ایک غزل کے چند اشعار

بہت محبت کے ساتھ یہ غزل تمام احباب کی نذر

کبھی کہاں کی طلب ہے کبھی کہاں کی تلاش
سو ہر کسی کو ہے لاحق یہاں وہاں کی تلاش

شعور ہست میں چپ چاپ جل رہے ہیں بدن
تجھے مکیں کی طلب ہے مجھے مکاں کی تلاش

کسی عجیب تشنج میں مبتلا مرا دل
خبر نہیں اسے درپیش ہو زیاں کی تلاش

بے نطق بانگ رہی ہست و بود کی گردش
کہیں جنوں کی تلاشی کہیں گماں کی تلاش

سکوت شب تجھے اتنا تو یاد رکھنا تھا
میں خواب ہوں، مجھے ہو گی کسی جہاں کی تلاش

کوئی عجیب تعلق ہے فرش و عرش کی بیچ
ہے خاک بستہ فقیروں کو آسماں کی تلاش

30 thoughts on “ایک غزل کے چند اشعار”

  1. عاطف توقیر صاحب اپنے اس جملے میں لفظ “ میری “ کا اضافہ کردیتے تو پڑھنےوالے اس غلط فہمی میں نہیں رہتےکہ یہ کسی اور شاعر ( شاعرہ ) کی غزل نہیں بلکہ یہ انہی کی غزل ہے:

    “بہت محبت کے ساتھ یہ غزل تمام احباب کی نذر“
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شاعر کے اندر چھپا ہوا نقاد ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کی اپنی غزل کے محاسن اور عیوب کیا ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میں اپنی طرف سے اس غزل کے چند الفاظ کی بندش پر ماشااللہ ، سبحان اللہ ، مرحبا کہتا ہوں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فقط :
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  2. جی حضور یہ غرل میری ہی ہے۔ ویسے میرے خیال میں اہم بات یہ نہیں کہ غزل کس شاعر ہے۔ اہم بات غزل کے اشعار ہونے چاہیں۔ باقی آپ زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ مجھے کوئی شعر پڑھنے کو ملے تو میں اس شعر سے شاعر تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہوں، شاعر سے شعر تک پہنچنا مجھے کبھی درست نہیں لگا، مگر ظاہر ہے یہ میرا ذاتی خیال ہے۔ آپ کا بہت شکریہ

  3. ما شاء اللہ یہاں کام پوری قوت سے شروع ہے۔
    ویسے حضور عاطف جی اک بات ہے کہ آپ تھوڑا بہت دوسرے بلاگز کو بھی ایک نظر دیکھ لیا کریں، جیسے باقی لوگ آپ کے یہاں آتے جاتے رہتے ہیں۔ اچھا یہی لگتا ہے کہ آپ جب اپنی غزلیات تبصروں کے لئے پیش فرماتے ہیں تو پھر آپ بھی تو باقی لوگوں کے بلاگز میں کچھ کہیں ناں۔
    آداب

  4. مصباح جی۔ میں ایسا ہی کرتا ہوں اور درست بات یہی ہے جو آپ نے کہی۔ میں کوشش کروں گا کہ آئندہ زیادہ توجہ دوں مگر عموما میں صرف ایسے ہی موضوعات پر بات کرتا ہوں، جن پر مجھے لگتا ہے کہ مجھے بات کرنی چاہئے۔ لیکن ضرور کیوں نہیں۔ میں اپنی حاضری ضرور دیا کروں گا۔ انشاللہ

  5. عاطف جی ہمیں آپ کی اس بات سے اتفاق ہے کہ جس موضوع سے دلچسپی ہو اسی پر ہی لکھنا چاہئے۔ تاہم کچھ موضوعات خود اپنے اندر کشش پیدا کر لیتے ہیں اگر ہم تھوڑا بہت انکی طرف مائل ہو جائیں۔ اتفاق رائے کا شکریہ۔
    آداب
    نا چیز

  6. جی مصباح بھائی۔ میں آپ کی بات سے متفق ہوں۔ بس اسے میری کوتاہی کہیئے، کم علمی یا کاہلی کہ مجھے جب تک ایسا محسوس نہ ہو کہ مجھے اس موضوع پر ضرور لکھنا چاہئے میں لکھ نہیں سکتا۔ خیر انشاللہ میری کوشش ہو گی کہ حاضری ضرور دیا کروں۔

    آداب

  7. عاطف توقیر صاحب اسلام علیکم آپ کے کلام پر رائے زنی میں قاضی صاحب نے تو چُپ سادھ لی ہے لیکن بہرحال مختلف لوگ ا س پر اپنی آرا کا اظہار کرتے رہیں گے ابھی کل ہی ایک صاحب نے بلاگ میں لکھا تھا کہ یہ تشنّج عجیب کیسے ہوا جو سوال اپنی جگہ اہم تھا پھر انہوں نے ایک قیمتی مشورہ بھی دیا تھا کہ مشقِ سخن جاری رکھیں اب میری سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ تحریر کہاں اور کیسے غائب ہوگئی لیکن میں کچھ اپنی رائے بھی دینا چاہوں گا جس کا عالمی اخبار کے ہر فرد کو حق حاصل ہے آپ کا میری رائے سے متفق ہونا لازمی نہیں ہے لیکن پڑھ لیجئے شاید کوئی کام کی بات ہو۔
    آپ کی غزل بحرِ مُجتس میں ہے جس کے افاعیل یہ ہیں۔ مُستفاعیلُن۔۔فاعیلاتُن۔۔ مُستفاعلُن۔۔ فاعیلاتُن۔ اس بحر میں غالب کا شعرحاضر ہے ۔۔ہر ایک بات پہ کہتے ہو تُم کہ تو کیا ہے
    تُم ہی کہو کہ یہ اندازِ گُفتگُو کیا ہے۔ لیکن خیر میں عروضِ معترض پر گفتگو کے بجائے سیدھے سیدھے اشعار پر آجاتاہوں
    ۱۔ کبھی کہاں کی طلب ہے کبھی کہاں کی تلاش
    سو ہر کسی کوہے لاحق یہاں وہاں کی تلاش
    کسی ایک مصرعے میں ایک لفظ کا دو مرتبہ آنا معیوب سمجھا جاتا ہے ماسوائے اس کے کہ وہ کردار ہو اور اس کی اہمیت ظاہر کرنی ہو۔مثلاَ ۔ مجھے تمہاری طلب ہے مجھے تمہاری تلاش یا مجھے بس اُن کی طلب ہے مجھے بس اُن کی تلاش
    یہاں تمہاری یا اُن کی کسی مخصوص شخصیت کی اہمیت کا اظہار ہے بخلاف اس کے کہاں اور کہاں ایک عام قاری تک اپنی بات پہنچانے میں ناکام رہا اور بالکل پُر اثر نہیں لگا۔ اسی طرح دوسرے مصرع میں ” سو ” بھی غیر موزوں رہا اس لئے کہ “سو” کے لُغوی معنی
    “so that,therefore,hence, consequently, accordingly, but then, there upon, now,
    میں نے یہاں خلاف معمول و خلاف طبیعت انگریزی کا سہارا لیا ہے کہ بیشتر قاری اُس لفظ کے معنی سے مکمل طور پر آشکار ہو سکیں۔
    لیکن اس سارے مطالب کے باوجود یہاں اس کا استعمال غیر ضروری لگ رہا ہے۔اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ صرف مصرع کو بحر میں لانے کے لئے استعمال کیا گیا ہے اس لفظ کے ذریعے دونوں مصرعوں کو جوڑنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔
    مطلع میں شاعر “طلب”۔۔”تلاش” جیسے الفاظ کے استعمال سے انسان کی بیتابی۔اضطراب۔ اور تحصیلِ لاحاصل کی طرف شایدمتوجہ کرنا چاہ رہا ہے۔ لیکن غزل کا ابتدائی شعر کے مقام پر بہت کمزور یا پُھسپھسا ہے غزل کا مطلع اور مقطع دونوں ہی پُر زور ہونے چاہئے جو یہاں نہیں ہیں۔
    ۲۔ شعور ہست میں چُپ چاپ جل رہے ہیں بدن
    تجھے مکیں کی طلب ہے مجھے مکاں کی تلاش
    شعورِ ہست میں بدن کا چُپ چاپ جلنا بے معنی ہے۔ اگر انسان کو اپنے ہونے یا اپنے وجود کا علم ہے تو اس آگہی سے بدن کیوں جلے گااگر شاعر خدا کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ یا اسے دنیا کے خالق و مالک سے جدا ہونے کا غم ہے جس کی وجہ سے سوزِ فُرقت میں جل رہا ہے تو یہ بات بہت ہی دور کی ہے اور قاری کو معنی نکالنے کے لئے اپنے دماغ پر زور لگا کر زبردستی مطلب نکال پڑے گا۔اس قسم کا یک مبہم سا شعر حاضر ہے
    مگس کو باغ میں جانے نہ دینا ۔۔۔ کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا۔
    درج بالا شعر کو اکثر شاعری میں معیوب ہونے کے عنوان سے مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ایک اور شعر یاد آیا اگر کسی قاری کو اس کا صحیح مطلب سمجھ میں آجائے تو اُسے چاہئے کہ فوراَ تخلص رکھ لے کہ وہ شاعر ہے۔ شعر حاضر ہے
    اے خالِ رُخِ یار تجھے خوب بناتا۔۔ جا چھوڑ دیا حافظِ قُرآن سمجھ کر۔ ایک اور شعر بھی یاد آیا یہ مثالیں ہیں
    دعویٰ کروں گا خون کا موسیٰ پہ روزِ حشر۔
    کیوں اُس نے باڑھ دی میرے قاتل کی تیغ کو
    شاعرِ مذکور کے دوسرے مصرعے میں” تجھے” کا مقام سمجھ میں نہیں آیا کہ شاعر کس شخص سے مخاطب ہے۔یہ بات واضح نہیں ہوئی۔ مزید یہ کہ دونوں مصرعوں میں باہمی ربط بھی نہیں ہے۔
    ۳۔ کسی عجیب تشنّج میں مبتلا میرا دل
    خبر نہیں اُسے درپیش ہو زیاں کی تلاش۔
    لفظ تشنّج کے معنی اینٹھن۔ کھنچاو یا تناو کے ہیں یہ آپ کی پنڈلی میں کمر میں یا گردن میں تو ہو سکتا ہے دل میں نہیں ہو سکتا۔ اگر اس لفظ کو دل کے ساتھ لگانے کی اگر کوئی مستند دلیل ہے تو وہ سامنے لائی جائے محض یہ کہنا کہ اساتذہ نے استعمال کیا ہے غلط ہوگا۔ اس کے علاوہ پہلے مصرعے میں “میرا” کو مرا ہونا چاہئے ورنہ خارج از بحر ہے۔ اور پہلےمصرعے میں لفظ “ہے” کی کمی ہے۔ نثر میں اگر کہا جائے تو دوسرا مصرعہ یوں ہوگا ۔۔”دل کو خبر نہِیں کی زیاں کی تلاش تو درپیش ہے۔ علاوہ اس کے یہ بات بھی واضح نہیں ہو سکی کہ دل اگر تشنّج میں مبتلا ہے تو اُسے زیاں کی تلاش کیوں ہے۔
    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر یہ چَھپ گیا تو باقی غزل مکمل کرلوں گا اور اگر چُھپ گیا تو صبر کرلونگا۔ ایک طالب علم جسے شاعر نہ ہونے کا دعویٰ ہے بلا کسی خاکساری کے۔۔۔ حاشا و کلہ۔۔۔

