لہجہ

ٓمجھے تقریبا الیکٹرانک میڈیا میں پانچ سال ہو نے والے ہیں میں ریڈیو پاکستان پر بھی پروگرام کرتی رہی ہوں جب میں دنیا ٹی وی میں ائی تو میرا سی وی دیکھ کر کہا گیا کہ اپ کو ہم اینکر لینا چاہیں گے تو فورا مجھے سکرپٹ پکڑا دیا گیا میں نے خبر پڑھی تو جو موصو ف  میرا انٹرویو لے رہے تھے  کراچی سےان کا تعلق تھا فرمانے لگے کہ اپ کا تلفظ بھی ٹھیک ہے اور پازز بھی ٹہیک ہیں لیکن اپ کا لہجہ پنجابی ہے  میں نے جواب دیا کہ دیکھیے جناب لہجہ تو اس علاقے کی خوشبو ہوتی کہ جس علاقے سے اس شخص کا تعلق ہو  میری والدہ اردو سپیکنگ ہیں اور والد پنجابی ہیں مجھے تو اس بات کی خوشی ہے کہ میں اپنی ماں کی زبان باپ کے لہجے میں بولتی ہوں اپ احبا ب سے یہ واقعہ شئیر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ موصو ف اس بات پر باضد تھے کہ ماسوائے کراچی والوں کے اردو کوئ اورصحیح لب و لہجے میں  نہیں بول سکتا بہت سمجھایا کہ بڑے بڑے نام پیدا ہوئے ہیں پنجاب میں کہ جنھوں نے لازوال کارکردگی کا مظاہرہ کیا  ہے اردو کی ترقی میں۔۔ ان موصو ف  کی اس طرح کی گفتگو اکثر و بیشترافس کا ماحول خراب کر دیتی ہے کہ پڑھے لکھے ہوکر بھی ایسی متعصبانہ گفتگو فرماتے ہیں ۔۔۔۔ مھے نہیں پتہ کا اپ میری اس بات سے کس حد تک اتفاق کرتے

24 thoughts on “لہجہ”

  1. میں اسے متعصبانہ رائے نہیں کہوں گا جبکہ میرا بھی وہ ہی مسئلہ ہے۔ لہجہ پہچان کروا دتا ہے جبکہ میں پنجابی نہیں بولتا گھر پر بھی نہیں! والد کا تعلق پنجاب سے اور والدہ کشمیری ہیں!!! نانا تقسیم کے وقت ہجرت کر کے مقبوضہ کشمیر سے پاکستان آئے تھے۔
    میری رائے میں ایک خاص لہجہ بہرحال اردو کی پہچان ہے وہ لہجہ پاکستان میں کہیں بھی پایا جا سکتا ہے اور کراچی میں اتنا عام تو نہیں ہے بلکہ ٹی وی و ریڈیو میں جب احباب کی اردو کا لہجہ نہایت اعلِی ہے معلوم ہوتا ہپے وہ خود ککراچی کے نہیں بلکہ ملک کے کسی اور گوشے سے تعلق رکھتے ہیں۔
    کراچی میں ایک ایف ایم چینل پر سلیس اردو میں مخصوص عمدہ لہجہ میں )اُس روایت کے خلاف جو اردو اب ایف ایم میں بولی جانے لگ گئی ہے اردو + انگریزی( پروگرام کرنے والے صاحب کا تعلق خیبر پشتون خوا سے ہے۔
    اس کے بجائے کراچی کے کئی ڈی جے اردو کی ہر روز نئی قبر بنوا رہے ہوتے ہیں!

  2. نادیہ یہ سب احساس کمتری کی باتیں ہیں ۔۔ لہجے کا عمدہ ہونااچھی بات ہے لیکن اتنی معمولی سی بات کو سوہان روح بنا لینا توبہ ۔۔۔ لوگوں کے بھی کیا کیا کمپلکس ہوتے ہیں ۔۔ تم نہ سنا کرو ایسے لوگوں کی باتیں ۔۔ تمہارا اس بات کو اہمیت نہ دینا ہی اس بات کی وقعت کو کم کر دے گا ۔۔ اور کبھی کبھی ایسے لوگوں کو بے خوف ہو کرسنا بھی دینا چاھئے ۔۔ تاکہ ان کی محب وطنی کا پول بھی کھل جائے ۔۔ اور ان کی متعصبانہ سوچ سب پر واضح بھی ہو جائے ۔۔۔

  3. کراچی کی اکثریت کو اردو آتی ہی کہاں ہے؟ ہم تو کتنے ہی کراچی والوں کو جانتے ہیں جو رادو سے ملتی جلتی اک زبان بولتے ہیں، جس میں گجراتی و میمنی کا غالب رنگ اور لہجہ ملتا ہے۔ مثلا اماں کاہے کو شور مچائے ہو، کو اردو کہنا تو زیادتی ہوگی۔ یا اپن چپکے سے نکل لئے۔۔۔۔میرے کو عام آدمی مت سمجھو، تمہیں معلوم پڑے گا تو خواہمخواہ پریشان ہووگے۔۔۔اسطرح کے جملے اب کراچی والوں کے زبان زد عام ہیں، اور دوسری طرف جن کو صحیح اردو آتی ہے، وہ ملک بھر میں اسکا انگریزی تڑکا لگا لگا کر اسکو حلال کئے جا رہے ہیں۔
    وقت کے ساتھ ساتھ کراچی والوں کی اردو خراب سے خراب تر ہوتی چلی جا رہی ہے، جس کی طرف انہیں خاص توجہ کی ضرورت ہے۔
    پنجابی، پشتو یا بلوچی کے طعنے تو محض احساس کمتری کے شاخسانے ہیں، ورنہ اہل ادب تو ہر معاشرے نے پیدا کئے ہیں۔ من حیث القوم ہمیں اردو کی ترقی و ترویج کی طرف خاص توجہ کیی ضروت ہے، جس میں کئی نئے الفاظ کی تشکیل وتجذیب ضروری ہے تا کہ عالمی برادری کے ساتھ چلتے چلتے ہیں انکا کاندھا نہ پکڑنا پڑے۔

  4. السلام علیکم ۔
    یہ بہت ہی اہم معضوع ہے اور بس اللہ کرے کے یہ سیاسی رنگ میں نا چلا جائے آمین۔
    کیونکہ پچھلا ایک بلاگ تو ایک سیاسی جماعت کے لئیے مخصوص ہو گیا تھا اس لئیے انتظامیہ نے بہت ہی اچھا کیا کے وہ بلاگ بند کر دیا ۔دوسرا بلاگ میری غیر موجودگی میں ہی کھلا اور بند بھی ہو گیا ۔وہ بھی انتظامیہ کا بہت اچھا قدم تھا
    بہر حال
    میرے والد اور والدہ دونوں کا تعلق پنجاب سے ہے مگر میرا سسرال کراچی سے ہے اور سو فیصد اردو اسپیکنگ ہے ۔ اس لئیے جو نادیہ نے کہا اس سب کو میں نے بھی بہت قریب سے دیکھا ہے ۔
    لکھنے میں تو میری اردو کافی بہتر ہے مگر بولنے میں اس میں ایک تو یورپ کی پرورش ۔چوبیس گھنٹے ڈینش بولنا پھر گھر میں اردو اور علی سے یا گھر والوں سے پیور اردو میں بات کرنا ایک عجیب طرح کی کھچڑی بنی ہوتی ہے دماغ میں۔
    اکثر اپنے بولے ہوئے جملوں پر ٹوکے جانے سے بھی غصہ آتا ہے مگر ہاں یہ بات میں مانتی ہوں کے ان 5 سالوں میں میری اردو بہت ذیادہ بہتر ہوئی ہے اور اسکا سب کریڈٹ میرے شوہر اور میری سسرال کو جاتا ہے کیونکہ مجھے ماحول بھی ایسا ملا اور ایک طرح سے تربیت بھی ویسی ملی
    مگر بات پھر وہیں آ جاتی ہے کے ایک پروپر اردو بولنے والے اور ایک صرف اردو بولنے والے میں کافی فرق آ جاتا ہے۔میرے لہجے میں بھی تھوڑی پنجابی کی جھلک آتی ہے اور کچھ یہاں کا اثر خیر یہ قدرتی بات ہے اس پر نادیہ کی بہت پیاری بات یہی لگی کے میں اپنی والدہ کی ذبان اپنے والد کے لہجے میں بولتی ہوں اور یہ فخر بھی ہے
    مگر یہاں تھوڑا سا میں ڈر ڈر کے اختلاف اس لئیے کرونگی کے میرا اختلاف جلدی پکڑ میں آ جاتا ہے:)
    خیر میرا اختلاف صرف یہ ہے کے اگر ان صاحب نے ایسا کہا کے آپکا لہجہ اردو والا نہیں تو شاید اس میں برا باننے یا پھر انکو تعصبی کہنا درست اس لئیے بھی سہی نہیں کیونکہ ٹی وی ریڈیو پر جو لوگ آتے ہیں انکی اردو بلکل سموتھ ہونا بھی ضروری ہوتا ہے ۔
    اب اگر ایک ترکی ڈینش نیوز اپنے لہجے میں پڑہے تو یہاں موجود ہر ڈنش کو محصوص ہوگا۔ایک پاکستانی انگلینڈ کے نیوز چینل پر پاکستانی انداز میں انگلش نیوز پڑہے تو محصوص ہوگا اسی طرح سے بہت سی ایسی مثالیں ہیں۔
    صرف نیوز پڑھنا ہی کمال نہیں ہوتا میرے خیال میں اگر دیکھیں تو پڑہنے والوں کے پیچھے جو لوگ ہوتے ہیں وہ ہر قوم ہر ذبان والے ہوتے ہیں ۔اس لئیے ایک صرف نیوز پڑھنے والی بات پر اس طرح کی بات کرنا کے یہ تّعصب ہے تو میرے نذدیک یہ غلط تاثر ہے۔
    کیونکہ اردو کے بھی بہت سے ایسے الفاظ ہوتے ہیں جن کی ادائیگی اس کے سہی لب و لحجہ میں ہونا بہت ضروری ہے۔
    تو اگر ایسا کہیں دیکھا جاتا ہے تو خیر ہے وہ ایک نمائندگی ہوتی ہے پوری دنیا میں پورے پاکستان کے سامنے تو کافی چیزوں کا خیال رکھنا اچھی بات ہے
    ضروری تو نہیں ہر قابل انسان قابل جب ہی مانا جائے کے جب وہ ریڈیو یا ٹی پر ہمارے سامنے آئے؟
    یہ سب تو ڈسپلے من وومنز ہیں ان کے لئیے اگر شرائط ہیں تو کوئی بات نہیں
    پاکستان ایسا ملک ہے جہاں کئی ذبانیں لکھی پڑہی اور بولی جاتی ہیں مگر ان سب میں پورے ملک کی نمائندگی اردو ہی کرتی ہے اس لئیے اگر اسطرح کی احتیاط رکھی جاتی ہے تو اچھا ہے یہ کرنا ۔میرا نہیں خیال کے اس کو تعصب کا نام دیا جائے یا پھر کراچی والوں کی اجارہ داری کی بات کی جائے
    پھر بھی اگر میری بات بری لگی ہو تو معذرت

  5. نادیہ بتول بخاری صاحبہ نے بھی عالمی اخبار کے ایک معتبر مبصر کی طرح : مہاجر کا لفظ استعمال کرنےکی گستاخی کرنے کی بجائے اپنی والدہ محترمہ کے لیے ایک انتہائی مہذب اصطلاح “ اردو اسپیکنگ “ اس طرح استعمال کی ہے :

    “ میری والدہ اردو سپیکنگ ہیں اور والد پنجابی ہیں مجھے تو اس بات کی خوشی ہے کہ میں اپنی ماں کی زبان باپ کے لہجے میں بولتی ہوں“

    اب اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انکی والدہ کا تعلق کراچی سے ہے یا وہ اس راندہ ہ درگاہ سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتی ہیں جس کا نام لکھتے ہی عالمی اخبار کے بلاگ قبل از وقت وفات پاجاتے ہیں ۔
    ۔۔
    خدا کرے کہ نادیہ بتول بخاری صاحبہ کا یہ انتہائی صحت مند بلاگ مشعل راہ بن کر تمام پاکستانیوں کے لیے اور خاص طور پر اردو کےشیدایئوں کے لیے ( جن کی مادری زبان کوئی بھی ہو) روشنی دکھاتا رہے۔ آمین

    ۔۔
    میں پاکستان کی صحافی برادری میں سلیم صحافی ، آئیلہ ( عائلہ ) ملک اور حامد میر، نجم سیٹھی اور نادیہ بتول بخاری صاحبہ اور ان جیستے سب صحافیوں کے اردو لہجوں کا دلدادہ ہوں ۔

    میں بار بار یہ کہتا چلا آیا ہوں کہ میں ہر اس فرد کی اردو کو پسند کرتا ہوں جس نے اردو کو اپنی مادری زبان کی طرح چاہا اور اس میں نظم اور نثر تحریر کی ۔ میں تو اس بات کو بھی قبول کرتا ہوں کہ اگر ایسا فرد مجھے اردو میں ( گستاخی سے بچنے کی بجائے ) مہذب انداز میں گالیا ں بھی د ے تو میں اس کو اردو کی فتح سمجھتا ہوں ۔ اور گالیا ں کھا کے بے مزہ نہیں ہوتا ہوں۔ اس بات کا مظاہرہ میں عالمی اخبار کے بلاگوں میں کرچکا ہوں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    میں ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اور جناب مصباح حسین جیلانی صاحب کے تبصروں کی دل سے تائید کرتا ہوں۔
    ۔۔
    اقبال نے غالب کی موت پر کیا خوب لکھا ہے کہ :

    گیسوئی اردو ابھی منت پذیرِ شانہ ہے
    شمع یہ سودائی ء دل سوزی ۃ پروانہ ہے
    ۔۔۔۔
    نادیہ بتول بخاری صاحبہ آپ کو اس موضوع پر لکھنے کی داد دیتے ہوئے ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کے مندرجہ بالا تبصرے کو بار بار پڑھ کر اس سے سبق لینے کی تاکید کرتا ہوں ۔

    اللہ تمھارا زورِ بیاں اور زیادہ کرے : آمین
    ۔۔۔۔
    فقط:
    اردو کا شیدائی جس کا باپ اور بڑا بھائی کراچی میں اور ماں لاہور( میانی قبرستان )میں دفن ہے ۔

    منظور قاضی
    میونخ جرمنی کے ایک قریبی گاوں سے

  6. کاش کہ امین ترمذی صاحب جو اردو کے مستند ماہر ہیں وہ بھی اس بلاگ مین حصہ لے کر اپنی گرانقدر رائے سے عالمی اخبار کے اس بلاگ کی افادیت میں اضافہ کریں۔
    امین ترمذی صاحب کے علاوہ کراچی کے بہت سارے اردو کے سخنور اور سخن گو اور خاص طور پر اردو یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے حضرات و خواتین بھی اردو کے ارتقا اور اسکی بقا کے متعلق اس بلاگ میں مقالے لکھ سکتے ہیں۔

  7. ڈیئر نادیہ بخاری ،سلامت رھو۔تمھاری یہ بات اچھی لگی کہ ماں کی زبان باپ کے لہجے میں بولتی ھو۔۔ زبان کوئ بھی ھو بس ھم کو خیال رکھنا چاھیے کہ لہجہ میں تلخی نہ آۓ ۔۔

  8. اس بلاگ کےعنوان “ لہجہ “ پر کسی شاعر کا یہ شعر یاد آیا کہ:

    بد لنا ہے تو مت الفاظ ڈھونڈو
    ہمارے واسطے لہجہ بہت ہے

  9. نادیہ بہن بلکہ عمر کے فرق سے تو بیٹی لکھنا چاہئے جیتی رہو
    آپ کے بلاگ کے موضوع سے میری دلچسپی اور پھر قاضی صاحب کی دعوت نے مجھے لکھنے پر مجبور کردیا پہلے تو اپنی طویل غیر حاضری کی وجہ لکھنا ضروری سمجھوں گا . سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ میں فطری طور پر بہت کم لکھتا ہوں عالمی اخبار دنیا کا وہ واحد ادبی خزانہ ہے جس میں میں نے بہت سے بلکہ سب سے زیادہ کیڑے مکوڑے بنائے ہیں اور جب سے عالمی اخبار میں لکھنا بند کیا ہے کہیں بھی جی ہاں کہیں بھی کوئی ایک سطر نہیں لکھی گو کہ کئی جگہ سے ٹھوکے بھی دئیے گئے مگر. زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد..
    دوسری بات یہ ہے کہ میں بہت زیادہ مصروف انسان ہوں آپ کہیں گے کہ ہاں ہاں ہم ہی دنیا کے فارغ ترین انسان ہیں ..چلئے کوئی اور بات کرتے ہیں . دیکھیں آدمی پڑھتا لکھتا اس لئے ہے کہ اس کے علم میں اضافہ ہو نہ کہ موجودہ علم کے غارت ہونے کا خدشہ ہو. اور اگر کبھی آپ کو محسوس ہو کہ یہاں میرے اس معمولی سے علم یا زبان و بیان کے خراب ہونے کا احتمال ہو تو احتیاط لازم ہے.
    میر تقی میر تانگے میں منہ پر ڈھاٹا باندھے بیٹھے رہے کہ زبان غیر سے اپنی زبان خراب ہونے کا خطرہ تھا میں نے ڈھاٹا تو نہیں باندھا بس ایک طرف ہو گیا کہ اپنی زبان خراب ہونے کا امکان تھا .
    یہاں اس بات کا اعتراف خدا کو حاضر و ناظر جان کر کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ عالمی اخبار کی چند روزہ صحبت میں مجھے بہت کچھ جی ہاں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا اور عالمی اخبار کے اہل علم و ادب نے میرے کلک ناتواں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے مجھے قاری سے بڑھ کر بلاگ نگار کا تمغہ عطا کرنا چاہا اور پھر ایک دن میرے سر پر وہ تاج سجا بھی دیا مگر میں اپنی عادت کے مطابق ایک بار پھر ایک کونے میں جا کھڑا ہوا… بخش دو گر خطا کرے کوئی…..
    اُن بہت سے سایہ دار و ثمر دار اشجار میں سے ایک کا ذکر مخصوص طور پر نہ کرنا گناہ سمجھتے ہوئے میں ایک نام لینا ضروری سمجھتا ہوں. یہاں ان کی خوشنودی حاصل کرنا مطمح نظر نہیں ہے لیکن یہ اعتراف بہر حال لازم ہے کہ اُن کی ہر تحریر سے کچھ نئے الفاظ چُن کر اپنے کاسہء علم میں ڈال لیتا ہوں. یہ لفاظی یا چاپلوسی نہیں ہے وہ صاحب کہاں رہتے ہیں میں کہاں رہتا ہوں اُن سے کبھی خواب میں بھی ملنے کا امکان نہیں ہے اس لئے کچھ لینا دینا نہیں ہے مگر پھر بھی دستار اُستاد لئے ایستادہ ہوں اور وہ نام ایک ایسے شخص کا ہے جو پنجابی ہے مگر اُس کی اُردو دانی کے آگے اگر میں خود کو اُن کا شاگرد کہوں تو گویا میں اپنی بہت شیخی بگھارونگا اور وہ نام ہے ٹہریں. پہلے وضو کرلوں کہ ادب لازم ہے اُلفت کے قرینوں میں…….محترم مصباح حسین صاحب……
    لیکن اُس کے ساتھ ایسے لکھنے والے بہی بہت ملے جن کی تحریر کچوکے لگاتی ہوئی محسوس ہوئی. اور کوئی ٹوکتا بھی نہیں، کہتے ہیں چلنے دیجئے یہ زبان کا ارتقاء ہے کہ اُس میں نئے الفاظ کی شمولیت ہورہی ہے میں کہتا ہوں بھائی میرے یہ پچھلے ایک سو سال میں انگریزی زبان میں ارتقاء کیوں نہیں ہوا وہاں آج تک یو آر گوئنگ اور یو آر کمنگ کہا جارہا ہے یو از گوئنگ نہیں ہوا جب کہ.. آپ کیا کررہے ہو……کو جائز بلکہ زبان کا ارتقاء کہا جارہا ہے…..جاری ہے..

  10. ارے واہ .. منظور بھائی دیکھئے تو کون آ ئے ہیں .. .. میرے بھائی امین بھائی آئے ہیں .. بھائی میں آپ کی یہ حکایتیں بعد میں پڑھونگی پہلے آپ کو دیکھ تو لوں کہ کیسے ہیں … بھائی کہاں تھے آپ اتنے دنوں سے .. نہ کوئی خط نہ کوئی پتر .. ایسے تھوڑی مصروف ہوتے ہیں .. اور میری دوست تلمیذ کیسی ہے .. اسے پیار و دعا کہہ دیجئے اور یہ بھی کہیئے کہ بس بہت ہو چکی .. بلاگ پر سب بلا رہے ہیں .. بھائی مجھے لگتا ہے کہ آپ کو صرف منظور بھائی ہی کی آواز سنائی دیتی ہے … ہے نا …

  11. اپنی تحریر جاری کرنے سے پہلے بہن نگہت نسیم کی محبت کے آگے سرِتسلیم خم کرتا چلوں اللہ آپ کو خوش رکھے اور ہاں آپ نے مجھے دیکھنے کی بات کی تو یاد آیا پچھلے ہفتے یونیورسٹی آف آسٹن ٹیکساس میں گریجویشن کی تقریب تھی اُس میں شرکت کے لئےاردو ڈپارٹمنٹ کے نگراں نے مجھے بھی دعوت دی تھی جہاں ایک چھوٹی سی تقریر کرنے کا موقع بھی ملا تو وہاں آسٹن میں میری بیٹی بھی رہتی ہے اُس کے ہاں ڈیڑھ دن رہا تو اس نے وہ فیس بُک پر میرا اکاونٹ کھول دیا ہے اس میں آپ میری تازہ ترین تصویر بھی دیکھ سکتی ہیں اور چاہیں تو مجھے بھی اپنے فہرست احباب میں شامل کرسکتی ہیں اور ہاں آپ نے تلمیز کے بارے میں پوچھا ہے تو وہ بحمداللہ خوش ہیں میرے ساتھ ریڈیو پروگرام بھی جاری ہے اور بس ویسی ہی ہیں پہلے جیسی وہی اُستاد اُستاد سی. نام تلمیذ ہے پہ ہیں استاد…

  12. ایسی بہت سی مثالیں ہیں جولکھنا نہ صرف کارِ دارد بلکہ وقت کا زیاں ہے ایک بہت بڑا نام جس کو لکھنے کی ہمت تو نہیں ہے کہ سنگ باری سے خوف آتا ہے. انہوں نے لکھا جو یقیناً آج بھی پچھلے صفحات پر محفوظ ہوگا ” وہ ہم سے کھلواڑ کررہے ہیں”میں نے اپنا سر پیٹ لیا.جی چاہتا ہے یہاں سر پیٹ دیا لکھتا ” اُنکا”. بھائی کھیل لکھنے میں کیا اعتراض تھا یہ کھلواڑ کون سی لغت ہے. اور اُس پر طُرہ یہ کہ یہ زبان کی ارتقاء ہے… ایک صاحب نے لکھا کہ وہاں سے خوشبو کے لشکارے آرہے تھے بھائی یہ لشکارے کیا ہے آپ مہک بھی تو لکھ سکتے تھے بولے مہک میں وہ لشکارے والی بات نہیں آتی. میں نے کہا بھائی آپ جھونکے لکھ سکتے تھے الفاظ ڈھونڈنا تو چاہیں نہ کہ لشکارے کی اختراع. اور پھر آپ جسے زبان کی ارتقاء کہتے ہیں مجھے تو وہ زبان کی انخلاء لگتی ہے. ایک اور بڑی عام غلطی. یہاں پنجابی پر ہی موقوف نہیں ہے بڑا بڑا جغادری اہلِ زبان قواعد کی غلطی پر نازاں ہے. دیکھئے جناب ہر زبان کی کوئی قواعد یا گرامر ہوتی ہے. اگر آپ “آئی واز” کی جگہ”آئی وِل” کہیں گے تو ٹوکا تو جائے گا آپ کہیں گے کہ چلنے دیں تو میں پوچھتا ہوں کہ انگریزی میں کیوں نہیں چلتا کیا صرف اس لئے کہ وہ آقاؤں کی زبان ہے اگر غلط بولی تو جاہل کہلاؤگے اور اگر اُردو غلط بولی تو ارتقاء… نئے الفاظ کی آمیزش سے زبان کو “رچ” کرنے کا تمغہ. لللہ مجھ غریب کو غریب ہی رہنے دیجئے. نہ کہ “رچ”
    بلکہ سچ پوچھیں تو اچھی اُدرو بولنے والے کو زچ.
    ہاں تو بات ہو رہی تھی اُس لفظ یا جملے کی جو زمانہء مستقبل کو ماضی میں بدل دیتا ہے. دیکھئے چلتا ہے مت کہئے گا بات کو مان لیجئے کہ یہ غلط ہے اور ہم اپنی غلطی پر شاداں ہیں.اُردو ہمارے گھر کی لونڈی ہے اور ہم اُس سے لونڈی والا برتاؤ ہی کریں گے.لاکھ سمجھاتا ہوں کہ بھائی زمانہ بدل گیا ہے اب تو لونڈی کے ساتھ بھی غلط برتاؤ پر پولیس کچھری ہو جاتی ہے مگر وہ ماننے کو تّیار نہیں ہیں. ہاں تو وہ جملہ کچھ یوں ہے کہ وہ کام جو مجھے کل کرنا ہے یعنی مستقبل میں وہ ماضی میں بولا جارہا ہے پھر لکھ دوں کہ یہاں پنجابی کی بات نہیں ہو رہی اہل زبان بھی خوب خوب بول رہا ہے “میں نے جانا ہے”…”میں نے کھانا ہے”..دیکھئے اردو قواعد کے حساب سےلفظ “نے” کا استعمال صرف صرف اور صرف ماضی کے صیغے میں ہوتا ہے. میں نے کھا لیا. میں نے سن لیا. میں نے دیکھ لیا نہ کہ میں نے سنناہے یا میں نے جانا ہے. ایک صاحب کو ٹوکا جو اُردو کے رسیا ہیں اُردو میں اچھی شاعری بھی کرتے ہیں تو انہوں نے عندیہ بخشا کہ غالب نے بھی تو کہا ہے کہ میں نے جانا ہے کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے. میں نے کہا ہائے ہائے میری جان بلکہ جاناں. وہ جانا اور ہے یہ جانا اور ہے وہ کے این او ڈبلیو “نو” والا جانا ہے نہ کہ گی او “گو” والا جانا اور آپ نے غالب کا شعر بھی غلط پڑھا ہے جو یوں ہے ع. میں نے یوں جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے. مگر ہائے ہائے اک روز کا رونا ہو تو رو لے کوئی چپکے. ہر روز کے رونے کو جگر لاؤں کہاں سے.
    اب بات ہو جائے بی بی نادیہ سے تو میرے بچے وہ جن صاحب نے کہا کہ آپ کے لہجے میں پنجابی ہے اُسکا جواب یہ تھا کہ ہاں اس لئے کہ میں پنجابی ہوں. میں آپ کو بتاؤں کہ میں پینتیس سال سے پاکستان سے باہر ہوں ( جس پر نازاں نہیں ہوں)…
    تجھ سے بچھڑ کر زندہ ہیں ..جان بہت شرمندہ ہیں..
    تلاش رزق میں ہوں لاکھ دربدر لیکن .. دل و دماغ ہمارے وہیں پہ رہتے ہیں
    اس پینتیس سال بعد بھی میری انگریزی سن کر گورا مجھ سے پوچھتا ہےکہ تُم کہاں سے ہو اس لئے کہ میں ایک پختہ عمر میں یہاں آیا اور اُس پختہ عمر تک میں انگریزی کو اردو میں بولتا رہا جو ہنوز موجود ہے
    مگر ہاں ایک بات ہے ایسا نہیں ہے کہ میں اُس کے انداز میں انگریزی بول ہی نہیں سکتا بس یوں سمجھئے کہ میں نے کوشش نہیں کی. کوشش کرنے سے تو انسان چاند پر جاسکتا ہے تو پھر کوئی اور چیز سیکھنا ناممکن کیوںکر ہو سکتا ہے وہی پرانی بات دہراؤں گا مشق.. مُصلح.. مُطالعہ.
    آپ یو ٹیوب پر جان ہنسن اُردو ٹائپ کیجئے آپ کو ایک ہفت پشتی گورا انسان کرتے پاجامے میں نظر آئے گا جو صرف دو سال پاکستان میں رہا ہے اور اُردو میرے معیار سے اچھی بول رہا ہے. اُس کا دس منٹ کا انٹرویو سنئے اُس نے تمامتر گفتگو میں غلطی سے بھی انگریزی کا ایک لفظ نہیں بولا تو کیا راز ہے. شوق بلکہ جنون اور مشق.
    ضیاء محی الدین کا بچپنا اور جوانی پنجاب میں گزری وہ پنجابی اہلِ پنجاب سے کسی طرح کم نہیں بولتے بلکہ اگر اچھی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا اور انکی پنجابی ادب پر بھی مکمل گیرائی ہے . پھر انہوں نے انگریزی بولنا شروع کی تو گورے نے کہہ دیا کہ یہ شخص ہم سے اچھی انگریزی بولتا ہے.اور اسی طرح انگریزی ادب پر گرفت بھی کمال سے بڑھ کرہے. اب چمستانِ اُردو کی آبیاری شروع کی تو مجھ جیسا اہلِ زبان پشیماں پشیماں ایک کونے میں دبک گیا ہے.(مجھے فخر ہے کہ میں نے دو مرتبہ ڈیلس میں ان کا پروگرام کرایا اور دونوں مرتبہ وہ میرے گھر پر ہی مقیم رہے).ان کے اُردو کے انٹر ویوز سنئے اس میں ایک لفظ بھی انگریزی کا نہیں بولتے.
    اور اب انہوں نے فارسی بولنا شروع کی ہے اور وہ بھی ویسی نہیں جیسی ہم نے پڑھی تھی اور جسے ہم اُردو لب و لہجے میں بولتے تھے.بلکہ اُس میں بھی یہ عالم ہے کہا اہلِ زبان کی سی شیرینی ٹپکی پڑتی ہے.ِ اور پھر اُس پر اداکاری کا بگھار. آواز کا زیر و بم .. لہجے کی پختگی … کیا کہنے. کیا کہنے. کیا کہنے.
    لہجہ کہ جیسے صبح کی خوشبو اذان دے.. جی چاہتا ہے میں تیری آواز چوم لوں…………. آپ سب کی محبتوں کا امین

