اقبال کا فلسفہء انسانِ کامل

اقبال کا فلسفہ انسانِ کامل چار اجزاء پر مشتمل ہے یعنی خودی، عشق، عبادت اور نیابت۔

خودی
اللہ تعلی نے انسان کو قطرہ میں سمندر اور ذرہ میں صحرا دیکھنے کی صلاحیت دی ہے جس سے خود آگاہی کو اقبال نے خودی کہا ہے اور خودی علم سے بلند ہوتی ہے۔۔ انسان کو اللہ نے کائنات کے تصرف کیلئے بنایا ہے اور یہ مومن پر فرض ہے کہ وہ ہر میدان اور سارے علوم میں کمال حاصل کرے۔ ہندوستان میں تصوف کی غلط تشریح کی وجہ سے مسلمانوں میں رہبانیت کا رجحان بڑھ رہا تھا۔ فلسفہء خود اس کے خلاف جہاد تھا۔

عشق
ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کے باہر جتنی بڑی دنیا آباد ہے۔ اس سے کم وسیع وہ عالم نہیں ہے جو اُسکے اندر ہے۔ واقعات دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو انسان سے باہر کی دنیا میں پیش آتے ہیں۔دوسرے وہ جو خود انسان کے اندر وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ جو واقعات اسکے اندر وارد ہوتے ہیں وہ بڑا گہرا اثر رکھتے ہیں۔ انسان میں غصہ اور رحم، رنج وخوشی،احسان وظلم،عفو انتقام، کرم و بخشش، حسد وبغض و کینہ وغیرہ وغیرہ کے متضاد جذبات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ علم سے حاصل کی طاقت کا استعمال وہ انہی جذبات کےتحت کرتا ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ انکا استعمال صحیح کرے۔ مغرب سب سے زیادہ ترقی کرچکا ہے۔ لیکن جب بھی انکی خباثِ نفس جاگتی ہے تو تباہی در تباہی ہوتی ہے۔ اس لئے علم کے ساتھ ساتھ نفس کی تسخیر بھی کی جائے۔ اور تسخیرِ نفس کیلئے ضروری ہے کہ خدا کی مخلوق کے ساتھ شفقت و محبت سے پیش آیا جائے جسے اقبال نے عشق کہا ہے۔ اور علم جو تسخیرِ کائنات کرتا ہے اُسے عشق کے تابع ہونا چاہئے۔

عبادت
تسخیرِ نفس میں سب سے بڑی رکاوٹ ٰٰخوفٰٰٰ ہے۔انسان ہر وقت موہوم آنے والی بلاؤں سے ڈرتا ہے۔ اگر کار میں ہوتا ہے تو ڈرتا ہے ٹکر نہ ہوجائے۔ ہوائ جہاز میں بیٹھتا ہے تو ڈرتا ہے کریش نہ ہوجائے۔ گلہ میں دوچار دن سے زیادہ کیلئے خراش ہوجائے تو ڈرتا ہے کینسر نہ ہوئے۔ اولاد کا اعزہ کی خیرو عافیت کاخوف۔ انسان کی زندگی میں ہر چہار جانب خوف ہی خوف ہوتا ہے۔ اقبال کے نزدیک خوف اُن چیزوں سے محبت ہے جن کے ضائع ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ خوف سے نجات حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ انسان صدقِ دل سے عبادت کرے۔

نیابت

ہر انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں۔ ہر انسان میں کمزوریاں ہوتی ہیں۔ انسانِ کامل وہی ہوسکتا ہے جو نبی ہوتا ہے۔

25 thoughts on “اقبال کا فلسفہء انسانِ کامل”

  1. قبلہ ظفر جعفری صاحب ! آپ نے لکھا کہ اقبال نے کہا کہ . . .
    ” اللہ تعالی نے انسان کو قطرہ میں سمندر اور ذرہ میں صحرا دیکھنے کی صلاحیت دی ہے”
    میری عرض یہ ہے کہ . . .
    ” اللہ تعالی نے آپ کو کوزے میں دریا سمونے کی صلاحیت دی ہے”

