پیغبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خاکے اور آزادی اظہار، ہم پریشان ہیں، میری مدد کیجئے
چند روز قبل میں دفتر میں بیٹھا خبروں کی تلاش میں سرگرداں تھا کہ میری نگاہ ایک خبر پر پڑی، سوئیڈن میں کسی فیس بک یوزر نے پیغمبر اسلام کے خاکے بنانے کا مقابلہ رکھ چھوڑا، میرا ذہن اس خبر سے جڑی ماضی کی کئی خبروں میں الجھ گیا اور میں آنے والے دنوں میں کئی افراد کی ہلاکت، املاک کا نقصان اور احتجاجی مظاہرے دیکھنے لگا۔ ایک طرف تو بحیثیت انسان مجھےآزادی اظہار اور آزادی رائے کے حق پر فخر تھا اور دوسری طرف مسلمانوں کی دل آزاری پر افسوس۔ میں سوچ رہا تھا کہ کیا کیا جائے، ظاہر ہے حضور کی شان میں کوئی گستاخی کرتا ہے تو تکلیف ہوتی ہے اور دوسری طرف میں اس حق کو بھی تسلیم کرنے والا شخص ہوں کہ انسان بنیادی طور پر آزاد پیدا ہوا ہے اور اسے اپنی سوچ اور اپنا نکتہ نظر بیان کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ پھر خیال آیا کہ ایسے مواقع پر اسلام کا یا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا اپنا طریقہ کار کیا رہا ہے۔
مکہ کی ایک عورت جو حضور پر اپنے گھر کے قریب سے گزرنے پر کچرا اور نجس اشیا پھینکا کرتی تھے، اس کے خلاف حضور نے کیا کیا، یا حضور کے جاں نثار صحآبہ نے ایسے موقع پر کیا راستہ اختیار کیا۔ کہیں اس خاتون کو قتل تو نہیں کیا گیا، یا کہیں مکے کی گلیوں میں اس نہایت نازیبا حرکت پر کوئی احتجاج تو نہیں ہوا؟ تو نظرآیا کہ نہیں، ایک مرتبہ اس عورت نے حضور پر کچرا نہ پھینکا تو دریافت کیا کہ وہ عورت آج کہاں ہے؟ جب معلوم ہوا کہ بیمار ہے تو اس کی عیادت کے لئے اس کے گھر گئے اور اس کے حق میں دعا کی۔ طائف کی وادی میں حضور کو گالیاں دی گئی، پتھر برسائے گئے، نعوذ باللہ پاگل کہا گیا، انہیں ان گلیوں میں گھسیٹا گیا۔ اور وہاں سے باہر نکلنے پر اس لہولہال عظیم المرتبت پیغمبر نے اس بستی کو ویران کر دینے کی دعا کی بجائے اس بستی کے لوگوں کے حق میں، ان کے علم میں اضافے کی دعا کی۔ حضور نے کہا تھا اے اللہ انہیں معاف کردے کہ یہ نہیں جانتے کہ یہ کیا کر رہے ہیں اور انہیں علم عطا کر کے یہ حق و باطل میں فرق کر سکیں۔ بعد میں اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے دو بڑے جرنیل خالد بن ولید اور عمروبن العاص ایمان بھی لائے اور اسلامی فتوحات میں حصہ بھی لیا۔ جن لوگوں نے مکہ میں حضور کی لئے زمین تنگ کر دی تھی انہیں فتح مکہ کے بعد معاف کر دیا اور اپنے سب سے بڑے دشمنوں کے گھروں کو دوسرے کے لئے جائے پناہ کا درجہ دیا گیا۔ یہ تو بڑی مثالیں ہیں۔ چھوٹی چھوٹی تو شاید لاکھوں مثالیں ہوں گی۔
جب یہ سب دیکھا تو پھر سوچا کہ جوآج دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، یہ حضور کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف ہیں یا حضور کی شان میں خود گستاخی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ پھر یہ سوال میرے ٖذہن میں ابھرا کہ حضور کے نام پر کوئی خاکہ منسوب کرنے سے یا حضور کی زندگی کے کسی حصے پر کچڑ اچھالنے کی کوشش سے حضور کے مرتبے پر کوئی فرق پڑ سکتا ہے؟ کیا ان کے درجے میں کوئی کمی آ سکتی ہے؟ کیا ہزار ہا گنا بہتر نہ ہوتا کہ ایسی کسی بھی حرکت کو ہم سرے سے نظر انداز کر دیتے یا ایسے لوگوں کے حق میں دعا کرتے۔ بہت دن قبل مجھے سلمان رشدی کی کتاب پڑھنے کا موقع ملا۔ مجھے وہ کتاب پڑھ کر ہنسی بھی آئی اور غصہ بھی۔ ہنسی اس لئے کہ میں لکھاری ہوں اور وہ ناول مجھے صرف ایک اوسط درجے کا ناول لگا جو رشدی کے دوسرے ناولوں کے مقابلے میں انہتائی کم حیثیت کا تھا، اور اسے اتنی شہرت ملی اور اس کی لاکھوں کاپیاں فروخت ہوئیں اور غصہ اس بات پر آیا کہ خواہ مخواہ اسے اتنی اہمیت دی گئی، کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس شخص کے لئے تمام مسلمان مل کر دعا کرتے کہ سلمان رشدی کے علم میں اضافہ ہو اور اسے حقیقت کا ادراک ہو سکے۔ خدا کی قسم اگر پوری دنیا میں اس کے لئے اجتماعی دعا کی تقریب منعقد کی جاتی تو یہ سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رک جاتا۔
دوسری طرف میں یہ بھی سوچنے لگا کہ آزادی رائے ہے کیا؟ یورپ جسے آزادی رائے اور انسانی حقوق کا علمبردار سمجھا جاتا ہے وہاں بھی، آپ مذہبی منافرت، دہشت گردانہ سوچ، نسلی عصبیت یا یہودیوں کے قتل عام سے متعلق کوئی بات نہیں کہہ سکتے (گو کہ ایسی بات کہنی بھی نہیں چاہیئے میری نظر میں، چاہے لاکھ طرح کی آزادی ہی حاصل کیوں نہ ہو) اگر کوئی من چلا سڑک پر بغیر لباس کے چلنا شروع کرے تو اس گرفتار کر لیا جاتا ہے، سڑک پر ایک حد تک کی ہی حرکات کی اجازت ہے، تو جناب یہ بھی تو فریڈم آف ایکسپریشن ہے، اجازت دے کیوں نہیں دیتے؟ کیا یہ دوہرا معیار ہے؟ یا ہم ہی یہ بات انہیں سمجھا نہیں پا رہے؟
پھر مجھے دکھ ہوا، میں اور میرے کئی دوست پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں سے، مذہبی انتہا پسندی کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے؟ ہم لوگوں کو باور کروا رہے تھے، نظمیں لکھ رہے تھے، سوالات کھڑے کر رہے تھے کہ مذہب کو کسی پھر ٹھونسنا نہیں چاہئے اور خیال رکھنا چاہئے کہ مذہب کو اب واقعی میں جنیرک سٹیمنٹس کی بجائے سپیسپفک عدسے سے دیکھنا پڑے گا۔ کئی مذہبی چیزوں کو نئے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے اور پرانے علماء کے فتووں کی بجائے، مل بیٹھ کر نئے زاویوں سے چیزوں کو از سر نو مرتب کرنے کی گنجائش ہے۔ بہت کوششوں کے بعد ہم نے دیکھا تھا کہ لوگ خاص طور پر نوجوان ہماری بات سننے میں دلچسپی لے رہے تھے، معاشرے میں دلائل اور سوالات کا ماحول پیدا ہو رہا تھا۔ ہم لوگوں کو سمجھا رہے تھے کہ اسلام عقل فہم اور علم و جستجو کے لئے سب سے زیادہ زور دیتا ہے۔ شعور و آگہی کے بغیر خدا کی پہچان ممکن ہی نہیں ہے اور اندھا ایمان کبھی اہل علم کے یقین کی طرح قابل تقریم نہیں ہو سکتا۔ مگر خاکوں کے اس واقعے کے بعد میرے وہ دوست جنہیں ہم نے کئی برسوں کی محنت کے بعد اس قابل کیا تھا کہ وہ سوچنے سمجھنے پر آمادہ دکھائی دیتے تھے، ایک مرتبہ پھر احتجاجی مظاہروں میں نعرے لگاتے ہوئے دکھائی دئے۔ ہماری برسوں کی محنت ضائع ہو گئی اور اس واقعے نے ہمیں ایک مرتبہ پھر تقریبا 20 برس پہلے کی حالت میں لوٹا دیا۔ میں سخت پریشان ہوں ، آپ میری مدد کیجئے۔۔ جون بھائی نے کہا تھا
یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو
کوئی رہتا ہے آسمان میں کی؟ا
بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا؟
آداب
عاطف توقیر

برادرم کیانی صاحب۔
کیا خیال ہے اگر یہ سائیٹس بند نہ کی جا چکی ہوتیں تو پھر صورت حال وہی نہ ہوتی جسکا خدشہ آپ نے ظاہر کیا ہے؟ میرے خیال سے یہ نہایت مناسب اقدام تھا، اور اسی کے سبب سے سادہ دل عوام کو یہ بہلاوا مل گیا کہ حکومت کچھ کر رہی ہے۔ ہم نے تو پہلے ہی کہا کہ یہ فیلرز ہیں، اور مخالفین یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہمارا رد عمل کیا ہے۔ یو ٹیوب، گوگل اور فیس بک کا بائیکاٹ ایک پڑھا لکھا انداز ہے جس میں نہ املاک کا نقصان ہوتا ہے نہ لاشیں گرتی ہیں۔
ان اقدام کا مقصد کم از کم یہ باور کرانا ضروری ہے کہ ان سائیٹس کی مالک کمپنیاں آئیندہ اپنے یوزرز کے اوپر کڑی نظر رکھیں۔ آخر ہمارے بائیکاٹ نے کوئی تو نقصان کی بات کی ہے کہ یہ کمپنیاں بھی چیخ رہی ہیں اور انکے استعمال کنندگان بھی۔ گوگل کا کاروبار تو روزانہ کی ہٹس پر ہی چلتا ہے۔ اگر ایک ملک کی ہٹس آنا ہی بند ہو جائیں تو خود سوچیں کہ نقصان تو ہے نا۔
توہیں رسالت کے حوالہ سے آپ کی طرف سے کوئی رد عمل ظاہر نہیں ہوا۔ یہ بھی امر حیرت ہے ۔۔۔
رہا مسئلہ کارٹون کے جواب میں کارٹون کا تو آپ کس کا کارٹون بنائیں گے؟ ہمارا مذھب ہمیں کیا سکھاتا ہے۔ بھئی ہم صرف نفرین کر سکتے ہیں اور بائیکاٹ۔
بہر کیف رد عمل کے جتنے طریقے آپ نے گنوائے ہیں، ہمیں سب سے اتفاق ہے۔
چونکہ یہ بلاگ سیر حاصل گفتگو کر چکا ہے، اس لئے اسے مزید بحث کو ترک کر دیں تو ہم سب کے لئے بہتر ہوگا۔
والسلام۔
محترمہ رخسانہ ناز داد محمد صاحبہ۔
بہت خوب۔ چلیں اک امتحان ہے۔۔۔۔
آپ سے اتنی بیوقوفی کی امید نہ تھی۔ گویا عقل گھاس چرنے گئی ہوئی تھی، یا عقل کوری ہے۔ آپ تو محض نادان ہیں اور جہل مرکب۔ کہیں پاگلوں اور دیوانوں کے گروہ سے لگتی ہیں آپ، جیسے کسی دہشت گرد قبیلے سے ہوں۔۔۔ سوائے بیوقوفی کے اور کوئی بات آپ کو آتی ہی نہیں۔۔۔۔۔۔آپ کو یہ انداز تخاطب کیسا لگا۔۔۔اک دم برا ناں۔
یہی ہوتا ہے، اپنے لئے تو جذبات بھڑک اٹھتے ہیں، لیکن رسالتمآب کے دشمنوں کے لئے دعا۔ یہ کارٹونوں والے یہی توہین تو رسالتمآب کی کرنا چاہ رہے ہیں، لیکن وہاں آپ کو مزاحمت کی بجائے سانپ سونگھ جاتا ہے۔ واہ بھئی واہ۔
اتنی بحث مباحثے کے بعد آپ بات کو پھر وہیں سے پکڑ رہی ہیں جہاں سے شروع ہوئی تھی۔ خدا کے لئے باقی تبصرے بھی تو پڑھیں۔ ویسے آپ آج سے دعا شروع کر دیجیئے، ان کے لئے جو آپ کو ، آپ کے اجداد کو اور آپ کے گھر والوں کو برا بھلا کہے، انکا مذاق بنائے اور تماشہ لگائے۔ یہی رویہ آپ نبیء پاک کے لئے چاہتی ہیں، کیوں نا شروعات خود سے کریں۔
نو ہارڈ فیلنگز، پلیز۔
جی مصباح صاحب اس موضوع پر میرے خیال سے تمام دوستوں اور احباب نے نہایت تفصیلی اور مدد انداز سے گفتگو کر لی ہے اور میرے خیال سے اس امر پر ہم سب کو اتفاق ہے کہ یہ ایک شرمناک حرکت تھی اور اس جس جس طرح سے بھی تنقید کا نشانہ بنایہ جا سکے اور جس جس طرح سے بھی روکا جا سکے ان تمام ذرائع کو بروئے کار لانا چاہئے۔ ایک عام شخص سے لے کر حکومتوں اور مملکتوں تک سے صدائے احتجاج بلند ہونی چاہئے۔۔ شکریہ آپ تمام دوستوں کا کہ آپ نے اپنے اپنے علم کو ہم سب سے بانٹا۔ آداب
تمام دوستو کی مشترکہ رائے کے بعد کہ ” یہ اسلام دشمنوں کی ایک شرمناک سازش ہے اور اسے جس جس طرح سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا سکے اور جس جس طرح سے بھی روکا جا سکے ان تمام ذرائع کو بروئے کار لانا چاہئے۔ ایک عام شخص سے لے کر حکومتوں اور مملکتوں تک سے صدائے احتجاج بلند ہونی چاہئے۔۔ ہم سب اس مَذموم عَزائِم کی شدید مذمت کرتے ہیں ”
مدیر اعلی عالمی اخبار( جناب صفدر ہمدانی ) اور ترجمان عالمی اخبار (جناب سید مصباح حسین جیلانی ) سے مشاورت کے بعد اس بلاگ کو مزید تبصرہ جات کے لئے بند کیا جاتا ہے ..
آپ تمام احباب کا بہت بہت شکریہ … خاص طور پر ان دوستوں کا جنہوں نے اس بلاگ میں فکری اور شعوری حصہ لیا اور اپنے اپنے فرض کو ایمانداری سے نبھایا .. اللہ تعالی ہماری اس ادنی سی کوشش کو قبول فرمائے اور ہمیں دین ودنیا کی رسوائی سے بچائے ..آمین
آمین باجو۔۔۔