میں نے روز مرّہ زندگی میں اکثر نوٹ کیا ہے – کہ لوگ جو بات حقیت میں کہنا چاہتے ہیں ، وہ کہہ دیتے ہیں ، جب کوئی مائنڈ کرتا ہے ، تو فورا کہیں گے ، اجی میں تو مذاق کر رہی یا کر رہا تھا ،مذاق کی آڑمیں بہت کچھ کہہ جاتے ہیں – کچھ کہتے ہوے جھجکتے نہیں ہیں . کئی بار یہ دوسروں کے لئے یہ مذاق تکلیف دہ ہوتا ہے- آپ کا کیا خیال ہے ؟

دوسروں پر اعترض یا طنز کرنے یا کسی کا دل دکھانے کی اجازت کوئ مذہب یا معاشرہ نہیں دیتا۔ ایسا کرنے والے دوسروں کی نظر سے گرجاتے ہیں۔ کوئ بھی بات کہنے سے پہلے اگر یہ سوچ لیا جائے کہ دوسرا اگر ہم سے یہ کہے تو ہمیں کیسا لگے گا تو انسان اس قسم کی دل دکھانے والی غلطیوں سے بچ سکتا ہے۔ اپنی اصلاح کیلئے یہ بہترین کلیہ ہے۔
کبھی بھول کر کسی نے نہ کرو سلوک ایسا
کہ جو تم سے کوئی کرتا تمہیں ناگوار ہوتا
مشکل یہ ہے کہ بعض افراد اپنی فطرت سے مجبور ہو کر دوسروں کی تذلیل اور تنقیص کو اپنی زندگی کا مقصد بنا چکے ہیں .
بغض و حسد ا ور تعصب اور نفرت جیسی بیماریاں اگرا نسان کے ذہن میںموجود ہوں تو پھر وہ کسی کی پرواہ کیے بخیر مذاق ہی مذاق میں دوسروں کا دل دکھا تا رہے گا..
اس موضوع پر ماہرِ نفسیات ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ بہت کچھ کہ سکتی ہیں.
انسان تو اپنی زبان کے پیچھے چھپا ہوتا ہے اگر کوئی اس حد تک بڑھ جائے تو میں اس سے کنارہ کشی کر لیتی ہوں
نادیہ بتول بخاری صاحبہ کس کس سے کنارہ کشی کرلینگی؟
یہ کہنا کہ انسان اپنی زبان کی حد میں رہے تو اس کے لیے ” حد” کی توضیح کرنی ہوگی .
……………..
عابدہ مظفر صاحبہ نے اپنے بلاگ کے شروع میں یہ لکھدیا ہے کہ :
” میں نے روز مرّہ زندگی میں اکثر نوٹ کیا ہے – کہ لوگ جو بات حقیت میں کہنا چاہتے ہیں ، وہ کہہ دیتے ہیں ، جب کوئی مائنڈ کرتا ہے ، تو فورا کہیں گے ، اجی میں تو مذاق کر رہی یا کر رہا تھا ،مذاق کی آڑمیں بہت کچھ کہہ جاتے ہیں – کچھ کہتے ہوے جھجکتے نہیں ہیں ….”
. . ………
بہتر طریقہ یہ ہے کہ انسان کا ضمیر اتنا روشن ہوجائے کہ وہ دل دکھانے والی بات سوچنے سے پہلے ہی انسان کو ٹوکتارہے تاکہ وہ غلط بات کہنے سے باز آجائے .
اسی لیے میں اپنا یہ شعر دہراتا رہتا ہوں کہ
غلط باتیں اگر سوچوں تو فوراً ٹوک دیتی ہے
الہیٰ شکریہ تیرا کہ دی ایسی زباں مجھ کو