  2. اقبال کے انسان کامل کی بات ہو رہی ہے یہ عرض کرؤں کچھ علمی اور تحقیقی حلقوں کا خیال ہے کہ اقبال نے انسانِ کامل یا مردِ مومن کا تصور نطشے سے مستعار لیا ہوا ہے۔اقبال اور نطشے دونوں کے اَفکار میں مماثلتیں تو ہو سکتی ہیں لیکن علامہ اپنی زندگی ہی میں قطعیت کے ساتھ اِس تاثر کی تردید کرتے رہے ہیں۔یہ ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ اقبال نطشے سے کوئی بے حد متاثر تھے۔اقبال نے بھی اپنی شعری اور نثری تخلیقات میں مختلف مقامات پر نطشے کے اَفکار پر بحث کی ہے لیکن اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اقبال نے نطشے کے فلسفے سے کسب فیض کیا ہے۔

    مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کی کتاب عالم اسلام کی مایہ ناز اسلامی یونیورسٹی مصر کے آرگن مجلۃ الازہر کے شمارے فروری 2008 کے ساتھ وسیع پیمانہ پر تقسیم ہوئی جس میں قاہرہ سے مولانا أبو الحسن علی ندوی کی کتاب شاعر الاسلام ۔۔۔الدکتور محمد اقبال شائع ہوئی ۔
    شیخ أبو الحسن علی ندوی نے علامہ اقبال کے نقطہ نظر سے انسان کامل کو بھی موضوع بحث بنایا ہے۔ یہ علامہ اقبال کا وہ محاضرہ ہے جو آپ نے سن 10 اپریل سن 1951 میں مصر کے جامعہ فؤاد کے کلیۃ الآداب میں دیا تھا۔ اس محاضرہ میں علامہ اقبال نے پورے یقین کے ساتھ یہ بات کہی تھی کہ: مسلمان ہی انسان کامل ہے مگر اس کی طاقت اس کے پیغام میں مضمر ہے۔ مسلمان کسی وطن یا گروہ کا نہیں ہوتا بلکہ وہ تو اللہ کی پوری مخلوق کا ہوتا ہے، مسلمان کی مثال سورج کی سی ہے جو ایک ہی وقت میں ہر جگہ غروب نہیں ہوتا۔ اگر کوئی باطل کے لئے دائمی خطرہ بن سکتا ہے یا اس سے نبرد آزما رہ سکتا ہے تو وہ مسلمان ہے۔ اور وہی ہے جو جدید عالم تشکیل دے سکتا ہے۔

  3. اقبال نے نطشے کیلئے کہا

    بس ایک نکتہء توحید سمجھ سکا نہ حکیم
    نگاہ چاہئے اسرارِ لاالہ کیلئ

  4. خودی از اقبال

    نہیں مقام کی خوگر طبیعتِ آزاد
    ہوائے سیر مثالِ نسیم پیدا کر
    ہزر چشمے تری سنگ راہ سے پھوٹیں
    خودی میں ڈوب کر ضربِ کلیم پیدا کر

    خودی کو جب نظرآتی ہے قاہری اپنی
    یہی مقام ہے کہتے ہیں جس کو سلطانی
    یہی مقام ہےمومن کی قوتوں کا عیار
    اسی مقام سے آدم ہے ظّلِ سبحانی
    یہ جبرو قہر نہیں ہے یہ عشق ومستی ہے
    کہ جبرو قہر سے ممکن نہیں جہاں بانی

  5. عبدالمناف صاحب

    اب آپ کلامِ اقبال کے ہر کوزے سے سمندر نکالئے۔

  6. محترم ظفر جعفری صاحب ! دراصل میری اوقات نہیں کہ میں اقبال جیسے مفکر کے اشعار سے ” انتخاب ” ہی کر سکوں، میرے لیے تو اقبال کا سارے کا سارا کلام ہی لاجواب ہے، پھر بھی آپ کا حکم ہے تو، اپنی پسند تو نہیں کہہ سکتا، بس جو ہاتھ آیا پیش کر رہا ہوں

    حکیمی نا مسلمانی خودی کی
    کلیمی رمزِ پنہانی خودی کی
    تجھے گُر فقر و شاہی کا بتادوں
    غریبی میں نگہبانی خودی کی

    کبھی آوارہ و بے خانماں عشق
    کبھی شاہِ شہاں نوشیرواں عشق
    کبھی میداں میں آتا ہے زرہ پوش
    کبھی عریاں و بے تیغ و سناں عشق

    کبھی تنہائی کوہ و دمن عشق
    کبھی سوز و سرور و انجمن عشق
    کبھی سرمایہء محراب و منبر
    کبھی مولا علی(ع) خیبر شکن عشق

    اس اللہ کے بندہ، اللہ کے رسول (ع) کے متوالے، اللہ کے ولی (ع) کے عاشق اور قوم کا درد رکھنے والے کو میرا سلام

  7. اجازت ہو تو . . .

    مریم اَز یک نسبت ِ عیسیٰ عزیز
    ترجمہ : بی بی مریم سلام اللہ علیہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت (والدہ ہونے) کی وجہ سے ایک فضیلت حاصل ہے(روبروئے خدا عزیز ہیں)۔

    با سہ نسبتِ حضرتِ زہراء عزیز
    ترجمہ : جب کہ بی بی زہراء سلام اللہ علیہا کو آپ کے مقابلے میں تین نسبتیں (فضیلتیں)حاصل ہیں ۔

    نورِ چشمِ رحمة اللعالمین
    ترجمہ : (پہلی نسبت آپ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھوں کا نور ہیں‘

    آں امامِ اولین و آخرین
    آپ (ص) اولین و آخرین ( آدم تا عیسیٰ ) تمام انبیاء کے امام ( پیشوا) ہیں۔

    آں بانوئے تاجدارِ ہل اتیٰ
    ترجمہ : (دوسری نسبت آپ علی علیہ السلام (جن کی شان میں سورہ ہل اتیٰ نازل ہوئی) کی زوجہ مبارکہ طاہرہ ہیں

    مُرتضیٰ مشکل کشا شیرِ خدا
    ترجمہ : جو اللہ تعالیٰ کے منتخب بندے‘ کائنات کے مشکل کشا اور شیرِخدا جیسے کئی اعلیٰ ترین عہدوں پر متمکن ہیں۔

    مادرِ آں قافلہ سالارِ عشق
    ترجمہ : (تیسری نسبت آپ عاشقانِ (خدا) صادقین کے قافلے کے سردارانِ عظیم (حسنین کریمین علیہم السلام ) کی والدہ گرامی ہیں‘

    مادرِ آں مرکزِ پرکارِ عشق
    ترجمہ : وہ (آپ کے پسران امام حسن و امام حسین) ایسے ہیں کہ عشقِ اِلہٰی کی عظیم پرکار اور بنیاد ہیں اور یہ پرکارِ عشق آپ کے گِرد گھومتی ہے۔

    رشتہِ آئینِ حق زنجیر پا ہست
    ترجمہ : (اور اے پاک بی بی) یہ اللہ کا دین میرے پاؤں کی زنجیر ہے

    فرمانِ محمد مصطفیٰ ہست
    ترجمہ : اور آپ کے بابا محمد مصطفیٰ کا فرمان پاک (رکاوٹ) ہے

    وگرنہ گردِ تربتشِ گرویدہ ایم
    ترجمہ : وگرنہ تو( ہم لوگ کعبة اللہ کی بجائے)اُن جنابہ کی لحدِ پاک کا طواف کرتے اور

    سجدہ ہا بر خاکِ اُو پاشیدہ ایم
    ترجمہ : (کعبة اللہ کی بجائے) اُس معظمہ سلام اللہ علیہا کی لحدِ پاک کی خاک پر سجدہ ریز ہوتے

  8. آخری سے پہلے شعر کے دونوں مصرعوں کا ترجمہ صیغہء مخاطَب کی بجائے صیغہء غائب میں ہونا چاہیے تھا
    معذرت

  9. میں نے یہ بلاگ بڑے عزم کے ساتھ شروع کیا تھا۔ لیکن سارے بہن بھائ خاموش بیٹھے ہوئے ہیں۔۔ یہ علمی بحث کیلئے نادر موقع ہے۔ علامہ اقبال صرف شاعر ہی نہیں تھے۔ یہ ایک عالم، فلسفی، مفکر، مبلغ، حکیم، رہبر،پیغامبر بھی تھے۔ ان کا مقام بہت بلند ہے۔ عرشی، عابدہ، نگہت، فاطمہ، شاہین اور ساری بہنیں کہاں ہیں، قاضی،بھٹی،کیانی، مصباح صاحبان اور دیگر احباب کہاں ہیں۔

  10. جوش ملیح آبادی کے آٹھ معنوی اساتذہ میں اقبال بھی ہیں۔ باقی سات حافظ، نظیری، خیّام، انیس، غالب، نظیر اکبرابادی اور ٹیگور ہیں۔

    جوش نے فلسفہء خودی پر یوں طپع آزمائ کی ہے۔

    زندگی کے ابتدائ دور میں تو کم سے کم
    ہربشر کو عرش تک پرواز کرنا چاہئے
    اور بال وپر اگر جنبش میں آجائیں تو پھر
    عرش سے پرواز کا آغاز کرنا چاہئے

  11. جب عشق سکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی
    کھلتے ہیں غلاموں پر اسرارِ شہنشاہی

    اے طائرِ لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
    جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

    دارا و سکندر سے وہ مردِ فقیر اولٰی
    ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللٰہی (ع)

    آئینِ جوانمردی حق گوئی و بیباکی
    اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

  12. خودی ہو علم سے محکم تو غیرتِ جبریل
    اگر ہو عشق سے محکم تو صورِ اسرافیل

    نظر نہیں تو مرے حلقہء سخن میں نہ بیٹھ
    کہ نکتہ ہائے خودی ہیں مثلِ تیغِ اصیل

    غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
    نہایت اس کی حسین، ابتدا ہے اسماعیل

    (علیہم السلام)

  13. واہ مناف صاحب بہت عمدہ انتخاب ہے۔اس میں اقبال کا فلسفہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔

  14. اقبال نے نطشے پر اس طرح تنقید کی ہے۔

    بس ایک نکتہء توحید سمجھ سکا نہ حکیم

    نگاہ چاہئے اسرارِ لاالہ کیلئے

  15. محترم ظفر جعفری صاحب ! آپ کی ذرہ نوازی ہے، شکریہ لیکن آپ کا سوال ابھی تک لا جواب ہے کہ

    “عرشی، عابدہ، نگہت، فاطمہ، شاہین اور ساری بہنیں کہاں ہیں؟ قاضی، بھٹی، کیانی، مصباح صاحبان اور دیگر احباب کہاں ہیں؟ “

  16. آغا صاحب اور محترم جعفری صاحب سے درخواست ہے کہ کچھ نطشے کے بارے میں بتائیے

    کون تھا ؟ کب تھا ؟ کہاں تھا ؟ کیا تھا ؟ وغیرہ

    مہربانی ہو گی

  17. نطشے جرمن فلسفی تھا۔ انٹرنیٹ پر گوگل پر جاکر نطشے پر معلومات موجود ہیں۔

  18. Friedrich Nietzsche جرمن فلسفی تھا ۔ اس نے انیسویں صدی میں فلسفہء فوق الانسان پیش کیا تھا۔ ناقدین نے اقبال کے فلسفء انسانِ کامل کو نطشے کے فلسفہء فوق الانسان کا چربہ کہا۔ اقبال نے یہ کہکر اس اعتراض کو مسترد کیا ہے کہ جب انہوں نے یہ فلسفہ پیش کیا تھا اُس وقت تک نہ تو انہوں نے نطشے کی کوئ تحریر پڑھی تھی نہ اُس کے فلسفہ کا شور اُنکے کانوں تک پہنچا تھا۔ نطشے کی ولادت 1844 اور وفات 1900 میں ہوئی۔ اس طرح اقبال عمر میں نطشے سے 29 سال چھوٹے تھے اور نطشے کے انتقال کے وقت اُنکی عمر 27 سال تھی۔ اقبال نے نطشے کے بارے میں کہا ہے کہ اُس نے نصرانیت پر جو حملہ کیا ہے یہ مذہب اس کے حملہ سے بمشکل جانبر ہو سکے گا۔ اس کی نصرانیت پر تنقید خالص اسلامی نکتہ ء نظر سے ہے اور یہ کہ حکیم نطشے کا دل مومن اور دماغ کافر تھا کیونکہ وہ خدا کا مُنکر تھا۔

    حریفِ نکتہء توحید ہو سکا نہ حکیم
    نگاہ چاہئے اسرارِ لاالہٰٰٰ کیلئے
    خد نگ سینہء گردوں ہے فکر اسکی بلند
    کمند اسکا تخیّل ہے مہر و ماہ کیلئے
    اگرچہ پاک ہے طینت میں راہی اسکی
    ترس رہی ہے مگر لذّتِ گناہ کیلئے

    آنکہ ہر طرح حرم بتخانہ سا خت
    قلب اومومن دماغ کافر است

  19. مجھے تلاش کے باوجود نطشے کا فلسفہء فوق الانسان نہیں مل سکا۔ لیکن تنقید اور تبصروں سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ نطشے اور اقبال کے فلسفوں میں مماثلت ہے۔ لیکن نطشے کے مطابق خدا مرچکا ہے اور کائنات کا تصرف (خودی) انسان کا کام ہے۔ جبکہ اقبال کے مطابق خدا نے انسان کو کائنات کے تصرف کیلئے بنایا ہے۔ اور اقبال نے مردِ مومن کیلئے کائنات کی تسخیر کو تسخیرِ نفس اور عبادت کے تابع کردیا ہے اور یہ کہ یہ سب ہونے کے باوجود انسان انسان ہے اور اُس سے پھر بھی غلطیاں ہوتی ہیں۔ اس لئے انسانِ کامل ہونے کیلئے خودی، عشق اور عبادت کے علاوہ نیابت بھی ضروری ہے۔ نطشے نے ابنے آپ کو عقائد سے آزاد رکھا ہے ۔جبکہ اقبال نے خود کو عقیدہ کے تابع رکھا ہے۔

  20. یہ مال و دولتِ دنیا ، یہ رشتہ وہ پیوند
    بتانِ وہم و گماں ! لا اِلہٰ اِلا اللہ

    میر ا خیال ہے کہ اقبال اپنی موت سے پہلے یہی شعر گنگناتا ہوا دنیا سے رخصت ہوگیا ہوگا.
    ……..
    ہم سب اس شعر کو اپنے ذہن میں محفوظ رکھیں تو ہمارے آخری لمحات بھی آسان ہوسکتے ہیں .

    “یہ مال و دولتِ دنیا یہ رشتہ و پیوند
    بتانِ وہم و گماں لاالہٰ الا اللہ ” .

  21. اقبال کا تصور شاہین پشتو کے خوشحال خان خٹک سے لیا ہوا تصور ہے ۔ اپ لوگ نطشے کی بجایے خوشحال خان کا مثالی انسان مطالعہ کرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *