دنیا کے کاروبار کی فرصت نہ ھو سکی
——————————
دنیا کے کاروبار کی فرصت نہ مل سکی
دل اس سے جب ملا تو فراغت نہ ھوسکی
دیکھا جو حسن یار ازل ھوش آڑ گئے
اس جگ میں پھر کسی سے محبت نہ ھوسکی
لطف مذیذ کی نہ گیئں دل سے حسرتیں
آس در پر جاکے ھم سے قناعت نہ ھوسکی
نادم ھوں شرمسار ھوں شکووں گلوں پہ میں
کم ظرف ھوں سو مجھہ سے مروت نہ ھوسکی
کٹیا میں مجھہ غریب کی وہ آۓ تو مگر
شایان شان مجھہ سے مدارت نہ ھو سکی
کیا کیا نہ ھم کو یاد تھے نکتے نۓ نۓ
جب سامنا ھوا تو جسارت نہ ھوسکی
کیوں رنگ تیرا زرد ھے،چہرہ بجھا بجھا
وہ پوچھینے لگے تو وضاحت نہ ھوسکی
دیکھے جو میرے زخم تو بے ساختہ کہا
افسوس وقت پر یہ جراحت نہ ھوسکی
سوچے جو اپنے عیب زباں بند ھوگی
ھم سے کسی بشر کی مذمت نہ ھوسکی
لہجہ تھا ناصحوں کا زھر میں بجھا ھوا
سو کارگر کوئ بھی نصیحت نہ ھوسکی
ھم بے ھنر کسی کو بھی حیراں نہ کر سکے
افسوس ھم سے کوئ کرامت نہ ھوسکی
بس ایک قدم اٹھا کے اناّ کو تھا روندنا
تا عمر ھم سے طے یہ مسافت نہ ھوسکی
ماتھا تو ٹیکتے رھے ھر صبح و شام ھم
پر سچ تو یہ ھے ھم سے عبادت نہ ھوسکی
بیکار ھی گیئں مری ساری وضاحتیں
دل سے کسی کے دور کدوّرت نہ ھوسکی
عرشی ہوا ھوا میرا شوقٓ مکالمہ
لب یوں سلے کہ مجھہ سے خطابت نہ ھوسکی
میں عرشی آپا سے اور اھل ادب سے دست بستہ معافی کی خواستگار ھوں آگر کمپوزنگ میں
کوئ مجھہ سے غلطی ھوگی ھو
شاھین رضوی

شاہین رضوی صاحبہ خوش نصیب ہیں کہ عرشی صاحبہ انہیں اپنا تازہ کلام بھجوارہی ہیں جسے شاہین رضوی صاحبہ انتہائی خوش اسلوبی سے عالمی اخبار کے بلاگوں کی زینت بنارہی ہیں .
سونے پر سہاگہ کی مثال یہاں پر صادق آتی ہے.
……
میرے کمپوٹر کی خرابی سے پہلے مجھے بھی یہ اعزاز عرشی صاحبہ نے بخشا تھا جسے میں نے خوشی سے قبول کیا اور انکےکلام کو بلاگوں میں شامل کیا .
…..
شائد شاز تمکنت کا یہ مصرعہ ہے کہ :
“ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ”
شائد دوسرا مصرعہ یوں ہے کہ :
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم
میں اس شعر کے پہلے مصرعہ کو پڑھتا ہوں تو مجھے عرشی صاحبہ . پنہاں صاحبہ اورزرقا مفتی صاحبہ جیسی عظیم شاعرات
کا خیال آتا ہے .
ان شاعرات کا دم غنیمت ہے . ہم سب کو انکی قدر کرنی چاہیے اور ان کے علم سے استفادہ کرنا چاہیے.
……
عرشی صاحبہ کی اس غزل کا ہر شعر نہایت ہی عمدہ ہے:
کیا کہنے ہیں عرشی صاحبہ : سبحان اللہ ، ماشا اللہ ،بہت خوب ، مرحبا :
بس اک قدم اٹھا کے اناّ کو تھا روندنا
تا عمر ھم سے طے یہ مسافت نہ ھوسکی
ماتھا تو ٹیکتے رھے ھر صبح و شام ھم
پر سچ تو یہ ھے ھم سے عبادت نہ ھوسکی
…
شاہین رضوی صاحبہ مطمئن رہیں ، پڑھنے والے اتنے ذہین و فہیم اور فراخدل ہیں کہ وہ کمپوزنگ کی غلطیوں پر نکتہ چینی کی بجائے اصل متن کو سمجھ لیتے ہیں.
یہی کیا کم ہے کہ آپ نے اپنی توانائی اور اپنا قیمتی وقت اس اہم کام پر صرف کیا .
جزاک اللہ
…..
اپنا یہ تبصرہ ختم کرنے سے پہلے میں عرشی صاحبہ سے درخواست کرونگا کہ وہ ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کی غزل کے تازہ بلاگ میں بھی اپنے خیالات اور تاثرات کا اظہار کریں .
مجھے عرشی صاحبہ اور زرقا مفتی صاحبہ کے معلوماتی تبصرے بہت ہی اچھے لگتے ہیں .
فقط:
علم کا خواہاں
منظور قاضی
از جرمنی
شاہین اور عرشی صاحبہ
اس غزل میں پندرہ اشعار ہیں۔ ہر شعر میں بلا کی مضمون آفرینی ہے۔ یہاں فصاحت، بلاغت، سادگی، حسنِ بیان سب ہی اوجِ ثریا پر نظر آتے ہیں۔ عشرت آفریں، عابدہ کرامت، سکینہ پنہاں، نذہت صدیقی،اور عرشی میری پسندیدہ شاعرات ہیں۔
کیوں رنگ تیرا زرد ھے،چہرہ بجھا بجھا
وہ پوچھینے لگے تو وضاحت نہ ھوسکی
کیا بات ہے کمال کا شعر ہے اعلی
محترمہ شاہین رضوی صاحبہ،
عرشی ملک صاحبہ کی امانت (عرشی کلام) ہم تک پہنچانے کا بے حد شکریہ. سبحان اللہ، کیا دن چڑھا کہ ایک ہی وقت میں عرشی صاحبہ اور ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کے کلام نے بلاگ کو چار چاند لگا دیے.
ماتھا تو ٹیکتے رھے ھر صبح و شام ھم
پر سچ تو یہ ھے ھم سے عبادت نہ ھوسکی
پوری نظم ایک بھرپور فلسفہ ہے،مگر اس شعر نے بے اختیار بُلھے شاہ کی یاد تازہ کرا دی
لوک بُلھے نوں متیں دیندے، بُلھیا جا مسیتی
مسیت گیئوں تاں کُجھ نئیں ملدا ، جو دلوں نماز نہ نیتی
بُلھے شاہ رب اندروں ملدا ، جو جائے دلوں پلیتی
کیا خوب ہی ہو کہ کبھی کبھی عرشی صاحبہ وقت نکال کر اس بلاگ محفل میں خود اپنا (عرشی) کلام پیش کیا کریں .
جناب منظورقاضی صاحب۔۔ اللہ تعالی آ پ کو ھمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے۔۔۔آمین۔۔ آپکی حوصلہ افزائ نے میری ساری تھکن زائل کردی ۔۔۔اور یہ تو میری خوش نصیبی ھے کہ مجھے عرشی آپا اتنی محبت سے اپنا کلام نوازتی ھیں۔۔
میں سب سے پہلے تو عرشی آپا سے معذرت کرونگی کہ میں نے کافی تاخیر سے انکی نظم کو کمپوز کیا ۔۔۔عرشی آپا سے بےپناہ اور پرخلوص عقیدت کی بناء پر یہ بات کہہ رھی ھوں کہ کاش عرشی آپا کی علمی ادبی کاوشوں کو انکی سبق آموز مثبت شاعری کو
ان کا سارا کلام تصنیف کی شکل میں یکجا کیا جاسکے۔۔کاش ھم اپنے ان حساس قلم کاروں کا حق ادا کر سکیں۔۔ ۔
جناب ظفر جعفری صاحب۔۔۔ سلامت رھیں مجھے بھی عرشی آپا ،عابدہ کرامت، عشرت آفرین۔ زرقا مفتی۔ ڈاکٹر پنہاں۔اور ڈاکٹر نگہت نسیم کی شاعری متاثر اور ملتفت کرتی ھے
کویت میں پاکستان کے سابقہ سفیر کی بیگم محترمہ عابدہ کرامت جو اپنی انفرادی حثیت سے بھی اپنی شناخت رکھتی ھیں اور جب بھی کویت آتی ھیں تو ان سے ملنے اور انکی شاعری سننے کا موقعہ ملتاھے آج کل کرامت اللہ غوری صاحب کویت تشریف لاۓ ھیں اور انکے اعزاز میں ایک مشاعرہ جمعرات 22اپریل کو ھورھاھے۔۔۔۔
پیاری نادیہ بخاری ۔۔عرشی آپا کی شاعری کی یہی انفرادیت ھے کہ بہت سادہ اور سہل انداز میں اپنی بات قاری تک پہنچاتیں ھیں
شاہین رضوی صاحبہ
آپ کو یہ سعادت مبارک ہو- گذشتہ دنوں اس اخبار کے اک بلاک کے حوالے سے چند ای میلز آئیں جن کے نتیجہ میں اک اچھا کام یہ ہوا کہ ارشاد ارشی صاحبہ کی بہت سی شاعری پڑھنے کو ملی اور بہت خوشی ہوئی کہ مثبت روایتوں کی پاسدار اک قابلِ قدر شاعرہ کو اس کا جائز حق ادا کیا جارہا ھے-وہ تمام احباب جن کا اس کارِ خیر میں حصہ تھا اور ھے ، لائقِ ستائش ہیں۔
دنیا کے کاروبار کی فرصت نہ ہو سکی
دل اس سے جب ملا تو فراغت نہ ہو سکی
بہت خوب۔
۔
احقر
پنہاںٓ
اسی قافیے ردیف میں میری ایک 1994 کی غزل ہے لیکن عرشی کی غزل کے سامنے بہت کمزور اور کم تر۔ اس لیئے پوری غزل لکھ کر خود کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتا کہ اپنے سامنے شرمندہ ہونا مشکل بھی ہے اور نہایت تکلیف دہ بھی۔ یہ میری طویل غزلوں میں سے ایک ہے تا ہم یہاں بس دو چار شعر گزرے دنوں اور بیتے زمانوں کو یاد کرنے کی غرض سے۔
اس کے لبوں سے زہر سرایت نہ ہو سکی
میں خوش تھا مجھ پہ اس کی عنایت نہ ہو سکی
گو عمر بھر طواف کیا اپنا ہی مگر
پر سچ تو یہ کہ ختم مسافت نہ ہو سکی
کہتا ہمیں بھی صاحبِ فن شہر میں کوئی
ہم سے تو ایسی کوئی کرامت نہ ہو سکی
بیمار ہے وہ سن کے نہ مجھ سے رہا گیا
گھر تک تو میں گیا تھا عیادت نہ ہو سکی
نس نس میں میری شورِ بغاوت بھرا رہا
اُس کی روایتوں سے بغاوت نہ ہو سکی
معلوم تھیں خطائیں مجھے اپنی اس لیئے
نیکی کی مجھ سے اسکو نصیحت نہ ہو سکی
پھر یوں ہوا کہ وقتِ نزع سر پہ آ گیا
دنیا کے کاروبار سے فرصت نہ ہو سکی
سر بسجود یوں تورہے رات بھر مگر
کیا فائدہ جو تم کو ندامت نہ ہو سکی
چاہت کا دعویٰ اُ س سے بھلا کس طرح کرؤں
صفدر مجھے تو خود سے محبت نہ ہو سکی
پیاری شاہین۔جزاکم اللہ و احسن الجزا
بھئی شاہین تم یہ معذرت وغیرہ نہ کیا کرو،یہ تمہارا مجھ پر کم احسان ہے کہ تم اپنے وقت کا حرج کر کے یہ درد سری کرتی ہو۔
مجھے خود اپنی شاعری یونی کوڈ میں ٹائپ کرنی پڑے تو مجھے مشکل پڑھ جائے۔ یہ تو اللہ بھلا کرے کہ پہلے صفدرہمدانی صاحب ،پھر منظور قاضی صاحب ،پھر مناف صاحب اور اب تم نے اس کام کو محض شوق اور چاہت سے کیا ۔اللہ تعالیٰ سب کو جزا دے آمین
میں نے سب کے تبصرے پڑھے ہیں۔بڑے بڑے سخن فہموں کے تبصروں نے مجھے بہت حوصلہ بخشا ہے۔
ہمدانی صاحب کی اسی زمیں میں ایک پرانی غزل پڑھ کر بہت لطف آیا۔
وہ خوا ہ مخواہ زیادہ ہی انکساری سے کام لیتے ہیں حالانکہ بہت بڑے فنکار ہیں،ہم جیسے تو ان کے قدموں کی دھول بھی نہیں
انسےہماری شاعرانہ نوک جھونک بھی چلت ہے
اس لئے ان کی خدمت میں عرض ہے
صفدر جی اس غزل پہ میں کیا تبصرہ کروں
گو آرزو تو تھی ،پہ جسارت نہ ہو سکی
ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کے ریمارکس نے میرا بہت حوصلہ بڑھایا ہے۔
جی تو چاہتا ہے کہ ایک ایک کا نام لے کر اس کے تبصرے پر تبصرہ کرتی لیکن اتنا زیادہ لکھ نہیں سکتی۔
اسی لئے تو اپنی شاعری ٹائپ کروانے کے لئے آپ سب کی محتاج ہوں
عرشی صاحبہ
جو چاہیں اس غزل پہ کہیں،تبصرہ کریں
بے خوف ہو کے آپ جسارت یہ کیجئے
میں تبصرے پڑھ رہا تھا تو بے ساختہ یہ شعر ہوگیا۔
چاہا تو تھا کہ اُنکی غزل پرغزل کہوں
لیکن خدا گواہ کہ جراءت نہ ہو سکی
تصحیح
چاہا تو یہ کہ اُنکی غزل پرغزل کہوں
لیکن خدا گواہ کہ جراءت نہ ہو سکی
قبلہ ہمدانی صاحب نے وسعتِ قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس ناچیز کواپنی غزل پر تبصرہ کرنے کی کھلی چھٹی یہ کہہ کر دی ہے کہ
جو چاہیں اس غزل پہ کہہں تبصرہ کریں
بے خوف ہو کے آپ جسارت یہ کیجئیے
لیکن میں اپنی اوقات کو جانتے ہوئے یہی کہنے پر اکتفا کروں گی کہ
عرشیؔ یہ نوک جھونک نبھانی سہل نہیں
اب چھوڑیئے بھی اور شرارت نہ کیجئیے
ہے ربط گر ادب سے تو حدِ ادب رہے
شوخی میں چھیڑ چھاڑ کی ہمت نہ کیجئیے
ان کے قلم کی کاٹ سے بچنا محال ہے
خم ٹھونکنے کی اس جگہ جرات نہ کیجئیے
ہر دم خیالِ خاطرِ احباب چاہیئے‘‘۔‘‘
شعروں کا لطف لیجے، جراحت نہ کیجئیے
اور ہاں ظفر جعفری صاحب لگتا ہے کہ شاہین رضوی نے جس غزل سے بلاگ کا آغاز کیا ہے