  13. جمال ہم نشیں در من ا ثر کرد
    وگرنہ من کہ اک خاکم کہ ہستم
    (سعدی )
    میں کیا اور میری بساط کیا ۔؟

    اردو کا تذکرہ ہو اور امین ترمذی صاحب کی یاد اور انکا معتبر نام نہ آئے ، یہ کیسا ہوسکتا ہے؟
    میں انکا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے میری لاج رکھ لی ۔ اور عالمی اخبار میں پھر سے آنے کے لیے وقت نکال لیا۔ امید کہ وہ اپنے ریڈیو پروگرام کی شریکِ کار محترمہ تلمیذ فاطمہ صاحبہ کو بھی میرے نہیں تو ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کے کہنے پر عالمی اخبار میں پھر سے انے کے لیے کہینگے۔

    عالمی اخبار کے باضابطہ پڑھنے والے جانتے ہیں کہ میں امریکہ میں رہنے والے امین ترمذی صاحب ، ظفر جعفری صاحب اور طارق ہاشمی صاحب ، خود میرے چھوٹےبھائی مسعود قاضی اوران سب کے ساتھ ساتھ اردو کی ایک عظیم شاعرہ ڈاکٹر پنہاں صاحبہ پر بلاگ بھی لکھ چکا ہوں اور ان سب کی اردو سے بے پناہ محبت کا قائل رہا ہوں ۔ اسی لیے میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ اردو کی خاطر عالمی اخبار میں لکھتےرہیں ( و ہ سب اگرمجھے بھول بھی جائیں تو کوئی بات نہیں ۔ اردو کو نہ بھولین ) ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امین ترمذی صاحب نے اپنا تبصرہ “ جاری ہے“ لکھکر فی الوقت ختم کیا ہے ۔ اس لیے میری خواہش ہےکہ وہ اپنا تبصرہ جاری رکھیں ۔

    ا،ید کہ اس بلاگ کی ناظمہ نادیہ بتول بخاری صاحبہ بھی یہی چاہتی ہونگی۔
    فقط:
    اردو کا دلدادہ
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  14. امریکہ میںرہنے والے ایک اور معتبر عاشقِ اردو کو اپنے مندرجہ بالا تبصرہ میں شامل کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ وہ جناب سرور عالم راز سرور صاحب ہیں جو عالمی اخبار کی ایک اہم ترین رکن زرقا مفتی صاحبہ کی اعانت سے انٹر نیٹ کی دنیا میں اردو کی گرانقدر خدمت کررہے ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    جناب مصباح حسین جیلانی صاحب کی اردو نوازی اور اردو کی سرپرستی پر امین ترمذی صاحب نے جو کچھ بھی تحریر فرمایا ہے میں اسکی دل سے تائید کرتا ہوں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عالمی ٰاخبار کے تمام اربابِ اختیار ہم سب کی تعریف کے مستحق ہیں کہ وہ بے لوث طریقے سے اردو کی خدمت کررہے ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیںداغ
    ہندوستاں ہی نہیں بلکہ سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اب جناب جاوید اقبال کیانی صاحب سے درخواست ہے کہ وہ بھی اپنے “ لہجہ “ میں ہم سب سے اردو میں کچھ باتین کریں ۔

    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  15. ایک بار میں پروفیسر آفاق صدیقی صاحب کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا اور اسی موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی تو وہ کہنے لگے۔ عاطف، زباں کسی کی بھی ہو محترم ہے سب کے لئے
    کہ ماں کسی کی بھی ہو محترم ہے سب کے لئے
    نادیہ جی دو چیزیں ہیں۔ ایک تو لہجہ ہے دوسرا تلفظ، تلفظ درست ہونا چاہئے لہجہ آپ تبدیل نہیں کر سکتا۔ اگر آپ کا تلفظ درست ہے تو میرے خیال میں باقی کوئی مسئلہ تو ہے ہی نہیں۔ آپ تو ریڈیو پاکستان میں کام کرتی رہی ہیں، وہاں تلفظ پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ میں بھی 1994 سز 2000 تک وہاں پہلے بزم طلبہ اور قومی نشریاتی رابطے پر پروگرامز کرتا رہاں ہوں، چونکہ اردو میری بھی مادری زبان نہیں اور ہم گھر میں ہمیشہ پنجابی بولتے ہیں تو وہاں تلفظ پر بڑی ڈانٹ پٹا کرتی تھی۔ پھر میرا کافی سارا وقت جون ایلیا کے ساتھ گزرا اور وہ واقعی میں کسی لفظ کا تلفظ غلط ادا ہونے پر ناراض ہو جاتے تھے۔
    دوسرا یہاں ایک چیز واضح کرنا نہایت ضروری ہے۔ اردو سپیکنگ ایک بڑی غیر واضح ٹرم ہے۔ اس لئے کہ میں چار سال کی عمر سے ستائس برس کی عمر تک وہاں پلا بڑھا۔ اردو سپیکنگ سے مراد ہر اس شخص کو لے لیا جاتا ہے جو ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آباد ہوا تھا حالانکہ یہ بات غلط ہے، ہندوستان میں سینکڑوں زبانیں بولی جاتی ہیں اور ہر زبان ہر اعتبار سے دوسری زبان سے مختلف ہے۔ جو شخص مغربی یا مشرقی بنگال سے آیا ہو، جو آسام کا ہو، جو جنوبی بھارت کا ہو، جو راجستھان کا ہو، جو گجرات کا ہو یا وہ آندھرپردیش یا ہماچل پریش کا ہو۔ لکھنو یا دہلی کو چھوڑ کر یا کسی حد تک حیدرآباد دکن کو چھوڑ کر باقی کسی بھی علاقے کو اردو کا آبائی علاقہ تو قرار ہی نہیں دیا جا سکتا۔ کراچی میں ان تمام علاقوں کے لوگ آباد ہیں اس لئے کراچی میں خود اردو کا کوئی ایک لہجہ نہیں ہے۔ کراچی میں بھی مختلف علاقوں میں مختلف لہجے کی اردو بولی جاتی ہے۔ سو آپ سے جس شخص نے ایسا کہا کہ آپ کے لہجے میں پنجابی کا رنگ ہے تو آپ اسی سے سوال کرتیں کہ کیا آپ لکھنو سے تعلق رکھتے ہیں یا اردو آپ کے گھر پیدا ہوئی تھی۔
    اردو شمالی ہندوستان اور مغربی ہندوستان، جسے ہم اب پاکستان کہتے ہیں، یہاں پیدا ہوئی اور ہو رہی ہے۔ اردو کی سب سے خاص بات ہی یہی ہے کہ یہ خود مختلف زبانوں کے ملاپ سے وجود میں آئی اور اب تک یہ سلسلہ چل رہا ہے۔ جو صوبہ خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھے اور اردو بولے یا کوئی بلوچ یا مکرانی اردو میں بات کرے تو ظاہر ہے اس کا لہجہ آنا ایک فطری سی بات ہے اور اردو کی خوبصورتی اسی سے ہے۔
    انگریزی کے لفظوں کی شمولیت کو تو روکا نہیں جا سکتا، لیکن کوشش کی جانی چاہئے کہ جہاں اردو میں پہلے سے کوئی لفظ موجود ہو کم از کم اس کی جگہ کوئی نیا لفظ نہ لیا جائے۔ مگر سچی بات تو یہ ہے کہ یہ صرف ایک مفروضہ تو ہو سکتا ہے حقیقیت بالکل نہیں کیونکہ زبان وہ نہیں ہوتی جو شعراء لکھتے ہیں یا مصنف استعمال کرتے ہیں بلکہ اصل میں زبان وہی ہوتی ہے جو لوگ بولتے ہیں جو معاشرے میں استعمال ہوتی ہے۔
    اردو چونکہ ابھی تک ترقی پزیر ہے اس لئے اس کا کسی دوسری زبان سے موازنہ نہیں کیا جانا چاہئے۔ موڈ انگریزی کا لفظ ہے، اس کا کوئی ہم معنی لفظ اردو میں نہیں تھا، قریب ترین لفظ مزاج تھا جو استعمال کیا جائے تو وہ معنی نہیں دیتا جو موڈ کے ہیں سو اردو نے اسے اپنا لیا اور کئی شعراء نے اسے استعمال بھی کیا۔ شعر ہے۔۔، جیسا موڈ ہو ویسا منظر ہوتا ہے۔ موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے۔
    مجھے سمجھ یہ نہیں آتی، فارسی یا عربی سے کوئی لفظ اردو میں مستعار لیا جائے تو درست اور انگریزی یا کسی اور زبان سے آ جائے تو اردو کا زوال۔ اردو کی بقا ہی اسی میں ہے کہ اس میں تنوع اور ترویج کو نمو سے جوڑے رکھا جائے۔ فکر نہ کیجئے اردو سلامت رہے گی۔
    اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ، سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے۔

  16. گذشتہ سے پیوستہ. بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ تحریر ختم کردی
    تو بی بی نادیہ آپ لوگوں کی بات پر دلبرداشتہ نہ ہوں. ہم نے آپ کے قلم کی پختگی کو تسلیم کرلیا ہے. ابھی اسی موجودہ بلاگ کی تحریر میں ایک جملے پر لوگوں نے خوب خوب داد دی ہے جو یقیناً اچھا ہے کوشش جاری رکھئے .مشق.مشق مشق. ہمیں صاف نظر آرہا ہے کہ یہ مٹی بہت زرخیز ہے اور نم بھی. اور اس میں سے نئے نئے اکوے پھوٹیں گے جو خوبصورت شگوفوں کی آمد کا پتہ دیتے ہیں
    ہم تو اب پکی ہوئی فصل ہیں کون جانے کب کٹ جائیں لیکن آپ جیسے لوگوں سے .اور ہاں ایک اور نام یاد آیا جس کا ذکرنہ کرنا کفرانِ
    نعمت ہوگا اور وہ پیارا سا نام ہے ہماری ادبی بیٹی ماریہ علی کا. کیا کہنے . ساری زندگی ڈینش بولتے گزری اور اب اردو میں وہ تیور کہ اُن کے قلم سے اودے اودے نیلے نیلے پیلے پیلے گل بوٹے جھڑتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں اور ہمیں بے حد طمانیت ہے کہ اردو دنیا میں ہمارے بعد اندھیرا نہیں اُجالا ہوگا . ایک تابناک چمک ایک درخشندہ مستقبل اردو کا مقدر ہے . انشااللہ. آپ سب کی محبتوں کا امین

  17. میرے خیال میں یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے اردو کے کئی لہجے ہیں جیساکہ لکھنؤ والوں کا اپنا ہے تو علیگڑہ والوں کا اپنا ہے بس لہجہ صاف ہونا چاہیے تاکہ بات سمجھ میں آجائے. میرا بھی لہجہ پختہ نہیں زندگی میں دوبار ایسے مواقع آئے جہاں پر مجھے کہاگیا کہ تم اردو اسپیکنگ ہو اسی طرح دوبار پٹھان ہونے کا خطاب ملا ہے اور سندھی تو خیر میں ہوں ہی لہٰذا یہ کوئی اتنا اہم موضوع نہیں میری نظر میں، اردو کراچی والوں کی میراث نہیں جو جہاں پر رہتا ہو وہاں کا لہجہ بولتا ہے ہمارے شہر میں کافی لوگ ہجرت کرکہ آئے تھے مگر جب ان کی اردو سنتا ہوں تو ہنسی آتی ہے کئی الفاظ سندھی سے لے لئے ہیں اسی طرح یہاں پنجاب میں پنجابی کا اثر ہے، کئی لوگ جو اردو بولتے ہیں وہ ایسے کے بجائے ایویں بولتے ہیں خیر اردو کا دامن وسیع تر ہوتا جارہا ہے.

  18. نادیہ بیٹی ،
    ہمیں بہت افسوس ہے کہ آپ کو ٹی وی اینکر کی مطلوبہ کرسی پر بیٹھنے نہ دیا گیا ۔ بات جب امتحان یا انٹرویو کی ہوتی ہے تو بولنے یا پڑھنے والے کے الفاظ اور جملوں کی ادائیگی میں مخارج ، تلفظ ، روانی ، اعتماد اور باڈی لینگویج کے ساتھ ساتھ لہجہ کی چٹنی کا ذائقہ بھی ٹیسٹ کیا جاتا ہے ۔
    آپ اردو میں انٹرویو دے رہی تھیں تو اس وقت امی جان کا اردو اسپیکنگ لہجہ استعمال کر لیتیں ، شاید آپ اس وقت ابا جان کے اسپیکنگ اسٹائل میں مخاطب تھیں جیسا کہ آپ نے خود فرمایا کہ ، ،

    ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے خبر پڑھی تو جو موصو ف میرا انٹرویو لے رہے تھے کراچی سےان کا تعلق تھا فرمانے لگے کہ اپ کا تلفظ بھی ٹھیک ہے اور پازز بھی ٹہیک ہیں لیکن اپ کا لہجہ پنجابی ہے میں نے جواب دیا کہ دیکھیے جناب لہجہ تو اس علاقے کی خوشبو ہوتی کہ جس علاقے سے اس شخص کا تعلق ہو میری والدہ اردو سپیکنگ ہیں اور والد پنجابی ہیں مجھے تو اس بات کی خوشی ہے کہ میں اپنی ماں کی زبان باپ کے لہجے میں بولتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جب آپ اس بات کا خود اقرار فرما رہی ہیں کہ آپ اپنے والد کے پنجابی لہجے میں بولتی ہیں تو پھرآپ نے اس بے چارے کراچی کے اردو دان پر زہریلے تعصب کا خود ساختہ پنجابی کوڑا مار کر کیا حاصل کرنا چاہا ، یہ اللہ کا شکر ہے اور اس میں یقیناً اس کی حکمت ہے کہ آپ اینکر نہ بن سکیں کہ آج صرف چند ہزار لوگ آپ کے خیالات سن کر دبے لفظوں میں آپ کو سمجھا بھی رہے ہیں ، اگر خدا نخواستہ ٹی وی اینکر بن کر یہی بات آپ کی زبان مبارک سے پھسل جاتی تو آپ کروڑوں لوگوں کو اپنا ہمنوا بنا نے کے ساتھ ساتھ کروڑوں لوگوں کو دشمن بھی بنا لیتیں ۔ اور اس قسم کی باتیں آگ سے بھی ذیادہ خطرناک ہوتی ہیں ۔
    زبان کی مستقل جگہ نہیں ہوتی ، پنجاب، سندہ، بلوجستان اور خیبر پختونخواہ میں رہنے والے کافی لوگ امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے مقامی لوگوں سے ذیادہ اچھی انگریزی و فرانسیسی زبان بولتے ہوئے مل جائیں گے ۔ اسی طرح اردو یا کوئی بھی زبان پاکستان کے کسی صوبے یا شہر میں مختلف لہجوں میں بولی جاتی ہیں مگر اصل لہجہ بہت کم لوگوں کے پاس ہوتا ہے ، کیونکہ ہر دو کوس کے بعد ہر زبان کے لہجے میں کچھ فرق پڑ جاتا ہے ۔ اس میں کراچی اور لاہور کا کوئی قصور نہیں ہے ۔
    محترم جناب منظور قاضی صاحب اور میرے معزز و قابل احترام استاد جناب امین ترمذی صاحب دامت برکاتہم العالی کے ماہرانہ تبصروں کے بعد مجھ ایسے طفل مکتب لوگ تبصرے لکھنے کے قابل تو نہیں مگر دل چاہتا تھا کہ اس بلاگ پیج میں مذکورہ عظیم ہستیوں کا سایہ ہمیں بھی نصیب ہو ہماری خوش قسمتی میں اضافہ ہو جائے ۔
    نادیہ بیٹی سے ہماری یہی گزارش ہے کہ محنت میں عظمت ہے ، کوشش جاری رکھیں ، اینکر تو چھوٹی چیز ہے ہماری دعا ہے کہ اللہ آپ کو بہت بڑی بینکر بنا دے ، آمین ۔

  19. جہاں اتنے قابل لوگ بات کر رہے ہوں وہاں میری کوشش اکثر یہی ہوتی ہے کہ خاموشی سے سنوں (پڑھوں) اور کچھ نہ کچھ سیکھ لوں-
    ہر جگہ بات کرنی ضروری بھی نہیں-

    میں نے یہ بلاگ ذرا دیر سے، آج ہی پڑھنا شروع کیا، نادیہ بہن نے بہت اچھا موضوع منتخب کیا ہے- میں اس بلاگ کو پڑھتا جا رہا تھا اور میرے دل میں ایک بات لکھنے کی خواہش بڑھتی چلی جا رہی تھی لیکن سمجھ میں نہیں آرہا تھی کہ کیسے لکھوں، آخر وہی بات محترم و مکرم جناب امین ترمذی صاحب نے تحریر کر ڈالی اور میرا کام آسان کر دیا، میں انہی کا جملہ نقل کرتا ہوں :

    “اُن بہت سے سایہ دار و ثمر دار اشجار میں سے ایک کا ذکر مخصوص طور پر نہ کرنا گناہ سمجھتے ہوئے میں ایک نام لینا ضروری سمجھتا ہوں. یہاں ان کی خوشنودی حاصل کرنا مطمح نظر نہیں ہے لیکن یہ اعتراف بہر حال لازم ہے کہ اُن کی ہر تحریر سے کچھ نئے الفاظ چُن کر اپنے کاسہء علم میں ڈال لیتا ہوں. یہ لفاظی یا چاپلوسی نہیں ہے وہ صاحب کہاں رہتے ہیں میں کہاں رہتا ہوں اُن سے کبھی خواب میں بھی ملنے کا امکان نہیں ہے اس لئے کچھ لینا دینا نہیں ہے مگر پھر بھی دستار اُستاد لئے ایستادہ ہوں اور وہ نام ایک ایسے شخص کا ہے جو پنجابی ہے مگر اُس کی اُردو دانی کے آگے اگر میں خود کو اُن کا شاگرد کہوں تو گویا میں اپنی بہت شیخی بگھارونگا اور وہ نام ہے ٹہریں. پہلے وضو کرلوں کہ ادب لازم ہے اُلفت کے قرینوں میں…….محترم مصباح حسین صاحب……
    لیکن اُس کے ساتھ ایسے لکھنے والے بھی بہت ملے جن کی تحریر کچوکے لگاتی ہوئی محسوس ہوئی. اور کوئی ٹوکتا بھی نہیں-”

    محترم ترمذی صاحب خدا گواہ ہے کہ میں صد در صد یہی بات کہنا چاہ رہا تھا لیکن اپنی کم علمی کے باعث کہہ نہیں پا رہا تھا، اگر آپ گستاخی نہ سمجھیں تو آپ کی اسی بات میں کچھ اضافہ کرنے کی جسارت کروں گا . . .

    بے شک سیّد مصباح حسین شاہ صاحب کا یہ کمال ہے کہ وہ کئی پشتوں سے پنجابی ہونے کے باوجود اردو زبان اتنی صاف، شائستہ اور خوبصورت انداز میں لکھتے ہیں کہ شرفِ زیارت حاصل کرنے کا شوق بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے- لیکن ان کا اصل کمال اس زبان کا درست استعمال ہے- آج ہی اردو کالم میں “علم رسول اور اُمّی کا تصور” کے عنوان کے تحت شاہ صاحب کی تحریر ثبوت ہے ان کے باطن کی پاکیزگی، سوچ اور نظر کی بلندی، بچپن سے ملی اعلٰی تربیت اور ایک پاک فطرت کا- اور یہ کمال پہلے کمال سے درجہا بلند ہے-

    خداوندِ عالم ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنے دینی ورثہ . . . علم اور قومی ورثہ . . . ثقافت کو محفوظ کرسکیں

  20. برادر محترم جناب امین ترمذی صاحب۔
    سلام مسنون۔ آپکی محبتوں کا تو پہلے ہی مقروض ہوں، اور خدا را اس قدر شرمندہ مت کریں کہ آپ سب حضرات کا سامنا ہی نہ کر پاؤں۔ ۔۔۔جہاں تک سیکھنے سیکھانے کا تعلق ہے تو ہم میں سے ہر کوئی زندگی کے سبھی حصوں میں کچھ نہ کچھ سیکھتا رہتا ہے۔ اب اردو کی ہی بات لیں، میں انشاء لکھ لیتا ہوں، لیکن بخدا گفتگو میں محاورہ جات و روزمرہ کا استعمال مجھے چھو کر بھی نہیں گزرا، جب کہ آپ کی تحریروں کا حُسن جو میں جانتا ہوں، وہ بر محل محاروہ جات کا استعمال ہے، جو اصل اہل زبان کی ہی خاصیت ہے۔
    ——————————————————–
    اب جہاں تک اردو کی ترقی و ترویج کا تعلق ہے تو اس پر ہم کسی سمجھوتے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ اس لئے کہ یہ محض اک زبان ہی نہیں، بلکہ یہ ١٨٥٧ کی جنگ آزادی کے بعد مسلمانان ہند کہ پہچان بھی تھی اور اہل خرد کا وسیلہ ء ابلاغ بھی۔ اردو زبان کی شیرینی اور لطافتیں اپنی جگہ، لیکن اس کی تاریخی اہمیت یوں بھی اسے ممتاز کرتی ہے کہ اگر یہ زبان نہ ہوتی تومتحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندوؤں کی زبان مستعار لینی پڑتی۔ اردو ہندی کا قضیہ تاریخ میں کس سے چھپا ہوا ہے۔ حضرت اقبال علیہ الرحمہ نے اسے اپنی شاعری ونثر میں وسیلہ بنایا تو حضرت قائد علیہ الرحمہ نے اپنے خطابات میں اسے اعزاز بخشا۔
    قائداعظم کی اردو اہل زبان کی طرح پختہ تھی نہ واضح، بایں ہمہ انہوں نے گجراتی، ہندی، انگریزی اور سندھی کو چھوڑ کر اردو کو وسیلہ بنایا، کیونکہ جنوبی ایشیاء کی اکثریت اس زبان کو اگر بول نہیں سکتی تھی تو سمجھ ضرور سکتی تھی۔
    رشید احمد صدیقی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ حضرت قائد نے خود فرمایا کہ میری اردو تو تانگے والے کی اردو ہے۔ اسی طرح صدیقی صاحب نے لکھا کہ حضرت اقبال کے لب و لہجے میں پنجابی کا عنصر شدید تر غالب تھا۔ حالانکہ اقبال اردو کے علاوہ عربی و فارسی کے بھی عالم تھے، اور کل کم و بیش سات زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔ بایں ہمہ انکا لہجہ پنجابی ہی رہا۔
    تلفظ اور الفاظ کی ادائیگی، لہجے سے الگ چیزیں ہیں اور آج بھی ترقی یافتہ دنیا جب کسی کے کام کو دیکھتی ہے تو اسکا لہجہ نہیں دیکھتی۔ مجھے امریکا، و یورپ کی تو زیادہ خبر نہیں ہے، لیکن یہاں آسٹریلیا میں کئی ایسے افراد ملے جن کا لہجہ چینی، عربی اور ہندی ہوتا ہے، لیکن اپنے کام میں مہارت کے کے سبب وہ ادارے کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے ہوتے ہیں اور بیسیوں گورے انکے ماتحت اچھی انگریزی کے ساتھ گزارہ کر رہے ہوتے ہیں۔
    خود میرا لہجہ بھی بد قسمتی سے اردو کے معاملہ میں اچھا نہیں ہے۔ اب اگر کوشش کر کے اس کو بہتر بنانا چاہوں تا شاید اور بھی بگڑ جائے گا۔ میرا نظریہ یہ ہے کہ چونکہ اردو پاکستان کی زبان ہے، اس لئے اسے کسی مخصوص علاقے میں محدود کر دینا خود زبان کی ترقی و ترویج کے ساتھ زیادتی ہے۔ جسطرح حجاز کی عربی باقی عرب سے الگ ہے، اور لبنان والے تو اہل عراق خاص کر اہل تکریت کی بات کو سمجھ تک نہیں پاتے، اس کے با وجود اس کو عربی مانتے ہیں، اسی طرح ہمیں بھی علاقائی پس منظر کو وسعت قلبی کے ساتھ تسلیم کر کے، لب و لہجے کی جنگ میں تب تک نہیں پڑنا چاہیئے جب تک کہ اس سے زبان کا تلفظ اور انشاء نہ بگڑ جائیں۔ اس کے ساتھ خاص قابل توجہ امر یہ بھی ہے کہ اگر لہجہ درست بھی ہو تو کوئی معنی نہیں رکھتا جب تک تلفظ، انشاء اور جملے کی ساخت(صرف و نحو) اہل زبان کے مطابق نہ ہو۔ اسکی مثال بلکہ زندہ مثال آسٹریلیا کا ہی گورا معاشرہ ہے، جو سب انگریزی بولتے ہیں اور نوے فیصد سے زائد غلط بولتے ہیں۔ جیسے یہاں ایک عام بات کی جاتی ہے کہ آئی کانٹ ڈو نہ تھنگ۔۔۔۔جو کہ در اصل لا یعنی جملہ ہے اور اگر آج شکیسپیئر سن لے تو ان سب کا سر پیٹ لے۔ لیکن اس معاشرے کی خوبی یہ ہے کہ اس نے اپنے تمام محاسن کے ساتھ اس خرابی کو بھی اپنا لیا ہے، جو کہ بین ثبوت ہے کہ یہ معاشرہ حقیقت میں انگریزی معاشرہ نہیں ہے، اور انگریزی یہاں کی غالب لیکن بدیسی زبان ہے، جو اپنی اصل سے کٹ کر سسک سسک کر مر رہی ہے۔ اگر سکولوں میں باقاعدہ انگریزی کی تعلیم نہ ہو تو سو سال بعد یہاں کی زبان آسٹریلوی کہلائے گی، نہ کہ انگریزی۔۔۔۔بہر کیف یہ بات تو بر سبیل تذکرہ آ گئی، ورنہ اسکا محل نہ تھا۔
    ———————————————-
    خبریں پڑھنے اور ٹی وی پروگرام کی میزبانی کے لئے اچھی اردو ضروری ہے، جس میں کوشش کریں کہ لہجہ نہایت بگڑا ہو نہ ہو، کیونکہ یہ صرف زبان کا استعمال نہیں، بلکہ پوری قوم کی نمائیندگی جیسی ذمہ داری ہے۔ اگر اردو کے ساتھ دیگر الفاظ کی ناجائز آمیزش نہیں ہو رہی تو اس کو قبول کیا جا سکتا ہے، ولیکن اگر اردو کے ساتھ پنجابی اور دیگر زبانوں کا ملا کر نیا رنگ دینے کی کوشش کی جائے تو اسکو بلا جواز تسلیم نہیں کیا سکتا۔
    بلا جوز بھی میں نے اس لئے لکھا کہ اگر متبادل لفظ اردو میں نہیں یا عام فہم نہیں ہے، یا کہ اس لفظ کو اردو میں جگہ مل چکی ہے تو پھر تو درست ہے، بصورت دیگر یہ زیادتی ہوگی۔ لیکن اب پاکستانی ٹی وی ڈراموں کی صرت حال تو یہ ہے کہ جان بوجھ کر اس میں اور زبانوں کے الفاظ اور ان کا لب و لہجہ شامل کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر میں جناب امجد اسلام امجد کو دوش دوں گا کہ انکے ڈراموں نے اس کام کی ابتداء کی کہ اردو کے ساتھ پنجابی الفاظ کی کھیچڑی پکانا شروع کر دی۔ کوشش یہی ہونی چاہیئے کہ جب کوئی بھی زبان سیکھیں، اسکے مخارج و انداز ادائیگی اور لب و لہجے کو بھی سیکھیں، تا کہ ہمیں خود زبان اجنبی نہ لگے۔
    —————————————————–
    جہاں تک نادیہ بخاری صاحبہ کے سوال کا تعلق ہے تو وہ لب و لہجے سے زیادہ ان صاحب کے اس اصرار پر ہے کہ کراچی والوں کے سوا صحیح اردو کوئی بول ہی نہیں سکتا، جو کہ سراسر غلط دعویٰ ہے۔ اردو کے ہر علاقے میں اپنے طریق ہائے ادائیگی ہیں، جیسے کہ لکھنوی و دہلوی انداز جدا ہیں، اسی طرح کراچی و لکھنوی انداز جدا جدا ہیں۔ جو اردو حضرت ِ رئیس امروہوی کا لب و لہجہ تھی، وہ انور مقصود صاحب کا نہیں ہے۔ اردو کے حوالہ سے امین ترمذی صاحب نے سیر حاصل گفتگو کی ہے جس میں جناب ضیاء محی الدین کا ذکر کیا ہے۔ ان جیسی شخصیات واقعی کم ہوتی ہیں جو ہر زبان کو اسکے صحیح مخارج کے ساتھ بول سکے۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے والد صاحب کے استاد آغا ضمیر الحسن نجفی تھے، جو خالصتا لکھنوی تھے اور بعد ہجرت پنجاب میں احمد پور سیال نامی جگہ پر آن کر آباد ہوئے۔ ہم نے ہمیشہ ان سے اردو سنی اور اردو ہی بولی۔ لیکن ایک دن ہم حیران رہ گئے جب ہمارے ملازم سے خالصتا سرائیکی میں رواں گفتگو فرما رہے تھے۔
    ——————————————————
    برادر محترم جناب عبد المناف صاحب۔ سلام مسنون۔ کیوں اس گناہ گار کو شرمندہ کرتے ہیں، یہ فدوی تو جہل مرکب ہے، اور یہاں آپ سب سے ہی کچھ نہ کچھ سیکھتا اور کچھ کرنے کی تحریک پاتا ہے۔
    ————————————————————
    جناب محترم محمد علی خان صاحب۔ السلامُ علیکم۔
    میرے خیال میں نادیہ بخاری صاحبہ خود بہتر بتا سکتی ہیں، لیکن یہ تجربہ میزبان بننے سے پہلے کا ہے، اب تو وہ ماشاء اللہ یہی کام کر رہی ہیں۔۔۔
    ————————————–
    اس ساری بحث میں خود نادیہ بخاری صاحبہ کی واپسی بھی ضروری ہے، کہ ہم ہی نہ اپنے اپنے سر پھوڑتے رہ جائیں، آخر بطور ناظم بلاگ، وہ بھی تو کچھ کہیں ناں کہ اس ساری بحث کو پڑھ کر انکا اپنا حتمی نقطہ ء نظر کیا ہے۔

  21. شعیب صفدر صا حب نے فرمایا کہ( اس کے بجائے کراچی کے کئی ڈی جے اردو کی ہر روز نئی قبر بنوا رہے ہوتے ہیں!)
    اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کسی ڈی جے کو جب پروگرام مل جاتاہے تو وہ اپنے اپ کو استاد سمجھنا شروع کر دیتا ہے

    سیدمصباح حسین صا حب اپ نے درست فرمایا کراچی کی اکثریت کو اردو آتی ہی کہاں ہے؟ کہ اردو صرف کراچی کی ہی نہیں جاگیر یہ تو کسی بھی جگہ اچھی بولی سمجھی جاسکتی ہے
    پیاری نگھت نسیم صا حبہ اپ کی یہ نالائق طالب علم بے باکی سے سنا دیا کرتی ہے کہ جہاں اسے کچھ غلط محسوس ہو
    ماریہ علی صا حبہ یہ جا ن کر تو بہت خوشی ہوئی کہ اپ ڈینش زبان کے اردو مہارت سے لکھتی ہیں ورنہ ہمارے ہاں کچھ اینکر بڑے فخر سے یہ کہتی ہیں کہ وہ اردو نہیں پڑھ سکتی تو ان کے لئے رومن میں سکرپٹ لکھا جاتا ہے
    منظور قاضی صا حب اپ کے خوبصورت تبصرے میرے لئے باعث فخر ہیں
    پیاری شاھین رضوی صا حبہ انشااللہ میرے لہجے میں کبھہ تلخی نہیں ائے گی
    امین ترمذی صاحب پہلے تو وعدہ کریں کہ اپ اب ہمیں چھوڑ کر نہیں جا ئیں گے میں اپ کی مشکور ہوں کہ اپ نے میرے بارے میں فرمایا(تو بی بی نادیہ آپ لوگوں کی بات پر دلبرداشتہ نہ ہوں. ہم نے آپ کے قلم کی پختگی کو تسلیم کرلیا ہے. ابھی اسی موجودہ بلاگ کی تحریر میں ایک جملے پر لوگوں نے خوب خوب داد دی ہے جو یقیناً اچھا ہے کوشش جاری رکھئے .مشق.مشق مشق. ہمیں صاف نظر آرہا ہے کہ یہ مٹی بہت زرخیز ہے اور نم بھی. اور اس میں سے نئے نئے اکوے پھوٹیں گے جو خوبصورت شگوفوں کی آمد کا پتہ دیتے ہیں)

    عاطف توقیر صا حب پہلے تو خوش امدید یہ جان کر مزید خوشی ہوئی کہ اپ میرے پسندیدہ شاعر جون ایلیا کے ہمراہ رہے اور اپ نے کیا خوب فرمایا(۔ اردو سپیکنگ ایک بڑی غیر واضح ٹرم ہے۔ اس لئے کہ میں چار سال کی عمر سے ستائس برس کی عمر تک وہاں پلا بڑھا۔ اردو سپیکنگ سے مراد ہر اس شخص کو لے لیا جاتا ہے جو ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آباد ہوا تھا حالانکہ یہ بات غلط ہے، ہندوستان میں سینکڑوں زبانیں بولی جاتی ہیں اور ہر زبان ہر اعتبار سے دوسری زبان سے مختلف ہے۔ )
    ظہور احمد سولنگی صا حب اپ کو بھی خوش امدید یقینا اردو کا دامن وسیع تر ہوتا جارہا ہے
    محمّد علی خان صا حب اپ نے فرمایا کہ اینکر تو چھوٹی چیز ہے ہماری دعا ہے کہ اللہ آپ کو بہت بڑی بینکر بنا دے ، آمین ۔
    بہت شکریہ اپ ہمیشہ خوش رہیں میں اینکرنگ کا فی عرصہ کرتی رہی ہوں اگر اپ کے پاس تائم ہوا تو یو ٹیوب پر نا د یہ بتول بخا ر ی لکھیے گا وہاں میرا کچھ کام بحیثیت اینکر پڑا ہے
    عبدالمناف صا حب محترم مصباح حسین صاحبسے میری ملاقات تو نہیں لیکن جب بھی لکھتے ہیں علم کے موتی بکھیر دیتے ہیں

  22. میری بیٹی نے جب پہلی ڈگری انگلش میں ٹلسا یونیورسٹی سے حاصل کی تو انگلش ڈیپاٹمنٹ نےگریججویشن کے دن یونیورسٹی کی گریجویشن کی تقریب سے قبل والدین کو ناشتہ پر بلایا ۔ وہاں میں نے ڈیپاٹمنٹ چیئر مین سے پوچھا کہ کیا انگریزی میں کوئ غیر اہلِ زبان بڑا مصنف پیدا ہوا ہے۔ تو اسنے جواب دیا جی ہاں Conrad پولینڈ سے ہواہے۔ پھرچیئرمین نے کہا کہ جہاں تک سلمان رُشدی وغیرہ کا تعلق ہے تو وہ اہلِ زبان تھے کیونکہ اُنہوں نے بچپن سے انگریزی سُنی، بولی اور لکھی۔ تو اس لحاظ سے پاکستان کے کشمیری، گجارتی، پنجابی، پٹھان، بلوچی، سرائکی وغیرہ سب اہلِ زبان ہیں ۔ ان سب نے ہمیشہ اُردو سنی بولی پڑھی اور لکھی۔ میرا ایک مشاہدہ یہ بھی ہے کہ اہلِ زبان استعارہ میں نے کراچی میں شاذونادر ہی سنا ہے۔ دوسری جگہوں پر یہ استعارہ زیادہ استعمال ہوتا ہے۔
    جہاں تک لہجہ کا سوال ہے تو اگر ہم لتا، آشا بھوسلے،گیتادت،مناڈے، ہیمند کمار، کشور کمار وغیرہ کو سنیں تو انکا لہجہ اچھی سے اچھی اُردو بولنے والے کا مقابلہ کرسکتا ہے گو انکی مادری زبان نہ اردو تھی نہ ہندی۔ تو لہجہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ اور پاکستان کے پڑھے لکھے لوگوں کی بھاری اکثریت کا صحیح تلفظ اور اچھا لہجہ ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اُردو میں علاقائ زبانوں کی آمیزش بڑھتی چلی جائے گی جسکے متحمل ہونے کی اُردو میں وسعت موجود ہے۔

    میں ڈاکٹر ماریہ پر حیران ہوں کہ انکی پیدائش اور پرورش مغرب میں ہونے کے باوجود یہ اتنی اچھی اُردو لکھتی ہیں۔ مجھے اِن میں مستقبل کی سعیدہ وارثی نظر آرہی ہیں جنہوں نے ہمارے سر فخر سے بلند کردئے ہیں۔

  23. جناب عاطف توقیر صاحب کا یہ کہنا درست ہوسکتا ہے کہ “ اردو اسپیکنگ“ ایک “ غیر واضح ٹرم ( اصطلاح ) ہے ۔

    وہ یہ کہتے ہیں کہ :

    “ اردو سپیکنگ سے مراد ہر اس شخص کو لے لیا جاتا ہے جو ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آباد ہوا تھا حالانکہ یہ بات غلط ہے،“

    ہاں میں ان کے اس نتیجہ کی تائید کرتا ہوں کہ “یہ بات غلط “ ہے۔

    اس لیے کہ ہندوستان سےہجرت کرکے پاکستان آکر آباد ہونے والے“ تمام کے تمام افراد “ “ اردو اسپیکنگ “ نہیں تھے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    مگر عاطف توقیر صاحب اچھی طرح جانتے ہونگے کہ “ تمام کے تمام “ “اردو اسپیکنگ کمیونیٹی “ کے افراد ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے ۔

    اگر عاظف توقیر صاحب اس حقیقت کو غلط سمجھتے ہیں تو اس کی وجہ بتادیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔

    اس تعمیری تنقید کے علاوہ میں عاطف توقیر صاحب کے تبصرے کے بیشتر حصہ سے اتفاق کرتا ہوں۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  24. نادیہ جی کے بلاگ کا موزو ع اہم اور دلچپ ہے – اتنے قابل تجربہ کار لوگوں کے تبصرے کے بعد ،مزید لکھنے کی گنجائش نہیں رہتی ، لیکن ماریہ جی سے ایک بات کہوں گی میں انٹرویو لینے والے کے رویے میں تعصب کی جھلک نمایاں تھی . کیا وہ وہاں مشق کی تربیت نہیں دیتے ؟ ، جو لوگ ایسے کام میں دلچچسپی ا رکھتے ہیں؟ یہ تو ایک انٹرویو کی بات ہے ، عام زندگی ، میں میں نے جن کی مادری زبان اردو ہے ، کہتے سنا ہے” اصل میں میرے بچے ایسے محلے میں رہے اور پلے ہیں ان کی اردو زبان کا لہجہ پنجابیوں سے ملنے سے خراب ہو گیا “. مادری زبان کوئی بھی ہو ، اس سے پیار کرنا ، اور اپنے بچوں کو سکھانا بہت اچھی بات ہے .لہجہ تو ہر دس کلو میٹر کے بعد مختلف ہوتا ہے . اور یہ قدرتی ہے . اگر ہم زیادہ تر خود اپنی زبان کو نیچا دیکھیں گے اور اسے بولنے سے بچوں کو سکھانے سے گریز کریں گے تو دوسرے اسے کس طرح اہمیت دین گے میرا اشارہ پنجابی زبان سے ہے . – ایک تبصرے میں لکھا گیا ہے ” اردو زبان کے ساتھ پنجابی زبان کی کھچڑی “میں یہ سوال کرتی ہوں کہ جب اردو مختلف زبانو ن سے مل کر بنی ہے تو اس میں اگر کوئی اردو میں کوئی لفظ نہ ملے تو پنجابی سے لینے میں کیا حرج ہے ؟ہزاروں زبانیں سیکھن مگر اپنی زبان، بھی آتی ہو تو سونے پر سہاگہ- مہینے کھبی سرائیکی بولنے والے کو اپنے بچوں کے ساتھ اردو بولتے نہیں سنا وہ ظاہر ہے ، ایک لازمی زبان کی صورت میں سکولوں میںسکھتے ہیں ، اور سیکھنی بھی چائیے- سویڈش زبان بہت چھوٹی سی زبان ہے ، مہینے کھبی کسی سویڈش کو اپنے بچے کے ساتھ انگلش بولتے نہیں سنا ، انگلش ظاہر ہے ، سکولوں میں لازمی ہے ، انہیں سیکھنی ہے – اگر مختلف لہجوں کے لوگ ٹ.و ی پہ اتے ہیں ، تو اپنے علاقے کے لہجے کو معتلقہ لوگ سن کر بعض اق ا وقت دیکھنے اور سننے والوں کے لئے دلچسپی کا با یس ا s ہوتا ہے -انہیں یہ معلوم ہے کہ باوجود اس کے کہ اردو ہماری قومی زبان ہے ، مگر اکثریت کی زبان پنجابی ہے.

Comments are closed.