’ ہزاروں خواہشیں ایسی ۔ ۔ ۔ ۔ ‘

خواہشات کی اس دنیا میں میری بھی ہزاروں خواہشیں ایسی ہیں کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔ سب سے اولین خواہش تو یہ ہے کہ کاش تھوڑا لکھنے پڑھنے کے قابل ہوجائوں ، کبھی کوئی اچھا سا کالم لکھ سکوں، کوئی ڈھنگ کا بلاگ لکھ سکوں یا تھوڑی بہت شاعری بھی کر سکوں۔ لیکن الٹے سیدھے تبصروں سے بڑھ کر جب کافی عرصہ سعی بسیار کے باوجود بھی کچھ لکھنے کے قابل نہ ہو سکا تو شک یقین میں بدل گیا کہ اس بنجر زمین میں اب کچھ نہیں اگنے والا۔ لیکن جیوے ماموں کھپے، جو مارے ایسے چھکے جسے فورا ماتھا ٹھنکے !

شاید صدر ِعالی مرتبت کو کسی دل جلے نے علامہ اقبال کا شعر ‘ وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ ‘ سنا دیا جو آپ نے بھی ترنگ میں آکر ایوانِ صدر میں خواتین کے اعزاز میں منعقد کی گئی ایک تقریب میں اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ اگر مقتدر عہدوں پہ زیادہ سے زیادہ خواتین ہوں تو یہ دنیا رہنے کے لئے بہترین جگہ بن جائے۔ اِدھر اس loose ball کا ہاتھ آنا تھا اُدھر دماغ کو جیسے آکسیجن مل گئی اور ساتھ ہی قلم بھی اس جستجو میں رواں دواں کہ وہ کون سے مقتدر عہدے ہو سکتے ہیں جہاں صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری زیادہ سے زیادہ خواتین کو براجمان ہونے کی خواہش لئے بیٹھے ہیں۔

تو خواتین و حضرات، سب سے پہلا مقتدر عہدہ تو خاتونِ اول کا ہے جو کب سے خالی پڑا ہے اور ایوانِ صدر بھی ‘شاید‘ سُونا سُونا ہے۔ لہذا اولاّ اس عہدے کو پُر کرنا ضروری ہے۔ لیکن وہ بُڑھیا ( یعنی گڑیا ) کہاں سے لائوں جسے ایوانِ صدر سجائوں ! بی بی شہید کا حشر دیکھ کر کون نصیبوں ماری ’ بابو ‘ کے آنگن اتر کر اپنی ’ بَلـی‘ دینے کو تیار ہوگی۔ لہذا مستقبل قریب میں یہ عہدہ خالی رہنے کا ہی امکان ہے۔

ویسے یہ خواہش اتنی بُری بھی نہیں۔ اب دیکھیں ناں اگر امریکہ کی کرسیئ صدارت سارہ پالن کو مل جائے تو یہ ’ ماموں کھپے ‘ کی کتنی بڑی خوش قسمتی ہوگی۔ امریکہ جو آئے دن ہمیں آنکھیں دکھا دکھا کر ’ ڈو مور، ڈو مور ‘ کی رٹ سے نہیں تھکتا اور ہم ہیں کہ آنکھیں جھکائے سر بسجود ہیں تو ایسے میں یہ مطالبہ کوئی زیادہ تلخ بھی نہیں لگے گا بلکہ اِدھر کا قصرِ صدارت اُدھر کے قصرِ صدارت سے خود ہی پوچھ رہا ہوگا ، ’ یُو وانٹ مور ؟ یُو نیڈ مور ؟ ‘ یعنی ہم آپ کے لئے مزید کیا کر سکتے ہیں؟

تیسرا مقتدر عہدہ آرمی چیف کا ہے۔ یہ جو وردی والوں سے ہر حکومت سہمی سہمی رہتی ہے اور زرداری صاحب تو ویسے بھی کچی ٹہنی پہ بیٹھے ہی نہیں بلکہ اسے اُلٹے لٹک رہے ہیں ، کیونکہ کچھ کرتوت رنگین ، کچھ حالات سنگین ! تو ایسے میں اس عہدے پہ بھی کوئی خاتون ’چیفنی ‘ بن کر آجائے، تو کیسا رہے؟ آرمی کی میڈیکل کور میں خواتین ڈاکٹرز اور نرسز بریگیڈئیر کے عہدے تک تو ترقی پاتی ہی ہیں، ایسے میں اگر لڑاکا فوج ، ویسے خواتین اس کور کے لئے بہترین انتخاب ہو سکتی ہیں، میں بھی خواتین کو بھرتی کرکے انہیں جنرل کے عہدے تک ترقی دے کر زرداری صاحب کی خواہش کے عین مطابق کسی خاتون جنرل کو آرمی چیف ’ یا چیفنی ‘ بنا دیا جائے تو ان کا کم از کم ایک محاذ تو بند ہوجائے۔ ویسے ان کے چہرے پہ پھیلے بناوٹی تبسم کے آگے لیڈی آرمی چیف بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکیں۔اور سلیوٹ بھی جی ایچ کیو کی بجائے ایوانِ صدر مارتا پھرے ۔

عدلیہ ایک اور کانٹا ہے جو صدر زرداری کے گلے میں بری طرح پھنسا پڑا ہے۔ سو عدالت عالیہ میں بھی اگر کوئی خاتوں چیف جسٹس آجائیں تو وارے نیارے ہو جائیں ۔ میری نظر میں فردوس عاشق اعوان اس منصب کے لئے بہتریں امیدوار ہو سکتی ہیں کیونکہ ایک تو وہ پوری عدالتِ عالیہ کو ہی جناب صدر کے لئے فردوس بنا دیں ، دوسرے اپنی ’ شیریں زبان ‘ سے پورے عدالتی سٹاف کو ان کا عاشق بنا دیں اور ایک ’ فالتو اعوان ‘ (بابر اعوان) کی مدد سے اسے سیاسی اکھاڑہ بنانے میں بھی ذرا کوتاہی نہ کریں۔

آخر میں اپوزیشن رہ جاتی ہے جو کہ ہے تو فرینڈلی بھی اور ہے بھی ، حکومت ہی کی طرح ، مئونث کا صیغہ بھی۔ لیکن سونے پہ سہاگہ جو اپوزیشن لیڈر بھی کوئی خاتون ہو جائے۔ مردانہ اپوزیشن سے خواہ مخواہ پھڈا ہی رہتا ہے لیکن زنانہ اپوزیشن سے تعلقات خوشگوار رہیں گے۔ اِدھر زرداری صاحب اپنی خواہش ظاہر کریں ، ’’ اج کالا جوڑا پاء ساڈی فرمائش تے ‘‘ اُدھر بی بی اپوزیشن کالے جوڑے ، کالے جُوڑے ، کالی چوڑیوں ، کالی سینڈلوں میں کالا پرس لہراتیں ایوانِ صدر ’ دوستانہ ڈنر‘ میں پہنچ جائیں جہاں زرداری صاحب سیڑھیوں پہ کھڑے ’’ قمیض تیری کالی، سوہنے پُھلاں والی ‘‘ کہتے بی بی اپوزیشن کا استقبال کریں اور بی بی اپوزیشن ’’ وے سب تُوں سوہنیاں، ہائے وے من موہنیاں ‘‘ گنگنا کر خیر سگالی کے جذبات کا جواب دیں۔

19 thoughts on “’ ہزاروں خواہشیں ایسی ۔ ۔ ۔ ۔ ‘”

  1. کسی دانشور کا کہنا ہے (یہ حقیقت بھی ہے)کہ ’’ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے‘‘ جبکہ میرا کہنا ہے کہ’’ ہر ناکام مرد کے پیچھے کئی عورتوں کا ہاتھ ہوتا ہے؟‘‘ اب آپ خود اندازہ کرلیں کہ صدر کھپے اس وقت کامیاب تھے جب ان کے پیچھے ایک عورت (بی بی) کا ہاتھ تھا یا آج کامیاب ہیں جب ان کے پیچھے کئی عورتوں کا ہاتھ ہے؟
    ایک مرد کی حثیت سے میں نہ صرف جناب صدر کی ان خواہشات کی تائید کرتا ہوں بلکہ میرا نعرہ مستانہ ’’ صدر کھپے ،صدر کھپے، صدر کھپے‘‘ ریکارڈ پر رہے، لیکن یہ یاد رہے کہ ایسی ہزاروں خواہشات پر کئی ایک کا دم واقعی نکل چکا ہے اور’’ ہزاروں مر چکے لاکھوں تیار بیٹھے ہیں ‘‘ کے مصداق کئی ایک تیار بیٹھے ہیں جن میں اپنے صدر کھپے صاحب بھی ہیں؟

    جناب کیانی صاحب نے بھی ساری مثالیں مونث (زنانہ) ہی دی ہیں، مثلا آرمی ، عدلیہ وغیرہ عدلیہ تو اس حد تک مونث ہے کہ ہمارے زبان دانوں نے عدالت کے لاحقے کے طور پر عالیہ اور عظمی جیسے لفظ ہی تخلیق کیے ہیں.سارہ پالن کی بھی خوب کہی! حضور ہم تو خود کو نہیں پال سکتے سارہ کو کیسے پالیں گے اور ایک ملک ہے صدر کھپے کا پالنا نہیں کہ سارہ جب چاہے اس میں آکر بیٹھ جائے؟ آرمی کی زنانہ سرگرمیوں کو جاوید کیانی صاحب سے زیادہ کون جانتا ہے، ویسے گھر کا بھیدی لنکا بھی ڈھا سکتا ہے؟

    صدر کھپے جو ایسی خواہشات پالتے ، کیانی صاحب جو ان خواہشات کو اچھالتے اور میرے جیسے ان خواہشات کے حمایتی حضرات درج ذیل عبارت ضرور اور غور سے پڑھیں:

    بازار میں ایک دکان کھلی جو شوہروں کو فروخت کرتی ہے ‘ اس دکان کے کھلتے ہی
    لڑکیوں اور عورتوں کا اژدہام اس بازار کی طرف چل پڑا – دکان کے داخلہ پر ایک
    بورڈ رکھا تھا جس پر لکھا تھا –
    اس دکان میں کوئی بھی عورت یا لڑکی صرف ایک وقت ہی داخل ہو سکتی ہے ”
    پھر نیچے ھدایات دی گئی تھیں کہ :
    ” اس دکان کی چھ منزلیں ہیں ہر منزل پر اس منزل کے شوہروں کے بارے میں لکھا ہو گا ‘ جیسے جیسے منزل بڑھتی جائے گی شوہر کے اوصاف میں اضافہ ہوتا جائے گا
    خریدار لڑکی یا عورت کسی بھی منزل سے شوہر کا انتخاب کر سکتی ہے ‘ اور اگر اس
    منزل پر کوئی پسند نہ آئے تو اوپر کی منزل کو جا سکتی ہے – مگر ایک بار اوپر جانے
    کے بعد پھر سے نیچے نہیں آسکتی سوائے باھر نکل جانے کے – ”
    ایک عورت جو جوان اور خوبصورت تھی دکان میں داخل ہوئی –
    پہلی منزل کے دروازے پر لکھا تھا –
    ” اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں اور الله والے ہیں –
    دوسری منزل کے دروازہ پر لکھا تھا
    ” اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ الله والے ہیں ‘
    اور بچوں کو پسند کرتے ہیں ”
    تیسری منزل کے دروازہ پر لکھا تھا –
    ” اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ الله والے ہیں ‘
    بچوں کو پسند کرتے ہیں اور خوبصورت بھی ہیں ”
    یہ پڑھ کر عورت کچھ دیر کے لئے رک گئی ‘ مگر پھر
    یہ سوچ کر کہ چلو ایک منزل اور جا کر دیکھتے ہیں
    وہ اوپر چلی گئی –
    چوتھی منزل کے دروازہ پر لکھا تھا –
    ” اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ الله والے ہیں ‘
    بچوں کو پسند کرتے ہیں ‘ خوبصورت ہیں اور گھر کے
    کاموں میں مدد بھی کرتے ہیں ”
    یہ پڑھ کر اس کو غش سا آنے لگا ‘ کیا ایسے بھی مرد
    ہیں دنیا میں ؟ وہ سوچنے لگی کہ شوہرخرید لے اور
    گھر چلی جائے ‘ مگر دل نہ مانا ‘ وہ ایک منزل اور
    اوپر چلی آئی –
    وہاں دروازہ پر لکھا تھا –
    ” اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ الله والے ہیں ‘
    بچوں کو پسند کرتے ہیں ‘ بیحد خوبصورت ہیں ‘ گھر کے
    کاموں میں مدد کرتے ہیں اور رومانٹک بھی ہیں ”
    اب اس عورت کے اوسان جواب دینے لگے – وہ خیال
    کرنے لگی کہ ایسے مرد سے بہتر بھلا اور کیا ہو سکتا
    ہے مگر اس کا دل پھر بھی نہ مانا وہ چھٹی منزل پر چلی آئی
    یہاں بورڈ پر لکھا تھا
    ” آپ اس منزل پر آنے والی 3448 ویں خاتون ہیں – اس منزل
    پر کوئی بھی شوہر نہیں ہے – یہ منزل صرف اس لئے بنائی
    گئی ہے تا کہ اس بات کا ثبوت دیا جا سکے کہ
    “عورت کو مطمئن کرنا نا ممکن ہے”
    آگے لکھا تھا
    ہمارے اسٹور پر آنے کا شکریہ ‘ سیڑھیاں باھر کی طرف جاتی ہیں۔

  2. بھئی کیانی صاحب بلکہ صاحبان کیا کہنے ماموں کھپے کی خواہشات کی خوابی تکمیل کے۔ یہ اقبال ہی کا فرمان تھا کہ وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ ، جس کے سبب انہوں نے رنگ بڑھانے کی ترکیب سوچی۔ اک بی بی کے ہوتے صرف ایک ہی رنگ تھا، لیکن دیکھیں تواب وہاں گلشن کھلنے کو ہے۔ ننھے بھٹو زرداری کی آمد کی دیر ہے، یہاں رنگ و رنگینیوں کی بارش ہوگی اور بہار کے سماں میں کئی کلیاں اور کھلیں گی۔
    صدر صاحب کا ایمان ہے کہ یہ گھر میرا گلشن ہے، اسی لئے وہ گلشن میں ہر رنگ کا پھول سجانا چاہتے ہیں۔ لیکن انہیں یہ بھی خیال رہے کہ ہر عہدے کے لئے خاتون سربراہ کی خواہش اور لوگ بھی، مثلا جنرل کیانی، وزیر اعظم گیلانی اپوزیشن والے بصد بے ایمانی فرما سکتے ہیں اور کہیں پہلا ہدف ایوان صدر کی سربراہی ہی نہ ہو، جہاں کل کو ایک زنانی ، کوئی بیگم شرفانی بیٹھی ملے یاکوئی اور زنانہ مزاج صدر۔۔۔۔ پھر اپنا تو مقابلہ بھی ہندوستان سے ہے، جہاں ایون صدر میں پہلے ہی ایک بڑھیا بیٹھی چرخہ کات رہی ہے۔ ہم بڑھیا کے مقابلے میں کسی شہزادی کو اس محل میں سلائیں گے تاکہ کوئی شیر دل بہادر شہزادہ گلفام بصد شوق و اشتیاق ایک شفق رنگ صبح کو ملک کیہیان سے آن کر اسے جگائے اور بڑھیا کو مار بھگائے۔ پھر اس ملک میں ہوگا امن کا دُور دورہ۔ تب وہ چاہیں گے تواسلام نافذ ہوگا اور چاہیں گے تو نافذ شدہ پر ہی گزارہ کر لیں گے۔

    کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔

  3. عامر کیانی صاحب،
    وقت بدلا، رسوم بدلیں ، افعال بدلے اور ساتھ ہی دانشوروں کے اقوال بھی بدلے۔
    آپ نے مشہور زمانہ قول ’’ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے‘‘ کو وقت کے مطابق کچھ ایسے بدل دیا کہ ، ’’ ہر ناکام مرد کے پیچھے کئی عورتوں کا ہاتھ ہوتا ہے؟‘‘۔ جبکہ میں پاکستانی سیاست ، خصوصا ّ ماموں کھپے کے حوالے سے کہوں گا کہ ، ’” ہر ناکام عورت کے پیچھے کسی مرد کا ہاتھ ہوتا ہے‘‘۔ بی بی کی ناکامی میں ماموں کھپے کا آہنی ہاتھ یا شیطانی پنجہ اس بد نصیب کی موت کے بعد بھی اس کے کفن کو کھینچ رہا ہے۔
    جہاں تک ساری مونث (زنانہ) مثالیں دینے کا تعلق ہے تو انہی مئونث اداروں سے ہی تو جان پہ بنی ہوئی ہے ورنہ ناسا ، واپڈا وغیرہ مذکر اداروں سے حضور کو کیا خطرہ؟
    آرمی کی زنانہ سرگرمیوں کا آپ نے ذکر کیا ہے تو اطلاعا عرض ہے کی YK-I اور YK-II ( یعنی یحییٰ خان اول ، اصلی یحییٰ خان، اور یحییٰ خان ثانی ، پرویز مشرف) کے بعد سے ساری ’سرگرمیاں‘ کسی یحییٰ خان سوم کے آنے تک معطل ہیں ! باقی میں اسے زیادہ لنکا نہیں ڈھا سکتا بھائی !
    شوہروں کو فروخت کرنے والے سٹور میں 3448 ویں نمبر پہ آنے والی خاتون لازماّ کسی ملک کی خاتون اول ہی ہوگی اور زیادہ امکان وطنِ عزیز کا ہی ہے۔

  4. جناب مصباح صاحب،
    ’’ ننھے بھٹو زرداری کی آمد کی دیر ہے، یہاں رنگ و رنگینیوں کی بارش ہوگی ‘‘ ۔۔آپ بھی کیا دور کی کوڑی لائے ہیں۔ ہم بھی منتطر ہیں کہ کب باپ بیٹے میں دوڑ یا مقابلہ شروع ہوگا جو بالآخر بوٹوں والوں کی سیٹی پہ جاکر ختم ہوگا، ویسے اللہ نہ کرے ملک عزیز وہ دن دیکھے !

    ’’ کہیں پہلا ہدف ایوان صدر کی سربراہی ہی نہ ہو، جہاں کل کو ایک زنانی ، کوئی بیگم شرفانی بیٹھی ملے یاکوئی اور زنانہ مزاج صدر۔۔۔۔‘‘
    مجھے تو اس میں بدشگونی ہی ملی، کہیں خدانخواستہ خواجہ سرائوں کی پیشینگوئی تو نہیں ہو رہی ؟

    ’” اپنا تو مقابلہ بھی ہندوستان سے ہے،‘‘ ۔۔ مجھے یہ بھی کوئی پرانے زمانے کی بات لگی ورنہ مصباح صاحب ہندوستان سے کیا لینا دینا ، گھر کی لڑائی سے فرصت ملے گی تو ناں !

  5. اس بلاگ کو پڑھکر دل خوش ہوگیا ا.
    جاوید اقبال کیانی صاحب ، عامر کیانی صاحب اور جناب مصباح حسین جیلانی صاحب نے اپنے اپنے انداز میں ” ماموں کھپے” کو آئینہ دکھا یا اور انکی فطری کمزوری کے متعلق لکھا ،

    یہ بلاگ بار بار پڑھنے کے قابل ہے.
    …….
    اس بلاگ میں صرف خواتین کے تبصروں کی کمی ہے .
    …..
    میں جاوید اقبال کیانی صاحب کو اس بلاگ میں اپنی نثر نگاری کا کمال دکھانے پر مبارکباد دیتا ہوں.

    فقط:
    منظؤر قاضی
    جرمنی سے

  6. قاضی صاحب نے درست فرمایا!
    میں سوچ رہا تھا کہ اس پر کسی خاتون کا تبصرہ آئے گا اور پھر عورت مرد کے حسین سنجوگ اور معاشرے میں اس سنجوگ کے اثرات اور اس سے ہونے والی ترقی پر ایک صحتمند بحث کا آغاز ہو گا جس سے ثابت کیا جاسکے گا کہ ’’ عورت صرف تصویرِکائنات میں رنگ بھرنے کے لیے ہی نہیں بنائی گئی بلکہ یہ اس کائنات کا ایک اہم جزو بھی ہے؟
    اب میں ،مصباح صاحب اور قاضی صاحب اپنے بلاگی امام جاوید کیانی صاحب کی امامت میں باجماعت کسی خاتون کے تبصرے کے منتظر ہیں اور کسی خاتون کا تبصرہ نہ آنے کی صورت میں یہ چار رکنی جماعت ملین مارچ کی صورت میں احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہیں؟

  7. محترم جناب قاضی صاحب،
    آپ کی حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ اور اسے بھی زیادہ شکریہ اس الٹی سیدھی تحریر کو کمال کا درجہ دینے پہ۔
    قاضی صاحب ، آئینہ تو کسی ’ انسان نما ‘ چیز کو دکھایا جاتا ہے نہ کہ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔

    ’’ اس بلاگ میں صرف خواتین کے تبصروں کی کمی ہے ‘‘
    سر ، آپ کی اس خواہش پہ بھی ایک ڈھیلا ڈھالا بلاگ لکھا جا سکتا ہے لیکن شاید خواتین پھر بھی نہ آئیں۔
    ویسے خواتین کی غیر حاضری کی دو ہی وجوہات ذہن میں آتی ہیں، یا تو ماموں کھپے سے نفرت جو وہ اسے کسی تبصرے کے قابل ہی نہیں سمجھتیں یا پھر غریب بلاگ نگار سے ہی نفرت جس نے انہیں ماموں کھپے کی خواہش پہ عبرت انگیز عہدوں پہ براجمان کر دیا ۔
    یہ تو میرا خیال ہے، دلوں کا حال اللہ جانے !
    آپ کا بے حد شکریہ۔

