“فلم سات سو چھیا سی” ہالینڈ میں ایک مووی بنی ہے، جس میں آپ (صلعم) کا مذاق اڑایا گیا ہے. ایک ارب ساٹھ کروڑ مسلم مل کر ہالینڈ کی اکونومی تباہ کر سکتے ہیں اس میسیج کو پانچ منٹ لگا کہ “تمام” لوگوں کو فارورڈ کرو تاکہ کل (بارگاہٍ الاہی) میں شرمندہ نا ہو جب اللہ سوال کرے گا میرے حبیب کی ناموس کے لیے تم نے کیا کیا”
یہ وہ برقی خط ہے جسے مجھے آج ایک بہت دیرینہ دوست نے بھیج کر خود فون پر بھی بات کی اور تاکید کی کہ اسے میں اپنے تمام دوستوں کو بھیج دوں.
میں واقعی بھی حیران ہوا ہوں، کیونکہ مسلسل “گوگلنگ” کرنے کے باوجود مجھے نہ تو اس نام نہاد فلم کا پتہ چل پا رہا ہے نہ ہی اس برقی خط کے پہل کار کا نام پتہ معلوم ہوسکا ہے. بس یہ کہ نیچے دی گئی معلومات تک ہی رسائی ہو پا رہی ہے:
—– Forwarded Message —-
*From:* SAM
*To:* Abdul Qayoom
*Sent:* Sunday, August 2, 2009 7:15:31 PM
*Subject:* Fwd: FW: Film 786
میری معلومات بس یہاں تک ہی ہو پا رہی ہے. میرے پر جل رہے ہیں اگر اس سے بھی زیادہ آگے جانے کی کوشش کر رہا ہوں.
ہمارے ملک میں اس طرح کے سندیسے (ایس ایم ایس) ہر کسی موبائل کو استعمال کرنے والے کو موصول ہو رہے ہیں اور وہ (میری طرح) شدتٍ جذبات سے سو سوا دوستوں کو آگے بڑھا رہا ہے. پتہ نہیں کتنا سرمایہ اس طرح سے موبائل نیٹ ورک کو چلانے والی کمپنیاں کما رہی ہیں جن کے پاس “بزنس ڈولپنگ مینیجمینٹ” میں ذہین اور چالاک آدمی بیٹھے ہوئے ہیں جو یہ میسیج ٹائیپ کرکے پھہلا رہے ہیں.
صرف اس طرح کے میسیج ہی نہیں بلکہ کبھی کبھار تو ایسے ایسے سندیسے پڑھنے کو مل رہے ہیں کہ اپنے ہاتھ خود ہی کان کی طرف اٹھ جاتے ہیں. اللہ امان…. یا صاحب الزمان ادرکنی…..
کیا واقعی اتنا خطرہ ہے؟
کیا واقعی اسلام خطرے میں ہے؟
مجھے نہیں سمجھ آرہا ہے، خدارا میری مدد کیجیے.
خاص طور پر اس نام نہاد مووی کے بارے میں مجھے معلومات اگر کوئی دوست عنایت کرے تو میں عمر بھر اس کے احسان گاتا رہونگا.
خاص طور پر اس مووی کا محرر، یا اس کا پیشکار….
میری مدد کیجیے.

مسلمانوں کو جب چار پانچسو سال میں ایک دوسرے کے خلاف جہادِ فی سبیل اللہ سے فرصت ملجائیگی تو وہ ہالینڈ اور دوسرے دشمنانِ اسلام کو مزہ چکھادیں گے۔ آپ بس دیکھتے جائیں اور مہا بھارت پڑھتے رہیں اور دعا مانگتے رہیں۔ ہم فلطسطینیوں کے غم میں نڈھال ہیں لیکن پاکستانیوں پر پاکستانی ایٹم بم گرارہے ہیں۔
بھائی مجھے تو نہیں معلوم اس فلم کے بارے میں ۔۔ بچوں سے پوچھوں گی شائد انہیں علم ہو ۔۔ ظفر بھائی آپ نے خوب کہا کہ ہم فلطسطینیوں کے غم میں نڈھال ہیں لیکن پاکستانیوں پر پاکستانی ایٹم بم گرارہے ہیں۔ بھائی کیا کریں ہمارے ایمان جو اتنے مظبوط ہیں ۔۔۔
نگہت بہن اور ہمدانی صاحب
کل نادیہ بتول بخاری کچھ دنوں کیلئے ہمارے شہر اوکلاھوما سٹی آرہی ہیں اور ہم انکے منتظر ہیں۔ یہ عالمی اخبار کا فیض ہے جو ہمیں اُن سے ملانے کا وسیلہ بن گیا۔
ظفر بھائی میری طرف سے نادیہ کے کان کھنچئے گا کہ عالمی اخبار کی بلاگ فیملی کوبتا کر کیوں نہیں گئی ۔۔ اپنا فون نمبر ضرور ای میل کر دیجئے گا میں انشاللہ آپ سے اور نادیہ سے ضرور بات کرونگی ۔۔ جی بھائی یہ ہماری عالمی اخبار کا ہی کمال ہے کہ سب کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتا ہے ۔۔ آپ کو یقین نہیں آئے گا بھائی عاشور کاظمی کی وفات کی وڈیو کوریج سے ان کے کتنے احباب اور قرہی لوگوں کے فون بابا کو روز مل رہے ہیں ۔۔ اور اسی اخبار کی وساطت سے انہیں کتنی دعائیں مل رہی ہیں ۔۔ یہی سب کو سمجھاتی ہوں کہ لفظوں کے تعلق زبانی جمع خرچ نہیں ہوتے ۔۔ یہ سارے وسیلے ہیں جو رب کریم ہمارے لئے ہماری آخرت کو اچھا کرنے کے لئے بنا رہا ہے ۔۔۔ سلامت رہیں بھائی ۔۔۔
ایک زمانے کے بعد جناب فیاض امر صاحب کی تحریر عالمی اخبار میں شایع ہوئی. وہ بھی ایسے موضوع پر جس کو محسوس کرکے تمام مسلمانوں کا خون جاوش میں آجاتا ہے .
مجھے اس ” نام نہاد ” منحوس فلم کے متعلق کچھ بھی معلوم نہیں .
شائد ہالینڈ میں رہنے والے عالمی اخبار کے قارئین اس بارے میں کچھ معلومات اس بلاگ میں لکھدینگے
جس برقی خط ( جو 2 اگست 2009 کا الکھا ہوا ہے) کے متعلق فیاض امر صاحب نے لکھا اس کا متن ان کے اس بلاگ میں موجود نہیں . اور نہ اس کے بھیجنے والے کا برقی پتہ اس میں موجود ہے.
اگر فیاض امر صاحب اس خط کے ملنے کے فوراً بعد یعنی 2 اگست 2009 کو اس قسم کا بلاگ شایع کردیتے تو تمام مسلمان اس بلاگ کو پڑھکر کچھ نہ کچھ ا|حتجاج کرتے. ( اب بھی کرسکتے ہیں )
بہر حال :
فیاض امر صاحب کی تحریر اس بلاگ میں پڑھکر ایسا محسو س ہورہا ہے کہ وہ صحت اور تندرستی کے ساتھ عالمی اخبار کے پڑھنےوالوں کا خیال رکھتے ہیں.
فقط:
فیاض امر صاحب کی اردو نثڑ نگاری کا قائل
منظور قاضی
جرمنی سے
یہ فلم موجود ہے جسکا آغاز ہی سرکار نبیء کریم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کے توہین آمیز خاکے سے ہوتا ہے۔ اسکا نام 786 نہیں بلکہ کچھ اور ہے۔ تاہم اسکا پہلا زیر غور نام 786 ہی تھا، جسے بعد میں بدل دیا گیا۔ اس لئے لوگ کم علمی کے سبب فلم 786 کا ذکر کرتے ہیں، جو انہیں انٹر نیٹ پر نہیں ملتی۔ میں جان بوجھ کر اس فتنے کا نام یہاں نہیں لکھوں گا۔ والسلام
مہربانی آپ سب احباب کی۔
عقلمند کے لیے ایک اشارہ ہی کافی ہے۔
میری انتظامیہ سے گذارش ہے کہ اگر ہو سکے تو اس بلاگ کو یہاں ہی تکبیر پڑھ کر خاتمہ کرلیجیے۔
احسانمند
امر فیاض
برادر محترم جناب امر فیاض صاحب کے امر یہ پر بلاگ بند کیا جا رہا ہے۔ امید ہے کہ انہیں ضروری معلومات تک رسائی ہو چکی ہوگی اور وہ آئیندہ بھی یہاں تشریف لاتے لیجاتے رہیں گے، انشاء اللہ۔
سپاس گزار مصباح جیلانی و منجملہ انتظامیہ