برمنگھم میں صدر زرداری کے خطاب کے دوران ایک شخص نے جوتا مارا

zardari uk
شاید صدر زرداری کو اسی دن کا انتظار تھا۔اب بھی وقت ہے کہ اپنے ارد گرد حلقہ بنائے ابن الوقت لوگوں سے چھجٹکارا حاصل کر لیں جو برابر یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ صدر زرداری کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔کائرہ اور بابر اعوان جیسے لوگ ہر عہد میں موجود رہے ہیں مختلف ناموں کے ساتھ۔ کاش شاہ کے ان مصاحبوں کو صدر کی مقبولیت کا اب اندازہ ہو جائے
مزید پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کیجئے

39 thoughts on “برمنگھم میں صدر زرداری کے خطاب کے دوران ایک شخص نے جوتا مارا”

  1. اسلام علیکم ساتھیو
    کہتے ہیں مظلوموں کی آہیں رائیگاں نہیں جاتیں ۔ لوگ اب ہر طرح اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتے ہیں ۔
    اور بھائی بہت سارے شتر مر غ جن کا خبر میں زکر کیا گیا اب بھی ریت میں منہہ چھپائے خود کو محفوظ سمجھ رہے ہیں ،اور یہ ہی ہماری حکومتوں کی بد قسمتی ہے کہ ،نوشتئہ دیوار پڑھنے میں بہت دیر لگاتے ہیں ،بس ہجے ہی کرتے رہ جاتے ہیں اور وقت نکل جاتا ہے ۔
    اے کاش ہم وقت کو سمجھ سکیں ،سنبھل سکیں ۔اور خود کو اس بھنور سے نکال سکیں ۔
    قوم کے جزبات کو سمجھنے کا وقت ہے ان کے دکھوں کے ازالے کا وقت ہے ۔کہ یہ جس طرح کندھوں پر بٹھاتے ہیں اسی طرح پٹخ بھی دیتے ہیں ۔
    اب صبر کا پیمانہ لبریز ہے۔ اور کسی نے کہا کہ چیونٹی بھی پیر کے نیچے آجائے تو کاٹ لیتی ہے ۔
    اے کاش صدر محترم اس وقت لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کو ملک میں موجود ہوتے تو شاید وہ جوتا نہ اُٹھتا ۔
    کل بہت دکھ ہوا جب ایک اینکر کے سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ‘ کیا سیلاب کی وجہ سے آپ نے کھانا کھانا چھوڑ دیا ہے ؟ “یہ سوال ایک قابل خاتون کا تھا ۔جو صدر محترم کو ڈیفنڈ کر رہی تھیں ۔
    اس کے سوا کیا کہیں کہ اللہ ہمارے عوام کو ہمت دے ۔
    محترم صفدر ھمدا نی بھائی ساتھ ہی ساتھ نئے فونٹ کا بہت بہت شکریہ کہ اب لکھنا آسان ہو گیا ہے اور شاید اب غلظیاں بھی کم ہونگی
    اللہ آپ کو جزا دے ۔صحت دے اور آپ جیسے مخلص لوگ ہمیں میسر رہیں ۔اور اچھے لوگوں کا کارواں بڑھتا رہے ۔
    آپ سب کے لئے دعا گو
    عالم آرا

  2. صفدر بھائی مبارک ہو!کسی ہزل گو کا شعر ہے۔ جو مجھے اس وقت یاد آگیا! عرض کیا ہے کہ
    سو جوتوں سے کم رتبہ عالی نہیں ہو تا
    عزت کا خزانہ ہے کہ خالی نہیں ہوتا

  3. محترم صفدررضا ھمدانی صاحب مولا آپ کو سلامت رکھیں ۔

    میں تو پی پی پی کے اس سینئر کارکن کو سلیوٹ کرتی ھوں جس نے دو جوتے مارے ۔ میں تو سوکوڑوں کی بھی تجویز پیش کرتی ۔۔ میں نے لوگوں کو سابقہ حکمرانوں کو گالیاں دیتے سنا ھے مگرمیں نے آج سے پہلے کبھی نیہں سنا کہ پاکستان کی صابر عوام نے کبھی کسی صدر کو جوتا مارا ۔
    یہ اعزاز تو آصف زرداری کو ملنا ھی تھا

