ممی کا لیٹر ۔۔اردو کے نگہبانوں کے لیئے لمحہ فکریہ

میرے بھائی افضال نسیم نے لندن سے یہ لکھ کر مجھے یہ ای میل بھیجی ھے کہ اردو کے نگہبانوں کے لیئے لمحہ فکریہ ۔۔۔ ایک مدر کا مدر ٹنگ کے ساتھ فکریہ مذاق ۔۔

پیارے children!

تمہارا لیٹر ملا۔ تمہاری condition معلوم ہوئی کہ تم سب OK ہو۔ ہم سب بھی fine ہیں۔

تمہاری progress report بھی receive ہوئی۔ اور تم چاروں کے examination results دیکھے۔ بہت ہی ‌bad condition ہے۔ اردو تم چاروں کی بہت weak ہے۔ تمہیں اس subject میں کافی hard work کی ضرورت ہے۔ because یہ intermediate level تک compulsory کر دی گئی ہے۔ بہرحال تم کو اس کی طرف پھرپور attention دینی پڑے گی۔ اسی لئے میں تم لوگوں کو یہ letter اردو میں لکھ رہی ہوں تا کہ تم اپنی mother tongue سے in touch رہو۔

یہاں کافی cold ہے اسی لئے تمہارے ابو کو fever ہو گیا ہے۔ you know وہ کتنے careless ہیں۔ چار دن تک ان کا temperature کافی high رہا۔ کافی weak ہو گئے ہیں۔ عیادت کے لئے کافی guests آتے ہیں۔ that’s why میں کافی tired ہو جاتی ہوں۔

یہ winter ہے۔ اس لئے چھوٹے brother کا خیال رکھنا۔ اُس کو warm شال میں wrap رکھنا کیونکہ وہ by nature کافی weak ہے اور بعض اوقات summer میں بھی cold catch کر لیتا ہے۔

تمہاری sister بہت sensitive ہے۔ میری separation برداشت نہیں کر سکتی۔ اگر وہ restless محسوس کرے تو ڈاکٹر کو فوراً call کر لینا۔ I hope کہ تم یقینا میرا letter غور سے read کر رہے ہو گے۔

تمہاری بڑی sister ہنزہ valley آنے والی ہیں۔ ان کو remind کرا دینا کہ میرا beauty box ضرور لائیں۔ lip stick ان کو choose کر دینا کیونکہ انہیں نہیں معلوم کہ مجھے کون سی suit کرتی ہے۔ میرے پاس lipstick اب finish ہو چکی ہے اور اس کے بغیر میں بڑا uneasy محسوس کرتی ہوں۔

آج کل ہر morning اور evening بس bore ہی گزرتی ہے۔ کوئی entertainment ہی نہیں ہے۔ servants تین دن کی leave پر گئے ہوئے ہیں اس لئے whole work مجھے ہی کرنا پڑتا ہے۔ early in the morning اٹھنے کی عادت ہو گئی ہے۔ آج بھی پورے ساڑھے نو بجے bed چھوڑ دیا تھا۔

okay اب میں نے اتنا long letter لکھ دیا ہے کہ تم تھکن feel کر رہے ہو گے۔

سب کو میری طرف سے wish کر دینا۔

اور اپنی اردو پر attention دینا۔

فقط!

your ever loving mother

33 thoughts on “ممی کا لیٹر ۔۔اردو کے نگہبانوں کے لیئے لمحہ فکریہ”

  1. طفل سے بو آے کیا عادات اور اطوار کی
    دودھ ہے ڈبے کا اور تعلیم ہے سرکار کی
    بابا آپ نے باالکل سہی لکھا۔۔۔۔۔۔۔۔ انا للہ وانا یلیہ راجعون

  2. انا اللہ و انا الیہ راجعون !!
    بےشک ! یہ اردو کے ساتھ بہت عجیب مذاق ھے!!
    امام خمینی نے صحیح فرمایا تھا کہ تم مجھے اچھی مائیں دو، میں تمہیں اچھی قوم دوں گا !
    جس قوم کی ماووں کا یہ حال ھو وہ بچے بچارے !! اللہ ھی خیر کرے ، پھر اردو کیا کچھ بھی نہیں بچ سکتا یا اللہ رحم فرما سب پے اور شعور اور فھم عطا کر الٰہی !!

  3. میرے خدا یہ تم ھو افضال اور تم نے اردو میں”آ ” بھی لکھ لیا ۔۔ تم سوچ نہیں سکتے کہ آج میں کتنی خوش ھو ئی ھوں ۔۔ ایسے جیسے مجھے اللہ پاک نے کوئی انعام دے دیا ھو ۔۔ جیسے کوئی مجھے قلم کا وارث دے دیا ھو ۔۔ میں تمہیں کہتی تھی کہ تم لکھ سکتے ھو ۔۔ اردو لکھنا اور اسے پڑھنا اور اسے آگے بڑھانا ھماری شان ھے اور ھماری پہچان کہ ضمانت بھی ھے ۔۔ سلامت رہو اور خوش رھو اور یونہی آتے رھنا ۔۔

  4. بھائی افضال نسیم آپ نے اردو زبان کی جس بہت بڑی بدعت کا نقشہ نہایت ہلکے پھلکے انداز میں اس خط کی صورت میں کیا ہے وہ دراصل ایک حقیقت ہے جس کا سامنا مجھے خود بھی آئے دن کرنا پڑتا ہے۔اسی لیئے اس اردو انگریزی کے آمیزے کانام میں نے اردو کی بجائے ”اردش” رکھا ہوا ہے۔ اس صورت حال کو پیدا کرنے میں ذرائع ابلاغ کا بہت بڑا عمل دخل ہے اور اسپر تفصیل سے لکھوں گا، یہاں لندن میں آپ ساؤتھ آل سے تو آپ واقف ہوں گے اور یہیں میں نے ایک بچی کو اپنی والدہ سے یہ کہتے سنا تھا کہ ” ممی آئی کانٹ فائینڈ مائی جُتی” دیکھا آپ نے

  5. شکریہ ، دراصل ے نا صرف اردو کا حال ھے بلکہ پنجا بی کا بھی حال برا ھے ً میں کہنی آں و نڈو بند کرو چھڈو کول ایر چنگی اے ً میں نیا ھوں جلد سیکھ جاؤں گا انشاٰللہ

  6. انشاللہ ۔۔افضال کیوں نہیں ۔۔ھم سب تمہارے ساتھ ھیں ۔۔

  7. انور بھائی یاللہ کیا کہہ دیا آپ نے ۔۔ میں تو یہ سوچ کر ھی خود کواردو کے بغیر ادھوری سے لگنے لگی ھوں ۔۔

  8. مادر آزاد : مادری ذبان : افسوس آہ۔۔۔۔۔۔۔ پہلی بار لکھ رھا ھوں! سبحان اللہ

  9. افضال میاں۔ فکر ناٹ۔ ہم سب نے بھی کسی وقت پہلی بار ہی لکھا تھا۔ بس اتنا خیال رکھنا ہوتا ہے کہ آدمی صرف پہلی بار ہی نہ لکھے بلکہ لکھتا ہی رہے کہ لکھنا ہی سب سے بڑا صدقہ جاریہ ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کی توفیقات میں اضافہ کرے کہ آپ قلم کاروں اور صاحبان فکر کے خاندان سے ہیں۔

  10. ویسے یہ سب جو لکھ رہیں ہیں اس کو گلابی اردو کہا جاتا ھے، جو کہ نہ اردو میں آتی ہے نہ پنجابی میں نہ انگریزی میں !! اللہ ھی خیر کرے !

  11. کچھ اسی موضوع پر میں نے بھی حال ہی میں لکھا تھا، آپکے بلاگ میں‌نام اور ای میل کے ساتھ سائٹ کا خانہ نہیں اسللئے مجبورا یہاں لکھ رہا ہوں:
    http://shahfaisal.wordpress.com/

  12. قائد آعظم نے فرمایا تھا :
    ” میں آپ کو واضح طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی اور صرف اردو، اور اردو کے سوا کوئی اور زبان نہیں ہو گی۔ دیگر اقوام کی تاریخ اس امر پر گواہ ہے کہ ایک مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم باہم متحد نہیں ہو سکتی اور نہ کوئی اور کام کر سکتی ہے، پس جہاں تک پاکستان کی سرکاری زبان کا تعلق ہے وہ صرف اور صرف اردو ہی ہو گی۔”
    21 مارچ 1948 ڈھاکہ”
    اٍفضال نسیم صاحب نے بے انتہا دلچسپ موضوع پر بات شروع کی ۔
    اس بات پر اردو رایٹرز سوسایٹی urdu writers society کے منتظم جناب عرفان مرتضی صاحب کی یہ بات یاد آگئی (جو میرے ایک بلاگ میں موجود ہے ):
    “جہاں تک اردو رایٹرز سوسایٹی کے نام کی بات ہے ۔۔۔۔اردو زبان کا دامن اتنا زیادہ ہے کہ اس نے تقریباً تمام زبانوں کے الفاظ کو نہ صرف اپے دامن میں بلکہ اپنے دل میں جگہ دی ہے ” اس ہی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ” ۔۔۔ پرندے بھی انگریزی میں چہچہاتے ہیں “۔
    تو اب ہمیں اردو میں انگریزی تو کیا دنیا کی تقریباً تمام زبانوں کے الفاظ کو ہنسی خوشی قبول کرنا چاہیے ۔
    تقسیم ہند سے پہلے حیدرآباد دکن کی جامعہ عثمانیہ میں ایک دارلترجمہ تھا جس کا کام دنیا کی تمام زبانوں کے الفاظ کا اور خاص طور پر انگریزی کا اردومیں ترجمہ کرنا تھا۔ پاکستان میں شاید ایسا کوی دارالترجمہ موجود نہیں ۔ پتہ نہیں باباے اردو کا ادارہ اور خاص طورپر اردو یونیرسٹی ( اردو جامعہ ) اس سلسلے میں کیاکارنامے انجام دے رہا ہے ۔ کیا اس ادارے نے یونی فانٹ اردو کی سافٹ ویر ایجاد کی ؟ کیا اس ادارے نے ان پیج سافٹ ویر ایجاد کی ؟ (یہ ایک الگ موضوع ہے ۔ فی الوقت ہمیں انگریزی الفاظ کی اردو میں بھرمار پر غور کرنا ہے ۔ اس کے پہلے ہم سب نےاور خاص طور پر شمس جیلانی بھای نے لفظ ” پنگا ” کی بہت اچھے الفاظ میں تشریح کردی اور کہا کہ اب تو مہذ ب حلقے بھی اس لفظ کو اردو زبان میں قبول کرکے استعمال کرتے ہیں )

    حکومت پاکستا ن کی سرکاری ویب سایٹ http://www.nla.gov.pkیعنی نیشنل لینگویج اتھاریٹی ( یعنی مقتدرہ قومی زبان ) بھی تو اردو کی ترویج کے لیے بنا ی گئی ہے۔ مگر اس کا نام انگریزی ہی میں لکھنا ضروری سمجھا گیا ہے ۔
    اس کے علاوہ اردو کی ان ویب سایٹوں کے انگریزی نام بھی قابل غور ہیں:
    http://www.urdulife.com
    http://www.urdupoint.com
    http://www.urduseek.com
    http://www.urduworld.com
    http://www.urdulink.com
    http://www.koolpoetry.com
    http://www.koolhere.co
    وغیرہ وغیرہ :
    قاید اعظم زندہ باد ۔
    افضال نسیم صاحب کی بذلہ سنجی زندہ باد۔ زندہ رہو ، خوش رہو۔

  13. میری کوتاہی کے باعث میرا نام اور ای میل میر ے اوپر کے تبصرے میں شامل نہیں ہوا ۔ افسوس اوو شرمنگی کے ساتھ:
    اردو کا شیدای : انانیمس :
    منظور قاضی از جرمنی

  14. السلام علیکم ماورا جی! آپ کو بلاگ کی محفل میں خوش آمدید ۔ آپ یہاں تشریف لائیں ۔
    ھمیں امید ہے کہ آپ اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ وقت نکال کر یہاں بھی کچھ نہ کچھ لکھتی رہیں گی ، اب بلاگ میں آپکی تحریروں سے مستفید ہونے کا موقع ملے گا۔ انشاء اللہ 🙂

  15. ماورا آپ کو اپنی محفل میں خوش آمدید کہتے ھیں ۔۔ سنیئے اردو کے دکھ میں‌سبھی برابر کے شریک ھیں ۔اس لیئے مختلف پلیٹ فارمز پر ایک جیسی ھی بات ھو رھی ھے ۔۔اللہ کرے ھم سب اپناپنا کام کر جائے ۔ ماوراء اب لکھتی رھنا ۔۔بہت اچھا لگا آپ کا آنا۔

  16. السلام علیکم
    واہ۔ ممی کا لیٹر اتنی جلدی اتنی دور پہنچ گیا 🙂
    یہ تحریر ‘ملٹری کالج جہلم’ کے ایک طالبِ علم کی ہے اور جو کچھ برس قبل انہوں نے اپنے کالج میگزین کے لئے لکھی تھی۔ (اپنے بلاگ پر لکھنے سے بہت پہلے( شاید 2002/03 میں) میں نے یہ خط بات سے بات فورم پر بھی پوسٹ کیا تھا ) ۔
    درست کہا آپ نے کہ اردو کے دکھ میں سبھی برابر کے شریک ہیں۔ بس یہ بات قابلِ افسوس ہے کہ ایک بچے نے بھی اردو زبان کی اہمیت اور ہمارے ہاتھوں اس کے حشر نشر کو کس سنجیدگی سے محسوس کر لیا لیکن ہمارے بڑے یا وہ لوگ جو معاشرے کی راہیں متعین کرتے ہیں وہ اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے 🙁

  17. ارے واہ ۔۔یہ آپ ہیں فرحت کیانی جی ۔۔ مت پوچھیئے کتنی خوش ھو رھی ھے آپ کو یہاں دیکھ کر ۔۔ ھم سب کی طرف سے خوش آمدید ۔۔ جی واقعی اردو کے دکھ تو صاحب دل ھی محسوس کر سکتے ھیں جن کے دل میں اردو کی محبت ھے ۔۔۔ آپ دیکھئے اپنے کام کا حسن کہاں سے کہاں پرواز کر گیا ۔۔ اور کتنوں کو جگا گیا ۔۔ اسے ھی تو صدقہ جاریہ کہتے ھیں ۔۔ جیتے رھیئے ۔۔ اور اب آتے جاتے رھیئے گا ۔۔ ھمیں آپ کی تحریروں کاانتظار رھے گا ۔۔

  18. رانی۔۔۔۔۔ھم سبکو مل کر اس طو فان انگریزی مکس ارود کو رو کنا ھو گا–اور اپنی قو می زبان اردو کو بچانا ھو گا۔۔۔۔۔۔۔

  19. رانی،،یہ تم ھو ۔۔ کہاں تھیں بھئی اتنے دنوں سے ۔نا اتہ نا پتہ ۔۔چلو لیٹر کے بہانے تم آئیں تو ۔۔قومی زبان کو بچانے کے لیئے تمہیں عالمی اخبار کے نہ صرف بلاگ میں بلکہ ھر سیکشن پر رائے دینی ھو گی اور اس جدوجہد میں ھمارا ساتھ دینا ھو گا ۔۔ بس اب پھر کہیں گم مت ھو جانا ۔۔ ارے خوشی میں تمہیں خوش آمدید کہناتو بھول ھی گئی ۔۔ ویسے پرانے دوستوں کو نیا گھر دیکھانے کا اپنا مزا ھے ۔۔ کہو تمہیً عالمی اخبار کیسا لگا ۔۔

  20. نگہت صاحبہ ۔

    یہ خط بہتر ہے۔ میں نے تو ایسی اُردو بھی سنی ہےکہ ڈورا بریکنا شروع ہوا تو بریکتا چلا گیا۔

    کراچی یںنیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کی خاص بات یہ تھی کہ وہ جب اُردو میں تقریر کرتے تھے تو ایک لفظ بھی انگریزی کا استعمال نہیں کرتے تھے۔

  21. مائ سویٹ نگہت جی۔میں آپ سب دوستو ں کو تلاش کرتے کرتے اس بلاگ تک پنہچ ھی گی۔باقی سب کہاں ھیں کیا وہ دنیا چھوڑ کر تو نہیں چلے گے ان کا کچھ اتاپتہ ھے ۔نگھت جی وعدہ تو نہیں کرتی بٹ کوشش کرؤں گی کہ آکر اپنے خیالات کا اطہار کر سکوں۔۔

  22. سلام ارض !
    ھم جیسے لوگ جو کہ اپنے شوہر اور اپنے والد سے ھمیشہ اسی بات پر باتیں سنتے رہتے ہیں کہ یورپ میں رہ کر ھم اردو زبان سے نا بلد و نا آشناۃ ہیں مگر یے خط کم از کم میرے اندر ایک حوصلہ تو پیدہ کر ہی رہا ہے کہ میں اپنے والد اور شوھر کو یے خط دکھا کے کچھ دیر کو خوشں تو ہو سکتی ہوں کے میں تو فصل ھی یورپ کی ہوں مگر یے آپ ک دیس کی کھیتی ہے اور اس کھیتی کا زمیندار اور رکھوالا یا پھر رکھوالی کا ہی یہ حال ہے تو ھم سے شکایت کیا کیجیئے؟:)
    ویسے ماشااللہ خط کافی معنی خیز ہے ایسا مواد اب پاکستان کے اسکولوں میں بھی عنقریب شامل ھوتا ھوا نظر آنے والا ہے کچھ عرصہ بعد کیونکہ سنا ہے پکستان میں انگلش پرائمری جماعت سے لازم کی جا ریی ھے تو اب انگریز بچے بنانے کلیئے ھمارے وطن کے والدین کو کچھ تو قربانیاں دینا ہی پڑیں گی نا؟
    ہم سب اسکو یہ ثابت کرنے میں کیوں تلے ہیں کے یہ اردو کیساتھ مزاق ھے؟اردو کیساتھ مزاق کیا آج پہلی دفعہ کیا جا رہا یے؟میری کم عقلی تو یہی کہتی ھے کے یہ اردو کے بابوت میں وہ آخری چند کیلیں ہیں جو اب ٹھوکی جا ریی ہیں کیونکہ اب اردو کا بیڑہ پار لگا کر ہی تو ہمارے وطن کے بچے انگریز پیدا ہونگے نا؟

    معزرت کیساتھ
    مسسز ماریہ علی
    ڈنمارک

  23. ماریہ جس طرح تمہیں اردو سے محبت ھے اور جس قدر پیار سے تم لکھتی ھو اور جتنی لگن سے سیکھ رھی ھو ۔۔ مجھے اپنے اللہ پر ایمان اور مظبوط ھو رھا ھے کہ دوسرے ملک اور تہزیب میں رھنے ،بڑھنے سے اپنی تہزیب اور مذہب جڑیں کھوکھلی نہیں بلکہ اور مظبوط ھوتی ھیں ۔۔ خوش رھو ۔۔بلکل ھوا کا تازہ جھونکا بن کر آئی ھو ۔۔ سلامت رھو ۔۔ میرا آغا سایئں کو سلام دینا ۔۔اور دعاؤں میں یاد رکھنا ۔۔

  24. بہت بہت شکریہ آپا-آپ کی محبت اور حوصلہ افزائی ھے کہ مجھے یہاں پر کچھ کہنے کا موقع ملا ورنہ میں ہرگز یہ توقع نیہں رکھتی تھی کے مجھے یہاں اپنی رئے کے اظہار کا موقع بھی ملے گا:)آپ سب کی سرپرستی کی محتاج ہوں خاص کر آپا آپ اور ھمدانی صاحب جیسے لوگ جب تک ھم جیسے نئے آنے والوں کی حاصلہ افزائی کرتے رہیں گے جب تک اسی طرح ھمارے جیسے لوگ یہاں آ کر اپنا آزادی رائے کا حق استعمال کرتے رہیں گے۔۔۔
    ھم نیئے آنے والوں کے زہن میں بہت سے خہالات بہت سے منطقی و غیر منطقعی سوالات ایسے ھی بکھرے ھوتے ھیں جن کو ھم فقط اس لئے کہیں نیہں پوچھ سکتے کہیں ھماری کم عقلی پر محفل میں ھمارہ مزاق نہ بن جائے 🙂 مگر آپا آپ اور ھمدانی صاحب جیسے لوگ جب ھم جیسے لوگوں کو ھمت دیتے ھیں حوصلہ دیتے ھیں کے پوچھو جو پوچھنا چھاھتی ھو کھل کر اظہار کرو اپنی رئے کا اگر غلط بھی ھے تو ےیہاں اصلاح کرنے کے لیئے ھم بیٹھے ھیں تو ھمارے جیسا انسان جو اپنے ملک و معاشرے پر بہت سے تحفظات رکھتا ھے وہ یہاں بے دھڑک ھو کر اپنی رائے کا اظہار بھی کرتا ھے اور اپنے زہن میں موجود بچکانہ سے سوالات بھی کرتا ھے اور اپ جیسے لوگ جو ھر لمحہ ملکی اور معشرتی صوراتحال پر نظر رکھے ھوتے ھیں ھماری بہت آرام اور شفقت سے اصلاح اس انداز میں کرتے ھیں کے ھم کو محصوص بھی نہیں ھوتا اور ھماری اصلاح بھی ھو جاتی ھے:)
    ایک دفعہ پھر بہت بہت شکریہ ادا کرتی ھو آپا آپ کا اور امید کرتی ھوں کے آپ میری اسی طرح ھر ھر قدم پر رہنمائی فرماتی رھیں گی اور میرے ہر لکھے کی اصلاح بھی کرتی رھیں گی:)
    آپ کی دعاوں کی طالب
    آپ کی چھوٹی بہں
    ماریہ علی

  25. لگتا ہے یہاں پر سب اردو کے شیدائی ہیں ۔ ویسے اردو زبان ہی لشکری زبان ۔ اس میں الفاظ شامل ہوتے رہتے ہیں ۔ جرمنی سے قاضی صاحب نے ویب ناموں کی طرف توجہ دلائی ۔ اس میں میری بھی ایک ویب سائٹ ہے ۔ اس بارے عرض ہے کہ ویب سائٹ کا نام اردو میں تو رکھ ہی نہیں سکتے ۔ اب اردو کا لفظ انگلش میں لکھیں تو اسے کے کہیں سپیلنگ ممکن ہوتے ہیں جس سے یہ ایڈریس کسی کو یاد نہیں رہتا ۔ اس لیے ایڈریس ایسا رکھا جاتا ہے جو آسانی سے سب کو یاد رہے ۔ بہرحال اردوکے شیدائیوں کے لیے اس کرہ ارض پر واحد خالص اردو کا ایک ہی چیٹ روم ہے http://UrduLink.Com ۔ وہاں پر تشریف لائیں وہاں پر اردو کی لایبریری بھی ہے ۔ لائبریری بھی دیکھیں اور یوزر کو عالمی اخبار کے بارے بھی بتائیں ۔ شکریہ

  26. ویسے تو اردو ایک لشکری زبان ہے اور اس میں اکژ زبانوں کو سمیٹ لینے کی تمام تر صلاحیت موجود ہے
    مگر

    آتی ہے اردو آتے آتے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *