ماڈرن ادب کی انوکھی قسم . . . . . . انگریزی ، اردو مکسچر-
انگریزی ، اردو مکس کرنے کا ایک ایسا رواج چل نکلا ہے کہ ان پڑھ سے ان پڑھ آدمی بھی اس نئی ایجاد سے دوسروں پہ بازی لی جانے میں کوشاں ہے. ہر کوئی اپنی تحریر و تقریر میں دو تین زبانوں کو مکس کر کے لکھنا یا بولنا اپنی بڑائی سمجھتا ہے. یہ وائرس ادب میں بھی داخل ہو چکا ہے جس کے نمونے ہمارے ڈراموں، فلموں، ٹاک شوز وغیرہ میں بکثرت نظر آتے ہیں. یہ روش آہستہ آہستہ شاعری میں بھی سرایت کر رہی ہے.
ذیل میں ایک ایسی نظم ہے جو ایک ولائیتی بابو اور ایک کسان کا پنجابی-انگریزی مکس مکالمہ ہے. یہ ولائیتی بابو اپنے آبائی ملک اپنے گائوں چھٹیاں گذارنے جاتا ہے. صبح کے وقت سیر کرتا کرتا کھیتوں کی طرف نکل جاتا ہے جہاں اسے گنے کے کھیت نظر آتے ہیں. وۃ کچھ گنے توڑلیتا ہے. اتنے میں کھیت کا مالک (کسان) ادھر آ نکلتا ہے. اب گنے توڑنے پہ دونوں کے درمیان جو مکالمہ ہوتا ہے اسے ولائیتی بابو ماڈرن شاعری یعنی پنجابی انگریزی مکس (کیونکہ وہ صرف یہی دونوں زبانیں بول سکتا ہے) میں بیان کرتا ہے.
اپیل!
شاعر حضرات اس بے تُُکی نظم کو ignore کر دیں جبکہ قارئین سے اس ہلکی پھلکی تحریرکو صرف اور صرف مزاح لیتے ہوئے مزید اضافے کی درخواست ہے.شکریہ.
I am نے eat کیتے دو چار گنے
farmer نے آ کے پُچھیا why have you پنـھے ؟
I am نے answer دتا oh foolish کسان
دو چار گنے پچھے what is your نقصان؟
دسـن لگا مینوں او listen oh انسان
ایس گنے دی شوگر نوں منگدا پاکستان
this is ساڈا ایس ملک تے احسان
مر جائو بھُکے سارے جے کدی ہوون نہ کسان
سُن کے I said listen oh کسان
I do love you تُُوں ماریں ملک تے جان
But, the sugar جنھی بندی آ تیرے پاکستان
او تے ساری ہوندی آ سمگل ہندوستان
after listening میری گل ہویا پشیمان
کہیندا as many as you can کھا لے میری جان
تیرے کھان نال میرا nothing اے نقصان
سُن کے I said thanks to کسان
then I am نے eat کیتے بے شمار گنے
he didn’t mind it when I am نے پنھے

سلام عرض ھے سبکو
کافی عرصے بعد آنے کا اتفاق ھوا
یہ بلاگ پڑھ کے مزہ آ گیا
جاوید اقبال کیانی بھائی ! اس کسان کی انگریزی واقعی قابلِ رشک ہے
ٹالی ہیٹھ نشستہ بودم
اُتوں اِٹ گِردی اے
if I head پرے نہ کردم
سِدھا سر تے پیندی اے
جاوید + اقبال+ کیانی کیوں جناب شاعر حضرات اس کو کیوں اگنور کریں۔ہاں یوں کہیں کہ بڑے بڑے بلکہ دہی بڑے شاعر اسکو اگنور کر دیں وہ بھی اگر وہ چاہیں۔ بس اللہ کے لیئے اسکو عروض کے ترازو میں تولنے نہ بیٹھ جائیں۔
اس کو پہلی نظر میں دیکھ کر تو لگ رہا ہے کہ غزل یا نظم لکھنا آسان ہے اور یہ صنف بہت مشکل ہے۔ذرا سوچ سمجھ کے بھڑوں کےاس چھتے میں ہاتھ ڈالنا ہو گا۔
talk talk کرتے کرتے راتاں بیت گئیاں
ہار گئے نے boysسارے کُڑیاں جیت گیاں
slow slowاُس نے میرا نام لیا دل میں
پھر بھی I am sure کوئی سنتا تو ہو گا
hand پکڑ کر تم نے میرا رکھا تھاwhen سینے پر
اُس لمحے سے till this moment ہاتھ نہیں ہے پاس مرے
محترمہ سیدہ ثناء فاطمہ صاحبہ،
خوش آمدید، مجھے پتہ تھا آپ آنے والی ہیں تبھی تو یہ مسکراہٹوں بھری محفل سجائی آپ کی آمد کی خوشی میں. اب جب آہی گئی ہیں تو جانے کا نام مت لیجئے گا، خدا کے لئے. آپ کی داد کا شکریہ.
محترم عبدالمناف صاحب،
جناب یہ کسان کی نہیں ولائیتی بابو کی آپ بیتی اسکی زبانی ہے. آپ نے بھی پنجابی ، فارسی، انگریزی کا صحیح مرکب تیار کیا ہے لیکن تھوڑا ہے، کچھ اور ہو جائے بھیا….آپ کا بہت شکریہ.
جناب صفدر ہمدانی صاحب،
مرشد، خدا کی قسم، آپ بھی ہر فن مولا اور بڑی لاجواب شئے ہیں !
اگر سبھی نے تھوڑی تھوڑی طبع آزمائی کی تو ایک بڑی ہی نرالی اور وکھری ٹائپ کی، ’نو لکھی‘، ڈش تیار ہوگی آخر میں.
وقت دینے اور اپنا رنگ بھرنے کا بے حد شکریہ.
محترم کیانی صاحب آپ نے دعوت دی ہے تو آپ کے دستر خوان پر ہم بھی ایک ڈش کے ساتھ حاضر ہیں۔
صفدر ہمدانی صاحب اور مناف صاحب کی تخلیقی کاوشوں نے ہمت بندھائی۔اس صنفِ سخن میں کچھ کہنے کا تجربہ نہیں ہے البتہ
برسوں پہلے کچھ ایسے اشعار ایک دوست سے سنے تھے اب بھول بھال گئے تھے لیکن آپ کی انوکھی ڈش دیکھ کر یاد آ گئے
انہیں کی تھوڑی بہت کتر بیونت کر کے کچھ اشعار کا اضافہ کر دیا ہے۔
اس میدان میں نو وارد ہوں در گزر فرمائیے گا کہتے ہیں کہ غربا میں سفید پوشی ایک چیز ہوتی ہے اور شرفا میں چشم پوشی بھی ایک چیز ہوتی ہے
کھٹ میٹھی غزل
اُس کے ساتھ محبت کا کوئی ’’ گِو اینڈ ٹیک ‘‘(لین دین) نہیں ہو سکدا
دل دا ڈالر سُچا میرا اس کی’’ پینی‘‘ کھوٹی ہے
میرے سارے کرتے اُوپر ’’ بلڈ ‘‘ کے اتھرو ڈھلے تھے
اس نی سمجھیا میری ’’نیک ‘‘ (گردن) میں پُھلاں والی کوٹی ہے
میری سِدھی گَل وی ان کو پٹھی ہمیشہ لگدی ہے
عقل ہمارے زرداروں کی گینڈے ورگی موٹی ہے
میں کیا بولوں زر داری جی اس جسٹس کے بارے میں
میرے تھال میں لماااااااااا شورہ تیرے تھال میں بوٹی ہے
خوف کے مارے ویک اینڈ پر ہم گھر میں دبکے بیٹھے ہیں
میں تے بابا دونویں کلّے ،چور کے ہتھ میں سوٹی ہے
لنگوٹی اور چور کے قصے پچھلے دور کی باتاں ہیں
چور ہیں اب تو سوٹڈ بوٹڈ،نیکوں پاس لنگوٹی ہے
بھید نہ عرشی جان سکے ہم دنیا کی دو رنگی کا
ایک کے سر پر بال نہ کوئی ایک کی لمی چوٹی ہے
یہ مشہور تراجم تو آپ نے سنے ہوں گے پھر بھی قندِ مکرر کے طور پر دوبارہ حاضر ہیں
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی نو جواں کیسے کیسے
The sky has changed the color how how
The earth has eaten the young how how
تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا
The news was hot that the pieces of Ghalib will fly
We also went ,but there was no show
عرشی صاحبہ۔ بہت خوب۔ لیجئے انسان کتنا بھی باخبر ہو دراصل بے خبر ہی ہوتا ہے۔ ہمیں آپکے فن تخلیق کے اس پہلو کا تو علم ہی نہیں تھا۔ بھائی تھری ان ون یعنی جاوید + اقبال+ کیانی کا شکریہ انکی بدولت اس رخ سے بھی شناسائی ہو گئی۔
آپ کے اس فن پہ عرشی all will say واہ واہ
poetry کی صنف یہ جیسے fragrance اور صبا
اسلام و علیکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آغا جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ھاں جی۔۔“ اردو ھماری زبان“ آ سا ن سی با ت کروں گی ا پنی ز با ن کا ٹ کے پھینک سکتے ھو تو قو می زبا ن کو بھی بھلا دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر با ت ھو گی ۔۔۔۔۔۔۔اللھ حافظ آ غا جی
خوش آمدید سارہ نور بلکہ سارے کا سارا نور.لو آپکا تو کہنا تھا کہ اردو ٹائپ بہت مشکل ہے اور میں نے اپنے دعوے کی لاج کے لیئے اللہ لعالیٰ سے مدد مانگی تھی سو اس نے اس فقیر کی لاج رکھ لی. مجھے اسقدر خوشی ہے کہ آپ نے اردو ٹائپ کی ہے اور 100% درست ٹائپ کی ہے. مجھے نہیں لگتا کہ یہ آپ نے پہلی بار ٹائپ کی ہے.
عالمی اخبار بلاگ کے سب احباب کی طرف میں آپکو ”جی آیاں نوں” بھی کہتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ پہلے تو مختلف موضوعات پر لکھے بلاگوں میں آپ اپنی سوچ،خیال اور فکر دوسرے احباب تک پہنچائیں گی اور پھر جلد ہی خود بھی اپنا بلاگ لکھیں گی.
یہ عالمی اخبار کا بلاگ دراصل ایک مختصر سا خاندان ہے جس میں دنیا کے پر کونے سے ایک مثال موجود ہے اور یہ سب لوگ ایک دوسرے کا ایسے خیال کرتے ہیں کہ میں کیا کہوں،آپ خود ہی دیکھ لیں گی.
سلامت رہیں اور اب مستقل لکھتی رہیں.
محترمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ،
جس انداز سے اس بلاگ میں آکر آپ نے اس ناچیز کی عزت افزائی کی ، ناقابل بیان ہے.
آپ آئیں جو میری محفل میں
میں سوچوں ’وٹ اے ونڈر‘
بجیں شہنایئاں کانوں میں
من گونجا جیسے ’تھنڈر‘
نچاں خوشی سے پاگل میں
کدی چھت کے اوپر اور کبھی ’شیڈ‘ کے ’انڈر‘
ایہہ پگلی سوچاں کتھے جا اڑیاں
میں ’ہینڈز اپ‘ ہوا ’سرنڈر‘
اور جتنی مزیدار ڈش آپ نے (اس ون ڈش پارٹی میں) پیش کی وہ . . .. . .
وہ ڈش تھی وکھری ٹائپ کی
’ڈیمانڈ‘ ہے کچھ ’مور‘ کی
کھان نوں آگئے بے شمار
لوڑ پئے گئی ہور کی
تھی یہ بڑی ہی ’ٹیسٹ‘ کی . .. . . .. . . . .( taste )
ہوئی ذرا نہ ’ویسٹ‘ بھی. .. … . . .. .. .( waste )
کوکنگ‘ تو آپ کی ’بیسٹ‘ ہے . .. . . . . ( Best )
بس تھوڑی اور کی ’ریکویسٹ‘ ہے .. . . . . . . . (request )
آپ کی ذرہ نوازی کا پھر سے بہت بہت شکریہ.
محترمہ سارہ نور صاحبہ،
اس بلاگ اور عالمی اخبار کی فیملی میں خوش آمدید. بڑے بھاگوں کی بات ہے جو میرے بلاگ میں دو نئے مہمان، آپ اور (. . . شام کو واپس لوٹنے والیں) محترمہ سیدہ ثناء فاطمہ تشریف لائیں.
گو آپ مخاطب تو اپنے آغا جی سے ہیں، نجانے مجھے ایسے لگا جیسے آپ کے لبوں پہ کوئی شکوہ ہو. ’’ا پنی ز با ن کا ٹ کے پھینک سکتے ھو تو قو می زبا ن کو بھی بھلا دو ‘‘
بہنا، قومی زبان کو کوئی نہیں بھلا رہا بس زبان کا ذائقہ تبدیل کرنے کی خاطر ایک مختلف موضوع نئے انداز میں چھیڑ رکھا ہے.
جاوید اقبال کیانی صاحب
السلام علیکم
آپ کی میل ملی اچھا لگا۔
شکریہ کے تکلف کی تو کوئی ضرورت نہیں تھی(گو کہ آپ کے خط سے صاف لگ رہا ہے
کہ آپ نے تکلف نہیں کیا بلکہ واقعی میں آپ کو خواہش پیدا ہوئی تو آپ نے یہ ای میل لکھی)۔
عالمی اخبار کے لوگوں کا آپس میں ایک پیار و محبت کا رشتہ ہے،اور اسی رشتے کی وجہ سے ایک دوسرے سے نا آشنا ہوتے ہوئے بھی بےتکلف ہو جاتے ہیں۔
میرے خیال میں یہ بے تکلفی ہی ان بلاگوں کا حسن ہے۔
تکلف کی ضرورت کیا ،جہاں سچی محبت ہو
حلاوت شیرِ مادر میں نہیں ہوتی ہے شکر سے
ہر بلاگ دل میں تحریک پیدا نہیں کرتا۔اور اگر کہنے کو کچھ نہ ہو تو،
محض لکھنے کے لئے لکھنے پر طبیعت مائل نہیں ہوتی۔
جس کی وجہ سے بعض اوقات بعض دلوں میں شکوے بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔
کچھ نہ کہنے کو ہو تو کیا لکھّیں
ہم سے اب خوش خطی نہیں ہوتی
سارے رشتے ادھڑتے جاتے ہیں
ہم سے بخیہ گری نہیں ہوتی
کوئی چیز انسپائر کرے تو لکھنے سے رہا بھی نہیں جاتا۔
آپ کا بلاگ بہت سے سنجیدہ اور خشک لوگوں کو شائد بچگانہ سا لگے لیکن ہر زندہ انسان کے اندر ایک معصوم سا شرارتی بچہ بھی چھپا ہوا ہوتا ہے۔
جو ایسی شرارتی چیزوں سے لطف اندوز ہوتا ہے اور ان پر کھل کر ہنس سکتا ہے۔
اس معصوم شرارتی بچے کو بھی کبھی ہنسنے کھیلنے اور شرارتیں کرنے کا موقع دینا چاہیے۔۔
بلاگ میں آپ کے تازہ اشعار پڑھ کر بہت لطف آیا۔بلکہ بے اختیار ہنسی آئی
ایک لنک آپ کی مزاح پسند طبیعت کی نذر ہے۔
http://www.youtube.com/watch?v=brtKA1wKjNI&feature=related
میرا تو خیال تھا کہ ون ڈش ہے اور میں نے اپنے حصے کی ڈش پیش کر دی ہے۔لیکن آپ مزید کا تقاضا کر رہے ہیں۔
اچھا اللہ نے چاہا تو کچھ لکھا جائے گا
اسلام و علیکم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکرً حبیبی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ سب کی محبتوں کی مشکورھوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاوید کیا نی صا حب آپ کو میر ی پا ت طنز لگی نوازش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ (پقول آپ کے طنز )کسی کے لیے ضروری تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ ھم ھی میں سے کچھ لوگ فرنگیوں کی ذ با ن کی اھمیت میں ز مین آسمان کے قلا بے ملا تے نھیں تھکتے (اب پنجا ب بو رڑ آف ا یجو کیشن کا نیا لطیفہ (نصاب) ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔آپ سب کا کام قابلِ ستائش ھے اور یھ میرے لیے فخر کی بات ھو گی کھ میںآپ لوگوں کے ساتھ تبصروں میں شامل ھوں۔۔۔۔۔۔دعاؤں میں یا د رکھیے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یار زنرہ صحبت باقی
شامِ ھجراں غم شناسی کیا کرے
روح تک اترے ہیں کانٹے کیا کرے
آرزو ہے وصل ہو پر طور بھی
رب وہی ہے موسیٰ پر یہ کیا کرے
سارے کا سارا نور جی. آپ نے پنجا ب بو رڑ آف ا یجو کیشن کا لطیفہ تو لکھا ہی نہیں. لیکن کوئی فرق نہیں پڑتا. پنجاب بورڈ آف ایجوکیشن تو خود ہی ایک لطیفہ ہے
محترمہ سارہ نور صاحبہ،
میں آپ اور ’کسی اور کی‘ بحث کے درمیان خواہ مخواہ آجاتا ہوں لیکں جب بات سب کی دلچسپی کی ہو تو بیچ میں ٹانگ اڑانے میں ہرج بھی نہیں، امید ہے آپ در گذر فرمائیں گی.
’’ہم ھی میں سے کچھ لوگ فرنگیوں کی ذ با ن کی اھمیت میں ز مین آسمان کے قلا بے ملا تے نھیں تھکتے‘‘
میں آپ کے اس ارشاد کو زیر بحث لاتے ہوئے کہوں گا کہ کچھ کڑوی سچائیوں سے مونہہ نہیں پھیرا جا سکتا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں رہنے کے لئے دنیا کے ساتھ ہی چلنا پڑتا ہے. اپنی مادری زبان کی اہمیت سے قطعی انکار نہیں لیکن ہر میدان میں فرنگیوں کے محتاج ہوتے ہوئے ان کی زبان کا جاننا بہت ضروری ہے. یہی سوچ تھی مرحوم سر سید احمد خان کی (غیر منقسم انڈیا میں) جنھوں نے کفر جیسے فتووں کی پرواہ کئے بغیر علی گڑھ یونیورسٹی کی بنیاد رکھ کر مسلمانوں کو اپنی مادری زبان اور دینی علوم کے علاوہ انگریزی سیکھنے پہ راغب کیا.اور ان کی یہ سوچ قطعی غلط نہ تھی بلکہ وقت نے ثابت کیا کہ وہی صحیح سوچ تھی. مشکور.
محترمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ،
لنک بھیجنے کا بہت شکریہ. میں یہ ’ویہلا بابا‘ اور اسی مزاح نگار کی ایک اور پیشکش ’مینوں لوڑ پئے گئی پیران دی‘ پہلے ہی دیکھ چکا ہوں لیکن ان حضرت کے نام سے ناواقف ہوں جو کہ ’یو ٹیوب‘ پہ بھی نہیں ہے. اگر آپ جانتی ہیں تو بتا دیں، مہربانی ہوگی، والسلام.
اسلا م و علیکم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محترم ا سا تذ ہ کرام آپ سے اختلا ف کی نکر ممکن ھے اِس ضمن میں صرف چند فقرات۔۔۔۔۔۔۔۔کفر کر تے ھیں ھم ۔۔۔۔موت سے بھی مگر ھاں ڈرتے ھیں ھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔آرزو ،وحشتیں،قربتیں،فاصلے۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے اندر کو بھی کیا سمجھتے ھیں ھم۔؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔کفر کرتے ھیں ھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے اسلاف کی قربانیوں کا ھم بھرتے ھیں دم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا انھی پہ عمل کر تے ھیں ھم؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کفر کر تے ھیں ھم۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گستا خی معا ف یہ میرا نقطہ نظر نھی پر کچھ چیزوں کے لیے “اجتما یت“ کی پیر وی ضروری ھوتی ھے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ قومیں ترقی نھیں کر سکتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللھ نی امان ۔۔۔۔۔۔
سارے کا سارا نور۔مسلمانوں میں اگر واقعی اجتماعی جبلت کا فقدان ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ ان کے معاشروں میں اپنی صلاحیتوں کے عرفان کا فقدان، بلکہ ان امتیازی صلاحیتوں کا انکار بھی ہے.
اندھوں کےشھرمیں آئینوں کا بیوپاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری حسرتِ پُرملال۔۔۔۔۔۔۔۔کبھی آ دیکھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حسنَ نظر کیسی سزا ھے۔۔۔۔چشم کا نور بلا ے جان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیسا یھ طور ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اند ھو ں کو ھے شو قِ جنوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حرد بھی ھے پر،،،،آس بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کبھی آ کے دیکھ ملالِ زیست ۔۔۔۔۔۔۔۔حُسن کتنا بے پرواہ ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو نظر سے دیکھ تو ملے گا غم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو روح سے دیکھ تو سوال ھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کبھی آ کے غم ھوںمعتبر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صرف مجھ کو اَس کا ھی غم کیوں ۔؟؟؟؟؟؟؟مجھے آگھی کا عذاب کیوں ؟؟؟؟؟ کبھی آ کے دیکھ ۔،یھاں حسن و ذوق ۔۔۔۔۔۔۔۔سبھی آئینو ں میں جما ل ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر آنکھ میں نھیں تشنگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یھاں،،“بے نظر“ ھے “جمال“ سب۔۔۔
سارہ نور بہت خوب۔۔۔اندھوں کےشھرمیں آئینوں کا بیوپاری۔۔۔بس ایک درخواست کہ جب بھی کوئی ایسی تحریر لکھیں تو کس طرح یہ بھی بتا دیا کریں کہ یہ تخلیق آپ کی اپنی ہے یا کسی اور کی۔ اس طرح سے دیگر تبصرہ نگاروں کو آسانی رہتی ہے بات کرنے میں۔
سارہ نور آپ کو بلاگ فیملی میں خوش آمدید ۔۔ جی آیاں نوں ۔۔۔
اسلا م و علیکم ۔۔۔۔۔۔۔آ غا جی تھی تو یھ مجھ نا چیز کی ھی کا و ش ۔۔۔۔۔۔لیکن بتا یا اِس لیے نھیں کھ میں تنقید سے بچنا چا ھتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھرحال کا ن پکڑے حاضر ھیں جو حکم “ا ستا د و مر شد“ ؟ (نیک تمناؤں کے سا تھ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سا ر ہ نو ر
نگھت نسیم صا حبھ آپ سب کی محبتو ں کی مشکور ھوں ،،،،،،،،سدا سلامت ر ھیے ۔۔۔۔اللھ کریم۔
سارہ بہت ہی پیاری کوشش ہے ۔۔ بس آج مجھ سے ایک وعدہ کرو کہ اپنی کاوش کیسی بھی ہو کبھی بھی نہ چھپانا ۔۔۔ بھلا اپنے نور کو بھی چھپاتے ہیں کبھی ۔۔۔ جیتی رہو ۔۔ اللہ پاک تمہارے قلم کو اور بھی پرنور کرے ۔۔ آمین
جاوید بھائی اور عرشی آپا مزہ آگیا ۔۔۔ لیکن یہ بتائیں کہ ماڈرن شاعر کون ثابت ہوا ۔۔۔ مجھے مت بھولئے گا ۔۔ جناب میں جیوری میں ہوں ۔۔۔
نگہت جی ماڈرن شاعر تو کیانی صاحب ہی ہیں ہماری کیا مجال جو ان کی راجدھانی میں قدم رکھیں
ہم خالی ہاتھ ،وہ مسلح ہم نے تو ہینڈز اپ کر دئے ہیں۔کیونکہ یہ ہمارا میدان نہیں ہے۔
کہتے ہیں جس کا کام اسی کو ساجھے ،غیر کرے تو ٹھینگا بجے
ہم تو کیانی صاحب کی کسی تازہ ڈش کے انتظار میں بھوک رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں۔انہیں اتنا انتظار نہیں کروانا چاہیے کہ بھوکوں کا دم ہی نکل جائے
محترمہ ڈاکٹرنگھت نسیم صاحبہ،
بہار تو کب کی شروع ہوچکی لیکن ہمارے بلاگ میں بہار اب آئی جب آپ اپنی جنت کی شب و روز کی خدمت، ان کی دعائوں کے خزانے اور رب العزت کی خوشنودی سمیٹے واپس آئیں. اللہ اماں حضور کو مکمل صحت یابی عطا فرمائے اور ان کا سایہ تا دیر آپ کے سروں پہ قائم رکھے، آمین.
ماڈرن شاعر کا مقابلہ، بلکہ ون ڈش پارٹی، ابھی جاری ہے. مزید فن پاروں کا انتظار ہے جو شاید آپ کے آنے کے منتظر ہوں کہ مل کر ایک ’ نولکھی ڈش‘ تیار کر سکیں اور عالمی اخبار کی ویب سائیٹ پہ آئیندہ محظوظ ہونے کو محفوظ کردیں.جو سب کے تعاون کے بغیر ناممکن ہے، والسلام.
محترمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ،
بڑے لوگ اپنے بڑے پن سے ہی پہچانے جاتے ہیں، جیسے کہ آپ. اس ناچیز کو اتنی اہمیت دینے کا بے حساب شکریہ.
میں آنکھیں پھاڑے نئے آنے والوں کی راہ دیکھ رہا ہوں کہ وہ بھی اپنا حصہ ڈالیں. فی الحال آپ کا حکم سر آنکھوں پہ….
جب میں یہاں آسٹن یونیورسٹی میں (1980-1977) زیر تعلیم تھا، تب ٹوری پارٹی کی حکومت تھی اور مارگریٹ تھیچر وزیر اعظم. اوورسیز سٹوڈنٹس کی فیسیں اچانک بڑھا دی گئیں جو کہ بس سے بہت باہر ہوگئیں.ان دنوں رفییع مرحوم کا ایک گانا چلتا تھا ’’ سنو سنو مس . . .. . … . میرے دل کا میٹر (matter) جی‘‘. اس پہ میں نے اُس وقت ایک پیروڈی لکھی تھی (جو اپنی پاکستان سٹوڈنٹس سوسائیٹی کے ایک فنکشن میں سنائی، بلکہ گائی، تھی اور بہت ہی پسند کی گئی تھی) جو پوری یاد نہیں آرہی (کاش پتہ ہوتا کبھی مجھے بھی اُلٹا سیدھا لکھ کربڑے لوگوں کی چوکھٹ پہ جگہہ مل جائے گی تو سنبھال کر رکھتا) جو آپ کے حکم کی تعمیل میں reproduce کرنے کی کوشش کرتا ہوں:
سنو سنو بی تھیچھر جی
میرے دل کا matter جی
فیس کیوں اتنی مانگتی ہو
بات نہیں یہ better جی
Better , B.E.T.T.E.R
امیگریشن روک رہی ہو Fifty کی رفتار سے
قیمتیں قابو سے باہر ٹوری silly سرکار کے
اک student کا تم پڑھتی جائو
دل کا open letter جی
Letter , L.E.T.T.E.R
معذرت، ساری یاد نہیں.
یہ شاعری نہیں بلکہ محض ایک سٹوڈنٹ (یا ایک شرارتی بچے) کی سوچ یا اس کے دل کا غبار تھا، جو آج کے ماڈرن شاعر میں ، محض حکم عدولی سے بچتے ہوئے، زبردستی فِٹ کر دی، والسلام.
محترم جاوید اقبال کیانی صاحب
آپ تو آنکھیں بچھائے آنے والوں کی راہ تک رہے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ یہ بھاری بوجھ جو آپ نے دوسروں کے دلوں کو ہلکا کرنے کے لئے اٹھایا ہے،
آپ کو اکیلے ہی اٹھانا پڑے گا۔مجھ ناچیز کا تجربہ تو یہی کہتا ہے لیکن ہمت نہیں ہارنی چاہیے اور امید نہیں توڑنی چاہیے کہ آخر دنیا میں معجزے بھی رونما ہوتے ہیں
آپ کے زمانہ ِ طالب علمی کی پیروڈی پڑھی۔خوب دل کا غبار نکالا تھا آپ نے۔اس پیروڈی کو پڑھ کر اندازہ ہوا کہ ماڈرن شاعری شروع ہی سے آپ کا خاص فیلڈ تھا۔
بہر حال ابھی تو ہمیں بی بی کی وﷺصیت کا انتظار ہے۔
عرشی ملک
محترمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ،
آپ کی حوصلہ افزائی کا پھر سے شکریہ. جس بھٹی سے ہو کر نکلا ہوں وہاں ہمت ہارنے والا کوئی عنصر نہیں ہوتا. تلخ یادوں کے علاوہ زندگی گذارنے کے قیمتی ڈھنگ بھی سیکھے ہیں اُس کٹھن دور میں.
معجزوں کا ہی انتظار ہے ورنہ دستر خوان تو عبدالمناف صاحب، ہمدانی صاحب اور آپ کی ڈشوں کے بعد سمیٹے جانے کا ہی منتظر ہے.
دل و دماغ کی جنگ ’وصیت بی بی شہید کی‘ تاخیر کی بڑی وجہ ہے. زرداری پہ تو جو کہہ دو فِٹ بیٹھتا ہے مگر بی بی ایک تو عورت اور وہ بھی ’دختر مشرق‘ پھر ان کی ایک گہری سازش کے تحت ناگہانی موت اور پھر دنیا سے چلے جانے کے بعد وہ محض ایک پارٹی لیڈر نہیں بلکہ ملکی لیڈر کے طور پہ جانی جائیں گی. لہذا ان تمام عوامل کی وجہ سے اندر کی جنگ پہ قابو نہیں رہتا جسکی وجہ سے یہ وعدہ محض ’ لارا لپــا ‘ ہی بنتا جارہا ہے. آپ سے راہنمائی لینے کی انتہائی سنجیدگی سے سوچ رہا ہوں ، اگر آپ وقت دے سکیں تو، کہ میں چاہتا ہوں یہ نظم ہر طبقے کو بخوشی قبول ہو.
ویسے بھی ایک وقت میں ایک سے زیادہ بلاگ مجھے خود اچھا نہیں لگتا کہ ، دوسرون کی حق تلفی کے علاوہ، میں اپنے بلاگ پہ پورا پہرہ دیتا ہوں. لہذا ایک سے زیادہ بلاگ شروع کر کے وقت سے مقابلہ کٹھن ہو جاتا ہے .
لیجئے ایک نیا ’لارا‘ ! بی بی کی وصیت سے پہلے میں ’ھیر وارث شاہ‘ کی پیروڈی ’ھیر زرداری‘ پیش کروں گا جو آدھی تیار ہے ، صرف ’سلائیڈز‘ بننی باقی ہیں جن کے لئے میں کسی اور کا محتاج ہوں ، جونہی وہ ’ لارا ‘ پورا ہوا میں اپنا ’لارا‘ بھی نبھا دوں گا.
آپ کے وقت دینے کا بے حد شکریہ، والسلام.