میرے والد کو مجھ سے بچھڑے ہوئے آج اکیس اپریل دو ہزار دس کو پورے تیس برس یعنی تین عشرے گزر گئے ہیں لیکن ان تین عشروں میں وہ مجھے کبھی بھی خود سے الگ محسوس نہیں ہوئے۔ میرے ادبی، صحافتی،نشریاتی،گھریلو اور فکری گویا ہر محاذ پر وہ آج بھی میرے ساتھ ہیں۔ ان کا سچ بولنے کا سبق، ادب میں خیانت نہ کرنے کا درس،نشریات اور صحافت کو اپنے ایمان کی طرح پاکیزہ رکھنے کے اصول،گھریلو زندگی کو کامیابی سے گزارنے کے راز، ان سب میں سے کچھ بھی تو مجھے نہیں بھولا
مزید پڑھنے کے لیئے

کامیاب انسان کی کامیاب کہانی ۔۔۔۔ کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں انہیں دیکھنےاور ان سے سیکھنے کا موقعہ ملا ۔۔۔ ایسے میں بابا آپ جنہیں ان کی ادبی اور قلمی وراثت کا پچاس فیصد حصہ ملا ہو اس کی قسمت کا کہنا ۔۔۔ آپ کو یہ نسبت اور سعادت بہت بہت مبارک مبارک ہو ۔۔
حق تعالیٰ مرحوم کے درجات مزید بلند کرے۔ آغا جانی کو ان کے والد خلد آشیانی کے نقوش ہائے قدم ہمیشہ روشن رکھنے کی ہمت و عزم کے ساتھ اپنی استعانت میں رکھے۔ آمین۔
مولا پنجتن پاک(ع) اپ کے والد گرامی کو اپنے حصا ر پاک میں رکھیں امین
میںکبھی کبھی سوچتی ہوں کہ صفدر ھمدانی صاحب اپ جیسے بڑے لوگوں کی زندگیاں جہاں اتنی عزت سے معمور ہوتی ہیں وہاں اتنی مشکل بھی ہوتی ہیں جیسے لوگ اپ سے نہ صر ف اپ کی وجہ سے اپ کو چاہ رہے ہوتے ہیں وہاں دوسری طرف اپ کے والدین کی نیک نامی اور شہرت کی وجہ سے بھی بہت عزت دے رہے ہوتے ہیں تو زندگی میں قدم قدم پر اپنے سے زیادہ والدین کی نیک شہرت اپ کو جکڑے رکھتی ہے کہ کہیں کچھ ایسا انجانے میں فیصلہ نہ ہو جائے کہ جس پر لوگ یوں سے کہیں کہ اتنی عظیم شخصیت کے صاحبزادے یا صاحبزادی سے یہ توقع نہ تھی تو بڑی محتاط سی زندگی ہوتی ہے جو کہ میرے خیال میں ایک عام انسان کو فیس نہیںکرنا پڑتا ۔۔۔۔۔
لیکن یہ تو حقیقت ہے کہ اپ پچھلی صدی کی چند مشہور شخصیات میں سے ایک عظیم شخصیت کے صاحبزادے ہیںاور اپ نے بیٹے ہونے کاحق ادا کیا مولا(ع) اپ پر اپنا خا ص کرم رکھیں امین
محترم صفدر ہمدانی صاحب
“بچھڑ گیا تو اب جل رہا ہوں صحرا میں” نہیں ،،،، “بچھڑ گیا تو اب جل رہے ہیں صحرا میں”
آپ صرف تنہا نہیں جو دنیا سے جانے کے بعد مصطفی ہمدانی کی شخصیت سے محروم ہوئے، اور آپ واقعی خوش قسمت ہیں کہ مصطفی ہمدانی کے وارث ہیں.
کئی صحرانورد ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں ہمیشہ سورج کی تپتی دھوپ ہی جھلسنا ہوتی ہے،
اب آپ کا فرض ہے کہ راہ میں اپنے حصے کے پیڑ لگائیں جن کی چھاؤں آنے والی نسلوں اورہم جیسے کم علم اور کم فہم لوگوں کو ملے.
اور آپ نے درست لکھا، بونوں کایہ معاشرہ پنجوں کے بل کھڑا ہوکر ہر قد آور کو نیچا دکھانے کی کوشش میں مصروف ہے،
آپ کی کاوشوں کی بدولت مصطفی ہمدانی ہم سب کے ساتھ ہیں،
آپ کے والد محترم کو اللہ تعالی جنت الفردوس میں جگہ عطا کرے. آمین
مرشد ، میں نےآپ کے والد مرحوم کے لئے ایک کی بجائے تیں دفعہ سورۃ فاتحہ پڑھی ہے. پہلی دفعہ آپ کے والد محترم کی حیثیت سے، دوسری دفعہ ان کی زبان سے پہلی دفعہ آزاد ملک پاکستان کا نام ادا ہونے کی بنا پہ اور تیسری دفعہ ہمیں اپنے خوشبو بکھیرنے والے ’گل‘ (پھول) کو تحفہ دینے پہ. ربـِ ذوالجلال انہیں قبر میں کروٹ کروٹ چین اور روزِ محشر جنت میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے، آمین.
بابا آپ نے ایک علم دوست تاریخی ،عظیم شخصیت کے خصور بہت ہی خوبصورت خراج عقیدت پیش کیا ہے ،حقیقت یہی ہے کہ جو قومیں اپنے محسنوں کو بھول جاتی ہے تاریخ انہیں بھلادیتی ہے۔
بابا آپ تو اپنے والد کی یاد میں
‘‘بچھڑ گیا تو اب جل رہا ہوں صحرا میں”کی کیفت گرفتار ہیں
جبکہ
پوری قوم اپنے محسنون کو فراموش کردینے کے
جرم
کی وجہ سے 63 سال سے
وادی تیہ
میں بھٹک رہی ہے
اور
خدا جانے کب تک بھھٹکتی رہے گی۔
بابا
بھائی ریحان علی سچ لکھا
‘‘آپ صرف تنہا نہیں جو دنیا سے جانے کے بعد
مصطفی ہمدانی
کی شخصیت سے محروم ہوئے،
اور
آپ واقعی خوش قسمت ہیں
کہ
مصطفی ہمدانی
کے وارث ہیں.
جبکہ کئی صحرانورد ایسے بھی ہوتے ہیں
جنہیں ہمیشہ سورج کی تپتی دھوپ ہی جھلسنا ہوتی ہے،
اب آپ کا فرض ہے کہ راہ میں اپنے حصے کے پیڑ لگائیں
جن
کی چھاؤں آنے والی نسلوں
اور
ہم جیسے کم علم اور کم فہم لوگوں کو ملے.
بابا
آج
کی کاوشوں کی بدولت
مصطفی ہمدانی ہم سب کے ساتھ ہیں،
اللہ تعالی آپ کے والد محترم کو
جنت الفردوس میں جگہ عطا کرے.
آمین
بچھڑا کُچھ اس ادا سے کے رُت ئی بدل گیئ
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
سب سے پہلے تو خدا لم یزل سے دُعا ہے کے آپ کے بابا کے دارجات بُلند فرمائے اور اُن کو اُن کے کیے گیے اعمال سے بڑھ کر اجرِ عظیم عطا فرمائے کے بے شک وہ رب اس پر قادر ہے اور اُن کی قبر پر تا قیامت اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور اُن کے لیے اُس جہان میں آسانیاں عطا کرے (الہئ آمین)
تو وہ لفظ ہے میرے قٰصے کا
فراموش جو ہو نہیں سکتا
ًماں باپ ایسے ہی تو ہوتے ہیں کہ جن کے بغیر نا ہم مُکمل ہوتے ہیں نا ہماری ذات یہ ایسے شجر ہوتے ہیں کہ جن کا سایہ ہم کو ان کی رُخصت کے بعد بھی مُیسر رہتا ہے آپ نے آج کے دن اپنے بابا کو یاد کیا بلکہ ہم کو بھی یہ عظیم سعادت دی کہ ہم بھی آُن کی عظیم ہستی کے بہیت سے پہلو سے رُشناس ہوئے شکریہ سر کے آج کے دِن آپ کے بدولت ہم نے بھی وہ عمل انجام دیا جو زندہ لوگوں کی نشانی ہوا کرتا ہے کے اپنی تمام عظیم شخصیحات کو خراجِ تحسین پیش کرٰیں اُن کی بات کریں وہ بات جس سے خوشبو آئے
ًمیں سوچتی تھی کے آپ کے نے یہ سارے انداز کہاں سے سیکھے آج آپ کے بابا کے بارے میں پڑھ کر سمجھ آ گیا مُجھے ، نیک اولاد صدقہ ِ جاریہ ہے اور آپ کے بابا کے جاری کیے ہوئے صدقے سے دیکھں تو سہی کے آج بھی دنیا فیض یاب ہو رئی ہے کل اگر دنیا اُن سے فیض پا رہی تھی کل لوگوں کا حوصلہ آپ کے بابا تھے تو آج آپ اُن کی جگہ پر ہیں
اچھے لوگ ایسے پھول کی طرح ہوتے ہیں جن کی خوشبو لوگ صدیوں تک محسوس کرتے ہیں آپ کے بابا بھی ایک ایسے ئی پھول ہیں جن کی مہکار سے آج بھی اس دینا کا چمن آباد ہے وہ خوشبو آج بھی دور سے ئی احساس دلا دیتی ہے کہ آس پاس کوئی گلشن ہے میں نےنا اُن کو دیکھا ہے نا سُنا ہے پر اس وقت میرا بھی دل کر رہا ہے کے اُن کی بات چلے اور بہیت دیر تک چلے ۔۔۔
آپ سے اُن کے بارے میں سننے کے بعد میں ساری زندگی اُن کو فراموش نہیں کر سکوں گی وہ ہمیشہ میرے دُعا کا حصہ بنے رہیں گے اُن کی صورت تو میں نے تصویر میں دیکھ لی اور سیرت سے آپ نے آشنا کروا دیا بہیت شکریہ اب تو یہ حال رہے گا کہ۔۔۔
ًمیں اور اُس کو بھولوں ناصر کیسی باتیں کرتے ہو
صورت تو پھر صورت ہے وہ نام بھی پیارا لگتا ہے
خدا آپ کو اُن کے نقشے قدم پر چلنے کی توفیق عطا کرے اور اُن سے دنیاوی طور سے اس دوری پر ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے (الہی آمین)
ہمدانی صاحب ! آپ کے والد صاحب کے لئے فاتحہ پڑھ لی ہے۔اور اپنے والدین بھی بہت یاد آئے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے آمین
بچھڑے ہوئے والدین کی یادیں،سدا خوشبو بن کر ہمارے آس پاس مہکتی رہتی ہیں۔اور ان کے ہمراہ جس گھر میں بچپن اور جوانی کے دن گذرے
ہوتے ہیں،وہ گھر بھی سوچوں میں سدا آباد رہتا ہے۔آپ کا بلاگ دیکھ کر ماضی کے بہت سے دریچے کھل گئے۔اور دل کے اندر ساون کا موسم آگیا۔
جو رم جھم ہوئی اسے آپ کے، آپ کے والدِ محترم ، اپنے والدین اورعالمی اخبار کے دوستوں کی نذر کرتی ہوں
ماں باپ کا آنگن
نعمت سے بھرا خوان ہے ماں باپ کا آنگن
اللہ کا احسان ہے ماں باپ کا آنگن
بھولا ہے نہ بھولے گا یہ سوچوں میں بسا ہے
یادوں کا شبستان ہے ماں باپ کا آنگن
چولہے سے اترتی ہوئی روٹی نہیں بھولی
جذبات کا طوفان ہے ماں باپ کا آنگن
خوابوں میں دکھائی مجھے دیتا ہے وہی گھر
اب تک مری پہچان ہے ماں باپ کا آنگن
توحید و توکل کا وہیں درس ملا تھا
اک سایہِ رحمان ہے ماں باپ کا آنگن
جینے کے قرینے اسی آنگن میں ملے تھے
ہاں رُشد ہے ،برہان ہے ماں باپ کا آنگن
دن رات کیا کرتے تھے ماں باپ دعائیں
افزائشِ ایمان ہے ماں باپ کا آنگن
ایامِ لڑکپن کا ہے انمول خزانہ
ہیروں سے بھری کان ہے ماں باپ کا آنگن
ہوتے ہیں مکاں ارفع و اعلیٰ بھی میّسر
ملنا نہیں آسان ہے ماں باپ کا آنگن
ماں باپ میسر نہ وہ ماحول میسر
اب حسرت و حرمان ہے ماں باپ کا آنگن
ہر یاد نکھرتی ہے اب اشکوں میں نہا کر
اب درد کا طغیان ہے ماں باپ کا آنگن
یادیں ہیں کہ آتی ہی چلی جاتی ہیں پیہم
اک عالمِ گنجان ہے ماں باپ کا آنگن
اک بار کبھی کاش پلٹ آئیں وہ موسم
ہائے مرا ارمان ہے ماں باپ کا آنگن
خوشبو کے سفر کا وہیں آغاز ہوا تھا
خوشبووں کا دالان ہے ماں باپ کا آنگن
خوش بخت ہیں وہ جن کو میسر ہے یہ آنگن
اک نعمتِ یزدان ہے ماں باپ کا آنگن
پھر دل میں اٹھیں درد کی لذت بھری ٹیسیں
کرتا مجھے ہلکان ہے ماں باپ کا آنگن
یادوں کی تہیں کھلتی چلی جاتی ہیں پیہم
ریشم کا کوئی تھان ہے ماں باپ کا آنگن
قدموں کو جکڑ لیتے ہیں یادوں کے سلاسل
الفت بھرا زندان ہے ماں باپ کا آنگن
ہر ایک کو یاد آئے گی بچپن کے دنوں کی
ہر اک کا دل و جان ہے ماں باپ کا آنگن
وہ شفقت و احساں کی نہ تھمتی ہوئی بارش
برسات کا باران ہے ماں باپ کا آنگن
یادوں میں مری حشر تک آباد رہے گا
گو قریہِ ویران ہے ماں باپ کا آنگن
یہ نظم چھلکتی ہوئی آنکھوں سے لکھی ہے
اور نظم کا عنوان ہے ماں باپ کا آنگن
کیا کیا نہ بگڑتی تھی میں ماں باپ سے اکثر
اب یاس ہے ہیجان ہے، ماں باپ کا آنگن
محترم صفدررضا ھمدانی صاحب ۔۔۔اللہ پاک چہاردہ معصومین کے صدقے میں آپکے تاریخ ساز والد محترم مصطفی علی ھمدانی مرحوم ومغفور کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرماۓ امیںآپکے جنت مکانی والد کی رحلت کو 30 برس ھوگے ھیں 13 اور 14اگست کی درمیانی رات کو اس مرد مومن کی آواز سنکر لاکھوں افراد نے اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاۓ ھونگے۔۔۔۔
آج دن میں کئ بار ان کے لیے سورہ الفاتحہ پڑھی اور آج شام مجلس میں بھی ان کے ایصال ثواب کے لیے کے لیے سورہ الفاتحہ اور دعاۓ مغفرت کی جاۓ گی ،اور جملہ مومنین کے لیے بھی
بچھٹر گیا ھے تواب جل رھا ھوں صحرا میں ۔۔۔۔ آپ بھی کافی کم عمری میں انکی سکھہ بھری چھاوں سے۔ شفقت سے محروم ھوۓ
آپکی جیسی قابل فخر اولاد بھی انکی بخشش کا باعث ھے
۔ آسماں انکی لحد پر شبنم آفشانی کرے۔
آپ میں سے ایک ایک فرد کا کیسے شکریہ ادا کرؤں کہ مجھے لکھنا بھی تو نہیں آتا۔ دعا آپ کے لیئے کرؤں تو دعا کے سلیقے سے جسطرح محروم ہوں۔ جملہ ء تحسین لکھوں تو کیسے کہ حُسنِ تحسین سے ناواقف ہوں۔ بس اتنا ہی کہوں گا کہ آپ سب میری انگشتری کے لعل یمنی ہیں جو میرے ستارے کو راس ہیں۔ بس آپ سب اللہ پاک کی رحمت خاص کے سایہ خاص میں رہیں۔ آمین
آغا صاحب ! السلام علیکم، ۔
سب سے پہلے تو عرض ہے کہ ہم بڑے ّآغا صاحب کے لیے فاتحہ خواں ہیں، اللہ کریم ان کی مرقد کو منور اور معطر فرمائے انہیں روزََ جزاء شفاعتََ معصومین علیہم السلام سے بہرہ مند فرمائے، آمین۔
دوئم یہ کہ ہمارے حکمرانوں کا فرض تھا کہ وہ ہماری قوم کی عظیم شخصیات سے قوم کو متعارف کرواتیں اور تاریخ نویسی پر دھیان دیتیں، لیکن انہوں نے آج تک درست کیا ہی کیا ہے جو ہم اس ایک غفلت کا رونا روئیں؟ آپ سے درخواست ہے کہ “عالمی اخبار” کے ذریعے ایسے ایک سلسلہ کا آغاز کیجیے، جس میں بسسبِ غفلت اور قصداً بھلائی گئی شخصیات کا ذکر ہو۔
سوئم : ” ہم سفر” کی اشاعت کی تیاری شروع کیجیے، اگر گستاخی نہ سمجھیں تو عرض کروں گا کہ یہ آپ کے والد مرحوم و مغفور کی قلم اور مائیکروفون کے ساتھ تیسری امانت ہے آپ کے پاس، اور آپ پر ان کا یہ حق ہے کہ آپ ان کی تحریروں کی اشاعت کا انتظام کیجیے۔
I understand and acknowledge the GREAT personality of Janaab Mustafa Ali Hamadani. He announced the BIRTH of Pakistan. He was a superb broadcaster and a school of thought, where the words always got an *upper place* with the correct meaning with immense communicating skill. He was a teacher for the interested NEW broadcaster and he contributed, a lot, to Radio Pakistan and especially, Lahore Station, the major Radio Station of Pakistan. He will always be kept remembered in the minds and hearts of listeners and judicious people of the department. I am, Khalid Asghar, former Station Director, Radio Pakistan, Lahore (19th Dec 1999 till 01 Jan 2006) I request Mr.Safdar Ali Hamadani (son of Janab Mustafa Ali Hamadani) to kindly paste these comment of mine
تمام دعاؤں میں ہم بھی شریک ہیں
تمام ابن صفی صاحب کے چاہنے والوں کو ان پر ایک برس قبل شروع کی گئی غیر تجارتی ویب سائٹ دیکھنے کی دعوت دیتا ہوں:
http://www.wadi-e-urdu.com
خیر اندیش
راشد
کراچی