  8. امین بھائی پلیز باقی کی غزل بھی مکمل کیجئے ۔۔

  9. امین بھائی سلام مسنون۔
    آپ کو تبصرہ نہ چھپنے کا خوف کیوں لاحق ہو گیا؟ اگر عالمی اخبار نے آپ کے ساتھ ایسا کیا ہے تو ہمیں بتائیں؟ ورنہ ایسا کہنا زیادتی ہوگا۔
    اگر کسی کا تبصرہ حذف ہوا ہے تو اولا تو آپ احباب کو یقین ہونا چاہئیے کہ اسکا کوئی سبب ہی ہوگا کہ کوئی تبصرہ آ کر ہٹ گیا ہے۔ تاہم اب بات ہو ہی گئی تو کچھ عرض کردوں، جو کہ یہاں شاید نا مناسب بھی ہے۔۔۔۔۔ تبصرے ہٹانے ،حذف کرنے یا تحریف کاکام ٩٩ فیصد سے زیادہ میں ہی کرتا ہوں۔ اور میں اس اعتماد پر کام کرتا ہوں جو ہم تینوں کے ما بین آغا جانی اور نگہت آپی کی مہربانی سےموجود ہے، اور بحمد للہ مجھے کبھی سبکی کا سامنا بھی نہیں ہوا۔
    میں خود بھی متواتر طور پر تحریف یاپورے کے پورے تبصرے ہٹا دینے کا قائل نہیں ہوں، ہاں اکا دکا اصحاب کے تبصرے خود بخود سپازم فلٹر کی مدد سے حذف ہوجاتے ہیں، جسکا ایک سبب انکے جعلی ایمیل پتوں کی لمبی قطار ہے۔ جب کسی کا ایی میل پتہ جعلی ہوتا ہے تو وہ تبصرہ کتنا ہی عالی شان کیوں نہ ہو، اسکے شائع ہونے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہوتا۔
    ہم احترام آدمیت میں ایسی جعل سازیوں کا پرچار نہیں کرتے، لیکن ان کو ہٹانے کا حق تو رکھتے ہیں ناں۔ ابھی ہمارے پاس ایسے بیسیوں ای میل پتے موجود ہیں جو کہ مکمل جعلی ہیں، لیکن ہم ان کو سرعام ظاہر نہ کرنا ہی بہتر جانتے ہیں۔
    اس لئے کم از کم آپ جیسے مہربان اورکریم دوستوں کو تو یہ نہیں سوچنا چاہیئے کہ آپ کا تبصرہ لگے گا یا نہیں؟ اس دار پر ہم تو روز ہی کتنی بار خامشی سے کھینچے جاتے ہیں، اور اتنا بھی نہ لکھتا اگر آج مجھے آپ کے ہاتھ میں پھول نظر نہ آتا۔۔۔۔
    اسیر ِ محبت
    نا چیز بھائی
    ——–
    غزل پر تبصرہ نہایت خوبصورت اور علمی بحث ہے، اسے جاری رکھیئے کہ اس سے بہتیروں کی بہتری ہوگی، انشاء اللہ۔

  10. شکریہ جناب امین ترمزی صاحب۔
    شاعری یا فن کی کوئی بھی قسم ہو اس کی خوبصورت بات ہی یہی ہے کہ اسے ہر شخص اپنے انداز سے دیکھتا ہے۔ میں اس غزل پر آپ کا تبصرہ پڑھ کر یہی محسوس کر رہا ہوں کہ آپ نے اس غزل کو کس انداز سے دیکھا۔
    میں آپ کے جواب میں شعروں میں اپنا خیال بیان کرنا یوں نہیں چاہوں گا کیونکہ پھر تو غزل کا مطلب ہی فوت ہو جائے گا یعنی جو میں نے لکھ دیا ہے وہ میرا قاری نہ جان پائے اور مجھے اشعار کا مطلب بھی بتانا پڑے پھر تو واقعی زیادتی ہو گی۔ بہرحال میں آپ سے اختلاف کے باوجود آپ کے تحریر کا احترام کرتا ہوں اور مجھے خوشی ہے کہ آپ نے اشعار کو بغور پڑھا۔
    دوسرا یہ کہ وہ تبصرہ میں نے بھی دیکھا تھا جو بعد میں حذف ہو گیا اس بابت مجھے کچھ علم نہیں اور کمپیوٹر کے حوالے سے میری تکنیکی معلومات نہایت کمزور ہے مگر میرے خیال میں مصباح بھائی نے جو کہا ہے وہی درست ہو سکتا ہے۔ اس معاملے میں میرا خیال ہے یہاں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا کہ جو تبصرہ ارسال کئے جائیں انہیں موجود رہنا چاہئے۔
    جیتے رہیں اور لکھتے رہیں۔
    آداب