    میںتو جوتے کے ساتھہ کوڑوں کی سزا بھی تجویز کرتی غضب خدا کا میرا پورا مللک اس وقت شدید مشکل میں ھے ۔ ایک کروڑ سے زیادہ لوگ متاثر ھوۓ ھیں لاکھوں گھر سیلاب میں بہہ گۓ ۔ جانے کتنے کھربوں کا نقصان ھوا ھے اور ھوگا کیونکہ بپھرے ھوۓ پانی کو روکنا بہت مشکل ھے خیبر سے لیکر سندھ ۔ ھرجگہ تباھی الامان اتنی قمیتی جانوں کا ضیاع۔ ۔ بس اب عوام بھی جوتا ھاتھہ میں لیکر تیار بیھٹی ھے۔۔ صدر سے شروعات ھوئ ھوئ ۔ اب دیکھیے مظلوم کو جب اللہ ھمت عطا کرتا ھے تو وہ جنوں میں جانے کیا کیا کام کر جاتاھے۔ اور کون کون پٹے گا۔ میری تو شدید خواھش ھے کہ ایسا ھے تاریخی استقبال واپسی پر بھی ھونا چاھیے۔۔۔ کیونکہ ایک بار ھاتھہ اٹھہ جاۓ تو اس کو روکنا بہت مشکل ھوتاھے۔

    پی پی والے اس خبر کو غلط کہہ رھے ھیں ۔۔ اللہ کرے یہ خبر سچی ھو

  4. عزیز بہن عالم آراء سلامت رھیں ۔ واقعی کتنی سچی بات کی ھے آپ نے

    قوم کے جذبات کو سمجھنے کا وقت ھےان کے دکھوں کا ازالہ کا وقت ھے جس طرح یہ کاندھوں پر اٹھاتے ھیں اسی طرح پٹخ بھی دیتے ھیں

    آفت زدہ مللک کے صدر کی تیاری تو ملاحظہ فرمائیں رنگین چشمہ اور شاندار اجرک تیاری کرتے ھوۓ ان کے وھم و گمان میں بھی نیہں ھوگا کہ برطانیہ میں اتنی تاریخی درگت بنے والی ھے۔

    سو جوتون سے کم رتبہ عالی نیہں ھوتا

    عزت کا خزانہ ھے کہ خالی نیہں ھوتا ھے

    اس شعر کے انتخاب پر میں محترم شمس جیلانی کو مبارک باد پیش کرتی ھون۔۔

  5. کمال کر دیا جس نے بھی کیا ۔
    میں تو انتظار کر رہی ہوں کے ایسی ہی کوئی خبر شریف برادران کی طرف سے کب آئے گی ۔ کب کوئی مظلوم ان بھائیوں کے منہ پر جوتا مار کر یہ کہے گا کے آج اپنے اقتدار کی بھوک کی خاطر تمکو ہم یاد آ رہے ہیں جب تم اقتدار میں ہوگے تو تم بھی ان ہی جیسے ہو جاوگے۔
    کیونکہ چور کا بھائی گراں کٹ ہی ہوتا ہے۔۔۔

  6. مبارک مبارک مبارک۔۔۔۔۔لیکن وہ کیا ہے کہ صدر زرداری کے لئے یہ کوئی بڑی بات بھی نہیں ہے۔ بلکہ اگر جوتا مہنگا ہوتا تو شاید وہ اسکو بھی دبک لیتے۔۔۔۔آخر دمڑی لگا کر چمڑی ملتی ہے۔ ۔۔۔۔چلیں ایک ایک جوتا ہم سب زرداری کے نام وقف کرتے ہیں۔۔۔بلکہ میرے سب جوتے ان کے نام۔

  7. میں اپنے بھائی مصباح کے ساتھ ہوں .. میرے تمام نئے پرانے جوتے زرداری کے نام .. دھیان میں رہے میں ہیل والے جوتوں کی بات کر رہی ہوں .. موجاں ہی موجاں …

  8. لیجئے دو جوتے امریکیوں نے مسز میشیل اوباما کے لئے بھی تیار کرنے شروع کر دئے ہیں .. سنا ہے میشیل ہمارے صدر زرداری سے مقابلے پر اتر آئی ہیں .. خبر یوں ہے کہ ..
    “مال مفت، دل بے رحم”
    بیگم اوباما کی سکھیوں کے ہمراہ سرکاری خرچ پر اندلس کی “مہنگی” سیر

    سرکاری خزانے سے ذاتی اخراجات سے احتراز امریکا اور پورپ کی اعلی شخصیات کی بیگمات کا طرہ امتیاز جانا جاتا تھا، تاہم امریکی وائٹ ہاوس کی خاتون اول میشیل اوباما کی جانب سے جنوبی سپین میں تعطیلات کے دوران سرکاری خزانے سے شاہانہ اخراجات نے قومی خزانے کے احترام کی اس روایت کو چکنا چور کر دیا ہے۔

    میشیل اوباما کے چار دن کے نجی دورہ سپین پر 85 ہزار ڈالرز یومیہ خرچ آیا۔ اس شاہ خرچی پر امریکی ذرائع ابلاغ نے میشیل اوباما کو “نیو میری اینٹونیٹ” کا لقب دیا ہے جبکہ عوام اپنے ٹیکسوں پر عیاشی کرنے والی اس سیاہ فام خاتون اول کے خلاف غصے میں بپھرے ہوئے ہیں۔

    میری اینٹونیٹ شاہ خرچی کے لئے مشہور فرانس کی ملکہ گذری ہیں۔ ان کا سرکاری خزانے سے اپنے پرتعیش اخراجات کے لئے تصرف اس قدر مشہور ہوا کہ وہ فرانس کے غریب عوام کے مسائل سے مکمل طور پر لا تعلق ہو گئیں۔ کسی نے انہیں عوام کو آٹا نہ ملنے کی شکایت کی تو انہوں نے کہا کہ وہ اگر انہیں روٹی میسر نہیں تو وہ کیک کھا لیں۔ فرانسیسی انقلاب کے موقع پر عوام نے اسی شاہ خرچ ملکہ کا گلہ کاٹ کر اس کا سر پیرس کے کونکورڈ ایونیو میں رکھا اور پھر بپھرے ہوئے عوام 38 سالہ ملکہ کا سر اظہار نفرت اور عبرت کے لئے فرانس کی گلیوں میں لئے پھرتے رہے۔

    امریکی خاتون اول اور سر کٹی فرانسیسی ملکہ کی شاہ خرچیوں میں اگرچہ بہت زیادہ تفاوت ہے تاہم میشیل اوباما کی 5 اگست سے ہسپانوی شہر ماریبا آمد کے بعد ان کے وہاں طعام اور قیام پر آٹھنے والے اخراجات پر اس لئے انگشت نمائی کی جا رہی ہے کہ اس وقت امریکی معیشت دگرگوں صورتحال سے دوچار ہے، ایسے میں کسی سربراہ مملکت کی اہلیہ اور دوسرے اہل خاندان کا سرکاری خزانے سے ایسے شاہانہ اخراجات اپنی جگہ محل نظر ہے۔

    یاد رہے کہ میشیل اوباما اپنی نو سالہ بیٹی ساشا اور سکھیوں کی فوج ظفر موج کے ہمراہ ان دنوں جنوبی اندلس میں چار روزہ تعطیلات گذار رہی ہیں۔ ان کے اس شاہی سفر پر چار لاکھ امریکی ڈالرز لاگت آئے گی۔ سفر کے یہ اخراجات صرف ہوٹل میں قیام، طعام کی مد میں اٹھیں گے، دورے کے دوران کی جانے والی مہنگی شاپنگ پر اٹھنے والے اخراجات اس کے علاوہ ہوں گے۔

    میشیل اوباما کی بیٹی، ان کی سہیلیوں کو امریکی ائرفورس کا خصوصی طیارہ اندلس لیکر آیا ہے، ان کے ہمراہ 68 خصوصی امریکی گارڈز پر مشتمل حفاظتی دستے کے ارکان بھی اسپین آئے ہیں”

    آپ کو نہیں لگتا کہ پاکستان بھی فرانسیسی انقلاب کی طرح ہی کے انقلاب کی طرف بڑھ رہا ہے … پھر امریکی بھی اپنی سپر پاور کو روس کی طرح ڈھونڈے گا .. .. زرا غور کریں جہاں موسم اپنی وحشت کے ساتھ انقلاب میں مصروف ہیں تو وہیں کرہ ارض پر قومیں اپنے انقلاب کی کہنانیاں لکھ رہیں ہی … پاکستان .. کشمیر.. فلسطین .. افغانستان… عراق .. اب مشرقی کوریا … دنیا اپنا بھیس بدل رہی ہے .. غیورقومیں اپنا لباس فاخرہ اتار کر کفن باندھ رہی ہیں .. اللہ اللہ .. حق اللہ …

  9. ہم نے دیکھے ہیں بہت ظلم وستم قہروعتاب
    نوچ لیں گے ہم تمہاری سلطنت کا آفتاب
    ہم بھی دیں گے تم کو اب جوتے سے جوتے کا جواپ
    نوچ لیں ہم یہ آنکھیں ہمکو مت آنکھیں دکھاؤ
    سردار جعفری

  10. لو شاہین میری دوست تمہاری خواہش پوری ہوئی کائرہ جی نے اقرار کر لیا ہے کہ ان کے محبوب صدر کو دوجوتے پڑے ہیں .. لیکن صدر زرداری بہت خوش ہیں … ایک تو اس بات پر کہ برٹش جوتے تھے اور دوسری اس بات پر کہ انہوں نے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے گدی نشین ہونے کے ناطے اپنا یہ آخری فرض بھی ایماندای سے پورا کیا .. اور اپنے پیر و مرشد سے کیا وعدہ نبھایا … اور سندی انعام پایا …. اس سلسلے میں وہ جشن کی تیاریاں کر رہے ہیں اور اس جشن پر کونسے رنگ کے کپڑے پہنے جائیں اس کے لئے اوباما نے کیمرون کو فون کیا ہے اور تاحال برٹش کیبینٹ اور امریکی وائٹ کیبینٹ نے صدر زرداری کو ملنے والی حالیہ “جوتا سند” پر بحث جاری ہے اور پوری کیبینٹ نے اوباما اور کیمرون کو خبردار بھی کیا ہے کہ اگر کسی ملک کے ادیھڑعمر کے آدمی میں اتنی جرات ہو سکتی ہے تو جوانوں اور بچوں میں کتنی ہو گی … اور دوسری طرف مشترکہ اعلامیہ کی منتظر کالی گوری سب قومیں تا حال دم بخود ہے ..

    سنا ہے ہیلیری کلنٹن خاص طور جڑاؤ کانٹوں کا ہار زرداری کے لئے لا رہی ہیں .. جس کے ہر کانٹے پر خاص طور لکھوایا گیا ہے … ڈومور …

  11. شاہین میرا انتخاب پسند آیا بہت بہت شکریہ! مگر مشکل یہ ہے کہ یہ دور پروفنگ کا ہے ۔اور یہ شعر پہلے زمانے کا ہے ،جب سو جوتے بہت ہوتےتھے ۔بعض لوگ ایسے بھی تھے جن کو سو تک کی گنتی بھی نہیں آتی تھی۔ اکثر تو غیرتمند جو تا دکھانے سے مر جا تے تھے۔ مگر اب تو لوگ شرم پروف ہیں ۔ جسم ان کے بلٹ پروف ہیں ،گاڑیاں بھی بلٹ پروف اور محل بھی لہذا ایسے میں اگر ایک آدھ جو تا اچھل بھی گیاتو شیم پروف ہو نے کی وجہ سے ان پرکیا اثر کرے گا۔ خود پھینکنے والا پھینک پھینک کر تھک جا ئے گا تو چپ ہو کر بیٹھ رہے گا۔

  12. واہ واہ ظفر بھائی .. کیا کہنے .. کیا برمحل اشعار ..

  13. شمس بھائی مجھے “پروفنگ ” کی کہانی بہت اچھی لگی .. سچ اتوار کا مزہ آگیا ..

  14. احباب کو لاکھ خوشی ہوئی ہو مگر مجحے یوں افسوس ہوا کہ جوتی بہرحال ملک کے صدر کو ماری گئی وہ بھی غیر ملکی دورے پر!! یہ ملک کی بدنامی کا سبب بنا! جو کسی طرح با حیثیت پاکستانی اچھا نہیں لگا!!!

  15. لو جی ایک جوتا کیا چلا یہاں تو میلہ لگ گیا۔۔۔۔غم کے موسم میں بھی خوشی کی ہوائیں چل رہی ہیں۔ لیکن اے ایمان والو مسلہ تو احساس کا ہے نا۔یہاں تو جوتا بھی پلید ہو گیا

  16. وزیراطلاعات و نشریات قمرزمان کائرہ نے واقعے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک شخص کی غلط حرکت کو اچھالنے سے گریز کرنا چاہئے۔۔۔۔۔میرا خیال ہے انہوں نے صدر زرداری کی غلط حرکات کے حوالہ سے بات کی ہے نہ کہ جوتا پھینکنے والی کی، کیونکہ ابھی تک میڈیا اور عوام میں سے کسی نے اس پاپوش باری کو غلط نہیں کہا، نہ صدر بوُش کی باری میں اور نہ زرداری صاحب کی باری ۔ زندہ باد پاپوش باری۔
    ویسے بھی جب جوتا پھینکنے کے واقعے کا ہی انکار ہو گیا تو جس آدمی کو پولیس پکڑ کر لے گئی تھی اسکی حکومت کو ضمانت دینا پڑ جاتی۔۔۔۔اس لئے اب اس واقعے کو درست مان لیا گیا ہے۔ ۔۔۔
    شہنشاہ اکبر اعظم کے دور میں چند اکابرین کے سوا باقی سب کو دربار میں ننگے پاؤں آنا پڑا کرتا تھا۔ اب پتہ چلا کہ مغل اعظم کسقدر زیرک و دانا تھے کہ وہ اس اسلحے کی مار سے بخوبی آگاہ تھے۔ ۔۔۔صدر ایوب کو برا بھلا کہا گیا تو اس نے اقتدار چھوڑ دیا۔۔۔لیکن اب کے ہم ہیں کہ باٹا کا پورا سٹور بھی اگر لاد دیا جائے تو ہم نہ مانیں گے سرکار۔۔۔۔!

    پروین شاکر نے کہا تھا کہ
    قاتل کو کوئی قتل کے آداب سکھائے
    دستار کے ہوتے ہوئے سر کاٹ رہا ہے۔

    عزت داروں کی جب دستار گر جائے تو وہ جیتے جی مر جاتے ہیں، لیکن وہ جو گھر والوں کو مار کر جیتے ہیں، انکی دستار تو پہلے ہی انکے اپنے پاؤں میں دھری رہتی ہے۔
    ————
    آپی صرف پرانے جوتے ہی انکی نذر کریں ورنہ نئے تو اگلے خود ہی نہ اٹھوا لیں۔۔۔۔ہاہا آخر کچھ دام تو مل ہی جائیں گے۔ تاہم یاد رہے کہ بہت ہلکے پھلکے اور زیادہ بھاری بھرکم جوتوں سے پرہیز کیا جائے کہ یہ دونوں ٹھکانے پر پہنچنے سے پہلے گر جاتے ہیں۔ جوتے مناسب اوزان کے معمول کے دفتری شوز ہوں اور آپ کا کم از کم درمیانی نشست پر بیٹھا ہونا اشد ضروری ہے۔

  17. شعیب ہمارے پاکستان کا نام اب اونچا ہوا ہے کہ وہاں اب بھی غیور قوم بستی ہے .. جو کام پاکستانی قوم اپنے ملک میں نہ کر سکی وہی کام ایک پاکستانی نے باہر کے ملک رہتے ہوئے کر دیا .. بات تو زمہ داری پہچاننے کی تھی .. جس کو چاہے یہ اعزاز ملے .. ہم تو خوش ہیں کہ ہمارے صدر نے جب خود برطانیہ جا کر پاکستان کی حمیت اور غیرت کا سودا کر دیا تو انہیں جوتے بھی اسی سرزمین پر پڑنے چاہئے تھے .. مزہ تو جب ہے کہ پاکستانی قوم اپنے صدر کا استقبال ایئر پورٹ پر جوتوں سے کرے .. تاکہ آنے والی صدوری نسلیں بھی سبق یاد رکھیں .. اور اپنی عوام کے ساتھ وحشت اور بربریت کے کھیل نہ کھیل سکیں ..

  18. او کے بھیا جی .. یاد رکھونگی جوتے پرانے ہوں اور وہ بھی مناسب اوزان کے .. ابھی دیکھتی ہوں ..

  19. برمنگھم کے عینی شاہد بھائی اقبال کیانی کہاں غائب ہیں۔ بھائی جلدی آؤ کچھ تو بتاؤ کہ آخر آپکے شہر میں یہ سب ہوا کیا؟

  20. ساتھیو نہ جانے کیوں دل دکھی ہے کہ جو بھی ہوا برا ہوا ۔
    اس لئے کہ یہ پاکستان کے صدر کے ساتھ ہوا غصہ کتنا بھی ہو حدود سے نہ نکلنا چاہئے ۔کہ یہ اس عہدے کی بھی توہیں ہے جس کا نام زرداری صاحب کے ساتھ لگا ہوا ہے ،
    ہمارے جزبات اپنی جگہ ہمارے دکھ اپنی جگہ مگر یہ سوچ تکلیف دیتی ہے کہ ہمارا منتخب صدر ہے اگر ہمارے لوگ ووٹ نہ دیتے تو کیا یہ عہدہ ان کے پاس ہوتا تو اپنے ووٹ کا احترام کر لیں ۔
    مگر غلطیوں کی نشاندہی سے ہاتھ نہ اٹھانا چاہئے تاکہ یہ ہی لوگ باقی کا وقت اگر ان کی قسمت میں ہے تو ملک کی بھلائی کے لئے گزاریں ،اور آئندہ آنے والوں کو کان ہوجائیں کہ اب قوم باشعور ہے اب غلطیاں برداشت نہیں ہونگی۔ اب کسی کو ملک و قوم کے ساتھ کھیلنے نہیں دیا جائیگا ،اب ہم آپ سے آپ کے کاموں کا حساب لیں گے ۔
    میں جانتی ہوں کہ ہم سب بہت دکھی اور غصے میں ہیں اور شاید ہماری یہ سب باتیں بھی اسی دکھ کا رد عمل ہیں ،مگر سنواریں گے بھی تو ہم ہی ۔کہ ہمارا منصب ہمارا عہدہ ان سب سے بڑا ہے جو کرسیوں پر بیٹھے ہیں ۔کہ ہم وہ لوگ ہیں جو آواز اُٹھاتے ہیں ۔بتاتے ہیں کہ کیا صحیح ہے کیا غلط ہے ۔ ہم جو اپنوں کا دکھ اسی طرح محسوس کر رہے ہیں جس طرح اسے محسوس کرنے کا حق ہے ۔
    دل بہت دکھی ہے ۔
    اگر کوئی بھی بات کسی کے لئے بھی بار خاطر ہوئی ہو تو در گزر کیجئے گا ۔کہ یہ میری سوچ تھی ۔اور بہت خوشی ہے کہ سوچ پر ابھی پابندی نہیں لگی ہے ۔
    اللہ میرے ملک کے ہر ہر فرد کا حامی و ناصر ہو
    عالم آرا

  21. بہن نگہت شکریہ ! اور جناب شعب صفدر صاحب دکھ تو ہمیں بھی ہے کہ پاکستاں کے صدر کی بے عزتی ہو گئی وہ بھی دیار غیر میں ؟مگر ایک کہا وت یہ بھی ہے کہ اپنی عزت اپنے ہاتھ ہوتی ہے۔اسی لیئے علامہ اقبال زندگی بھر خودی کا سبق پڑھاتے رہے۔ اور جن کے رتبے بڑے ہوں انہیں تو اور بھی محتاط رہنا چا ہیئےکہ ۔ میر تقی میر فرما گئے ہیں۔
    میر صاحب زمانہ نازک ہے دونوں ہاتھوں سے تھامیئے دستار
    اس پرمیرا قطعہ ملا حظہ فر ما ئیے
    عزت اس کی ہوتی ہے جس کو پاس ہو تا ہے
    وہ غم کو غم سمجھتا ہے جسے احساس ہوتا ہے
    کیا امید ِ وفا ان سے، ہیں کوئےنوچنے والے
    وہیں پر یہ جھپٹتےہیں جہاں پر ماس ہو تا ہے

  22. السلام علیکم
    میں بھی شعیب بھائی کی اِس بات سے متفق ہوں کہ پیپلز پارٹی کے چئیرمین کے حصے کا جوتا پاکستان کے صدر کے حصے میں آیا ، اور یہ دُکھ کی بات ہے مگر یہ بھی درست ہے کہ ہم اُن کے وارث ہیں جو سر محفل سر مبنر پر کھڑے خلیفہ وقت سے پوچھ لیتے تھے کہ تمہارے کرتے کے لیے اضافی کپڑا کہاں سے آیا ؟ ایک اور بات کا بھی افسوس ہے کہ یہ کار خیر ایک بزرگ کے ہاتھوں ہوا ( اور میں اُنہیں سلام کرتا ہوں ) ہم جیسے نوجوان ، نعرہ بازی میں ہی مصروف رہے ۔
    آصف احمد بھٹی

  23. میر صاحب زمانہ نازک ہے دونوں ہاتھوں سے تھامیئے دستار
    واہ واہ واہ قبلہ جیلانی صاحب۔آپ ہی بہت خوبصورت چیز ڈھونڈ لائے ہیں۔ اور اس پر مستزاد آپ کا قطعہ۔ سبحان اللہ۔
    ۔۔۔۔۔
    جہاں تک منتخب صدر کی بے عزتی کی بات ہے تو اس عشق میں تو بہت کچھ جاتا ہے۔ ہمارے منتخب صدر نے جب اپنی غیرت اور پوری قوم کی غیرت پامال کر رکھی ہے، دنیا جہان میں پاکستان کا نام جعل سازی کا مارکہ سمجھا جانے لگا ہے، ایسے میں اسکے ذمہ دار صدر اور حکومت کی تذلیل در اصل قوم کی عزت ہے اور ثبوت ہے کہ قوم اب بھی زندہ ہے اور خود کو ان خرکاروں سے چھڑانا چاہتی ہے۔

  24. السلام علیکم
    بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی ۔
    آصف احمد بھٹی

  25. جناب صفدر ہمدانی صاحب،
    مرشد ، میں جلدی اور جلد بازی میں شعیب صاحب کے بلاگ میں گھس گیا جو بچارے صدر کے غم اور ملک کی بدنامی میں پتلے ہوئے جارہے ہیں۔ جسے وہ بدنامی کہہ رہے ہیں وہ ’ میرے مطابق ‘ نیک نامی ہے کہ ایسے بھی جی دار لوگوں کا اس دیس سے واسط ہے اور ویسے بھی مشہور ہے کہ ، بدنام ہوئے تو کیا نام نہ ہوگا ؟

    میں تو خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ہم بھی ان بہادر اقوام میں شامل ہوگئے ہیں کہ جن کے عوام جوتوں سے لیس ہیں اور پھر اس ٹریلر کے بڑے دور رس اثرات ہوں گے۔ اب کم از کم بڑے بڑے پھنے خان ’ جُوتا پروف ‘ ہو کر عوام کے سامنے آیا کریں گے۔ ہمارے ملک کو کسی کمزور کی بیوی جان کر ’ڈو مور ‘ کا مطالبہ کرنے والے بھی ذرا کپڑے جھاڑ کر ہی ہمارا سامنا کریں گے۔ ہمارے پاس ڈرونز نہیں تو کیا ہوا جوتے تو ہیں ۔

    باقی میں بڑی شدت سے ان صاحب کی تلاش میں ہوں کہ سب سے پہلے ان ہاتھ چومنے کے بعد ان سے وہ جوتا لے کر نیلام کرائوں اور نیلامی کی رقم سیلاب زدگان کے فنڈ میں ( صدر کے ریلیف فنڈ میں ہر گز نہیں ) دے دوں ۔اُن صاحب سے اپنی جذباتی عقیدت اپنی تک بندی کی صورت میں شعیب صاحب کے بلاگ میں ہی لکھ چکا ہوں کیونکہ آپ کے شاہکار اشعار بھی پہلے سے موجود تھے۔ اگر ہوسکے تو مجھے اصلاح کرکے بھیج دیں ، میں باقاعدہ سلائیڈ شو کی صورت انہیں دوبارہ بلاگ اور یوٹیوب پہ بھیجنے کا متمنی ہوں۔

    میرا جونہی ان صاحب سے رابطہ ہوا، میں تمام تفصیلات ، بشمول ان کا انٹرویو ( اگر ممکن ہوسکا تو ) عالمی اخبار کے قارئین کی خدمت میں پیش کر دوں گا۔ اللہ نہ کرے وہ کہیں انڈر گرائونڈ چلے گئے ہوں۔

  26. یہ وقت نہیں خاموشی کا ، تم ارجنٹ سے کچھ بولو
    ملک کے حاکم زادو تم سچ ٹین پرسینٹ تو بولو

    لو کر لو حساب، چلے تھے میاں مٹھو کیمرون سے احتجاج کرنے !

    مجھے تو یہی فکر کھائے جارہی ہے کہ اس غریب کا جوتا ہی یہ ’جوتا چور ‘ نہ لےگیا ہو۔

  27. اپنی ایک پرانی غزل کے چند شعر یاد آ رہے ہیں بھائیو،بہنو،سجنو تے مترو
    اللہ کے لیئے آج سُن ہی لو نا

    خود کو نہ کسی طور بھی نقصان میں رکھنا
    آنسو ہوں مجھے آنکھ کے دالان میں رکھنا
    ……
    تم ناپ چکے دھوپ میں سورج کی تمازت
    اب شب کی طوالت کو بھی امکان میں رکھنا
    ……
    آساں ہے بہت جشنِ شبِ تخت نشینی
    مشکل ہے بہت خود کو پھر اوسان میں رکھنا
    …..
    تم خوش ہو کہ اس سر پہ پے دستارِ فضیلت
    دستار میں سر ہوتا ہے یہ دھیان میں رکھنا
    …..
    حالات ابھی ایسے نہیں شہر کے صفدر
    تم ایسی غزل سوچ کے دیوان میں رکھنا

  28. کل رات سے ویسے بھی عجیب سی کیفیت ھے جانے خوشی ھے یا دکھہ ۔ اس خبر پر ھسنا چاھیے یا رونا چاھیے ۔ لکھنا چاھیے یا خاموش رھنا چاھیے ۔ دعا کرنی چاھیے یا اپنے بددیانت حکمرانوں کو بددعا دینی چاھیے میری پیاری بہن اور عزیز دوست میری مدد کرو ناں مجھے زرداری کو اور مارو ڈونیشن میں جوتے بھی دینے ھیں ۔ ھماری پوری قوم کو مفلوج اور بھکاری بنا دیا ھے ھمارے حالیہ اور سابقہ حکمرانوں نے اور مارو ان کو

  29. السلام علیکم
    جناب جاوید اقبال کیانی صاحب نے تو احتجاجا اپنے نام کا ایک حصہ کچھ عرصہ کے لیے استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر میں بھی سوچ رہا ہوں کہ میں بھی اپنا نام تبدیل کر لوں ، کیا خیال ہے ۔
    تو آج سے میں آصف احمد بھٹی کی جگہ ’’ عاصف احمد بھٹی ‘‘ ہوں اور آپ سب سے گزارش ہے کہ مجھے میرے نئے نام سے بلائیں اور لکھیں ۔
    عاصف احمد بھٹی

  30. تم خوش ہو کہ اس سر پہ ہے دستارِ فضیلت
    دستار میں سر ہوتا ہے یہ دھیان میں رکھنا

    اور مرشد ، یہ وہ کھوپڑی ہے جو دماغ سے عاری ہے۔

    آصف صاحب، آپ بھی اپنا فیصلہ واپس لے لیں ۔ تھوڑی احتیاط یہ کریں کہ اپنی زر کا کسی جگہہ ذکر نہ آنے پائے ، باقی کام ہمارے ذمے۔ کم از کم آپکی مثال سے ہم یہ تو کہہ سکیں گے کہ دیکھو ایسے بھی آصف ہوتے ہیں۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔

    بہت سے لوگوں کا یہ خیال کہ کسی پہ جوتا پھینکنا بد تہذیبی ہے، بہت حد تک درست ہے لیکن موجودہ دور کی اس ’ سیاسی جوتا پاشی ‘ پہ تہذیب کا فتوٰی ہر گز نہیں لگنا چائیے کیونکہ زمانے کی رفتار کے ساتھ ساتھ لوگوں کا طریقہء واردات بھی بدل رہا ہے ۔ پہلے حکمرانوں کے پتلے جلانے اور ان پہ جوتے برسانے کا رواج تھا اور اب آمنے سامنے فیصلہ ہوجاتا ہے ۔ اب ’ حاکمین ‘ کو آئینہ دیکھنے کی حاجت پیش نہیں آئے گی بلکہ عوامی جوتا ہی انہیں اپنی اوقات بتا دیا کرے گا کہ وہ کتنے پانی میں ہیں۔ اور اب ’ حاکمین ‘ اپنے ’ محکومین “ کی نظروں میں نظریں نہیں بلکہ ان کی جوتیوں کی طرف دیکھ دیکھ کر بات کیا کریں گے کہ آئی کہ آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  31. السلام علیکم
    بہت شکریہ جاوید بھائی ، ٹھیک ہے ، سر خم تسلیم ، میں بھی اپنا فیصلہ وآپس لے لیتا ہوں ۔
    آصف احمد بھٹی

  32. لو جی اہم اعلان ہو گیا۔ ہماری پارٹی کے ہر کارکن نے دو دو جوتے پہن رکھے ہیں۔ لیکن یہ آپ کی پارٹی کےنہیں ان غریبوں کے ہیں جو غربت اور مہنگائی کیوجہ سے تنگ آ کر بہت جلد آپ کے سروں کی زینت بننے والے ہیں۔

  33. محترم سید تصور حسین ساحب. ہم سب کی طرف سے عالمی اخبار کی بلاگ فیملی میں شامل ہونے پر مبارکباد اور آپکو خوش آمدید.امید ہے کہ آپ اس محفل میں شرکت کرتے رہیں گے.

  34. جناب سيد تصور حسین نقوی صاحب،

    ” لو جی اہم اعلان ہو گیا۔ ہماری پارٹی کے ہر کارکن نے دو دو جوتے پہن رکھے ہیں “

    پی پی پی کے ’ شاہین ‘ نے کوونٹری سے برمنگھم آکر اپنی پارٹی کے صدر پہ اپنے دونوں جوتے پھینک کر ثابت کر دیا ہے کہ جیالے دو دو جوتے پہنتے ہیں اپنی پارٹی کے صدر پہ برسانے کے لئے ہیں۔

    عالمی اخبار کی بلاگ فیملی میں خوش آمدید۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *