یہ چراغ چہرے جو مجھے پر اُمید رکھتے ہیں

السلام علیکم
حالات کیسے بھی ہوں ، میں ہمیشہ پر اُمید رہتا ہوں ، میری اِس عادت پر اکثر میرے دوست احباب مجھے پاگل سمجھنے لگتے ہیں ، کچھ تو بر ملا مجھے کسی دماغی معالج سے ملنے کا بھی کہہ دیتے ہیں ، آج کل میں بھی ملک کو درپیش پے در پےبرے حالات کے سبب کچھ پریشان ہو گیا تھا جمعۃ المبارک کی صبح ہم دوستوں میں اِسی بات پر بحث ہو رہی تھی کہ اچانک مجھے شاہین آپی نے فون کیا اور شام کو بلڈ بنک کے آدیٹوریم میں منعقد کسی پروگرام میں شامل ہونے کا کہا ، دماغی پریشانی کے سبب میں اُن سے پروگرام کے متعلق کچھ بھی نہ پوچھ سکا خیر جب مقرر وقت پر وہاں پہنچا تو علم ہوا کہ وہ ’’ فرینڈز ویلفرز ٹرسٹ ‘‘ کی طرف سے چیریٹی ہوسپیٹل کے لیے فنڈ ریزنگ کا پروگرام ہے ، چھوٹا سا مگر خوبصورت آدیٹوریم تھا اور جناب عزت ماب سفیر پاکستان کی موجودگی کے باوجود حاضرین کی تعداد بہت کم تھی اوردو تہائی سے زیادہ بھی سیٹیں خالی تھی مجھے حیرت ہوئی کہ اتنے کم لوگوں میں کیسے فنڈ ریزنگ ہو سکتی ہے مگر جب شاہین آپی نے پروگرام کا آغاز کیا ( شاہین آپی کویت میں مقیم پاکستانی کمیونیٹی کے اکثر پروگرامز کی کمپیئرنگ کرتی ہیں ) اور تلاوت قرآن پاک کے بعد جب فرینڈر ویلفرز ٹرسٹ کے ممبران کی جانب سے ’’ فرینڈز ویلفر ہسپیٹل ‘‘ کی تعمیر پر جامع بریفنگ دی گئی سفیر پاکستان نے ایک چھوٹی سی تقریر کی اور اُس کے بعد فنڈر ریزنگ شروع کی گئی ٹارگٹ تیس ہزار دینار ( کم و بیش نوے لاکھ پاکستانی روپے ) بتایا گیا مجھے حیرت تھی کہ اتنی بڑی رقم کیسے دستیاب ہو گئی مگر ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں فنڈز ریزنگ کر لی گئی اور وہ بھی صرف پچیس تیس لوگوں نے ہی اعلانیہ حصہ ملایا ورنہ مجھ سمیت بہت سے لوگوں نے باہر بنے کائینٹر پر رکھے سیلاب زدگان کے لیے رکھے بکس میں ہی زیادہ دلچسپی لی ۔
آفرین اُن تمام لوگوں پر جو اِس نفسانفسی کے دور میں بھی خدا ترسی کر رہے ہیں اور صد آفرین اُن لوگوں پر جو ایسے فلاحی ادارے چلارہے ہیں یا اُن کا ساتھ دے رہے ہیں ۔
شاہین آپی میں آپ کو اور آپ کے سب ساتھیوں کی عظمت کو سلام کرتا ہوں ۔ آپ جیسے لوگ ہی میری اُمید کا سبب ہیں ، میری دماغی بیماری کا علاج ہیں ، آپ لوگ ہی میرے زہنی معالج ہیں ۔
آصف احمد بھٹی

13 thoughts on “یہ چراغ چہرے جو مجھے پر اُمید رکھتے ہیں”

  1. محترم آصف بھٹی صاحب ۔ السّلام و علیکم
    خوش نصیب اور کامیاب ہیں وہ لوگ جو اللہ کے لا ریب فرمان پر کامل یقین رکھتے ہیں ۔ اللہ نے اپنے کلام مجید میں فرمایا کہ “ لا تقنطو من الرّحمتہ اللہ “ اللہ کی رحمت سے نا امید مت ہو جاؤ ۔
    آصف بھائی، ملکی و عوامی مسائل کی بہتری کیلئے ایمانداری سے کام کرنا اور ہمیشہ اچھے حالات کیلئے پرامید رہنا اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کا عمل ہے۔
    فرینڈز ویلفرز ٹرسٹ کی اللہ سے بھرپور امید ہی تو ان کی طرف سے چیریٹی اسپتال کیلئے عطیات کا حصول ممکن بنا سکی ۔ ورنہ میرے جیسا گنہگار بندہ تو حاضرین کی کم تعداد دیکھ کر ہی پریشان ہو جاتا ۔
    برے حالات میں پریشان ہو جانے کا مطلب حالات کو مزید پیچیدہ بنانا ہوتا ہے ۔ مثبت سوچ و عمل اور اللہ پر بھروسہ انسان کو صبر، سکون، حوصلہ اور کامیابی فراہم کرتا ہے ۔
    آصف بھائی ہم آپ کو کامیاب انسان قرار دینے کی قراداد پیش کرتے ہیں کہ آپ بہتر قول و عمل کے ساتھ ساتھ اللہ پر کامل بھروسہ رکھتے ہوئے ہمیشہ پر امید رہتے ہیں ۔ دیکھتے ہیں کہ اس قرارداد کی بادبانی کشتی کی حمایت و مخالفت میں ہوا کیا رخ اختیار کرتی ہے ۔

  2. السلام علیکم
    محترم جناب صفدر ہمدانی صاحب ، آپ کی بات سر آنکھوں پر ، پر مجھے یقین ہے کہ میں دونوں کے بین موجود فرق سمجھتا ہوں ۔ اور یہ میری خوش فہمی نہیں ہے ۔
    آصف احمد بھٹی

  3. آصف احمد بھٹی صاحب،
    واقعی آفرین اُن تمام لوگوں پر جو اِس نفسانفسی کے دور میں بھی خدا ترسی کر رہے ہیں اور صد آفرین اُن لوگوں پر جو ایسے فلاحی ادارے چلارہے ہیں یا اُن کا ساتھ دے رہے ہیں ۔
    روز محشر حقوق اللہ سے پہلے حقوق العباد کا سوال ہوگا ۔ یقیناّ یہ لوگ جنتی ہیں جنھوں نے اپنی زندگیاں خدا کی مخلوق کے لئے وقف کر رکھی ہیں۔ محترمہ شاہین رضوی صاحبہ مبارک باد کی مستحق ہیں کہ جن کی پر خلوص کاوش اور دردمندانہ اپیل معجزانہ اثرات رکھتی ہیں۔ اللہ انہیں قدم قدم کامیابیاں عطا کرے، آمین۔

  4. یہاں اکثر ایسے پروگرام ہوتے رہتے ہیں۔ میں نے آجتک کسی ٹارگٹ کو فیل ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ جب مسجد وں کی فنڈ ریزنگ میں پاکستانی سب سے زیادہ donate کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ادیب الاحسن رضوی اور جناب ایدھی بھی یہی کہتے ہیں کہ انہیں کبھی donations میں دقت نہیں ہوتی۔ پاکستانی قوم سے کبھی کسی Trustworthy شخصیت کو مایوسی نہیں ہوتی۔

    ذراسی نم ہو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

  5. السلام علیکم
    محمد علی خان صاحب ، آپ کی محبتوں کا بہت بہت شکریہ ، مگر پیارے بھائی مجھے میری کھال میں ہی رہنے دیجئے ۔ آپ کی محبتوں کا ایک بار پھر بہت بہت شکریہ ، اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔ آمین ۔
    آصف احمد بھٹی

  6. میرے اچھے بھائ آصف سلامت رھو بھائ تمھاری وھاں آمد کا بھی بہت شکریہ مبارک اور ستائش کے صحیح حق دار تو فرینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے چیرمین جناب مللک نور محمد صاحب ھیں جو ھمیشہ پاکستانی کیمونٹی کی خدمت میں آگے ھوتے ھیں ان کے ساتھہ بہت محنتی ۔محب الوطن اور ھر طرح کے صلے سے بےنیاز پاکستانی ڈاکٹرز کی ٹیم بھی ھے 2005میں صرف چار خداترس انسانوں نے اس ٹرسٹ کی بنیاد رکھی تھی ۔ پاکستانی کمیونٹی کے لیے انکی لاتعداد خدمات ھیں ۔۔ اور انھوں نے پنڈی ۔ لیہ آزاد کشمیر میں ھیلتہ کیئر سینٹر بناۓ ھیں ۔ اور پنڈی میں واقع 15ھزار اسکوائر فٹ اپریا پر بناۓ جانے والا یہ 5 منزلہ ھسپتال جس کی تعمیری لا گت کا تخمینہ تقربیا 35ملین روپیز ھے۔ کویت میں مقیم اھل الخیر کی معاونت سے یہ ھسپتال تیزی سے تعمیری مراحل طے کر رھا ھے۔ یکم مئ 2010 کو اس کا سنگ بنیاد پاکستان میں کویت کے سفیر نے رکھا ۔ سفیر پاکستان جناب افتخار عباسی بھی اس تقریب میں خصوصی طور پر شریک ھوۓ تھے۔۔۔۔ اس ھسپتال کی تفصیل کے لیے میرا ایمیل ایڈریس یا پھر فرینڈ ویلفئر ٹرسٹ کے چیرمین ملک نور محمد صاحب کا فون نمبر لکھہ رھی ھوں 0096566891248 کیونکہ یہ صرف انھی کی معتبر شخصیت کا کرشمہ ھے کہ انکی ایک کال پر کویت میں مقیم اھل الخیر نیکی کے کاموں میں سبقت کےلیے بے چین ھوجاتے ھیں۔۔ اس وقت بھی وہ پاکستان میں سیلاب کی تباھی سے غم زدہ ھیں اور سفیر پاکستان جناب افتخار عباسی کے ساتھہ میٹنگ میں ھیں ،، کہ اس مشکل وقت میں قوم کی خدمت کیسے کی جاۓ ۔۔ وہ خود ھر موقعہ پر پاکستان جاتے ھیں2005 کے زلزلہ کے وقت بھی وہ کویت سے ایمبولنس تک لے کر گۓ تھے اور کویت ھلال احمر کے شانہ بشانہ کام کیا تھا ۔۔ اللہ پاک نیکی کے کاموں میں سبقت لے جانے والوں کو عز‏يز رکھتاھے۔ انسان دوست اچھے انسانوں کا نام گینیز بک میں تو نیہں ھوتا مگر اللہ پاک کی گڈ بک میں ضرور ھوتاھے

    آصف میرے بھائ ،پروگرام شروع ھونے سے قبل میں جب انتظامی امور کا جائزہ لے رھی تھی ۔ اور اپنے رب سے دعا کررھی تھی ھم کو اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا چاھیے پاکستان کی تاریخ کے بدترین سیلاب سے لاکھوں انسانوں کا اربوں کا نقصان ھوا ھے، پانی نے غریب کی جھونپٹری کے ساتھہ رئیس کی کوٹھی کو بہت نقصان پہنچایا ھے۔۔۔ اللہ پاک میری قوم پر رحم فرماۓ ھمارے حکمران تو کشکول لیے پھر اپنی جیب بھرنے حسب معمول بیرونی دوروں پر نکل پڑے ھیں ۔۔ یہ آفات ناگہانی بھی جو اللہ کے غضب کا اشارہ ھے ۔۔ اللہ پاک ھماری قوم پر ھم سب پر رحم فرماۓ

    سیلاب کے ساتھہ ھی وبائ امراض کے پھیلنے کا خدشہ ۔ اللہ رحم فرماۓ

  7. آصف احمد بھٹی صاحب، آپ کی تحریر دل کو لگی ہے. میں صرف مختصر سی بات کہنا چاہوں گا کہ اگر کسی نظام میں سے نفسا نفسی کا عالم ختم کر دیا جائے تو ایسے واقعات وہاں عجوبہ نہیں رہتے.

  8. آجکل پاکستان کی عوام میں متاثرین کی مدد کرنے کا وہ جذبہ دیکھنے میں نہیں آیا جو جذبہ دو ہزار پانچ میں زلزلے کے وقت دیکھنے میں آیا تھا۔ پتہ نہیں کیا بات ہے ؟؟؟؟؟

  9. جن قوموں میں محترم صفدر ھمٰدانی، محترمہ ڈاکٹر نگہت نسیم، محترمہ شاھین رضوی، عبدالستار ایدھی، ملک نور محمّد، ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی، عاصف احمد بھٹی و دیگر ایسے ہمدرد اور قوم و ملک کی بھلائی کے مخلص معمار موجود ہوں تو ہر قسم کی قدرتی آفات و پریشانیوں میں بھی اس قوم کے لوگ حوصلہ مند رہتے ہیں ۔ اے اللہ ہمیں ہر قسم کے رنج والم لانے والے واقعات سے محفوظ فرما اور ہم سب کو بھی مذکورہ بالا ہمدرد لوگوں کی طرح حقوق العباد کی پیروی نصیب فرما، آمین ۔
    ہاں یاد آیا، اس قوم میں ایسے ایسے بھی ہمدرد اور اللہ کے نیک بندے ہیں جو اپنی نیک کمائی سے ہر وقت ملک و قوم کی خدمت میں مگن رہتے ہیں، اور کسی بھی ناگہانی آفت پر دل کھول کر خدمت کرتے ہیں ۔ بعض مرتبہ جب انکی جیب میں پیسے موجود نہیں ہوتے تو یہ بیچارے اس نیک کام کے لئے بینک جا کر پیسے نکلواتے ہیں، چاہے وہ بینک گھر سے کتنا ہی دور کیوں نہ ہو، یا بینک جانے کیلئے ھوائی سفر ہی کیوں نہ کرنا پڑے ، بلکہ کبھی کبھی تو 25 لاکھ روپے کی خطیر رقم بھی دینے سے گریز نہیں کرتے، کہ یہ تو دس دنیا ستر آخرت والا حساب ہے، جبکہ اس دنیا میں تو 100 پہ صرف 10 ہی ملتے ہیں۔
    دیگر ازیں قومی اسمبلی، سینیٹ، صوبائی اسمبلیوں کے معزز اراکین انتخابات میں اپنی کامیابیوں کیلئے جتنے پیسے خرچ کرتے ہیں، اگر اس کا آدھا بھی سیلاب زدگان کے لیے جمع کروا دیں تو مجھے بھی محترم عاصف احمد بھٹی والی پکی امید ہے کہ قوم کا سارا نقصان پورا ہو سکتا ہے۔

  10. السلام علیکم
    شاہین آپی ، میں ملک نور محمد صاحب کو بہت پہلے سے جانتا ہوں ، اور اُن کی نہایت ہی نفیس شخصیت سے بھی واقف ہوں ، البتہ وہ شاید مجھے نہیں جانتے کہ سورج کو تو سبھی جانتے ہیں ، میں کمیونٹی کے لیے اُن کی خدمات کا بھی واقف ہوں ، اور اللہ سے ہر دم یہی دُعا رہتی ہے کہ خدایا ایسے چراغ چہرے ہمیشہ جگمگائے رکھنا ۔ آمین ۔ اُن کا فون نمبر تو مل گیا مگر آپ شاید اپنا ای میل ایڈریس لکھنا بھول گئی ۔
    آصف احمد بھٹی

  11. السلام علیکم
    فرحان دانش صاحب ، اِس کی تین بڑی وجوہات ہیں
    1- 2005 میں جب زلزلہ آیا تھا تو اُس کا نشانہ کشمیر اور شمالی علاقہ جات تھے ، باقی پاکستان محفوظ تھا اور باقی پاکستانی محفوظ تھے ، جس کے سبب وہ اپنے بھائیوں کی مدد کرنے میں پیش پیش رہے ۔
    2- 2005 کے زلزلے کے وقت قوم میں کسی حد تک ایک دوسرے پر اعتماد باقی تھا اور کسی حد تک حکومت کی بھی کچھ ساکھ باقی تھی اور یہ دونوں چیزیں اب بہت حد تک نایاب ہیں ۔
    3- تیسری بڑی یہ ہے کہ اِس بار سیلاب نے کم و بیش پورے پاکستان کو متاثر کیا ہے باقی بچے پاکستان کے متاثر ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے ، جس کے وجہ سے لوگ ایک دوسرے کی مدد کرنے سے قاصر ہیں ۔
    اِن سب کے باوجود اب بھی متاثرین کی بحالی کا زیادہ تر کام عام عوام ہی کر رہی ہے حکومت کا تو بس نام ہی ہے ۔
    آصف احمد بھٹی

  12. السلام علیکم
    محترم محمد علی خان صاحب ، یقینا اِن چراغ چہروں کے سبب ہی انسانیت کی حیا باقی ہے ، اور یہ لاتعداد ہیں ، بس چھپے رہتے ہیں جب اشد ضرورت پڑتی ہے تو ہی سامنے آتے ہیں ۔
    آصف احمد بھٹی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *