.
Aap nay dr pinhaan Ko to Bohat Khoobsoorti say promote kardiya laikan aur jaghoon par aap ka keyboard aapka saath nah day saka hoga. issiliyay aap dr Iqbal kay kalam pr kuch kahnay say mazoor qazi ban gayee hoongay. Aaap Sirf apni marzi kay logon ko promote apnay makhsoos andaz say kartay hain, warna agar aapka ya yahan mojood aur logon main say kisi ka elm kay saath kaoi rishta hota to Iqbal ko nazar andaz nah karta. Aap tarfa dari aur tassab say bhary honay kay sabab kabhi kabhi na manzoor aur kabhi kabhi maghroor kazi ban jaty hain, warna Iqbal Jiasay azeem sahir aur falsafee ko nazar andaz nah kartay. mujhay yahaan aakar bohat dukh howa hay.Aap sirf Taous w rubab kay sheedaiyee hain, nah k elm kay. Blog laganay walay nay to blag laga diya, par aap nay kia kiya? afsoos sad afsoos. mokah milay aur ghirat ijazat day to iss ko bhee chaap dain. Aap kay andar koi shore kiyoon naheen hota aur app kiyoon munafikat chore kar achay logon ki yaad naheen mana saktay? App sirf Khud bahar shore karnay kay aadee hain and bas. Apnay Bahie masood ko hi pooch lain, wuh kiya kahta hay aapki iss dr. Pin HaN kay baray main?
Kanwal Mirza”
…………………………………..
.قارئین کو یاد ہوگا کہ پچھلے سال میں نے کنول خان صاحبہ کی پنجابی شاعری کو اپنے بلاگوں میں پیش کرکے انکی دل سے تعریف کی تھی .
اب انکےقلم سے ایسی ایسی پھلجھڑیاں دیکھنے اور پڑھنے کے بعد مجھے یقین ہی نہیں آرہا ہے کہ میں انکو کیاجواب دوں.
میں اب بھی کنول خاںصاحبہ اور انکی اورسب کی محبوب شاعرہ دوست عظمی محمود صاحبہ کی شاعری کی دل سے قدر کرتا ہوں .
ارادہ تھا کہ کنول خاںصاحبہ کو براہ راست جواب دوں مگر میں چاہتا ہوں کہ اس بلا گ ہی میں کیوں نہ پیش کردوں اس لیے کہ
بقول حبیب جالب:
ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں
دنیا والے دل والوں کو اس سے زیادہ کہتے ہیں.
نوٹ : میں کنول مرزا خاں صاحبہ کی یہ تحریر صرف اور صرف آپ سب کی تفرٰیح طبع کے لیے پیش کررہا ہوں . ا س بر کسی قسم کے تبصرہ کی کوئی ضرورت نہیں اس لیے کہ :
خیالِ خاطرِ احباب چاہیے ہردم
انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں میں
..
فقط:
علم کا شیادئی
منظور قاضی
از جرمنی
منظور قاضی صاحب ! پتہ نہیں کیوں بڑی شدت سے مصطفےٰ زیدی کے دو شعر یاد آرہے ہیں۔
ہر اک نے کہا کیوں تجھے آرام نہ آیا
سنتے رہے ہم لب پہ ترا نام نہ آیا
مت پوچھ کہ ہم ضبط کی کس راہ سے گذرے
یہ دیکھ کہ تجھ پر کوئی الزام نہ آیا
ارشاد عرشی ملک صاَحبہ کا شکریہ کہ انہوں نے مصطفےٰ زیدی کے معنی خیز اشعار تَحریر کئے۔
چونکہ یہ بلاگ ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کی شاعری سے متعلق ہے اس لیے انکا ہی شعر یاد آرہا ہے جسے میں مقامی لائبریری کے کمپوٹر سے لکھ رہا ہوَن ( اگر کوئی غلطی ہو تو پنہاِں صاَحبہ تصحیح کرسکتی ہیں ) :
ہر پھول کی قسمت میں لکھا ہے بکھرنا کیوں
اب لوح و قلم جانیں کس نے یہ شرارت کی
پھول ہر قسم کے ہوتے ہیِں : گلاب کا پھول ، چنبیلی کا پھول، موتیا کا پھول ، موگرے کا پھول اور کیوڑے کا پھول ،رات کی رانی کاپھول اور کنو ل کاپھول۔وغیرہ وغیرہ
ہر پھول کی قسمت میں لکھا ہے بکھرنا کیوں
اب لوح و قلم جانیں کس نے یہ شرارت کی
ماشااللہ بہت ہی معنی خیز شعر ہے۔
۔۔۔۔
منظور قا ضی
جرمنی سے
چونکہ اس بلاگ کا مقصد پورا ہوگیا اور ڈاکٹر پنہاَن صاََحبہ سے متعلق تمام ضروری معلو مات اس بلاگ میں موجود ہیں اس لیےمین اس بلاگ کو ختم کرنے کا اعلان کرتا ہوں.
تما م مبصروں کا شکریہ کہ انہوَََََں نے اپنے تبصروں سے اس بلاگ کی افادیت مین اضافہ کیا .
فقط:
اچھی شاعری کا شیدائی
منظور قاَضی
جرمنی سے