اس کی بحر خاصی زرخیز ہے اس لئے تبصرے پڑھتے پڑھتے ہی آپ کو بھی آمد ہو گئی۔
اب اللہ کرے کہ یہ تبصرہ پڑھ کر مذید آمد ہو۔آپ نے کافی عرصے سے کچھ تازہ نہیں سنایا
جاوید اقبال کیانی صاحب ! زرداری صاحب کی منظوم وصیت لکھنے کے بعد اآپ نے بہت دنوں سے کچھ نہیں لکھا۔کوئی مصلحت در پیش ہے یا مصروفیت؟؟؟؟؟
دو قطعات
اک خواب ہے دنیا ، کہ عدم جس کی ہے تعبیر
اور موت کا لقمہ ہیں ، سبھی طفل و جواں پیر
انسانوں سے پُر ، رُوئے زمیں، زیر ِ زمیں ہے
دونوں طرف اس خاک کے ورقے پہ ہے تصویر
حُب ِ دنیا سے یہ دل خود بے مزہ ہو جائے گا
قید میں جکڑا ہوا پنچھی ،رہا ہو جائے گا
خام ہے عرشیؔ ابھی تیری ریاضت صبر کر
جب پکے گا پھل تو ٹہنی سے جدا ہو جائے گا
پیاری عرشی آپا سلامت رھیں ،،، آپکی ، ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کی ،جناب جاوید اقبال کیانی صاحب کی جنا ب ظفر جعفری ،کی نادیہ بخاری کی آمد نے آپکی شاعری پر مشتمل اس ادبی بلاگ میں چارچاند لگادیئے ۔۔۔ اور پھر اس پر محترم صفدررضا ھمدانی صاحب کی 1994 کی کہی ھوئ غزل کا تو جواب ھی نیہں ۔۔۔۔ جس کا ھر مصرع قابل تعریف ھے
گو عمر بھر طواف کیا اپنا ھی مگر
پرسچ تو یہ کہ ختم مسافت نہ ھوسکی
کہتا ہمیں بھی صاحبِ فن شہر میں کوئی
ہم سے تو ایسی کوئی کرامت نہ ہو سکی
عرشی آپا ،،،، اللہ پاک آپ سب کو سلامت رکھے۔۔ اور ھم اسی طرح زمانوں تک آپکی سب کی خوبصورت شاعری گلوں جیسی باتوں سے محظوظ و سےمستفید ھوسکیں
آپ لوگوں کی شاعرانہ نوک جھونک نے افس کے انتہائ ٹینس ماحول میں مسکرانے پر محبور کردیا،
جناب ظفر جعفری کے فی البدیہہ شعر کا حسن ملاحظہ کیجیے۔
چاہا تو تھا کہ اُنکی غزل پرغزل کہوں
لیکن خدا گواہ کہ جراءت نہ ہو سکی
واہ واہ مزہ آگیا
جباب ھم لوگ اب اس بلاگ میں آپکی اور جاوید اقبال کیانی صاحب ڈ اکٹر پنہاں صاحبہ کی زرقا مفتی کی شاعری کے منتظر ھیں
عرشی آپا کی ایک اور نظم آپ کے ذوق مطالعہ کی نذر۔۔۔
ورق ورق تک لو جاۓ
———————
خون کی بارش پچھلے نقشے دھو جاۓ
شہروں میں انجانے چہرے بو جاۓ
روز آ سے میں ڈھونڈوں ھاتھہ پکڑ کر لاؤ ں
روز وہ ھاتھہ چھڑا کر بھاگے کھو جاۓ
میری پوروں میں اک آگ سی جلتی ھے
لکھنے بیٹھوں ورق ورق تک لو جاۓ
اس کو جانے کی جلدی اور میری ضد
میری بات ساری بات سمجھہ لے تو جاۓ
بے فکری ھے أنکھہ جھپکتی گڑیا جیسی
جب اور جہاں لٹا دو اس کو سو جاۓ
وہ رستے کی بھیٹر میں میرے ساتھہ تو ھے
راہ ملے تو ھو سکتا ھے کھو جاۓ
میری خواھش میرے سر پر ھاتھہ رکھے
اسکی عادت دو پل ٹہرے وہ جاۓ
بت کی صورت اس کو تکتی رھتی ھوں
ڈر ھے آنکھہ میں جھپکوں اور وہ کھو جاۓ
دل کی بھولے بچوں جیسی عادت عرشیئ
جو بھی ھاتھہ پکڑ لے اس کا ھوجاۓ
ئئٍئّٰ،ٍٍٍشئشششش
شاہین رضوی صاحبہ آپ نے ارشاد عرشی صاحبہ کی سادہ اور خوبصورت نظم بہج کر ثابت کر دیا ہے کے آپ جب enjoy کرتے وقت بھی ہم سے share کرتی ہیں – اپ نے نگہت صاحبہ کی والدہ کے لئے بھی doaa کی التجا کے لئے ، آپ نےہی ، ابتدا کی، ورنہ میں اس بات کی جرات نہیں کر رہی تھی ، کہ نگہت صاحبہ اب کس پوزیشن میں ہیں، ان کی والدہ کی لئے dua تو کر رہی تھی حال بھی گاہے بگاہے بلواسطہ پوچھتی رہی .، اچھا ہے اپ عالمی برادری کے گروپ کا خیال رکھتی ہیں. اس کی میں ضرور تعریف کروں گی.
ارشاد عرشی کی نظم نے روح خوش کر دی، ….دیکھے جو میرے زخم تو بیساختہ کھا ،، افسوس وقت پے یہ جراحت نھ ہو سکی .. .. ادھر محترم صفدر صاحب نے اپنی نہایت حسین نظم بھیج کر ” محفل” میں جان پیدا کر دی -ماشا اللھ
قابل صد احترام ارشاد عرشی ملک صاحبہ،
آپ کا حکم سر آنکھوں پہ مگر مجبوری ہی مجبوری، کہ اس کوڑھ مغز کے پلے جتنا تھا وہ تو پیش کر دیا اب آگے کیا کروں؟ اس معیار پہ پورا اترنا بس کا روگ نہیں سو چپ بہتر، کیونکہ یہاں 2+ 1+ 2 × 0 = 0 کا فارمولہ فِٹ بیٹھتا ہے، ایسے میں وہ کلام کہاں سے لائوں، جو یہاں آ کے سنائوں؟
جہان تک سوال ہے کسی مصلحت کا تو محترمہ یہاں فقط حسرت ہی حسرت ہے کہ کاش . … . .میں بھی کسی قابل ہوتا !
ویسے کوشش کروں گا کہ ’شہید‘ بی بی کی وصیت بھی پیش کروں جو عالم ارواح سے کبھی کبھار خواب میں آکے وصیت سناتی ہیں. جونہی ان کی پوری وصیت مل گئی پیش کر دوں گا.
اور جہاں تک سوال ہے مصروفیت کا تو بے اختیار کہوں گا، ’کچھ غمِ روزگار ہے ، کچھ وقت بھی درکار ہے ، اُدھر حکمِ سرکار ہے ادھر دماغ کا عار ہے. ویسے اگر مصروفیت کا پوچھیں تو پورے وثوق سے کہوں گا کہ گھڑی تو بنی ہی ان ممالک کے لئے ہے جہاں وقت کی پابندی، قدراور صحیح استعمال ہے. اپنے ہاں تو ، محدود لوگوں اور مقامات کو چھوڑ کر، مہنگی سے مہنگی گھڑی باندھنا محض فیشن ہی ہے کہ جب وقت ضائع ہی کرنا ہے تو پھر دیکھ کر کیوں؟
بلاگ میں آپ کی ذاتی موجودگی نےایک خوشبوسی بکھیر دی ،ایسا لگا جیسے آپ حقیقتاً ہم میں موجود ہیں. ایک حسرت ہی ہے کہ کاش زندگی میں وہ خوش نصیب گھڑی بھی نصیب ہو، آمیں، والسلام.
عابدہ جی غزل کی پسندیدگی کا شکریہ۔شاہین اور ڈاکٹر نگہت میں یہ بہت بڑی خوبی ہے کہ سب کو جوڑے رکھتی ہیں۔
ہر کسی کا حال چال پوچھتی رہتی ہیں۔ اور بے غرض خدمت کے لئے تیار رہتی ہیں۔
اور ہاں جاوید اقبال کیانی صاحب سے یہی عرض کرنا تھا کہ آپ کی تحریر اوّل اتنی جاندار اور چونکا دینے والی تھی کہ ہم جیسے کئی لوگ ہل من مذید کی صدائیں ہی لگاتے رہ گئے۔
لیکن آپ نے چپ سادھ لی۔اب آپ نے بی بی کی وصیت کی آس دلائی ہے ، دیکھتے ہیں کہ آپ یہ وعدہ کب وفا کرتے ہیں۔
یہ غالباً بہت خاص چیز ہو گی۔
وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے
شاہین اور عرشی صاحبہ
غزل بہت اچھی ہے لیکن مقطع لاجواب ہے۔
دل کی بھولے بچوں جیسی عادت عرشیئ
جو بھی ھاتھہ پکڑ لے اس کا ھوجاۓ
ایک قطعہ بہنوں کی نذر کر رہا ہوں۔
خُلد سے گر نہ یہ نکلواتی
اِرتقائے حیات رکجاتی
صنفِ نازک اگر نہ ہوتی ظفر
خاک میں کا ئنات ملجاتی
شاہین اور عرشی صاحبہ
یہ بلاگ عرشی بہن کیلئے ہے۔ لیکن آب دونوں کا حکم ہے تو ایک غزل پیش کرر ہا ہوں۔
نیزے سے، سیاہی سے نہ سُرخاب کے پر سے
لکھتا ہوں میں ہر شعر فقط خونِ جگر سے
شعلوں کو نہ بھڑکاؤ یوں بیکار شرر سے
پانی سے یہ بجھتے ہیں نہ یہ دیدہء تر سے
جب عزم ستاروں نے کیا ہونے کا روشن
گُم ہوگیا خورشید ستاروں کی نظر سے
سوکھی ہوئ شاخوں کا تو جھکنا نہیں ممکن
جھکتی ہے وہی شاخ لدی ہو جو ثمر سے
صحرا سے بھی گذرا ہوں سمندر سے بھی یارو
ڈرتا ہوں میں طوفاں سے نہ اب گردِ سفر سے
پتھر کا جگر ہو بھی تو سُنتے ہیں محبت
یکلخت ہی ہوجاتی ہے اک تیرِ نظر سے
ہرگام پہ، ہر موڑ پہ کیوں ہار گیا وہ
یہ راز محبت ہے نہ پوچھو یہ ظفر سے
محترمہ شاہین رضوی صاحبہ، و ارشاد عرشی ملک صاحبہ،
مجھ پہ تو چڑیا گھر کے نقلی شیر والی مثال بالکل فِٹ بیٹھتی ہے . . . . . .
محترمہ شاہین رضوی صاحبہ نیا کلام سننے پہ بضد ہیں، اور ادھر حال یہ ہے کہ نیا چھوڑ اب تو پرانا بھی بھول گیا ہوں.
اور محترمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ کا فرمانا ہے، ’’ آپ کی تحریر اوّل اتنی جاندار اور چونکا دینے والی تھی …..‘‘ تو کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ تحریرِ اوّل کو ہی تحریرِآخربھی مان لیا جائے. ’’ وہی اوّل وہی آخر………..‘‘ یا اللـہ ! پکڑا ہی گیا ہوں تو کچھ پردہ رکھ لے…..مولا !
اور یہ جو فرمایا ہے،
’ وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے ‘. .. .تو عرض ہے
خالی ہے گھٹڑی میری ، سب لارا لپّا ہے
شیر کی کھال میں ہی بیٹھہ رہنے دیں کیوں ہاتھ دھو کے پیچھے پڑ گئی ہیں؟
غزل کا ایک اورشعر
اس کوئے محبت میں جو کھو جائے کہیں دل
واپس نہیں ملتا یہ اگر اور مگر سے
ظفر جعفری صاحب ! آپ کی غزل اچھی لگی۔خاص طور پر مقطع
ہر گام پہ ہر موڑ پہ کیوں ہار گیا وہ
یہ رازِ محبت ہے نہ پوچھو یہ ظفر سے
محبت میں جان بوجھ کر ہارنے کا موضوع بہت قدیم ہے۔بہت سے شعرا نے اسے اپنے اپنے انداز سے باندھا ہے
آپ نے بھی کمال باندھا ہے
عزیزی عابدہ مظفر صاحبہ ۔۔ اللہ پاک آپ کو سلامت رکھے ،خوش رکھے۔ اور آپ کو ھمیشہ شاد و آباد رکھے۔۔ ھر خوشی سے آپ کا دامن بھر دے آمین۔۔ عابدہ جی ۔۔۔ قابل تعریف میں نیہں بلکہ آپ سب ھیں ۔ ھم لوگ دنیا کے مختلف گوشوںمیں رھتے ھیں مگر عالمی اخبار نے ھم سب ادب پرست دوستوں کو یکجا کر دیا ھے ۔۔ھم سب ایک دوسرے کو ناموں ،سے روحوں سے پہنچانتے ھیں ۔ ھم سب کو صرف خلوص ھی نےتو یکجا کیا ھے۔ اور اس میں میرا کوئ کمال نیہں ھے یہ سب محترم صفدررضا ھمدانی صاحب کا اور میری پیاری دوست ڈاکٹر نگہت کا کمال ھے ۔۔ انکی محبت اور خلوص انکی انسان دوستی رحم دلی ۔ ان لوگوں کو زخموں پر مرھم رکھنے کا ھنر آتا ھے ۔۔۔۔ اس وقت تو ھم سب کی یہی دعا ھے کہ مہرباں ڈاکٹر نگہت نسیم کی والدہ باذن اللہ جلدازجلد صحت یاب ھوکر گھر آجایئں
عرشی آپا کی غزل کی پسندیدگی کا شکریہ ،اور مجھے لگتاھے کہ بہت جلد ھم کو اّپکی نثر کے ساتھہ آپکی شاعری بھی پڑھنے کو ملے گی۔۔۔
جناب ظفر جعفری صاحب سلامت رھیں ،
آپ کا قطعہ بہت خوبصورت ھے ،
خلد سے گر نہ یہ نکلواتی
ارتقاۓ حیات رک جاتی
صنف نازک اگر نہ ھوتی ظفر
خاک میں کائنات مل جاتی
مجھے ارشاد عرشی ملک صاحبہ کے 20 اپریل کے تبصرے کا آٌخری مصرعہ پڑھکر اس شعر کے پہلے مصرعہ کو جاننے کی جستجو پیدا ہوگئی : خاص طور پر اس لیے کہ انہوں نے یہ مصرعہ جاوید اقبال کیانی صاحب سے مخاطب ہوکر لکھا ہے:
“اور ہاں جاوید اقبال کیانی صاحب سے یہی عرض کرنا تھا کہ آپ کی تحریر اوّل اتنی جاندار اور چونکا دینے والی تھی کہ ہم جیسے کئی لوگ ہل من مذید کی صدائیں ہی لگاتے رہ گئے ۔لیکن آپ نے چپ سادھ لی۔اب آپ نے بی بی کی وصیت کی آس دلائی ہے ، دیکھتے ہیں کہ آپ یہ وعدہ کب وفا کرتے ہیں۔ یہ غالباً بہت خاص چیز ہو گی۔”
“وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے”
…………………
اس تبصرے کے جواب میں جاوید اقبال کیانی صاحب نے ا2 اپریل کو اپنے تبصرےمیں جو لکھا ہے وہ بھی پڑھنے کے قابل ہے:
“’ وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے ‘. .. .تو عرض ہے
خالی ہے گھٹڑی میری ، سب لارا لپّا ہے”
…………………..
اگر جاوید اقبال کیانی صاحب اس شعر کے پہلے مصرعہ سے واقف ہوتے تو انکا جواب شاید مختلف ہوتا .
میرا خیال ہے کہ جاوید اقبال کیانی صاحب نے جو جواب دیا ہے کہ :
“خالی ہے گھٹڑی میری ، سب لارا لپّا ہے”
اس کی وجہ ہو سکتی ہے کہ وہ یہ سمجھتےہیں کہ عرشی صاحبہ کے لکھے ہوئے کسی شاعر کا شعر شائد یوں ہے:
آنکھیں دکھلاتے ہو” گٹھڑی ” تو دِ کھا و صاحب !
“وہ الگ باندھ کےرکھا ہے جو مال اچھا ہے”
…..
اگر میں غلطی پر ہوں تو جاوید اقبال کیانی صاحب تصحیح کرسکتے ہیں.
محترم منظور قاضی صاحب،
جھوٹ بولنا عادت نہیں اور سچ بتا نہیں سکتا. بہت کہا کہ چڑیا گھر میں شیر کی کھال اوڑھے نقلی شیر ہوں. اب میں ان کے پائے کی شاعری کرنے سے تو رہا سو کسی نہ کسی طرح جان بچانے کی فکر میں ہوں اور لارے لپـے دئے جا رہا ہوں کہ شاید وقت گذرنے کے ساتھ بھول جائیں گی… …..آمین ثم آمین.
جناب جاوید اقبال کیانی صاحب ۔۔۔ سلامت رھیں ۔۔ اگر عرشی آپا بھول بھی گیئں تو ھم لوگ آپ سے پرزور اصرار کرتے رھینگے۔۔ورنہ
ڈر ھے جس طرح بی بی کو قتل کر کے ساری شہادتوں اور ثبوت کو مٹادیا گیا،،، کہیں وصیت بھی ؟؟؟÷ مگر آپکے محفوظ ھاتھوں میں ھونے کی وجہ سے امید ھے کہ شہید بی بی کی وصیت تو ھم تک پہنچ جاۓ گی ناں ،،،،
نیہں اقبال نا امید اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ھو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ھے ساقی
جناب ظفر جعفری صاحب اللہ پاک مولامشکل کشا اّپ کو ھمیشہ سلامت رکھیں ،، کیا پر اثر غزل ھے ۔
نیزے سے، سیاہی سے نہ سُرخاب کے پر سے
لکھتا ہوں میں ہر شعر فقط خونِ جگر سے
شعلوں کو نہ بھڑکاؤ یوں بیکار شرر سے
پانی سے یہ بجھتے ہیں نہ یہ دیدہء تر سے
جب عزم ستاروں نے کیا ہونے کا روشن
گُم ہوگیا خورشید ستاروں کی نظر سے
سوکھی ہوئ شاخوں کا تو جھکنا نہیں ممکن
جھکتی ہے وہی شاخ لدی ہو جو ثمر سے
صحرا سے بھی گذرا ہوں سمندر سے بھی یارو
ڈرتا ہوں میں طوفاں سے نہ اب گردِ سفر سے
محترمہ شاھین رضوی صاحبہ،
انشاء اللہ ضرور پہنچے گی اور ڈنکے کی چوٹ پہنچے گی، بس زرا وقت سے مقابلہ ہے جو بڑا کٹھن ہے، والسلام.
ایک پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔
دو پل میں میری ساری جوانی گذر گئ
کب آئ کیسے آئ کہاں تھی کدھر گئ
تصحیح
ایک شعر پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔
دو پل میں میری ساری جوانی گذر گئ
کب آئ کیسے آئ کہاں تھی کدھر گئ
جناب ظفر جعفری صاحب۔ اسلام علیکم ۔۔بہت گہرے معانی و مطالب پر منبنی شعر ھے ۔ بس ساری کہانی ھی ان دو پل کی ھی ھے۔۔۔
آپکے اشعار ، افکار اور مفید تبصروں کا انتظار رھے گا۔ اور یہی درخواست جناب جاوید اقبال کیانی صاحب سے بھی ھے ۔۔جاوید صاحب۔ انشا اللہ آپ کا فاتحان وقت میں شمار ھوگا،،، اور ھم سب آپکی فکر انگیز تحریروں سے مستفید ھوتے رھینگے ۔
ایک قطعہ بیشِ خدمت ہے۔
کج فہم کے سامنے میر کا کلام کیا
ٰٰٰٰٰٰزاغ زغن کے شور میں بلبلوں کا کام کیا ٰٰٰٰٰٰ
تجھکو نصیب تو ہوا غالب ومیر کا وطن
سوچا بھی ہے کبھی ظفر، ہے ترا مقام کیا
واہ ظفر جعفری صاحب بہت خوب کزا کم اللہ
معافی چاہتی ہوں جزا کم اللہ لکھا تھا
دو قطعات
خدا کے سامنے عقل و خرد مت پیش کر ناداں
درِ اقدس پہ ناقص چیز لے جایا نہیں کرتے
زمیں جس دیس کی عرشیؔ زرِ خالص سے بڑھ کر ہو
ڈلی سونے کی لے کر اس جگہ جایا نہیں کرتے
جہاں بے چارگی اور عاجزی کا مول پڑتا ہو
وہاں تو عجز ہی زیبا ہے ،اترایا نہیں کرتے
اگر سائل ہے تو عرشی تو پھر اوقات میں رہنا
کہ سائل عرض کر سکتے ہیں ،فرمایا نہیں کرتے
عرشی بہن
دونوں قطعات بہت خوب ہیں ۔ آخری شعر لاجواب ہے۔
اگر سائل ہے تو عرشی تو پھر اوقات میں رہنا
کہ سائل عرض کر سکتے ہیں ،فرمایا نہیں کرتے
جناب ظفر جعفری صاحب واہ اوہ سبحان اللہ —
کج فہم کے سامنے میر کا کلام کیا
ٰٰٰٰٰٰزاغ زغن کے شور میں بلبلوں کا کام کیا ٰٰٰٰٰٰ
تجھکو نصیب تو ہوا غالب ومیر کا وطن
سوچا بھی ہے کبھی ظفر، ہے ترا مقام کا
اور اس پر سونے پر سہاگہ عرشی آپا کے قطعات
جہاں بے چارگی اور عاجزی کا مول پڑتا ہو
وہاں تو عجز ہی زیبا ہے ،اترایا نہیں کرتے
واہ واہ سبحان اللہ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
ارشاد عرشی ملک صاحبہ
نماز پر آپ کی نطم لاجواب اور دل کی آواز ہے۔
ایک قطعہ پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔
ذرّہ میں نہاں صحرا، قطرہ میں سمندر ہے
اک سانس میں بندہ کی تخلیق کا ساگر ہے
تسبیح کے دانوں میں تسکین ہے پوشیدہ
تد بیر میں پوشیدہ بندہ کا مقدّر ہے
ایک شعر پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔
خدا کی معرفت پائ، مگر طوفاں میں پائ ہے
یہ کشتی ایسی کشتی ہے لبِ ساحل نہیں ملتی
جناب ظفر جعفری صاحب۔ سلامت رھیں زبردست دل خوش ھوگیا ان خوبصورت قطعہ اور اشعار کو پڑھ کر ۔
خدا کی معرفت پائ، مگر طوفاں میں پائ ہے
یہ کشتی ایسی کشتی ہے لبِ ساحل نہیں ملتی
بہت خوب واہ واہ جی
پوری غزل ملاحظہ ہو
کدورت ہو اگر دل میں رہِ کامل نہیں ملتی
سفر جاری بھی رہتا ہے مگر منزل نہیں ملتی
اگر چاہت دلوں میں ہو تو راہوں میں مرے ہمدم
کوئ دیوار کوئ شےء کبھی حائل نہیں ملتی
ہزاروں محفلیں دیکھی ہیں ہم نے رنگ رلیوں کی
محبت ہو جہاں بے لوث وہ محفل نہیں ملتی
کہاں سے لائیں بہلانے کو تیرے کوئ شےء آخر
بہت ڈھونڈا ہے دنیا میں مگر اے دل نہیں ملتی
فریب ومکر کی باتیں بہت آسان ہیں ہمدم
مگر اس راہ پر چل کر کبھی منزل نہیں ملتی
خدا کی معرفت پائ، مگر طوفاں میں پائ ہے
یہ کشتی ایسی کشتی ہے لبِ ساحل نہیں ملتی
اگر ہو ہمسفر اچھا تو منزل جلد آتی ہے
اگر ایسا نہ ہوپائے، ظفر منزل نہیں ملتی
جناب ظفر جعفری صاحب اسلام علیکم ۔ ھر اچھا سچا قلم کار اپنے عہد میں اپنی فکر سے روشنی کرتا ھے ۔ حالات و واقعات کو اپنی نظر سے دیکھتا ھے۔ پرکھتا ھے۔ سوچتاھے۔ لکھتا ھے جلتا ھے اور کئ بار خاکستر ھوتا ھے اسی آگ میں جلتے ھوۓ وہ فکری افق پر جو چاند ستارے بناتا ھے وہ یقینا خون ـ جگر سے روشنی پاتے ھیں ، ۔
کدورت ہو اگر دل میں رہِ کامل نہیں ملتی
سفر جاری بھی رہتا ہے مگر منزل نہیں ملتی
اگر چاہت دلوں میں ہو تو راہوں میں مرے ہمدم
کوئ دیوار کوئ شےء کبھی حائل نہیں ملتی
بہت اچھی کاوش ھے ۔ مصرع اولا بہت خوبصورت ھے بہت خوب بہت اعلی
محترم ظفر جعفری صاحب
آپ کی ساری غزل ہی بہت اچھی لگی۔کس کس شعر کی تعریف کی جائے سبھی عمدہ اور ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہیں ماشا اللہ
ارشاد عرشی ملک صاحبہ
آپکی ذرہ نوازی نے میری حوصلہ افزائ کی ہے ورنہ میں تین میں نہ تیرہ میں۔میں نے اپنی زندگی کے پہلے دو اشعار 1989 میں 46 سال کی عمر میں اپنے بھائ کی ناگہانی موت کے وقت دل برداشتگی کے عالم میں کہے تھے جس کے بعد آمد کا سلسلہ شروع ہوا۔
ہم ٹہرے بد نصیب ہر اک اعتبار سے
شکوہ کریں تو کیا کریں پروردگار سے
جب کلیجے پہ چوٹ لگتی ہے
دل سے اک آہ سی نکلتی ہے