کچھہ لوگ خدا کی عبادت انعام کے لالچ میں کرتے ھیں۔۔۔
یہ تاجروں کی عبادت ھے
کچھہ لوگ خداکی عبادت خوف کی وجہ سے کرتے ھیں
یہ غلاموں کی عبادت ھے
کچھہ لوگ خدا کی عبادت خدا کا شکر بجا لانے کے لیے کرتے ھیں
یہ آزاد اور زندہ دل لوگوں کی عبادت ھے
خدا نے ذکر یعنی عبادت کو دلوں کی روشنی قرار دیا۔
عبادت باعث خوشنودی رب ھے
نما ز کے بارے میں اعلی پایہ کی مفکرہ شاعرہ محترمہ عرشی مللک کی احساس کے تاروں کو جھجھنوڑنے والی ایک پر اثر نظم
اگر رہ گئی نما ز
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
لعزش بہت بڑی ھے اگر رہ گئی نماز
پرسش بہت کڑی ھے اگر رہ گئی نما ز
لذت جو تم کو دور سے لگتی ھے رس بھری
بے حد گلی سڑھی ھے اگر رہ گئی نما ز
آسان ھے حساب نمازیں اگر در ست
سولی وھاں گڑی ھے اگر رہ گئی نما ز
رونا ھے، چیخنا ھے، پٹخنا ھے،سر وھاں
لمبی ھی گڑبڑی ھے اگر رہ گئی نما ز
بد بو سے جس کی ناک پر رکھہ لیں سبھی رومال
دنیا وہ اوجھڑی ھے اگر رہ گئی نما ز
یہ لذتیں یہ مال یہ جاہ و جلال سب
کچرے کی ایک دھڑی ھے اگر رہ گئی نما ز
دنیا کے کارزار میں تیری یہ چوکڑی
اندھے کی چوکڑی ھے اگر رہ گئی نما ز
شاپنگ کے شوقین میں تو نما زیں قضا نہ کر
دنیا میں کیوں گڑی ھے ؟ اگر رہ گئی نما ز
میچنگ کے چاؤ میں کئ گھنٹے گذر گۓ
اور ضد پہ تو اڑی ھے ، اگر رہ گئی نما ز
چھوٹی خطا نہ جان تو ترک نما ز کو
سب سے یہی بڑی ھے، اگر رہ گئی نما ز
یہ بارشوں کے لطف، یہ جھڑیاں وھاں نیہں
اشکوں کی اک جھڑی ھے اگر رہ گئی نما ز
مانا تیری کلائ پہ ھے قیمتی گھڑی
بیکار یہ گھڑی ھے اگر رہ گئی نما ز
لذات آخروی کے مقا بل پہ یہ جہاں
پل بھر کی پھلجھڑی ھے اگر رہ گئی نما ز
اب شاعری کو چھوڑ دے عرّشی نما ز پڑھ
کس شغل میں پڑی ھے ؟ اگر رہ گئی نما ز

انتہائ معذرت خواہ ھوں انتہائ احتیاط کے باوجود کمپوزنگ کرتے ھوۓ ایک شعر غلط لکھہ دیا۔۔
شاپنگ کے شوق میں تو نما زیں قضا نہ کر
دنیا میں کیوں گڑی ھے اگر ، رہ گی نما ز
محترمہ شاہین رضوی صاحبہ،
روح اور ضمیر کو جنجھوڑنے والا ’عرشی کلام ‘ پیش کرنے کا شکریہ. سارا کلام ہی ماشاء اللہ مکمل تبلیغ ہے جو ایک سچی عشقیہ نماز کی عکاسی ہے اور خصوصآ :
’’ اشکوں کی اک جھڑی ھے اگر رہ گی نما ز ‘‘
تاجروں، غلاموں اور عاشقوں کی نمازوں میں واقعی بڑا فرق ہے. میری اپنی نماز بھی تو بس ایسے ہی ہے،
میں جو سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
تیرا دل ہے تو صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں ؟
جبکہ سچی نماز تو وہی ہے جو، شاید پہلے بھی آپ ہی کے بلاگ میں لکھ چکا ہوں، مجھے بُلھے شاہ نے بتائی :
لوک بُلھے نُوں متیں دیندے ، بُلھیا جا مسیتی
مسیت گئیوں تاں کُجھ نئیں ملدا ، جو دلوں نماز نہ نیتی
بُلھے شاہ رب اندروں ملدا ، جو جائے دلوں پلیتی
اور مزید درس حضرت سلطان با ہُو دے گئے،
’’ تسوی پڑھی تے دل نہ پھریا ، کی کرنا تسوی پھڑ کے ہُو ‘‘
جزاک اللہ ارشاد عرشی صاحبہ. یہ سب آپکا ہی حصہ ہے. لیکن اسمیں اللہ کی رضا اور مولا کے حکم سے معظمہ و محترمہ شاہین رضوی بھی شامل ہو گئی ہیں اور وہ قارئین بھی جو اسے پڑھیں گے.
مولائے متقیان، باب شہر علم ،جرار،غیر فرار، یعسوب الدین.امام المتقین علی ابن ابی طالب نے فرمایا کہ ” میرے مالک.اگر میں تیری عبادت جنت کی لالچ میں کرتا ہوں تو یہ غلط،اور اگر جہنم کے خوف سے کرتا ہوں تو یہ بھی غلط. میں تو تیری عبادت اس لیئے کرتا ہوں کہ تو ہی لائق عبادت ہے”.
بےشک نماز دل کا نور ہے ۔۔۔۔ اے مالک دو جہاں ہم سب کے دلوں کو اس نور سے روشن کردے ۔۔آمین
پیاری شاہین ! تم نے نماز کے بارے میں بلاگ شروع کر کے بہت ہی اچھا کیا۔
بہت ہی حمد و ثنا ہے اس عظیم، منفرد اور ممتاز شہنشاہ کے لئے جس کے وجاہت اور شان والے دربار کے دروازے یوں تو چوبیس گھنٹے ہی ہر خاص و عام کے لئے کھلے رہتے ہیں
لیکن دن میں پانچ مرتبہ تو پکار پکار کر بلایا جاتا ہے ،منادی کی جاتی ہے کہ آو آو آ جاو تمہارا رب تمہارا منتظر ہے۔ وہ تم سے پیار کرتا ہے تم سے ملنا چاہتا ہے۔
قربان جاوں اس شہنشاہ کے جس نے دروازے کھول دئے ،پردے اٹھا دئے،کوئی مصاحب کوئی دربان درمیان میں نہیں رکھا اور انتہائی محبت سے بندوں کو بلایا۔
ذرا دنیاوی بادشاہوں کو دیکھیں جو کبھی عام آدمی کو ملنے کا وقت آسانی سے نہیں دیتے۔اور وہ کیا ان کے مصاحب اور درباری بھی جب تک رشوت یا ہدیہ وصول نہ کر لیں،کسی کو بادشاہ تک رسائی کی اجازت نہیں دیتے۔
اس بلند مرتبہ نے جس کی بادشاہی مضبوط ہے ،جسے کسی کی اعانت اور ووٹ کی حاجت نہیں،محض احسان کرتے ہوئے اپنے دربار کے دروازے ہر خاص و عام کے لئے کھول دئے ہیں۔
رسولؐ اللہ کا ارشادِ پاک ہے ’’ کہ جب انسان سجدہ کرتا ہے تو شیطان الگ ہو کر روتا ہے اور کہتا ہے ہائے افسوس اسے سجدہ کا حکم دیا گیا تو اس نے سجدہ کیا۔لہذٰا اس کے لئے جنت ہے اور مجھے سجدے کا حکم دیا گیا تو میں نے نافرمانی کی تو میرے لئے جہنم ہے‘‘۔
حضرت علی مرتضیٰ کے بارے میں ہے کہ جب نماز کا وقت ہو جاتا تو آپ پر کپکپاہٹ طاری ہو جاتی اور چہرے کا رنگ بدل جاتا۔پوچھا گیا کہ امیر المومنین آپ کو کیا ہوا فرمایا اس امانت کو اٹھانے کا وقت آگیا جسے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں زمینوں اور پہاڑوں پر پیش کیا تو وہ اس کو اٹھانے سے ڈر گئے اور انہوں نے اس امانت کو اٹھانے سے انکار کر دیا۔
۔۔۔ یہ تو ایک سمندر ہے کیا لکھا جائے اور کیا چھوڑا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے،اور ہماری ناقص ٹوٹی پھوٹی نمازوں کو قبول فرما لے آمین
شاہین ! نماز کے بارے میں تمہارے بلاگ نے دل کو بے چین سا کر دیا ہے۔ابھی لکھ کر فارغ ہوئی ہوں لیکن پھر بھی تشنگی سی ہے کچھ اور لکھنے کو جی چاہ رہا ہے۔
حدیث شریف ہے کہ’’بے شک نماز،سکون ،عاجزی، گڑگڑانے خوف و پشیمانی کا نام ہے‘‘۔
گریہ زاری چاہیے ،بس گریہ زاری چاہیے
سب پہ کھلتا ہے ترا دربار دن میں پانچ بار
جو بھی چاہے شوق سے آئے سنائے حالِ زار
گڑ گڑائے اور بہائے اشکِ خونیں بے شمار
کل سفارش کو کھڑی ہو گی یہ چشمِ اشک بار
یاں نہ چالاکی نہ کوئی ہوشیاری چاہیے
گریہ زاری چاہیے ،بس گریہ زاری چاہیے
قدر اشکوں کی اگر ہے، تو ترے دربار میں
آہ میں رنگِ اثر ہے، تو ترے دربار میں
کچھ اگر شانِ بشر ہے ،تو ترے دربار میں
مجھ سا ناقص ،معتبر ہے، تو ترے دربار میں
شان و شوکت بھول جا ،یاں خاکساری چاہیے
گریہ زاری چاہیے ،بس گریہ زاری چاہیے
قہر میں بھی مہر مخفی ہے مرے دلدار کا
اس طرح سے آزمانا کام ہے سرکار کا
منفرد ہر کام ہے اس شوخ و طرح دار کا
یہ بھی اک انداز ہے اس کم سخن کے پیار کا
اس کو پانے کے لئے اک بے قراری چاہیے
گریہ زاری چاہیے ،بس گریہ زاری چاہیے
دوڑتے ہیں تیرے رسیا تیری جانب بار بار
تیرے در پہ رو کے آ جاتی ہے ان پر کچھ بہار
بندھ گیا جو ڈور سے تیری نہیں ممکن فرار
اپنے حُسنِ بے پنہ کا مائدہ ہم پر اتار
مائدہ بھی وہ کہ جو ہر پل ہو جاری چاہیے
گریہ زاری چاہیے ،بس گریہ زاری چاہیے
دربار
عرشی ملک
چھوٹے چھوٹے شاہوں کے درباروں میں
باوردی دربان کھڑے ہیں ،پہرے ہیں
تیز عقابی نظروں والے چہرے ہیں
ہم جیسے گم ناموں کا کیا کام یہاں
لکھوانا ہی پڑتا ہے،ہر آنے جانے والے کو
عہدہ رتبہ ،اتہ ،پتہ اور نام یہاں
ہم نے جب یہ رنگ ڈھنگ دیکھا
چھوٹے چھوٹے فرعونوں کو عرشیؔ سات سلام کیے
مدت بیتی ان راہوں سے گذرے اور کلام کئے
میں نے اب اک شاہ چنا ہے
ایسا جہاں پناہ چنا ہے
چاہ سے ملتا ہے جو میرے جیسے غم کے ماروں سے
دنیا کے دھتکاروں سے ، بے چاروں سے
روز و شب اس آقا کا دربار کھلا ہے
نہ کوئی روک نہ ٹوک ،نہ پہرے دار ،کھلا ہے
ہر اک خاص و عام یہاں آ سکتا ہے
اپنے دکھڑے اپنے درد سنا سکتا ہے
اپنے زخم دکھا سکتا ہے
مرہم بھی لگوا سکتا ہے
ٹوٹے دل والے میرٹ میں ٹاپ پہ ہیں
اونچی شانوں والے کافی بعد میں ہیں
گرمی سردی ،یہ دربار کھلا رہتا ہے
برکھا ہو یا خزاں بہار، کھلا رہتا ہے
آدھی رات ہو یا دن ہو کچھ فرق نہیں
جاگتا رہتا ہے وہ یار ،کھلا رہتا ہے
دنیا کے درباروں کے بر عکس یہاں
جب چاہے فریادی آ، جا سکتا ہے
اس کے عاشق رات گئے تک اس سے باتیں کرتے ہیں
اس کی چاہ میں جیتے ہیں اور اس کے نام پہ مرتے ہیں
جب کھولیں قرآن وہ ان سے باتیں کرنے لگتا ہے
پہروں کرتا رہتا ہے، کب تھکتا ہے
سارے بندھن توڑ کے جو بھی اس چوکھٹ پر آئے گا
لُطف فقیری میں شاہی کا پائے گا
چھوٹے چھوٹے فرعونوں کے چنگل سے چھٹ جائے گا
جناب جاوید اقبال کیانی صاحب ۔ سلامت رھیں۔۔ عرشی آپا نے نماز سے متعلق یہ اشعار لکھہ کر جیسے اپنی روحانی فکر سے دور تک چراغ جلادیئۓ ھیں ھیں انکی تحریروں میں ھمیشہ کوئ نہ کوئ مقصد ۔تعمیری پیغام ضرور ھوتاھے۔ ۔۔ ابھی انکی ایک اور بہت پراثر نظم ۔۔۔“ نماز کے باطنی اسرار “ بھی آپ اسی بلاگ میں پڑھنگے،
آپ صحیح کہتے ھیں کہ کاش ھم کو زندگی میں ایک ایسی نماز میسر آجاۓ تو دل و دماغ کے ساتھہ ھماری دنیا کا حال بدل جاۓ
بابا بھلے شاہ کے کلام کا کیا کہنا
لوک بُلھے نُوں متیں دیندے ، بُلھیا جا مسیتی
مسیت گئیوں تاں کُجھ نئیں ملدا ، جو دلوں نماز نہ نیتی
بُلھے شاہ رب اندروں ملدا ، جو جائے دلوں پلیتی
محترمہ شاہین رضوی صاحبہ و محترمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ،
یہ ’عرشی کلام‘ دراصل سارے کا سارا معرفت کا کلام ہے، اگر کوئی سمجھے تو.
نیکی کا درس دینا (لکھنا) اور اسے آگے پھیلانا دونوں ہی کار ثواب ہیں. رب العزت آپ دونوں کو اس کا پورا پورا اجر اور ہم سب کو عمل کی توفیق دے، آمین، ثم آمین.
محترم صفدررضا ھمدانی صاحب۔ سلامت رھیں اجرکم اللہ ، میں نے عرشی آپا کے اس بلاگ کا آغاز ھی مولاۓ کائنات ۔خطیب منبر سلونی ۔کے کلام سے کیا تھا جن کی نماز میں انہماک کا یہ عالم تھا کہ پیروں سے تیر نکالا گیا اور استاد روح الامین کو مطلق خبر نہ ھوئ ۔ اذان بہشت بریں کا نغمہ جاں فزا اور نماز جنت کی کنجی ھے ،دین کا سب سے اھم ترین رکن ھے ،ھمارا رب تو بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ھے وہ تو ھماری شہہ رگ سے بھی قریب تر ھے جب ھمارامنعم حقیقی ،،احساس تشکر،اور کامل بندگی کیساتھہ روتے ھوۓ کوئ نماز ادا کرنے کی توفیق ادا کرتا ھے وھی عبادت دل کو نورانیت ، قلب کو پاکیزگی ۔عطا کرتی ھے عبادت گذار کی آنکھوں سے نکلے وہ آنسو لعل گراں بن جاتے ھیں دن رات اسکی تسبح کرنے والے اسکی عبادت میں مصروف رھنے والے فرشتے بھی ایسی عبادت پر فخر کرتے ھیں ۔
عرشی آپا اللہ پاک آپ کو سلامت رکھے۔ ایسی تحریریں تو وہ جو کائنات کا شہنشاہ ھے جس کو توفیق عطا کرتا ھے صرف وھی لکھہ سکتاھے۔۔ اللہ پاک کو اس عمل صالحہ کا اجر عطا فرماۓ ۔۔میں بھی آپکی اس پر اثر تحریر کو کمپوز کرتے ھوۓ بہت بے چین ھوئ تھی گناھوں پر ندامت ۔ پشمانی تاسف ، استغفار۔گناھان کبیرہ و صغیرہ کی توبہ۔ مالک دوجہاں سے عفو و معافی
گریہ زاری چاہیے ،بس گریہ زاری چاہیے
سب پہ کھلتا ہے ترا دربار دن میں پانچ بار
جو بھی چاہے شوق سے آئے سنائے حالِ زار
گڑ گڑائے اور بہائے اشکِ خونیں بے شمار
کل سفارش کو کھڑی ہو گی یہ چشمِ اشک بار
یاں نہ چالاکی نہ کوئی ہوشیاری چاہیے
گریہ زاری چاہیے ،بس گریہ زاری چاہیے
اللہ پاک دنیا کی ھر خوشی سے آپ کا دامن بھر دے۔ دارین میں اجر عطا فرماۓ
اس بلاگ کو پڑھنے کا اتنا لطف آیا کہ نعتوں والے بلاگ سے بھی زیادہ
میں آغا ہمدانی صاحب، بہن شاہین رضوی صاحبہ، بہن نگہت صاحبہ، اور بھائی جاوہد اقبال کیانی صاحب کا تو، ان کی تحریروں کے لیے، شکر گزار ہوں ہی لیکن ۔ ۔ ۔
بہن عرشی صاحبہ، جن کا قلم کسی جراح کے نشتر سے زیادہ شفا بخش و فائدہ مند اور کسی پھول سے زیادہ نرم و دل آویز ہے، کا شکریہ ادا نہیں کرسکتا، کیوں کہ جو دولت آپ لٹاتی ہیں اس کا نعم البدل کچھ نہیں، ایسے سخی کو شکریہ نہیں کہا جاتا بلکہ اس سے مزید طلب کیا جاتا ہے، ہمیں آپ کے مزید کلام کی طلب ہے اور ساتھ ساتھ دُعاؤں کی بھی، اپنی نمازوں کی دُعاؤں میں مجھ گنہگار کو مت بھولئیے۔
اجرکم من اللہ
ماشااللہ اپ نے تو ایمان تازہ کر دیا پیاری شاھین جی جب میں ساتویں جماعت کی طالبہ تھی تو ایران گئی وہاں تہران سے مشہد جاتے ہوئے میں نے ایک پہاڑ پر چاک سے لکھایہ جملہ پڑھا (روز قیامت اول سوال نماز است)نہ جانے مجھ پر عجیب سا لرزہ طاری ہوا کہ میں پانچ نمازوں کی ادایئگی باقاعدگی سے کرنا شروع ہو گئی اج بھی میں سوچتی ہو ں اس شخص کے بارے میں جس نے اس پہاڑ پر یہ جملہ لکھا ہوگا کتنا احسان کیا اس نے میری زات پر کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ شائد اللہ نے اس سے میرے جیسے باغی بندے کو قابو کرنے کے لئے یہ جملہ لکھوایا ہو گا
۔۔ نماز کے۔ لاتعداد بے شمار فوائد ھیں خدا پر بھروسہ کرنے والے انگزائٹی ،ڈپریشن میں مبتلا نیہں ھوتے ان کے دل میں ھمہ وقت رحم۔ ۔خدا تر سی ۔خوف خدا کا جذیہ اسے صحت مند ۔پرجوش اور پرّ امید رکھتاھے۔۔۔ اور میرا رب میرا خالق ذوالجلال و اکرام ۔
مالک عرش العظیم اس کی کبریائ اور عظمت کے آگے ساری کائنات سربسجود ھے
میرا بہت دل چاہ رھا ھے کہ عرشی آپا کی اس روح پرور بلاگ میں اذان سے متعلق اپنی پسندیدہ ترین سطور بھی شامل کردوں ٭٭٭٭ آذاں ازل سے تیرے عشق کا ترانہ بنی مسجد حرم میںپہلی اذان بلال۔ حبشی ۔ ،مکہ میں اولین ترانہ جمال و جلال ۔ اللہ اکبر کی آواز جو باطل اور کقار کے آھنی ایوانوں کو ھلادیتی ھےاور یہ معجزہ ھی تو ھے کہ صرف اذان کی آواز سے ھر لمحہ کرہ ارض کا چّپہ چپہ گونجتا ھے
دنیا کے نقشے کو دیکھیں اسلامی مللک انڈونیشا کرہ ارض کے مشرق میں واقع ھے یہ بے شمار جزیروں پر مشتمل ھے جس میں جاوا
سماٹرا،بورنیو۔اور سیلیبز مشہور جزیرے ھیں آندونیشیا اٹھارہ کروڑ مسلمانوں کی آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا مسلم مللک ھے طلوع سحر کے ساتھہ ھی انڈونیشیا کے انتہائ مشرقی جزائر میں فجر کی اذان شروع ھوجاتی ھےاور بیک وقت ھزاروں موذن اللہ کی توحید کا اقرار کرتے ھیں مشرقی جزائر سے یہ سلسلہ سماٹرا میں شروع ھوتاھے سماٹرا کے بعد مغربی قصبوں اور دیہاتوں سے پہلے ھی ملایا کی مساجد سے اذانیں بلند ھونا شروع ھوجاتی ھیں ملایا کے بعد برما کی باری آتی ھے جکارتہ سے جو اذان کا سلسلہ شروع ھوا تھا وہ ایک مسلسل اور مربوط مستحکم سلسلے کی کڑی کی طرح ڈھاکہ میں موذنوں کی ایمان افروز آوازیں مسجدوں سے گونجتی ھیں بنگلہ دیش میں ابھی اذانوں کا وقت ختم نیہں ھوتا کہ کلکتہ سے سری نگر تک اذان کی آواز گونجتی ھے کلکتہ سے بمبئی اور پھر پورے ھندوستان کی فضآ توحید و رسالت کے اعلان سے گونجتی ھیں ،،،،،
سری نگر اور سیالکوٹ میں فجر کی اذان کا ایک ھی وقت ھے سیالکوٹ سے کوئٹہ کراچی اور گوادر تک چالیس منٹ کا فرق ھے
اس عرصے میں فجر کی اذان پاکستان میں بلند ھوتی ھے ابھی پاکستان میں لاکھوں موذن کی آواز گونج رھی ھوتی ھے کہ افغانستان اور مسقط مين اذان کا سلسلہ شروع ھوجاپاھے مسقط سے بغداد تک ایک گھنٹے کا فرق ھے اس عرصے میںاذانیں حجاز مفدس ،یمن ۔کویت عرب امارات ،اور عراق میں گونجتی ھیں بغداد سے اسکندریہ پھر ایک گھنٹے کا فرق ھے اس دوران میں شام ،مصر، صومالیہ ،سوڈان ،میں اذان کی آوازیں اھل ایمان کے قلوب کو گرماتی ھیں اسکندریہ اور استنبول ایک ھی طول و عرض پر واقع ھیں مشرقی ترکی سے مغربی ترکی تک ڈیرھ گھنٹے کا فرق ھے اس دوران میں ترکی میں صداۓ توحید و رسالت بلند ھوتی ھے
اسکندریہ سے طرابلس تک ایک گھنٹہ کا فاصلہ ھے اس عرصے مین شمالی افریقہ ،لیبیا، تیونس میں صوت توحید گونجتی،ھے فجر کی اذان جس کی ابتداء انڈونیشیا کے مشرقی جزائر سے شروع ھوا تھا ساڑھے نو گھنٹوں کا سفر طے کرکے بحر اوقیانوس کے مشرقی کنارے پہنچتی ھے
فجر کی اذان بحر اوقیانوس تک پہچنے سے قبل ھی مشرقی انڈونیشیا میں ظہر کی اذان کا سلسلہ شروع ھوجاتاھے اور ڈھاکہ میں ظہر کی اذانیں شروع ھونے تک مشرقی انڈونیشیا کے مشرقی جزائر میں عصر کی آذان کا سلسلہ شروع ھوجاتا ھے ڈیڑھ گھنٹے میں
یہ سلسلہ جکارتہ پہچتا ھے کہ انڈونیشیا کے مشرقی جرائر میں میں نماز مغرب کا وقت ھوجا تاھے۔ مغرب کی اذانیں سلیبیزسے بمشکل
سماٹرا تک پہچنتی ھیں کہ اتنی دیر میں عشا کا وقت ھوجاتا ھے ۔،،، سبحان اللہ اس مالک ارض سماء کی شان اور قدرت کہ اس وقت افریقہ میں فجر کی اذان گونج رھی ھوتی ھے گویا کرہ ارض پر لمحہ ھر سکینڈ کروڑون موذن بیک وقت اللہ کی وحیدانیت اور کبري کا اعتراف کرتے ھوۓ صوت اذان بلند کر تے ھیں ،، انشا اللہ تا قیامت یہ سلسلہ جاری و ساری رھے گا۔۔
وہ جو کائنات کا شہنشاہ ھے جس کو توفیق عطا کرتا ھے صرف وھی ایسی تحریریں لکھہ سکتاھے۔۔ عرشی آپا سلامت رھیں۔بہت خوش رھیں اللہ پاک آپ کو ھمیشہ اپنے لطف و کرم کے حصار میں رکھے دنیا اور آخرت میں بہترین اجر عطا فرماۓ آمین عرشی آپا آپ بہت بخت آور ھیں کہ ۔ فکری بلندی ۔ قلم ، کی صورت میں عطا خاص رب ذوالجلال نے آپ کو دی ۔ اللہ پاک کوا س عمل صالحہ کا اجر عطا فرماۓٍ
عرشی آپا اللہ پاک آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمیں ، نماز کے باطبی اور ظاھری فوائد اور اسرار پر آپکی نظم بھی اسی بلاگ
میں لگا رھی ھوں جزاک اللہ بالخیر
عرشی آپا کی ایک اور ایمان پرور نظم ۔
“ نماز کے باطنی اسرار|“
صدا اذان کی آۓ تو سوچ لینا تم
کہ روز حشر منادی پکارتاھے کوئ
تب اس پکارپہ اٹھہ کر ھرایک کو چلنا ھے
جو اٹھہ سکا نہ یہاں اس کو ھاتھہ ملنا ھے
تو جان لے کہ بشارت کی یہ نشانی ھے
خدا کی تجھہ پہ عنایت ھے مہربانی ھے
—————————–
وضو کرے تو سمجھہ راز کو طہارت کے
لباس جسم کی پاکی فقط نیہں مطلوب
یہ روح ودل کی طہارت کی اک علامت ھے
ھو جس کا نفس مطہر وھی سلامت ھے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ-
ستر کو ڈھانپ ، تو یہ بات جان لے پیارے
کہ ھر گناہ کو اس طور ڈھانپنا ھوگا
وگرنہ شرم و ندامت سے کانپنا ھوگا
سو عجز و خوف و خجالت کا تان لے پردہ
شکتہ ،خستہ ونادم ھو تو سر ِبازار
ھرایک لحظہ زباں پر ھو ورد، استغفار
——————————
جو قبلہ رو ھو تو یہ بات مت بھلا دینا
کہ دل کو جانبِ ـ خالق ھے اب پھرادینا
قیام کو تو سمجھہ لے کہ ایک غلام ھے تو
جو ھاتھہ باندھ کے سر کو جھکا کے رکھتا ھے
جو خود کو عاجز و بے کس بناۓ رکھتا ھے
———————————-
رکوع میں جسم جھکے جب تو دل بھی جھک جاۓ
جلال و ہیبت ربی کا ذائقہ پاۓ
زباں جو عظمت شان ـ خدا کو دھراۓ
تو اس لیے کہ یہ تعظیم دل میں جم جاۓ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
زمیں پہ ٹیک کے ماتھا پھر انتہا کر دے
زباںـ حال سے سجدے کو یوں ادا کر دے
خضوع خشوع ھو بہت ،خوب اشکباری ھو
ھو ایسا سجدہ کہ نفس ـ دّنی کی خواری ھو
ھو ایسا سجدہ کہ میزان میں جو بھاری ھو
مٹا کے ’میں “کو تو اپنی جو خاک ھوجاۓ
تو پھر امید ھے عرّشی کہ پا ک ھوجاۓ
——————————
نماز کیا ھے تواضع ھے، انکساری ھے
یہ بندگی کی علامت ھے، خاکساری ھے
جو سوۓ عرش آڑاّۓ یہ وہ سواری ھے
یہی ھے راز سجود و قیام میں پنہاں
خدا کے ساتھہ پیام و سلام میں پنہاں
——————————
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پیاری شاہین ! میں ناچیز کیا اور میری ٹوٹی پھوٹی تحریریں کیا ۔ بس تم نے نماز پر ایک میسج فارورڈ کیا تو بہت اچھا لگا اورہم نے بھی محبت کا جواب محبت سے دیتے ہوئے جو کچھ جھولی میں تھا تمہارے سامنے ڈھیر کر دیا ۔۔۔۔لو ہم نے دامن جھاڑ دیا جھولی الٹائے دیتے ہیں۔
جو بھی اللہ پاک نے لکھنے کی توفیق عطا فرمائی محض اس کا احسان ہے۔ بقول افتخار عارف
میرا مالک جب توفیق ارزانی کرتا ہے
سوکھی زرد زمین کی رنگت دھانی کرتا ہے
پتہ نہیں شعر ٹھیک لکھا ہے یا نہیں یاداشت کے بل بوتے پر لکھا ہے جو کوئی زیادہ قابلِ اعتبار نہیں ہے
اور ہاں مناف بھائی آپ کے خلوص اور حوصلہ افزائی کا شکریہ۔جو اس فقیر کی جھولی میں ہے آپ کو پسند آیا شکریہ
اور نادیہ ،یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ ایک جملے نے تمہیں نماز کا عادی بنا دیا،ضرور تمہارے دل کی تختی بہت شفاف ہو گی جس پر ایک جملہ اتنے گہرے نقوش چھوڑ گیا۔
سچ کہا کسی نے ’’لوحِ سادہ ،برائے ہر نقش آمادہ
اس بلاگ میں منظور قاضی صاحب کی کمی محسوس ہو رہی ہے
نماز میں حضورِ قلب کے بارے میں ایک حدیث پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنا چاہوں گی
رسولؐ اللہ کا فرمان ہے کہ میری امت کے دو آدمی نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔ان کے رکوع و سجود ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن ان کی نمازوں کے درمیان آسمان اور زمین کے درمیان جتنا فاصلہ ہوتا ہے۔ اس سے مراد حضورِ قلب اور خضوع و خشوع ہے یعنی اس وجہ سے ایک کی نماز اللہ تعالیٰ کی نظر میں دوسرے کی نماز سے افضل ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی ہی نمازوں کی توفیق عطا فرمائے آمین
ترے عشق میں سدھ بدھ کھو بیٹھوں چشمِ ہشیار کو آگ لگے
غارت ہوں یہ دھندے دنیا کے ، اس کاروبار کو آگ لگے
بے کار عبادت عرشی جی ،گر چاہ نہیں اخلاص نہیں
جو دل نہ پیا کا جیت سکے اس ہار سنگھار کو آگ لگے
انسان کا خدا کی جانب سفر
عرشی ملک
جس مٹکے نے اپنا پیندا پھوڑ لیا
اپنی تلچھٹ سے خود ناطہ توڑ لیا
اپنا رشتہ، دریا کے سنگ جوڑ لیا
اس کو راوی اور چناب سلام کریں
اس کو گنگا جمنا بھی پرنام کریں
آقا سات سمندر اس کے نام کریں
عرشی آپا مجھے بھی اس ایمیل میں گہری۔ناقابل برداشت شدید سردی میں کھلے آسمان کے نیچےاذان کی آواز پر لبیک کہتے ھوۓ برف پوش نمازیوں پر رشک آیا تھا ۔۔ جن میں ایک نومولود بچہ بھی شامل تھا،، ایمان والے آذان کی آواز پر ساری دنیا کو چھوڑ کر اسکی بارگاہ میں حاضری کے لیے تڑپ جاتے ھیں۔ کاش مجھے بھی ایسی کوئ نماز میسر آجاۓ ۔۔۔یہی حال میں نے بیت العتیق میں نماز کی ادایئکی کے وقت دیکھا تھا۔۔ سارے لوگ کاروبار دنیا ، قیمتی اشیاء سے سجی دکانوں کو بھول کر نماز کی طرف متوجہ ھوجاتے، کسی کی کیا مجال کہ کوئ چوری کرسکے۔۔ وھاں ھر جمعہ کو چور کے ھاتھہ کاٹ دیئۓ جاتے ھیں ۔۔۔ ،پھر بھی کچھہ بدنصیب ، بدقسمت وھاں جاکر چوری کرتے ھیں ۔ اور کچھہ لوگوں کی دنیا اک لمحے میں بدل جاتی ھے
پیاری نادیہ بخاری ۔ سلامت رھو۔ ماشا اللہ تم تو بہت کم عمری سے نماز کی عادی بن گی ھو۔ ۔ میں اکثر کم عمر بچوں کو نماز پڑھتا دیکھہ کر کہتی ھون کہ رب کی بارگاہ میں تمھاری عبادتیں قبول ھوگی کیونکہ پیارے بچوں تم دنیا کی ظاھری چمک دمک کو چھوڑ کر اس کم عمری میں نماز پڑھتے ھو۔۔۔۔۔ جس کا بہت بڑا اجر ھے اس کا ثواب نمازی کے ساتھہ، اس کے والدین کو بھی ملتا ھے
واہ عرشی آپا
ترے عشق میں سدھ بدھ کھو بیٹھوں چشمِ ہشیار کو آگ لگے
غارت ہوں یہ دھندے دنیا کے ، اس کاروبار کو آگ لگے
بے کار عبادت عرشی جی ،گر چاہ نہیں اخلاص نہیں
جو دل نہ پیا کا جیت سکے اس ہار سنگھار کو آگ لگے
انشا اللہ جب تک زمین پر آخری صاحب ایمان باقی ھے نماز باقی رھیگی ۔میرا دل چاھتا تھا کہ آپ سب لوگ بھی اپنی کسی ایسی نماز کے بارے میں لکھیں جس نے آپکی فلب اور روح کو ایمان کی ذکر باری تعالی کی روشنی سے معمور کردیا۔۔ مقصد صرف یہی ھےکہ ھوسکتاھے اس کو پڑھ کر کسی اور کی بھی دنیا بدل جاۓ ۔
تکبر کی غلاظت کو دل سے دور کرنے کا بہترین وسیلہ نماز ہے ۔ (سیدہ زہرہ سلام اللہ علیہا)
عزیز بھائ قمر رضا سلامت رھیں ۔جزاک اللہ بالخیر