  11. مصباح بھائی کی دی ہوئی وضاحت کے بعد میں نہیں سمجھتی کہ اب کسی مزید وضاحت کی ضرورت ہے ۔۔ ہر اداراے کی کچھ پالیسیاں ہوتی ہیں جن سے آپ سب کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔۔۔

    میرا خیال ہے کہ بات کو آگے بڑھائے ۔۔ اور غزل پر بات کیجئے ۔۔ اور دفتری کاروائیاں ہم پر چھوڑ دیجئے ۔۔۔ اور ایک دوسرے سے ہمیشہ خوش گمان رہیئے ۔۔ ایک تو زندگی بہت آسان اور جاندار ہو جاتی ہے ۔۔ اور سب سے بڑی خوشخبری یہ کہ نیکیوں کا کاروبار الگ برھنے لگتا ہے ۔۔۔ سو آئے بات کرتے ہیں عاطف کی انتہائی اچھی غزل پر ۔۔۔۔ ارے میرے گواچے ہوئے بھائی زوار قمر عابدی کہاں رہ گئے ۔۔۔ آئے بھائی اور عاطف کی غزل پر داد دیجئے ۔۔

  12. میں عاطف توقیر کی رائے سے متفق ہوں کہ ……………شاعری یا فن کی کوئی بھی قسم ہو اس کی خوبصورت بات ہی یہی ہے کہ اسے ہر شخص اپنے انداز سے دیکھتا ہے……اسی لیئے سید محمد جعفری مرحوم نے تجریدی آرٹ کے بارے میں کہا تھا کہ…..
    سمجھا تھا انناس یہ عورت نکلی
    شاعر،مصور،ادیب،موسیقار اور ایسے ہی سمعی بصری فنون کے حامل افراد کی یہی تو بہت بڑی خوبی اور کمال ہے کہ اُس سب سے بڑے تخلیق کار نے کہ جنہیں ہم خالق و مالک کہتے ہیں ایسے صاحبان کو فن کو نگاہ ونظر ہی دوسروں سے الگ دی ہوتی ہے. استاد اللہ بخش،چغتائی،شاکر علی،صادقین اور اسی قبیل کے قدآور لوگ جس نگاہ و نظر سے کسی بھی چیز کو یا واقعے کو دیکھتے اور پھر اسے معکوس کرتے،وہ نظر اگر کسی اور یا پھر ناظر کے پاس بھی ہوتی تو ان مصوروں کو کون پوچھتا.
    ہاں یہ شاید زندگی بھر آسان رہا کہ کوئی بھی صادقین کی خطاطی یا اللہ بخش کی مصوری میں رنگ کا یا بو قلمونی کا کوئی عیب نکال کر اسے اپنی عینک سے دیکھے.
    شاعری میں بھی یہی معاملہ ہے. اللہ کے واسطے ایک بات یاد رکھیں شاعر جب ایک لفظ یا ایک حرف کہہ رہا ہوتا ہے تو ننانوے فیصد اسکا مطلب شاید پڑھنے والے سے الگ ہوتا ہے. اب اگر پڑھنے والا جینوئن شاعر کو یہ کہے کہ آپ کو اس شعر یا مصرعے کو یوں لکھنا چاہیئے تھا تو کیا بہتر نہیں کہ وہ اس قافیے ردیف میں خود لکھ لے تا کہ دنیائے ادب میں ایک اور شاہکار کا اضافہ ہو سکے.
    یہ اس عہد کی یا آج کل کی بات نہیں عشروں سے یہ بدعت چلی آ رہی ہے کہ کسی بھی شعر کہنے والے کا ایسا پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے کہ کم ازکم مجھ جیسا طالب علم تو ایسے عالمانہ تبصرے اور باقاعدہ ہدایت نامہ پڑھ پڑھ کر ہنستا اور لوٹ پوٹ ہوتا ہے.
    یاد رکھیں ہر فن میں مختلف مکاتیب فکر ہیں اور وہ اسی فکری نہج پر چلتے ہیں اور پھر لسانیاتی علم،گرائمر،صرف ونحو،عروض اور ایسی ہی دوسری چیزیں ”شعرگوئی” سے بالکل الگ ہیں. انکا علم اچھی بات ہے لیکن شعر کہنے کے لیئے یہ سب ناگزیر نہیں.
    لاہور میں ستر کے عشرے تک ”اُمی شعرا” کا ایک مکتب رہا ہے جسکے روح رواں اس دور میں استاد دامن جیسے بڑے شاعر تھے. یہ لوگ عروض اور گرائمر اور لسانیات تو کیا جانتے انکو تو لکھنا پڑھنا بھی نہیں آتا تھا لیکن شعر ایسا کھرا اور مضبوط کہتے تھے کہ کوئی انگلی نہیں رکھ سکتا تھا یا پھر اُس دور تک ایسی انگلیاں ایجاد نہیں ہوئی تھیں.
    بس بار بار کئی برسوں سے یہ درخواست کرتا چلا آ رہا ہوں کہ ہر بار ہر کوئی شاعر کو ہی درست ہونے کا،بہتر ہونے کا،مزید مشق کرنے کا مشورہ نہ دیا کرے،بھائیو قاری پر بھی تو کوئی فرض عائد ہوتا ہے.قاری بھی اپنی علمی اور فہمی سطح کو بلند کرے.وہ بھی کبھی شاعر کی فکری سطح تک آنے کی کوشش کرے اور کیا اچھا ہو کہ کبھی نقاد بھی اسی قافیے ردیف اور اسی خیال میں اپنی تخلیق پیش کرے اور بتائے کہ اصل اور بہتر تخلیق ایسی ہوتی ہے. میرا مسلک اور ایمان یہی ہے کہ…جائے استاد خالیست……لیکن استاد کو خود کو پہلے استاد ثابت کرنا ہو گا اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ شاگرد کو اسے استاد ماننا ہو گا.
    ایک تیس سال پرانا اپنا شعر یاد آ گیا ہے بس ایسے ہی آپریشن کے لیئے لکھ رہا ہوں
    لپٹا رہا وہ جسم بھی چاندی کے بکس میں
    عالم تھا سارا محو یوں ننگوں کے رقص میں

  13. مجھے امین ترمذی صاحب کی عاطف توقیر صاحب کی غزل کے بارےمیں“ حق گوئی و بے باکی “ اچھی لگی ۔۔ مگر انہوں نے پتہ نہیں کس لیے مجھ کو بھی اپنے تبصرہ میں یہ کہکر گھسیٹ لیا کہ :

    “عاطف توقیر صاحب اسلام علیکم آپ کے کلام پر رائے زنی میں قاضی صاحب نے تو چُپ سادھ لی ہے لیکن بہرحال مختلف لوگ ا س پر اپنی آرا کا اظہار کرتے رہیں گے ۔“
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    امین ترمذی صاحب کی تحریر سے ایسا معلوم ہوتاہے کہ وہ عاطف توقیر صاحب کے پچھلےتمام بلاگوں میں میر ے “ چپ سادھ لینے “ کے مظاہرے اور انکےنتائج نہیں دیکھ سکے۔ اگر وہ ان بلاگوں کو سنجیدگی سے پڑھ لیتے تو ایسی بات نہ کہتے۔
    ۔۔۔
    امین ترمذی صاحب نے شائد عاطف توقیر صاحب کے ایک سابقہ بلاگ میں میری یہ حقیقت بیانی نہیں پڑھی ہے کہ عالمی اخبار میں “ تنقید “ اور “ عروض “ سے متعلق نفرت انگیز باتیں لکھنا ایک فیشن سا بن گیا ہے۔

    ۔۔۔۔۔
    بہر حال میں اس بلاگ کو عاطف توقیر صاحب کی غزل کے موضوع سے ہٹا کر ایک ذیلی موضوع کی طرف موڑنا نہیں چاہتا ۔

    بس امین ترمذی صاحب ( جن کو میں اپنے سابقہ بلاگوں میں بہت کچھ سکھا چکا ہوں اور جن کی میں دل سے عزت کرتا ہوں ) سے گذارش ہے کہ وہ اپنی تبصرے کھل کر کرتے رہیں مگر اہنے تبصروں میں میری بجائے اس بلاگ کے اصل موضوع یعنی عاطف توقیر صاحب کی غزل پر تعمیری تنقید کریں اور انکی اس غزل کو عروض کے پیمانے پر جانچتے رہیں۔

    شائد کہ سب کے دل میں اور خاص طور پر عاطف توقیر صاحب کےدل میں امین ترمذی صاحب کی بات اُتر جاے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جہاں تک عاطف توقیر صاحب کی اس غزل کا تعلق ہے اسکے بارے میں میں شروع ہی میں کہ چکا ہوں کہ :

    “ شاعر کے اندر چھپا ہوا نقاد ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کی اپنی غزل کے محاسن اور عیوب کیا ہیں۔“

    ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
    مییر ی اس حقیقت بیانی کا اطلا ق تمام سخنوروں پر ہوتا ہے ۔

    اگر ہر سخنور اپنی تخلیق پر خود تعمیری تنقید کرتا رہے تو پھر پڑھنےوالوں کو اس کی تخلیق کو آئینہ دکھانے کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔

    میں اس بات کا قائل نہیں کہ ہر لکھنےوالا بغیر سوچے سمجھے اپنا کلا م “ آپ کی نذر ہے “ کہکر پیش کرے اور یہ امید کرے کہ پڑھنے والوں میں سے کوئی اس کے کلام پر تنقید کرکے اسکی اچھائی اور برائی کو منظر عام پر لائے ۔ سخنور کو معلوم ہونا چاہیے کہ اپنے گندے کپڑے دوسروں کے دے کر یہ کہنا کہ ان کو دھوکر صاف کردیں، پڑھنےوالوں کےساتھ زیادتی ہوگی ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امین ترمذی صاحب نے عاطف توقیر صاحب کا وہ بلاگ بھی پڑھا ہوگا جس میں عاطف توقیر نے پروین شاکر مرحومہ کی ایک غزل کو ( پروین شاکر کا نام دئے بغیر) اپنے بلاگ میں شایع کرکے پڑھنے والے کو یہ دعوت دی کی اس پر تبصرہ کرے ۔( صرف ا س لیے کہ وہ یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ پڑھنے والا مرے ہوئے شاعر کے کلام پر کچھ کہنے کی جسارت کرتا ہے یا نہیں)۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بہرکیف :

    کاش کہ ہر شاعر قابل اجمیری اور قمر جلالوی جیسے شعرا کی طرح شعر کہتا ؛

    کاش کہ جلیل مانک پوری کی طرح ہر اچھا شاعر یہ کہتا کہ :
    اپنا دیوان مرقع ہےحسینوں کا جلیل
    نکتہ چیں تھک گئے پر عیب نکالے نہ گئے

    ۔۔۔۔۔
    بہرحال :
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  14. پہلے تو تمام احباب اور بلگ فیمل سےاپنی لمبی غیر حاضری پر معزرت کرتا ہوں ، نگہت آپا ، ےقیں کریں کہ واپس آکر بھی اسقدر مصروفیات ہیں کہ بیان نہیں کر سکتا ، اور پاکستان جا کر تو وقت کا پاتا ہی نہیں چلتا ، اب ہم حاضر ہیں ،

    اور عاطف توقیر بھائی کی عمدہ غزل پڑھکر لُطف آیا — میں نے پہلی بار اپکا کلام پڑہا ہے ،

    اور کیا کہنے کہ ،

    کوئی عجیب تعلق ہے فرش و عرش کی بیچ
    ہے خاک بستہ فقیروں کو آسماں کی تلاش

    عاطف توقیر بھائی سدا سلامت رہیں ، اور اچھے سے اچھا لکھتے رہیں

    صفدر ھمدانی آغا ، میں آپکی بات سے مُتفق ہوں ، آپ یہ بات میرا خیال ہے کہ شاعری کہ ہر بلاگ میں کہہ چکے ہیں ، آپکی یہ ہی حوصلہ افزا بات ہم طالب علموں کو حوصلہ دیتی ہے،

    صفدر آغا ، میں اپنی بات کرتا ہوں کہ میں نے تو آپکی شاعری پڑھ کر میں نے تو بُہت کُچھ سیکھا ، خاص کر شاعری کے دو جُزکہ بارے میں ،، مادہ و صورت ،، یعنی کیا کہنا چاہے اور کیوں کہنا چاہے،، انسان کے دل میں کسی چیز کے دیکھنے ، سُننےیا کسی حالت یا واقعی کے پیش آنے سے،، جوش و مُسرت،، عشق و مُحبت،، درد و رنج ،، فخر و ناز ،، ھیرت و استجاب ،، طیش و غضب ،، وغیرہ کی جو حلت پیدا ہوتی ہے اسکو جذبات سے تعبیر کرتے ہیں ، ان جذبات کا ادا کرنا شاعری کا اصلی ھیولٰیٰ ہے ،،

    انکے سوا عالمِ قُدرت کی منظر کشی عام واقعات کا بیاب کرنا اور حلات کا بیان کرنا بھی اسی میں داخل ہے ، لیکن شرط یہ ہے کہ جو کُچھ کہا جائے اس انداز سے کہا جائے کہ جو اثر شاور کے دل میں ہے وہی سُننے والوں پر چھا جائےیہ شاعری کا دوسرا جُز صورت ہے اور ان ہی دونوں جُز کے مجموعے کا نام شاعری ہے ،

    باقی خیال بندی ،، مضمون آفرینی ،، دقت پسندی ، مُبالغہ ، صنائع و بدائع ،، شاعری کی حقیقت میں داخل نہیں ، اگرچہ بعض جگہ ، یہ چیزیں نقش و نگار اور زیب و زینت ک کام آتی ہیں ،مگر شاعری کے دو جُز ہی ہیں مادہ و صورت
    زوار قمر عابدی
    مُحتاجِ دُعا —

  15. السلام علیکم
    عاتف توقیر صاحب ، عمدہ کلام پیش کرنے کے لیے شکریہ ، اور پھر آپ کے کلام پر اساتزہ کے تبصرے ، ’’ سبحان اللہ ‘‘
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔
    آصف احمد بھٹی

  16. قاضی صاحب آپ کا شکریہ کہ آپ نے وقت نکالا۔ آصف علی بھٹی صاحب شکریہ کہ آپ نے شعر پسند کئے۔
    بابا جانی آپ کی بات کتنی واضح ہے مگر ہر کسی کی سمجھ نہیں آ سکتی۔ جن گھڑیوں کے سیل ختم ہو جاتے ہیں ان میں وقت ٹھہر جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وقت نہیں ٹھہرتا وہ خود پیچھے رہ جاتی ہیں۔
    میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ غزل پر رائےدینا اور شعروں کا اپنے انداز سے پرکھنا اور جانچنا اچھی بات ہوتی ہے لیکن یہاں شعروں کو قارئین کی نذر کرنے کی وجہ ہر گز یہ نہیں کہ میں اپنی غزل ان شعراء سے، جن کو صرف اور صرف عمر کی برتری سے استاد تک کہنا پڑتا ہے کی نذر اس لئے کر رہا ہوں کہ یہ میری اصلاح کر دیں۔ شعر اس لئے لکھے ہیں کہ پڑھ لیجئے مگر یہاں تو معاملات اس حد تک بگڑے ہوئیں کہ خدا کی پناہ۔
    میں نے جو لکھ دیا لکھ دیا، اور آرٹ یہی ہے۔ جس کو پسند ہے تو اچھی بات ہے نہیں پسند ہے تو بھی اچھی بات ہے۔ سو شعراء سے گذارش ہے کہ تنقید کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ کو بحثیت قاری کوئی شعر کیسا لگا۔ اس سے بڑھ کر کچھ نہیں اپ اپنے زاویے سے شعر کو دیکھیں اور اپنی رائے دے دیں۔
    مسئلہ یہ ہے کہ بڑا آسان کام ہے کسی پر تنقید کرنا۔ بابا جانی آپ میری ہمت پر داد دیجئے کہ ان تمام چیزوں کی پروا کئے بغیر میں نے اشعار یہاں چسپاں کر دئے۔
    ان شعراء کا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں شعر سنانے سے پہلے یہ بتانا پڑتا ہے کہ یہ شعر کس کا ہے اگر کسی ایسے شاعر کو ہو جس کا نام سن رکھا ہو یا جسے یہ کوئی بڑا شاعر سمجھتے ہوں تو پھر تو واہ واہ ہے اگر کوئی گم نام شاعر ہو یا میری طرح بزرگوں کی عزت کرنے والا بندا ہو تو پھر اس کی خیر نہیں ہوتی۔
    جناب صرف رائے دیجئے کیونکہ جس طرح شعر کا ایک خاص پیمانہ ہے اسی طرح تنقید نگار کے لئے بھی کچھ خاص پیمائشیں ہیں۔ یا کم از کم اچھا شاعر ہونا ایک لازمی شرط ہے اور اچھے شاعر ہونے کے لئے اچھا شعر کہنا نہایت ضروری ہے۔ معذرت چاہتا ہوں اب یہ نہیں سمجھا سکتا کہ اچھا شعر کسے کہتے ہیں۔

    آداب
    🙂

  17. عاطف توقیر صاحب کے کلام پر واہ واہ کرنے والے اگر اس بلاگ کو “فیس بک“ بنانا چاہتے ہیں تو پھر فیس بک facebook
    کلب میں ہی اپنا کلام شایع کرتے ہیں ،انہیں واہ واہ واہ واہ ملتی رہےگی ۔

    یہ بلاگوں کی دنیا ہے جس میں بلاگ اور تبصرہ پڑھنےوالوں کو تحریری شکل میں یہ حکم دیا جاتا ہے کہ “جواب لکھیں “ اور “ تبصرہ ارسال کریں “۔

    نتیجہ کے طور پر جوابات اور تبصرے تو لکھے جائینگے جن میں داد کے مستحق اشعار پر “واہ واہ واہ واہ “ بھی ہوتی رہےگی اور داد کے غیر مستحق اشعار پر تعمیری تنقید ہوتی رہےگی ۔

    بلاگ نگار کا یہ کہنا غلط ہے کہ اس بلاگ میں کوئی شعر :

    “اگر کسی ایسے شاعر کا ہو جس کا نام سن رکھا ہو یا جسے یہ کوئی بڑا شاعر سمجھتے ہوں تو پھر تو واہ واہ ہے اگر کوئی گم نام شاعر ہو یا میری طرح بزرگوں کی عزت کرنے والا بندا ہو تو پھر اس کی خیر نہیں ہوتی۔“

    تو انکی یہ بات پڑھنےوالوں پر ایک بے بنیاد بہتان کےمماثل ہے ۔ اس لیے کہ عاطف توقیر صاحب نے اپنی اس بے بنیاد بات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی مثال یا ثبوت پیش نہیں کیا۔

    اس کے علاوہ انکا یہ کہنا بھی انتہائی غلط ہے کہ “

    “ جناب صرف رائے دیجئے کیونکہ جس طرح شعر کا ایک خاص پیمانہ ہے اسی طرح تنقید نگار کے لئے بھی کچھ خاص پیمائشیں ہیں۔ یا کم از کم اچھا شاعر ہونا ایک لازمی شرط ہے اور اچھے شاعر ہونے کے لئے اچھا شعر کہنا نہایت ضروری ہے۔ “

    میں اس لیےعاطف توقیر صاحب کی اس بات کو غلط بیانی سے تعبیر کرتا ہوں کہ “ ہر تنقید نگار کو ایک اچھا شاعر ہونا ضروری نہیں“ ۔ ( مثال کے طور پر امین ترمذی صاحب نے اپنےتبصرے سے یہ ثابت کردیا کہ شاعرہونےکا دعویٰ نہ کرتے ہوئےبھی انہوں نے ایک اچھے تنقید نگار ہونے کا ثبوت دے دیا )۔

    ہا ں میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اچھے شاعر سے اچھا شعر سننے کی تمنا ہوتی رہتی ہے ۔ اگر اس کے اشعار نقائص اور خامیوںسے بھرے ہوئے ہوں تو سننے والے کو مایوسی ہوتی ہے۔ ۔

    اگر عاطف توقیر صاحب کسی اچھے تنقید نگار کی مثال دتیے جو اچھا شاعر بھی تھا۔ تو انکی بات میں کچھ وزن بھی پیدا ہوتا ۔ مگر انہوں نے یہ نہیں کیا۔
    بہرحال :

    فقط :
    اچھی شاعری کا دلدادہ
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  18. منظور قاضی صاحب۔ آپ کا شکریہ بلکہ تمام ہی لوگوں کا بہت ہی شکریہ۔۔
    میں معذرت چاہتا ہوں میں آپ کو اپنی بات سمجھا نہیں سکتا اور آپ کی بات مجھے سمجھ نہیں سکتی۔ میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ آپ کو آئندہ میرے اشعار کم از کم یہاں نظر نہیں آئیں گے اور جو اب تک ارسال کر دئے ان کے لئے معذرت۔ آئندہ یہ غلطی نہیں ہوگی۔
    جون بھائی نے کہا تھا۔
    ایک ہی سانحہ تو ہے اور وہ یہ کہ عمر بھر
    بات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئی۔
    سو اس لئے خدا حافظ

  19. عاطف توقیر صاحب

    آپ نے آئندہ اپنے اشعار بلاگ پر نہ لگانے کے ارادے کا جو اظہار کیا ہے اس سے مجھے تکلیف پہنچی ہے۔

    اگر مناسب سمجھیں تو اپنی کچھ غزلیں میرے ای میل ایڈریس پر بھیج دیں۔ آپ کی بہت نوازش ہو گی

    میں بہر حال آپ کو پڑھنا چاہتی ہوں۔

    عرشی ملک

    From:
    arshimalik50@hotmail.com

  20. مجھے یقین تھا کہ میرے بڑوں میں سے کوئی اٹھے گا اور عاطف کے کان کھینچھے گا اور کہے گا کہ تم کہی نہیں جا سکتے یہی بیٹھو ۔۔ بھلا کوئی اپنے بڑوں کا بھی کوئی بر امانتا ہے ۔۔۔ اور عاطف کا مجھے پتہ ہے کہ اس نے بیٹھ جانا تھا یہ کہہ کر بھلا کوئی اپنے بڑوں کا کہا بھی ٹالتا ہے ۔۔۔

    لیکن عرشی آپا آپ نے تو ساری بازی ہی پلٹ دی ۔۔۔ یہ کہہ کراگر مناسب سمجھیں تو اپنی کچھ غزلیں میرے ای میل ایڈریس پر بھیج دیں۔ آپ کی بہت نوازش ہو گی

    میں بہر حال آپ کو پڑھنا چاہتی ہوں۔

    آپا آپ کا فرض تھا کہ عاطف کو حکم دیتی کہ تم کہی نہیں جا رہے ۔۔ ہم سب تمہیں پڑھنا چاھتے ہیں ۔۔ نا کہ دوسرا رستہ دکھانا تھا ۔۔

    مجھے افسوس ہوا ہے اپنے بڑوں کی تھوڑ دلی پر جس کا گاہے گاہے عاطف کو سامنا کرناپڑا ۔۔۔ مجھے افسوس ہوا کہ عاطف نے میری بات کو رد کرتے ہوئے ہتھیار ڈال دیئے ۔۔ مجھے افسوس ہوا کہ اب ہمارے بڑوں نے اس کے جانے کو تسلیم بھی کر لیا ۔۔۔

    مجھے دکھ ہے ۔۔ مجھے رنج ہے ۔۔۔ کہ ہم جتنی محنت اور محبت سے دور دور سے انمول لکھنے والے لاتے ہیں انہیں اتنی ہی بے دردی سے تنقید کے پتھروں سے لہولہان کر دیا جاتا ہے ۔۔۔

    مجھے دکھ ہے آج ہماری محنت اور محبت دونوں ہی رائیگاں گئیں ۔۔۔۔

  21. عاطف توقیر بھائی ، السلام علیکم ،
    بھیا یہ تو کوئی بات نہ ہوئی ، ارے پتھر تو آئیں گے نہ ، آپ بھی چلے جائیں گے اب سب کی طرح ؟ بس ایک فرد کی وجھ سے ؟ تبصرہ نگار کی اور تنقید کرنے والے کی اپنی سوچ ہے ۔۔ تو کیا اب ہم لکھنا چھوڈ دیں ؟

    ہر ایک کا اپنا معیار ہے ۔۔۔ ارو ضروری ہنیں کہ ہر انسان دوسرے کہ معیار پار پہرا اترے ؟ اور ہر ناقد شاعری کو دیکھتا تو اپنی نظر سے ۔۔۔۔۔ اگر وہ لکھنے والے کی ناطار سے دیکھے تو کبھی تنقید نہ کرے اب ایک فرد کیلے آپ اتنے مُحبت کرنے والوںکا دل توڑدیں گے ؟ اگر کہی آپ کی شاعری کہ آپکواور آپکی بات کو نہیں سمجھ پا رہا تو سچ میں یہ اُسکا قصور ہے آپکا نہیں

    براے مہربانی آپ نا جائیں اور اسی طرح لکھتے رہیں ، آپ سے پہلے بھی کتنے لوگ اچھے لکھنے والے بس اسی وجہ سے چلے گئے ہیں اور میں کہتا ہوں کہ اب یہ رسم ٹوٹے کیونکہ ۔۔۔۔ بقول نگھت آپا کے کہ

    مجھے دکھ ہے ۔۔ مجھے رنج ہے ۔۔۔ کہ ہم جتنی محنت اور محبت سے دور دور سے انمول لکھنے والے لاتے ہیں انہیں اتنی ہی بے دردی سے تنقید کے پتھروں سے لہولہان کر دیا جاتا ہے ۔۔۔ مجھے دکھ ہے آج ہماری محنت اور محبت دونوں ہی رائیگاں گئیں ۔۔۔۔ گُزارش ہے کہ ۔۔۔۔۔آغا ھمدانی اور نگھت آپا کی محنت کو رائیگاں نہ کریں

    مُحتاجِ دُعا ——– زوار قمر عابدی

  22. مجھے بھی عاطف توقیر صاحب کے جانے پر انتہای افسوس ہورہا ہے۔ صرف اس لیے کہ نہ صرف میں بلکہ تمام عالمی اخبار کے پڑھنے والے انکا کلام پڑھنےسے محروم ہوجائینگے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میں عاطف توقیر صاحب سے درخواست کرتاہوں کہ اگر وہ میری تعمیری تنقید کی وجہ سے عالمی اخبار میں لکھنا چھوڑ رہے ہیں تو میں ان سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں ان کے کلام پر کوئی تبصرہ نہیں کرونگا۔ ( دوسرے تنقید نگار جو چاہے کریں ، یہ انکی اپنی مرضی پر منحصر ہے ) :

    میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ صرف چند ایک گنےچنے تنقید نگارون کی وجہ سے عالمی اخبار کے تمام پڑھنے والوں کو اپنے کلام سے محروم نہ کریں ، اور عالمی اخبار میں اپنا کلام عطا کرتےرہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اللہ انکے انے والے کلام کو بھی وہی قبولیت عوام اور حیات دوام عطا کرے
    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے
    manzoorquazi@gmail.com
    0049863884203

  23. میں عاطف میاں تمہیں بڑا ہونے کے ناطے حکم دیتا ہوں کہ تم یہ محفل چھوڑ کر کہی نہیں جا سکتے . تم جیسے لکھنے والوں کے لئے تنقید کی اتنی اہمیت اس لئے نہیں ہو نی چاہیے کہ جب کوئی لکھنے والا اپنی نگارشات کو لوگوں کے سامنے رکھ دیتا ہے تو اسے پھول پتھر دونوں کے لئے حوصلہ رکھنا چاہئے. لکھنے والوں کے پاس تو بڑا اور قد آور دل ہونا چاہئے تاکہ وہ خود کودوسروں کی تنقید کے آئینہ میں تا حیات سنوارتے رہیں .
    عاطف میاں تم اسے میرا حکم سمجھو . یوں بدل ہو کر جانا ہوا تو سب سے پہلے عالمی اخبار کی انتظامیہ جائے گی پھر کوئی اور.
    باقی آسٹریا پینچ کر لکھوں گا. پرواز کا اعلان ہو رہا ہے . اس وقت اجازت .

  24. محترم قارئین عالمی اخباراسلام علیکم
    گو کہ اب اس موضوع پر لکھنے کو کچھ بچا نہیں ہے کئی مبصرین نے شاعر مغرب کے کلام بے کمال کو سراہا ہے اور اس کے نقادین کو ایسا کرنے سے باز رکھا ہے لیکن مجھے بے حد خوشی ہے کہ میرے کسی ایک جملے کو غلط یا کج بحثی نہیں قرار دیا جس کے لئے ان سب کا ممنون ہوں چونکہ مبصرین کئی ہیں اس لئے ہر ایک سے وضاحت میں کافی وقت درکار ہوگا۔اس لئے میں نے اپنی کم علمی کا امتحان لینے کے لئے یہ پورا بلاگ کراچی میں ایک ایسے نقاد کو بھیج دیا ہے جوکم از کم ایک سو ادبی کتب پر مقدمے لکھ چکا ہے تاکہ اس کے تبصرے اور تنقید کی روشنی میں میں کچھ سیکھ سکوں مجھے کوئی زعم نہیں ہے کہ مستند ہے میرا فرمایا ہوا۔ لیکن ان تمام تبصروں میں ایک کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں اور وہ بھی بے حد مختصر۔ ایک صاحب نے لکھا ہے مجھے آپ سے اختلاف ہے لیکن میں آپ کی تحریر کا احترام کرتا ہوں دیکھئے جب آپ کسی کا احترام کرتے ہیں تو اس سے یہ نہیں کہتے کہ میں آپ کا احترام کرتا ہوں ورنہ میں آپ کو گالی دینا چاہتا ہوں۔ یہ گالی تو آپ نے بس اتنا کہنے سے ہی دے دی۔دوئم انہوں نے مجھے لکھا کہ جیتے رہئے ۔سنئے جیتے رہئے آپ صرف اس سے کہہ سکتے ہیں جو آپ سے عمر میں بہت چھوٹا جی ہاں بہت چھوٹا ہو آپ دو چار سال چھوٹے کو جیتے رہئے نہیں کہہ سکتے غالباَ موصوف کو میری تحریر کی ناپختگی کا احساس دلانا مقصود تھا ورنہ وہ میری عمر نہ جانتے ہوئے بھی میری عمر کا اندازہ لگا سکتے تھے یا تو یہ کہئے کہ ہمیں وہ آداب نہیں معلوم کہ کس سے کیسے خطاب کیا جاتا ہے وغیرہ غیرہ۔۔ خیر میں اپنی عمر لکھے دیتا ہوں ۔چھیاسٹھ سال۔ تذکرہ بالا تنقید یا توصیف کراچی سے موصول ہونے پر عالمی اخبار کی نظر کردی جائے گی شاید وہ اس کے معیار پر اترے اور طبع ہوسکے
    لیکن پھر بھی میں باقی ماندہ تین اشعار کی تنقید”برائے تعمیر” لکھے دیتا ہوں تاکہ موضوع مکمل ہو جائے ویسے میں پچھلے کسی بلاگ میں لکھ چکا ہوں کہ آدمی کو شاعر کہلانے کا شوق کیوں ہوتا ہے۔ اس کو بھی ایک نظر دیکھ لیا جائے۔۔
    ایک غلطی کا اعتراف ۔ مجھے اپنی غلطی کا اعترف کرنے میں بڑی فرحت حاصل ہوتی ہے کہ ائندہ کے لئے وہ بات ہمیشہ کے لئے ذہن نشین ہوجاتی ہے۔کل میں نے بحر مُجتث کے ہجّے “س” سے لکھے تھے جو غلط تھے وہ دراصل “ث” سے ہے۔بحر مُجتث ،مُثمن،مخبون، محذوف،مقطوع ہے بحر مُجتث اپنی خالص شکل میں مستعمل نہیں ہوتی ہے۔اور ذحافت کے ساتھ استعمال ہوتی ہے اس کی مثال میں غالب کا ایک شعر پہلے پیش کیا جاچکا ہے دوسرا ایک شعر بھی پیشِ خدمت ہے۔
    وہ چیز جس کے لئے ہم کو ہے بہشت عزیز
    سوائے بادہِ گلفامِ مشک بوکیا ہے۔
    چوتھا شعر۔
    بے نطق بانگ رہی ہست و بود کی گردش۔
    کہیں جنوں کی تلاشی کہیں جنوں کی تلاش۔
    پہلے مصرعہ خارج از بحر ہے یہاں بے نطق کی جگہ بہ نطق لکھنے سے شعر بحر میں تو آجائے گا لیکن ہنوز بے معنی ہی رہے گا، علاوہ اس کے۔ہست و بود کی گردش۔ یہ فقرہ کیا چیز ہے؟ کیا یہ نئی شکل اختیار کرنے یا دوسرا جنم لینے۔ یہاں پھرایک انگریزی کے لفظ کا سہارا لینا پڑ رہا ہے تاکہ عام قاری پر بات واضح ہو جائے دیکھئے جو بھی چیز عام قاری کے لئے لکھی جائے وہ اُس پر واضح ہونا ضروری ہے نہ کہ اُس کے ہمراہ ایک فرہنگ لازم سمجھی جائے۔
    “re-incarnation ”
    اُمید ہے انگریزی کا یہ لفظ پوری طرح عرض مدعا کو واضح کرے گا۔ تو کیا یہ نئے متجسم کی جانب اشارہ ہے اگر نہیں تو پھر کیسی گردش ہے؟۔۔۔بانگ کے معنی ،پُکار صدا۔ اذان ، گھنٹی یا صوت کے ہیں ان تمام تر مطالب کے بعد بانگ کا بے نطق ہونا معنی خیز نہیں ہے۔ اور پھر بانگ رہی کیا گرامر ہے۔ مجموعی طور پر نہ ہی مصرعوں میں کوئی ربط ہے اور نہ ہی شعر کا کوئی مطلب۔
    پانچواں شعر۔
    سکوتِ شب تجھے اتنا تو یاد رکھنا تھا۔
    میں خواب ہوں مجھے ہوگی کسی جہاں کی تلاش۔
    سکوتِ شب “میں” سے تو دوسرے معنی نکلتے ہیں۔لیکن صرف سکوتِ شب سے تو قاری یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ شاعر سکوتِ شب ہی سے مخاطب ہے لیکن سکوتِ شب کو کبھی کوئی چیز یاد کرتے ہوئے دیکھا سُنا یا پڑھا نہیں اس لئے اس مصرعے میں بھی شاعر قاری کو بھول بھلیّوں میں تنہا چھوڑ گیا۔
    میں خواب ہوں۔۔۔کیا شاعر خود خواب ہے؟ اور کس جہاں کی تلاش میں ہے؟ کیا خواب تلاش کرسکتا ہے؟ اور اس میں سکوتِ شب کو کیا چیز یاد رکھنا ہے اور کس لئے؟
    آخری شعر۔
    کوئی عجیب تعلق ہے فرش و عرش کے بیچ
    ہے خاک بستہ فقیروں کو آسماں کی تلاش
    یہاں شاعر کی مراد اگر آسمان سے خُدا ہے اور خاک بستہ فقیروں کو خدا کی تلاش ہے تو پھر تو یہ شعر تھوڑا بہت قرینِ قیاس ہے لیکن یہاں عرش اور خاک بستہ فقیروں کو ساتھ لانے کی کوشش کی گئی ہے جو بہت کامیاب نہیں ہے شعر میں کافی ابہام ہے لیکن باقی اشعار کو دیکھا جائے تو یہ شعر غنیمت ہے۔
    ناچیز کا مشورہ ہے کہ پوری غزل ہی نظر ثالث کی محتاج ہے اور کسی طرح قابلِ اشاعت نہیں ہے اور اصلاح لے لینے میں کوئی شرم کی بات نہیں ہے اور نہ کوئی ایسا کم ظرف اُستاد ہوگا جو مشاعرے میں سب کو بتا رہا ہو کہ یہ کلام میں نے درست کیا ہے۔
    آخر میں شاعر سے بہت سی معذرت کرتے ہوئے یہ لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں بحمداللہ شاعر نہیں ہوں نثربھی بہت کم لکھتا ہوں عالمی اخبار وہ واحد ادبی میداان ہے جہاں کبھی کبھی چہل قدمی کرلیتا ہوں اس کے علاوہ کسی نے میری تحریر کہیں نہیں دیکھی ہوگی اور اگر یہاں بھی نہ لکھوں تو میرا بلڈ پریشر انشااللہ نارمل ہی رہے گا ،روٹی اس طرح پیٹ بھر کے کھایا کروں گا اس لئے مجھے یہ دھمکی دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ میں جارہا ہوں کوئی مجھے روکو.. کوئی تو بولے۔ اور ہاں شہر ڈیلس سے یا امریکا سے نکنے والے اخباروں میں سال میں کوئی ایک مضمون لکھ دیتا ہوں یا پھر کسی مہمان شاعر کی آمد پر سال بھر میں دو مقالے اور بس۔اور ہاں میں کہیں نہیں جارہا انشااللہ اگر اخبار والے چھاپتے رہے جس کا مجھے یقین ہے تو میں یہیں ہوں ۔
    آخری بات یہ کہ اگر یہ کوئی جدید آرٹ ہے جو ہمارے سیل ختم ہوجانے کے سبب ہماری سمجھ سے باہر ہیں کیوں کہ بقول آپ کے ہم پیچھے رہ گئے ہیں تو بھائی میرے جدید آرٹ صرف جدید آرٹ کی نمائش میں رکھے جاتے ہیں نہ کہ فائن آرٹ کی نمائش میں۔۔۔ اور ہاں میں گذشتہ ایک سال سے یہیں ہوں اور اللہ نے زندگی دی تو اگلے سال بھی میں یہیں ہوں آپ کو میری تحریر پر ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے تنقید کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ کہ .. یہ تو چلتی ہے تجھے اُونچا اُڑانے کے لئے۔ آپ سب کی محبتوں کا امین
    ویسے مجھے خوشی ہے کہ یہ بلاگ جو چھ تبصروں کے بعد رک گیا تھا اب چوبیس تبصروں تک پہنچ گیا ہے جس کے لئے صاحب بلاگ کو میرا ممنون ہونا چاہئے just kidding

  25. کاش کہ “ نظر ثانی کرنے والی ہستی “ زوار قمر عابدی صاحب کی 18 جون کی مندرجہ ذیل اشعتال انگیز تحریر اس بلا گ میں شایع نہ کرتی اور اگر کرتی تو ان سے کہتی کہ وہ بتائیں کہ انکا اشارہ فرد سے کس کی طرف ہے اس لیے کہ تین تنقید نگاروں نے عاطف توقیر صاحب کی کلام پر تنقید کی تھی :

    “عاطف توقیر بھائی ، السلام علیکم ،
    بھیا یہ تو کوئی بات نہ ہوئی ، ارے پتھر تو آئیں گے نہ ، آپ بھی چلے جائیں گے اب سب کی طرح ؟ بس ایک فرد کی وجھ سے ؟ تبصرہ نگار کی اور تنقید کرنے والے کی اپنی سوچ ہے ۔۔ تو کیا اب ہم لکھنا چھوڈ دیں ؟

    ہر ایک کا اپنا معیار ہے ۔۔۔ ارو ضروری ہنیں کہ ہر انسان دوسرے کہ معیار پار پہرا اترے ؟ اور ہر ناقد شاعری کو دیکھتا تو اپنی نظر سے ۔۔۔۔۔ اگر وہ لکھنے والے کی ناطار سے دیکھے تو کبھی تنقید نہ کرے اب ایک فرد کیلے آپ اتنے مُحبت کرنے والوںکا دل توڑدیں گے ؟ اگر کہی آپ کی شاعری کہ آپکواور آپکی بات کو نہیں سمجھ پا رہا تو سچ میں یہ اُسکا قصور ہے آپکا نہیں “

    ۔۔۔۔۔۔
    امید کہ میرا یا تبصرہ حذف نہیں کیا جائےگا اور اگر حذف کیا گیا تو انصاف کا تقاضہ ہے کہ زوار قمر عابدی صاحب کے مندرجہ بالا فقرے بھی انکے تبصرے سے حذف کردیے جائیں۔

    ۔۔۔۔۔۔
    فقط
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  26. عزتمآب قاضی صاحب۔
    سلام مسنون۔ ضروری نہیں کہ ہم ہر بات کو اشتعال انگیز سمجھیں اور اس پر اپنا رد عمل ظاہر کریں۔ اب اگر عاطف توقیر صاحب آپ سے یا مجھ سے یا چاہے کسی بھی ایک فرد سے نالاں ہو کر گئے ہیں تو یہی کہا جائے گا کہ آپ اگر کسی ایک فرد سے ناراض ہیں تو سب سے کیوں روٹھتے ہیں؟ اس میں کسی کی مخصوص کر کے کسر شان کا مدعا کم از کم مجھے نظر نہیں آٰیا، یہ تو صرف منانے کی ایک کوشش تھی۔ تاہم چونکہ آپ حساس ہونے کے سبب ایک ذہنی کرب سے گزر رہے تھے، اور بار بار اس جوابی تحریر کے لئے مصر تھے، اس لئے میں نے آپکا تبصرہ لگا دیا ہے۔۔۔۔لیکن اس سے مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب ہم سب کوئی تنقید ایک بار بھی برداشت نہیں کر سکتے تو عاطف کس طرح سے مزید تنقید برداشت کرنے کا متحمل ہو سکتا تھا؟

    میں خود عاطف توقیر صاحب کو منانے کی ہر ممکن سعی کرتا اگر ہمارے بڑے آغا جانی انہیں حکم نہ دے چکے ہوتے۔ اب ہمارے ادارے اور فکر کے سربراہ نے جب انہیں بھر پور محبت سے واپسی کا حکم دے دیا ہے تو معاملہ میرے قد سے بڑا بھی ہے اور اس میں میری مداخلت اب کوئی معنی نہیں رکھتی۔ یہ تو اب عاطف صاحب پر ہے کہ وہ آغا جانی کی صدا کا کیا جواب دیتے ہیں۔ اب تک وہ بلاگ پر نہیں آئے، اس سے میں رنجیدہ ہوں۔ جسطرح بار بار ہر تخلیق پر اعتراض کو تنقید کا زیور نہیں پہنایا جا سکتا اسی طرح بار بار روٹھنا زندگی کے مسائل کا حل نہیں ہوتا۔

    بہر کیف مجھے عاطف صاحب کی ایک ادا پسند ہے کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا کرتے ہیں اور بڑوں کا احترام بھی کرتےہیں، اس لئے مجھے یقیقن ہے کہ وہ بابا جانی کا حکم نہیں ٹالیں گے، اور ہمیشہ کی طرح بلند ظرفی سے کام لیں گے۔۔۔انشاء اللہ۔

    اس بلاگ پر مزید جواب در جواب یا بحث برائے بحث کا کوئی تبصرہ شائع نہیں کیا جا سکے گا اور نہ ہی میری تحریر کے ضمن میں مزید کچھ شائع ہو سکے گا،تاکہ اصل موضوع فوت نہ ہوجائے۔ تاہم عاطف صاحب کو منانے یا انکی شاعری پر مثبت و تعمیری تبصروں کے لئے بلاگ کھلا رہے گا۔ انشاء اللہ۔

    اگر میری تحریر کسی کی رنجیدگی کا سبب بنی ہے تو میں پیشگی معافی مانگ رہا ہوں اور تمام احباب سے تعاون و کرم فرمائی کا خواستگار ہوں۔
    نا چیز

  27. عزیزی مصباح میں ابھی تک ویانہ میں ہی ہوں اور واپسی پیر کے روز ہو گی. 35 سال سے زیادہ قلمی سفر کے دوران شاید یہ تیسرا موقع ہے کہ قلم قبیلے کا فرد ہپونے پر جیسے ندامت سی ہو رہی ہے. ہم میں سے اکثیریت شاید میرے سمیت لکھتی کیسے بڑے بڑے الفاظ اور فقرے ہیں لیکن ہم کیسے بونے اور کتنے کوتاہ قد ہونے کے ساتھ ساتھ خاصے بے حس بھی ہیں. ہماری گواہی تو قلم دے گا اور خالق قلم قلم کی گواہی کو کبھی بھی رد نہیں کرے گا.

  28. جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب کو مبارک ہو کہ انہوں نے عالمی اخبار کی بلاگ سیکشن کے نگران کار کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری سنبھال لی ۔
    انکےمندرجہ بالا تبصرے سے میں اتفاق کر تا ہوں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    میرا دل مطمئن ہے اور میرا ضمیر صاف ہے کہ میں نے اس بلاگ کےموضوع یعنی عاطف توقیر صاحب کی اس غزل پر اس بلاگ میں اب تک کوئی تنقید ہی نہیں کی ۔ ( اس بلاگ کے پڑھنےوالے اس بات کے شاہد ہیں ) ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہاں امین ترمذی صاحب نے جو تعمیری تنقید اس بلاگ میں شایع کی ہے اس پر شاعرِ موصوف کے جوابات کا انتظارہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میں صرف یہ کہتا رہا کہ شاعر خود اپنا ایک بڑا نقاد ہوا کرتا ہے اور وہی اپنے اشعار کے محاسن اور عیوب کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے ۔ ( کیا یہ کوئی غلط بات ہے جس کا بتنگڑ بنا یا جائے ؟ )
    ۔۔۔۔۔۔۔

    اس لیے فیض کا یہ شعر یاد کرتا رہتا ہوں کہ :

    وہ بات سارے فسانےمین جس کا ذکر نہ تھا
    وہ بات ان کو بہت ناگوار گذری ہے

    فقط:
    خیر اندیش
    ًمنظور قاضی
    جرمنی سے

  29. احباب آپ کی محبت کا شکریہ۔ بابا جانی آپ کا حکم ٹالا نہیں جا سکتا سو وقت نہ ہونے کے باوجود آگیا۔ تاخیر کی معٖذرت میں شدید مصروف ہوں اور مجھے اگلے دو تین ماہ کے لئے کچھ چیزیں درست کرنی ہیں۔ میں وقتنا فوقتنا حاضری دیتا رہوں گا۔
    میں نے ہر گز ایسا نہیں کہا تھا کہ میں عالمی اخبار سے جا رہا ہوں ۔ میں نے صرف یہ عرض کیا تھا کہ میں اپنی شاعری یہاں پوسٹ نہیں کروں گا۔ خیر آپ سبھی احباب کی تحریروں اور بلاگز پر میں اپنے رائے ضرور دیتا رہوں گا۔
    آپ سبھی افراد کی بہت محبت-
    آداب

  30. عاطف ویر بہت بہت شکریہ … دیر لگی آنے میں پر شکر کہ آئے تو …. جیتے رہو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *