نگہت باجو آپ کی نظم پڑھ کر مجھے اپنے کالج کے زمانے میں لکھی گئی ایک نظم یاد آئی میں نے سوچا اپنے تمام اہل فکر دوستوں سے بانٹ کر اپنا حصہ ملا دوں۔۔ یہ تب کی بات ہے، جب کراچی میں فوجی آپریشن جاری تھا اور ہم ہر روز بہت سے لوگوں کی موت کی خبریں بھی سنتے تھے اور شہر خوف میں ڈوبا ہوا بھی تھا۔
اس نظم کا نام ہے ‘‘موت‘‘
کہیں دشت قیامت میں، کہیں غاروں میں رہتی ہے۔
دھوئیں کی کروٹوں کے زائچوں پر رقص کرتی ہے
ہواؤں میں لٹکتی ہے، زمینوں پر بھٹکتی ہے
کبھی گولی پہن کر گھر کے آنگن میں اترتی ہے
کبھی یہ سانس بن کر جسم میں گھس کر، لہو تھکوانے لگتی ہے
کبھی سورج نگلتی ہے
کبھی چندہ چباتی ہے
کبھی یہ آگ کی لو اپنے ہاتھوں پر اٹھاتی ہے
کبھی پلکوں پہ چڑھ کے، آسماں سے کود جاتی ہے
کبھی یہ واقعہ ہے اور کبھی یہ سانحہ بھی ہے
کبھی یہ حادثہ ہے اور کبھی یہ راستہ بھی ہے
یہ ایسا سانپ ہے، جو عکس اپنی آنکھ میں رکھ لے تو پھر مکتی نہیں دیتا
یہ ایسی رات ہے، جو اپنے کالے بازوؤں سے روشنی کا قتل کرتی ہے
اگر یہ ٹھان لیتی ہے، تو سب کچھ جان لیتی ہے
ہزاروں لاکھوں لوگوں میں بھی یہ پہچان لیتی ہے
اور اس سے لڑ کے آخر زندگی بھی ہار اپنی مان لیتی ہے
کہیں پاتال میں چھپ کر بھی کوئی بچ نہیں سکتا
کسی مجمع کسی پنڈال میں چھپ کر بھی کوئی بچ نہیں سکتا
فقط نتھنے پھلا کر یہ لہو کو سونگھ لیتی ہے
بدن کو ڈھونڈ لیتی ہے
ازل سے موت اندھی ہے، ازل سے موت اندھی ہے۔

کبھی گولی پہن کر گھر کے آنگن میں اترتی ہے
ہزاروں لاکھوں لوگوں میں بھی یہ پہچان لیتی ہے
بدن کو ڈھونڈ لیتی ہے
میرے بھائی ایسے استعارے کیسے ڈھونڈ لیتے ہو … تمہاری دلسوزی کا علم ہے مجھے … جب بھی لکھتے ہو دل سے لکھتے ہو … اللہ میرا مالک تمہیں نظر بد سے بچائے اور دین و دنیا کی ساری خوشیاں عطا کرے .. آمین
نگہت باجو۔۔۔ آپ جیسے اہل فکر لوگوں کو پڑھ کر خیال اس قابل ہوتے ہیں کہ کچھ لکھا جا سکے۔ آپ جیسی فکر تو ظاہر ہے نہیں ہو سکتی، یہ تو صرف ایک کوشش تھی، بلکہ کوشش بھی نہیں یہ تو ایک احساس تھا جو شاید خود ہی اتر آیا۔ میں نے تو صرف لکھا ہے، لکھوایا تو شاید کسی اور نے تھا۔ میں تو قلم ہوں، فکر تو کہیں اور سے عود آئی تھی۔۔ آپ کا شکریہ کہ آپ نے بہت دی
واہ عاطف توقیر بہت خوب لکھا ہے ۔کسی سیانے نے سچ کہا ہے کہ ’’دنیا میں اآنے کا صرف ایک راستہ ہے اور جانے کے ہزاروں راستے ہیں‘‘
اس مفہوم کو اآپ نے بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔
جناب ارشاد عرشی آپا آپ کی محبت اور پیار کا شکریہ
عاطف توقیر بھائ سلامت رھو نظم بہت اچھی ھے
اگر یہ ٹھان لیتی ہے، تو سب کچھ جان لیتی ہے
ہزاروں لاکھوں لوگوں میں بھی یہ پہچان لیتی ہے
اور اس سے لڑ کے آخر زندگی بھی ہار اپنی مان لیتی ہے
کہیں پاتال میں چھپ کر بھی کوئی بچ نہیں سکتا
کسی مجمع کسی پنڈال میں چھپ کر بھی کوئی بچ نہیں سکتا
فقط نتھنے پھلا کر یہ لہو کو سونگھ لیتی ہے
بدن کو ڈھونڈ لیتی ہے
ازل سے موت اندھی ہے، ازل سے موت اندھی ہے۔
ازل سے موت اندھی ھے۔۔۔۔
اور ھاں بھائ آپ کو پرزور طریقے سے دادا دینے والی ھماری بہت محترم ارشاد عرشی مللک صاحبہ ھیں اور یہ بہت خوبصورت اشعار کہتی ھیں اور ھم سب کو انکی حکمت آمیز نظموں غزلوں کا انتظار رھتا ھے
شکریہ جناب۔ آپ کی محبت۔ عرشی آپا کی میں نے یہاں ایک دو نظمیں پڑھیں ماشاللہ وہ واقعی بہت پرزور شاعرہ ہیں
اس نظم کے مفہوم کے ساتھ ساتھ مجھے اس کا آہنگ بیحد پسند ہے۔ اسکی نغمگی لاجواب ہے۔
میں 1992 میں کراچی میں تھا اور اس وحشیانہ آپریشن کا چشم دید گواہ ہوں ۔ اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی۔ اس آپیشن کے سرغنہ کو اللہ نے قبر میں بھی چین نہیں دیا اور عدالت نے اسکی قبر کو کھد وادیا۔ اسکی سفاکی نے پندرہ ہزار معصوم اور جوان لاشیں گرائ تھیں۔ آج کئ جنرلز بمعہ اسو قت کے کور کمانڈر کراچی جنرل نصیر اختر اس سازش کا اور اپنی غلطی کا اعتراف اور اس پر شرمندگی کا اظہار TV پر کررہے ہیں۔ لیکن کراچی میں اس وحشیانہ آپریشن پر جو ردَّ عمل ہوا ہے وہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے اور مستقبل قریب میں اسکا ختم ہونا ناممکن نظر آتا ہے۔
شعلے جو بھڑک اُٹھتے ہیں بے کار شرر سے
پانی سے وہ بجھتے ہیں نہ وہ دیدہء تر سے
واہ بھئی واہ بہت اعلی اپ اتنا عرصہ کہاں تھے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
شکریہ جناب، میں آپ کی محبت کا تہہ دل سے ممنون ہوں۔ کچھ پڑھائی کی مصروفیات تھیں اور کچھ ایک ناول لکھ رہا ہوں سو اس کی وجہ سے بھی وقت نہیں مل رہا تھا۔ کوشش ہو گی کہ وقفے وقفے سے ہی سہی مگر حاضری ہوتی رہے۔ آپ کی دعاٗں کا طالب
عاطف آپ کو عالمی اخبار پر دیکھ کر خوشی ہورہی ہے امید ہے آئندہ بھی آپ سے استفادہ کرتے رہیں گے.
میں یقینی طور پر یہاں حاضری دیتا رہوں گا۔ عالمی اخبار سیکھنے کی ایک بہترین جگہ ہز، جہاں ہماری ملاقات نہایت اہل فکر لوگوں سے ہوتی ہے۔آپ کا شکریہ کہ آپ نے اس محبت کے قابل سمجھا۔ آداب