میں دہم میں تھی اور ہمارے سکول میں سی سیکشن سائنس گروپ کا تھا اور سائنس سٹوڈنٹس کو ہمیشہ آرٹس سٹوڈنٹس پر ترجیح دی جاتی تھی۔ جب بھی ٹیچرز کی میٹنگ ہوتی تھی ہم سائنس سٹوڈنٹس کو مختلف کلاسز میں بطور مانیٹر بھیج دیا جاتا تھا۔ میری ڈیوٹی دہم اے میں لگی اور جب میں کلاس میں داخل ہوئی تو میں نے پوری کلاس کا جائزہ لینا شروع کردیا۔ اچانک ایک لڑکی پر نگاہ پڑگئی۔ میں نے اتنی حسین لڑکی اس سے پہلے مغل آرٹ منی ایچرز میں دیکھی تھی یا پھر آج دیکھ رہی تھی۔ اس کے نقوش، اس کا رنگ روپ، میں دل ہی دل میں سوچ رہی تھی یا اللہ تو نے اسے کتنا حسین پیدا کیا، بالکل ایسے ہی جیسے اسے فرصت میں بنایا ہو لیکن اگلے ہی لمحے میرے دماغ میں ایک عجیب سی بات آئی وہ یہ کہ اللہ نے کہیں تو اس میں کمی رکھی ہوگی فورا میں نے اپنے خیال کو جھٹک دیا اور دیگر کلاس پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے حسن میں عجیب سی کشش تھی پھر میں بے چین ہوگئی اور میں نے پروردگار سے کہہ ڈالا یا اللہ تو نے کہیں تو اس میں کمی رکھی ہوگی۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ میں بھی ایک لڑکی ہوں ۔ شاید میرے دل میں جیلسی کا عنصر شامل ہوگیا تھا۔ اسی کشمکش میں تھی کہ پتہ چلا کہ ٹیچرز میٹنگ ختم ہوگئی ہے اب جب اچانک ٹیچر کلاس میں داخل ہوئیں تو کلاس احترام میں کھڑی ہوگئی اور میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے جب میں نے اس حسین لڑکی کو بیساکھیوں کے سہارے کھڑے ہوتے دیکھا۔ آج اس واقعے کو 8 سال ہوگئے جب بھی مجھے وہ منظر یاد آتا ہے مجھے لگتا ہے کہ جیسے اس کی بیساکھیوں کی وجہ میں ہوں۔ وہ سوال جو میں بار بار اوپر والے سے پوچھ رہی تھی کہ اس میں کہیں تو کمی ہوگی مجھے اس نے دکھا دی۔ وہ کمی جس کی مجھے تلاش تھی میں آج بھی اوپر والے سے اس سوال پر شرمندہ اور بے چین ہوجاتی ہوں جیسے اوپر والا مجھ سے کہہ رہا ہو نادیہ تو یہی کمی تلاش کررہی تھی نہ۔۔۔۔!!

نادیہ بیٹی (یہ جان جانے کے بعد کہ آٹھ سال پہلے آپ دسویں جماعت میں تھیں، میں آپ کو بہن کی بجائے بیٹی کہہ کر مخاطب کرنے کا حقدار ہوں) !
آپ کو شرمندہ ہونے یا خود کو، کسی سوال کے ذہن میں آنے پر، قصوروار سمجھنے کی قطعاً ضرورت نہیں کیوں کہ :
1- وہ سوال آپ کے ذہن میں غیر ارادی طور پر آیا
2- اس سوال کا آپ کے ذہن میں آنا ایک بالکل فطری عمل تھا بلکہ جو دیکھا اس کا ردِ عمل تھا
3- یہ قدرت کا فیصلہ ہے کہ کس کو کیا مِلے اور کتنا ملے، کسی کو سب کچھ نہیں مل سکتا
………………..دیتے ہیں بادہ ظرفِ قدح خوار دیکھ کر………………
4- اس بچی کی معذوری، آپ کی سوچ کی وجہ سے نہیں بلکہ آپ کی سوچ کی درستگی کی سند ہے
میری اس بات کا مطلب غلط بھی لیا جاسکتا ہے لیکن مقصدِ عرض یہ ہے کہ آپ کے ذہن میں اُبھرنے والے “خدشہ” کے بعد آپ پر اس بچی کی معذوری عیاں ہوئی، کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ کے ذہن نے “احتمالات و امکانات” کا درست حساب لگایا ؟ ؟
ماشاء اللہ
اللہ کریم سب کو آفات و بلیات سے محفوظ رکھے، صحت و تندرستی اور دوجہاں کی خوشیاں و کامرانیاں عطا فرمائے
نادیہ پہلی بات کہ حُسن دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے میں اس بات سے سو فیصد متفق ہوں ۔ آپ کو وہ لڑکی بے انتہا حسین لگی آپ کو وہ پسند بھی آئی، پر انسانی نفسیات ہے کہ جب ہم ایسا کپچھ دیکھتے ہیں تو ہم مُختلف کیفیات کا شِکار ہوتے ہیں جسے کہ اُس لڑکی کو دیکھ کر آپ کی ہوییں وہ بے حد حسین تھی یہ آپ نے مانا پر شاید میں یقین سے نہیں کہہ رہی ایک عام بات کر رہی ہوں کہ اُس وقت کہیں آپ کے دل میں یہ خوایش بھی اُبھری کہ کاش آپ بھی ویسی ہی خوبصورت ہوتیں اس میں ایسا کُچھ بُرا نہیں کیوں کہ یہ جزبات عام طور پر سب کہ ہی ہوتے ہیں پر کیوں کہ ہم لوگ ہمیشہ یہ ہی سُنتے اور دیکھتےآییں ہیں کہ کسی کو مُکمل جہاں نہیں ملتا ،کہیں زمیں کہیں آسماں نہیں ملتا اسی لیے ہی فوراّ آپ کہ دماغ میں یہ سوال اُبھرا کہ یا مولی کامل ذات صرف تیری ہے تویہ کسے مُمکن ہے کہ یہ لڑکی کامل ہو بے شک صرف حُسن میں ہی سہی ۔
آپ کو آپ کے سوال کا جواب مل گیا پر بے چین کر گیا یہ بات آپکی اچھی ہمدرد دل رکھنے والی شخصیت کی طرف اشارہ کرتی ہے یہ بھی تو ایک حُسن ہےعقل رکھنے والے اس کو خوبصورتی ہی سمجھتے ہیں
ہاں یہ ہے کے آج ٨ سال بعد بھی آپ کو لگتا ہے کہ آپ نے کیوں سُوچا تھا کہ یا خُد اتو نے اس میں بھی تو کوئی کمی رکھی ہوگی تو پیاری بہن وہ کمی اُس لڑکی میں کوئی اُسی وقت تو پیدا نہں ہوئی تھی کہ آپ خوُد کو قصور وار سمجھ رہیں ہیں خود کواس بوجھ سے آزاد کر لیں الله بے نیاز ہے وہ اپنی کتابِ مُبین میں واضح الفاظ میں فرماتا ہے کہ ہم جس کو چاہتے ہیں بے حساب عطا کرتے ہیں ،، اصل بات تو یہ ہے نادیہ کہ ہم انسانوں کو اُس کی تقسیم پر شاکر ہونا نہں آتا ورنہ ہم کبھی اُس بے حد رحمن و رحیم سے کوئی گِلہ شکوہ نہ کریں اور آپ کو اپنی آگہی پر افسوس ہے شاید اسی لیے کسی نے کہا تھا کہ
کیا ضروری ہے باخبر ٹھریں
آگہیّ بھی عذاب ہوتی ہے
اس کے علاوہ مولی علی(ع) کا ایک بے حد خوبصورت فرمان ہے
کہ اگر تم کو معلوم ہو جائے کہ ت ایک دوسرے کے لیے دل میں کیا جزبات رکھتا ہے تو تم ایک دوسرے کے مُردے تک دفن نا کرو۔۔۔
اسی لیے کہتے ہیں کہ بے خبری بھی خُدا کی نعمت ہے
پریقین کر لیں کہ خُدا اپنے بندوں سے بے حد مُحبت کرتا ہے اور جو بے حد و حساب چاہتا ہو اور چاہنے والا بھی کون خود خُدا تووہ کبھی اپنے بندوں سے بے انصافی نہں کرتا اُس لڑکی میں اگر یہ کمی تھی تو آپ نے صرف اُس کواتنا حسین دیکھا تھا کیا پتا آُس میں خدا نے حُسن کے علاوہ بھی بہیت کُچھ ایسا رکھا ہو جو اگراُس کے پاوںّ ٹھیک ہوتے تو نہ رکھا ہوتا وہ رب ہے اور بہتر جنتا ہے کہ کس کو کتنا اور کس وقت دینا ہے خُدا سے دُعا ہے کہ وہ لڑکی جہاں کہیں ہو خوش ہوآباد ہو اور پھر سچ تو یہ ہی ہے نہ کے کسی نہ کسی کمی کے ساتھ زندہ رہنا ہی زندگی ہے
اور خُدا سے یہ دُعا بھی ہے کہ آپ کے اندر کی اس خوبصورتی کو بھی الله ہمیشہ سلامت رکھے (الہی آمین)
اور ایک بات یہاں عالمی اخبار میں سب یئ ایک دوسرے کو بہیت عزت سے پُکارتے ہیں پر میں آپ کو نادیہ صرف اس لیے کہتی ہوں کے آپ عمر میں مُجھ سے بس ایک سال بڑی ہوں گی یا پھر میری یئ جتنی ہوں گی اُمید کرتی ہوں آپکو میرا نادیہ کہنا بُرا نہیں لگے گا۔
الله حافظ و ناصر
میں بھی ایک مرتبہ اپنا کام ختم کرکے ریڈیو سے گھر جا رہی تھی بس میں کیا سوار ہوئی ایک حسین و جمیل پری کے پاس جگہ ملی اف کیا سحرانگیز شخصیت تھی اور اس پرسلیقہ کا میک اپ،،،،،،، اف آوارہ اور عاشق مزاج لڑکوں کی طرح نظریں بار بار پھسل رہی تھیں ۔اور ہم دل میں خود کو ملامت کر رہے تھے کہ اگر کوئی گڑ بڑ ہو گئی اور ہم اس کے پیچھے پیچھے چل پڑے تو ہماری تاریخ تو کیا زمانہ بھی معاف نہیں کرےگا واضح رہے کہ اس دن ہمارے اسٹیشن ڈائریکٹر جناب محمد نقی مرحوم نے ہمیں اچھا پروگرام کرنے پر خوب شاباشی دے کر کہا تھا کہ واقعی اچھی آواز دلوں کو فتح کرلیتی ہے۔ مگر ہمارا دل یہاں خود قابو میں نہیں آرہا تھا
کیا ہوتا آللہ میاں اگر ہم بھی اتنے حسین وجمیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملال ہی کررہے تھے کہ بہت ہی قریب سے ایک کرخت دار،بدصورت اورغیرمہذب آواز آئی
اے تونے ٹکٹ لے لی میرے سے تو یہ کنڈکٹر کا بچہ نہیں مانگ ریا میں رشتے میں اس کی پھپھی لگتی ہوں نا اس لئے لوفر کہیں کااور آگے کائیں کائیں کائیں کائیں
اور میرے کان سائیںسائیںسائیںسائیں
اف،،،،،،،،،میں نے ایک کہرآلود نگاہ حسینہ پر ڈالی
شور کیوں مچا کے کان کے پردے کیوں پھاڑ رہی ہو۔پھر وہ نہ جانے کس اسٹاپ پراتری کچھ یاد نہیں ،، بس نے لی مارکیٹ کی طرف ٹرن لی ۔ اپنی اپنی اماں جان کا ہاتھ تھامے چھوٹے چھوٹے کالے پیلے اودے نیلے گورے رنگ برنگی بچے ہر چیز سے بے نیاز سڑک پار کرنے میں لگے تھے ماں ریاست کی ملکہ بچے شہزادے
چلو بھئی بغدادی لیاری اسٹاپ والے گیٹ یہ آجائیں
چل رخسانہ شہزادی تمہاری منزل آگئی ملکہ عالیہ اوررعایا کھانے پر انتظار کررہے ہونگے دل نے دل سے کہا
آللہ تعالیٰ ! اے میرے رب رحیم و کریم تیرا صد ہزار ہا شکر ہے تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں
پیاری نادیہ
اللہ پاک کی ذات کے سوا اس دنیا میں ہر شے ادھوری ہے کہیں نہ کہیں کو ئی نہ کوئی کمی ضرور موجود ہے۔
یہاں کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کبھی زمین کبھی آسماں نہیں ملتا
اللہ تعالیٰ حکیم و خبیر ہے وہ ہی اپنی مصلحتیں بہتر جانتا ہے۔
ہمارا کام صرف راضی بہ رضا رہنا ہے
السلام علیکم
میں تو نادیہ جی کی تحریر پڑھ کر یہی سمجھا ہوں کہ
جو اس وقت ان کے ذہن میں خیال آیا وہ ایک فطری خیال تھا اور اکثر آ جاتا ہے. بلکہ یوں کہا جائے تو شاید زیادہ مناسب لگے کہ جب کسی کو اللہ تعالی ایک چیز میں دیتا ہے تو کسی اور چیز کی زیادتی سے اس کمی کو پورا بھی کرتا ہے. یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات معذور افراد بلا کے ذہین ہوتے ہیں. ان کی معذوری کی کمی کو ذہانت کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے.
اس لئے جب بھی کسی ایسی نابغہ روزگار ہستی سے نظر ملے تو یہ خیال ذہن میں آ جاتا ہے. اس پر خود کو ملامت کرنے کی ضرورت نہیں ہے …
اور دوسری بات .. جو خیال آج آٹھ سال بعد ان کے ذہن میں آ رہا ہے وہ غمازی کرتا ہے کہ نادیہ جی ایک دل دردمند رکھتی ہیں. جو کہ بجائے خود ایک نعمت ہے.
بس جب بھی ایسا خیال آئے اس بچی کی خوشی کے لئے دعا کر دیا کریں. شاید یہی وہ بہترین تحفہ ہے جو آپ اسے دے سکتی ہیں.
اللہ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے .. آمین
نادیہ بتول بخاری صاحبہ نے آٹھ سال بعد اس خوبصورت مگر چلنے پھرنے سے معذ ور لڑکی کو یاد تو کیا مگر یہ نہیں لکھا کہ اس لڑکی کا آج کل کیا حال ہے؟
……….
،زا تو جب تھا کہ نادیہ بتول بخاری صاحبہ اس لڑکی کے بچھلے آٹھ سال کے حالات بھی لکھدیتیں کہ اس نے اپنی زندگی کیسی گذ اری . کیا اسکی شادی ہوئی اور کیا اس کے کوئی بچے ہیں اور وہ اب کہاں پر ہے ؟
…..
ممکن ہے کہ وہ لڑکی ، نادیہ بتول بخاری صاحبہ کو کلاس میں داخل ہوتے دیکھکر انکی خوبصورتی اور انکی ذہانت اور خوب سیرتی سے متاثر ہوکر یہ کہتی ہوگی کہ” اللہ نے کہیں تو اس میں کمی رکھی ہوگی ”
………
حضرت موسٰی علیہ السّلام نے ایک جگہ دیکھا کہ معصوم بچّے ہنسنے کھیلنے میں مشغول ہیں لیکن ایک بچّہ ان کھیلتے ہوئے بچوں کے نزدیک سر جھکائے افسردہ بیٹھا تھا، حضرت موسٰی نے قریب جا کر دیکھا تو وہ بچّہ نابینا تھا ،
موسٰی علیہ السّلام کو بہت دکھ ہوا ۔ کوہ طور پر اللہ سے اس بچّے کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ اے اللہ اس بچے کو کس جرم کی سزا دی گئی ہے کہ اسے نابینا کر دیا، کوئی بالغ یا بڑا شخص ہوتا تو میں سمجھتا کہ اسے کسی گناہ کی سزا ملی ہے ، لیکن اے اللہ یہ بچّہ تو بالکل معصوم ہے ، اس کا دل بھی چاہتا ہے کہ میں بھی ان بچوں کے ساتھ کھیلوں اور دوڑوں، لیکن اب یہ بینائی سے محروم بچّہ حسرت و یاس کی تصویر بنا بیٹھا ہے ۔
دوسرے روز یا پھر کبھی موسٰی علیہ السّلام کا اسی جگہ سے گزر ہوا تو دیکھا کہ وہی پہلے والا نابینا بچّہ بھی دیگر بچوں کے ساتھ کھیل رہا ہے (کہ اللہ نے اسے بینائی عطا فرما دی تھی) لیکن موسٰی علیہ السّلام کے دیکھتے دیکھتے اسی بچّے نے ایک بچّے کا بازو توڑ دیا ، دوسرے کا پاؤں زخمی کر دیا، تیسرے بچّے کو مار دیا وغیرہ وغیرہ ۔
یہ منظر دیکھ کر موسٰی علیہ السّلام بہت پریشان ہوئے کہ کل جو بچّہ نابینا تھا اور اللہ نے اپنی رحمت سے اسے بینائی عطا فرمائی تو یہی بچّہ آج دوسروں کے لئے پریشانی، تکلیف اور نقصان کا باعث بنا ہوا ہے ۔
حضرت موسٰی پھر اللہ سے ہمکلام ہوئے تو یہ سارا معاملہ بیان کیا ، اللہ نے فرمایا کہ اے موسٰی تم صرف دیکھتے ہو ، میں کائنات کی ہر چیز کا خالق اور مالک ہوں ۔ میں نے ہی ہر چیز کو اپنی حکمت کے تحت مختلف شکل، انداز اور مرتبے عطا کئے ہیں اور میں ہی ہر چیز کا بندوبست کرتا اور بہتر جانتا ہوں، تم اس سے بے خبر ہو ۔
نادیہ بیٹی، آپ اور ہم روز مرّہ کی زندگی میں گورے کالے، لمبے بونے، امیر غریب، بادشاہ رعایا، مزدور اور افسر وغیرہ کو دیکھتے رہتے ہیں، لیکن ان کے دینی و دنیاوی مرتبے، انکی طاقت، انکی غربت و امارت اکثر و بیشتر ان کی خوبصورتی و بد صورتی سے مختلف ہوتی ہیں اور ہم اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کرتے ہیں ، ان تمام باتوں میں اللہ کے راز اور حکمتیں پوشیدہ ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے، اور اسی میں حضرت انسان کیلئے سبق اور امتحان ہیں۔
نادیہ بیٹی آپ خواہ مخواہ پریشان ہو رہی ہیں جو منظر آپ نے کلاس روم میں دیکھا اس میں آپ کی سوچ و نیّت کا کوئی قصور نہیں بلکہ ان جیسے اور دیگر بےشمار ظاہری و باطنی معاملات، حالات، واقعات میں اللہ نے آپ اور ہم سب انسانوں کیلئے سوچ و فکر کے بے حساب سبق مختلف اسباب کے ساتھ مہیّا کئے ہوئے ہیں ۔ جن سے سب انسان اپنے اپنے طور پر شعور کی منزلیں حاصل کرتے ہیں ۔
عبدالمناف صا حب اپ کا بہت شکریہ اپ نے مجھے اتنے خوبصورت رشتہ عطا کیا ۔۔۔۔۔۔
۔۔ ثمرین بخاری اپ مجھے کسی بھی نام سے پکاریں گی مجھے اچھا لگے گا ۔۔۔۔۔
رخسانہ نازدادمحمد صا حبہ اپ کا واقعہ کافی دلچسپ تھا
ارشاد عرشی ملک صا حبہ اپ کا بہت بہت شکریہ اپ نے خو ب کہا کہ اللہ تعالیٰ حکیم و خبیر ہے وہ ہی اپنی مصلحتیں بہتر جانتا ہے۔
ہمارا کام صرف راضی بہ رضا رہنا ہے
راجہ اکرام صا حب یقینا اس لڑکی کے لئے میرے دل سے دعا نکلتی ہے
منظور قاضی صا حب کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ اچھا ہی ہوا جو اس سے میرا کوئی رابطہ نہیں ہے
ثمرین بخاری صااحبہ نے اپنے تبصرے میں ” اچھی ہمدرد دل رکھنے والی شخصیت “محترمہ نادیہ بتول بخاری صاحبہ کے بارے میں یہ بات لکھی ::
” آپ کو آپ کے سوال کا جواب مل گیا پر بے چین کر گیا یہ بات آپکی اچھی ہمدرد دل رکھنے والی شخصیت کی طرف اشارہ کرتی ہے یہ بھی تو ایک حُسن ہےعقل رکھنے والے اس کو خوبصورتی ہی سمجھتے ہیں ”
………
اور میرے تبصرے کے جواب میں ” اچھی ہمدرد دل رکھنے والی شخصیت محترمہ نادیہ بتول بخاری صاحبہ فرماتی ہیں :
“منظور قاضی صا حب کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ اچھا ہی ہوا جو اس سے میرا کوئی رابطہ نہیں ہے”
……
ایسا کیوں ؟
“اگر اس خوبصورت مگر اپاہج لڑکی سے نادیہ بتول بخاری صاحبہ کا رابطہ رہتا تو نادیہ بتول بخاری صاحبہ کا کیا نقصان ہوجاتا ؟
……
ایسے ہی موقعوں پر کسی کا یہ شعر یاد آتا ہے کہ:
یادوں کے ساتھ ساتھ کئی تلخیاں بھی تھیں
اچھا کیا کہ تونے فراموش کردیا
فقط:
نادیہ بتول بخاری صاحبہ کے بلاگوں کا دلدادہ
منظور قاضی
جرمنی سے
محمّد علی خان صاحب اپ کا بے پناہ شکریہ اپ نے بہت اعلی مثال دی
منظور قاضی صا حب دلدادہ تو میں ہوں اپ کی ———
میں اس بلاگ میں محمد علی خان صاحب کا تبصرہ بار بار پڑھتا جاتا ہوں اور انکے طرزِ بیان اور انکی نصیحتوں کو جو انہیوں نے ” نادیہ بیٹی ” کو دیں انہیں پڑھتا جاتا ہوں اور دل ہی دل میں کہتا ہوں کہ کاش محمد علی خان صاحب . عالمی اخبار میں اسی طرح کے بلاگ لکھا کرتے جن سے پڑھنے والوں کے دل و دماغ روشن ہوتے رہیں.
….
میں نادیہ بتول بخاری صاحبہ کا شکریہ اد ا کرتا ہوں کہ انہوں نے یہ کہا کہ وہ میری دلدادہ ہیں .
نادیہ بتول بخاری صاحبہ آپ کے منہ میں گھی شکر.
آللہ آپ کو آپ ہی کی طرح نہایت ہی خوبصورت اور ذہین اور خوب سیرت اور ہمدرد شریکِ حیات عطا کرے اور آپ کو آپ کے نیک مقاصد میں کامیاب فرماتا رہے . آمین
فقط:
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی کی ایک لایبریری سے
محترم منظور قاضی صا حب اپ کا بے پناہ شکریہ انشااللہ امین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