  8. جناب عامر کیانی صاحب،
    میں اپنے کچھ شبہات تو پہلے ہی قاضی صاحب کے تبصرے کے جواب میں ظاہر کر چکا ہوں ، لیکن ایک بات اور ذہن میں آرہی ہے کہ کہیں وہ آپ کے بتائے اُسی سٹور کے باہر لائین میں ہی نہ لگی ہوں اور فارغ ہو کر تصویرِ کائینات میں رنگ بھرنے آجائیں ۔ خیر اٹھنے والے ہم بھی نہیں جب تک ۔۔۔۔۔۔
    اگر آپ نے نہایت خلوص اور پیار سے مجھے ’ بلاگی امام ‘ کا ہی درجہ دے دیا ہے تو پھر میں آپ کے چار رکنی ملین مارچ کی بجائے کیوں نہ اپنے اختیارات کو مکمل طور پہ استعمال کرتے ہوئے کوئی فتویٰ صادر کروں؟
    آپ کے قیمتی وقت کا بہت شکریہ۔

  9. جناب اقبال کیانی صاحب اسلام علیکم ۔ اللہ پاک آپ کو ھمیشہ اپنے حفظ واماں میں رکھے صحت تندرستی کے ساتھہ لمبی عمر عطا فرماۓ آمین الہی ثم آمین ۔

    ھزاروں خواھشیں ایسی کہ ھر خواھش پر دم نکلے۔۔ ھماری تو صرف اور صرف ایک ھی خواھش ھے کہ اللہ پاک ماموں کھپے سے پاکستان کو نجات دلاۓ ۔اور قوم کو مخلص قیادت میسر آجاۓ ۔۔

    وجود زن سے ھے تصویر کائنات میں رنگ

    اسی کے ساز سے ھے زندگی کا سوز دروں

    شرف میں بڑھ کر ثریا سے مشت خاک اسکی

    مکالمات فلاطوں نہ لکھہ سکی لیکن

    اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطون

    عورت اور مرد زندگی کی گاڑی کے دو پہیے ھیں اس بحث سے قطع نظر ۔ میں آپ کو کویت سے یہی بتانے کے لیے بھاگی بھاگی آئ ھوں کہ آپ ھمارے بہت قابل فخر بھائ ھیں ھم آپ پر فخر کرنے ھیں ،، آپ کی شگفتہ تحریروں سے ھم سب بہت خوش ھوتے ھیں ۔۔ ھم سب ایک خاندان کے افراد ھ؛ں ۔ جہاں صرف احترام اور محبت ھے ۔ اور آپ ھمارے بہت محترم بھائ ھیں ۔۔۔

    اس بلاگ میں بلاگی امام اور ملین افراد کی طاقت رکھنے والے چار افراد کی سلامتی کے لیے دعاگو ھیں

  10. محترمہ شاھین رضوی صاحبہ،
    تشریف آوری کا بہت بہت شکریہ۔
    ’” اللہ پاک ماموں کھپے سے پاکستان کو نجات دلاۓ ‘‘ نہ صرف آپکی بلکہ پوری قوم کی خواہش ہے جسے کسی اور انداز میں آدھا لکھ کر تکیے کے نیچے چھپائے رکھا ہے۔ جونہی بقیہ حصہ مکمل ہو کر ٹائیپ ہوگیا پیش کروں گا۔ فی الحال انتظار فرمائیے !

    اپنے بھائی کے لئے کویت سے اتنے خلوص، پیار اور ڈھیر ساری دعائوں کے ساتھ بھاگی بھاگی آنے پہ از حد شکریہ۔ وہ بھائی واقعی بڑے بھاگوں والے ہوتے ہیں جن کی آپ جیسی قابل فخر بہنیں ہوں۔ اللہ آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، آمین۔

    ’ چار کے ٹولے‘ کی طرف سے بھی شکریہ۔

  11. السلام علیکم
    جاوید بھائی ، ایسی شگفتہ تحریر زعفرانی تبصرے ، طبعیت خوش ہو گئی ۔ یقینا ’’ہزاروں خواہشیں ایسی ۔۔۔‘‘ یقینا ہم سب کی یہ خواہش ہے کہ ’’ ماموں کھپے ‘‘ اب نہ کھپے ، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ’’ ماموں کھپے ‘‘ نہ کھپے تو پھر کون کھپے ؟
    کیا ہمارے پاس متبادل قیادت موجود ہے ؟ متبادل نہ سہی کیا ہمیں بہتر قیادت بھی میسر ہے ؟ ’’ہزاروں خواہشیں ایسی ۔۔۔‘‘ اور میری بھی ایک خواہش ہے ’’ اللہ کرے کہ ہمیں بہتر قیادت میسر آجائے ‘‘ اپنا خیال رکھئے گا ۔
    آصف احمد بھٹی

  12. آصف احمد بھٹی صاحب،
    خوش آمدید۔ آپ کی مصروفیات دوسرے بلاگز میں پڑھ چکا ہوں۔دو ماہ پاکستان میں’ کھپنے ‘ کے علاوہ نئے گھر ، ہمشیرہ کی شادی کے فرض سے فارغ ہونے اور اپنی ’ خاتونِ اول ‘ کی صحت یابی کی مبارک ہو۔

    لگتا ہے پاکستان میں رہ کر آپ کو بھی ’ماموں کھپے ‘ سے تھوڑی بہت ہمدردی ہوگئی جو آتے ہی یہ ارشاد فرما دیا کہ:
    ’’ کیا ہمارے پاس متبادل قیادت موجود ہے ؟ متبادل نہ سہی کیا ہمیں بہتر قیادت بھی میسر ہے‘‘
    بھٹی صاحب ، کیا آپ اس کو بھی کوئی قیادت سمجھتے ہیں جو اس کا کسی سے موازنہ کر رہے ہیں؟ میں پوری دیانت داری سے کہتا ہوں کہ اسے کہیں بہتر تو یہ ہے کہ کرسیء صدارت پہ آپ کو بٹھا دیا جائے تو عوام زیادہ خوشی کا اظہار کریں گے۔

    ہو جائے اسی بات پہ بھی مٹھائی ، اس کے علاوہ جسکی پہلے ہی فرمائش ہو چکی ہے !

    آپ کا شکریہ اور واپسی پہ پھر سے جی آیان نوں۔

  13. السلام علیکم
    بہت شکریہ جاوید بھائی ، واقعی اِس بار پاکستان کے سفر میں بہت کھپا ہوں ، بلکہ کھپ کھپ کر کھپو بن کر رہ گیا ہوں ، اپنی نصف بہتر کے علاج ، بہن کی شادی ، نئے گھر کی تبدیلی نے معاشی طور پر تو کچومر نکالا ہی اور رہی سہی کسر گرمی اور گرمیِ بازار نے پوری کر دی ، یہاں آیا تو آپ سب احباب مٹھائیوں کی فرمائیشیں کر رہے ہیں ، ٹھیک ہے صاحب ہم سو بار حاضر ہیں مگر ہمارے ہاں رسم ہے کہ جسے مبارک باد دینی ہو اُس کے گھر جا کر دیتے ہیں ۔۔۔ تو ۔۔۔ میں پھر کب آپ سب کی آمد کا منتظر رہوں ؟
    آصف احمد بھٹی

  14. آصف میرے اچھے بھائ ۔ سلامت رھو۔ اور تم کو بہت بہت مبارک ھو کہ تم کو اللہ پاک نے اتنی توفیق دی کہ اپنے اتنے قریبی اور عزیز لوگون کی زندگی میں اتنے دلفریب رنگ بھر دیئے ۔ اللہ پاک تم سب کے رزق میں ۔علم ، عمر میں برکت عطا فرماۓ ۔ ھمارے لیے تو تھماری یہ خوش خبریاں ھی مٹھائ کے برابر ھیں۔

  15. جناب جاوید کیانی صاحب ۔ اسلام علیکم ۔ مجھہ جیسی بہنیں بھی تو بڑی بھاگوان ھیں اور خوش بخت ھوتی ھیں جن کے آپ جیسے قابل فخر بھائ ھوتے ھیں ۔۔ اللہ پاک آپ سب کو سلامت رکھے۔

    میرے اچھے بھائ آصف میں انشا اللہ 11جولائ کو پاکستان جارھی ھوں ۔ ۔۔۔۔ یہاں کویت میں درجہ حرارت 52 ھوتا ھے ھر طرف آگ برستی ھے ۔۔ میں دوپہر میں پاکستانی محنت کشوں کو کھلے آسمان کے نیچے اتنی محنت کرتے دیکھہ کر یہی دعا کرتی ھوں کہ انکی محنت سے کماۓ پیسوں میں اتنی برکت دیدے کہ یہ سب کم سے کم اپنے بچون کو اسکول بیھج دیں اور ان کو تعلیم دلا سکیں اور اپنا ایک گھر بنا سکیں ۔
    مجھے تو ھر موسم میں دنیا کا سب سے خوبصورت مللک لگتاھے اپنا پاکستان ۔۔۔ میراگیان دھیان کہتا ھے کہ آنے والے دنوں میں حالات بہتر ھوجائینگے ۔۔ اتنے سارے لوگ دعا کرتے ھیں جیسے ابھی سب کی دعا نے کراچی کو اور دیگر شہروں کو طوفان سے ھونے والے بہت بڑے نقصان سے بچا لیاتھا ۔۔ وہ جو ھم سب کا خالق ھے اور اس کا وعدہ ھے کہ امت محمدیہ پر کوئ عٍذاب نیہن آیئگا

  16. جناب آصف احمد بھٹی صاحب ،
    ارے میرے ’ کھپو ‘ نہیں بلکہ ’ گپـوُ ‘ بھائی آپ کی باتیں ہی کون سی مٹھائی سے کم میٹھی اور ’ شوگر فری بھی ‘ ہوتی ہیں جو ہم اتنی گرمی میں کویت مٹھائی کھانے آئیں جب کہ وہاں کے باسی ، جیسے محترمہ شاہین رضوی صاحبہ، خود وہاں سے بھاگنے کے منصوبے بنائے بیٹھے ہیں۔ آپ خوش رہیں یہی بہترین شیرینی ہے۔

  17. محترمہ شاھین رضوی صاحبہ،
    یہ بہن و بھائی دونوں ہی کی خوش بختی ہے جو عا لمی اخبار کی انجمن میں اکھٹے ہوئے۔ اللہ کرے آپ کا سفر اور پاکستان میں قیام دونوں بخریت گذریں، آمین۔

  18. السلام علیکم
    شاہین آپی ، اگر محض گرمی سے بھاگ رہی ہیں تو یقین کیجئے اِس وقت پاکستان سمیت پوری دُنیا کا یہی حال ہے ، البتہ اگر مادر گیتی کی یاد آرہی ہے تو یہ گرمی تو کچھ بھی نہیں ، آپ نے درست فرمایا کہ جن حالات میں ہم لوگ یہاں محنت کرتے ہیں تو یہی دُعا دل سے نکلتی ہے کہ مولا ہماری کمائی میں برکت بھر دے ۔ آمین ۔ مگر کاش ہم اتنی ہی محنت پاکستان میں کر لیا کریں تو برکتیں ہی برکتیں ہونگی ۔ اللہ آپ کا سفر آرام دہ اور یادگار بنائے بلکہ میری دُعا ہے کہ آپ کا صحرا سے گلستان تک کا سفر پنگوڑا کا ایک ہلارا بن جائے ۔ آمین ۔ اور آپ کا گیان بلکل درست کہتا ہے یقینا بہت جلد پاکستان کے حالات بہت بہتر ہونگے بلکہ مجھے یقین ہے کہ بہت جلد ہی ہم لوگ دُنیا میں سر اُٹھا کر چلیں گے اور یہ محض دُعاؤں سے نہیں ہو گا ہمیں دوا بھی کرنے پڑے گی ۔
    آصف احمد بھٹی

  19. السلام علیکم
    جاوید بھائی ، ہم بھی تو یہاں کے باسی ہے ہاں البتہ زیادہ باسی نہیں ہیں کچھ کچھ تازگی ابھی باقی ہے ، اور یقین کیجئے مجھے ماموں کھپے سے کبھی ہمدردی ہوئی ہے اور نہ اب ہے ، مجھے تو اپنے وطن سے ہمدردی ہے اپنے مادر گیتی کا احساس ہے کہ ماموں کھپے اتنی آسانی سے تو کسی دوسرے کو نہیں کھپنے دینگے اور پھر اصل مسئلہ کی طرف کوئی غور ہی نہیں کر رہا کہ ماموں کھپے کے بعد اگر ہم موجودہ لوگوں میں سے ہی کسی کو کھپاتے ہیں تو کیا وہ ماموں کھپے سے بہتر ہوگا ؟ میں مانتا ہوں کہ بڑی برائی کے بدلے چھوٹی برائی قبول کرلینا بہتر ہے مگر یہاں تو ہر برائی بڑی برائی ہے کوئی ایک بھی تو چھوٹی برائی نہیں ہے ہم کسے قبول کریں ، پہلے ہمیں بہتر لوگوں کا بندوبست کرنا ہوگا حالنکہ یہ بات نہایت ہی بچکانہ لگتی ہے بے اختیار قہقہہ لگانے کو دل کرتا ہے مگر سچ تو یہی ہے اور رہی میری صدر بننے کی بات تو ۔۔۔ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی ۔۔۔۔
    آصف احمد بھٹی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *