میری اتنی مجال کہاں کہ جو خاتون جنت جناب سیدہ فاطمہ زہرہ سلام اللہ علیہ کی شان میں کچھ لکھ سکوں .. آج انہی کی اجازت سے انہی کی سوانح حیات مبارکہ کے مطالعہ کے دوران ان کی ذات مقدس کے حوالے سے احادیث پڑھتے ہوئے چند بند عطا ہو گئے .. جنہیں خاتون جنت کی اجازت سے پیش کرنے کی جسارت کر رہی ہوں .. خدائے پاک میری ہر غلطی کو معاف فرمائے اور اس ہدیہ کوجناب سیدہ کے صدقے قبول کر لے ..آمین
فرماتی تھیں سیدہ فاطمہ زہرہ سلام اللہ علیہ
جس کی رگوں میں دوڑتا اپنے نانا ، اللہ کے نبی ، پاک محمد کا نور ہے
وہ میرا حسین ہے
ہاں وہ میرا حسین ہے
کنیت جس کی ابو عبدللہ مجھے ہے بہت ہی پیارا
ہاں وہ ہے میرا راج دلارا جو ہے سبط اورسید میرا
اپنی بہن زینب کی چھاؤں اور آنکھوں کا تارا
اپنے بھائی حسن کا غمگسار ، بنا بے مثال سہارا
جو ہے ٹکڑا بنت رسول کا اور جو ہے نور چشم نفس رسول کا
وہ میرا حسین ہے
ہاں وہ میرا حسین ہے
میرے جگر گوشے کے ہیں ہر طرف دشمن ہزار
دشمنی کو ہیں تیار بیٹھے اپنے پرائے اور اغیار
پر کر نہ سکیں گے میرے بچے کو وہ کبھی بیزار
کہ اس کی رگوں میں ہے نور الہی کے سب اسرار
جنت سے جس کے کپڑے آئے اور جو ہے جنت میں نو جوانوں کا سردار
وہ میرا حسین ہے
ہاں وہ میر احسین ہے
کاش تم جان سکتے تمہارا سب سے بڑا دشمن شیطان ہے
فتنہ فساد ، فسق و فجور ، نفاق ڈالنا ہی جس کاایمان ہے
بس دین محمدی کوبچانا ہی مسلمانوں اب کڑا امتحان ہے
گر ڈرتے رہے تم اپنے رب سے تو بچ جانے کا امکان ہے
جس کے بھائی حسن نے زہر پی کر دیا اپنی وفا کا امتحان
وہ میرا حسین ہے
ہاں وہ میرا حسین ہے
جان لواب تم سب کو رہنا ہے مل کر ہر وقت ہوشیار
تاک میں بیٹھے ہیں تمہاری ہر سمت مشرک و کفار
دین محمد کی بقا و سلامتی ہوئی تم سب پراب ادھار
میرے بچوں کی قربانی کو خدا را کر نہ دینا تم بیکار
کربلا کی تپتی ریت پر بھوکا پیاسا جو تانے کھڑا رہا ننگی تلوار
وہ میرا حسین ہے
ہاں وہ میرا حسین ہے
سوچو زمین وآسمان ، شمس و قمر پر کس کا ہے اختیار
کس نے کی محمد سے وفا اور کس نے کیا نفس کا کاروبار
کس نے بیچا دین کو اور کس نے کھینچی نیام سے تلوار
کس نے بنائی بیچ میں دیواریں اور کس نے گرائی دیوار
جس نے کہا ہم جیسے تم جیسوں کی بیعت نہیں کرتے
وہ میرا حسین ہے
ہاں وہ میرا حسین ہے
کچھ لوگ تم میں ہی دین محمدی کے رکھوالے ہیں
اپنے نفس کوپاک رکھنے والے ہی اخلاص والے ہیں
ملوکیت ختم کرنے والے ہی امامت کے رکھوالے ہیں
اپنےرب سے بہت زیادہ ڈرنے والے ہی علم والے ہیں
شہر علم کی محبت میں باب العلم کی سبنھالے جو دستار
وہ میرا حسین ہے
ہاں وہ میر احسین ہے
دنیا امتحان ہے مسلماں کے لئے اور ظالم کے لئے جنت
جس طرح ہوئے ٹکڑے اسلام کے تم نہ کرنا ایسی جرت
فکر حسین کو عام کرنا جو کرتے ہو حسین سے محبت
مظلوم کی حمایت میں لڑنا ، نہ دینا ظالم کو کوئی رعایت
مجھے ناز ہے اس عطا پر پیغام رسول جس نے کر دیا مکمل
وہ میرا حسین ہے
ہاں وہ میرا حسین ہے
نگہت نسیم۔سڈنی

یقین جانئیے کہ پڑھتے پڑھتے میری آنکھوں میں آنسو آ گئے
آپ بہت خوش قسمت ہیں بہن جی کہ ایسی عطا ہوئی ہے آپ کو
مولا حسین، مولا حسین کا بھیّا، مولا حسین کی والدہ، مولا حسین کا بابا اور مولا حسین کا نانا
(الصلوٰ ۃ و السلام علیہم) قبول فرمائیں اور آپ کو دینا و آخرت میں اس کا اجر عطا فرمائیں
آمین ، الٰہی آمین
جب کسی کے محبوب کا ذکر کیا جائے تو محب کو ایک راحت و خوشی ہوتی ہے۔ محب اپنے محبوب کی بات وجہ بے وجہ بہانے بنا کر چھیڑا کرتا ہے، اور ذکر کرنے والا بھی اسے اچھا لگنے لگتا ہے۔ باپ کے سامنے اولاد کی تعریف، اولاد کے سامنے باپ دادا کی تعریف، دوست کے سامنے دوست کا تذکرہ، استاد کے سامنے شاگرد کی تعریف اور عاشق کے سامنے معشوق کی تعریف۔ حتّیٰ کہ انسانوں میں تو یہ رویہ بھی ملتا ہے کہ اگر ہمارے سامان کی تعریف کر دیں تو وہ بھی اچھی لگتی ہے، گاڑی کی تعریف، ہاتھی گھوڑے کی تعریف، مکان کی تعریف اور کتاب کی تعریف۔۔۔۔
اور یہی محبت کا تقاضا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ جب کوئی حبیبِ خدا کو ذکر کرتا ہے، تو وہ بندہ خدا کو کسقدر اچھا لگتا ہوگا۔ اور اگر کوئی آلِ رسول کی تعریف کرے تو حبیب خدا کا دل کتنا خوش ہوتا ہوگا۔ یہ تو بس قسمت والے ہی کر سکتے ہیں۔
مرحبا اور سبحان اللہ۔
خداوند کریم آپکی رسول و آل رسول علیہم السلام کے ساتھ اس محبت و عقیدت کو اور بھی اوج عطا فرمائے۔
بقول خواجہ میر درد
بسا ہے کون ترے دل میں گلبدن اے درد
کہ بو گلاب کی آئی ترے پسینے سے
ًمھج سے بادِ پہاران نے رو کر کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔تیری قسمت پہاروں کے قابل نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔تیری دنیا ہے اشقوں مین دوپئ ھوئ ۔۔۔۔۔تیری آنکھیں نظروں کے قاپل نھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری کشتی کو طوفان نے پوسے دیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بولی موجِ تلاتم مھجے دیکھ کر تیری تقدیر میں ہں پھنور ھی پھنور تیری کشتی کناروں کے قاپل نھی
ماشااللہ،جزاک اللہ، اسی کو عطائے محمد و آل محمد کہتے ہیں۔ سلامت رہیٍں
ًمجھ سے بادِ بہاراں نے رو کر کہا
تیری قسمت بہاروں کے قابل نہیں
تیری دنیا ہے اشکوں میں ڈوبی ھوئی
تیری آنکھیں نظاروں کے قاپل نہیں
میری کشتی کو طوفان نے بوسے دیے
بولی موجِ تلاطم مجھے دیکھ کر
تیری تقدیر میں ہیں بھنور ھی بھنور
تیری کشتی کناروں کے قابل نہیں
بہت خوب، زبردست، ماشاء اللہ جناب ماہء کامل (صاحب یا صاحبہ ؟)
بہت اعلٰی اشعار ہیں لیکن ان کے لیے ایک نیا بلاگ ہونا چاہیے
میں “عالمی اخبار” کی انتظامیہ سے ملتمس ہوں کہ ان خوب صورت اشعار کو ایک نئے بلاگ میں لگا دیجیے
جزاک اللہ …
محترم بابا جی ، مصباح بھائی اور مناف بھائی یہ سب آپ کا حسن نظر ہے جو مجھ کم علم کا حوصلہ بڑھاتے ہیں .. اس کا اجر اللہ پاک ہی عطا کریں گے .. میرے پاس تو بس دعائیں ہیں جو ہر آن آپ سب کے لئے دل سے نکلتی رہتی ہیں …
سلامت رہیں اور خوشیوں میں رہیں ..آمین
ماہ کامل آپ کو بلاگ کی محفل میں خوش آمدید .. . مناف بھائی کی خواہش کے مطابق ہمیں آپ کی طرف سے مزید تفصیل کا انتظار رہے گا تاکہ ان خوبصورت اشعار کے لیئے ان کے شایان شان جگہ بنائی جا سکے … مجھے ای میل کر دیجئے گا ….
dr.nighat.nasim@gmail.com
شکریہ ماہ کامل … ایک بار پھر جی آیاں نوں …
ماہ کامل۔عالمی اخبار کی بلاگ فیملی میں خوش آمدید۔ ویسے اس فیملی میں شامل ہونے والے کہیں جاتے نہیں ہیں۔ اب اپ بھی کہیں نہیں جائیں گی۔ آپ نے دیکھا کیسے فر فر اردو لکھ لی۔ اب اردو زندہ رہے گی۔انشااللہ
جب کوئی حُسین (ع) کا ذکر کرتا ہے تواُس ذاکر سے خاتونِ جنت شاد ہوتی ہیں
اور اُس کی جانب ًمُحبت کی نگاہ کرتیں ہیں اور جس کی طرف بی بی (ع) مُحبت کی نگاہ کریں اُس سے مُحمد(ص) خُوش ہوتے ہیں جس سے نبی(ص) خوش اُس سے خُدا راضی جس سے رب راضی اس سے سب راضی خدا سے دُعا ہے کے دونوں جہانوں میں آپ کو اس کلام کا اجرِ عظیم عطا فرمائے (آمین)
جزاک الله آپی خُدا آپ کو شاد و آباد رکھے
(الہی آمین)
نگہت بہن بہت خوب۔
واقعہ کربلا کے بعد کسی حاکم کی اہلِ بیت سے بیعت مانگنے کی ہمت نہیں ہوئ۔
ظفر بھائی آپ کی بے حد ممنون ہوں … بے شک آپ نے سچ کہا .. جزاک اللہ ..
ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ،
جان لواب تم سب کو رہنا ہے مل کر ہر وقت ہوشیار
تاک میں بیٹھے ہیں تمہاری ہر سمت مشرک و کفار
دین محمد کی بقا و سلامتی ہوئی تم سب پراب ادھار
میرے بچوں کی قربانی کو خدا را کر نہ دینا تم بیکار
مرحبا ڈاکٹر صاحبہ، اسی بند پہ میں اپنی پنجابی میں لکھی گئی منقبت کے ایک قطعے کا اضافہ کرنے کی جسارت کروں گا :
خُونَ مسلم دی پکار ، ہر تھاں چھایا جے کفار
آدم تے آدمیت نال ، جے کر تینوں سچا پیار
جتھے یزیدی ظلم دا وار ، اُتھے حسینی نعرہ مار
عشق دی نویں و نویں بہار ، عشق دی نویں و نویں بہار
سبحان اللہ جاوید بھائی .. آپ سے التجا ہے کہ منقبت پوری عطا ہو .. .. اللہ پاک اپنے حبیب کے صدقے ہم سب کی ہر کاوش چاہے وہ تبصرے کی صورت ہی کیوں نہ ہو قبول فرمائے .. آمین
ثمرین تمہاری اتنی خوبصورت تمہید پر یقین جانو بہت خوشی ہوئی .. اللہ سبحان تعالی تمہیں دین و دنیا کے سکھ عطا کرے .. آمین
ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ، آپ کا حکم سر آنکھوں پہ :
دین دی حُرمت نال پیار
نکلے عاشق بستیوں باہر
ہل گئے کُوفے دے بازار
بن گئی کربل لالہ زار
عشق دی نویں و نویں بہار ، عشق دی نویں و نویں بہار
کدی چمڑی لیہندی وچ بازار
کدی سُولی نوں ایہہ کرے پیار
کدی اگ نُوں کردا اے گلزار
کدی نیزے ہوندے گردنوں پار
عشق دی نویں و نویں بہار ، عشق دی نویں و نویں بہار
خُونِ مسلم دی پکار
ہر تھاں چھایا جے کفار
آدم تے آدمیت نال
جے کر تینوں سچا پیار
جتھے یزیدی ظلم دا وار
اُتھے حسینی نعرہ مار
عشق دی نویں و نویں بہار ، عشق دی نویں و نویں بہار
سبحان اللہ .. جزاک اللہ … جاوید بھائی .. کیا کہنے …
دین دی حُرمت نال پیار
نکلے عاشق بستیوں باہر
ہل گئے کُوفے دے بازار
بن گئی کربل لالہ زار
عشق دی نویں و نویں بہار ، عشق دی نویں و نویں بہار
سلامت رہیں بھائی ….
جناب جاوید اقبال کیانی۔ نیدر لینڈ کے شہر ہیگ میں آج علی ابن الحسین سید سجاد امام زین العابدین کے یوم ولادت کا میلاد تھا جسمیں شرکت کی سعادت مجھے بھی حاصل ہوئی جہاں اہل بزم میں سے کئی افراد کو میں نے آپکی تخلیق اس منقبت کے تینوں بند سنائے تو غیب سے آپکو کتنا پیار اور دعائیں ملیں۔ واہ واہ۔اسی کو تو مقدر کہتے ہیں
اسی کو تو مقدر کہتے ہیں . . .
بھائی جاوید اقبال کیانی ! آغا ہمدانی صاحب کے اس جملے سے بڑھ کر کیا کہا جائے
ماشاء اللہ ، بہت خوب ، اللہ کریم اجرِ عظیم عطا فرمائے
مناف جی۔ اعجاز سیفی صاحب آپکی خدمت میں سلام پیش کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ، جناب صفدر ہمدانی صاحب، جناب عبدالمناف صاحب، آپ سب کی ذرہ نوازی کا بے حد شکریہ۔
مرشد جی، کاش میری یہ ادنیٰ کاوش ’ اُن ‘ کے دربار بھی منظور ہوجائے ، آمین۔ مجھے نیدر لینڈ میں بھی یاد کرنے کا بہت بہت شکریہ، یہ ہوا ناں حقِ مرشد ! والسلام۔
آغا صاحب سید اعجاز سیفی صاحب کی خدمت میں
و علیکم السلام
و رحمۃ اللہ
و برکاتہ
و اللہم صل علی محمد
و آل محمد
و عجل فرجہم
و لعنۃ اللہ علی اعداءہم اجمعین
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جاوید اقبال کیانی بھائی آپ کو میاں محمد بخش مرحوم کا وہ شعر تو یاد ہی ہو گا کہ
مالی باغ دی راکھی کردا پھل پکے ہون یا کچے
. . . . . . . . . . . . .. . . . . . . . . . . . سچے (Fill in the blanks)
ارے مناف بھائی آپ ہمارے بھائی جاوید کو کیا سمجھے تھے .. وہ ہمیشہ سے ہی مقدر والے ہیں … پر اس دفعہ تو موجیں لگ گئیں ہیں ہمارے بھائی کی …. اس سعادت پر ہم سب کی طرف سے بہت بہت مبارکباد …..
ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ، جناب عبدالمناف صاحب
’یہ سب تمھار کرم ہے آقا ، جو بات اب تک بنی ہوئی ہے‘ ورنہ فقیر کس قابل۔آپ کے پیار کا شکریہ۔
مناف صاحب، میاں صاحب کا شعر کچھ اسطرح ہے:
مالی باغ دی راکھی کردا پھل پکے ہون یا کچے
پیر مریداں دے سر تے ریہندے بھنویں جھوٹے ہون یا سچے
کیا موقعے کی مناسبت سے آپ کا انتخاب ہے ، داد دیتا ہوں اس پروازِ تخیل کی۔
( ویسے دوسرے مصرعے کے آخری حصے میں میان صاحب کا مخاطب ہے کون؟ )
جزاک اللہ مولا پاک ہمیشہ اپ کو اباد رکھیں اپ نے لاجواب کر دیا پیاری نگہت نسیم صا حبہ