منظور قاضی بھائی خدا کرے آپ جہاں کہیں بھی ہوں بس خیر سے ہوں . بہت دنوں سے آپ کی طرف سے کوئی تبصرہ لکھا ہوا نہیں آیا اور نہ ہی آپ نےکوئی نیا بلاگ لکھا. ہم سب آپ کو بہت بہت بہت بہت یاد کر رہے ہیں . بس جلدی سے آجایئے . ہم میں سے کوئی بھی نہیں یہ پوچھے گا کہ اتنے دنوں سے آپ کہاں تھے . بھائی آپ تو کبھی بھی بغیر بتائے نہیں جاتے ..بس سوچ سوچ کر فکر ہو رہی ہے … اللہ پاک آپ کو اور آپ کے اہل خانہ کو اپنی اماں میں رکھے ..آمین

’’ ہم میں سے کوئی بھی نہیں یہ پوچھے گا کہ اتنے دنوں سے آپ کہاں تھے ‘‘
تلاش گمشدہ، قاضی صاحب سے انتہائی معذرت کے ساتھ، کے اس بلاگ پہ مجھے بھی یہ پوچھنے کا حوصلہ ہوا کہ میرے بہت ہی محترم قاضی صاحب آپ کہاں ہیں آخر؟ ہر روز بلاگ کھولتا ہوں تو سب سے پہلے آپ کا تبصرہ تلاش کرتا ہوں اور مایوسی میں یہی سوچتا ہوں شاید آپ ہماری کسی انجانی خطا پہ ناراض نہ ہو گئے ہوں. یقین جانئے، حلفیہ کہتا ہوں، آپ کی کمی انتہائی شدت سے محسوس ہورہی ہے. خدا را مزید نہ تڑپایئں. اللہ آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، آمین.
جاوید بھائی ایک بات میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ منظور بھائی کسی کو بتائے بغیر خفا بھی نہیں ہوتے … میرا دل نہیں مانتا کہ وہ کسی سے خفا ہیں .. ہاں بس طبیعت ٹھیک ہوں ان کی … صبح انشاللہ منطور بھائی کو فون کر کے پتہ کرتی ہوں کہ کیا صورت حال ہے … .. اللہ پاک انہیں صحت کے ساتھ ساتھ عمر دراز عطا فرمائے .. آمین ..
اللہ میرے کرم فرماوں کو سلامت رکھے اورانکے کمپوٹروَن کو تمام آفات و بلاوں سے محفوظ رکھے . . آمین
میرا کمپیوٹر ہر قسم کی بلاوں کا شکار ہوکر میرا ساتھ چھو ڑ گیا. اب مجھے کسی نئے کمپیوٹر کی تلاش ہے.
میری بیوی خوش ہےکہ اسکو ایک سوکن (کمپیوٹر ) سےنجات مل گئی ہے اور اب میں زیادہ وقت اس کودینےلگا ہوں.
عالمی اَََخبار کو پڑھے بغیر جرمنی میں دل نہین لگتا .
مقامی لا ئبریری کے کمپوٹر وں سے فی الوقت کام چل رہا ہے.
ہوسکتا ہے کہ میں غیر معینہ مدت تک بلاگوں میں حصہ نہ لے سکوں.جس کا سخت افسوس ہے .
بڑی مشکل سے یہ تبصرہ لکھ سکا ہوں ا سلئے کہ مجھے جرمن کی بورڈ سے لکھنےکی مشق نہیَن ہے.
میرے لیے اس بلا گ کو شروع کرنے کا شکریہ .میں عالمی اَخبار کی انتظامیہ اور خاص طور پر ڈاکٹر نگہت نسیم صاََحبہ اور جناب صفدر ھمدانی صاحب کا مشکو رہوَن اور جناب جاوید اقبال کیانی صاَحب کاشکریہ ادا کرتا ہوَن کہ مجھے اپنی نیک دعاوَن سے نوازتےہین.
ان تمام اَحباب کا شکریہ جومیری کمی عالمی اَخبار میں مَحسوس کررہے ہیں
میَن عالمی اََخبار کی انتظامیہ سےدرخواست کرتا ہوَن کہ وہ اس بلاگ کو فی الوقت ختم کردیں .
فقط:
عالمی اَخبار کا شیدائی
منظور قاِضی
جرمنی سے
محترم،مکرم اور قابل صد احترام قبلہ قاضی صاحب. ہم سب آپکی غیر حاضری پر اس طرح پریشان تھے جیسے چڑیا کے بچے گھونسلے میں اکیلے رہ جاتے ہیں. بس اسی شش و پنج میں ڈاکٹر صاحبہ نے بلاگ لگایا کہ یہ عالمی اخبار بلاگ کی فیملی کا وطیرہ ہے کہ کوئی بھی ایک فرد کچھ روز نہ آئے تو تردد ہوتا ہے اور آپ تو ٹھہرے سربراہ خاندان. بس اللہ پاک کا شکر ہے کہ آپ نے اپنے بارے میں لکھ کر ہمیں مطمئن کر دیا.
خالق ہر جہان آپ کو اپنی امان میں صحت مند اور تندرست رکھے.
یہ ہوئی نہ بات اپ ائے بہار ائی بس جلدی سے کمپیوٹر ٹھیک کر لیں ورنہ اداسی بڑھ جائے گی
محترم جناب منظور قا ضی صاحب،
’میں شکر ونڈاں‘ جو آپ کی خیریت آپ کی اپنی زبانی معلوم ہوئی. جناب آپ حکم کریں ایک چھوڑ دو کمپیوٹر آپ کو یہان سے بھیج دیں گے.
اللہ ہم سب کو اپنے اپنے کمپیوٹروں سمیت بخریت رکھے اورانہیں ہماری خواتینِ اوّل کی نظر بد سے بچائے رکھے، آمین ثم آمین.
محترم قاضی صاحب ! آپ کی خیریت معلوم ہوئی تو بہت خوشی ہوئی۔
سب آپ کے بغیر اداس ہو گئے ہیں۔
بہت جلدی نئے کمپیوٹر کا انتظام کر لیں اور دوستوں کی محفل میں لوٹ آئیں۔
وقت اور حالات کا کوئی بھروسہ نہیں یہ ہر آن بدلتے رہتے ہیں
آنے والے سارے کل
سادہ ورق
جانے ان پر کیا لکھے گا
وقت کا دستِ رواں
عرشی ملک
پیاری بہن اور عزیز دوست ڈاکٹر نگہت نسیم سلامت رھو۔ مجھے بھی جناب منظور قاضی صاحب کی کمی بہت محسوس ھوئ تھی اس لیے نیہن کہ شاعری کے بلاگ انکے جامع تبصروں کے بغیر سونے لگ رھے تھے بلکہ اس لیے کہ وہ ھم سب کے لیے بہت محترم ھیں اور انکی قیمتی راۓ ھم سب کے لیے بہت اھمیت رکھتی ھے ۔ اللہ پاک قاضی صاحب کو ھمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین
قاضی صاحب ھم سب کو آپکی غیر حاضری منظور نیہن ھے ۔ایک چھوٹا سا لیپ ٹاپ خرید لیں۔۔ کیونکہ اس میں پوری ایک دنیا مقید ھے ۔۔
آپ کے ھم سب کی ڈھیروں دعایئں
سلامت رھیں
بڑے بھائی قاضی منظور صاحب !
جب پردیس سے کوئی مثلاً . . . ہر اتوار کو گھر فون کیا کرتا ہے، کسی ایک بھی اتوار وہ مثلاً کسی مصروفیت کی بنا پر فون نہ کرسکے تو فوراً سب سے پہلے ماں پھر باپ بہن بھائی وغیرہ کے فون آنے لگتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ” خیریت سے تو ہو نا ؟ فون کیوں نہیں کیا ؟ وغیرہ ” ( پہلے خطوط لکھے جاتے تھے )، خود اور دوسروں کو اس زحمت سے بچانے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ رابطہ لگاتار برقرار رکھا جائے-
یہی حال اب آپ کو ہمیں “عالمی اخبار کر گھرانے سے بھی درپیش ہے” اور حل یہاں بھی وہی ہے کہ رابطہ نہ ٹوٹنے پائے
ویسے ہے نا یہ ہماری خوش قسمتی
میں جناب صفدر ھمدانی صاَِحب ، ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اور جناب جاوید اقبال کیانی ـصاَحب اور نادیہ بتول بَِخاری صاَِحبہ اور مََََََََََََََََِحترمہ شاہین رَضوی صاَحبہ اور جناب عبد المناف غلزئی صاََحب اور میری پسند یدہ شاعرہ عرشی صاَحبہ کا مشکور ہوِں کہ مجھے اپنی نیک دعاوِں مین شامل کیا اور مجھے اپنے نیک ِخیالات سے سرفراز کیا.
آپ سب میرے دل کے قریب ہیں .
جگر کا شعر یاد آتا ہے کہ
کبھی شاَخ و سبزہ و برگ پر کبھی غنچہ و گل و خارپر
میں چمن میں چاہے جہاں رہوں مر ا حق ہے فصل: بہار پر
میں آپ سب کو اپنے دل کے قریب سمجھتا ہوں
فقط:
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے
میں ڈاکٹر نگہت نسیم صاَحبہ سے درخواست کرتا ہوں کہ مہربانی فرماکر اس بلاگ کو حذف کردیں اس لئے کہ میں ابھی اس قابل نہیں کہ پورے انہماک کے ساتھ بلا گوں کی دنیا میں حصہ لے سکوں۔ اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ میں سب کی توجہ کا مرکز بننا نہیں چاہتا ۔
یہ عالمی اِخبار کی انتظامیہ کی مہربانی ہے کہ وہ میرے سکھ دکھ میں شریک ہوئی اور مجھ کو اپنا سمجھا ۔
میں فی الوقت سب سے معافی چاہتے ہوئے کہتا ہوں کہ کمپیوٹر کے نہ ہونے کی وجہ سے میں بلاگوں میں شرکت نہیں کرسکتا۔
ہوسکا تو سب کے بلاگ پڑھنے کی کوشش کرونگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
فی الوقت ڈاکٹر نگہت نسیم صاَحبہ کا بلاگ ایک انتہائی اہم اور مقدس موضوع پر پڑھنے میں آیا ۔ دل سے دعائیں نکلیں۔
اللہ انہیں اس کی نیک جزا عطا کرے ۔ آمین
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے